Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 11

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 11

میں نے قدرے تردد سے پوچھا۔ ‘‘ مگر کیسے جناب؟ باہر تو ہر طرف آپ کے بقول پولیس ہے۔ ’’
میں نے ڈی آئی جی سے بات کرلی ہے۔ ’’ انہوں نے پرسکون انداز میں کہا۔ ‘‘ اس کے لیے تم فکر مند نہ ہو۔ ’’ صبح‘ گیسٹ ہائوس میں درجن بھر غیر ملکی مہمان اور ہماری فیملی کے کچھ مردوزن بھی موجود ہیں کوبنا کسی جانچ پڑتال کے باغات سے نکال لیا جائے گا۔ اس کے بعد پولیس والوں کو ‘‘معزز مہمانوں’’ ‘‘ اب سمجھ آئی؟ ‘ اجازت ہوگی جب چاہیں باغات کی مکمل تلاشی لے لیں
میںنے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی اثبات میں سرہلایا۔
‘‘ تم تینوں لمبے تڑنگے چھوکرے کل صبح برقعوں میں لپٹے دیگر خواتین کے ساتھ حویلی پہنچ جائوگے۔ ’’ اسی وقت کہیں قریب ہی زور سے بجلی کڑکی اور پل بھر کے لیے حد نظر تک ہرچیز روشنی میں نہا گئی۔ شوکے اور وجاہت کو لے کر سرونٹ کوارٹرز کی طرف ‘ گیسٹ ہائوس کے قریب ہی احمد شاہ موجود تھا۔ وہ نکل گیا۔
آئو تمہیں اپنی فیملی کے چند افراد سے ملوائوں۔ تمہیں ملنے کے لیے وہ لوگ بے تاب ہو رہے ہیں۔ واجد ’’ میرا ہاتھ تھامے مجھے اس گیسٹ ہائوس کے اندر لے گئے جس کی آرائش اور زیبائش …صاحب اورفائیواسٹار سہولیات کی میںنے اب تک کہانیاں ہی سنی تھیں۔
دبیز اور لشکارے مارتے قالین کو دیکھ کر میں نے جوتے اتارنے کی کوشش کی تو انہوںنے مجھے منع ایک فریم شدہ رائل ‘ کردیا۔ یہ ایک وسیع ڈرائنگ روم تھا۔ دیواروں پر قیمتی سنہری فریموں والی تصاویر ٹائیگر کی مکمل اور بے عیب کھال۔ قیمتی مسٹرڈ لیدر کی پوشش والا فرنیچر اور نیلگوں شیشے کی ٹاپ سب کچھ متاثر کن تھا۔‘ والی میزیں
میں اس پرشکوہ ڈرائنگ روم ‘ اس وقت یہ وسیع ڈرائنگ روم خالی پڑا ہواتھا۔ واجد صاحب کی معیت میں سے گزرا۔ اچانک ہی تصویروں کے درمیان میری نظر ایک پینٹنگ پرپڑی۔ یہ ٹہنی سے جھولتے دوعدد کنوئوں کی تھی جن پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ کلرز کااستعمال بڑا متاثر کن تھا۔ میری توجہ ذہن میں گھنٹی سی بجی ‘‘گل لالہ’’ پینٹنگ کے کونے میں بڑے آرٹسٹک انداز میں لکھے نام نے کھینچ لی۔ اور یاد آگیا م گل لالہ یجر صاحب کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی کانام تھا۔ جسے مصوری کا ً کہ غالبا بے حد شوق تھااور وہ کینیڈا میں زیر تعلیم تھی اور ساتھ ساتھ مصوری کی باقاعدہ کلاسیں لے رہی تھی۔
یہ یاد آیا تو بھولے بھٹکے کچھ اور مناظر بھی یاد آگئے۔ مجھے سیاہ قیمتی چادر میں لپٹی برائون آنکھوں ان دنوں ‘ والی سروقد لڑکی یاد آئی جس کے بے حد سفید کبوتروں جیسے ہاتھوں میں جدید کیمرہ تھا گائوں میں ہیضے کی وباپھیلی تھی اور شہر سے فرسٹ ایڈ کی ٹیمیں آئی ہوئی تھیں۔ وہ لڑکی ہیضے سے متاثرہ لوگوں کی تصویریں بنا رہی تھی۔(واضح رہے کہ ترین فیملی کی خواتین جب گائوں میں ہوتی تھیں
تو بڑی سی سیاہ چادر میں لپٹی رہتی تھیں۔ گائوں کے لوگوں نے صرف ان کی آنکھیں ہی دیکھی تھیں۔ البتہ گھریلو ملازمائوں کے ذریعے سینہ گزٹ کے سبب سبھی لوگ ترین فیملی کی خواتین کے غیر معمولی حسن وجمال سے واقف تھے۔ نوجوان سرگوشیوں میں ان کی باتیں کرتے تھے اور سینے مسلتے ہوئے ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے۔
وی دیوار میں نصب تھااوراس ‘ ڈرائنگ روم سے گزر کر ہم ایک وسیع ٹی وی لائونج میں آئے۔ دیوقامت ٹی کے سامنے سمندری جھاگ جیسے قالین پر گائو تکیے پھیلے ہوئے تھے۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ چمکدار پنک رنگ کے آرام دہ صوفے پڑے ہوئے تھے۔ سمندری جھاگ جیسے قالین پر یہ صوفے نگاہوں کو بڑے بھلے لگ رہے تھے۔ ان صوفوں پر تین افراد براجمان تھے۔ آپس کی گفتگو چھوڑ کر ان کی توجہ ہماری طرف ہوگئی تھی بلکہ ان کی پراشتیاق نگاہوں کامحور مرکز میں ہی تھا۔
ترین فیملی کے مردوں کا طرہ ‘ کھڑی ناک اور کشادہ پیشانیاں ‘ سرخ وسفید رنگت ‘چوڑے جسم ‘ لمبے قد امتیاز تھیں ا جوان تھے یک سفید مونچھوں والے بارعب شخص کو شاید میں نے پہلے بھی کبھی ً ۔ دو نسبتا دیکھاتھا۔
واجد صاحب نے میراان سے تعارف کروایا۔ غائبانہ طور پر بھی وہ مجھ سے بخوبی واقف تھے۔ زور دار بارش شروع ہوچکی تھی۔ پہلو کی بڑی سی شیشے کی کھڑکی پر تواتر سے پانی برس رہاتھا اورگاہے بگاہے چمکنے والی بجلی میں پل بھر کے لیے باغات دور تک روشن نظر آتے تھے۔
کھانے کے ٹائم کو گزرے خاصا وقت ہوگیاتھا۔ میرے علاوہ ان لوگوں نے بھی کھانا کھالیاتھا۔ اتفاق رائے سے چائے لینے کا فیصلہ ہوا۔ نصف درجن دیگر لوازمات کے ساتھ چائے آگئی۔
کردینے کے عزم کے ساتھ گفتگو کاسلسلہ چائے کے دوران جاری ‘‘ صفایا ’’ بیگھے ملوں کی زیادتیوں اور ان کا رہا۔
اس دوران میری چھٹی حس نے احساس دلایا کہ حاضرین کے علاوہ کچھ اور نظریں بھی مجھ پر جمی ہیں۔ میں نے غیر محسوس انداز میں ارد گرد کا جائزہ لیا اوراسے وہم جان کر جھٹک ہی رہاتھا کہ ایک پردے کی حرکت نے اس شک کو یقین میں بدل دیا۔
ہماری یہ محفل کئی مضبوط ارادوں اور فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ واجد صاحب نے ایک ادھیڑ عمر خادمہ کی رہنمائی میں مجھے سونے کے لیے بھیج دیا۔
اپنی پرتعیش خوابگاہ میں میرے ذہن میں کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔ پردے کے پیچھے سے مجھے دیکھنے والا کون تھا؟ میجر صاحب کے جتنے بھی ملازمین تھے سبھی بے حد جاںنثار اور وفادار تھے کسی کی طرف سے نمک حرامی کی امید نہیں تھی مگر ایک بے حد تلخ تجربہ مجھے ہوچکاتھا۔
تھوڑی دیر کی کوشش سے میں خود کو تن بہ تقدیر کرکے سونے کے لیے لیٹ گیا۔ باہر بارش زور پکڑ چکی تھی اور رہ رہ کر بجلی چمک رہی تھی۔
کچھ دیر بعد نیند کی دیوی مہربان ہوگئی۔ نہ جانے رات کا کون سا پہر تھا جب ایک خفیف سے کھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی۔ چھٹی حس نے کمرے میں کسی کی موجودگی کااحساس دلایا تو میں نے ایک جھٹکے سے کمبل دور اچھال دیا۔ اسی پل بجلی کڑکی اور شیشے کی کھڑکی سے گزر کرایک لمحے کے لیے سیاہ مخملی نائٹ گائون میں ایک سروقیامت برائون آنکھوں ‘ میری پرتعیش خواب گاہ کوروشن کرگئی والی لڑکی میرے سامنے تھی۔ اس کے بے حد سفید کبوتر جیسے ہاتھوں میں ایک چابی لرز رہی تھی۔
…٭٭٭…
ذیشان خان پر نظر پڑتے ہی میں نے ایک خیمے کی اوٹ لے لی۔ بارش کے سبب جانوروں کے ریوڑ چرانے کے لیے نہیں نکالے گئے تھے۔ اسی سبب قبیلے کے سبھی مرد وزن خیموں میں ہی تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے کئی پائوندے جیپوں کے گرد اکٹھے ہوگئے تھے۔ میرے بدترین اندیشوں نے آج صبح سویرے ہی حقیقت کا روپ دھار لیاتھا۔ ہمارے تعاقب پر نکلے شکاری کتے بالاخر ہمارے نزدیک پہنچ ہی گئے تھے۔
میںنے بوکھلائے ہوئے سردار خوشحال کو دیکھا۔ رم جھم سے بے نیاز وہ جیپوں کی طرف تیز قدموں سے جارہاتھا۔ اسے ایک پتھر سے ٹھوکر لگی اور وہ گرتے گرتے بچا۔ اس کے ساتھ چند اور قبیلے کے معزز افراد بھی تھے۔ میری نظریں شامل کوڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ کہیں نظر نہیں آرہاتھا۔
میں نے ذیشان خان اور دیوہیکل سالار خان کوسردار کے ‘ تھوڑی دیر بعد س ردار خوشحال کی ہمراہی میں خیمے کی طرف جاتے دیکھا۔ سردار خوشحال کابس نہیں چل رہاتھا کہ وہ ان کے قدموں میں بچھ جائے۔
ذیشان اور سالار خان سے بخوبی واقف … سردار خوشحال کا فدویانہ انداز دیکھ کر صاف پتا چلتا تھا کہ وہ ہے۔ ابھی اس نے باکی موشو اور سرخ بھیڑیے کی دید نہیں کی تھی ورنہ اس نے تو ان لوگوں کو ہتھلیوں پربٹھا کر خیمے میں لے جانا تھا۔
ساتھ ہی مجھے یہ اندیشہ پریشان کرنے لگا کہ کہیں سردار ہم لوگوں کو ان درندوں کے حوالے نہ کردے۔ اس کے علاوہ قاصد بھی گل ریز ‘ آئمہ اورعثمان کی فکرمجھے کھانے لگی۔ ڈھارس تھی تو شامل خان کی
کی طرف روانہ ہوچکاتھا۔ وہ پہنچ گیا ہوگا یاپہنچنے والا ہوگا۔ اگر ہمیں سردار ان لوگوں کے حوالے کردیتاتو پھر گل ریز کو کیا جواب دیتا۔
خیموں کی اوٹ لیتے ہوئے میں جیپوں کے جتنا قریب جاسکتاتھا چلاگیا۔ میرا مقصد دیگر جیپ سواروں کو دیکھنا تھا کہ ان میں طورا خان وغیرہ بھی ہیں ۔ طورا خان کی موجودگی کا امکان کم تھا۔ وہ سردار تھا اور سردار خوشحال سے بات چیت کے لیے خود ہی سامنے آتا۔
جیپوں میں اجنبی چہروں والے مسلح قبائلی بھرے ہوئے تھے۔ اس کوشش کامجھے ایک اور فائدہ ضرور ہوا۔ ایک جیپ کی نمبر پلیٹ پر مجھے افغانستان کا قومی نشان ضرور نظر آگیا۔اس کا مطلب تھا کہ طوراخان وغیرہ کو افغانستان میں بھی حواری مل گئے تھے۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ سرحد کوقبول نہیں کیا تھا۔ آپس میں رشتے داریوں کے علاوہ ان ‘‘ لکیر ’’ کے دونوں جانب آباد قبائل نے کبھی اس کی دونوں جانب آزادانہ آمدورفت جاری رہتی تھی۔ اس لیے طوراخان کے حلقہ احباب کے کسی بااثر ممبر کاافغانستان میں موجود ہونا بڑی عام سی بات تھی۔
میں جتنی احتیاط سے آگے گیاتھا اتنی احتیاط سے واپس لوٹ آیا۔ خیموں کے درمیان ایک جگہ جلانے کی لکڑیوں کا ڈھیر پڑا ہواتھا۔ میں اس کی اوٹ میں دبک کربیٹھ گیا۔ یہاں سے میں آسانی کے ساتھ جیپ سواروں پرنظر رکھ سکتاتھا اور کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹ سکتاتھا۔ شامل خان کے دیے دیسی ساختہ پسٹل اورپنڈلی سے بندھے جاں نثار ساتھی کی موجودگی میرے لیے کافی تھی۔
مجھے لکڑیوں کے درمیان دبکے خاصی دیر ہوگئی تھی۔ مسلسل رم جھم جاری تھی۔ موم جامہ کی ہوئی ‘ چادر مجھے خاصا تحفظ دے رہی تھی۔ بارش کے سبب بائوندوں کی اکثریت خیموں میں دبکی ہوئی تھی ورنہ اب تک مجھے یہاں دیکھا جاچکاہوتا۔
ایک قریبی خیمے سے گاہے بگاہے کسی جواں سال لڑکی کی کرلاتی ہوئی آواز بلند ہوتی تھی اور بارش میں ٹھٹھر کر رہ جاتی تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جس کی شادی کو ابھی پورا ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا اوراس کامحبوب شوہر شکار کے دوران پراسرار طور پر غائب ہوگیاتھا۔
میرے دماغ میں دوبارہ سے کھلبلی سی مچ گئی۔ بستی کے دوشکاری اوردو پہرے پرمامور نوجوان کہاں غائب ہوگئے تھے؟ ان کا کوئی سراغ کیوں نہیں ملا تھا؟ اور شامل خان پرحملہ کرنے والی پراسرار ہستی کون تھی؟ کیا دیگر گم شدگیوں میں بھی اسی ہستی کاہاتھ تھا؟
رہ رہ کر ذہن میں شامل خان کی گردن کے زخم کی شبیہہ ابھرتی تھی اور پورے وجود میں پراسرار سی سنسنی دوڑ جاتی تھی وہ گہرائی تک اترے چپٹے دانت اور جبڑے کی بے پناہ طاقت ومضبوطی بے حد حیران کن تھے۔
اچانک ہی جیپ سواروں میں واپسی کے آثار نظر آنے لگے۔ ذیشان خان اور سالار خان جیپوں میںسوار ہو رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جیپیں گھومیں اور کچھ ہی دیر میں میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئیں۔ میں نے اطمینان کا سانس لیااور واپس شامل خان کے خیمے میں آگیا۔ مجھے معلوم تھا کہ جلد ہی سردار آنے والا ہے۔ ‘‘بلاوا’’ خوشحال کی طرف سے میرا
سردار کے بلاوے ‘ کرخت چہرے والا بدبودار پائوندا ‘ مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرناپڑا۔ ایک بے حد جسیم ‘ کاپیغام لے کر آگیا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں میرے لیے ناپسندیدگی صاف نظر آرہی تھی۔ میں اس پائوندے کو پہلے بھی سردار خوشحال کے آس پاس دیکھ چکاتھا۔
میں سردار خوشحال کے خیمے میں داخل ہوا تو تنائو کی کیفیت میں وہ اپنی خشخشی داڑھی نہ جانے ’’ کومسلسل بل دے رہاتھا۔ چہرہ زرد اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی وہ پھٹ پڑا۔ کون سی منحوس گھڑی تھی جب تونے قبیلے میں قدم رکھا تھا۔ میں پاگل اور اندھا ہوگیاتھا جو تیری ‘ تو چھچھوندر ہے جسے نہ میں نگل سکتا ہوں ’’ اس نے باقاعدہ سرپیٹتے ہوئے کہا ‘‘ کہانی پر یقین کربیٹھا۔ ‘‘ اور نہ اگل سکتاہوں۔ تونے پہلے سردار طوراخان اور ذیشان خان کانام کیوں نہیں لیا کہ تو ان کامجرم ہے؟ آپے سے باہر ہو کر اس نے باقاعدہ مجھے گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑا۔
اپنے سردار کے تیور دیکھ کر مجھے ساتھ لانے والا پائوندااورایک دوسرا پائوندا بھی الرٹ ہوگئے۔ ان کے چہروں کے تاثرات سے اندازہ ہوتاتھا کہ اگر سردار حکم کرے تو وہ لمحوں میں میری تکابوٹی بنادیں۔
میں کسی طور اخان اور ذیشان خان ’’ میںنے خود کو پرسکون رکھتے ہوئے سردار کی مزاحمت نہیں کی۔ جو حقیقت تھی آپ کے گوش گزار کردی۔ آپ کو ‘ کو نہیں جانتا۔میں نے آپ کو کوئی کہانی نہیں سنائی ‘‘ گل ریز کی زبانی میری صداقت کا ثبوت مل جائے گا۔
کاش ہم نے ملک گلریز کوخط نہ لکھا ہوتا تو تجھے ’’ میراگریبان چھوڑ کر سردار نے بے بسی سے ہاتھ ملے۔ ‘‘ ذیشان خان کے حوالے کرکے ہاتھ باندھ کر معافی مانگ لیتے۔
‘‘ ذیشان خان وغیرہ کیا بہت خطرناک لوگ ہیںجو آپ جیسا سردار بھی ان سے خوف کھا رہا ہے؟ ’’
سردار اتنے زو رسے چیخا کہ کھانسنے لگا۔ ‘‘ انجان نہ بن ’’
میرے عقب میں کھڑے جسیم پائوندے نے اپنی رائفل کی نال سے میری گردن کو زور دار ٹہوکادیتے ہوئے ‘‘زبان بند رکھ۔’’غرا کر کہا۔
توان کے جس خاص مہمان کویرغمال بنا ’’ سردار ایک نئے طیش وغضب کے ساتھ مجھ پر جھپٹ پڑا۔ ‘‘ ابھی وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ تو اسے ہلاک کرچکا ہے۔ ‘کروہاں سے نکلا ہے
میں اپنے موقف پرقائم رہا۔ ‘‘ یہ محض الزام ہے۔ وہ انہی کی فائرنگ سے مرا ہے۔ ’’
عقب میں کھڑے پائوندے نے اس دفعہ دوہتٹر میری گردن پر مارا ۔ کم بخت کے وجود میں کسی گینڈے کی سی طاقت تھی میں نے بڑی مشکل سے خود کو گھٹنوں کے بل گرنے سے بچایاتھا۔ دماغ میں انگارا سا دہکا مگر آئمہ اور عثمان کا خیال آتے ہی سرد پڑگیا۔
کا درجہ دے ‘‘مہمان’’ سردار نے دوہتٹر مارنے والے کوڈانٹا جوبھی تھا قبیلہ مجھے گل ریز کے جواب تک چکاتھا۔ سردار نے کھانسی اور پھولی ہوئی سانسوں پرقابو پانے کی کوشش کی۔ اس دوران خیمے کے کی حالت ‘‘ بھیا ’’ اندرونی حصے سے آئمہ کے رونے کی آواز آنے لگی۔ شاید کسی روزن سے اس نے اپنے کامشاہدہ کرلیاتھا۔
سردار نے کرخت لہجے میں اپنی چھوٹی بیوی کو آئمہ کو چپ کرانے کے لیے کہا۔ اس کے چہرے پر بے بسی اور جھنجلاہٹ جیسے مجسم ہو کررہ گئی تھی۔
آئمہ کے رونے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سردار نے چیخ کرآئمہ کو نشست گاہ میں بھیجنے کے لیے کہا۔ ہی پردہ ہٹا اور بلکتی ہوئی آئمہ مجھ سے آلپٹی۔ میں نے اسے نرمی سے بازو کے گھیرے میں لے لیا۔ ً فورا اس نے آنسوئوں ‘‘ آپ کو یہ لوگ مار کیوں رہے ہیں بھیا؟ ’’ وہ معصوم میرے وجود میں پناہ ڈھونڈنے لگی۔ سے بھیگی آواز میں پوچھا۔
میں اسے حوصلہ دینے کی غرض سے ‘‘ ایک غلط فہمی تھی جودور ہوگئی ہے۔ اور یہ بھلا کوئی مار ہے ’’ بھیا! وہ لوگ کچھ دیر ’’ مسکرایا۔ اس نے ڈری ڈری نظروں سے خشمگیں چہروں والے پائوندوں کو دیکھا۔ سرگوشی کے انداز میں اس نے مجھے ‘‘ یہ لوگ ہمیں ان کے حوالے تو نہیں کردیں گے؟ ‘ پہلے یہاں آئے تھے اطلاع دی اور اپنے اندیشے کااظہار کیا۔
بلکہ غلط فہمی دور ہونے کے بعد یہ لوگ چند دنوں میں ہمیں ’’ میں نے اس کاسر چوما۔ ‘‘ بالکل نہیں۔ ’’ ‘‘ ہمارے گھر بھیجنے والے ہیں۔
یہ سن کر اس کے راکھ چہرے پرزندگی کی رمق ابھری۔ سردار خوشحال بغور ہمیں دیکھ رہاتھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے کی خفگی میں نمایاں کمی آچکی تھی۔
‘‘ یہ تو بہت اچھے اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ تمہیں یہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہے ؟ ’’
اس نے نفی میں سرہلایا۔
کچھ دیر میں اسے سمجھابجھا اور آنسو پونچھ کر میں نے دوبارہ سردار کی بیوی کے پاس بھیج دیا۔
سردار نے مجھ پر نظریں جما کر رمزیہ انداز میں پوچھا۔ ‘‘ یہ دونوں بچے کون ہیں؟ ’’
میں نے آہستگی اور نرمی سے کہا۔ ‘‘ میں پہلے ہی اس سوال کا جواب دے چکا ہوں۔ ’’
ذیشان خان کا کہنا ہے کہ تو ان بچوں کو ان کے پاس سے اغوا کرکے لایا ہے مگر بچے تجھ سے مانوس ہیں ’’ ‘‘ یہ بات تیرے حق میں جاتی ہے۔
‘‘ میں اس خوش خیالی کے لیے محترم سردار کا ممنون ہوں۔ ’’
ملک گل ریز کی طر ف سے قاصد چند دنوں میں لوٹ ہی آئے گا ۔ ’’ سردار کے لہجے نے دوبارہ رنگ بدلا۔ میں ایک دفعہ پھر تجھے بتادوں کہ اگر تیری کہانی غلط نکلی تو خود کو تو بہت کڑے حالات میں پائے ‘‘گا۔
‘‘ میں جھوٹا ثابت ہوا تو ہر سزا کے لیے تیار ہوں۔ ’’
ہاتھ کے اشارے سے س ردار نے مجھے واپس جانے کے لیے کہا۔
میں واپس خیمے میں آگیا۔ شامل دوپہر کے کھانے تک لوٹ آیا۔ مجھ سے ملنے سے پہلے ہی اسے ذیشان خان کی آمد کی اطلاع مل گئی تھی۔
خیمے میں آیا تو خاصامتفکر تھا۔ میںنے اس سے طویل غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ بس اسے ‘ ایک چرواہے نے یہاں سے خاصا دور ایک درے میں کسی لاش کی موجودگی کی اطلاع دی تھی ‘‘ دیکھنے گیاتھا۔
‘‘ پھر کیا رہا؟ ’’
لاش خاصی پرانی اور ناقابل شناخت تھی۔ مردار خور جانور اور پرندے زیادہ حصے چٹ کرچکے تھے یہ ’’ شامل خان نے جواب دیااور ہ ‘‘ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کس بدنصیب کی ہے۔ ی اس موضوع کی طرف ً فورا آیا جو اسے اضطراب میں مبتلا کررہاتھا۔
اس نے تمہید باندھی۔ ‘‘ تم جان ہی گئے ہوگے تمہاری تلاش میں کچھ لوگ آج قبیلے میں آئے تھے۔ ’’
‘‘ جانتا ہوں بلکہ اس حوالے سے سردار خوشحال کا غصہ بھی جھیل چکا ہوں۔ ’’
ذیشان خان اور اس کاب ڑا بھائی سردار طورا بے حد خطرناک اور بااثر لوگ ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کا ’’ قبائلی علاقہ جات کے چند خطرناک ترین افراد سے گٹھ جوڑ بھی ہے۔ اس لیے سردار خوشحال کا پریشان ہونا فطری سی بات ہے۔ اگر ان لوگوں کو ذرا بھی بھنک پڑگئی کہ ان کے مفروروں کو ہمارے قبیلے نے پناہ
دی ہے تو ہمارے لیے زمین تنگ ہوجائے گی۔ اس لیے سردار خوشحال کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہے ‘‘ تو اس کے لیے میں معافی مانگتا ہوں۔
ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا لالے کی جان! بس جلد سے جلد تم لوگوں کی جان ’’ میںنے اس کے ہاتھ تھامے ۔ مجھ سے چھوٹ جائے۔ میرے ساتھ بچے نہ ہوتے تو میں تمہیں اس آزمائش میں نہ ڈالتا۔ اس کے لیے میں ‘شرمندہ ہوں تم سے۔
میرا جینامرنا بھی اب تمہارے ساتھ ہے۔ چاند ’’ اس نے قدرے خفگی سے کہا۔ ‘‘! کیسی بات کرتے ہویارا ’’ ‘‘ راتیں آجائیں میں اس بات کااعلان بھی کروں گا۔
مجھ سے زیادہ اپنے قبیلے کی فکر کرو۔ یہاں کے لوگ تم ’’ میں نے اس کے ہاتھوں کواور مضبوطی سے دبایا۔ ‘‘ یونہی نہیں کہتے۔ ان کی امیدوں پر تم نے پورا بھی اترنا ہے۔ ‘‘بڑا رکھوالا’’ سے محبت کرتے ہیں۔ تمہیں اس بات کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ اس جذباتی قبائلی کے چہرے پرچمکتی جذباتیت قدرے مدہم پڑگئی۔ چند لحظے وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا رہاپھر بولا تو اس کی آواز بے حد مدہم تھی۔
بچوں سمیت تمہیں یہاں سے ‘ اگر تمہاری کہانی میںکوئی جھول ہے تو اپنے بھائی کو بتادے۔ میں ‘لالے’’ ذیشان خان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرچکا ‘ نکال سکتاہوں۔ دوسری صورت میں سردار باندھ کرتمہیں ‘‘ہے۔
‘‘ ایسی نوبت نہیں آئے گی۔ ‘ بے فکر رہو ’’
میرے لہجے نے اسے حوصلہ دیا۔ وہ مسکرایا اور ماں کو کچھ کھانے کے لیے لانے کے لیے کہا۔
باہر بارش تھم چکی تھی۔ تیز ہوابادلوں کواڑا کر لے گئی تھی موسم کاجائزہ لے کر شامل خان باہر نکلنے کے ‘‘ میں ایک اورعاشق سے ملوائوں تمہیں۔ ‘آئو’’ لیے پرتولنے لگا۔
میں نے بھی خوشگوار انداز میںکہا۔ ‘‘ پہلے کتنے عاشقوں سے ملواچکے ہو؟ ’’
‘‘ دیوانے ہاشم کو۔ … بھول گئے ’’
سینے کی گہرائیوں میں پھر ایک آہ نے جنم لیا۔ اس دیوانے کا درد مجھے مارنے لگا۔ کاش میں کچھ کرسکتا اس کے لیے۔ شامل نے رائفل کندھے سے لٹکائی تو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ باہر دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر تیز ٹھنڈی ہوا نے اس کااثر زائل کردیا۔ آسمان پر اڑتی پرندوں کی ایک ٹولی کو دیکھ کر شامل خان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
لالے کی جان! روس سے ہجرتی پرندوں کی آمد شروع ہوگئی ہے۔ آج کل میں تمہیں مرغابی اور جل ’’ ‘‘ فیری(ایک بے حدخوبصورت اور لذیذ گوشت والا پرندہ) کھلائیں گے۔
مجھ میں جہاں اور بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں وہیں ان ہجرتی پرندوں کے بے دریغ شکار سے اکتاہٹ بھی تھی۔ برف زاروں سے گرم پانی اور خوراک کی تلاش میں اپنی زمینوں پر انہیں خوش آمدید کہنے کی بجائے الٹا بے دریغ شکار مجھے کسی صورت قبول نہیں تھا مگر میں اپنا فلسفہ کسی اور پر بھی نہیں ٹھونس سکتاتھا۔ ان قبائلی لوگوں کاانحصار بھی تو شکار پر تھا۔ میں نے گفتگو کا رخ کسی اور ‘‘ اس دوسرے عاشق کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ ’’جانب موڑا۔
اس بیچارے عاشق کو اپنی محبوبہ کے حصول کے لیے باقاعدہ قبیلے کے ایک بہترین لڑاکے کوبزور بازو ’’ ‘‘ جواس کے لیے ناممکن حد تک مشکل ہے۔ ‘ شکست دینا ہوگی
مجھے دلچسپی ہوئی۔ قبائلی رسم ورواج کے متعلق بہت کچھ سنااور دیکھاتھا۔ یہ بھی کوئی ایساہی معاملہ لگتاتھا۔
قبیلے کاایک غریب اور یتیم نوجوان ہے ’’ میری دلچسپی محسوس کرکے شامل نے مزید تفصیل بتائی۔ اس کی پرورش اس کے چچا نے کی ہے۔ چند ماہ پہلے چچا نے کسی بات پر ناراض ہو کر اسے بے دخل ‘ثابت کردیا ہے۔ آج کل سردار خوشحال کی بھیڑیں چرا کراپنا پیٹ پال رہا ہے۔
‘‘ چھپائی ‘چھپن’’ اسی چچا کی ایک بیٹی جو اس کے ساتھ ہی پل کربڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ثابت کا چل رہا ہے۔ اب صاحب حیثیت چچا کسی صورت یتیم بھیتجے کے سرپر ہاتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ‘‘ دونوں کی منگنی بھی ہوچکی ہے مگر چچا نے وہ بھی توڑ دی ہے۔
‘‘ اس میں زور بازو سے شکست دینے والی بات کیا ہے؟ ’’
اس کے ‘‘آموخا’’ پائوندوں کے قبیلوں میں ایک رسم ہوتی ہے ’’شامل خان نے کہا۔ ‘‘! اسی طرف آرہا ہوں یارا ’’ مطابق قبیلے کا کوئی بھی شخص کسی کی منگیتر کے حصول کے لیے اسے چیلنج کرسکتا ہے۔ چیلنج قبول نہ کرنا بے حد بے عزتی سمجھا جاتا ہے اگرچیلنج قبول کرلیاجائے تو پھر آنے والی چاند کی پندرہ تاریخ کو سارے قبیلے کے سامنے چیلنج دینے اور قبول کرنے والے کے درمیان کھلا مقابلہ ہوتا ہے اگر چیلنج دینے والا جیت جائے تو ہارنے والے کی منگیتر اس سے منسوب ہوجاتی ہے اور اگر چیلنج قبول کرنے والا جیت ‘‘جائے تو ہارنے والے سے جو دل چاہے طلب کرسکتا ہے۔
‘‘ اس کامطلب ہے ثابت کو کسی نے چیلنج کردیاہے۔ ’’
‘‘ ٹھیک سمجھے تم۔ ’’
میں نے خیال آرائی کی ۔ ‘‘ ہے اس کاچچا ٹانگ بھی تو اڑا سکتا ہے۔ ‘‘سابق’’ مگر منگیتر اب ’’
قبیلے میں جب تک دوسری جگہ لڑکی کی شادی نہ ہوجائے اس وقت تک وہ رشتہ ٹوٹنے کے باوجود ’’ رسمی طور پر پہلے منگیتر سے ہی منسوب رہتا ہے اور قبائلی رسم ورواج میں ثابت کا چاچا تو کیا چاچا ‘‘ کاباپ بھی ٹانگ نہیں اڑا سکتا۔
اس کے انداز پر میں بے ساختہ ہنس پڑا۔
اور چچا کی ٹانگ اڑانے کی ضرورت بھی نہیں ہے بلکہ وہ چاہتا ہے گل دانہ کی شادی چیلنج کرنے والے ’’ ‘‘ سے ہی ہوجائے۔ شاید تم نے چیلنج کرنے والے کو دیکھا بھی ہو۔
سردار کے آس پاس ہی ہوتا ہے۔ ‘سردار خوشحال کا سالا ہے’’ میری سوالیہ نظروں کامفہوم پاکر وہ بولا۔ ‘‘ چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور بھینسے کی مانند مضبوط ہے۔
جھماکاسا ہوااور گردن کے اوپری حصے میں ٹیس سی جاگ اٹھی۔ سردار کے خیمے میں رائفل سے زور دار اس نے تھوڑا سا قرض چڑھادیا تھاکمالے جٹ پر اور میں قرض ‘ ٹہوکا اور پھر دوہتٹر ما رنے والا پائوندا یاد آیا رکھنے کا قائل نہیں تھا۔
غریب ’چڑھانے والا اور ‘قرض’ دو اور نشانیاں بتائیں تو مجھے یقین ہوگیا کہ مجھ پر ‘ شامل خان نے ایک ثابت کوچیلنج کرنے والا ایک ہی شخص تھا۔ شامل نے اس کانام دارا بتایا تھا۔ ‘عاشق
جب لڑکی کاباپ خود دارا کو داماد بنانے کا خواہش مند ہے تو ’’ ایک الجھن محسوس کرکے میں نے پوچھا۔ ‘‘ پھر دارا کوثابت کو چیلنج کرنے کی کیاضرورت تھی؟ سیدھے طریقے سے بارات لے کر پہنچ جاتا۔
گل دانہ کے حوالے سے کوئی سال بھر پہلے دارااور ثابت کے ’’ شامل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ پہلے تووہ کچھ ‘ جس کی رنجش دارا کے دل میں پل رہی ہے ‘ درمیان اچھی خاصی تلخ کلامی ہوئی تھی نہیں کرسکا مگر اب حالات مختلف ہیں۔ ثابت کے سر پر اس کے چاچا کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ میں نے تو یہ ‘‘ بھی سنا ہے کہ دارا کو چیلنج کے حوالے سے ثابت کے چچا کی مکمل آشیرواد حاصل ہے۔
ساری کہانی بخوبی میری سمجھ میں آگئی تھی اور دل ثابت کے لیے کچھ کرنے کو مچل اٹھا تھا۔
ہم جھیل کنارے پہنچے۔ یہاں پہاڑی سے ٹکرا کر ہوا نیچے گرتی تھی اور فراٹے بھرتے ہوئے گزر جاتی تھی۔ یہاں نوجوانوں کی ایک ٹولی پہلے سے موجود تھی۔ انہوںنے اپنے قبیلے کے سردار کا استقبال کیا۔ میں ان کی خصوصی دلچسپی کا مرکز تھا۔ میں نے ایک متناسب نقوش والے دبلے پتلے طویل قامت نوجوان کو بجھی آنکھیں اور زندگی کی رمق سے عاری چہرہ دل نے کہا یہی ثابت ہے۔ ‘ دیکھا
شامل خان نے تعارف کروایا تو میرا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ شامل نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ وہ مجھے لے کر ایک مسطح ‘‘ تم اپنا کام شروع کرو۔ مہمان تمہاری کارکردگی ہی دیکھنے آیا ہے۔ …شاوا’’ پتھر کی طرف بڑھا۔ ایک نوجوان نے جلدی سے بھیگے ہوئے پتھر پر ایک اونی کمبل ڈال دیا۔ ہم اس کمبل پر بیٹھ گئے۔
ثابت کے ساتھ اس کے دوست ہیں۔ یہ روزانہ اسی وقت یہاں ’’ شامل خان نے میری طرف جھکتے ہوئے کہا۔ ‘‘ کسرت کرتے ہیں اور اپنے دوست کو دست بدست لڑائی کی تیاری بھی کرواتے ہیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے نوجوانوں نے اپنی صدریاں اتاریں اور وارم اپ ہونے کے لیے دوڑ پڑے۔ پہاڑی کی نصف بلندی کا چکر کاٹ کر واپس آئے تو ہانپے ہوئے تھے۔ یہ کل چھ لڑکے تھے۔
شامل خان کے کہنے پر ثابت اور ایک اس کاہم عمر دہرے بدن کالڑکا پتھر کے سامنے آگئے اور آپس میں ثابت ٹانگیں بچانے کو جھکا تو دوسرے ‘ دست وگریباں ہوگئے۔ دہرے بدن کے لڑکے نے تیزی سے جھکائی دی نوجوان نے بڑی پھرتی سے اسے کمر پر لاد کرزمین بوس کردیا۔ ثابت نے اٹھنے میں بھی تاخیر کی۔ دوسرے نوجوان نے اسے چھاپ لیا اور کمر کے گرد ٹانگیں کس کر کندھوں کے نیچے سے بازو گزارے اور گردن کے پیچھے باندھ کر بے بس کردیا۔
ثابت کوچھوڑ کر علیحدہ ہوگیا۔ ثابت کھڑا ہوا تواس کے چہرے پر اس ذلت ‘ شامل کے اشارے پر نوجوان جیت سمیت کسی چیز سے دلچسپی ‘ آمیز شکست کا ذرا سا شائبہ بھی نہیں تھا۔ یوں لگتاتھا اسے ہار وہ چوڑی ہڈی کا کڑیل نوجوان تھا۔ وارم اپ ہونے ‘ نہیں رہی۔ میں نے تولنے والی نظروں سے ثابت کو دیکھا کے بعد اس کاسانس بھی زیادہ نہیں پھولا تھا۔
میرااندازہ تھا کہ وہ پہلے ہی شکست تسلیم کرچکا ہے۔ اگر شکست کا خوف وہ دل سے نکال دے اور پوری توانائی اور جذبے سے دارا سے لڑے تو اسے ٹف ٹائم دے سکتاہے میرااپنا تجربہ تھا کہ لڑنے بھرنے کے فن روشن ہو تو طاقتور سے ‘‘آگ’’ میں تر بیت سے زیادہ اندرونی تپش اور لڑمرنے کاجذبہ کام آتا ہے۔ اندر کوئی طاقتور حریف بھی بونا نظر آتا ہے۔
انگاروں کو ہوا دے کر دوبارہ سے شعلوں ‘ ثابت کے اندر عشق کی آگ تو تھی مگر بجھ رہی تھی۔ بھجتے میں تبدیل کیاجاسکتاتھا۔
‘‘ کیا میں اس نوجوان کی تربیت کرسکتاہوں؟ ’’ میں نے شامل سے مخاطب ہو کر کہا۔
مجھے خود اس سے ہمدردی ہے مگر میرے منصب کا تقاضا غیر جانبداری ’’شامل نے کہا۔ ‘‘ خوشی سے ’’ ‘‘ ہے۔ اس لیے میرے جانے کے بعد تم یہ کام شروع کرسکتے ہو۔
‘‘تم پشتو سمجھتے ہو؟’’ میں نے اشارے سے ثابت کو قریب بلایا۔ وہ جھجکتا ہوا قریب آگیا۔
‘‘ میری ماں پشتون قبیلے سے ہے۔ ’’ اس نے اثبات میں سرہلایا۔
‘‘ تم یہاں رہو۔ مجھے کچھ ضروری کام دیکھنے ہیں۔ ‘ شامل خان نے اٹھنے کے لیے پرتولے ٹھیک ہے لالے شامل خان کے جانے کے بعد میںنے ثابت کو اپنے پہلو میں بٹھالیا دیگر لڑکوں کی تمام تر دلچسپی ہماری طرف تھی۔ میری ترجمانی کرتے ہوئے ثابت نے ان لڑکوں کو اپنی روز مرہ کسرت وغیرہ کرنے کے لیے کہا۔ تمہاری ساری کہانی سے میں واقف ’’ لڑکے مصروف ہوئے تو میں نے لاتعلق سے بیٹھے ثابت سے کہا۔ ‘‘ چاہو تومیں مدد کرسکتا ہوں تمہاری۔ ‘ ہوں۔ مجھے ہمدردی ہے تم سے
‘‘ معزز مہمان کی پیش کش کا شکریہ مگر مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ ’’
میں نے اس کی دکھتی رگ ‘‘ گل دانہ کو اتنی آسانی سے کسی دوسرے کی سیج سجاتے دیکھ سکوگے؟ ’’ ‘‘ مرتو نہیں جائوں گا۔ ’’ دبائی۔ جس کاخاطر خواہ نتیجہ نکلا۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
مر کے جیوگے۔ میں تو سمجھتا ہوں قدرت نے گل دانہ کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنے حالات … مگر مر ’’ ‘‘ سدھارنے کابھی ایک موقع دیاہے۔
اس نے الجھی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھا۔
ً دارا کو شکست دے کرتم کچھ بھی ’’ میںنے اس کے کندھے پر بازو پھیلایا۔ اس سے طلب کرسکتے ہو۔ مثلا پھرتو تمہارے چچا کو بھی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دینے پر کوئی اعتراض ‘ اس کے سارے جانور آپ نے دارا کو دیکھا ہے؟ اس کے گینڈے جیسے ’’ اس کے چہرے کے نقوش میں تلخی اتر آئی۔ ‘‘ نہیں ہوگا۔ جسم میں سے میرے جیسے تین نکل سکتے ہیں۔ وہ مانا ہوا لڑاکا ہے۔ پورے قبیلے میں اس جیسے زور آور میں اسے فاتح دیکھ چکاہوں۔ پچھلے دوسال سے وہ ‘ کم ہی ہیں۔ کم از کم چھ جسمانی مقابلوں میں ورنہ میرااور دارا … ناقابل شکست ہے۔ یہ صرف اور صرف دارااور چاچا کی مجھے ذلیل کرنے کی سازش ہے اس نے دل کی ‘‘ کا کوئی مقابلہ ہے۔ چاچا چاہتا ہے میں خود ہی ذلیل ہونے کے بعد کسی طرف منہ کرجائوں۔ بھڑاس نکالی۔
میرایہ اندازہ درست نکلا تھا کہ وہ مقابلے سے پہلے ہی ہار مان چکا تھا۔
‘‘ چاچایکدم تمہارا اتنا مخالف کیوں ہوگیا ہے؟ حالانکہ تمہاری پرورش بھی اسی نے کی ہے؟ ’’
دارا کی نظروں میں گل دانہ کو دیکھ کر جو چمک ابھری ہے۔ چاچا اس کے ’’ ثابت نے نفرت سے کہا۔ ‘‘…لالچ’’ دام کھرے کرنا چاہتا ہے۔ دارا کے پاس ہزاروں بھیڑیں اور چند بہترین شکاری رائفلیں ہیں جنہوں نے چاچا کا
دماغ خراب کردیا ہے۔ دارا کے ساتھ معاملات طے ہوتے ہی سوچی سمجھی سازش کے تحت چاچا نے مجھ ‘‘ سے تعلقات خراب کئے ہیں۔
میں ‘‘ یعنی تمہارے چاچا کو صرف بھیڑوں اور رائفلوں سے غرض ہے۔ بیٹی کی خوشی مطلوب نہیں ہے۔ ’’ گل دانہ کے جذبات کیاہیں؟ میرامطلب ہے ودسری ’’ نے پرخیال انداز میں کہا۔ پھرایک خیال آنے پر پوچھا۔ ‘‘ طرف بھی جذبات کی شدت تمہارے جیسی ہی ہے؟
ممکن ہے ہم دونوں کسی دن اکٹھے ہی کسی کھائی ’’ ثابت کے چہرے پر دوطرفہ محبت خمار بن کرچمکی۔ ‘‘ میں چھلانگ لگادیں۔
بہت جلدی ہارمان لی ہے تم نے تو یارا! تمہارے جیسے جوان تو پہاڑوں کا سینہ چیر کر راستہ بنا لیتے ’’ ‘‘ ہیں۔
دارا ‘ محض خواب دیکھنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ میں ‘ کچھ کرسکتا تو ضرور کرتا ’’ ‘‘ کو محض جسمانی طاقت سے زیر نہیں کرسکتا۔
تمہارے نزدیک جسمانی ڈیل ڈول اور جسامت ہی مقابلہ جیتنے کا پیمانہ ہے تو ذرا مجھے دیکھ کربتائو ’’ ‘‘ کہ میں دارا کامقابلہ کرسکتا ہوں؟
آپ خاصے تگڑے ہیں مگر دارا کو جسمانی مقابلے میں ’’ اس نے تولنے والی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ وہ کچھ زیادہ ہی دارا سے متاثر نظر آتاتھا۔ ‘‘ شکست نہیں دے سکتے۔
‘‘ اچھایہ بتائو تم چھ کے چھ دوست مل کر تو دارا کو شکست دے سکتے ہو؟ ’’
‘‘ یہ ممکن ہے۔ ‘ہاں’’ وہ چند لمحے سوچ کر بولا۔
مجھے یقین ہے کہ تم سب مل کر ‘ تم سب لوگ مل کر مجھ سے لڑو ‘آئو’’ میں اچھل کر پتھر سے نیچے اترا۔ ‘‘ بھی مجھے گرا نہیں سکتے۔
میراانداز دیکھ کر کسرت میں مشغول لڑکے بھی ہماری طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ میری تمام تر کوشش کے باوجود وہ لڑکے کسی بھی صورت مجھ سے لڑنے پرآمادہ نہیں ہوئے۔
کی ہے اس لیے سردار یا پھر لال شاہ ‘‘معزز مہمان’’ ثابت کاکہنا تھا کہ چونکہ قبیلے میں میری حیثیت میری خواہش کے باوجود مجھ سے نہیں لڑسکتے۔ … (شامل خان) کی اجازت کے بغیر
تھک ہار کر میں نے دوبارہ اپنی پتھریلی نشست سنبھال لی۔ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود میں ثابت جذبہ یا پھر آگ پیدا نہیں ک رسکا جو اسے دارا کوشکست دے کر گل دانہ کے حصول پر ‘ میں وہ امنگ اکساتی۔
کچھ دیر بعد میں واپس خیمے میں لوٹ آیا۔ رات کومیں پھر شامل خان کے ساتھ پہاڑی پر موجود تھا۔ آج ہمارے ساتھ شامل کے دستے کاایک اور نوجوان بھی تھا۔ یہ رضاکارانہ طور پر ہمارے ساتھ شامل ہواتھا۔
پہلے کے مقابلے میں آج ہم زیادہ چوکناتھے۔ آسمان بادلوں سے بالکل صاف ہوچکاتھااور کروڑہا ستارے اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہے تھے۔ سرد ہوا کے سبب ہم نے چہرے بھی اونی پگڑیوں میں لپیٹ لیے تھے۔
شامل خان کچھ سست ساتھا۔ وہ حرارت محسوس کررہاتھا۔ میںنے اسے ساتھ آنے سے منع بھی کیاتھا مگر وہ سخت جان قبائلی اس معمولی حرارت کو کہاں خاطر میں لانے والا تھا۔
ہم اپنی پہلے والی پناہ گاہ میں تھے۔ ہمارے ساتھ آنے والا رضا کار محض چند فٹ کے فاصلے پر ایک پتھر پربیٹھا گردونواح کا جائزہ لے رہاتھا۔ گاہے بگاہے وہ ہماری طرف بھی دیکھ لیتاتھا۔ ستاروں کی مدھم روشنی میں اس کی آنکھوں میں بدارواح کاخوف کروٹیں لیتا نظر آجاتاتھا۔ شامل خان نے میری ران پر ہاتھ مارتے ‘‘ لالے کی جان! تمہارے چرچے تو پورے قبیلے میں ہو رہے ہیں۔ ’’ہوئے کہا۔
میں نے انجان بن کر پوچھا۔ ‘‘؟… کیوں ’’
تم نے قبیلے کے چھ کڑیل لڑکوں کومقابلے کے لیے للکارا ہے اور ساتھ یہ یقین کہ وہ سب مل کر بھی ’’ ‘‘ زیادہ تر لوگ تمہیں بڑبولا سمجھ رہے ہیں۔ ‘ تمہیں گرا نہیں سکتے
صبح ہی وہ لوگ یہ دوستانہ مقابلہ کروا کردیکھ لیں۔ وہ تو لڑکوں کو تمہاری اجازت درکار تھی ورنہ دودھ ’’ ‘‘ کا دودھ اور پانی کاپانی ہوچکاہوتا۔
بے شک تم کمانڈو ٹائپ کی چیز ہو مگر چھ کڑیل ’’ شامل خان نے تولنے والی نظروں سے مجھے دیکھا۔ تین کا بولو تو مان بھی سکتے ‘ جوان اتنے گئے گزرے بھی نہیں کہ مل کر بھی تمہیں نہ گرا سکیں۔دو ‘‘ ہیں۔
‘‘ صبح اجازت دے کر دیکھ لو! ’’
تم اتنے ہی پر یقین ہو تو صبح دیکھ ‘ ٹھیک ہے ’’ وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا پھرگہرا سانس لے کربولا۔ میں نے کندھے اچکادیئے۔ ‘‘ لیتے ہیں۔
تمہارا چھ جوانوں سے بیک وقت لڑنے کا دعو ’’ چند لحظے بعد شامل خان نے کہا۔ ی اور ثابت کو لڑنے کی ‘‘ تربیت دینے کی پیش کش دارا تک پہنچ گئی ہے۔ وہ بڑی خنس کھائے بیٹھا ہے تم پر۔
اچھی بات ہے خون جلائے گا تو ممکن ہے اس کی کچھ چربی ہی کم ’’ میں دھیمے سے مسکرایا۔ شامل خان ہنس پڑا۔‘‘ہوجائے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ثابت کی طرف سے میں چیلنج قبول کرلوں دارا کامقابلہ کروں؟ اس ‘لالے’’ میںنے کہا۔ ‘‘دو ہاتھ کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ ‘سے دو
بعض صورتوں میں یہ ممکن تو ہے مگر اس کے لیے ثابت کا خونی رشتے ’’ شامل خان نے نفی میں سرہلایا۔ رات خیریت سے گزری مگر ‘‘تمہارا تعلق باہر سے ہے۔ ‘ دار ہونا ضروری ہے اور تمہارے لیے تو یہ ناممکن ہے آخری پہر بادلوں کے پرے دوبارہ سے جمع ہونے لگے اور سورج نکلنے سے پہلے ہی موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔
بارش کے سبب چھ لڑکوں سے مقابلے کا پروگرام بھی دھرا رہ گیا اور شامل خان کوبھی اچھے خاصے بخار نے آگھیراتھا۔ میرا سارا دن خیمے میں ہی گزرا۔
شام سے کچھ پہلے بارش کا زور ٹوٹا۔ رات کوپہاڑی پر پہرے کے وقت شامل خان نے پرتولے مگر میں نے اس کی ایک نہیں چلنے دی اور اسے دوائی دے کر زبردستی سونے پرمجبور کردیا۔ پہاڑی پر آج میرے ساتھ کل والانوجوان اور ثابت بھی تھا۔ آسمان ہنوز بادلوں سے ڈھکا ہواتھااور ہر طرف گہری تاریکی کا راج تھا۔ گاہے بگاہے دور بجلی چمکتی تھی اور پل بھر کو ہرچیز کو روشن کرجاتی تھی۔ میں جانتاتھا ایسی تاریک راتیں منفی سرگرمیوں کے لیے زبردست معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے آج ضرورت سے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت تھی۔
میں نے ثابت اور دوسرے نوجوان کو ساتھ رکھااور مختلف سمتوں میں مسلسل نگرانی رکھی۔ ٹارچ کے ذریعے ملنے والے دوسری پہرے دار پا رٹیوں کے سگنل بھی سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رہے۔
میں نے محسوس کیاتھا کہ کل والے نوجوان کا اعتماد بڑھا تھا۔ کل کے مقابلے میں وہ خوفزدہ بھی نظر نہیں آرہاتھا۔
گل دانہ کی ‘ ثابت آہستہ آہستہ مجھ پر کھلنے لگاتھا۔ چھوٹی چھوٹی چور ملاقاتیں لمس کالمحاتی جادو بہت سی خوشگواریادیں تھیں اس کے پاس۔ اس کی باتوں سے پیار کی اس شدت کا … کھنکتی ہنسی جو اس کے اور گل دانہ کے درمیان تھی۔ ‘ مجھے بخوبی اندازہ ہوگیا تھا
‘ وہ ساری رات ہم نے آنکھوں میں کاٹی۔ کسی بھی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیاتھا۔ دو تین دفعہ ہلکی بوندا باندی ضرور ہوئی تھی۔
سورج طلوع ہوچکاتھا۔ بادلوں کی وجہ سے اس کی پوری روشنی زمین تک پہنچنے سے قاصر تھی مگر ملگجا سا اجالا ضرور پھیلنا شروع ہوگیاتھا۔ ہم لوگوں نے واپسی کا قصد کیا۔
ابھی ہم ڈھلوان پر ہی تھے کہ ایک چٹان کے پیچھے سے پانچ افراد اچانک ہی نکل کرہم پرپل پڑے۔ دھکا لگنے کے سبب میں گرتے گرتے بچا۔میں سنبھلا تو چار افراد میرے سامنے کھڑے تھے۔ بظاہر وہ خالی ہاتھ پانچویں نے اپنی رائفل سے ثابت اور دوسرے نوجوان کو کور کررکھا تھا۔ ان دونوں کے چہرے دھواں ‘تھے ہوگئے تھے۔
میرے وجود میں سنسنی کی بلند لہر اٹھی۔ واضح طور پر وہ چاروں مجھ سے دست بدست مقابلہ کرنا وہ ‘ چاہ رہے تھے۔ ان کے چہرے بے شک اونی نقابوں کے پیچھے پوشیدہ تھے مگر میں بخوبی جانتاتھا چاروں میرے چھ نوجوانوں سے بیک وقت پنجہ آزمائی کے دعوے کے سبب سامنے آئے تھے۔ میرا ہمزاد کمالا جٹ انگڑائی لے کربیدار ہوگیا۔ میرے پاس پسٹل کے علاوہ اپنا جاںنثار خنجر بھی تھا مگر میں دعوت مبارزت دینے والوں کو جواب انہی کے سکوں میں دینا چاہتاتھا۔ ایک قدم بڑھا کر میں ان چاروں کے مقابل آگیا۔ ان میں قدرے طویل قامت شخص بڑی مشاقی سے مجھ پر جھپٹا۔ اس کے طوفانی گھونسوں سے خود کو بچاتے ہوئے میں نے اس کے گھٹنے پرٹھوکر ماری۔ وہ بلبلاتا ہوا دہرا ہوا۔ اس کے سر پر مارنے کے لیے میں نے گھٹنے کو خم دیا مگر وہ گھٹنا میں نے دوہرے بدن کے اس پستہ قامت حملہ آور کے سینے پر مارا جو بگولے کی مانند مجھ سے آٹکرایاتھا۔
تیزی سے توازن درست کرکے میں نے باقی دو کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ اگلے چند منٹ ان چاروں اور میرے درمیان شدید کشمکش ہوئی۔ میرے منہ میں خون کا ذائقہ گھل گیا تھااور سینے پر ٹکر لگنے کے سبب ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ مدمقابل میں سے ایک ناک آئوٹ ہوچکاتھا۔ اس کے چہرے پر میرے سر کی زور دار سے لگی تھی۔ وہ الٹ کر گراتھااور دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے تکلیف زدہ آوازیں نکال ‘‘ دھائیں ’’ٹکر رہاتھا۔ انگلیوں کے رخنوں سے بہتا خون اوراس کی تکلیف کی شدت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ سینے پر ٹھوکر کھانے والے میں بھی پہلا سا دم خم نہیں تھا۔ میں اس میدان کا پرانا کھلاڑی تھا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ لڑائی سے جی چرا رہاتھا۔
اسے ‘ باقی دونوں پوری شدت سے مجھ سے بھیڑے ہوئے تھے۔ جس نے میرے سینے پر پہلے ٹکر ماری تھی ٹکر مارنے میں خصوصی مہارت تھی۔ اس کی ایک اور ٹکر میری ٹھوڑی پرلگ چکی تھی جہاں سے خون بہہ نکلا تھا۔ اب بھی وہ اچھل اچھل کرمیرے چہرے کونشانہ بنانے کی کوشش میں تھا۔ چوتھے کی ایک
گھومتی ہوئی ٹانگ سے بچنے کے لیے میں جھکا تو ٹکر اسپیشلسٹ نے ارنے بھینسے کی مانند دوڑ کر لے کر اچھلا۔ ‘‘تھرو’’ میرے پیٹ میں ٹکر ماری۔ میں اچھل کر ایک پتھر سے ٹکرایا اور ٹکراتے پل ہی پتھر سے میری جڑی ہوئی دونوں ٹانگیں پوری قوت سے طویل قامت حملہ آور کے سینے پر لگیں اور میںنے لڑھکیاں کھاتے ہوئے اسے ڈھلان سے گرتے دیکھا۔ اسی پل سپورٹس مین اسپرٹ جاتی رہی اور باقی دونوں حملہ آوروں نے اپنے لباسوں میں سے تیز دھار آلے نکال لیے۔
ایک کے سینے پر کیے وار سے میںنے بمشکل خود کو بچایا تو دوسرے کا خنجر پیٹ پرچمکا۔ میں نے بجلی کی مانند تڑپ کر پہلو بدلا مگر خنجر مجھے چھوگیا تھا۔ خنجر کی مخصوص تکلیف سے میں بخوبی آگاہ … تھا اورمتعدد دفعہ یہ تکلیف جھیل چکاتھا۔ شدید جلن اور درد
اس کے خنجر والے ہاتھ پر میں نے دوسرے وار سے قبل ہاتھ ڈالااور خود پرجھپٹتے دوسرے حملہ آور نے جس کا خنجر والا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا لمحاتی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور میری ٹانگوں کے درمیان پائوں مارا۔ بالکل آخری لمحے پر میںنے اس کاارادہ بھانپ کر خود کوبچانے کی کوشش کی مگر اچٹتی ہوئی ضرب لگ ہی گئی تھی۔ مجھے لگا جیسے میرا سانس رک گیا ہے اور جسم کی ساری طاقت کسی نے نچوڑ لی تھی۔
حملہ آور کو خنجر چھڑانے میں لحظہ بھی نہیں لگا۔ برق کی مانند تڑپ کر خنجر میرے سینے کی طرف آیا۔ میں نے قوت ارادی کو آزمایا اور جسم وجاں کی تمام تر توانائی صرف کرتے ہوئے پشت کے بل گرا۔ خنجر ً میری گردن کو تقری با چھوتا ہوا گزرا۔ میری ٹانگوں سے الجھ کرحملہ آور مجھ پرگرا۔ میںنے اس کے خنجر والے ہاتھ کی کلائی پر گرفت کی اور اس کے اوپر گر گیا۔
سینے میں مقید سانس آزاد ہوئی تو توانائی بھی قدرے لوٹتی محسوس ہوئی۔ حملہ آور کی انگارہ آنکھوں نے میرے وجود میں اس کے لیے شدید نفرت کو ہوا دی۔ اس نے میرے چہرے پرٹکر مارنے کی کوشش کی ٹکرمیری گردن پرلگی۔ وہ خنجر والے ہاتھ کوچھڑانے کے لیے زور لگا رہاتھا مگر اب وہ … تو میں نے چہرہ اٹھایا اس سے دو گنا بھی زور لگاتا تو ہاتھ کو آزاد نہیں کرواسکتاتھا۔
اندھادھند زور لگانے کے دوران اس کا چہرہ میرے مقابل آگیاتھا۔ نقاب اتر چکاتھا مگر چہرہ میرے لیے جس ‘ تھامگر وہ نہیں جانتاتھا کہ اس کے مد مقابل کمالا جٹ ہے ‘‘ ٹکر اسپیشلسٹ ’’ اجنبی تھا۔ بے شک وہ بھی کم مشہور نہیں تھی۔ اس کاایک ساتھی پہلے ہی اس ٹکر کانشانہ بن چکاتھا۔ دھائیں کی ‘‘ٹکر’’ کی زور دار آواز سے میرے سر کا کونااس کی انگارہ آنکھوں کے درمیان ناک پرلگااور فضا اس کی کرب میں ڈوبی آواز سے تھرااٹھی۔ دوسری ٹکر نے اس کے چہرے کابھرتابنادیا۔ یہی وقت تھا جب فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی۔ میرے اردگرد چنگاریاں سی چھوٹ گئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ثابت اور دوسرا
رائفل بردار حملہ آور سے بھڑے ہوئے تھے۔ ثابت کے ہاتھ رائفل کی نال پر جمے تھے اور وہ رائفل کا ‘نوجوان رخ میری جانب سے موڑنے کی کوشش کررہاتھابعد میں معلوم ہوا کہ رائفل بردار نے مجھے نشانہ بنانے کے لیے رائفل کا رخ موڑا تھا تو اس لمحاتی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ثابت نے دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے رائفل پرہاتھ ڈال دیاتھا۔ جس کے سبب نشانہ خطا ہوااور گولیاں میرے اردگرد زمین پر لگی تھیں۔
رائفل کی نال کاخطرناک رخ دیکھتے ہوئے میں ہ ی اپنے نیچے دبے حملہ آور کوچھوڑ دیا۔ پتھرسے ً نے فورا اس کا سر بھی پتھر سے ٹکرایاتھا جس کے سبب وہ بن پئے ہی ڈول ً ٹکرانے والاحملہ آور اٹھ رہاتھا۔ غالبا رہاتھا۔ دوسری طرف ثابت رائفل کا رخ آسمان کی طرف کرنے میں کامیاب ہوچکاتھا۔ ایک دفعہ پھر حملہ آور کی انگلی ٹریگر پر دب گئی اور کئی گولیاں آسمان کی طرف پرواز کرگئیں۔
فائرنگ کی آوازوں نے یقینا بستی والوں کو خبردار کردیاہوگا۔ حملہ آور راہ فرار اختیار کررہے تھے۔ رائفل بردار نے اچانک ہی رائفل چھوڑ کر کندھے کی ضرب ثابت کے سینے پر ماری۔ ثابت رائفل سمیت دوسرے نوجوان سے جاٹکرایا۔ دونوں زمین بوس ہوئے تو حملہ آور نے زقند بھری اور بھاگ کھڑا ہوا۔ پتھر سے ٹکرانے ایک پتھر پر دونوں پائوں جما کر اچھلااور اس ‘ والا بھی بھاگ رہاتھا۔ میںنے دو طویل چھلانگیں لگائیں اس میں وہ کامیاب ‘ پرجاگرا ۔مغلظات بکتے ہوئے اس نے مجھے گھٹنوں کے زور پراچھالنے کی کوشش کی بھی ہوامگر اس کی چوڑی کلائی میرے ہاتھ میں آگئی۔ اس نے زور مار کر کلائی چھڑانے کی کوشش کی مگر یہ اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ زمین سے اٹھتے ہوئے میں نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ تصادم سے ایک لحظہ پہلے میں نے اس کی کلائی چھوڑ دی اور کندھے پربازو کی زور دار ضرب لگائی۔ یہ طاقت سے زیادہ ٹائمنگ کا کھیل تھا۔ جس کانتیجہ خاطرخواہ نکلا۔ وہ الٹ کر پشت کے بل گرا۔ اسی وقت بہت سے دوڑتے قدموں کی چاپیں سنائی دیں۔ باقی حملہ آور فرار ہوچکے تھے مگر میرے قدموں میں کراہتے حملہ آور کے پاس ایسا کوئی موقع میسر نہیں تھا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر پر لگنے والی میری کہنی کی ضرب نے اسے دوبارہ لمبا لٹادیا۔ میںنے اپنے زخم کاجائزہ لیا۔ خنجر نے محض کھال پر چرکالگایاتھا۔
…٭٭٭…

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: