Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 9

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 09

–**–**–

باب 9
سب سے بڑا علم
خوف کے ساتھ آتا ہے۔
)کتاب الحکیم )کتا ِ ب دانش
ابن عطا الله
ِ
ہم نے پوري توجہ سے کہاني سني۔ بے شک، ہم میں سے کوئي بھي
طلوع آفتاب سے ہم نے حرکت نہیں کي تھي
ِ
تھکا ہوا نہیں لگ رہا تھا حالانکہ
اور نہ ہي پچھلي رات سے آرام کیا تھا۔ شايد آقا نے اپني لازوال توانائي کا کچھ
حصہ ہمیں عطا کر ديا تھا يا شايد کچھ زياده ہي۔ مجھے اپنے مہمانوں سے
عجیب سي انسیت محسوس ہونے لگي۔ جیسے ان کے دلوں کا حال جان کر
ہمارے دل بھي ان کے لئے وا ہو گئے ہوں۔
آقا سر جھکائے اور آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ پھر انہوں نے سر اٹھايا۔
مسوده ديکھتے ہیں۔” انہوں نے کہا۔”
پروفیسر فري مین نے اپني جیکٹ کي جیب سے دو تہہ شده کاغذ نکال
کر آقا کے سامنے پیش کیے۔ آقا نے انہیں آہستگي اور سہولت سے پڑھا اور
پھر انہیں میرے حوالے کر ديا۔ علي اور رامي بھي جھکے اور ہم نے ايک ساتھ
پڑھا۔
:يہ سودے سلف کي فہرست تو نہیں تھي۔ يہ کچھ ايسے تھي
شروع خدا کے نام سے، جس نے آسمان اور زمین بنائے۔‘
میں، زادوق، اہیتب کا بیٹا، خدا کے ہیکل کا بڑا پجاري، عظیم بادشاه
سلیما ؑن جو کہ عظیم بادشاه داؤ ؑد کے فرزند ہیں، کے لیے لکھ رہا ہوں تاکہ خدا
انہیں ہر مشکل سے بچائے۔ ان کي ہر تکلیف کو مندمل فرمائے۔ انہیں ہر
شیطان سے اپني امان میں رکھے۔ خدا کي رحمت ہو ان لوگوں پر جنہوں نے
خدا کي عظیم طاقت مجتمع کي ہے اور اسے تحرير کیا ہے اور منہ سے ادا کیا
‘ہے۔ خدا کي رحمت ہو عظیم بادشا ؑه پر، ان کا نام ہمیشہ سربلند رہے۔
:دوسرے کاغذ پر تحرير کچھ ايسے تھي
خدا کي رحمت ہو اور اے خدا، آپ کا نام بلند رہے اور آپ کي رحمت سے‘
پوشیده چیزيں عیاں ہوں۔ آپ کي انگوٹھي۔ میں اپني روح انڈيل رہا ہوں۔ میرے
الفاظ ہر کوئي جان لے گا۔
‘اے شام کے ستارے، آ جاؤ۔
ہم نے حیرانگي سے ايک دوسرے کو ديکھا۔ آقا منتظر تھے کہ ہم ختم کرلیں۔ پھر انہوں نے ہمیں خاموش رہنے کا اشاره کیا۔
“آقا نے پوچھا۔ “شلومہ، کیا ترجمہ مکمل ہے؟
پروفیسر فري مین نے سر ہلايا۔ “بالکل۔ اس میں کوئي شبہہ نہیں، میري
”لیبارٹري میں اس وقت دنیا کي اہم ترين تحارير میں سے ايک محفوظ ہے۔
“تو پھر تمہارا کیا خیال ہے؟”
پروفیسر نے کھلي کھڑکي سے باہر آسمان کو ديکھا۔ اس کا چہره تائثرات
سے پاک تھا۔ پھر اس نے جھرجھري لي۔
میرا خیال ہے کہ ہیکل کے بڑے پجاري زادوق نے بادشا ؑه کے تحفظ کے”
لئے يہ تعويذ لکھا ہے۔ يہ اس دور میں عام بات تھي۔ سلیما ؑن نے اسے برسوں
دور حکومت کے اولین برسوں میں فوت ہو
ِ
ساتھ رکھا ہوگا کیونکہ زادوق ان کے
گیا تھا۔ اس طرح يہ تعويذ ان کے پاس ہوگا جب وه صحرائي غار میں آن پھنسے
اور ان کے پاس لکھنے کو کچھ نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ دوسري تحرير شايد
”سلیما ؑن نے خود لکھي ہو۔ دوسري تحرير صفحے کي پشت پر درج تھي۔
“تمہیں اس کا يقین کیسے ہوا؟”
طرز تحرير مختلف تھا۔”
ِ

اس سے کیا ہوتا ہے۔ سلیما ؑن اتني دور مغربي صحراء میں کیسے آئے”
“ہوں گے؟
”پروفیسر نے آه بھري اور کہا۔ “يہي معمہ حل نہیں ہو پا رہا۔
”خیر، آگے بتاؤ۔”
خیر، تاريخي شواہد معروضي سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ عہد نامہ قديم میں”
لکھا ہے کہ سلیما ؑن نے فرعون کي بیٹي کو اپني اولین بیويوں میں سے ايک
بنايا۔ پسونس شايد اس وقت فرعون تھا۔ میرا ہمیشہ سے خیال رہا ہے کہ
شیشک اگلا فرعون بنا جو شايد اس کا بیٹا تھا۔ اگر ايسا ہے تو پھر اسے اپنے
باپ سے سخت نفرت ہوني چاہیئے۔ وه شايد پہلوٹھي کا بچہ ہوگا لیکن نہ تو
اسے عزت ملي اور نہ ہي تکريم۔ چونکہ اس کي ماں عبراني نہیں تھي اس لیے
”وه بھي عبراني نہیں تھا۔
بادشاہوں کي پہلي کتاب میں درج ہے کہ سلیما ؑن نے احکاما ِ ت رباني کو”
چھوڑ ديا تھا جس کي وجہ سے ان کي وفات کے بعد خدا نے ان کي سلطنت
کو نیباط کے بیٹے جیروبام )جس نے دس قبائل پر حکمراني کي( اور يروشلم
سے سلیما ؑن کے بیٹے رہوبام )جس نے بقیہ دو قبائل پر حکمراني کي( میں
تقسیم ہو گئي۔ شیشک نے جیروبام کو سلیما ؑن کے عتاب سے بچنے کے لئے
پناه بھي دي تھي۔ شايد بوڑھي عمر میں سلیما ؑن کا خیال ہو کہ اپنے بڑے بیٹے
سے صلح کر لي جائے يا مزيد آنے والي جنگوں سے بچا جا سکے۔ جو بھي
وجہ ہو، ايسا نہ ہو پايا کیونکہ دوسري کتاب میں درج ہے کہ شیشک نے رہوبام
دور حکومت کے پانچويں سال اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل اور بادشاه سے
ِ
کے
خزانے لوٹ کر لے گیا۔ بظاہر اس نے سب کچھ اٹھا لیا اور سلیما ؑن کي بنائي
”ہوئي سونے کي ڈھالیں تک نہ چھوڑيں۔
ماسوائے انگوٹھي کے۔” آقا نے تصحیح کي۔”
جي۔ آپ کو تو معلوم ہے۔ کاغذ کے مطابق سلیما ؑن کے پاس کوئي””انتہائي قیمتي انگوٹھي تھي۔ شايد وه ان کي مہر والي انگوٹھي ہو۔
آہا، تمہارا خیال ہے کہ يہ وہي انگوٹھي ہے کہ جس کي مدد سے انہوں”
نے انسانوں اور جنات پر قابو پايا تھا؟” آقا نے کہا۔
پروفیسر ہنسنے لگا۔ “خیر، مجھے يقین نہیں کہ انگوٹھي میں اتني قوت
رہي ہوگي۔ لیکن اگر انہوں نے اس انگوٹھي کو بطور مہر استعمال کیا تھا تو يہ
ان کے پاس رہني چاہیے تھي چاہے وه مصر ہي کیوں نہ چلے گئے ہوں۔ وه شايد
مصر اس لیے جا رہے ہوں کہ شیشک انہیں اور ان کي انگوٹھي کو رہوبام کے
”خلاف نہ استعمال کر سکے۔
ارض
ِ
آقا نے سوچتے ہوئے کہا۔ “ہمم، شايد۔ يا پھر وه اپني وفات سے قبل
شیبا جا رہے ہوں تاکہ ملکہ اور اپنے بچے کو ديکھ سکیں، اگر يہ وہي انگوٹھي
ہے تو انہوں نے اسے اپنے ساتھ اٹھا ہوا ہو۔ شايد تم يہ کہنا چاہتے ہو کہ
شہر داؤ ؑد میں دفن نہیں کیا گیا بلکہ
ِ
سلیما ؑن کو عہد نامہ قديم کے برعکس
اپنے بڑھاپے میں کسي نامعلوم وجہ سے انہوں نے مغربي صحرا کا رخ کیا ہوگا
“اور وہیں ان کا استخواني پنجر غار میں ره گیا ہوگا؟
ہم نے پہلے کیپٹن سیماچ اور پھر ايک دوسرے کو ديکھا۔ ايک بار پھر مجھے
اپني ريڑھ کي ہڈي میں سرد لہر دوڑتي محسوس ہوئي۔
بالکل” پروفیسر بولا۔ “وجہ جو بھي رہي ہو، سلیما ؑن بظاہر ہگار پہاڑوں کے”
آس پاس ہي کہیں تھے جو مصر کے انتہائي مغرب میں تھے۔ تاہم قديم دور میں
مصر میں بہت زياده طاقتور اور بڑي سلطنت قائم تھي اور آس پاس کے کئي
قبائل اور رياستیں اسے خراج ادا کرتي ہوں گي۔ شايد شیبا بھي خراج گذاروں
میں شامل ہو۔ تاہم اتني دور مغربي صحرا میں ان کا انتقال کیسے ہوا، يہ ايک
معمہ ہے۔ پھر انہوں نے کیمیاء میں اضافي متن لکھا اور پھر اسے ہموار پتھر
سے دوباره بند کیا۔ پھر وہاں لگ بھگ تین ہزار سال تک موجود رہے اور اب آن کر
”کیپٹن سیماچ ايک اور ريت کے طوفان کي وجہ سے ان تک جا پہنچا۔
تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ يہ الفاظ سلیما ؑن کے بعد لکھے گئے تھے، اگر”
“وه واقعي سلیما ؑن ہي تھے، اور پھر انہیں دوباره کیوں بند کیا گیا؟
”پروفیسر نے جھرجھري لي۔ “انہیں خون سے لکھا گیا تھا۔
کچھ دير خاموشي رہي۔ کیپٹن سیماچ بظاہر اپني دريافت کے ممکنات میں
کھو گیا اور میرے ذہن میں بے شمار سوالات کلبلانے لگے تاہم ہم سب آقا کے
بولنے کے منتظر رہے۔
شلومہ، پھر تم يہاں کیوں آئے ہو؟ يہ سوال تو میرے کم ترين شاگرد کي”
“عقل میں بھي سما جائے گا۔ میں تمہاري مدد کیسے کروں؟
پروفیسر اس بات پر مسکرايا اور پھر اس کي آنکھوں میں ايسي چمک
نمودار ہوئي جیسے شعبده باز اپنا بہترين شعبده دکھانے والا ہو۔
اصل متن میں اس سے زياده بھي تحرير ہے۔” اس نے اپني جیب سے”
ايک اور تہہ شده کاغذ نکالا اور ہمارے سامنے کھول کر قالین پر رکھ ديا۔
میں نے اصل متن سے اسے نقل کر کے اور بڑا کر کے يہاں لکھا ہے۔ يہ”
کیمیاء کي پشت پر تحرير تھا اور اس میں بھي وہي خون استعمال ہوا ہے۔ غور
کیجیے۔” اس نے متن کي طرف اشاره کیا۔ “دو دائرے جو ايک دوسرے کے وسطمہر سلیما ؑني ہے۔ میرا خیال
ِ
سے گذر رہے ہیں، میں شش پہلو ستاره ہے: يہ
”ہے کہ يہ اصل مہر کا نقش ہے جو شاه سلیما ؑن کي انگوٹھي تھي۔
پھر وه رکا اور ہمارے متحیر چہروں پر تسلي آمیز نظر ڈالي۔
اس نے آقا کي جانب مڑ کر کہا۔ “يہاں ديکھیے، يہ نشانات ستارے کے
عین وسط میں ہیں۔ اگرچہ يہ مشکل سے پڑھے جاتے ہیں لیکن مجھے پورا
يقین ہے کہ يہ ايک لفظ ہے۔ کنارے تو کسي حد تک واضح ہیں لیکن باقي کو
ديکھنے کے لئے مجھے خوردبین کا استعمال کرنا پڑا تھا۔ سیاہي اتني گاڑھي
”تھي کہ وه اندر تک گھس گئي تھي۔
پھر اس نے ہاتھ پھیلا کر کہا۔ “میں نے ہر ممکن بہترين آلات آزمائے ہیں،
ايکسرے، زيريں سرخ سکینر، لیکن يہ لفظ نہیں پڑھا جا رہا۔ پتہ نہیں کیوں۔ يہ
لفظ واضح دکھائي دينا چاہیے تھا۔ شايد يہ خدا کا خفیہ نام ہو۔ مجھے سمجھ
نہیں آتي۔ میرا خیال تھا کہ آپ میري مدد کر سکیں گے۔” اس نے کندھے
اچکاتے ہوئے کہا۔
آقا نے کاغذ کو اٹھا کر اس طرح دور کیا کہ کوئي بھي اس لفظ کو ايک
لمحے سے زياده نہ ديکھ سکا۔
مہر ہي ہے اور يہ ايک ہي خون پر ثبت ہے تو يہ”
ِ
شلومہ، اگر يہ سلیما ؑني
ان کے پاس غار میں موجود ہوني چاہیے۔ پھر انہوں نے اسے پتھر سے کیوں بند
“کیا؟
پروفیسر نے افسرده انداز سے جواب ديا۔ “مجھے معلوم نہیں۔ يہ معمہ در
معمہ ہے۔ آرون، کیپٹن سیماچ کہتا ہے کہ اسے کوئي انگوٹھي نہیں دکھائي
”دي۔ لیکن آپ نے درست کہا۔ انگوٹھي ابھي بھي وہیں ہوني چاہیے۔
آقا نے اپنے شاگرد کو خاموشي سے ديکھا اور پھر ہلکي سي مسکراہٹ
“کے ساتھ بولے۔ “اے دوست، سچ بتاؤ کہ تم اسے يہاں کیوں لائے ہو؟
آقا کے سوال پر پروفیسر سچ مچ تذبذب میں پڑ گیا اور بولا۔ “اصل میں
سب سے پہلے مجھے آپ کا ہي خیال آيا کہ آپ شايد اس کا کوئي معني نکال
”سکیں۔
آقا کچھ دير خاموش ره کر اپني داڑھي سہلاتے اور ان قديم الفاظ اور مہر
کے نشان پر غور کرتے رہے۔
خیر ۔ ۔ ۔” آخرکار وه بولے اور انہوں نے رامي سے سرگوشي میں چند لفظ”
کہے اور وه فوراً کھڑا ہو کر باہر گیا اور آقا کے لیے دو کتب لايا۔ يہ کتابیں دوسرے
کمرے کے شیلف پر موجود کتب کا حصہ تھیں۔ انہوں نے پہلي کتاب بائبل سے
کچھ پڑھ کر اسے ايک طرف رکھ ديا۔
يہي اصل معمہ ہے۔ شلومہ، تم بھي يہي الفاظ پڑھ رہے ہو۔ يہ الفاظ”
دراصل محاورے ہیں۔ ‘صبر کرو، میں اپني روح تم میں انڈيل دوں گا۔ میں اپنے
“‘ الفاظ کے معاني تم پر واضح کر دوں گا‘۔ اور يہ بھي ‘حق زمین پر قائم ہوگا ۔ ۔ ۔
جي ہاں” پروفیسر بولا۔ اس کي آواز میں بے صبري کي جھلک تھي۔ “يہ”
محاورے عہد نامہ قديم سے متعلق ہیں جن کے بارے اکثر محققین متفق ہیں
”کہ وه سلیما ؑن نے خود لکھي تھي۔ شايد ہي کوئي اس سے اختلاف کرے گا۔
”سوائے اس کے کہ زمانہ بدل چکا ہے۔”جي۔ کاغذ پر درج متن فعل حال سے متعلق ہے ‘میں اپني روح تم میں”
ڈالتا ہوں۔ ‘ شايد سلیما ؑن اپني وفات کے قريب تھے۔” پروفیسر نے بھنويں اٹھاتے
ہوئے کہا۔
آقا کچھ نہ بولے۔ انہوں نے دوسري کتاب اٹھائي اور اس کے صفحات پلٹنے
لگے۔ مطلوبہ جگہ پہنچ کر انہوں نے پڑھنا شروع کر ديا۔ چند لمحوں بعد انہوں
نے کتاب کو ايک طرف رکھ ديا۔ اگرچہ کتاب کھلي تھي لیکن میں نہ پڑھ سکا کہ
وه کیا ديکھ رہے تھے۔
يہ بھي اہم ہے کہ شايد وفات کے اور ہزاروں سال کے بعد بھي وه زندوں”
پر قدرت رکھتے ہیں۔” آقا نے کہا۔ “کہا جاتا ہے کہ جب ملکہ صبا سلیما ؑن کي
زيارت کو آئي تھیں تاکہ ان کي ذہانت کا خود مشاہده کر سکیں تو سلیما ؑن نے
اپني فوج کے سالار اور يہوده کے بیٹے بنیاه کو استقبال کے لئے بھیجا تھا۔ بنیاه
”بہت وجیہہ تھا۔
آقا نے پھر کتاب اٹھائي اور پڑھا۔ “جیسے صبح صادق کے وقت مشرقي
گل نرگس ہو، جیسے پاني کي ندي ہو، جیسے شام کا
ِ
آسمان ہو، جیسے
”ستاره ہو کہ جس کے آگے تمام ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔
انہوں نے کتاب بند کي اور سیدھا کیپٹن سیماچ کي طرف ديکھا۔
“ديکھا؟”
کیپٹن نے يہ سنتے ہي اپنا سر اٹھايا۔ ايک لمحے کو وه متذبذب دکھائي
ديا۔ علي اور رامي نے بھي اسے حیرت سے تکنے لگے۔ ربیکا نے بھي اسے
ديکھنا شروع کر ديا۔ میں نے کیپٹن سے رخ موڑ کر آقا کو اور پھر کیپٹن کو ديکھا۔
خیر، تمہیں اس حوالے کا پہلے سے علم تھا مگر تم بولے کیوں نہیں؟””
آقا نے سوال کیا۔
پروفیسر نے سر ہلايا جیسے شرمنده ہو۔ “کتني عجیب بات ہے۔ يہ کوئي
”سائنس تو نہیں۔ يہ تو، يہ تو ۔ ۔ ۔
ہاں بالکل۔ يہ سائنس نہیں اور نہ ہي قبل از وقت حالات کے بارے دکھائي”
”دينے والے خوابوں کي مانند ہے۔
پروفیسر نے جواب نہیں ديا۔ اس کي ماں کے الفاظ اس کے ماتھے پر
جگمگا رہے تھے۔ بطور سائنس دان تو وه ان سے منکر ہو سکتا تھا لیکن بطور
بیٹا انہیں رد نہیں کر سکتا تھا۔
شلومہ، تمہاري داستان دلچسپ ہے مگر میں کنعاني زبان سے واقف”
آثار
ِ
نہیں اور پیغام کا ترجمہ تم پہلے ہي کر چکے ہو۔ سارا معاملہ اسرائیلي
قديمہ کے محکمے کے پاس جانا چاہیئے، میرے پاس کیوں لائے ہو؟” آقا نے
پوچھا۔
پروفیسر جھجھکا۔ “میں صرف اس لیے لايا تھا کہ شايد اس تحرير سے آپ
”کوئي معني اخذ کر سکیں۔ ايسا لگتا ہے کہ جیسے يہ کوئي پیشین گوئي ہو۔
شلومہ، تم جو پوچھ رہے ہو، اس کا جواب پہلے سے جانتے ہو۔” آقا نے”
جواب ديا۔
پروفیسر نے ہمت نہ ہاري۔ “مگر مجھے مہر پر موجود لفظ کا معني نہیں
معلوم اور نہ ہي يہ جانتا ہوں کہ کیا يہ دونوں ايک ہي زبان ہیں؟ اگر ہم کسي”طرح سے ان کا تعلق نکال سکیں۔ ۔ ۔ ۔
”بے سود ہوگا۔”
“لیکن آپ يہ کیسے ۔ ۔ ۔ ؟ میرا مطلب ہے کہ ہم اور کیا ۔ ۔ ۔ ؟”
پروفیسر بات کرتے کرتے رک گیا کہ جیسے وه اپنے استاد کي بات کو رد
نہ کر سکتا ہو۔
آقا نے مزيد کچھ نہ کہا۔ عین اسي وقت کھلي کھڑکي سے بھورے رنگ کا
ايک پتنگا اندر آيا اور ہمارے سروں پر گھومنے لگا۔ آقا نے اپنا دائیاں ہاتھ اوپر اٹھايا
اور پتنگا فوراً ہي ان کي ہتھیلي پر بیٹھ گیا۔
اسے بھي تمہاري طرح روشني کي تلاش ہے” آقا نے اپني مٹھي بند کر”
کے اسے اپنے لبادے کي جیب میں ڈالا اور جب ہاتھ باہر نکالا تو وه خالي تھا۔
اے دوست، تمہارا خواب تمہیں يہاں لايا ہے۔ لیکن تمہیں اس کا مفہوم”
يہاں نہیں پتہ چلے گا۔ تمہیں علم ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہوگا۔ میں اپني طرف
”سے ہر ممکن کوشش کروں گا، آگے الله کي مرضي۔
پروفیسر نے پہلے آقا کے خالي ہاتھ کو ديکھا اور پھر اپنے ہاتھوں کو، پھر
خاموش رہا کہ بعض باتیں ان کہي ره جاني چاہیں۔
کوئي اور رستہ نہیں؟” پروفیسر کي بیٹي نے پوچھا۔”
آقا نے اپنا سر ہلايا۔ “سچ کتابوں سے نہیں ملتا۔” پھر انہوں نے برا ِه راست
”کیپٹن سیماچ کو ديکھا۔ “تمہیں جواب وہیں ملے گا جہاں سوال پیدا ہوا تھا۔
کیپٹن سیماچ نے آنکھیں بند کر لیں۔
پھر تو ہمیں صحرا میں جانا ہوگا۔” پروفیسر بولا۔”
اسي وقت مجھے معلوم ہو گیا کہ آقا ہمیں بھي ساتھ بھیجیں گے۔ اسي
وجہ سے ہمیں جانے کي اجازت نہیں ملي تھي۔ علي اور رامي بے حس و
حرکت میرے ساتھ بیٹھے رہے۔ انہیں بھي علم ہو چکا تھا۔
آقا نے اپنا پائپ سلگايا اور ايک لمحے کو اپني آنکھیں بند کر لیں اور پھر
ربیکا کو ديکھنے لگے۔ اس کا جسم اور سر جھکے ہوئے تھے۔ پھر اچانک اس نے
کمر سیدھي کي اور شانے اکڑا کر عین اسي لمحے سامنے ديکھنے لگي۔
“آقا۔” اس نے آہستگي سے کہا۔
آقا؟
اس کي آواز نرم تھي لیکن آنکھیں چمک رہي تھیں۔ “آقا، آپ کي اجازت
”سے میں اس سلسلے کا حصہ بننا چاہتي ہوں۔
پروفیسر فري مین نے حیرت سے اپني بیٹي کي طرف ديکھا لیکن آقا
مسکرائے۔ انہیں اس کا علم پہلے ہي ہو چکا تھا۔
يہ راه بہت مشکل ہے اور اس پر استقامت کي اشد ضرورت ہوتي ہے۔ اس”
سے زياده مشکل راه تمہیں کہیں اور نہیں ملے گي۔ تمہارا کچھ بھي پوشیده
“نہیں رہے گا۔ کیا تم واقعي اس پر تیار ہو؟
”اس نے فوراً جواب ديا۔ “جي میں تیار ہوں۔
تمہارا باپ میرا دوست ہے۔ تمہیں اس سے اجازت لیني ہوگي۔” آقا نے”
کہا۔
ربیکا نے اپنے باپ کو ديکھا۔پروفیسر فري مین نے اپني بیٹي کو ديکھا اور آہستہ سے سر ہلايا۔ “کیا
”کہہ سکتا ہوں۔
کیا تم خدا کو مانتي ہو؟” آقا نے پوچھا۔”
جي۔” اس نے آہستگي سے جواب ديا۔”
اس سلسلے کے درويشوں میں خوش آمديد کہ جس میں ہر نسل اور”
مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ لیکن ہم سب ايک ہي راستے کے مسافر
”ہیں۔
کیا تم اسلامي نماز پڑھو گي؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
يہ سن کر وه مسکرائي مگر خاموش رہي۔
اہل کتاب اور ايک
ِ
آقا نے کہا۔ “عیسائي، يہودي، مسلمان، ہم سب
مشترکہ میراث رکھتے ہیں۔ اے دوست، میں نے يہوديوں اور عیسائیوں کے ساتھ
”بھي عبادات کي ہیں۔ يقین کرو، صرف ايک ہي خدا ہےجو سب کي سنتا ہے۔
پروفیسر نے بہت زور سے آه بھري اور سر جھکا ديا۔ پتوں پر ہلکي سي ہوا
چل رہي تھي اور آقا نے جھک کر پروفیسر کے کان میں کچھ کہا اور پروفیسر
فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
خاموش کیوں ہو؟ زبان کا کام بولنا اور کان کا کام سننا ہے۔” آقا بولے۔”
پروفیسر فري مین نے ہلکي سي جھرجھري لي۔ پھر ربیکا نے اپنے باپ
”کي کمر کے گرد ہاتھ رکھا تو پروفیسر نے پھر آه بھري۔ “جي۔ کیوں نہیں۔
کیپٹن سیماچ اس سارے عرصے خاموش بیٹھا رہا۔ آقا نے اس کي جانب
ديکھا۔
شلومہ اپني بیٹي کو اس سلسلے میں شامل ہوتا ديکھے گا۔ تم بھي”
”يہیں رکو تاکہ تمام باتیں سني جا سکیں۔
اس بات کا جیسے اس پر کوئي اثر ہوا ہو۔ طويل خاموشي کے بعد اس نے
آہستہ سے سر ہلا کر رضامندي ظاہر کي۔
ايسے ہي سہي۔ ربیکا اب اپنے گھر واپس نہیں جائے گي۔ تم سب میرے”
مہمان ہو اور آج رات يہیں رکو گے۔ کل شام کو مجلس ہوگي جو ہر دو ہفتے بعد
ہوتي ہے۔ اسحاق ربیکا کو ابتدائي معلومات دے گا۔” آقا نے کہا۔
يہ کہتے ہي آقا اٹھے اور ہم بھي ان کے ساتھ اٹھے اور ان کے کمرے سے
باہر جاتے ہي ايسا لگا کہ وه توانائي بھي چلي گئي ہو کہ جس نے ساري رات
بمشکل تمام میں نے مہمانوں کے لیے
ِ
ہمیں ہشاش بشاش کیے رکھا تھا۔
چٹائیاں اور کمبل ان کے کمروں میں رکھ سکا اور پھر میں اپني زندگي کي
گہري ترين نیند سو گیا۔

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: