Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 1

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 1

شمالی وزیرستان کے اس پہاڑی ویرانے میں رات تیزی سے اتری تھی۔ ہم نے ایک پہاڑی نالے کے قریب پڑائو ڈالا ہوا تھا۔ موسم سرد ہو چلا تھا۔ جس کے سبب چوڑے پہاڑی نالے میں پانی نہ ہونے کے برابر تھا۔ صرف ایک پتلی سی جھلملاتی لکیر پانی کی موجودگی کا احساس دلاتی تھی۔ فضا میں گیڈر کی مخصوص آواز گونجی تو پڑائو میں موجود دو عدد تازی کتے بے چین ہوگئے۔ اعل ی تربیت کے حامل وہ کتے دھیمی آوازیں نکال کر اور جسم کی اضطراری حرکت سے بے چینی کا پتا دے رہے تھے۔ نہ جانے کون سی بے چین روحیں ان کے جسم میں بسیرا کیے ہوئے تھیں کہ سارا دن شکار میں مشغول رہنے کے باوجود وہ اس پل بھی شکار کے لیے تیار تھے۔
سینے کی گہرائیوں میں ایک آہ نے جنم لیا اور وہیں کہیں دب بھی گئی۔ میں بھی تو گزشتہ نو ماہ اور دو دنوں سے مسلسل ایک درندے کے شکار کے لیے بے چین تھا۔ ہوش و حواس میں گزاری شاید ہی کوئی گھڑی ہو جو میں نے اس درندے کی تلاش میں صرف نہ کی ہو۔ ٹھہرتا تھا تو قدم جلنے لگتے تھے۔ قدموں میں جلتے انگارے تھے مسلسل اس کی تلاش میں چلنے پر مجبور کرتے تھے۔ میرے وجود میں اس درندے کے خون کی پیاس اتنی شدت سے موجود تھی کہ مجھے اپنی نسیں تک سلگتی محسوس ہوتی تھیں۔
شکر کا مقام تھا کہ ایک مہربان کی مہربانیوں نے میری وحشتوں کو لگام دی تھی۔ ورنہ عین ممکن تھا میں دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر مر چکا ہوتا۔
پڑائو میں رات کے کھانے کی تیاری شروع ہوچکی تھی۔ سارا دن شکار کیے گئے خرگوش اور مرغابیاں سیخوں میں پرو کر آگ پر چڑھائے جارہے تھے۔ ایک سالم بکرا بھی انہی مراحل میں تھا۔ اس کے پیٹ کے اندر چاول بھرے گئے تھے۔ یہ بکرے والا اہتمام خصوصی طور پر میرے دوست و میزبان گل ریز خان نے اپنے چند اور مہمانوں کے لیے کیا تھا۔ ان مہمانوں کا تعلق تاشقند سے تھا۔ ان میں تین خواتین اور دو مرد تھے۔ وہ گل ریز کے کاروباری شراکت دار تھے اور تفریح و شکار کی غرض سے گل ریز کے پاس قیام پذیر تھے۔ اس ہی تھا۔ مگر ایک بالکل مختلف ‘‘شکار’’ میں بھی نکل پڑا تھا۔ مقصد تو میرا بھی ‘ شکاری ٹولے کی آڑ میں نوعیت کا۔
مجھے اس درندے کی تلاش تھی جس کے خون کی طلب مجھے ہر اس جگہ کھینچ لے جاتی تھی جہاں اس کی موجودگی کی ذرا سی بھی بھنک پڑتی تھی۔
لئی اور پشان میں سرخ بھیڑئیے کی ‘ باگڑ خیل ‘ شمالی وزیرستان کے ان دور دراز قبائلی علاقوں اکوڑہ خیل مجھے اطلاع ملی تھی کہ میرا مجرم نور جان کے ڈیرے پر دیکھا ‘ عرفیت سے معروف ایک ڈکیت تھا نورجان گیا ہے۔ یہ کسی معروف زمین دار یا وڈیرے کا ڈیرہ نہیں تھا بلکہ ایک نامی گرامی ڈکیت کا ڈیرہ تھا۔ جس کے گروہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ سو سے زائد خطرناک مفروروں اور اشتہاریوں پر مشتمل ہے۔ سو یہ ڈیرہ کسی خفیہ مقام پر تھا۔ البتہ اتنا معلوم ہوا تھا کہ یہ خفیہ مقام اکو ڑہ خیل اور لئی کے درمیان وی شکل کی ایک گھاٹی کے نزدیک ہے۔ کٹی پھٹی سطح مرتفع پر مشتمل اس دشوار گزار خطہ زمین پر درجنوں گھاٹیاں تھیں اور بہت سوں کے متعلق یہ اندازہ لگانا بے حد مشکل تھا کہ وہ کس شکل کی ہیں۔
یہ مشکلات میرے لیے رائی کے دانے سے زیادہ حقیر تھیں سینے میں فروزاں آگ ہر مشکل سے گزر جانے پر آمادہ رکھتی تھی۔ اس وقت ہم اکوڑہ خیل اور لئی کے درمیان خیمہ زن تھے اور ہماری جولان گاہ یہی درمیانی علاقہ تھا۔
انہی پہاڑوں کا بیٹا تھا۔ ‘ اس کے علاوہ گل ریز
‘‘ ہم کیا ہیجڑے ہیں جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے اور تم اکیلے لڑو گے۔ ’’ خفگی بھرے انداز میں کہا۔ گل ریز خان تمہارا دوست ہے تو تمہارے ’’ جذباتی ہیجان کے سبب اس کے گلے کی رگیں پھول گئی تھیں۔ دشمن میرے بھی دشمن ہیں۔ میں ہر جگہ تمہارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑوں گا۔ میں نے صرف ‘‘ احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ اکیلے لڑنے کے لیے نہیں کہا۔
یار! میری ’’ میں نے اسے بازوئوں کے گھیرے میں لے لیا۔ مگر اس کے جسم کا خفگی بھرا تنائو بر قرار رہا۔ میں یہاں تمہارے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں ’’ میں نے مزید اسے بھینچا۔ ‘‘ بات کا تم نے غلط مطلب لے لیا ہے۔ ‘‘ تمہارے بازو ہی میرے بازو ہیں۔
لالے! ’’ کچھ ہی پل میں اس کی ساری خفگی دور ہوچکی تھی۔ میرے کندھے پر بازو رکھے وہ کہہ رہا تھا۔ ویسے تو جیسے تم چاہو وہی راستا اپناتے ہیں۔ مگر میرا مشورہ ہے کہ سرخ بھیڑیے کو ناچ گانے کی محفل ‘‘ سے واپسی پر تعاقب کر کے گھیرا جائے۔
مجھے اس مشورے کی کوئی واضح وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔ میری پیشانی پر الجھن کی سلوٹ دیکھتے ہی گل ریز نے جلدی سے کہا۔
شادی کی تقریب ککے زئی قبیلے کے ایک سرکردہ ملک کے بیٹے کی ہے۔ اپنی بستی میں سرخ بھیڑیے کے ’’ ساتھ ہونے والاکوئی سانحہ پورے قبیلے کو بھڑ کا دے گا اور نا ختم ہونے والی ایک خونی دشمنی کی بنیاد ‘‘ پڑ جائے گی اور!
یار! جس بات پر ’’ میں ایک لحظے میں بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ کچھ دیر پہلے تم اچھے خاصے خفا ہو چکے ہو۔ وہ دراصل یہی ہے کہ میں تمہیں کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میرے میزبان کی حیثیت سے تمہاری مشہوری تمہارے لیے ضرر رساں ہے۔ تمہارا تعاون ‘‘ مجھے حاصل رہے۔ مگر تم بیک فٹ پر رہو یہ زیادہ بہتر ہے۔
حیرت انگیز طور پر بات گل ریز کی سمجھ میں آگئی۔ میری مزید کو شش کے سبب اس کی معمولی ہچکچاہٹ مکمل رضا مندی میں بدل گئی۔
میں نے تو اپنے مقصد کی تکمیل کے ساتھ ہی اس علاقے کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ مگر گل ریز کی جڑیں تو یہیں تھیں۔ اس کے لیے اس علاقے میں جہاں معمولی بات پر جان لی اور دی جاتی تھی۔ میں کوئی جان لیوا دشمنی کا سلسلہ چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا۔
گل ریز کا یہ مشورہ کچھ ایسا غیر مناسب بھی نہیں تھا کہ سرخ بھیڑیے کو واپسی پر گھیرا جائے بھری پری بستی میں ہم درد اور کندھے سے کندھا ملا کر لڑنے والے دوستوں کے درمیان اسے کھینچنے کے بجائے کسی ویران گھاٹی میں اسے گھیر لینا زیادہ مناسب تھا۔
سرخ بھیڑیے کے ساتھ ‘ اس کے باوجود میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ اگر جعفر ایرانی کے بعد میںاپنی وحشت پر قابو پا کر تعاقب جیسا ٹھنڈے مزاج کا طالب کام سر ‘‘ دید ’’ ہوا تو کیا اس کی انجام دے سکوں گا؟
میں اور گل ریز خاصی دیر مغز ماری کرتے رہے۔ آخر طے یہی ہوا کہ سرخ بھیڑیے کو تعاقب کرکے ہی گھیرا جائے۔
مجھے انفرادی طور پر شکاری پرندوں کے تاجر کے طور پر ناچ گانے کی اس محفل میں شرکت کرنا تھی۔ سرخ بھیڑیا نایاب پرندوں اور حسین و شاداب عورتوں کا بے حد رسیا تھا۔ عورتوں کو وہ دل بہلانے کے لیے اور نایاب پرندوں کو قدر دانوں تک منہ مانگے داموں بیچنے کے لیے اپنے پاس رکھتا تھا۔
بھنے گوشت کی خوش بو اشہا انگیز ہوچکی تھی۔ تاشقند والے مہمان ایک قریبی پہاڑی پر غروب آفتاب کے منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے چڑھے ہوئے تھے۔ ان کی واپسی میں تاخیر اور اندھیراہونے کے سبب گل ریز تشویش میں مبتلا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ملازم دوڑاتا۔ وہ لوگ واپس آ گئے۔ دو ملازم بھی ان کے ساتھ تھے۔
گل ریز نے انگریزی میں کہا۔ پھر وہ پشتو ‘‘ تم لوگوں کو اندھیرا پھیلنے سے پہلے ہی لوٹ آنا چاہیے تھا۔ ’’ میں دونوں ملازموں پر خفا ہونے لگا۔ ملازموں نے ہکلاتے ہوئے اپنی صفائی میں کچھ کہا۔ ان کا اشارہ
مہمانوں کے گروپ کی سب سے چلبلی اور نوجوان لڑکی کی طرف تھا۔ زاشے نامی یہ لڑکی ڈھیلے درجنوں ڈوریوں والے ٹرائوزر اور شوخ برائون رنگ کی پھنسی ہوئی ٹی شرٹ میں ملبوس گردن میں قیمتی ڈیجیٹل کیمرہ لٹکائے اطمینان سے چیونگم چبانے میں مصروف تھی۔ ملازمین کے اشارے بھانپتے ہی اس نے کہا۔
ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں۔ تاخیر میری وجہ سے ہوئی۔ میں بالکل آخری سورج کی کرنوں کو اپنے ’’ اف یہ ’’ پھر اچانک ہی اس نے ناک سکیڑی یہ منظر خاصا دل فریب تھا۔ ‘‘ کیمرے میں قید کرنا چاہتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی نظر کوئلوں پر ‘‘ ملک لگتا ہے کوئی خصوصی اہتمام ہے۔ …زبردست خوش بو لٹکے سالم بکرے پر جا ٹکی۔ اس کی دلچسپی دو چند ہوگئی۔ وہ کیمرا سنبھالتی ئ اس طرف بڑھ گ ی۔ ً فورا
محسوس نہ کرنا ملک! اس کا ’’ دوسری لڑکی جو زاشے کی بڑی بہن تھی کھسیانی ہنسی کے ساتھ بولی۔ ‘‘ لا ابالی پن ابھی باقی ہے۔ عقل عمر کے ساتھ ہی آئے گی۔
دھیمے سے انداز میں یہ کہنے والا زشے کا بہنوئی جلابی تھا۔ ‘‘ ہمیں نہیں آئی تو اسے خاک آئے گی۔ ’’
اس بات پر قہقہہ پڑا جب کہ آسین پیار بھری خفگی سے شوہرکو گھورنے لگی۔
کیروسین اور شعلوں کی روشنی میں تاریک کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر کھایا جانے والا وہ کھانا یادگار تھا۔ دیگر افراد کی طرح میں نے بھی خوب ڈٹ کر کھایا۔ کھانے کے بعد خوش بو دار روایتی قہوے کا دور چلا۔
میں نے ضرورت سے زیادہ کھا لیا تھا۔ پیٹ میں گرانی سی محسوس ہو رہی تھی۔ میں کچھ دیر چہل قدمی کا سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ زاشے نے شاید میرا ارادہ بھانپ لیا تھا۔ اس کی مترنم آواز ابھری۔
مسٹر م ’’ میں نے یہاں خود کو اسی نام سے متعارف کروایا ‘‘ چہل قد ی کے لیے نکل رہے ہو۔ ً حارث! تم غالبا تمہارا اندازہ حیران کن ’’ تھا۔ میں نے سر گھمایا۔ اس کی ہلکی بھوری آنکھیں میرے چہرے پر جمی تھیں۔ ‘‘حد تک درست ہے۔
تمہارے ساتھ چلوں گی۔ اس طرح ملک کو ‘ میں ’’ اس کے ہونٹوں پر ایک لحظے کے لیے مسکراہٹ چمکی۔ اس نے شریر نظروں سے گل ریز کی طرف دیکھا ملازموں کی دیکھا دیکھی ‘‘ بھی میری فکر نہیں ہوگی۔ پہلی دفعہ متعارف ہونے والی لڑکیوں نے گل ریز کو ملک کہہ کر مخاطب کرنا شروع کردیا تھا۔ دونوں مرد جلابی اور قدوس البتہ اسے گل ریز ہی کہتے تھے۔
میں شاید بتانا بھول گیا ہوں کہ پانچ افراد پر مشتمل تاشقند کے مہمانوں کا یہ گروپ دو شراکت داروں سالی اور قدوس کی بیوی آسین آبے پر مشتمل تھا۔ ‘ جلابی کی بیوی ‘ قدوس‘ جلابی
میری رضا مندی پاتے ہی زاشے میرے ہمراہ ہولی۔ میری ہمراہی کے سبب گل ریز کے چہرے پر اطمینان تھا۔ ورنہ وہ مہمانوں کے حوالے سے خاصا حساس تھا۔ اس کی حساسیت بے وجہ بھی نہیں تھی۔ اپنی محفوظ بستی سے دور اس ویرانے میں جہاں ہر طرف مجرموں اور خطرناک ڈاکوئوں کا راج تھا تین نوجوان و مہمان خواتین کی موجودگی اس تعلیم یافتہ روایتی قبائلی کے اعصاب کا کڑا امتحان تھی۔
میں جانتا تھا کہ گل ریز کے ملازمین جو وقت ضرورت بہترین شوٹر بھی ثابت ہوسکتے تھے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس اور پوری طرح چوکس ہیں۔
ہم دونوں شانہ بشانہ پڑائو سے نکلے۔ چاند کے ابتدائی دنوں کی رات تھی۔ سو ہر طرف ملگجے اندھیرے کا راج تھا۔ پسلیوں سے چپکا امریکن کولٹ آسودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ آستین میں چھپا بلیڈ کی مانند تیز اور پتلا خنجر محض میرے بازو کی ایک مخصوص جنبش سے میرے ہاتھ میں آسکتا تھا اور ایک لحظے سے بھی کم وقت میں مد مقابل کا پیٹ چیر سکتا تھا۔
پڑائو سے نالے تک خطہ زمین ہموار تھا۔ راستا دیکھا بھالا تھا۔ اس لیے ہم مناسب رفتار سے قدم بڑھا رہے مسٹر حارث! ذاتی معاملات میں مداخلت نہ سمجھو تو ’’ تھے۔ پڑائو سے کچھ دور آتے ہی زاشے نے کہا۔ ‘‘ ایک بات پوچھوں؟
اس ‘‘ پوچھ لو مگر مجھے صرف حارث کہہ کر بلائو تو زیادہ بہتر رہے گا۔ ’’ اس کے انداز نے مجھے چونکا دیا۔ ہم لوگ پچھلے تین دنوں سے ایک ساتھ ہیں۔ میں نے تمہیں ہنستے ’’ نے سر کو اثباتی جنبش دی اور بولی۔ ‘‘ تو کجا مسکراتے بھی نہیں دیکھا۔
میرے وجود میں سناٹا سا چھانے لگا۔ لا ابالی سی نظر آنے والی وہ لڑکی بڑی گہری نظر رکھتی تھی۔
اس دوران بہت سے مواقع آئے جب حاضرین دل کھول کر ہنسے مگر تم ’’ اپنی لہر میں وہ کہہ رہی تھی۔ وہ سر اٹھا کر بغور میرے چہرے ‘‘ مسکرائے تک نہیں کوئی صدمہ اس کی وجہ ہے یا محض میرا وہم ہے؟ کی طرف دیکھنے لگی۔ جیسے میری زبان کے بجائے میرے چہرے پر اپنے سوال کا جواب تلاش کر رہی ہو۔ تمہارا وہم ہے۔ بہر حال یاد دلانے کا شکریہ۔ ’’ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے خوش دلی کا مظاہرہ کیا۔ یہ کہہ کر میں نے زبردستی کا ایک ‘‘ کوشش کروں گا کہ آئندہ ہنسنے میں دوسروں کا ساتھ دے سکوں۔ قہقہہ لگایا۔ اپنے قہقہے کے کھوکھلے پن کا اندازہ مجھے زاشے کے چہرے کے تاث رات سے ہوا۔ بہر حال وہ ایک مہذب لڑکی تھی۔ بحث اور قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے اس نے کندھے اچکائے اور دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
‘‘ اوکے مان لیتے ہیں۔ ’’
فوٹو گرافی تمہارا شوق ’’ میں نے اس سے نظریں چرا کر گفتگو کا موضوع تبدیل کر دینا مناسب سمجھا۔ ‘‘ ہی ہے یا تم اس بارے میں کچھ اور سوچ بھی رکھتی ہو؟
وہ ہ قدرتی مناظر کی فوٹو گرافی میرا جنون ہے۔ میں فوٹو گرافی کو پروفیشنل ’’ ی پر جوش ہوگئی۔ ً فورا ان ’’اس نے منہ بسورا۔ ‘‘ بنانا چاہتی ہوں۔ مگر آسین اور جلابی میرے اس خیال کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ کا خیال ہے کہ مجھے ا پنی ساری توجہ ایم بی اے کی ڈگری کے حصول پر دینی چاہیے اور فوٹو گرافی کو ان دونوں کا کہنا ہے کہ میرے کام میں ’’پھر اس کا لہجہ دل گرفتہ ہوا۔ ‘‘ محض شوق کا درجہ دینا چاہیے۔ ‘‘ وہ چیز نہیں ہے۔ جو غیر معمولی پن کا احساس لیے ہوئے ہو۔
مجھے بھی فوٹو گرافی سے شغف ہے۔ میں تمہاری اتاری ہوئی تصویریں دیکھنا چاہوں گا۔ ممکن ہے ’’ ‘‘ کوئی رائے بھی دے سکوں۔
اس کے لہجے کی شگفتگی قدرے لوٹ آئی۔ ‘‘ واپسی پر میں تمہیں دکھائوں گی۔ ’’
کچھ دیر میں ہم پہاڑی نالے تک پہنچ گئے۔ پانی کی پتلی سی لکیر میں کبھی کبھار کوئی ستارہ سا جھلملا اٹھتا تھا۔
اچانک رخش تصور نے جست بھری اور لا متنا ہی فاصلے طے کر گیا۔ وہ ایسی ہی ایک نیم تاریک اور قدرے خنک رات تھی۔ میری ران میں گولی لگی تھی اور آپریشن کے بعد کائنات مجھے زبردستی ایبٹ آباد لے گئی تھی۔ وہاں ایک پہاڑی پر اس کی ڈاکٹر دوست شمائلہ کا بے حد خوب صورت ہٹ تھا۔ جہاں سے نیچے وادی کا بے حد دل فریب نظارہ کیا جا سکتا تھا۔
اس ہٹ میں گزارے بائیس دن میری زندگی کے حسین ترین اور یادگار دن تھے۔ ایسی ہی ایک رات میں ہم نیچی جگہوں ‘ دونوں ہٹ کی بالکونی میں بیٹھے وادی میں ٹمٹماتی روشنیوں کا نظارہ کر رہے تھے۔ اونچی پر بنے مکانوں میں ٹمٹماتی روشنیاں بڑی بھلی لگ رہی تھیں۔ بالکونی کے عین نیچے وادی میں ایک بل کھاتی ندی کا نظارہ بھی کیا جاسکتا تھا۔
خنکی کے سبب میں نے اپنی گرم چادر کائنات کے کندھوں تک پھیلا دی تھی۔ اس کا سر میرے شانے پر تھا اور اس کے ریشمی تھان کی مانند پھیلے بال میرے کندھوں پر تھے۔ اس کے بالوں سے امڈتی خوش بو میرے جسم و جاں کو معطر کر رہی تھی۔ خوش بو ہمیشہ سے میری کمزوری رہی ہے۔ کائنات کے بالوں سے امڈتی خوش بوکسی شیمپو اور کنڈیشنر کی نہیں تھی۔ یہ بڑی جدا سی الوہی خوش بو تھی۔ جیسے بارش کے پہلے چھینٹوں سے اٹھنے والی مٹی کی خوش بو نے جنگلی پھولوں میں رچ کر نیا روپ دھار لیا ہو۔
اس پل میں نے آنکھیں موند لی تھیں اور کائنات کے علاوہ میرے دل و دماغ میں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں نے اپنا رخسار اس کے گھنیرے بالوں میں دھنسا دیا تھا۔ وقت کی گردش جیسے تھم گئی تھی اور شاید ہم دونوں کی دھڑکنیں بھی ہم آہنگ ہو کر تھمی تھمی سی تھیں۔
کاش یہ لمحہ امر ہوجائے۔ میں ہمیشہ ’’ اس سحر انگیز خاموشی کو کائنات کی خمار آگیں آواز نے توڑا۔ ‘‘ ہمیشہ کے لیے یونہی آپ کے کندھے پر سر رکھے رہوں۔
‘‘ میری بھی یہی خواہش ہے۔ ’’ میں نے اس کے بالوں کو چوما۔
اس کے بعد دوبارہ سحر انگیز خاموشی نے ہم دونوں کو اپنی آغوش میں لے لیا۔
چند لمحوں بعد اچانک کائنات کے جسم میں کسمساہٹ ہوئی۔ اس نے بڑی نرمی کے ساتھ میرے کندھے سے سر اٹھایا۔ اس کی نگاہوں کا مرکز وادی میں بہنے والی سست روندی تھی۔
‘‘ دیکھیں کتنا دل فریب نظارہ ہے۔ ’’
میں نے اس کی نگاہوں کا تعاقب کیا۔ ندی کے پانی میں ستاروں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ یہ عکس اتنا واضح تھا کہ لگتا تھا جیسے ستارے ندی میں اتر آئے ہیں۔
اس نے بچوں کے سے اشتیاق سے پوچھا۔ ‘‘ ہے نا خوب صورت؟ ’’
میں نے اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔ اس کی آنکھیں بے حد چمک دار اور شفاف تھیں۔ جیسے سچے ندی میں اترے ستاروں سے ‘ ان آنکھوں میں چمکتے ستارے ’’ موتی۔ میں نے اس کی آنکھوں کو چوما۔ ‘‘ زیادہ خوب صورت ہیں۔
اس نے دل نشین ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔ ‘‘ میں جا رہی ہوں۔ ’’
میں نے اس کی سب سے بڑی کمزوری کو تھاما۔ ‘‘ شعر نہیں سنو گی؟ ’’
اس نے مزاحمت ترک کردی۔ ‘‘ سنائیں۔ ’’
میں نے نیچے ندی پر نظر ڈالتے ہوئے بشیر بدر کے دو شعر سنائے۔
تھکی ہاری چاندنی کی کوئی کرن چپکے سے آکر
میرے پہلو میں سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اندھیری رات میں ستاروں کی ردا اوڑھے
کوئی ندی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
وہ مبہوت رہ گئی۔ میں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی ستارہ آنکھ پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
…٭٭٭…
زاشے کی سحر زدہ آواز مجھے حال میں کھینچ لائی۔ سینے کی گہرائیوں ‘‘ کتنا خوب صورت نظارہ ہے۔ ’’ میںپھر اچانک دل دوز آہ نے جنم لیا اور ہمیشہ کی طرح وہیں دب گئی۔
پانی میں اترے ستاروں نے زاشے کو بھی مبہوت کر دیا تھا۔
میںنے اس کی تائید کی۔ ‘‘ واقعی خوب صورت منظر ہے۔ ‘ہاں’’
تم نے کبھی کسی سے ’’ زاشے نے سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور بالکل اچانک سوال داغ دیا۔ ‘‘ محبت کی ہے؟
حوادث کی گود میں مسلسل رہنے کے سبب میرے اعصاب پتھر ہوچکے تھے۔ میں نے چونکے بغیر کہا۔ ‘‘اس سوال کا مقصد؟’’
میرے سامنے آکر اس نے میرے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔ درمیانی فاصلہ برائے نام ہی تھا۔
اس کی سانسیں مرتعش ہونے لگیں۔ تمہیں ‘‘ تم محبت میں چوٹ کھائے ہوئے ہو۔ ‘ میرا وجدان کہتا ہے ’’ اس کے ساتھ ہی وہ میرے سینے سے ‘‘ نسوانی سہارے کی ضرورت ہے۔ جو تمہیں دوبارہ سے جوڑ سکے۔ لگ گئی اور اپنا سر بڑے دل نواز انداز میں میری ٹھوڑی کے نیچے لگا لیا۔ اس کے گرم مرطوب ہونٹ میری گردن کو چھونے لگے۔ اس کا بہکا ہوا تلاطم میں اپنی فصیل جاں پر محسوس کر رہا تھا۔
زاشے کی نگاہوں میں اپنے لیے پسندیدگی کی پرچھائیں میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ مگر اس تیز رفتاری کی مجھے توقع نہیں تھی۔ چند لمحوں کے لیے میں سن سا ہوگیا۔ جس کے سبب اس کا حوصلہ مزید بڑھ گیا۔ اس کی بانہیں آکٹو پس کی مانند مجھے جکڑنے لگیں۔
اس سے پہلے کہ میرے وجود میں خوابدیدہ طوفان انگڑائیاں لے کر بے دار ہوتا میں نے نرمی سے اسے خود ‘‘ تمہارا وجدان دھوکا دے رہا ہے۔مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’’ سے جدا کیا۔
وہ بھونچکارہ گئی۔ چند لمحے مجھے گھورتی رہی۔ بلا شبہ وہ حسین اور بڑی شاداب لڑکی تھی۔ اس کی پیش قدمی کو اس طرح سے رد کردینا۔ اس کے لیے بے حد شاکڈ اور حیران کن تھا۔ اس کی قوت تسخیر اور فتح کرلینے والی نسوانی حس کو زبردست ٹھیس پہنچی تھی۔
اس نے مجھے دھیمی آواز میں گدھے کا لقب دیا اور تیز قدموں سے واپس پڑائو کی طرف لوٹ گئی۔
میں نے چند گہرے گہرے سانس لیے۔ عورت اور عورت کا جسم میرے لیے اجنبی نہیں تھے۔ جب میری سے بھی میرا تعلق استوار ‘‘عورت’’ زندگی نے یکسر ایک نیا موڑ لیا تھا تو اس وقت دیگر خباثات کے ساتھ ہوگیا تھا۔
مگر ایک چنگاری ‘ میں سمجھتا تھا کہ میرا ماضی راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ جس میں کچھ باقی نہیں بچا کائنات کی تھی۔ کائنات ایک دن مجھ تک پہنچ گئی۔ چنگاری دوبارہ سے شعلہ ‘ بچ گئی تھی۔ یہ چنگاری بن گئی تھی۔ میری بیشتر بری عادتیں اس نے چھڑوا دی تھیں۔ عورت سے میں از خود کنارہ کش ہوگیا تھا۔ کائنات کو میں یہ ناسور نہیں دینا چاہتا تھا۔
کائنات کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کے بعد بھی میں نے عورت کی طرف رجوع نہیں کیا تھا۔ میری طرف متوجہ ہونے والی زاشے کوئی پہلی لڑکی نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی کئی لڑکیاں میری ظاہری وجاہت اور شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو کر میرے قریب آنے کی کوشش کرچکی تھیں مگر میرا رد عمل یہی تھا۔ میں وہیں نالے کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ آسمان سے ستاروں کے ساتھ ساتھ یادوں کی بھی میں ماضی کے تند نالے میں تنکے کی مانند بہنے لگا۔ ‘ بارات اتر آئی تھی۔ پل بھر میں
…٭٭٭…
میڈیکل کالج جوائن کیے مجھے دوسرا سال تھا۔ ہفتہ وار تعطیل کے ساتھ دو دیگر تعطیلات آگئی تھیں۔ میں نے گھر جانا بہتر جانا اور اپنے قصبے جٹاں والی کا رخ کیا۔ یہ دور دراز کا پسماندہ سا علاقہ تھا۔ اپنے والد جمال جٹ کی شدید خواہش اور تگ و دو کے سبب میں میڈیکل کالج تک پہنچا تھا۔ میں نے بھی فرماں برداری کا ثبوت دیتے ہوئے خود کو باپ کی خواہش کے رنگ میں رنگ لیا تھا۔
اس کے بعد مقامی روٹ پر چلنے والی ایک کھٹارہ بس اور اس کے بعد ٹانگے کا ‘ پہلے ائر کنڈیشن بس سفر۔ کھٹارہ بس نے میرا جوڑ جوڑ ہلا دیا تھا۔ مگر مجھے پروا نہیں تھی۔ ان دنوں میں سرشاری کی سی کیفیت میں تھا۔ ہر چیز نئی نئی اور خوب صورت لگتی تھی۔ میں نے کائنات کا پیار جیت لیا تھا۔
میں نے کائنات کو جیت لیا تھا۔ تین ماہ پہلے حیدر آباد میڈیکل کالج سے مائیگریشن کر کے آنے والی ‘ہاں کائنات جس کے سانولے سلونے چہرے میں خدا جانے کیا جادو تھا کہ درجنوں لڑکوں کو میں نے اس کے لیے نظر ‘‘کائنات’’ میں بھی شامل تھا۔ اس کی ستارہ آنکھوں میں مجھے اپنی ‘ آہیں بھرتے دیکھا تھا۔ جن میں آنے لگی تھی۔
ً کائنات شروع سے ہی ہمارے گروپ میں تھی اور سبھی کو تقری با یقین تھا کہ ہمارے گروپ بلکہ پورے کالج اسے جیت لے گیا۔ ‘ کا سب سے ہینڈ سم لڑکا جعفر
جعفر کا تعلق ایران سے تھا۔ میڈیکل کی تعلیم کی غرض سے وہ پاکستان میں مقیم تھا۔ دراز قامت کھڑے نین و نقش اور سپنوں کی سودا ‘ سرخ و سفید رنگت گھنگھریالے ڈارک برائون بال ‘ ورزشی جسم کہلانے ‘‘ بلیک بیوٹی ’’ کے لقب کا حق دار تھا اور آج کل یہ لیڈی کلر ہاتھ دھو کر ‘‘ لیڈی کلر ’’ گری بلا شبہ وہ والی کائنات کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔
میری دلچسپی بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ جس کے سبب جعفر ایرانی پہلے تو مجھ سے کھنچا کھنچا رہااور اس کے بعد عامیانہ فقرے بازی پر اتر آیا تھا۔ ایک دو دفعہ ہمارے درمیان تلخ کلامی بھی ہوچکی تھی۔ کئی ہم درد مجھے اس کے راستے سے ہٹ جانے کا مشورہ دے چکے تھے۔ جعفر ایک سیاسی پارٹی کی چھائوں میں پلنے والی اسٹوڈنٹ تنظیم کا سب سے متحرک کارکن تھا۔ دنگے فساد میں ہمیشہ آگے رہتا تھا۔ متعدد بار فائرنگ کیس بھی بھگتا چکا تھا۔
مگر میں نے اسے کبھی پرکاہ سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ جٹ باپ دادا کا خون میری رگوں میں آتشیں سیال بن کر دوڑتا تھا۔ خود سری مجھ میں بددرجہ اتم موجود تھی۔
پھر میرے بے پناہ جذبے نے اثر دکھایا۔ کائنات کچی ڈور سے بندھی میرے پاس کھنچی چلی آئی تھی۔ صندلی بانہیں میرے گلے میں ڈال کر اور میرے کشادہ سینے پر سر رکھ کر اس نے ستارہ آنکھیں موند کر ہمیشہ کے لیے میری ہو جانے کا عہد کیا تھا اور میں گواہ تھا اس عہد کو اس نے نبھایا بھی تھا۔
…٭٭٭…
اس نے ‘‘اوئے آ پتر کمال!’’ نہر کنارے چاچا رمضان عرف رمضی اپنے تانگے کے ساتھ میرا انتظار کررہا تھا۔ گرم جوشی سے مجھے گلے لگانے کے بعد مختصر سا سفری بیگ میرے ہاتھ سے لینے کی کوشش کی۔ میں نے رسمی سی حجت کے بعد بیگ چھوڑ دیا۔
چاچے رمضی کے ساتھ اگلی نشست پر آگیا۔ تانگا نیم پختہ راستے پر نہرکے ساتھ ساتھ رواں ہوگیا۔ ‘ میں دوسری طرف میجر ترین صاحب کا کئی مربعوں پر ‘ یہ میرا سب سے پسندیدہ ٹریک تھا۔ ایک طرف نہر یہ دھول موسم کی مناسبت سے ‘ محیط کینو اور آم کے باغات کا سلسلہ درمیان میں دھول اڑاتا راستا کبھی کینو کی خوش بو چرا لیتی تھی اور کبھی انور رٹول آموں کی میں نے اس ٹریک پر بڑی دوڑیں لگائی تھیں۔ یہ خوش بو میرے م جاں یں رچی بسی تھی اور اپنا قصبہ تو میرے سینے میں بستا تھا۔ ِ ہر مشام میرے لڑکپن اور بچپن کی ہزاروں یادیں یہاں سے وابستہ تھیں۔
دو گہرے سانس لے کر اس ‘ کینوئوں کا موسم تھا۔ ان کی مہک فضا میں رچی بسی تھی۔ میںنے ایک خوش بو کو سینے میں اتارا۔
پتر! سیٹ کے نیچے کینوئوں کا تھیلا پڑا ہے۔ دو چار اپنے لیے ’’ چاچے رمضی نے میری کیفیت بھانپ لی بولا۔ ‘‘ بھی نکال لے۔ ساتھ میں کالے نمک کی پڑیا بھی ہوگی۔
کسی تکلف کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ میں ک ینو نکال لیے۔ یہ ایکسپورٹ کوالٹی کے کینو تھے۔ جن ً نے فورا ً کا بیش تر حصہ خلیجی ممالک کو بھیجا جاتا تھا۔ چاچے رمضی کا بیٹا باغ میں کام کرتا تھا یقی نا یہ اسی نے باپ کو تھمائے تھے۔
چاچا! تیری شادی کا کیا بنا؟ سنا تھا لوہاروں کی ایک بیوہ تجھ سے شادی ’’ میں نے کینو کھاتے ہوئے چھیڑا۔ ‘‘پر رضا مندہے۔
چاچے رمضی کے چہرے پر چمک نمودار ہوئی۔ سینہ غیر ارادی طور پر تن گیا۔ پہلی بیوی کی وفات کے اس کا نام بختاں ہے۔ وہ تو دل و جان سے تیار ’’ بعد دوسری شادی اس کا سب سے پسندیدہ موضوع تھا۔ مگر ’’ چا چے رمضی کے چہرے پر مایوسی لہ رائی۔ ‘‘!… ہے۔ میری اس سے خود بھی بات ہوچکی ہے مگر پھر اس نے ٹانگ اڑانے والوں کو ایک کلاسیکل گالی سے ‘‘ اس کی برادری کے چند بندے ٹانگ اڑا رہے ہیں۔ ‘‘ پتر لگتا ہے دوسرا ویاہ میری قسمت میں نہیں ہے۔ ’’ نوازا اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔
میں نے تسلی دی۔ ‘‘ چاچا! دل چھوٹا نہ کر جو چیز قسمت میں ہو وہ ضرور ملتی ہے۔ ’’
‘‘ قسمت کا ہی تو رونا رو رہا ہوں۔ ’’ اس نے ایک اور ٹھنڈی آہ بھری۔
چند لمحوں کی بوجھل خاموشی کے بعد چاچے رمضی نے جیسے غیر مرئی مایوسی کو جھٹکا اور نئی ‘‘ چھلی ’’ پتر! تجھے میں نے کینو ایسے ہی نہیں کھلائے۔ فی کینو میں نے مچھلی ’’بشاشت کے ساتھ کہا۔ ‘‘ کا ایک دانا لینا ہے تیرے باپ سے۔
وہی میں حیران ہو رہا تھا کہ تونے سارے کینو میرے آگے کیوں رکھ دیے ’’ ہنسی کے ساتھ میں نے کہا۔ وہ کھسیانی انداز میں ہنس دیا۔ ‘‘ ہیں۔
‘‘ دو کینو کے بدلے چار دانے تیرے پکے ہوگئے۔ میں خود بھی ابے کو کہہ دوں گا۔ ’’ میں نے کہا۔
اس نے پر جوش انداز میں کہا اور ہلکا سا چابک رسید کرتے ہوئے گھوڑے کو ایٹر دیا۔ ‘‘ اوئے جیو ندارہ پتر! ’’
میری ذہن کی رو اپنے مچھلی فارم کی طرف مڑ گئی۔ والد صاحب کو زمین دار کے بجائے کاشت کار کہنا زیادہ مناسب تھا۔ ہماری کل بارہ ایکٹر زمین تھی۔ بہر حال گزارا ہو رہا تھا اور میری میڈیکل کی مہنگی
تعلیم بھی جاری تھی۔ یہ اور بات ہے کہ یہ تعلیم دیگر کئی ضروریات کو ہڑپ کر گئی تھی۔ خاص طور پر مجھ سے دو سال بڑی بہن نگہت کا بیاہ۔
نگہت قصبے کے گرلز اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد گھر بیٹھی تھی۔ اس کا رشتہ میرے دور کے ایک چچا کے بیٹے سے طے ہوا تھا۔ وہ شادی کے لیے خاصا زور ڈال چکے تھے اور اب خفگی بھی در آئی تھی۔ مزید تاخیر سے یہ رشتا ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو چکا تھا۔
والد صاحب نے نگہت کے سسرال والوں کو اسی سال کے آخر میں رخصتی کے لیے زبان دے دی تھی۔ ان کی ساری امیدوں کا محور و مرکز کپاس کی فصل اور مچھلی فارم تھا۔ اب فصل بھی تیار تھی اور مچھلی بھی۔ والد صاحب کو مچھلی کے لیے کسی مناسب آفر کا انتظار تھا۔ مچھلی فارم سے ہونے والی آمدنی سے وہ بخوبی اور بھر پور طریقے سے نگہت کا فرض ادا کرسکتے تھے اور فصل سے میرے تعلیمی سال کے اخراجات اور گھر کا نظام چلنا تھا۔
کپاس اور مچھلی کے مناسب دام ملنے کی امید کے سبب والد صاحب خاصے مطمئن تھے۔
میں اپنے خیالات سے چونکا۔ سامنے سے ایک سیاہ ہاتھی جیسا پیکر رکھنے والی شاہانہ انداز کی لینڈ کروزر اپنے پیچھے گرد کا ایک طوفان اٹھائے آرہی تھی۔ نیم پختہ اور مختصر سی چوڑائی رکھنے والے راستے پر اس کی رفتار خطرناک حد تک تیز تھی۔ لمحوں میں وہ ہمارے سر پر پہنچ گئی۔
چاچے رمضی کے چہرے پر ہراس نمایاں تھا۔ اس نے ہر ممکن تیزی سے تانگا کچے میں اتارا۔ بوکھلاہٹ کے سبب ایک پہیہ کھالے میں اتر گیا۔ میں نے بہ مشکل توازن بر قرار رکھا کھالا زیادہ گہرا نہیں تھا۔ البتہ چاچا رمضی خود کو نہیں سنبھال پایا تھا اور ایک جھٹکے سے کھالے میں جا گرا تھا۔
میری توجہ سیاہ لینڈ کروزر پر تھی اور خون میں ابال اٹھنے لگا تھا۔ لینڈ کروزر زناٹے کے ساتھ قریب سے گزری۔ میں نے ڈرائیونگ سیٹ پر ایک تنو مند سرخ چہرے والے نوجوان کو دیکھا۔ ہماری حالت زار دیکھ کر وہ ہنسا تھا۔ ایک لحظے کے لیے مجھے اس کے سفید دانت نظر آئے اور پھر لینڈ کروزر آگے بڑھ گئی۔ میں نے اس نوجوان کو پہچان لیا تھا۔ وہ علاقے کے دوسرے سب سے بڑے زمیندار میاں عابد بیگھے کا بیٹا میاں ذوالفقار تھا۔
میرے وجود میں کڑواہٹ گھلنے لگی۔ چاچا رمضی کھالے سے نکل آیا تھا اور اب دبی آواز میں بیگھے ملوں کو کوس رہا تھا۔ بیگھے ملوں کو اونچی آواز میں کوسنے کا حوصلہ کسی میں نہیں تھا۔
بڑی زیادتیاں دیکھتا آیا تھا۔ خود سری اور شر انگیزی اس ‘ میں بچپن سے ہی اس خاندان کی چھوٹی خاندان کا طرہ امتیاز تھی۔ آپس میں ان لوگوں کا زبردست اتحاد تھا اور ہر طرف پھیلا یہ خاندان یک مٹھ تھے اور یہ سلسلہ ابھی جاری تھا۔ ‘‘ قبضہ گروپ ’’تھا۔ اس کے اجداد
مقامی زبان میں نصف ایکٹرزمین کو کہتے ہیں ‘ بیگھا مل کا نام اس کے اجداد کو لوگوں نے دیا تھا۔ بیگھا اور مل کا مطلب قبضہ کرنے والا یعنی زمین پر قبضہ کرنے والا۔
اس لقب کو آج بھی یہ خاندان بڑے فخر سے اپنے نام کا حصہ بنائے ہوئے تھا۔ سنا تھا کہ ملتان کے قریب ً تقری دھاندلی اور جعل سازی کے ‘ با دس مربعے زمین پر بیگھا ملوں کا کئی سال سے قبضہ تھا۔ دھونس سبب عدالت عالیہ کا فیصلہ ان کے حق میں ہوگیا تھا۔
دس مربعے زمین ملنے کے بعد یہ ‘ دولت اور شر انگیزی میں مزید اضافہ ‘ یہ حقیقت تھی تو ان کے اختیار علاقے کے سب سے بڑے خاندان ترین کے ہم پلہ ہوسکتا تھا۔
میں نے چاچے رمضی کے ساتھ مل کر تانگے کے پہیے کو کھالے سے نکالا۔ واپس تانگے میں بیٹھ کر اس نے جب سے انہوں نے ملتان قبضے والی زمین کا کیس جیتا ہے بالکل ہی ’’ ہانپتی نفرت انگیز آواز میں کہا۔ اٹھا دی ہے۔ چنگڑوں کی ایک کڑی غائب ہے۔ سنی سنائی ہے کہ غائب ہونے سے پہلے ذوالفقار بیگھے ‘‘ات’’ کے تڑ کے پر وہ خود ہی مسکرایا۔ ‘‘بے’’ خراب کی تھی۔ عزت کے ساتھ لگائے اپنے ‘‘ بے عزتی ’’ مل کی اس نے
اس لڑکی کی ہمت کی پھر داد دینی پڑے ’’ کڑواہٹ اور بے بسی کے سبب میں اس کا ساتھ نہ دے سکا۔ ‘‘ گی۔ کسی نے تو بیگھے ملوں کو جواب دیا۔ بے شک ایک لڑکی نے۔
پھر بے چاری کو وڈی قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس رال بہاتے کتے نے ‘ہاں’’ اس کے چہرے پر دکھ کا سایہ لہرایا۔ پتا نہیں شودی (بے چاری) کا کیا حال کیا ہوگا۔ بڑی سوہنی اور اتھری کڑی تھی۔ پنڈ کے سارے چھوکرے ‘‘ اس کے پیچھے تھے۔ مگر کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔
میں نے پوچھا۔ ‘‘ چنگڑ چپ کر کے بیٹھے ہیں؟ ’’ افسردگی میرے وجود میں گھر کرنے لگی۔
غربت اور لاچاری اتر ‘ چاچے رمضی کے بوڑھے چہرے پر جیسے صدیوں نسل در نسل چلنے والی بے بسی دو چار گرم مزاج کے جوانوں نے شور مچایا تھا۔ کڑی ‘ غریب کیا کرے پتر ’’ آئی۔ ایک آہ کے ساتھ اس نے کہا۔ چار جماعتیں پڑھ رکھی ہیں۔ وہ تھانے بھی گیا تھا۔ مگر ‘ کا منگیتر ہیرا بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہیرے نے دو کچھ نہیں بنا۔ الٹا بیگھے ملوں کے ڈشکرے مزارعوں نے ان لڑکوں کو کٹ شٹ چڑھائی ہے۔ ہیرا بڑا تگڑا تین بندے اس نے بھی لٹائے ہیں۔ اب دونوں طرف سے کراس پرچے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو ‘چھوکرا ہے۔ دو
حوالات میں بیگھے ملوں کے مزارعے ککڑ کھا کر قہقہے لگا رہے ہیں اور دوسری طرف چنگڑوں کے چھوکروں کی دن رات چھتر پریڈ ہو رہی ہے۔
‘‘ کا پرچہ بھی ہوگیا ہے۔ اس کی کلہاڑی سے تین بندوں کو خاصے زخم آئے ہیں۔ 324 ہیرے پر تو
میجر اشتیاق ترین نہ صرف علاقے کے سب سے بڑے زمین دار ‘‘ چنگڑ میجر صاحب کے پاس نہیں گئے؟ ’’ تھے بلکہ انصاف پرور اور خدا ترس بھی تھے۔ بیگھے مل کچھ دبتے تھے تو اس وسیع زمینوں اور وسیع تعلقات والے بندے سے۔
میجر صاحب اب بوڑھے ہوچکے ہیں۔ بیٹے امریکا جا بسے ہیں۔ جاگیر منیجروں پر چل رہی ہے۔ ان میں پہلے ’’ ‘‘ والا سا دم خم نہیں رہا۔ بیگھے مل اور زور آور ہوگئے ہیں۔
تین دن تو وہ ٹالتا رہا ‘ بہر حال چنگڑ میجر صاحب کے پاس گئے تھے۔ انہوں نے میاں عابد کو بلوایا تھا۔ دو ’’ ناگوار گزر رہے ہیں۔ ان ‘‘بلاوے’’ پھر آیا تھا۔ سننے والوں نے سنا ہے کہ بیگھے ملوں کو اب میجر صاحب کے کی مرضی ہے کہ آئندہ کوئی مسئلہ ہو تو میجر صاحب خود چل کر آئیں۔
میں بڑ بڑایا۔ ‘‘ اس کا مطلب ہے طاقت کا توازن تیزی سے بگڑ رہا ہے۔ ’’
چاچے رمضی نے سنا نہیں یا میرے الفاظ ہی اسے سمجھ نہیں آئے۔ لحظے بھر کی خاموشی کے بعد اس میجر صاحب کے ڈیرے پر آیا تو اکھڑا اکھڑا سا تھا۔ اس نے برفی ‘ میاں عابد ’’نے گفتگو کے سلسلے کو جوڑا۔ بھی نہیں کھائی۔ میجر صاحب کے ڈیرے پر آنے والوں کی ایک خاص باداموں والی برفی سے تواضع کی جاتی تھی۔ وہ برفی شوگر فری بھی تیار ہوتی تھی اور برفی کھانے سے انکار کو میجر صاحب پسند نہیں کرتے تھے۔
ڈیرے پر چنگڑ بھی تھے۔ میاں عابد صاف مکر گیا کہ اس کڑی کے غائب ہونے میں ’’ چاچا رمضی کہہ رہا تھا۔ اس کے بیٹے کا ہاتھ ہے۔ کڑی کو اٹھاتے بھی کسی نے نہیں دیکھا۔ اس لیے میجر صاحب بھی میاں عابد پر زیادہ دبائو نہیں ڈال سکے۔ البتہ انہوں نے بڑے رمز یہ انداز میں پوچھا تھا کہ اگر کل کو یہ ثابت ہوگیا کہ ‘‘؟… کڑی کے غائب ہونے میں اس کے بیٹے یا خاندان کے کسی اور فرد کا ہاتھ ہے تو پھر
پھر اچانک چاچا ‘‘ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ ’’ میاں عابد نے بڑے اکھڑے ہوئے انداز میں کہا کہ۔ میجر صاحب کے ڈیرے پر اس وقت تیرا ابا بھی ’’ رمضی کے چہرے پر تذبذب کے تاثرات نمایاں ہوئے۔ میں بری طرح چونکا۔ مگر اس کے تسلسل کی خاطر میں خاموش رہا۔ البتہ سینے میں نقارہ ‘‘موجود تھا۔ تھوڑی سی تلخی وہاں تیرے م ’’ سا بجنے لگا تھا۔ چاچا رمضی کہہ رہا تھا۔ ے اور یاں عابد کے درمیان بھی ّ اب ‘‘کس بات پر چاچا؟’’ اس کی لمحاتی خاموشی مجھے کھلنے لگی۔ ‘‘ ہوئی تھی۔
اس کے چہرے پر ہچکچاہٹ بڑھ گئی۔ میرے والد صاحب کی ناراضگی کا خوف اس پر حاوی ہونے لگا۔ والد صاحب کی مرضی اور خواہش تھی کہ مجھے ہر معاملے سے دور رکھا جائے اور میں صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دوں۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ چاچا رمضی کے لیے خاموش رہنا یا بات بدلنا مشکل تھا۔ اسے پتا تھا کہ اب میں اس کے سر ہوجائوں گا۔ اس نے دھیرے سے کہا۔
کوئی خاص بات نہیں تھی۔ بیگھے ملوں نے جو چمڑا رنگنے کی فیکٹری لگائی ہے اس کے گندے پانی کی نکاسی کے لیے ڈالے گئے پائپ کا معاملہ ہے۔ تیرے خ ے کا یال ہے اگر کسی وجہ سے وہ پائپ پھٹ گیا تو ّ اب گندا پانی سیدھا تمہارے مچھلی فارم پر آگرے گا۔
مجھے اندیشے لرزانے لگے تھے اور محسوس ہو رہا تھا خون کی گردش سر کی ‘‘ پھر کیا معاملہ طے پایا؟ ’’ طرف زیادہ ہوگئی ہے۔ بیگھے ملوں کی چمڑا رنگنے کی فیکٹری ہمارے فش فارم کے بالکل نزدیک اور قدرے بلندی پر واقع تھی۔
‘‘ معاملے کا مجھے نہیں پتا۔ میرا بیٹا کسی کام سے اٹھ گیا تھا۔ اس نے مجھے صرف اتنا ہی بتایا ہے۔ ’’ میرے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ چاچا رمضی بات کو چھپا رہا ہے۔ اسے جھٹلانا یا کریدنا مناسب والد صاحب سے اس معاملے میں بات کرسکتا تھا۔ میری چھٹی حس نے البتہ کسی ہنگامے ‘ نہیں تھا۔ میں کی بو سونگھنا شروع کردی تھی۔ چاچا رمضی نے معاملے کی سنگینی کو بے حد کم کر کے بتایا تھا۔
قصبہ نزدیک آگیا تھا۔ میں نے خود پر قابو پانا شروع کردیا۔
جب میں تانگے سے اترا تو نارمل ہوچکا تھا۔
گھر پہنچتے ہی مجھے ماں کی والہانہ محبت نے ڈھانپ لیا۔ میری ماں بڑی سادہ سی عورت تھی۔ کچی بھائی اور والد صاحب اس کی کل ‘ دو نیم پختہ کمروں اور وسیع صحن والا یہ مکان ہم دونوں بہن ‘ دیواروں کائنات تھے۔
ماں دیر تک مجھے چمٹائے میرے کندھے چومتی رہی۔ اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ نگہت کے چہرے پر بھی مجھے ہراس نظر آیا۔
میں نے اس کے دونوں بازو تھام کر آنکھوں میں جھانکا۔ ‘‘ کیا ہوا ماں؟ رو کیوں رہی ہیں؟ ’’
وہ آنسوئوں میں مسکرائی۔ ‘‘ اتنے دنوں بعد تو نظر آیا ہے۔ اس لیے آنکھیں تر ہوگئی ہیں۔ ‘ کیا ہونا ہے پتر ’’
یہ مسکراہٹ مجھے پھیکی سی لگی۔ والد صاحب بھی گھر نہیں تھے۔ حالانکہ میری آمد کی اطلاع پر وہ ہمیشہ مجھے گھر پر ہی ملتے تھے۔ ان کی بے چین بانہیں میری منتظر رہتی تھیں۔
میرا دل کہہ رہا تھا کہ ماں کے ‘‘ تو بے شک میری ماں ہے۔ مگر میں بھی تیرا بیٹا ہوں۔ بتا کیا پریشانی ہے؟ ’’ آنسوئوں نگہت کے ہراس اور والد صاحب کی غیر موجودی کا تعلق ضرور بیگھے ملوں سے ہونے والے ‘‘تنازعے کے سبب ہے۔
بیٹا ہے تو بیٹا ہی ’’ ماں نے بازو چھڑا کر میرا سر جھکایا اور پیشانی چوم کر قدرے شوخ محبت سے کہا۔ میں گہرا سانس لے کر رہ ‘‘ باپ نہ بن۔ کوئی پریشانی نہیں ہے تو بیٹھ میں تیرے لیے لسی لاتی ہوں۔ !…رہ گیا۔
ماں منظر سے غائب ہوگئی تھی۔ میں نے بھی فی الحال مزید کرید مناسب نہیں سمجھی۔ ابھی میں دو دن یہیں پر تھا۔
نگہت کو میں نے بیگ میں سے دہی بھلوں کا شاپر نکال کر دیا۔ سرد موسم کے سبب وہ پلاسٹک کی تھیلی میں محفوظ اور تازہ تھے۔ نگہت کو تیز مسالے کے یہ شہری دہی بھلے بے حد پسند تھے۔ وہ ہراس کی سی کیفیت سے نکلی اور دہی بھلے لے کر باورچی خانے دوڑ گئی۔
میرے لیے نمکین لسی لے آئی۔ مٹی کے پیالے میں اس نمکین مشروب کا ذائقہ ہمیشہ کے لیے میری ‘ماں زبان پر گھل گیا ہے۔ میں نے بعد میں دنیا کے درجنوں مشروب بیش قیمت پیمانوںکے ذریعے حلق میں انڈیلے مگر اس مٹی کے پیالے اور نمکین لسی کی پیاس کوئی نہ بجھا سکا۔ ماں کی محبت سے لبریز مٹی کا وہ پیالہ ہمیشہ مجھے یاد رہا۔
میں نے پہلا پیالہ تیزی سے حلق سے اتارا اور دوسرے کی چسکیاں لینے لگا۔ نگہت دہی بھلوں کی بڑی سی پلیٹ بھر کر میرے سامنے آبیٹھی۔ اس کی آنکھوں میں شوخی چمکنے لگی تھی۔ ماں نے بیٹے کی خاطر باورچی خانے کا رخ کیا۔
بھائی ایک دوسرے کے ‘ہم دونوں بہن ‘‘ بھائی! میری بھابی کا دل جیتا یا ابھی تک آہوں پر ہی گزارا ہے۔ ’’ خاصے قریب تھے۔ وہ کائنات کے بارے میں سبھی کچھ جانتی تھی۔
اوئے پاگل! تیرا بھائی کوئی ایویں شے ہے۔ کچے دھاگے سے بندھی ’’ میں نے اس کی ناک چٹکی میں دبائی۔ وجود میں تہہ در تہہ پھوٹنے والی خوشی کا ‘‘ چلی آئی ہے۔ سارا کالج تیرے بھائی پر رشک کر رہا ہے۔ عکس میرے چہرے اور آواز میں نمایاں تھا۔ ً وہ دہی بھلے چھوڑ کر میرے کندھے ‘‘! بھائی ’’ فورا ہی یہ عکس ماں جائی کے چہرے پر بھی نظر آنے لگا۔ اس نے بڑے مان اور لاڈ سے کہا۔ میں نے اس کے ‘‘ بھابی کو ملنے میں آپ کے ساتھ چلوں گی۔ ’’ سے آلگی۔ سر پر ہاتھ پھیرا۔
‘‘ اوئے جٹی! تو کیوں ملنے جائے گی۔ مہینے کے آخری ویک اینڈ پر میں اسے گھر لے آئوں گا۔ ’’
اس نے سر مزید میرے شانے پر دھنسایا۔ ‘‘! سچ بھائی ’’
ّ ‘ بالکل سچ! بس تو اتنے دنوں میں ماں کا ذہن بنا ’’ ‘‘ وہ ابے کے کانوں میں خود ہی انڈیل دے گی۔
اس نے سر ہلایا۔ ‘‘ یہ میں کرلوں گی۔ ’’
‘ بھئی کیا گوریلا گلاں (زار داری کی باتیں) ہو رہی ہیں۔ بہن ’’ اسی وقت والد صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کا لہجہ پدرانہ محبت سے لبریز تھا۔ ‘‘ بھائی میں۔
میں گ اٹھ کر ان سے لپٹ یا۔ سبھی لوگ کہتے تھے میں اپنے والد صاحب کا عکس ہوں۔ وہ خوب تنو ً فورا جذباتی کیفیت میں سرخ ہوجاتا تھا۔ گھنی سیاہ ‘ قد آور اور چوڑے شانوں کے مالک تھے۔ گندمی چہرہ ‘مند اور بل دی ہوئی مونچھیں ان پر بہت جچتی تھیں۔ ہر محفل میں وہ نمایاں ہوتے تھے۔ وہ اس وقت سفید بوسکی کے کرتے میں ملبوس تھے۔ سر پر ململ کے کپڑے کی کلف دار پگڑی تھی۔ ‘چادر
میں قدرے مضطرب ہوگیا۔ اس لباس میں س وہ ک ی انتظامی آفیسر یا بڑے زمیندار سے ملنے کے ً عموما ‘‘ خیر ہے؟ کہاں گئے تھے آپ؟ ’’ لیے جاتے تھے۔ ان سے علیحدہ ہوتے ہوئے میں نے کہا۔
انہوں نے بشاشت سے کہا۔ مگر یہ بشاشت ‘‘ ذرا میجر صاحب کی طرف اچانک جانا پڑ گیا تھا۔ ‘بس’’ مجھے مصنوعی سی لگی۔
‘‘ چل کڑیے میرے لیے دوسرے کپڑے نکال۔ ’’
نگہت ہرنی کی طرح قلانچ بھر کر کمرے سے نکل گئی۔
والد صاحب نے ٹٹولنے کے انداز میں مجھے بازوئوں سے تھاما۔ محبت ان کے چہرے پر ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔
پتر! تیرا جسم ڈھیلا لگ رہا ہے۔ تو جٹوں کا منڈا ہے۔ ورزش کیا کر اور ماں جو تجھے دیسی گھی کی ’’ ‘‘ پنجیریاں بھیجتی ہے۔ دوستوں کو بے شک کھلایا کر مگر خود بھی کھایا کر۔
میں کھسیانے سے انداز میں ہنسا۔ مضبوط اور توانا جسم خدا کی دین تھا۔ مگر میں نے اسے مزید مضبوط بنانے پر کبھی توجہ نہیں دی تھی۔
شفیق باپ کی م راتوں کو جاگتا ہے ‘اوئے’’ یری آنکھوں کے نیچے پڑنے والے حلقوں نے کھینچ لی۔ ً توجہ فورا خفگی آمیز پریشانی سے انہوں نے کہا۔ ‘‘ کیا؟
یہ سفید جھوٹ بولتے ہوئے میرا سر شرم سے جھک گیا ‘‘!… اباجی! رات کو پڑھتا رہتا ہوں۔ اس لیے ‘بس’’ تھا۔ یہ حلقے در حقیقت کائنات کے عشق میں رت جگوں کی نشانی تھے۔
والد صاحب کی خفگی ئ جیوندا رہ پتر۔ ’’ ختم ہوگ ی۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر مجھے سینے سے لگایا۔ ً فورا ‘‘ تیری یہ محنت ضرور رنگ لائے گی۔ پھر بھی ذرا جلدی سونے کی کوشش کیا کر۔
میں نے سعادت مندی سے کہا۔ ‘‘ جی ابا جی۔ ’’
ماں کے ہاتھ کے بنے قیمہ کریلے خوب ٹھونسنے کے بعد میں نے کچھ دیر آ رام کیا اور شام کو اپنے فش فارم فش فارم پر بہت زیادہ توجہ دے رہے تھے اور اس ‘ کا رخ کیا۔ والد صاحب پہلے سے وہاں موجود تھے۔ وہ کی معقول وجہ تھی۔ اسی کے سہارے تو انہوں نے اکلوتی بیٹی کو دھوم دھام سے رخصت کرنا تھا۔
بیگھے ملوں کی چمڑا رنگنے والی فیکٹری سے نکلنے ‘ فش فارم کا چکر لگانے کا میرا خاص مقصد تھا۔ میں والے کیمیکل سے آلودہ پانی والے پائپ کو دیکھنا چاہتا تھا۔
جیسے جیسے میں فش فارم کے نزدیک ہو رہا تھا۔ فضا میں چمڑے کی سڑاند بڑھتی جا رہی تھی۔ اس فیکٹری نے اپنی تکمیل کے بعد حال ہی میں کام شروع کیا تھا۔
جہاں تک میرا اندازہ تھا زرعی زمینوں اور پانی کے کسی بڑے ذرائع آب پاشی کے نزدیک ایسی فیکٹری لگانا ممنوع تھا۔ مگر بیگھے مل تو کسی قانون کو خاطر میں لاتے ہی نہیں تھے۔
78 یہ فیکٹری بے شک آبادی سے دور تھی۔ مگر زرعی زمینوں کے درمیان تھی اور نزدیک ہی ایک بڑی نہر بی۔ آر گزرتی تھی۔
یہ شاید ہماری بد قسمتی تھی کہ اپنی مختصر سی زمین کے ساتھ بیگھے ملوں کے ہمسائے تھے۔ ہماری زمین ان کی وسیع زمینوں کے ساتھ ہی تھی۔
چیک ‘‘دانے’’ مچھلی تیار ہوچکی تھی۔ مختصر سے جال کے ذریعے والد صاحب نے مجھے مچھلی کے کروائے۔ جال میں آنے والے آٹھ دانوں میں سے کسی کا وزن بھی دو کلو سے کم نہیں تھا۔
والد صاحب کے چہرے پر طمانیت اور خوشی پھوٹی پڑ رہی تھی۔ اس کے ساتھ تفکر کی خفیف سی لکیر بھی تھی۔ میں اس سلسلے میں رات کو انہیں کریدنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ فی الحال میں اس پائپ کو بن گیا تھا۔ ‘‘ لٹکتی تلوار ’’ دیکھنا چاہتا تھا جو ہماری خوشیوں کے لیے
تھوڑی سی کوشش کے بعد میں نے اس پائپ کو دیکھ لیا۔ بارہ انچ قطر کا وہ پلاسٹک کا پائپ ایک اونچے پشتے پر کسی اژدھے کی مانند لیٹا تھا۔ ہمارا فش فارم کا تالاب اس پشتے کے نیچے نشیب میں تھا۔ اگر
کسی وجہ اس پائپ کو نقصان پہنچا تو خطرناک کیمیکل سے آلودہ پانی کو تالاب تک پہنچنے میں محض چند سیکنڈ لگنے تھے۔
حفظ ما تقدم کے طور پر والد صاحب نے پائپ کے ساتھ ساتھ ایک نالی سی کھدوانا شروع کردی تھی۔ مگر پائپ کے قطر کو دیکھتے ہوئے یہ اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات تھی۔ نالی کو زیادہ چوڑا اور گہرا بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سے سیلابی ریلے سے بچائو کے لیے تعمیر کیے گئے پشتے کے کمزور ہونے کا شدید خطرہ تھا۔
میں نے اس خطرناک پائپ کے ساتھ سفر شروع کردیا۔ سفر اور پائپ کے اختتام کے ساتھ ہی مجھ پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ خطرناک آلودہ پانی اس پائپ ذریعے بڑی نہر میں ڈالا جا رہا تھا۔ اتصال کے اس مقام پر سڑاند اور شدید ترین بدبو کے سبب سانس تک لینا محال ہو رہا تھا۔ بے حسی اور مفاد پرستی کی یہ انتہا تھی بیگھے مل علاقے کی شادابی اور انسانی محبت کے درپے تھے۔ انتہائی حیرانی کی بات تھی لوگوں نے اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا تھا اور محکمہ انہار و زراعت کہاں غفلت کی نیند سو رہے تھے۔
میرا خون کھولنے لگا۔ سامنے ہی بیگھا ملوں کا ایک ڈیرا تھا۔ میں بے دھڑک اندر چلا گیا۔ وسیع لان میں کھڑی قیمتی جیپ سے اندازہ ہوتا تھا کہ بیگھا مل فیملی کا کوئی ممبر وہاں موجود ہے۔
دو گن مین ‘ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اندر داخل ہوتا دیکھ کر ملازمین کی تیوریاں چڑھ گئی ہیں۔ ایک بھی نکل کر سامنے آگئے تھے؟
ایک گن مین نے قدرے ا کھڑا انداز میں پوچھا۔ اس دوران ایک منشی ٹائپ ادھیڑ عمر کا فربہ ‘‘ کیا بات ہے؟ ’’ اندام شخص بھی میرے قریب آگیا تھا۔
منشی ‘‘ میاں صاحب موجود ہیں؟ مجھے ان سے ملنا ہے۔ ’’ میں نے ناگوار گزرنے کے باوجود نرمی سے کہا۔ تو جمال جٹ کا پتر ہے نا؟ شہر ’’ نے میرا تولنے کے انداز میں جائزہ لیا اور خلاف توقع نرم انداز میں کہا۔ ‘‘ میں پڑھتا ہے۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر اس ‘‘ انہیں تیرے بارے میں خبر دیتا ہوں۔ ‘ بڑے میاں جی اتفاق سے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ میں ’’ وہ بولا۔ ‘‘ ویسے تو ملنا کیوں چاہتا ہے ان سے؟ ’’ کا لہجہ رمزیہ ہوا۔
‘‘ یہ میں انہیں ہی بتائوں گا۔ ’’
اس تلخ جواب پر منشی کے چہرے پر ایک لحظے کے لیے طیش چمکا۔ گن مینوں نے بھی بے چینی سے میاں صاحب سے ‘ پتر جی ’’ پہلو بدلے تھے۔ منشی گرگ باراں دیدہ تھا۔ لہجے کو میٹھے زہر میں ڈبو کر بولا۔
ہر ایرا غیرا نہیں مل سکتا۔ تو پڑھنے والا بچہ ہے اس لیے ملوا دیتا ہوں۔ ہمیں آنے والے کی نیت اور ارادے کو ‘‘ دیکھنا پڑتا ہے۔
میں نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
آگیا۔ میں روایتی انداز میں سجے ‘‘بلاوا’’ مجھے ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ چند منٹ کے انتظار کے بعد ایک کمرے میں داخل ہوا۔ ایک چوکس گن مین میرے عقب میں تھا۔ سامنے ہی ایک تخت نما جگہ پر میاں عابد بیگھے مل گائو تکیے کے سہارے نیم دراز تھا۔ سامنے ہی ایک بڑی سی پلیٹ چمن کے مشہور انگوروں سے بھری پڑی تھی۔
موٹی گردن اور ‘ پچپن سال کی عمر چوڑی ہڈی سرخ چہرے پر خضاب میں رنگی سیاہ بڑی بڑی مونچھیں پھیلی ہوئی خاندانی ناک اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی کینہ بھری آنکھیں مجھ پر جمائیں۔ میں نے اسے سلام کیا۔
بھاری آواز میں سلام کا جواب دیتے ہوئے اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں تخت کے سامنے پڑی کرسیوں میں سے ایک پر براجمان ہوگیا۔
اس نے کئی ‘‘ کیسے آیا ہے کاکے؟ تیرے باپ کو تو ہمارا نام سننا گوارا نہیں تو ہمارے ڈیرے پر چلا آیا ہے۔ ’’ انگور بہ یک وقت منہ میں ڈالے۔
میرا یہ اندیشہ درست ثابت ہوا تھا کہ بیگھے ملوں کے ساتھ والد صاحب کے تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں۔ اس دوران ایک ملازم نے میرے سامنے بھی انگوروں کی بھری ہوئی پلیٹ رکھی۔
میاں صاحب! مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میرے والد ’’ میں نے الفاظ مجتمع کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔ صاحب کے ساتھ آپ کے تعلقات کشیدہ ہیں ورنہ ممکن تھا میں نہ آتا۔ میں نے تو ایک بہت بڑا نقصان ہوتے ‘‘ دیکھا اور آپ کی توجہ اس طرف دلانے کے لیے چلا آیا۔
اس کی پیشانی پر سلوٹیں پڑیں۔ ‘‘ کیسا نقصان؟ ’’

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: