Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 8

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 08

–**–**–

باب 8
ہمارے جسموں کي نشاني کي مانند
کوئي بھي نشان باقي نہیں رہے گا کہ
ہم کبھي اس جگہ ہوتے تھے۔
،دنیا ہمارے پیچھے بند ہو جائے گي
ريت خود کو سیدھا کر لے گي۔
يہوده امیچائي
آرون سیماچ جو موساد کا کیپٹن تھا، يہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کیا وه
وہي انسان ہے جو صحرا میں داخل ہوا تھا۔ اس کي شکل صورت تو وہي تھي
لیکن پہلے سے کہیں زياده تھکا ہوا دکھائي ديتا تھا۔ آئینے میں دکھائي دينے
والا چہره ہر گذرتي ساعت کے ساتھ بوڑھا ہوتا جا رہا تھا۔ آنکھیں دھنس گئي
تھیں جیسے انہوں نے بہت زياده ديکھ لیا ہو۔
آئینے میں ديکھتے ہوئے اس نے سوچا۔ “خدايا، يہ میرے ساتھ کیا ہو رہا
“ہے؟
اس نے لمبي چھٹي لے لي تھي۔ کرنل ہمدرد انسان تھا اور اسے کہا کہ
جتنا چاہو، تعطیل لے لو۔ کرنل کتنا سمجھدار تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں
جیسے صحرا میں کسي احمق انسان کي مانند کھو گیا ہوں۔ جیسے وه رو رہا
ہو۔ لیکن وه رويا نہیں۔
مشن بھیانک ناکامي پر منتج ہوا۔ تمام تر معلومات ُغلط نکلیں۔ وه اور اس
آثار قديمہ کي جماعت کے ساتھ شامل
ِ
ماہرين
ِ
کے ماتحت دو جوان فرانسیسي
ہو گئے تھے جو ہگار پہاڑوں کے پاس کھدائي کر رہے تھے۔ ہر شخص کسي نہ
کسي زبان اور ہنر میں اپني مہارت کي بناء پر چنا گیا تھا۔ يہ تینوں طلباء کے
گروه میں بہ آساني گھل مل گئے اور اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب يہ تینوں
ايک رات جیپ لے کر صحرا میں کئي کلومیٹر دور گئے۔ اسے حکم ملا تھا کہ ايک
مشکوک سمگلر کے کیمپ کي جاسوسي کرنے جائے۔ تاہم يہ جگہ حال ہي
میں خالي ہوئي تھي۔
شروع سے ہي قسمت خراب نکلي۔ تینوں جیپ کو چھوڑ کر پیدل تین
مختلف سمتوں کو نکلے تاکہ قوس کي شکل میں حرکت کرتے ہوئے زياده سے
زياده رقبے پر انساني قدموں کے نشانات يا اس جیسي کوئي اور علامات تلاش
کر سکیں۔
اب کسے پتہ تھا کہ ريت کا طوفان آنے والا ہے۔ موسمیاتي ريڈار پر کچھبھي ايسا دکھائي نہیں ديا تھا۔
سورج طلوع ہوتے وقت وه جیپ کو لوٹ رہا تھا کہ جب طوفان آن پہنچا اور
اچانک ہي سر پر پہنچ گیا۔ ہوا کا زور ايسے تھا جیسے کسي نے اسے ضرب
لگائي ہو اور وه الٹ گیا۔ وه ريت کے ايک ٹیلے پر گرا اور کچھ نیچے جا پہنچا۔ پہلو
کي طرف حرکت کرتے ہوئے وه اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کي کوشش کرنے لگا۔
تاہم ہوا نے اچانک رخ بدلا اور پھر اس کے قدم اکھاڑ ديئے۔ چاہے وه جتني
کوشش کرتا رہا، کہیں نہ جا پايا۔ آخرکار وه زمین پر گرا اور پتھر کي چٹان کے
ايک کنارے کے قريب جا پہنچا جہاں سے طوفان نے ريت ہٹا دي تھي۔
اس نے کوٹ نکالا کر پہنا اور چٹان کي اوٹ میں بیٹھ گیا۔ اپني قسمت کو
کوستے ہوئے وه وہیں بیٹھ کر طوفان کے تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔ تاہم اس پر
اچانک ہي عجیب سي تھکان طاري ہونے لگي اور طوفان کي بڑھتي شدت کے
باوجود اس کي آنکھیں بند ہونے لگیں۔ خود کو چٹکیاں کاٹنے اور منہ پر تھپڑ
مارنے کے باوجود وه اپني آنکھیں کھلي نہ رکھ پايا۔
ناممکن۔” اس نے سوچا اور حیرت کے عالم میں سو گیا۔”
طوفان کے تھمنے پر اس کي آنکھ جب کھلي تو عجیب سا خواب ختم ہوا
تھا۔ وه تقريباً ريت میں دھنس گیا تھا۔ اس نے ريت ہٹائي اور اس کوشش میں
اس کا ذہن پوري طرح صاف ہو گیا۔ آہستہ سے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے اپنے
جسم کو ٹٹولا اور ہاتھ پیر پھیلا کر توانائي مجتمع کي۔ اس نے اپنے آلات کو
ديکھا۔ پاني کي بوتل غائب تھي اور گھڑي کا شیشہ بھي ٹوٹ گیا تھا۔ قطب نما
ٹھیک تھا اور سورج عین سر پر۔ دوپہر کا وقت تھا۔ اس نے ہر طرف ديکھا مگر
اسے محض ريت اور ٹیلے ہي دکھائي ديئے۔ اس کے پاس موجود چٹان کے
علاوه اور کوئي چٹان دکھائي نہ دي۔ اس نے اس چٹان کے گرد چکر لگايا۔
يہ چٹان کئي میٹر کے دائرے میں تھي اور لگ رہا تھا کہ کسي بڑے پتھروں
کا ايک کونا ہے جو ريت سے نکل آيا ہے۔ ايک طرف اسے چھوٹي سي غار
دکھائي دي جس میں ايک ڈھانچہ موجود تھا۔ يہ ڈھانچہ پتھر سے ٹیک لگائے
بیٹھا تھا اور ٹانگیں آگے کو پھیلي ہوئي تھیں۔ دائیں کہني کے نیچے ايک پتھر
رکھا تھا انگلیوں کي خم دار ہڈيوں جیسے اس کي طرف اشاره کر رہي ہوں۔ غار
میں اور کچھ نہ دکھائي ديا، حت ٰي کہ ڈھانچے کے کپڑے بھي غائب تھے۔
کافي دير تک وه غیر يقني کے عالم میں کھڑا اس نیم تاريک غار کو ديکھتا
رہا۔ ڈھانچے کي آنکھوں کے خالي حلقوں میں باريک ريت اڑ رہي تھي جیسے
وه زنده ہو۔ اس کے نتھنوں میں بھي ريت تھي اور منہ سے بھي، جیسے کوئي
روح سانس لے رہي ہو۔
اسے ياد نہیں کہ وه کتني دير وہاں کھڑا ديکھتا رہا۔ اسے ڈر نہیں لگا۔ پھر
اسے مٹیالے رنگ کا سلنڈر دکھائي ديا جو ڈھانچے کے بائیں ہاتھ میں دبا ہوا
تھا۔ سوچے بنا اس نے سلنڈر اٹھا لیا۔ سلنڈر کافي وزني تھا۔ اس نے ہاتھ پھیرا
تو سنہرا رنگ نکل آيا۔ اسے پتہ چل گیا کہ يہ سونے کا بنا ہوا ہے۔
“کیا يہ مقبره ہے؟”
اسے سردي اور بے چیني کا احساس ستانے لگا۔ اس نے سلنڈر کو
احتیاط سے اپنے سامان میں رکھا اور غار سے نکل آيا۔ اسے احساس سا ہو رہاتھا کہ جیسے ڈھانچے کي آنکھوں کي خالي جگہ اسے ديکھ رہي ہو۔
شمال مغرب کے رخ وه گھنٹوں چلتا رہا۔ اسي سمت سے وه آيا تھا اور
اسي جانب اس کي جیپ بھي ہوني چاہیئے تھي۔ اسے علم تھا کہ اس کے
ساتھي اس کے منتظر ہوں گے۔ آخرکار وه اسے دور سے دکھائي دے گئے۔ وه
جیپ میں بیٹھے مغرب کي طرف دائرے کي شکل میں حرکت کر رہے تھے۔
ہیا۔” ان میں سے ايک اسے ديکھتے چلايا اور اپنا پستول ہوا میں چلايا۔”
اس نے ساتھي کي آواز میں موجود تسلي کو محسوس کیا اور وہیں رک
کر ان کا انتظار کرنے لگا کہ اس کے ساتھ ريت کے طوفان کي وجہ سے اس
کے بارے پريشان ہوں گے۔ اس نے باري باري دونوں کو گلے لگايا اور پاني کي
بوتل تھام لي۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ پاني پینا شروع کیا۔
خاموشي۔
اس نے ديکھا کہ وه دونوں ايک دوسرے کو آنکھوں آنکھوں میں اشارے کر
رہے تھے۔
کیا ہوا؟ کچھ ملا؟” اس نے پوچھا۔”
زياده تجربہ کار بولا۔ “نہیں کیپٹن۔ کوئي نشان نہیں ملا۔ ہم تو آپ کو تلاش
”کر رہے تھے۔
ہیں؟ کیا ہوا؟ تمہارا کیا خیال تھا کہ میں بھٹک گیا ہوں؟” اس نے پوچھا۔”
پہلے دن کے اختتام پر ۔ ۔ ۔” جواب ملا۔”
پہلا دن ۔ ۔ ۔ ؟” کیا مطلب؟” اس نے پوچھا۔”
اس بندے نے اپنا وزن ايک ٹانگ سے دوسري پر منتقل کیا اور بولا۔ “آپ کو
گم ہوئے دو دن ہونے والے ہیں کیپٹن۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ آپ ۔ ۔ ۔” اس نے
جھرجھري لي۔
پہلے پہل تو کیپٹن کو سمجھ نہ آئي کہ يہ کیا کہنا چاه رہے ہیں۔ پھر جب
اسے بات سمجھ آئي تو وه ششدر ره گیا کہ وه دو دن سے گم تھا۔ “ايک
اضافي دن؟ کیا پچھلے تیس گھنٹے میں نے سو کر گذارے؟” اسے اس بات پر
يقین نہیں آيا لیکن اس کي ياداشت صاف تھي۔ تاہم اس دورانیے کو ماننے کو
اس کا ذہن تیار بھي نہیں تھا۔
کیمپ واپسي کے سفر پر وه بالکل خاموش رہا۔ اس نے غار اور سلنڈر کا
ذکر بالکل گول کر ديا۔ اس نے ريت پر دکھائي دينے والا خواب سوچنے کي ناکام
کوشش کي۔ اس نے غار اور ڈھانچے کا تصور کیا، ناک اور آنکھوں کي خالي
جگہ پر ناچتي ريت کا بھي۔
پھر اسے ياد آيا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس سارے سلسلے کے آغاز پر
اسے ايک سرگوشي سنائي دي تھي جو سنائي دينے سے زياده اسے
محسوس ہوئي تھي، جیسے ہوا میں گم ہوتي ہوئي کوئي صدا۔ اس نے اپنے
بیگ میں سلنڈر کا وزن محسوس کیا اور حیران ہوتا رہا کہ کیا پتہ کہ يہ سارا
عرصہ جو اسے ياد نہیں، اس کے خواب میں ہي گذرا؟
يہ کیفیت اس کا کئي دنوں تک پیچھا کرتي رہي۔ خیر، جلد ہي اسے علم
ہو جائے گا کہ اس نے کیا پايا تھا۔ چند گھنٹوں بعد پروفیسر اور اسے علم ہو
جائے گا اور پھر وه سکون سے سو سکے گا۔ اس سوچ سے اسے سکون ملناچاہیئے تھا لیکن اسے سکون نہ مل سکا۔ آنے والي کسي غیر متوقع آفت کا
خیال اسے ستا رہا تھا۔ جیسے طوفان سے پنڈورا باکس نکلا ہو۔ شايد کوئي
قديم اور بھیانک بد دعا اس کا انتظار کر رہي ہو۔
میري دعا ہے کہ يہ سودے سلف کي فہرست نکلے۔” اس نے سوچا۔”
لیکن جیسے اس کے اندر اسے علم ہو کہ ايسا نہیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: