Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 7

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 07

–**–**–

باب 7
سقراط: کیا ان لوگوں کے ذہن میں کبھي يہ خیال آتا ہے کہ وه جن چیزوں کے
بارے نہیں جانتے، وه ان کے بارے نہیں جانتے؟
مینو: ظاہر ہے۔
سقراط: تو اب يہ سوچیں اس کے ذہن میں خواب کي مانند آتي ہیں۔
افلاطون، مینو کا مکالمہ
اس کي پیدائش پر بہت خوشیاں منائي گئي تھیں۔
اس کے والدين جنگ سے کیسے بچ نکلے، اس بارے انہوں نے کبھي بات
نہیں کي۔ اس کي پیدائش سے پچھلے سال قبل گرمیوں کے اختتام پر وه
مہاجر کیمپ پہنچے تھے۔ ريڈ کراس کے کھچا کچھ بھرے ٹرک سے اترے تو ان
کے گرد ُاترے چہروں اور دھنسي آنکھوں والے لوگ اپنے گمشده رشتہ داروں
کي تلاش میں جمع ہو گئے۔ کسي کي ماں، کسي کا باپ، کسي کے نانا،
دادا، چچا، ماموں، خالائیں، پھوپھیاں، بھائي اور بہنیں گم تھے۔ کسي نے بچوں
کو تلاش نہیں کیا۔ وہاں نہ تو بچے تھے اور نہ ہي کوئي بچہ ابھي تک واپس لوٹا
تھا۔ جب انہوں نے ديکھا کہ اس کي ماں حاملہ تھي تو حیرت کي کیفیت میں
لوگ انہیں گذرنے کے لئے راستہ دينے لگے۔ سارا کیمپ سانس روکے ہوئے تھا
مبادا کہ ان کے کہے ہوئے کسي ُغلط لفظ سے ان کے کیمپ میں پیدا ہونے
والے پہلے بچے پر کوئي آفت آ جائے۔
پھر ايک بوڑھا ربي وہاں پہنچا اور انہیں ان کے کمرے تک لے گیا۔ جب وه
وہاں سے چلے گئے تو پھر سونیا اور يعقوب نے لوگوں کي آوازيں سنیں۔
انہوں نے روسیوں کو رشوت دے کر اور چوري بھاگ کر آرمینیا کي سرحد کا
رخ کیا تھا۔ اس کا باپ ان دنوں کے بارے جو چند کہانیاں سناتا تھا، ان میں سے
يہ اس کي پسنديده کہاني تھي۔ کئي ہفتوں بعد وه لوگ میونخ سے 20کلومیٹر
دور ايک گاؤں پہنچے۔ امیر جرمنوں کے خوبصورت گھر فرنیچر سے بھرے ہوئے
تھے اور اب وه مہاجر کیمپ بنے ہوئے تھے۔ ان کے سابقہ مکینوں کو ان کے
گھروں سے بے دخل کر ديا گیا تھا۔ اس جگہ امريکي فوجي ہسپتال بھي قائم
تھا اور چار روز بعد شلومہ فري مین يہاں پیدا ہونے والا پہلا بچہ تھا۔
ہسپتال کے نیچے جمع لوگوں نے دوسري منزل کي کھلي کھڑکي سے
جب بچے کے رونے کي آواز سني تو سب پوچھنے اور چلانے لگے کہ بچہ
بخیريت ہے نا؟
اس وقت پورے تین ہزار لوگ جمع ہو کر اوپر کو ديکھ رہے تھے کہ کھڑکي”میں ربي نمودار ہوا اور بولا۔ “لڑکا پیدا ہوا ہے۔ صحت مند لڑکا۔ گوٹ زو دانک۔
خوشي کا نعره بہت زوردار تھا۔ خوشي کي انتہا نہ تھي۔ مرد اور عورتیں
سب خوشي کے مارے رونے اور ايک دوسرے کو گلے لگا کر مبارکباد دينے لگے۔
بعد کے دنوں میں ہر مرد اور عورت برکت کے حصول کے لئے اسے چھو کر
اس کے لیے چھوٹے موٹے تحائف لاتے۔
ربي نے يو ِم تشکر کي عبادات کرائیں اور اس بات پر بھي شکريہ ادا کیا کہ
انہیں اس مبارک دن ايک لڑکے کي پیدائش سے نوازا گیا ہے۔
اس نے سونیا سے مخاطب ہو کر کہا۔ “مجھے اس لمحے کا علم تھا۔” اس
نے کھڑکي بند کر کے جھک کر سونیا کي بانہوں میں لیٹے بچے کي جانب
ديکھا۔ پھر اس نے بچے سے سرگوشي میں کہا۔ “شلومہ، پہلوٹھي کا بچہ۔
جیسے گردباد گذرتا ہے تو دوسرا آتا ہے اور پھر ہر چھپي ہوئي چیز عیاں ہو
جاتي ہے۔” اس کے يہ عجیب الفاظ دعا کي بجائے کوئي منتر معلوم ہوئے۔ پھر
اس نے اپنے دائیں انگوٹھے سے بچے کي پیشاني کو چھوا۔
يعقوب نے دبلے پتلے اور بوڑھے ربي کو ايسے ديکھا جیسے وه ديوانہ ہو۔
لیکن اس کي آنکھوں میں موجود خلوص کي شدت سے سونیا کو جیسے کچھ
پتہ چل گیا ہو۔
آپ حاسیدم ہیں۔” سونیا نے کہا۔ انداز سوالیہ نہیں تھا۔”
شش۔” ربي نے کھڑکي کے باہر جمع ہوتے طوفاني بادلوں کو ديکھتے”
ہوئے کہا۔
کتابوں سے بھرے مطالعے کے کمرے میں لڑکا خاموش بیٹھا ہے۔ اس کي
عمر اب چار سال ہے اور اسے علم نہیں کہ اس کے والدين اسے کیوں لائے
ہیں۔ اسے اس بوڑھے آدمي کے ساتھ اکیلا کیوں چھوڑ گئے ہیں جس کي
داڑھي بہت لمبي ہے اور لوگ اسے ربي کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ يہ جگہ شل
يعني سینا گوچ بھي نہیں۔ اسے بند دروازوں کے پیچھے اپنے والدين کي گفتگو
بمشکل سنائي دے رہي ہے۔ وه لوگ بڑے کمرے میں انتظار کر رہے ہیں۔ اس کا
دل چاہتا ہے کہ بھاگ کر اپني ماں کي گود میں جا چھپے لیکن ماں ہي تو اسے
يہاں بیٹھنے کي ہدايت کر کے باہر جا بیٹھي ہے۔ جب تک اسے والدين کي آواز
سنائي ديتي رہے گي، تب تک وه پريشان نہیں ہونے والا۔
وه اس بڑي کرسي پر پہلو بدل ہي رہا تھا کہ ربي کھڑا ہوا۔ وه کسي پراني
کتاب میں کچھ ديکھ رہا تھا اور پھر اب وه اس کي جانب آ رہا ہے۔ لمبي داڑھي،
کالے ہیٹ اور لمبے کالے کوٹ میں وه بالکل ريچھ لگ رہا تھا۔
وه لڑکے پر بادل کي طرح چھا گیا اور اس کي آواز ڈراؤني اور بھاري تھي۔
لیکن وه تو مسکرا رہا تھا۔
ديکھو شلومہ، میں تمہیں ايک کہاني سناتا ہوں۔ وه کہاني جو تم ہمیشہ”
ياد رکھو گے۔” اس نے کہا۔
ايک چھوٹے اپارٹمنٹ میں باورچي خانے کي میز کے پاس لڑکا بیٹھا ہے۔
اس کي ماں بھي وہیں ہے۔ ماں مسکراتے ہوئے اسے گوبھي کا میٹھا سوپ اوربھوري روٹي لا ديتي ہے۔ اس کي ماں اسے ‘تتالہ‘ کہہ کر مخاطب کرتي ہے
اوراس کے گال چومتي ہے۔
کھاؤ ‘تتالہ‘۔” اس نے کہا۔”
ماں کتني خوبصورت اور کم عمر ہے۔ اس نے ماں کو يہ بتانے کے لئے منہ
کھولا کہ اسے ماں سے کتنا پیار ہے کہ ماں نے اسے پھر کھانے کا کہا۔
””شلومہ، اپنا سوپ ختم کرو۔
ماں کو ديکھتے ہوئے اس نے کھانا ختم کیا۔
“شلومہ، ربي نے تمہیں کیا بتايا؟”
لڑکا خاموش رہا۔
“ہمم؟”
”ايک کہاني۔ جو مجھے ياد نہیں۔”
کھاؤ۔” ماں اسے ديکھتے ہوئے بولي۔ “میں تمہیں ايک اور کہاني سناؤں”
”گي۔
وه ماں کو ديکھتا ہے اور ماں اسے بتاتي ہے کہ پناه گزينوں کے کیمپ میں
لوگوں اور ربي نے اس کي پیدائش پر کتني خوشیاں منائي تھیں۔
وه ہمارے ساتھ وہاں تھا۔ اس نے تمہاري پیدائش کے بعد تمہیں دعا دي”
تھي۔ جب وه مرنے کے قريب پہنچا تو اس کي خواہش کے مطابق میں تمہیں
”اس کے پاس لے گئي۔
جلدي سے سوپ ختم کرو شلومہ، میں نے خاص طور پر تمہارے لیے بنايا”
ہے۔ ڈرو مت۔” اس نے آه بھري۔ “اس وقت مجھے ربي کي بات سمجھ نہیں آئي
تھي اور نہ ہي اس نے وضاحت کي۔ تمہارے باپ کا خیال تھا کہ جنگ کي وجہ
”سے ربي کچھ ديوانہ ہو گیا ہے۔
پھر اس نے جھک کر اس کے ننھے منے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور گال
چوم کر بولي۔ “اس نے ٹھیک ہي کہا تھا شلومہ۔ چھپ جاؤ۔ گردباد تمہاري تلاش
”میں آنے والا ہے۔
وه اس خواب سے بیدار ہوا۔ بستر پر سیدھا بیٹھے ہوئے اس کا سانس تیز
چل رہا تھا۔ آنسوؤں سے اس کے گال گیلے تھے اور پسینے سے کالر گیلا ہو
چکا تھا۔ ماں کي ياديں اسے بہت رلاتي تھیں۔ آج بھي اسے ماں کي شبیہہ
صاف ياد تھي۔ اس کي صاف گلابي اور جھريوں سے پاک جلد، اس کي بھوري
آنکھیں اور ريشمي سرخ بال، جو ستر سال کي عمر میں سفید ہونا شروع ہوئے
ہي تھے کہ وه اس جہان سے گذر گئي۔
منہ ہاتھ دھو کر وه کھڑکي کے پاس کرسي پر کئي گھنٹے بیٹھا رہا۔ نیند
کہیں دور چلي گئي تھي۔ کھوئے کھوئے انداز سے وه چاند کو ديکھتا رہا۔ وه اپنا
ہاتھ اپنے چھوٹے چھوٹے سرخي مائل بھورے بالوں پر پھیرتا رہا۔ اس وقت اسے
ہلکا سا خوف اور پیش آگہي محسوس ہو رہي تھي۔
اس کے خواب کي ياد اسے کیپٹن کے لائے ہوئے کاغذ کے ترجمے تک لے
گئي۔ اس کا ذہن کسي پھول کي مانند ِ کھل اٹھا۔ اسے ويران جگہوں کا سوچ کر
جھرجھري آئي جہاں بڑي طاقتیں اس کي منتظر تھیں۔
اسے اپني بیٹي کو کسي نہ کسي طرح يقین دلانا تھا۔ اس بات کو مزيدچھپانا ممکن نہیں تھا۔ اسے علم تھا کہ وه بیٹي کو پیچھے چھوڑ کر نہیں جا
سکتا۔ ان سب کو شیخ ہادي کے پاس جا کر ہشت پہلو کے ترجمے کے بارے
جاننا تھا۔ کیپٹن سیماچ صبح سويرے پہنچنے والا تھا اور اسے بھي تمام تر
تفاصیل سے آگاه کرنا لازمي تھا۔ پھر اسے احساس ہوگا کہ يہ کیوں ضروري ہے۔
اس سے مفر نہیں۔
ہمیں ہر حال میں صحرا کو جانا ہے۔

Read More:  Ishq Mein Mar Jawan Novel By Hifza Javed – Episode 9

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: