Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 10

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 10

میری نظریں شعلوں کے پار کوئی ہدف ڈھونڈ رہی تھیں۔ کوئی بیگھے ملوں کا سر کردہ شخص یا ان کا میں اپنی زندگی کی آخری گولیاں کسی ایسے ہی شخص کے سینے میں … نمک خوار ایس ایچ او رانا نوید اتارنا چاہتاتھا۔
آگ کے شعلے خاصے قریب آگئے تھے۔ پٹرول کاایک شاپر علی اور حسینی کے قریب گرا چند لمحوں بعد اس سے بھی آگ بھڑک اٹھی۔ آگ سے بچنے کے لیے اضطرابی کیفیت میں انہوں نے جگہ بدلنے کی ً اس کانتیجہ بھی ‘ بارش کی طرح برستی گولیوں میں یہ کوشش بے حد خطرناک تھی ‘ کوشش کی فورا وہ دونوں ایک طویل برسٹ کی زد میں آگئے تھے۔ شعلوں کے انعکاس میں میری آنکھوں نے اپنے ‘ نکلا اور حسینی کی جان ‘‘آہ’’ علی کی درد میں ڈوبی ‘ دونوں ساتھیوں کو لہرا کر آگ کے شعلوں پر گرتے دیکھا ’ کنی کی تکلیف میں نکلی چیخ میری سماعت میں زہر گھول گئی۔
بے بسی کے احساس نے میرے پورے جسم کو جیسے مفلوج ‘ میرے حلق سے دہاڑ سی نکلی ‘‘… علی ’’ ساکردیاتھا۔
یہی وقت تھا جب میں نے زبردست چکاچوند کے ساتھ ایک زوردار دھماکا سنا۔ درجنوں ہیڈ لائٹس کی میں نے اس پولیس ڈالے کو فضا میں اچھلتے اور تنکوں کی طرح بکھرتے دیکھا۔ جس کاٹائر ‘ روشنی میں تھوڑی دیر پہلے ہم نے پھاڑ کر پولیس کی پیش قدمی روکی تھی۔
پانچ ایسے ہی اور خوفناک دھماکے ہوئے۔ ہم پر برستی گولیوں کی بارش یکلخت تھم ‘ یکے بعد دیگرے چار میں جیسے کھلبلی مچ گئی تھی۔ میرے لیے موقع ‘‘مشترکہ فورس’’ گئی۔ پولیس اور بیگھے ملوں کی غنیمت تھا۔ میں جیسے اڑتا ہوا علی اورحسینی تک پہنچا۔
دونوں بھی بابو کے پاس جاچکے تھے۔ آگ نے ان کے بے جان جسموں کو لپیٹ میں لے لیاتھا۔ … وہ…آہ بھی ‘ مجھے جیسے دیوانگی کی دھند نے ڈھانپ لیا تھا۔ دیوانہ وار میں ان سے لپٹ گیا۔اس کوشش میں جھلس گیاتھا مگر تکلیف کاذرا بھی احساس نہیں ہوا۔
انہیں دیوانہ وار پکارتے ہوئے میں نے باقی ماندہ گولیاں نہ جانے کس پر چلادی تھیں اور بیگھے ملوں کو کیا مجھے خود بھی ٹھیک سے معلوم نہیں ہے۔ ‘ کیا دھمکیاں دی تھیں
آج سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ میں زندہ کیسے ہوں؟ میری جذباتیت تو بہت پہلے مجھے چاٹ گئی ہوگی۔
شوکااور وجاہت پروانوں کی طرح مجھ سے آلپٹے تھے۔ تین پروانے تو مجھ پر قربان ہوچکے تھے۔ دشمنی کی آگ فزوں تر ہوتی جارہی تھی۔ ابھی نہ جانے اس نے کس کس کی جان لینی تھی۔
دشمنوں کاپلڑا ابھی خاصا بھاری ہوگیا تھا مگر مجھے یقین تھا کہ اس نے سدا بھاری نہیں رہنا۔
صاف طور پر محسوس ہو رہاتھا کہ پولیس اور بیگھے ملوں کی فورس پر کسی اور نے ہلہ بول دیا تھا۔ جو ان کے مقابلے میں جدید ترین اسلحے اور اعل ی تربیت سے لیس ہیں۔ خودکار ہتھیاروں کی واضح برتری لیے فائرنگ اور دستی بموں نے انہیں بکھیر کررکھ دیاتھا۔
اپنے مقتول ساتھیوں کے پہلو میں ہم حیرت زدہ اور صدمے سے گنگ پڑے تھے۔ یہ کون لوگ تھے جنہوں نے ہماری امداد میں ان شکاری کتوں سے ٹکر لی تھی اور انہیں ادھیڑ کررکھ دیاتھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔
ایک جلتی ہوئی پولیس گاڑی کے دھویں میں سے جیسے ایک سیاہ ہاتھی جیسی ڈیل ڈول والی لینڈ پر ‘‘موڈ’’ کروزر نمودار ہوئی اور لہراتی ہوئی تیز رفتاری سے ہماری طرف آئی۔ طاقتور انجن فور وہیل کھیتوں کی کیچڑ کو خاطر میں نہیں لارہاتھا۔
ہ ‘ پچھلی ہیڈ لائٹس کے ساتھ ہمارے قریب آکر لینڈ کروزر نے پہلو کاٹا ی اس کا عقبی دروا زہ کھلااور ً فورا بے حدگھنی ‘ میں نے ایک مضبوط کاٹھی کے نوجوان کو دیکھا ‘ ساتھ ہی جل جانے والی اندرونی لائٹس میں اس کے ہاتھ میں سیاہ چمکتی ہوئی جدید ترین رائفل تھی اور جسم پر ‘ مونچھوں اورخون اگلتی آنکھیں کمانڈو جیکٹ سے کئی ہینڈ گرینڈ لٹک رہے تھے۔ اس کی متلاشی نظریں بھوسے کے ڈھیر پر بھٹک رہی اس کی ‘‘ جلدی سے اندر آجائو! ’’ تھیں۔ لمحے بھر میں اس نے شعلوں کی روشنی میں ہمیں دیکھ لیا۔ بھاری آواز ابھری۔
ہمارے لیے تو یہ غیبی ‘ کیوں؟ اور کیسے ؟ جیسے ڈھیروں سوال کلبلائے مگر یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا امداد تھی۔
لینڈ کروزر ‘ میں نے حسینی کے بے جان جسم کو اٹھانے کی کوشش کی تونوجوان جست بھر کر نیچے اتر آیا کی اوٹ میں ہم کسی بھی اندھی گولی سے محفوظ تھے۔
کھل گئی تھی اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھا رائفل بردار کااوپری دھڑ باہر آگیا تھا۔ اس ‘‘سن روف’’ لینڈ کروزر کی ہی کسی ہدف کو بھانپ کر اس پر فائر کھول دیاتھا۔ ً نے فورا
اگر کوئی زخمی ہے تو اسے لے ‘ علی اور بابو زندہ نہیں ہیں۔ اسے رہنے دو ‘ نوجوان نے بھانپ لیا کہ حسینی اس کاانداز قطعی اور لہجہ بے حد سرد تھا۔ ‘‘لو!
شوکے نے قدرے ہکلا کر کہا۔ نوجوان سے وہ مرعوب نظر آرہاتھا۔ ‘‘ن ہو؟… کو…پ…آ’’
‘‘آئو۔’’ وہ لینڈ کروزر کی طرف مڑا ‘‘… ابھی ان سوروں کے گلے سے تو جان چھڑائو ‘ جان جائوگے ’’
میں نے آخری نظر اپنے مردہ ساتھیوں پرڈالی۔ سینے میں آگ کی رنگت نیلی ہوتی جارہی تھی۔ وہاں پل میں نے خود سے عہد کیا کہ ان کا خون رائگاں نہیں جائے گا۔ بیگھے ملوں کو جہاں میرے اور ‘ بھر میں وہیں ان تینوں کے خون کا بھی حساب دینا ہوگا۔ ‘ میجر صاحب کے خون کاحساب دینا ہوگا
پولیس اور بیگھے ملوں نے ابتدائی ‘ ہمارے لینڈ کروزر میں سوار ہوتے ہی ہچکولے کے ساتھ وہ رواں ہوگئی دھچکے سے سنبھالا لے لیاتھااور ان کی طرف سے مزاحمت شروع ہوچکی تھی۔ ہماری لینڈ کروزر پر فائرنگ ہوئی تو یہ خوشگوار احساس ہوا کہ وہ بلٹ پروف تھی۔
وہاں ‘ فائرنگ کے بعد سن روف والا رائفل بردار اندر آگیا۔ رپیٹر کا ایک چھرا اچٹتا ہوا سااس کے گال پر لگاتھا سے خون بہہ نکلا تھا۔
نوجوان ہ ی اپنی طرف کا شیشہ نیچے گرایا اور ایک گرینڈ کی پن کھینچ کرا س ٹولی کی طرف ً نے فورا اچھال دیا جہاں سے فائرنگ ہوئی تھی۔
ان ‘ گرینڈ ترالی سے فاصلے پر گرا مگر زور دار دھماکے نے فائرنگ کرنے والوں کو حواس باختہ ضرور کردیاتھا کی رائفلیں خاموش ہوگئیں۔
نوجوان نے فکرمندی سے پوچھا۔ ‘‘ شولی تو نہیں لگ گئی؟ ‘ اوئے کوئی گولی ’’
یہ کہہ کروہ ‘‘ خدا نے رکھ لیا ہے۔ ‘ نہیں جی ’’ گال سے بہتے خون کو صاف کرتے ہوئے رائفل بردار نے کہا۔ دوبارہ سن روف سے نکل گیا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر گینڈے کی سی جسامت والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جس کے سرکا اوپری حصہ بالوں سے بے نیاز ہوچکاتھا۔ وہ بڑی مشاقی سے لینڈ کروزر ڈرائیو کررہاتھا۔
سرخ آنکھیں مجھ پر گاڑھتے ‘‘ سنبھال لو اور جوبھی کتے کا جنا سامنے آئے اڑادو۔ ‘ پیچھے ہتھیار پڑے ہیں ’’ ہوئے نوجوان نے سفاک لہجے میں کہا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی غیر انسانی چمک تھی۔ اس پل مجھے اس کاچہرہ کچھ شناسا سا لگاتھا۔
منتخب کی تھیں۔ اپنی 47کے ‘ عقب میں کئی رائفلیں اور گرینڈز سے بھرا کریٹ موجود تھا۔ ہم تینوں نے اے خالی رائفلیں ہم نے بھوسے کے ڈھیر پر ہی چھوڑ دی تھیں۔
نوجوان نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہااور ایک لمبی نال کا ‘‘ گرینڈ تمہارے ہاتھوں میں چبھتے ہیں کیا؟ ’’ پسٹل کھڑکی سے نکال کرآسمان کی طرف رخ کرکے ٹریگر دبادیا۔ سیٹی جیسی آواز ابھری اور تاریک
آسمان پر رنگ برنگی پھلجڑیاں سی چھوٹ گئیں۔یہ ئ ہم میں سے کوئی ’’ کو ی اشارہ تھا میں نے کہا۔ ً غالبا ‘‘ گرینڈ چلانے کی تکنیک سے آگاہ نہیں ہے۔
مراد علی ‘‘ یہ دشمن دار ہو کر گرینڈ چلانا نہیں جانتے۔ ‘ اوئے مرا دعلی سناتونے ’’ نوجوان حلق پھاڑ کر ہنسا۔ ابھی بچے ہیں یہ بادشاہو! جلدی سیکھ جائیں ’’ ڈرائیور کانام تھا۔ اس نے دھیمی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔ ‘‘گے۔
نوجوان نے اپنی جیکٹ سے گرینڈ علیحدہ کرکے مجھے تھمایا۔ اس جان لیوا ہتھیار کی ٹھنڈک نے جیسے میرے وجود میں توانائی بھردی تھی۔
نوجوان نے میری ہتھیلی میں سمائے گرینڈ کی پن کھینچی تو میرے ساتھیوں کے چہروں پر سراسیمگی پھیل گئی۔ میری کیفیت بھی ان سے مختلف نہیں تھی۔ سنا یہی تھا کہ پن کھینچتے ہی گرینڈ پھٹ جاتا ہے۔
ایک سے پانچ گنااور … یہ پن کھینچی ‘بس’’ نوجوان کے چہرے پر وحشت آمیز شرارت کھیل رہی تھی۔ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ‘‘…پھر
میںنے اپنی طرف کا شیشہ نیچے گرایا۔ گرنیڈ کومیری ہتھیلی میں پانچ سکینڈ ہواچاہتے تھے۔ سنسنی میرے وجود سے لہردرلہر ٹکرارہی تھی۔
شوکے کی جیسے منت کرتی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ ‘‘! پھینک دو بھراجی ’’
جس ‘ لینڈ کروزر پگڈنڈی پرپہنچ چکی تھی۔ اس وقت میں نے اپنے جیسی ایک اور لینڈ کروزر کو دیکھا ٹریکٹر ٹرالی نے ہماری راہ مسدود کی تھی۔ اس کے عقب سے دوسری لینڈ کروزر پر فائرنگ ہوئی۔ میں نے گرینڈ سیدھا ٹرالی کے اوپری حصے سے ٹکرایا۔ آنکھوں کوخیرہ کردینے ‘ گرینڈ ٹرالی کی طرف اچھال دیا کئی انسانی چیخوں کے ساتھ میں نے ایک وردی پوش بازو کو فضا ‘ والی چمک کے ساتھ زور دار دھماکا ہوا میں بلند ہوتادیکھا۔ لینڈ ہ ی منظر میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ ً کروزر نے رخ بدلا تو فورا
میرا جسم ابھی تک ‘‘ تو بڑا لائق بچہ ہے اوئے۔ …تو’’ نوجوان نے تحسین آمیز انداز میں کہا۔ ‘‘…شاباش’’ سنسنا رہاتھا۔ اگلے دس منٹ میں ہم تینوں ساتھیوں نے کوئی درجن بھر گرینڈ برسائے اور ہر اس جگہ پر گولیاں برسائیں جہاں کسی پولیس والے یابیگھے ملوں کے بندے کا ذرا بھی شبہ ہوا۔ اس دوران ہم برانچ روڈ پر بھی پہنچ گئے تھے۔ جہاں عقب نما آئینے میں دیکھ کرپتا چلا کہ ایسی ایک نہیں بلکہ دو گاڑیاں تھیں جن میں مسلح افراد بھرے ہوئے تھے۔
سارے ضلع کی پولیس کا رخ اس ’’ نوجوان نے قدرے مضطرب انداز میں کہا۔ ‘‘! نکلنے کی کرو مراد علی ’’ اس کی نظریں مسلسل عقب نما اور سامنے کے جائزے میں مصروف تھیں۔ مراد علی ‘‘طرف ہوچکا ہوگا۔ نامی ڈرائیور نے سرہلا کررفتار بڑھادی۔ عقب میں آنے والوں نے بھی پیروی کی۔
بلٹ پروف گاڑیوں اور دلیرانہ لپک کے بل بوتے پر ان لوگوں نے ہمیں بڑی آسانی سے بیگھے ‘ جدید اسلحے ملوں اور پولیس کی مشترکہ فورس کے چنگل سے نکال لیا تھا۔
نے تو ان چند قانون کے باغی نوجوانوں پر شب خون مارا تھا جو محض معمولی رائفلوں ‘‘ مشترکہ فورس ’’ اور پسٹلوں سے مسلح تھے۔ ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ عقب سے ان پر کچھ بلائیں ٹوٹ پڑیں گی۔
کچھ ہی دیر میں ہم میدان کارزار سے خاصے فاصلے پرپہنچ گئے تھے۔ نوجوان کی ہدایت پر لینڈ کروزر کی ہیڈ لائٹس جلالی گئی تھیں۔ کسی کو تعاقب میں آنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔ شاید وہ اپنے زخم چاٹ اندر کو ‘ رہے تھے۔ میرے ذہن کی پھرکی تیزی سے گھوم رہی تھی۔ پاس بیٹھے نوجوان کے ابھرے جبڑے یاد نہیں آرہاتھا کہ وہ ‘ رہ رہ کر ذہن میں ابھر رہی تھیں ‘ تیکھی ناک اور بے حد گھنی مونچھیں ‘دھنسے گال کیا میں ’’ کون ہے ؟ آخر کار ذہنی کشمکش سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں نے پھر نوجوان سے پوچھا۔ ‘‘ جان سکتا ہوں کہ ہمارے لیے اپنی جانوں پر کھیلنے والے کون لوگ ہیں؟
سرخ آنکھوں والے نوجوان نے بڑے طنزیہ انداز میں الٹا سوال کردیاتھا۔ ‘‘ کبھی شاہد ملتانی کانام سنا ہے؟ ’’
بلاشبہ وہی ‘ میرے ذہن میں جھماکا سا ہوا تو یاد آگیا کہ نوجوان کا چہرہ شناسا کیوں لگ رہاتھا جس کے سر کی قیمت بیس لاکھ ‘ شاہدملتانی تھا۔ جنوبی پنجاب کے ٹاپ تھری اشتہاریوں میں سے ایک تھی۔ جب مجھے گرفتار کرکے تھانے لے جایا گیاتھا تو میںنے تھانے کے مطلوب ترین اف راد والے بورڈ پر اس کی تصویر دیکھی تھی۔
میں نے سنبھالا لے کر کہا۔ میرے ساتھیوں کے منہ کھلے ‘‘ آج کام بھی دیکھ لیا ہے۔ ‘ نام تو پہلے سناتھا ’’ ہوئے تھے۔ وہ بھی جان گئے تھے کہ وہ نوجوان کون ہے ؟
‘‘ قبیلے کے لگتے ہو۔ ‘‘ کسی نر ’’ شاہد ملتانی مسکرایااور میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
خون کے فخر سے میرا سینہ خودبخود ہی تھوڑا سا تن گیاتھا۔ ساتھ ہی میں یہ سوچ رہاتھا کہ ‘‘ جٹ ہوں ’’ پنجاب کا یہ نامی گرامی اشتہاری ہماری مدد کو کیسے آگیا۔ یہی سوال دوبارہ میری زبان پر آگیا۔
چٹا! مجھے کسی نے تجھے … میرا کوئی رشتہ ہے اور نہ ہی کوئی تعلق واسطہ ‘ تیرا ’’ شاہدملتانی بولا۔ ‘‘ سوروں کے گلے سے نکال لانے کے لیے کہا اوردیکھ نکال کر لے جارہاہوں۔
میں نے اچنھبے سے پوچھا تھا۔ یہ بات میرے حلق سے اتر نہیں رہی تھی۔ ‘‘ کون ہے وہ ہمدرد؟ ’’
شاہد ملتانی نے اس دفعہ قدرے روکھے انداز میں کہا۔ اس ‘‘ تھوڑی دیر میں تمہاری ملاقات ہوجائے گی۔ ’’ کی تمام تر توجہ دوبارہ بیک مرر کی طرف ہوگئی تھی۔
میں نے بھی اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ذہن میں البتہ کھلبلی سی ضرور مچ گئی تھی۔
تینوں گاڑیاں مناسب رفتار سے حرکت میں تھیں۔ جلد ہی ہم اس نیم پختہ راستے پر تھے جس کے ایک طرف میجر صاحب کے کنوئوں کے باغات اور دوسری طرف پانی کا نالہ تھا۔
تمام تر بچھی لائٹس کے ساتھ جب گاڑیوں نے نیم پختہ راستے کو چھوڑ کرمیجر صاحب کے باغات کارخ کیاتو میں چونکا۔ جلد ہی ہم مین گیٹ پر تھے۔ یہاں درجن بھرسے بھی زیادہ لالٹین بردار پہلے سے موجود تھے۔ ان کے ہاتھوں میں خالی بوریاں دیکھ کرمیں مزید حیران ہوا۔
ہماری گاڑی مین گیٹ پر رکی۔ شاہد ملتانی نے اپنی طرف کا شیشہ گرایا تو مجھے باغات کے منیجر قاسم کون تھا۔ ‘‘ ہمد رد ’’ شاہ کی صورت نظر آئی جس پر ہیجان برپاتھا۔ اسی لمحے مجھے معلوم ہوگیا کہ ہمارا یقینا وہ میجر صاحب کی فیملی میں سے ہی کوئی تھا۔ میرے تنے اعصاب ڈھیلے پڑگئے تھے۔
قاسم شاہ کاخاندان کئی پشتوں سے میجر صاحب کی فیملی کا نمک خوار تھا۔ قاسم شاہ نوجوان نسل کا نمائندہ تھا۔ مجھ سے نظریں ملتے ہی وہ ہیجانی انداز میں بولا۔
‘‘ ہم لوگ تمہیں بھولے نہیں تھے۔ واجد ترین صاحب نے تم پر ہر پل پر نظررکھی ہے۔ ’’
میجر صاحب کے سب سے بڑے بیٹے تھے ‘ میں نے کہا۔ واجد ترین ‘‘ میری طرف سے ان کو شکریہ بول دینا۔ ’’ اور امریکہ میں مقیم تھے۔
ٹائروں کے نشانات پر اچھی طرح سے بوریاں پھیروادو۔ تھوڑی ’’ قاسم شاہ سے مخاطب ہوا۔ ‘ شاہد ملتانی ‘‘کا راج ہوگا۔ ‘‘بائولے کتوں’’ دیر میں یہاں
آپ کے سائے ’’ قاسم شاہ نے ہیجان اورمسرت سے ڈوبے لہجے میں کہا۔ ‘‘ بے فکر ہوجائو ملتانی شہزادے۔ ’’ ‘‘ تک کانشان بھی مٹادیں گے۔
تھوڑی دیر میں ہم باغ کے اندر تھے۔ تینوں گاڑیاں ایک کھلی جگہ پر پہلوبہ پہلو کھڑی تھیں۔ یہاں بھی ‘ جسے پرالی بھی کہا جاتا ہے ‘ درجنوں کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور موجود تھے اورایک طرف بھوسے اس کاپہاڑ جتنا ڈھیر لگا ہواتھا۔
یہاں ہمارا استقبال بنفس نفیس واجد صاحب نے کیا۔ میں نے انہیں صرف ایک دفعہ دیکھاتھا۔ ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی البتہ ان کی قد آدم تصویر میجر صاحب کی کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں درجنوں بار دیکھی تھی۔
نے ہمارے درمیان سے ہر طبقانی فرق کو مٹادیاتھا۔ ‘‘درد مشترک’’ واجد صاحب نے مجھے گلے سے لگایا۔
واجد ترین کی ‘‘ کیا بگاڑا تھاانہوںنے ان ظالموں کا؟ ‘ چھین لیے ہیں کمال ‘‘باپ’’ ظالموں نے ہم دونوں سے آواز آنسوئوں سے بھیگی ہوئی تھی اور اشک بھی ضبط کا بند توڑ چکے تھے۔ میرا کندھا بھیگ رہاتھا۔ میری کیفیت بھی ان سے مختلف نہیں تھی۔ فرق تھا تو آنسو بہنے کی بجائے میری آنکھیں جل اٹھی تھیں۔ ان کے کندھے کے اوپر سے میں نے دیکھا تینوں گاڑیوں پر بھوسہ ڈالا جانے لگاتھا اور گاڑیاں تیزی سے بھوسے گیارہ تھی ایک طرف کھڑے ‘ میں چھپتی جارہی تھیں۔ شاہد ملتانی اور اس کے ساتھی جن کی تعداد دس ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ انہوںنے اپنا زیادہ تر اسلحہ گاڑیوں میں ہی چھوڑ دیاتھا۔ وہ سبھی شکلوں سے ہی پیشہ ور مجرم نظر آتے تھے۔
ترین صاحب! میں ان سب کوفنا کردوں گا۔ یہ میرا آپ سے ‘ بیگھے ملوں نے ہمارے بے گناہ باپوں کو مارا ہے ’’ میری آواز میں جانے کیسی وحشت تھی کہ میں نے شاہد ملتانی کوچونک کر اپنی طرف دیکھتے ‘‘وعدہ ہے۔ دیکھا۔
انہوں نے مجھے بازوئوں میں بھینچتے ‘‘ تیرے ساتھ ہوں کمال! تو کہیں مجھے پیچھے نہیں پائے گا۔ ‘ میں ’’ ہوئے کہا۔
‘‘ آپ نے ہمیں یقینی موت کے چنگل سے نکالا ہے۔ ‘ وہ تو میں نے دیکھ لیا ہے ’’
پر آگئے تھے۔ ‘‘تم’’سے ‘‘تو’’ جذبات کے دھارے کے مدہم ہوتے ہی وہ ‘‘ بہت سی باتیں کرنی ہیں تم سے۔ ’’ ‘‘ فی الحال تم چند دن آرام کرو۔ ہوسکتا ہے اپنی ملاقات بھی نہ ہوپائے پھر تسلی سے مل بیٹھیں گے۔ ’’
میں نے اثبات میں سرہلایا۔
بابو اور تمہیں پناہ دینے والے میاں ‘ باقی لوگ کہاں ہیں؟ علی ’’ شوکے اور وجاہت پرنظر پڑتے ہی وہ بولے۔ ‘‘ بیوی بھی تو تمہارے ساتھ تھے؟
جواب شوکے اور وجاہت کے آنسوئوں نے دیا۔ واجد ترین کے جبڑے بھنچ گئے۔ انہوں نے استفسار طلب نظروں سے شاہد ملتانی کی طرف دیکھا۔ شوکت ملتانی نے کہا۔
‘‘ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی وہ پار ہوچکے تھے خان صاحب۔ ’’
واجد صاحب نے شوکے اور وجاہت کو بیک وقت گلے سے لگایا۔ وہ بچوں کی مانند بلک بلک کر رونے لگے۔ میری آنکھوں کے سامنے اپنے ساتھیوں کے لاشے پھرنے ‘ واجد صاحب کی آنکھیں بھی دوبارہ بھیگ گئیں لگے۔ میرے سینے میں تین اور قبروں کا اضافہ ہوگیا تھا۔
اس دوران قاسم شاہ کا والد احمد شاہ وہاں آگیا۔ اس کی آنکھوں میں بھی ہمارے لیے تحسین کے جذبات تم سب ’’ تھے۔ اس نے واجد صاحب کو دھیمی آواز میں کچھ بتایا۔ انہوں نے اثبات میں سرہلایااور بولے۔ ‘‘لوگ شاہ صاحب کے ساتھ جائو۔
شاہد ملتانی کا ٹولہ اور ہم تینوں احمد شاہ کے ساتھ ہولیے۔ کنوئوں سے لدے پھلدار پودوں کے درمیان ایک شاوا(شاباش) پر! تم لوگوں نے جٹوں کی لاج رکھ لی ’’ پختہ روش پر آتے ہی احمد شاہ نے میرا کندھا چوما۔ اس نے باری باری شوکے اور وجاہت کوتھپکا۔ ‘‘ ہے۔ ہر طرف تم لوگوں کے ہی چرچے ہیں۔
چرچے تو کل ان شیروں کے نامعلوم ساتھیوں کے ہوں گے جو انہیں ‘چاچے’’بولا۔ ‘ شاہد ملتانی قریب ہی تھا ‘‘ سوروں کے گلے کے درمیان سے کھینچ کر لے آئے ہیں۔
لہجے میں ‘‘ علی اور بابو کہاں ہیں؟ ’’ یہ کہتے ہوئے احمد شاہ چونکا۔ ‘‘ تم نے بھی وڈا کا م کیا ہے۔ ‘ ہاں پتر ’’ تشویش کاعنصر نمایاں تھا۔
‘‘ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے چاچا! ’’ میرا سرجھک گیا۔
اس ‘‘ جو خدا سوہنے کی مرضی۔ ‘اچھا’’ احمد شاہ بے حد غمزدہ نظر آنے لگا پھر ٹھنڈی سانس لے کربولا۔ کے بعد ہمارے درمیان بوجھل خاموشی چھاگئی۔
تین چکروں کے بعد پختہ روش کا خاتمہ جدید پراسسنگ یونٹ کی عمارت پر ہوا۔ یہاں کنوئوں کو ‘ دو پراسس کے مراحل سے گزار کر پیکنگ ہال میں بھیجا جاتاتھا۔ پیکنگ ہال بھی پراسسنگ یونٹ کی عمارت سے ملحق تھا۔
احمد شاہ نے جیب میں ہاتھ ڈال کر چابیوں کا ایک مختصر سا گچھا نکالا۔ اس دوران ہم پیکنگ ہال کے بڑے سے گیٹ کے سامنے پہنچ گئے تھے۔ میں یہاں پہلے بھی ایک دفعہ آچکاتھا۔ اس وسیع وعریض ہال کا ایک حصہ گودام کے طور پر بھی استعمال ہوتاتھا۔
احمد شاہ نے ذیلی دروازے کالاک کھولا پہلے اند م اس نے ین سوئچ آن کیاتھا۔ ایک کھٹکا ً ر داخل ہو کر غالبا سا ہوااور اندر روشنی پھیل گئی۔ ہم باری باری اندر داخل ہوئے۔ یہ گودام والا حصہ تھا۔ دیوار کے دونوں اطراف بلاشبہ ہزاروں کنوئوں کی دیدہ زیب گتے کی پیٹیان چنی ہوئی تھیں۔ یہ سب برآمدی مال تھا۔
تھوڑا سا آگے آکر احمد شاہ نے دائیں طرف کی پیٹیوں کے نچلے حصے والے اسٹینڈ کو جھک کر اپنی طرف کھینچا۔ بارہ فٹ چوڑا اور درجنوں پیٹیوں سے لدا اسٹینڈ بے آواز بال بیرنگز پر چلتا ہوا بڑے آرام سے باہر آگیا۔ نیچے پختہ فرش نظر آنے لگا۔ ہم تینوں حیرت آمیز دلچسپی سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ جبکہ شاہد ملتانی اوراس کے ساتھی لاتعلق سے کھڑے تھے۔ شاید وہ پہلے ہی یہ منظر متعدد دفعہ دیکھ چکے تھے۔
احمد شاہ نے چار ضرب چار کے ایک بلاک کو تین جگہ سے مخصوص انداز میں دبایا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی بلاک ایک طرف کھسک گیاتھا اور ساتھ ہی جل جانے والی روشنی میں نیچے سیڑھیاں جاتی نظر آرہی تھیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ یہاں مجھے ایک خفیہ تہہ خانہ دیکھنے کوملے گا۔
شاہد ملتانی اوراس کے ساتھی باری باری سیڑھیاں اترنے لگے۔ میں نے استفہامیہ نظروں سے احمد شاہ میجر صاحب نے تو یہ تہہ خانہ اسٹور کے طور ’’ کی طرف دیکھا تو اس نے پھر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا۔ پر بنوایا تھا۔ اس کے راستے کوچھپانے کاانتظام واجد صاحب نے لاہور سے بندے بلا کر دو دنوں میں مکمل ‘‘ چلو بیٹا! مجھے اور بھی کئی کام ہیں۔ ’’ پھر کچھ یاد آنے پر وہ چونکااور مضطرب انداز میں بولا۔ ‘‘ کروایا ہے۔
ہم تینوں بھی سیڑھیاں اتر کر باری باری تہہ خانے میں آگئے۔ ہمارے اوپر چھت برابر ہوچکی تھی۔ نیچے روشنی کامعقول انتظام تھا۔ تہہ خانہ اسٹور کے برابر ہی وسیع تھا۔ ایک کونے میں تعمیراتی میٹریل اور فولادی ٹکڑوں کااسکریپ نظر آرہا تھا۔ دیواروں پر کئی جگہ مکڑیوں کے جالے موجود تھے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ افراتفری میں یہاں صفائی کرکے رہائش کاانتظام کیا گیا ہے۔ لکڑی کے ایک کیبن کو ایمرجنسی ٹوائلٹ کی شکل دی گئی تھی۔
دیوار کے ساتھ لمبائی کے رخ درجن بھر ریڈی میڈ فرشی بستر بھی نظر آرہے تھے اور ان کے سامنے جدید ماڈل کا بڑا ساٹی وی اور ڈی وی ڈی پلیئر بھی ایک شیشے کے ٹاپ والی ٹرالی پر سجے ہوئے تھے۔ ایک کونے میں بڑا سا ڈیپ فریزر اور اوون بھی رکھے تھے۔
تہہ خانے میں شاہد ملتانی کی گونجدار آواز ابھری۔ ‘‘! اوئے مراد علی ’’
‘‘ حکم بادشاہو۔ ’’
بھاری بھرکم ‘‘ ان بلونگڑوں کو کئی سورمار کر نکال لائے ہیں۔ اس خوشی میں کوئی جشن ہونا چاہیے یار۔ ’’ گروہ کے دو تین افراد نے بھی پسندیدگی ‘ مراد علی کی گھنی مونچھوں کے نیچے مسکراہٹ نمودارہوئی کے اظہار کے طور پر سراثبات میں ہلائے۔
کسی جشن وغیرہ کا تصور ہی میرے لیے سوہان روح تھا مگر ‘ میںنے اپنے جاں نثار ساتھی کھوئے تھے شاہد ملتانی وغیرہ کو روک بھی نہیں سکتاتھا۔ ‘ میں
اس دوران مراد علی نے کہیں سے اسکاچ کی بڑی سی بوتل اور فریزر میں سے سوڈا وغیرہ نکال لیاتھا۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے لیے شاہد ملتانی نے ہمیشہ نفرت انگیز القابات ہی اس کی کہانی سے واقف تو نہیں تھا مگر مجھے یقین ہوگیا تھا کہ وہ بھی ‘ استعمال کیے تھے۔ میں محکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں کاڈسا ہوا ہے۔
وہ سبھی بستروں پر دائرے کی شکل میں بیٹھ گئے۔ اسکاچ کے ساتھ نمکو بھی چلنے لگی۔ ایک دبلے سے نوجوان نے جو پٹھان لگتاتھا اٹھ کر ٹی وی آن کردیا۔ فحش اسٹیج گانوں پر مشتمل سی ڈی چلنے لگی۔
ہم تینوں بستروں کے آخری سرے پر ایک دوسرے سے لگے بیٹھے اچنبھے سے ان لوگوں کو دیکھ رہے تھے جوکچھ دیر پہلے آگ وخون کا کھیل کھیل رہے تھے۔ انہیں شاید معلوم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کچھ دیر پہلے کتنے لوگوں کی جانیں لی ہیں۔
اسکاچ تیزی سے اپنااثر دکھانے لگی تھی۔ شاہد ملتانی کی سرخ آنکھیں سرخ تر ہو رہی تھیں۔ مراد علی نے خالی بوتل اپنے گنجے سر پرٹکا کر ٹی وی کی اسکرین پر تھرکتی رقاصہ کے انداز میں ٹھمکا لگانے کی کوشش کی تو بوتل اس کے سر سے گر گئی۔ اس نے پروا نہیں کی اور توند مٹکاتے ہوئے بے ڈھنگے انداز ‘‘ میں ناچتے ہوئے اپنی بے سری آواز میں گانے لگا۔ انہہ نھیڑے نہ ہودلداروے
ایک اور بے حد رعب دار نظر آنے والا شخص بھی اٹھ کر اس کاہم رقص ہوگیا۔باقی افراد تالیوں اور فحش تبصروں کے ساتھ اس رقص سے محظوظ ہونے لگے۔
کرکے ‘‘ بھوں‘بھوں’’ بارعب شخص کو ایک تکیے سے ٹھوکر لگی تووہ بستر پر گرااور پھر وہیں لیٹے لیٹے رونے لگا۔ مراد علی بھی ہانپتے ہوئے گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔
اچانک ہی شاہد ملتانی کی نظر ہم تینوں پرپڑی تواس نے اشارے سے ہمیں پاس بلایا۔ ہم ہچکچاتے ہوئے اس کے قریب جابیٹھے۔ اس نے پٹھان لڑکے کو ہمارے لیے جام بنانے کے لیے کہا۔ اس نے نئی بوتل نکال لی۔ میں نے زندگی میں کبھی شراب نہیں پی تھی۔ شوکے اور وجاہت کاپتا نہیں تھا۔ گانے کی آواز جیسے ‘‘ میرے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل رہی تھی۔ شاہد ملتانی صاحب!مہربانی کرکے اسے تو بند کردیں۔ میں نے دھیمے لہجے میں کہا۔
شاہد ملتانی کی تیز نظروں نے پل بھر میں میری کیفیت بھانپ لی۔ اس نے پٹھان لڑکے کو اشارہ کیا تو اس ‘‘ سوڈا یا پانی؟ ‘خوچے’’ نے ریموٹ کی مدد سے ٹی وی آف کرکے کہا
‘‘ پانی ’’ یہ مشکل شوکے نے آسان کی۔
‘‘ ساتھیوں کا سوگ منا رہے ہو؟ ’’ شاہد ملتانی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
‘‘ جاںنثار ساتھی قتل ہوجائیں تو ان کاسوگ بدلہ لینے تک چلتا ہے۔ ’’
بدلے لینے کے ‘‘خان صاحب نے سارے ’’ شاہد ملتانی کی سرخ آنکھوں میں پسندیدگی کی چمک ابھری۔ ‘‘ لیے ہی مجھے ہائر کیا ہے۔یہاں سے فارغ ہو کر میرے ساتھ چلوگے؟
زندگی کامقصد پورا ہوجائے تو پھر جہاں تقدیر لے جائے۔ آپ کے ساتھ یا ’’ میں نے کندھے اچکائے۔ ‘‘قبرستان۔
بھوں کرکے رونے والا ‘ اس دوران پٹھان لڑکے نے پیگ اور نمکو کی پلیٹ ہمارے سامنے دھر دی تھی۔ بھوں ‘‘ مائے نی میں کینوں اکھاں ’’ اب اپنی بے سری مگر درد میں ڈوبی آواز میں گارہاتھا۔
ایک دن میں ‘ شاہد ملتانی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اشتہاری کی زندگی ہوا میں جلتا چراغ ہوتی ہے ایک سال جی لو۔ زندگی کی نعمتوں سے جتنا لطف کشید کرسکتے ہو کرلو۔ اس کی آواز میں اشتہاری اس نے ‘‘ جتنی مکھن ملائی چاٹنی ہے چاٹ لو۔ ‘ زندگی کا تجربہ بول رہاتھا۔ جتنی شراب پینی ہے پی لو کسی وقت کوئی سجن بیلی جس کی آنکھوں پر لالچ یااپنے مفاد ’’ آنکھ میچ کر معنی خیز انداز میں کہا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا پیگ حلق میں انڈیلا۔ کثرت شراب ‘‘بن سکتا ہے۔ ‘‘مخبر’’ کی پٹی بندھ گئی تو وہ نوشی کے باوجود اس کی آواز میں ذرا بھی لڑکھڑاہٹ نہیں تھی۔ ہم دم بخود بیٹھے اسے سن رہے تھے۔
اس نے محکمہ پولیس کو ‘‘ ٹھاہ بندوقیں گرجیں گی اورتم خود کو سوروں میں گھرا ہواپائوگے۔ … پھر ٹھاہ ’’ ان کا اگر تم باپ بھی مار دو تو انہیں اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی ’’ زہریلی گالیوں سے نوازتے ہوئے کہا۔ مجھے بھی نہیں ‘ پیٹی بھائی کومارنے پر ہوتی ہے۔ یہ اپنے پیٹی بھائی کے قاتل کو کبھی نہیں چھوڑتے اس پر شراب کا نشہ غالب ‘‘ چھوڑیں گے اور تمہیں بھی۔ آج تمہارے ہاتھوں سے بھی کئی سور مرے ہیں۔ ‘‘ جانتے ہو آج سے پہلے میں نے کتنے سور مارے تھے؟ ’’آنے لگا تھا۔
ہم تینوں نے بیک وقت نفی میں سرہلایا۔
چودہ کو میں نے اپنے ہاتھ سے گولی ماری ہے اور آج والا تو مشترکہ شکار تھا۔ گنتی صبح معلوم ہوجائے ’’ زیادہ تر افراد نے بستر سنبھال لیے تھے ۔ شراب نے ان کے اعصاب کو وقتی سکون دے کر نیند کی ‘‘ گی۔ طرف دھکیل دیاتھا۔
‘‘ کیا یار زنانیوں کی طرح بیٹھے ہو۔ ’’ شاہد ملتانی کا پیگ دوبارہ سے پٹھان نے بھر دیاتھا۔
‘‘اٹھائو گلاس۔’’ اس نے قدرے خفگی سے کہا۔
پہل شوکے نے کی پھر وجاہت نے ہاتھ بڑھایا۔
‘‘ پہلے کبھی نہیں پی؟ ’’ میری ہچکچاہٹ محسوس کرکے وہ بولا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔
اس نے ‘‘ ڈبو دو! ’’ شراب کے بغیر اشتہاری کاگزارا نہیں ہے۔سارے غم اس خانہ خراب میں ‘ شروع کردے ’’ طویل گھونٹ بھر اتو چہرہ تمتمانے لگا۔
میں نے زندگی میں پہلی دفعہ اس آگ جیسے سیال کا گھونٹ بھرا حلق سے سینے تک آگ کی سی لکیر کھنچ گئی۔ زور کی کھانسی آئی جسے میں نے بمشکل روکااور ایک طویل گھونٹ لیا۔
شاہد ملتانی نے حوصلہ افزائی کے انداز میں سمجھایا۔ ‘‘ آہستہ بچے آہستہ ’’
درد خود سے قدرے فاصلے ‘ تکلیفیں ‘ پوراپیگ انڈیل لینے کے بعد میرا سر گھوم رہاتھااور واقعی سارے غم پر کھڑے نظر آنے لگے تھے۔
میراپیگ دوبارہ سے بھر دیاگیاتھا۔ شوکا اور وجاہت پرانے کھلاڑی لگتے تھے۔ دودو پیگ لگاتے ہی وہ کھلنے ‘‘ شاہد صاحب! آپ وردی والوں سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں؟ ’’لگے تھے۔ شوکے نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
اس کے چہرے کی تمتماہٹ بڑھ گئی۔ میں نے بھی دلچسپی لی۔
‘‘ تم لوگ کیا ان کے لیے پھولوں کے ہار اٹھائے پھرتے ہو؟ ’’
‘‘ مگر آپ کی نفرت ہم سے کئی گنا بڑھ کرہے۔ … نہیں ’’
شاہد ملتانی کے غیر انسانی نظر آنے والے چہرے پر میں نے ایک اور چہرہ نمودار ہوتے دیکھا۔ بے پناہ اذیت اور دکھ اس پر نمایاں تھا۔ مجھے لگانادانستگی میں ہم اس کے زخموں کو چھیڑ بیٹھے ہیں۔
اس نے پیگ چھوڑ دیا تھا۔ سینہ مسلتے ہوئے وہ بستر پر دراز ہوگیا۔
پر ناپسندیدگی کااظہار کرتے ہوئے ‘‘سوال’’ پٹھان لڑکے نے ہمیں خفگی سے گھورااور اشاروں میں ہمارے تم نے لالے کاموڈ خراب کردیا ہے۔ ‘خوچے’’ شاہد ملتانی پر کمبل پھیلا دیا اور خفگی بھری دبی آواز میں بولا۔ ہم پر تو ‘‘ لالے کے ساتھ رہنا ہے تو آئندہ ایسی کوئی بات نہ پوچھنا جو لالے کو پہلے کی زندگی یاد دلائے۔ جیسے گھڑوں پانی پڑگیاتھا۔ اندازہ ہی نہیں تھا کہ شوکے کے سوال کا وہ اتنا گہرا اثر لے گا۔ شاید نشے میں ہر جذبہ زیادہ کھرا اور گہرا ہوجاتا ہے۔اس لیے عام سے سوال نے زیادہ اثر کیا تھا۔
پٹھان لڑکے کی خفگی برقرار تھی۔ ‘‘ تم لوگ کھاناکھائے گا؟ ’’
ہم نے نفی میں جواب دیا تو پٹھان نے بھی زیادہ مروت نہیں دکھائی۔ اس نے بھی کمبل کھینچ لیا۔ ہم نے بھی ایک طرف پڑے کمبل اٹھا کراوڑھ لیے ۔ تھوڑی دیر میں اس تہہ خانے میں کئی خراٹے گونجنے لگے تھے۔ میرا سر بھی گھوم رہاتھا۔ نیند کی دیوی مجھے اپنی طرف کھینچنے لگی تھی۔
نہ جانے میں کتنی دیر سویاتھا کہ کسی نے میرے اوپر سے کمبل کھینچا۔ بے یقینی سے حالات کے سبب ذہن کا خودکار سسٹم بے حد چوکس تھا۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھا۔ شراب کانشہ ہرن ہوچکاتھا۔ اپنے سامنے شاہد ملتانی کو دیکھ کرتنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔
اس کے ایک ہاتھ میں نیا پیگ اور دوسرے ہاتھ میں چکن لیگ پیس نظر آرہا تھا۔ سرخ ترآنکھیں اور تمتماتا ہوا چہرہ بتارہاتھا کہ اس نے نشے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔
‘‘ اناڑی کھلاڑی! تجھے بتائوں کہ میں ان سوروں سے اتنی نفرت کیوں کرتاہوں۔ ‘اٹھ’’
میں نے خنکی کے سبب کمبل لپیٹ لیا۔ تہہ خانے کے باقی سبھی مکین سو رہے تھے۔ سوائے پٹھان لڑکے وہ بھی ابھی ابھی کمبل میں روپوش ہواتھا۔ شاید شاہد ملتانی کا وہ ایسا ساتھی تھا جو اس کے …کے لیے ذاتی خدمات بھی انجام دیتاتھا۔
شاہد ملتانی نے لیگ پیس پردانت آزمائے۔ شوکے اور وجاہت کے دھیمے خراٹے بتارہے تھے کہ وہ گہری نیند میں ہیں۔
جانتی ہو جس شاہد ملتانی کا نام ’’ میرے سامنے گائوتکیے پر آدھا دھڑ ڈالے نیم دراز ہوگیا۔ ‘ شاہد ملتانی ‘‘ سن کر ان سوروں کا موتر خطا ہوجاتا ہے پہلے کیا تھا؟
وہ یونیورسٹی میں اردو ’’ میرا نفی میں ہلتا سر اس نے شاید دیکھا ہی نہیں۔ اپنی ترنگ میں وہ رواں ہوگیا۔ نرم گداز جذبوں اور خوش امیدی کے جذبات کا شاعر تھا۔ اس ‘ ادب کاطالب علم تھا اور خود بھی محبت وقت بھی شاہد ملتانی کے نام سے بہت سے لوگ واقف تھے مگر اس وقت اس کی پہچان قتل وغارت ‘‘ گری نہیں بلکہ پھولوں جیسے شعر تھے۔
میں دم بخود سابیٹھا تھا۔ یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ آج جس شخص کے نام سے ایک خلقت کانپتی ہے کبھی شعر کہتاتھا۔ مگر یہ ہ ی یقین ہوگیا کہ میں بھی تو ڈاکٹر بننے جارہاتھا۔ جس ہاتھ میں نشتر ً سوچ کر فورا بھی کپکپاجاتاتھا آج وہی ہاتھ رائفل اور دستی بموں کو بھی باآسانی سنبھال واستعمال کرلیتے تھے۔
چکن لیگ پیس چباتے ہوئے شاہد ملتانی کی داستان جاری تھی۔ اس کی سرخ تر آنکھوں میں چھپا درندہ سوچکاتھااورمیرے سامنے خوش رنگ جذبوں کاشاعر شاہدملتانی تھا۔
اس نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا ‘‘ ان دنوں یونیورسٹی میں آل پاکستان محفل مشاعرہ منعقد ہوا تھا۔ ’’ مجھے بھی اس مشاعرے میں پڑھنے کا موقع ملا۔ میرے دو شعروں کوبڑی پذیرائی ملی ۔ وہ دو شعر ’’۔ ‘‘سنوگے؟
زبان کی بجائے میں نے پھر سر کو اثباتی حرکت دی۔
اس نے چکن پیس چھوڑ کر شراب کاایک بڑا ساگھونٹ لیااور پھرسینہ مسلتے ہوئے اپنا سر تکیے پر ڈال دیا۔ اس کی نظریں جیسے تہہ خانے کی چھت سے گزر کر تاریک آسمان پرکچھ ڈھونڈنے لگی تھی۔ شاید پھر اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اور اک پر سوز ‘وہ گزرے پل‘وہ مشاعرہ ‘ یونیورسٹی میں گزرے یادگار دن آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
خشک پتوں کے ڈھیر کے ذرا اس پار دیکھنا
خراماں خراماں چلی آتی ہوگی بہار دیکھنا
ہمیں پہچاننے کو آگ میں پھینک دینا
پھر آگ میں پیدا ہوتے گل وگلزار دیکھنا
میں مبہوت رہ گیا۔ ان دو شعروں نے مجھے خاصا متاثر کیا تھا۔ واقعی وہ اچھا شاعر تھا۔ اس کے سینے کی گہرائیوں سے ایک دلدوز آہ نکلی اور وہ سیدھا ہوبیٹھا۔ یہ لڑکیاں بھی بڑی عجیب چیز ہوتی ہیں۔ پتا یہ ایسا ہے کہ کسی ‘ نہیں کیوں یہ شاعر وغیرہ انہیں اچھے لگنے لگ جاتے ہیں۔ بھلا یہ تھوبڑا دیکھو اپنی تھوڑی تھام کر اس نے باقاعدہ اپنے ‘‘ کوپسند آجائے اور پسند بھی اتنا کہ کچھ اور نظر بھی نہ آئے ؟ چہرے کومیرے سامنے معائنے کے لیے پیش کیا۔
حالات کی سختی نے اسے جلادیا تھا مگر میں تصور کی آنکھ سے دیکھ ‘ بلاشبہ وہ ایک خوبرو جوان تھا سکتاتھا کہ یونیورسٹی میں وہ نفیس کپڑوں اجلے چہرے کے ساتھ جب شعر پڑھتا ہوگا تو بہت سے دل میںنے ‘‘ بالکل شاہد صاحب! یہ چہرہ ایسا ہے کہ کئی اس پر مرتے ہوں گے۔ ’’ اس کے لیے دھڑکتے ہوں گے۔ صاف گوئی کامظاہرہ کیا۔
تو بھی مراد ’’ وہ حلق پھاڑ کر ہنسا۔ مجھے اس ہنسی میں درد کی واضح آمیزش محسوس ہوئی۔ وہ بولا۔ پھر لہجہ بدل کر اصل موضوع کی طرف ‘‘ اسے بھی میں شہزادہ گلفام نظر آتا ہوں۔ ‘ علی کی طرح خچر ہے مشاعرے کے دوران ہی کیوپڈ نے تیرچلایااور اس کا ‘ آیا۔ یونیورسٹی کی ہی ایک لڑکی تھی۔ عطیہ بندیال میری طرف کھنچی چلی آئی۔ میںنے دامن بچانے کی بہت کوشش کی مگر اس کا رنگ ‘دل گھائل ہوا۔ وہ
سیاہ بالوں اور ٹھوڑی پرکالے تل والی لڑکی میری آنکھوں میں ‘ میرے رنگ پر غالب آگیا۔ وہ اداس آنکھوں پانی بن کر بس گئی۔
شاہد ملتانی ‘‘ رفتہ رفتہ ہماری محبت کے چرچے یونیورسٹی کے دروبام میں سرگوشیاں بن کرابھرنے لگے۔ سنا ہے ان دنوں میری آنکھوں میں ستارے جھلملاتے تھے اور ’’ کے لہجے میں گم گشتہ شاعر بولنے لگا تھا۔ منظوربخش کریانہ فروش کا بیٹا جسے فی الحال شاعری کے علاوہ کچھ اور …گالوں پرگلاب چمکتے تھے۔ آہ اس کی اکلوتی ‘ جس کاپس منظر جاگیردارانہ تھا ‘ پنجاب پولیس ‘ نہیں آتاتھا۔بخت نصر بندیال ایس پی بیٹی کی اداس آنکھوں پر غزلیں اور نظمیں لکھ رہاتھا۔
ان خوبصورت اور رنگین غبار جیسے دنوں کو جیسے پر لگ گئے۔ آخری سمسٹر سے پہلے عطیہ اپنے گائوں سے ہو کر واپس آئی تو اس کی اداس آنکھوں میں انجانا سا خوف وہراس تھا۔ چنددن تووہ مجھ سے اپنی کیفیت چھپاتی رہی پھر ایک دن میرے کندھے پرسر رکھ کر اس نے ڈھیروں آنسو بہائے اور مجھ پر یہ بجلی جس سے بچپن میں اس کی نسبت طے ‘ گرائی کہ اس کی شادی کی بات چیت چل رہی ہے۔ اس کاچچازاد پی تھا۔ ‘ ایس ‘ اب پولیس میں اے ‘ ہوگئی تھی
عطیہ نے بتایا کہ اس کی فیملی ویسے تو پڑھی لکھی تھی مگر وہ سخت قدامت پرست تھے۔ ان کے مرد اندر سے آج بھی قبائلی تھے۔
شاہد ملتانی نے باقی ماندہ شراب حلق میں انڈیلی اور پھر سینہ مسلنے لگا۔ شراب نوشی کی کثرت اسے میری کہانی بھی ’’ تیزی سے کھا رہی تھی۔ اسے سنبھلنے میں کچھ دیر لگی۔ دوبارہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا۔ خاندانی روایت کی بلند وبالا دیواریں حق سے ‘ غریب عاشق ‘ روایتی ہی ہے۔ امیر باپ کی اکلوتی بیٹی سرٹکرا ٹکرا کر عاشق لہولہان ہوجاتا ہے۔
میری دوستی ایک سیاسی پارٹی کے اسٹودنٹس ونگ کے چند لڑکوں سے تھی۔ ان کی خود اعتمادی مجھے بڑی اچھی لگتی تھی۔ انہوں نے میرا حوصلہ بڑھایااور اپنے تعاون کایقین دلایا تومیں ایک دن عطیہ کو اعتماد میں لیے بغیر اس کے باپ ایس پی بخت نصر بندیال کے آفس پہنچ گیا۔
اس نے بڑے صبر وتحمل سے میری بات سنی۔ اس وقت میں نہیں جانتاتھا کہ بظاہر انسانی چہرے والے ایک زہریلے ناگ کے سامنے بیٹھا ہوں۔ جو اپنا زہر دل میں چھپائے میری بات سن رہا ہے۔ ساری بات سننے کے بعد اس نے مجھے اپنے سرکاری بنگلے پر رات کے کھانے کے لیے انوائٹ کرلیا۔
دوپہر کو ‘ میں وہاں سے خوشی خوشی واپس لوٹا۔ حوصلہ بڑھانے والے دوستوں نے خوب پیٹھ ٹھونکی میں نے جب اپنی کارگزاری عطیہ کے گوش گزار کی تو اس کاگلابی رنگ خطرناک حد تک زرد پڑگیا۔ اس کے ‘‘ یہ تم نے کیا کیا شاہد! اپنے ہاتھوں سے میری قبر کھود دی۔ ’’ آخری الفاظ آج بھی مجھے یاد ہیں۔
شاہد ملتانی کے چہرے پر دکھ اور پچھتاوے کا تاثر اتنا گہرا تھا کہ تصویر کی مانند نظر آنے لگا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر تکیے پر گر گیا۔ دکھ تھا کہ اسے آری بن کر کاٹ رہاتھا۔ اس کا دکھ میرے دل کو بھی کاٹنے لگا تھا۔
ایس پی بندیال ‘ اس کے بعد میں نے اس اداس آنکھوں والی لڑکی کوکبھی نہیں دیکھا۔ رات کومیں …آہ’’ پی منگیتر شہزاد ‘ ایس ‘ کی سرکاری رہائش گاہ پر پہنچ گیا۔ وہاں شعلے برساتی آنکھوں والا عطیہ کا اے بندیال بھی موجود تھا۔
کھانے کی ٹیبل کی بجائے میرا سرد مہری سے استقبال باہر لان میں کیاگیا ۔ ایس پی بندیال نے پہلے کا تعارف کروایا۔ جس میں سر فہرست خاندان سے باہر لڑکی کی شادی ‘‘ خاندانی رومیات ’’ مجھے اپنی ناممکن تھی۔ خود سری دکھانے والی لڑکی اوراس کے عاشق کے لیے بمعہ خاندان اجتماعی قبر کھودنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔
لالچ اور عبرت انگیز ‘ پی نے پیار ‘ اکلوتی بیٹی کو روایات کی بھینٹ چڑھانے سے بچانے کی غرض سے ایس تینوں رخ مجھے دکھا کر بڑی خاموشی سے اپنی بیٹی کی زندگی سے نکل جانے کے لیے کہا۔ ‘انجام
بوڑھا ‘ میری آنکھوں میں تووہ کالے تل والی لڑکی سمائی ہوئی تھی پھر کہاں اپنی شوگر کی مریض ماں جوان بہن اور چھوٹا بھائی نظر آتے۔ میں ڈٹ گیا۔ سیاستدانوں کے بہکائے جذباتی نوجوانوں کاٹولہ ‘باپ میری پشت پر تھا۔ مجھے یاد ہے ان کے لیڈر گلزار المعروف گلزاری بھولانے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر اپنے اوئے پدی عاشق! ہم کس دن کام آئیں گے ایسی کی تیسی ’’ مخصوص بلندآہنگ قہقہے کے بعد کہا تھا۔ پی اور اس کے قبائلی خون کی۔ کڑی کو سات پہروں میں سے اٹھا کر لے آئیں گے یار! کورٹ میرج کے ‘ ایس میرے متفکر ‘‘ بعد دیکھ لیں گے کہ اس ماں کے جنے میں کتنا دم ہے۔ تو اب شیربن شیر دم کٹا شیر نہیں۔ چہرے کو دیکھ کر اس نے پھر اپنا مخصوص قہقہہ لگا کر میرے کندھے پر دھپ جڑ دی تھی۔
یہ ایک علیحدہ کہانی ہے کہ میں نے عطیہ کا سراغ کیسے لگایا۔ وہ اپنے آبائی گائوں میں اونچی دیواروں والی حویلی کے اندر اپنی شادی تک محبوس کردی گئی تھی۔ ً کی قید سے نجات دلانے کے ‘‘ دیو ’’ کو‘‘ پری ’’ مختصرا یہ کہ میں گلزاری بھولے اوراس کے ٹولے کے ساتھ اس لیے ان کے گائوں جادھمکا۔
ہماری فائرنگ سے حویلی کے دو محافظ خاصے زخمی بھی ہوئے اور ہم کسی طرح حویلی میں گھسنے میں پی بندیال کے ‘ بھی کامیاب ہوگئے مگر حویلی کے پائیں باغ میں ہماری پیش قدمی روک دی گئی۔ ایس آبائی علاقے اوراس کی آبائی حویلی پرحملہ معمولی بات نہیں تھی۔ علاقے کی پولیس بڑی تیزی سے حرکت میں آئی تھی۔
ہم نے نکلنے کی کوشش کی تو مسلح دیہاتیوں نے یہ کوشش بھی ناکام بنادی۔ ہم حویلی کے پائیں باغ میں ہی محصور ہو کررہ گئے۔
دم ‘‘ ببرشیر ’’ جب پولیس فورس نے گھیرا ڈال کر ہمیں ہتھیار ڈالنے کے لیے کہاتو میرے ساتھ آئے سبھی کٹے شیر بن گئے اور ہم نے ہتھیار ڈال دیئے۔ شکر کامقام تھا ایک سیلولر کمپنی نے اپنا دائرہ کار پسماندہ علاقوں میں حال ہی میں بڑھایا تھا۔ میرے ساتھیوں نے اپنے پشت پناہوں کو صورت حال سے آگاہ کیااور خود بھی وہ بااثر خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یوں ہم نے میڈیا کے سامنے خود کو پولیس کے حوالے پی کی حویلی پرحملہ ایسا جرم تھا کہ پولیس مقابلے میں ہماری ہلاکت معمولی بات ‘ ایس ‘ ورنہ‘ کردیا تھی۔اس کے بعد میرے ساتھ جوبھی ہوجاتا کم تھا۔ روایتی چھترول کے ساتھ پولیس والوں نے میری چھترول بھی کی۔ عطیہ کے انگارہ آنکھوں والے منگیتر نے اپنے ہاتھوں سے مجھے تشدد ‘‘ کلاسیکل ’’ کانشانہ بنایا۔
تونہ ‘‘نشانہ’’ پی بندیال نے اپنا کہاپورا کرکے دکھایا۔ میڈیا کی وجہ سے وہ مجھے پولیس مقابلے کا ‘ ایس بناسکا مگر واقعی اس نے مجھے عبرت کانشان ضرور بنادیا۔
ممنوعہ بور کے ناجائز اسلحے سمیت نصف درجن سنگین ترین مقدمات میں مجھے نامزد ‘ اقدام قتل کردیاگیا۔ پھانسی تو نہ ہوئی مگر ساری عمر جیل میں ضرور گزارنی تھی۔
میرے کیے کاعتاب گھر والوں پر بھی ٹوٹاتھا۔ پیشی پر میری حالت دیکھتے ہی ماں نے دل تھام لیا اور ایس پی بندیال کے بھیجے ایک اشتہاری کی گولی ‘ چوبیس گھنٹے میں ہمیں چھوڑ گئی۔ چھوٹابھائی کانشانہ بن گیا۔ جوان بہن کامحلے کے ہی لڑکے کے ساتھ چکر چل رہاتھا۔ بندیال نے اس لڑکے کوہاتھ میں میری بہن کو بھگا کر لے گیا اور کوٹھے پربٹھادیا۔ بوڑھے باپ کو اور تو کوئی نہ سوجھی اس نے ‘ کیااوروہ ‘‘ پاگل ہونے کا ڈھونگ رچایا اور ایک دربار پرجابیٹھا اور ابھی تک وہیں ہے۔
میری آنکھوں کے سامنے ایک عجیب منظر تھا۔ پنجاب کا ٹاپ تھری اشتہاری جس کی سفاکی سے …آہ ایک دنیا کانپتی تھی۔ پولیس والوں کے لیے جو موت کا دوسرانام تھا۔ پیشہ ور قاتلوں میں جس کانام سب سے اوپر تھا۔ میرے سامنے بیٹھا آنسو بہارہاتھا۔ دنیا جہان کی تمام تر بے چارگی اور تکلیف مجسم ہو کرجیسے میرے سامنے آگئی تھی۔
جانتے ہو ’’ شاہدملتانی نے بے دردی سے آنکھیں مسلیں اور اپنے دونوں کھردرے ہاتھ میرے سامنے پھیلائے ۔ وہ پوری طرح شراب کے زیر اثر تھا۔ ‘‘ ان ہاتھوں نے کس کس کی جان لی ہے؟
میں نے نفی میں سرہلادیا۔
اس کاتمام تر دھیان اپنے ہاتھوں کی طرف تھا۔ میرے نفی میں ہلتے سر کو تو اس نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ عطیہ کامنگیتر ‘ وہ لوگ جنہیں میںنے پیسے لے کر مارا ہے ‘ پولیس والے ‘ ان گنت لوگوں کو میں نے مارا ہے ’’ اس کا م رجانا ہی بہتر تھا۔ جس جہنم میں وہ ‘ اور اپنی بہن کوبھی میں نے انہی ہاتھوں سے مارا ہے …اور تھی وہاں پل پل مررہی تھی۔
پی بندیال ہے۔ وہ بھی میری تاک میں ہے۔ ریٹائرڈ ‘ میرے ہاتھوں سے ابھی تک کوئی بچا ہواہے تووہ ایس ایک پل ‘‘ ہوگیا ہے مگر بوگیر کتے کی مانند میرے پیچھے ہے اور میں بھی اسے مارے بغیر مرنا نہیں چاہتا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ’’ کے لیے جیسے اس کی آواز پاتال میں اتر گئی۔ وہ عجیب وجدانی انداز میں بولا۔ ‘ اپنی بیٹی کا قاتل بھی مجھے ہی سمجھتا ہے ‘وہ … پی بندیال کے ہاتھوں لکھی ہے ‘ ہے کہ میری موت ایس ‘‘ اور میں اصل قاتل اسے ۔
دانستہ میں نے فقرہ ادھورا ‘‘؟… کیا ہو اعطیہ کے ساتھ؟ کیا اسے بھی آپ ’’ مجھے اعصابی جھٹکا لگا۔ چھوڑدیا۔
اس کالے تل والی لڑکی نے اپنی شادی سے دو دن پہلے ’’ وہ سیدھا ہوبیٹھا۔ ‘‘ نہیں بھولے بادشاہ! …او’’ اس کی آواز آنسوئوں سے بھیگ گئی اور چہرے کے نقوش میں گداز اتر ‘‘ کرنٹ لگا کر خود کو ختم کرلیاتھا۔ پی بندیال کے ‘ اس نے سچ کہاتھا کہ میںنے اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر کھودی ہے۔ کاش میں ایس ’’ آیا۔ وہ دوبارہ تکیے پر گر گیا اور یوں سینہ مسلنے لگا جیسے کوئی چیز اسے اندر سے کاٹ رہی ‘‘پاس نہ جاتا۔ وہ شدید ترین پچھتاوے کا احساس تھا۔ ‘ ہو۔ میں جانتاتھا وہ کیا چیز تھی
آج اس کے پاس ناامیدی اور پچھتاوے کے علاوہ ‘ شاہد ملتانی جو کبھی خوش امیدی کے جذبوں کاشاعر تھا عطیہ کی خودکشی کے بعد وہ زہری ناگ ’’ کچھ بھی اور نہیں تھا۔ کچھ دیر وہ سینہ مسلتا رہا پھر گویا ہوا۔ جیل میں میرے پاس آیا تھا۔
میرے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے اذیت ناک انداز میں ہلاک کرنے کی قسم کھائی ’’ ‘‘ تھی اور میں نے بھی اسے بتادیاتھا کہ زندگی رہی تو عطیہ کی موت کابدلہ میں اس سے لوں گا۔
میں ایک دفعہ پھر خود کو مداخلت سے باز نہیں رکھ سکا۔ ‘‘ آپ پھر جیل سے کیسے نکل آئے؟ ’’
شاہد ملتانی کے ہونٹوں پرزخمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پنجابی کاایک شعر پڑھا۔ جس چاہے تو چڑیوں سے باز مروا دے چاہے تو ‘ کائنات کی سبھی ڈوریں خداپاک کے ہاتھ میں ہیں ’’کامفہوم تھا۔ ‘‘ باز سے چڑیوں کودانا ڈلوادے۔
پی بندیال نے کردیا۔ پیشی ‘ جیل سے نکل بھاگنے کاساماںبھی خود ایس ’’ شعر پڑھنے کے بعد وہ بولا۔ پی بندیال کے پالتو گیدڑوں نے حملہ کردیا۔ ان کامقصد مجھے ہلاک ‘ پرجاتے ہوئے قیدیوں والی گاڑی پر ایس کرنایاپھراپنی تحویل میں لیناتھا۔
اس مڈبھیڑ میں مجھے نکل بھاگنے کاموقع مل گیا۔ میرے ساتھ استاد گل باز لغاری بھی تھا۔ وہ مجھے شاہد ملتانی بنایا ‘‘ پیشہ ور قاتل ’’ اپنے ساتھ ٹرائبل ایریا لے گیا۔ اسی نے شاعر شاہد ملتانی سے مجھے اپنے فقرے ‘‘ ہے۔ اب واجد خان صاحب نے بیگھے ملوں کا صفایا کرنے کا ٹھیکہ مجھے ڈیڑھ کروڑ میں دیا ہے۔ سے محظوظ ہو کروہ خود ہی ہنسا اوراگلے چند پل میرے لیے بڑے حیرت انگیز تھے۔ شاہد ملتانی خراٹے لے وہ سوچکاتھا۔ ‘رہاتھا
کیاتھا۔ جس کی سزا میں ‘‘جرم محبت’’ میں کچھ دیر افسردہ سے انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ اس نے صرف موت کی تلوار چوبیس گھنٹے سر ‘ بہن اور بھائی کھودیے تھے۔ جان لیوا دشمنیاں پال لی تھیں ‘باپ ‘ماں جگنوئوں اور بہاروں جیسے لطیف احساسات کے ‘ تتلیوں ‘ پر لٹک رہی تھی اور سب سے بڑھ کر پھولوں مالک کو خود کوپیشہ ور قاتل کے طور پر ڈھالنے میں جو اذیت پیش آئی ہوگی اس کا کوئی حساب نہیں تھا۔ بوجھل دل کے ساتھ اٹھ کر میں نے اس کے سر کے نیچے تکیہ درست کیااور اس پر کمبل پھیلانے کے بعد خود بھی سونے کے لیے لیٹ گیا۔
…٭٭٭…
اگلے کئی دن ہم نے تہہ خانے میں گزارے۔ شاید شاہد ملتانی کو یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے شراب کے کے ‘‘لالے’’ نشے میں ڈوب کر مجھے کیا کیا بتادیاہے۔ البتہ پٹھان لڑکے نے مجھے خبردار ضرور کیا تھا کہ … سامنے اس انکشاف بھری رات کا کبھی ذکر نہ کروں ورنہ
شاہد ملتانی کو قطعی طور پر دوسری ‘ دوبارہ ذکر چھیڑنے کی مجھے ضرورت ہی نہیں تھی البتہ اب میں نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔ میرے سامنے اب دونوں رخ تھے۔ میں نے وجاہت اور شوکے کوبھی اس رات کے متعلق نہیں بتایا۔
میرے دل میں شاہد ملتانی سے متعلق ایک نرم گوشہ بن چکاتھا۔ دوسری طرف وہ بھی مجھ پر خصوصی توجہ دے رہاتھا۔ اس کے گروپ کے سبھی لوگوں سے بھی ہم واقف ہوچکے تھے۔ کوئی دشمن دار تھا تو چند شوقیہ کھلاڑی بھی تھے۔ ان میں کوئی بات مشترک تھی تو یہی کہ وہ سبھی پولیس ‘ کوئی مفرور کو زندہ سے زیادہ مردہ مطلوب تھے۔ ان سبھی کے سروںں کی قیمت مقرر تھی۔ ہم لوگ بھی اب انہی کی صف میں آکھڑے ہوئے تھے۔ بہت جلد ہمارے سروں کی بھی قیمت مقرر ہونے والی تھی۔
ضروریات زندگی کے سامان کے ساتھ ایک دفعہ احمد شاہ تہہ خانے میں آیا تھا۔ واجد صاحب کے متعلق استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ بے حد مصروف ہیں۔ پولیس کی بھاری جمعیت نے باغات کے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے۔ وہ بھرپور تلاشی لینا چاہتے ہیں۔ واجد صاحب اور آنجہانی میجر صاحب کا اثرورسوخ فی الحال انہیں روکے ہوئے ہیں۔
اس اطلاع نے شاہد ملتانی اوراس کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تفکر میں مبتلا کردیاتھا۔ بے شک میں ‘‘قابل دماغ’’ ہم محفوظ اورخفیہ ٹھکانے پر تھے مگر کسی خفیہ تہہ خانے کا خیال کسی بھی آسکتاتھا۔ اس کے علاوہ بھوکے کے ڈھیر میں سے اگر گاڑیاں برآمد ہوجاتیں تو پولیس والے باغات کا کونا کونا کھود دیتے۔
کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ‘‘ شب خون ’’ احمد شاہ کی اطلاع کے مطابق شاہد ملتانی وغیرہ کے اور درجن بھر زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو کی حالت نازک تھی۔ بیگھے ملوں نے اپنا نقصان چھپالیاتھا مگر اڑتی اڑتی خبر تھی کہ ان کے بھی تین چار بندے ہلاک ہوئے ہیں اور دستی بموں سے زخمی ہونے والے تین ان کے اپنے خاندان کے مرد بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔یہ اطلاع ‘ تو درجن بھر سے زائد ہی ہیں۔دو جیسے زخموں پر ٹھنڈک جیسااحساس لیے ہوئے تھی۔ یہیں ہمیں پتا چلا کہ بیگھے ملوں کا صفایا کرنے کے لیے واجد صاحب نے شاہد ملتانی کو ہائر کیاتھا۔ جدید ترین اسلحے کے ڈھیر اور بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے انتظار تھا تو اس ‘ مالی تعاون اس کے علاوہ تھا۔ بیگھے ملوں کی حویلی پر حملے کی تیاری مکمل تھی خفیہ اطلاع کاکہ بیگھے ملوں کے سبھی سرکردہ افراد کسی سازشی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس حویلی میں اکٹھے ہیں۔
اس دوران واجد صاحب کے پولیس میں موجود مخبروں نے انہیں اطلاع دی کہ ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے۔ واجد صاحب ہماری طرف سے بے حد متفکر تھے اور مسلسل اس کوشش میں تھے کہ ہم لوگوں تک ان کی رسائی ہوجائے۔
‘‘ خفیہ ہتھیار ’’ ہمارے گھیرے جانے کی اطلاع نے اچانک ہی انہیں دوراہے پر لاکھڑا کیا تھا۔ شاہد ملتانی ان کا تھااور خفیہ ہتھیار کی کامیابی اسے خفیہ انداز میں اچانک استعمال کرنے کے لیے ہی ہوتی ہے۔ اب اگر ہمیں پولیس کے گھیرے سے نکالنے کے لیے وہ اس ہتھیار کواستعمال کرتے تو لامحالہ بیگھے مل چوکنا ہوجاتے اس کے بعد شاہد ملتانی کوموثرانداز میں ان کے خلاف استعمال نہیں کیاجاسکتاتھا۔
دوسری طرف ہمیں بھی پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ انداز میں مرتادیکھنا اور خاموش بیٹھے رہنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس لمحاتی کشمکش کافیصلہ ہمارے حق میں ہوااور جوخفیہ تیاری بیگھے ملوں
وہ ہمیں پولیس کے گھیرے سے نکالنے کے لیے صرف ہوگئی۔ ساری ‘ کاصفایا کرنے کیلے کی گئی تھی صورت حال جاننے کے بعد میرے دل میں واجد صاحب کی عزت اور بھی بڑھ گئی تھی۔
اضطراب وسراسیمگی ان کی صورت سے عیاں ‘ چھٹی رات واجد صاحب اچانک ہی تہہ خانے میں آئے شوکے اور مجھے ساتھ چلنے کے ‘ تھی۔بظاہر وہ پرسکون نظر آنے کی کوشش کررہے تھے۔انہوں نے وجاہت لیے کہا۔ شاہد ملتانی گرگ باراں دیدہ ل اس نے صورت حال بھانپ ی تھی۔ اس نے انداز میں کہا۔ ً تھا۔ غالبا ‘‘ انہیں ہمارے پاس ہی رہنے دیں۔ ‘ خان صاحب! ان بلونگڑوں کو کہاں لے چلے ہیں؟ ہمار ادل لگ گیا ہے ’’
واجد صاحب نے گہرا سانس لیااور س ک ی فیصلے پر پہنچ گئے اور ٹھہرے ہوئے انداز میں بولے۔ ً غالبا
شاہد! تم لوگوں سے میں کچھ چھپانا نہیں چاہتا۔ دبائو ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے کہ پولیس ’’ آخر میں انہوں نے شاہد ‘‘ میں نے انہیں تلاشی کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ‘باغات پر دھاوا بول دے ملتانی سے نظریں چرالی تھیں۔
بے آواز تالی بجاتے ہوئے شاہد ملتانی مسکرایا۔ یہ عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ اس پل اس کے چہرے پر عجیب سی غیر انسانی چمک نظر آنے لگی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ ایسی چمک غیر انسانی ٹچ پیشہ ور قاتلوں کاخاصا ہوتا ہے۔
واہ! پٹھان تو اپنے مہمانوں پر بچے کٹوادینے کے لیے مشہور ہیں۔ آپ تو اپنے بندے نکال … واہ خان صاحب ’’ اس نے پھرتالی ‘‘واہ…واہ… واہ … لے جارہے ہیں اور ہمیں سوروں کے بھوکے گلے کے سامنے پھینک رہے ہیں بجائی۔ اس کے ساتھیوں کے چہروں پر بھی خشونت نظر آنے لگی تھی۔(واضح رہے کہ ترین پٹھانوں کی ہی ایک گوت ہے) واجد صاحب کا سرخ چہرہ سرخ تر ہوگیا۔
لہجے کی کپکپاہٹ سے واضح تھا کہ انہوں نے شاہدملتانی کا ‘‘ اب ایسی بات بھی نہیں ہے شاہد! ’’ پولیس اس تہہ خانے تک کبھی نہیں پہنچ سکتی۔ تم ’’ گستاخ لہجہ بڑی مشکل سے برداشت کیاتھا۔ مٹانے کے لیے میں نے بہت بڑا کام کردیاہے۔ کروڑوں روپے مالیت کی بلٹ پروف گاڑیاں ‘‘نقش پا’’لوگوں کے جلا کر سکریپ میں تبدیل کردی گئی ہیں۔ وہ گاڑیاں برآمد ہوجاتیں تو پھرہی پولیس نے باغات کھودنے تھے۔ ‘‘ تہہ خانے تک پہنچنے کے چانسز ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
شاہد ملتانی وغیرہ کے ساتھ ساتھ ہم تینوں بھی بھونچکا رہ گئے تھے۔ واجد صاحب نے واقعی بہت بڑا ہم لوگوں کے لیے۔ ‘ نقصان برداشت کیا تھا
شاہدملتانی اوراس کے ساتھیوں کے تنے ہوئے جسم اور چہروں پر آئی کدورت تیزی سے کم ہوگئی تھی۔ اور شاید تم یہ بھول گئے ہو کہ ہمارے ’’ واجد صاحب نے شاہد ملتانی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔ ‘‘ درمیان کچھ باتیں پہلے سے طے تھیں۔
شاہد ملتانی نے تیزی سے رنگ بدلا۔ غیر انسانی چمک تیزی سے معدوم ہوگئی اور اس کی جگہ ایک پھیکی سی مسکراہٹ طلوع ہوئی۔
خان صاحب! آپ تو ناراض ہوگئے۔ میری بات کا آپ نے غلط مطلب لے لیا ہے۔ اس چھوکرے کے ساتھ ’’ اس نے مصنوعی بشاشت کے ساتھ میری کمر میں ہاتھ ڈال دیا۔ ‘‘ واقعی میرا دل لگ گیا ہے۔
تمہارے لیے جتنا کرسکتاتھا کررہاہوں۔ بقایا طے شدہ ’’ واجد صاحب کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ معاوضہ تمہیں ابھی فراہم کردیاجائے گا۔ یہاں سے نکلنے کے دوسرے راستے سے تم واقف ہو۔ جس موجود ہیں۔ آگے تم لوگوں کی قسمت۔ 125 احاطے میں وہ راستہ نکلتا ہے وہاں بغیر نمبر پلیٹ والے دس ‘‘ ہتھیار تم لوگوں کے پاس پولیس والوں سے اچھے ہیں۔ ‘ جواں مردی اور ہمت
شاہد ملتانی کی جون دوبارہ سے ‘‘ ایسی نوبت آگئی تو درجنوں سوروں کے گھر بین ہوں گے خان صاحب! ’’ ‘‘ ہمارے آگے پیچھے تو رونے والا کوئی ہے نہیں۔ ’’ تبدیل ہوگئی۔
واجد صاحب کے تاثرات میں بھی تبدیلی آئی۔ مسکراتے ہوئے انہوں نے شاہد ملتانی کو کھینچ کر گلے سے پھر انہوں نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کے انداز میں کہا۔ ‘‘ ! ایسی نوبت ہی نہیں آئے گی یار ’’ لگایا۔ قریب ہونے کے ‘‘ اپنے لڑکوں کے حوالے سے میں معذرت چاہتاہوں۔ ان کے والدین کو میں جواب دہ ہوں۔ ’’ سبب میں نے یہ سرگوشی سن لی تھی۔
کچھ دیر بعد ہم تینوں واجد صاحب کے ساتھ تہہ خانے سے باہر تھے ۔ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور دور کہیں بادلوں کے گرجنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ تاریک رات تاریک تر ہو رہی تھی اور بارش ہونے کی قوی امید تھی۔
کنوئوں سے لدے پودوں کے درمیان پختہ روش پر چلتے ہوئے ہمارا رخ گیسٹ ہائوس کی طرف تھا۔ باغات کے عین درمیان میں واقع اس تین منزلہ پرشکوہ گیسٹ ہائوس میں اکثر ملکی وغیر ملکی مہمانوں کی آمدورفت رہتی تھی اور ترین فیملی کے اکثر ممبران بھی پھلوں کی خوشبو سے بوجھل ہوائوں اور صبح سویرے ہزاروں پرندوں کی چہکاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں قیام کرتے رہتے تھے۔ہم تینوں واجد صاحب سے دو قدم پیچھے چل رہے تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر اپنے برابر کیااور بڑی ً احتراما شاہد ملتانی وغیرہ کرائے کے لوگ ہیں۔ کل رات تک پولیس نے … تم لوگ میرے اپنے ہو ’’محبت سے بولے۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے میں نے تم لوگوں کو حویلی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘ ریڈ کردینا ہے

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 13

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: