Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 6

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 06

–**–**–
باب 6
ہر پاني محبت کي پیاس نہیں بجھا سکتا
نہ ہي محبت سیلاب سے ڈوب سکتي ہے
سانگ آف سالومن 8:7
جب پروفیسر گھر آيا تو ربیکا خاموش تھي۔ ُاس وقت گیاره بج رہے تھے اور
اس نے کھانا گرم کر کے میز پر رکھا۔ اس نے بتايا کہ وه کسي مٹي کي ٹھیکري
يا بوسیده مسودے کي جانچ میں لگ گیا تھا۔
تاہم اتنا بھي آسان نہیں تھا۔ ربیکا کا غصہ برف کي مانند ہوتا ہے۔ جوں ہي
برف پگھلے گي، اسے بہا لے جائے گي۔ خیر، اس نے ربیکا کو اصل معاملے کي
ہوا تک نہ لگنے دي۔ شايد يہ بہتر ہي ہوگا کہ ربیکا کو اس بارے علم نہ ہو۔ ربیکا
لازمي فوجي تربیت کے بعد ابھي گھر آئي تھي اور ريزرو فوجي کے طور پر ره
رہي تھي۔ اسے يہ جان کر خوشي ہوئي کہ ربیکا واپسي پر سارجنٹ کے
عہدے تک پہنچ چکي تھي۔
جتني دير وه کھانا کھاتا رہا، ربیکا پاس بیٹھي بات کرتي رہي۔ اس کي آواز
سے دبا ہوا غصہ صاف ظاہر ہو رہا تھا، ويسے ہي جیسے والدين اپنے بگڑے
بچوں پر متواتر ناراض ہوتے ہیں۔ وه بار بار فون کر کے تاخیر کا بتانے، مسلسل
دير تک کام کرنے اور کھانا گول کرنے سے اس کي صحت پر پڑنے والے اثرات کے
بارے بتاتي رہي۔ پروفیسر ساتھ ساتھ سر ہلاتا رہا۔ جب ربیکا سانس لینے کو
رکي تو پروفیسر نے فوراً اس کي تعريفیں شروع کر ديں کہ وه اپنے باپ کا کتني
احسن طريقے سے خیال رکھ رہي ہے۔
ربیکا کو کوئي فرق نہیں پڑا حالانکہ پروفیسر نے پورے خلوص سے کہا تھا۔
دنیا میں پروفیسر کے علاوه ربیکا کا کوئي نہیں تھا اور پروفیسر بیٹي کے ذہن
میں چھپے خوف کو جان سکتا تھا کہ وه اسے کھونا نہیں چاہتي۔ ربیکا کو اپني
ماں سے بہت محبت تھي اور بیس سال کي عمر میں، انجانے میں، بالکل اپني
ماں پر گئي تھي جس کا نام راشیل تھا اور عرصہ ہوا دنیا سے گذر چکي تھي۔
راشیل سے اسے رقاصہ جیسا جسم، گھنگھريالے بال، بڑي آنکھیں اور
ديگر خوبیاں ملي تھیں۔ سالومن کے خیال میں اس کي بیٹي بہت خوبصورت
تھي لیکن ربیکا کا خیال تھا کہ وه بس عام سي شکل والي ہے۔
شايد يہ اس کي ذہانت ہي تھي کہ اس میں دلچسپي لینے والا ہر مرد
آخر اسے چھوڑ جاتا۔ سالومن کو يقین تھا کہ ربیکا ابھي تک کنواري ہے اور اسے
کبھي نانا نہ بن سکنے کا غم بھي ستاتا تھا۔ پھر بھي جب ربیکا کي دو سالہ
لازمي فوجي تربیت ختم ہو گئي تو اس نے ربیکا کو فوج میں ہي رکنے سے منعکیا کہ ۔ ربیکا فوجي نظم و ضبط میں اچھے طريقے سے ڈھل گئي تھي اور
فوجي سختي اور نظم اس کي طبعیت میں توازن لائے تھے۔ ربیکا کا خیال تھا
کہ اگر وه فوج میں رہے تو ہزاروں فوجیوں میں سے کوئي تو اس میں دلچسپي
لے گا ہي۔ تاہم پروفیسر کو اس کي سمجھ نہیں آئي۔
پروفیسر کي دلیل تھي کہ اس کے نانا دادا، بے شمار خالائیں اور
پھوپھیاں، بہت سارے چچا اور ماموں اور کزن وغیره ہولوکاسٹ میں اپني جانیں
گنوا بیٹھے تھے اور پروفیسر کا اپنا باپ 57کي جنگ میں مارا گیا تھا اور وه خود
بھي 6روزه جنگ میں زخمي ہوا۔ آخري فقرے پر ربیکا دل کھول کر ہنستي تھي
تو اسے ياد آتا تھا کہ ربیکا کو اس کي ماں راشیل نے بتايا تھا کہ جنگ کے آغاز
میں ٹرک سے چھلانگ لگاتے وقت پروفیسر اپنا ٹخنہ تڑوا بیٹھا تھا اور پورے چھ
ہفتے بستر پر پڑا رہا اور جنگ ختم بھي ہو گئي تھي۔ تاہم جب ربیکا کي ہنسي
رکي تو اس نے صاف الفاظ میں بتايا کہ اس کا فیصلہ حتمي ہے اور اس پر بحث
نہیں کرنا چاہتي۔ يہ کہہ کر وه کمرے سے باہر چلي گئي تھي۔
سالومن اس کے بارے مستقل پريشان رہتا تھا لیکن ربیکا اس بات پر توجہ
نہیں ديتي تھي۔ تاہم جب دو سالہ ڈيوٹي ختم ہونے پر ربیکا نے واپس نہ جانے
کا فیصلہ کیا تو پروفیسر خاموش رہا۔ واپسي پر ربیکا بہت غصے اور غائب
دماغي کي حالت میں تھي جیسے ايسا کوئي واقعہ ہوا ہو کہ اس نے اپنا اراده
بدل ديا ہے۔ تاہم جو بھي ہو، پروفیسر اس کي بحفاظت واپسي پر خوش تھا۔
پروفیسر خود کو ذمہ دار سمجھ رہا تھا کہ اس نے ربیکا کے بچپن میں
اسے زياده وقت نہیں ديا تھا۔ اس نے سوچا کہ اسے دوسري شادي کر لیني
چاہیئے تھي تاکہ گھر میں ايک عورت کي موجودگي سے ربیکا کي طبعیت کي
سختي کچھ کم ہوتي لیکن اب بہت دير ہو چکي تھي۔
ربیکا اس کي اکلوتي اولاد تھي۔ وه اسے بے تحاشا چاہتا تھا اور اس کي
ہر ُغلطي معاف کر ديتا تھا۔ بیٹي کے طنز پر غصے کي بجائے اسے پیار آتا تھا۔
اسے پتہ تھا کہ اس کي بیٹي ضدي اور قابل ہونے کے ساتھ ساتھ خود
سر اور نافرمان بھي ہے۔ آٹھ سال کي عمر سے اسے لڑکا دکھائي دينے کا خبط
تھا اور لڑکوں کو ڈراتي دھمکاتي اور مارتي پیٹتي تھي تاکہ وه اسے اپنے برابر
کا لڑکا سمجھیں۔ يہ سلسلہ ماں کے مرنے سے شروع ہوا تھا۔ جنازے کے بعد
روتي دھوتي گھر پہنچي تو اس نے اپنے کالے کپڑے پھاڑ ديئے تھے۔ اس دن
کے بعد ربیکا کبھي نہیں روئي۔
اسي روز سے ربیکا نے کبھي روايتي ملبوسات نہیں پہنے۔ سکول میں
بھي نہیں۔ چاہے پروفیسر نے اس کے لئے کتنے ہي خوبصورت جوڑے کیوں نہ
خريدے ہوں، لیکن ربیکا کا اراده نہیں بدلا۔ وه ان کپڑوں پر ہنستي اور درختوں پر
چڑھتي، سائیکل چلاتي، گھڑ سواري کرتي لیکن کبھي روئي نہیں۔ پھر بھي
پروفیسر اسے کبھي کسي چیز سے روک نہ پايا۔ پروفیسر کي ماں نے بھي
کبھي اسے کسي چیز سے نہ روکا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: