Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 12

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 12

منظر سردار کے خیمے کے باہر کاتھا۔ بارش رک چکی تھی۔ بہت بڑے الائو کے گرد سردار اورقبیلے کے بڑے ً بیٹھے ہوئے تھے۔ باقی قبیلے کے بھی تقری با سبھی مرد وہاں جمع تھے۔ مجھ پرحملہ کرنے والے باقی چار حملہ آور بھی پکڑے جاچکے تھے۔ ان میں سے دو کے چہروں پرمیلی سی پٹیاں بندھی تھیں۔ تیسرے میں کھڑے ہونے کی سکت نہیںتھی وہ بیٹھا ہوا تھا اور کرب کی کیفیت اس کے چہرے سے نمایاں تھی۔ اس کی پسلیوں کو میری ضرب سے خاصا نقصان پہنچا تھا۔ چوتھے کا رنگ لیموں کی طرح زرد ہو رہا تھا۔ اور ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے قے بھی کی تھی۔ کہنی کی آخری ضرب میں نے اس کے سرپر لگا کر ناک
آئوٹ کیا تھا۔ سلامت تھا تو صرف وہی حملہ آور جس نے رائفل سے ثابت وغیرہ کو کور کیاتھا اورپھر رائفل چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہواتھا۔
ان پانچوں کے ہاتھ پشت پرمونج کی کھردری رسی سے بندھے ہوئے تھے اور نگاہوں میں میرے لیے کینہ اور شدید نفرت صاف نظر آرہی تھی۔
دارا بھی وہیں موجود تھا۔ اس کی جلتی ہوئی نظریں بار بار مجھ پر آٹھہرتی تھیں۔
پانچوں حملہ آوروں نے ڈھٹائی سے اپنا جرم قبول کرلیاتھا۔ ان پانچوں کا تعلق دارا سے ہی تھا۔ ان میں سے ایک اس کادوست باقی نوکر تھے۔ ان کے بقول مجھ پرحملہ ان کاذاتی فعل تھا۔ دارا سے اس کاکوئی واسطہ نہیں تھا۔ وجہ عناد انہوں نے یہ بتائی کہ میں نے ان کے دوست وآقا کے حریف کو لڑائی بھڑائی کی تربیت دینے کی پیش کش کے ساتھ بیک وقت چھ جوانوں سے لڑنے کادعو ‘‘ غیرت ’’ ی کیاتھا جسے ان کی برداشت نہیں کرسکی تھی۔
پھر تم نے دیکھ لیا۔ مہمان نے اکیلے ہی تم ’’ اس موقع پر بخار میں پھنکتا شامل خان تڑپ کر بولا تھا۔ رہ گئی ہو تو ایک دو اور حمایتی ساتھ ملا کر دوبارہ ‘‘حسرت’’ چاروں کے نقشے بگاڑ دیئے ہیں۔ ابھی کوئی یہ کہتے ہوئے شامل خان نے دارا کی طرف دیکھاتھااور دارا کی آنکھوں میں دہکتے الائوفروزاں تر ‘‘لڑلو! ہوگئے تھے اور چہرے پرزلزلے کی سی کیفیت نمودار ہوئی تھی ۔ واضح طور پر وہ شامل خان کااشارہ وہ جیسے زہر کے گھونٹ بھر کررہ گیا۔ ‘ سمجھ گیا تھا
وہاں موجود سبھی لوگوں کوبخوبی اندازہ تھا کہ مجھ پرحملہ دارا کی آشیرواد سے ہواتھا۔ وہ نوکروں کے معاملے میں بے حد سخت گیر مشہور تھا اور یہ ممکن نہیں تھا کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی نوکر قبیلے کے معزز مہمان پر حملہ کردے۔ اس حوالے سے قبیلے کے قوانین بھی بے حد سخت تھے۔ سردار کچھ دیر بعد سردار نے ‘ خوشحال اور بڑے سرجوڑے بیٹھے تھے۔ حملہ آوروں کے لیے سزا کاتعین کیاجارہاتھا کھڑے ہو کر سزا کااعلان کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔
قبیلے کے مہمان پرحملہ قتل اور زنا بالجبر سے بھی بڑا جرم ہے۔ حملہ آوروں ‘ جیسا کہ سارا قبیلہ جانتاتھا ’’ نے اپنا جرم قبول بھی کرلیا ہے۔ دارا خان کے ان لوگوں کے ساتھ ملوث ہونے کا کوئی ثبوت بھی نہیں ملااور خود حملہ آوروں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ دارا خان کی حمایت اور تائید پرانہوں نے یہ حملہ نہیںکیا ہے۔اس لیے دا را خان کو اس معاملے سے علیحدہ تصور کیاجاتا ہے۔ یہ ان پانچوں کا ذاتی فعل ہے اوراس سردار کی آواز میں ہولناکی درآئی تھی اور حملہ آوروں کے چہرے راکھ ‘‘ کی سزا بھی انہیں ملے گی۔ ہوگئے تھے۔
ان پانچوں نے جو جرم کیا ہے اس کی سزا ناف میں گولی یا پھر چودہ دن کی بھوک ’’ سردار نے مزید کہا۔ حملہ آوروں میں سے ‘‘ پیاس اور روزانہ سو درے ہیں۔ مجرم ان میں سے جو چاہیں سزا قبول کرسکتے ہیں۔ کی قبائلی سزا سے بخوبی واقف تھا۔ مجرم نصف گھنٹے ‘‘ ناف پر گولی ’’ ایک گھٹنوں کے بل گر گیا۔ میں سے بھی زیادہ وقت میں تڑپ تڑپ کر اور اپنے خون میں لت پت ہو کرمرتا ہے۔ اسی طرح چودہ دن کی بھوک وپیاس اور روزانہ سو درے اور بھی بھیانک سزا تھی۔ صدیوں کی قبائلی تاریخ میں ایسے لوگ انگلیوں پرگنے جاسکتے تھے جو یہ سزا جھیل کرموت کوشکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔
میں پل بھر میں ایک فیصلے پر پہنچااور اٹھ کرسردار خوشحال اور دیگر بڑوں کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ سب کی استفہامیہ نظریں مجھ پر جم گئی تھیں۔
‘‘ میں معزز سردار اور معزز بزرگوں سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ ’’
سردار نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اجازت دی۔ شامل خان کی کھوجتی ہوئی عقابی نظریں جیسے میراارادہ بھانپنا چاہتی تھیں۔
میں معزز سردار اور پورے قبیلے کا احسان مند ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے ’’ میںنے بلند آواز سے کہا۔ میرے دشمنوں سے بچایا بلکہ مہمان کا بلند درجہ بھی دیا۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ میری ‘ پناہ دی وجہ سے قبیلے کے پانچ گھرانے اپنے پیاروں سے محروم ہوجائیں۔ اس لیے میں خود پرحملہ کرنے والوں کو ‘‘ معاف کرتا ہوں اور معزز سردار سے بھی میری درخواست ہے کہ انہیں معاف کردیا جائے۔
چند لحظہ کے لیے پورے مجمع پر سکوت طاری ہوگیا۔ آواز تھی تو صرف فراٹے بھرتی ٹھنڈی یخ بستہ پھر مجمع کی جانب سے خوشی کے تاثر سے بھرپور ملاجلا سا شور … ہوااور الائو میں چٹختی لکڑیوں کی اور نعرہ تحسین بلند ہوا۔ سردار اور بڑوں کے چہرے پرتحسین اور نرم سی پھوار نظر آنے لگی۔ شامل خان کی آنکھیں بھی مسکرااٹھی تھیں اوران میں میرے لیے محبت کاسمندر ٹھاٹھیں مار رہاتھا۔ دارا کے چہرے پر شرمندگی اور جھینپ نظر آرہی تھی۔
سردار نے میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے پانچوں حملہ آوروں کو معاف کردیا۔ ان کے ہاتھ کھلے تو وہ آنکھوں… میرے قدموں میں آگرے۔ موت کوبالکل سامنے پاکر انہیں دوبارہ سے زندگی کی نوید ملی تھی میں نمی لیے وہ بے حد نرم ہوگئے تھے۔ بالکل ننھے بچوں کی مانند۔
تونے شامل خان کے ساتھ ساتھ آج پورے قبیلے کو بھی خرید لیا ہے لالے ’’ شامل خان آکرمجھ سے لپٹ گیا۔ اس کی آواز خوشی سے بھیگی ہوئی تھی۔ ‘‘ کی جان!
قبیلے کے بہت سے افراد نے مجھے ڈھانپ لیاتھا۔ میں نے ایک بوڑھی عورت کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی نمی تھی اور چہرہ خوشی سے چمک رہاتھا۔ قریب آکر اس نے دونوں ہاتھ میری طرف بڑھائے تومیں نے سر جھکادیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں میرا سر تھام کرپیشانی چومی اور اپنے گلے سے میلی سی چاندی کا زیور اتار کر میری کلائی سے باندھنے لگی۔ میں نے روکنے کی کوشش کی تو شامل یہ تم پرحملہ کرنے والوں میں سے ’’ خان نے مجھے اشارے سے منع کردیا اور سرگوشی کے انداز میں کہا۔ ایک کی ماں ہے۔ اسے اپنی خوشی پوری کرنے دو۔ تم نہیں جانتے اس خاندان پر تم نے کتنابڑا احسان کیا ‘‘ دو دن پہلے ہی باپ بنا ہے۔ ‘‘ نامراد بیٹا ’’اس کا ‘ہے
بڑے خوشگوار انداز میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔ … ایک رات جس کااختتام بڑے خونچکاں انداز میں ہونا تھا
اگلے دن میں ابھی خیمے میں ہی تھا۔ شامل کی طبیعت اب کچھ بہتر تھی۔ وہ میرے پاس ہی لیٹا ہوا تھا۔ جب ثابت مجھ سے ملنے کے لیے آگیا۔ شامل نے اسے خیمے میں ہی بلالیا۔
میں اور میرے دوست آپ سے ’’ رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد اس نے میرے گھٹنے کوچھوتے ہوئے کہا۔ ‘‘ دست بدست لڑائی کی تربیت لینا چاہتے ہیں۔ مجھے اپنی شاگردی میں قبول کرلیں۔
شامل خان کے چہرے پرمعنی خیز مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔ محض ایک دن پہلے یہی نوجوان میری پیش کش قبول کرنے کو تیار نہیں تھا بلکہ اس کے نزدیک دارا بہت بڑا اور ناقابل شکست لڑاکاتھا اور میں اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر ایک رات میں ہی سب کچھ بدل گیاتھا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیاتھا کہ میں چار ہٹے کٹے افراد کو بیک وقت نہ صرف ناک سے چنے چبوادیئے تھے بلکہ ان کے خنجروں کی ضربات سے بھی خودکو بچایا تھا۔ ان کے خیالات میں تبدیلی واقع ہوچکی تھی اور اس تبدیلی کی بہت مضبوط وجہ تھی۔
مجھے پہلے بھی تم سے ہمدردی تھی اور اب تومیں تمہارا احسان مند ’’ میں نے اس کے کندھے پرہاتھ رکھا۔ مجھ پرنشانہ لگانے والے کی رائفل پرہاتھ ڈالا وہ ‘ بھی ہوچکاہوں۔ جس طرح تم نے دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے ‘‘ لائق تحسین ہے۔
آپ کو کچھ ہوجاتا تو میں سردار ‘ آپ مہمان ہیں ہمارے ’’اس نے سر جھکا کر کہا۔ ‘‘ وہ تو میرا فرض تھا۔ ’’ ‘‘ اور لال شاہ کو کیا منہ دکھاتا۔
میں ماہر تو ‘ تمہیں دست بدست ل ڑائی میں ’’ ساتھ بیٹھے شامل خان نے اس کاکندھا تھپکا۔ میںنے کہا۔ سب سے پہلے یہ بات ذہن سے نکال دو کہ ‘ کردوں گامگردارا کوہرانے کاجذبہ تمہیں خود ہی بیدار کرنا ہوگا اس کے چربیلے جسم میں طاقت تو ‘تم شکست دے سکتے ہو اسے ‘ تم دارا کوشکست نہیں دے سکتے ‘‘ بے شک ہے مگر وہ پھرتی نہیں جو تمہاری جوانی کامقابلہ کرسکے۔
میں کافی دیر تک اس کاذہن بناتارہا۔ اس کے بعد جھیل کنارے اسے اوراس کے دوستوں کومیں نے لڑائی بھڑائی کے چند آزمودہ گر بھی سکھائے۔ جہاں میں نے ثابت میں یہ خامی دیکھی تھی کہ وہ بڑھ کرحملہ نہیں کرتاوہاں یہ خوبی بھی تھی کہ اس کادفاع خاصا مضبوط تھا۔ اس کے علاوہ اس کااسٹیمنا بھی خاصا متاثر کن تھا۔
رات کوہم پھر پہاڑی پر تھے۔ شامل کی طبیعت خاصی سنبھل گئی تھی اور وہ ضد کرکے ہمارے ساتھ ہولیاتھا۔ دیوانہ ہاشم آج پھر اپنی زرمینہ کو پکارتے ہوئے یک تارا بجا رہاتھا۔ ایک چٹان کے عقب میں چھپ کر ہم یک تارے کی مدھر تانیں سننے لگے۔
میں یک تارے کی مدھر مگر درد میں ڈوبی تانوں میںڈوب ابھر رہاتھا کہ میں نے ایک بندرجیسے سیاہ ہیولے کو فضا میں تیرتے اور پھر دیوانے ہاشم پر جھپٹتے دیکھا۔
…٭٭٭…
ڈاکٹروں کے نزدیک شاید کسی مریض کا مرجانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انہیں روز جانے کتنے لوگوں کو آئی ایم سوری کہنا ہوتا ہے۔ ایک ہی طرح سے ایک ہی انداز سے اور ایک ہی جگہ پر۔ وہ آئی ایم سوری کہتے ہیں اور پھر لاش کو چھوڑ کر اپنے بچوں کو کہیں گھمانے لے جاتے ہیں۔ شاید دنیا بھر میں ڈاکٹر مرنے والے کے اپنوں کو یہی ایک جملہ سناتے ہیں۔ نہ تسلی کا کوئی لفظ، نہ امید کی کوئی کرن، شاید انہیں ان مرنے والوں پر افسوس بھی نہیں ہوتا لیکن مرنے کی اطلاع دینے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کہنا ہوتا ہے نا۔ شاید اسی لیے مجھے افسوس ہے کہہ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آگے بڑھ چکا تھا اور میرے پائوں تلے زمین نکلتی جا رہی تھی۔ میرا محسن میرا دوست میرا بھائی گلریز خان مر چکا تھا۔
مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ گلریز خان کا چہرہ دیکھ سکوں۔ کبھی کبھی ہم حقیقت کا علم ہونے کے باوجود اس سے کنی کتراتے ہیں۔ یہی میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر گلریز خان کی موت کا اعلان کرچکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ گلریز خان کسی حیثیت کا مالک ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ پورا اسپتال گلریز خان کے وفاداروں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ آپریشن تھیٹر کے باہر اسلحہ برداروں کی موجودگی اسے بتانے کو کافی تھی کہ گلریز خان کی زندگی کتنی اہم ہے۔ اس نے خون کی ایک آواز لگائی تھی تو بلڈ بینک میں گلریز خان کو نام پر خون دینے والوں کی لائنیں لگ گئی تھیں۔
ڈاکٹر یہ سب جانتا تھا وہ سرجن تھا اس نے جانے کتنے لوگوں کو بچایا تھا اور جانے کتنے لوگ اس کے سامنے دم توڑ چکے تھے۔ وہ آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے واضح طور پر چمک رہے تھے۔ اس نے گلریز خان کو بچانے کی پوری کوشش کی ہوگی۔ اس نے آ پریشن تھیٹر میں یہ بھی سوچا ہوگا کہ اگر آج اس زخمی کو کچھ ہوگیا تو باہر کھڑے اسلحہ بردار آپریشن کرنے والے علمہ کو
بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں سرجن اور اس کے ساتھیوں کی موت یقینی تھی۔ گلریز خان کے ساتھ سرجن کی سانسوں کی ڈوری بھی بندھی تھی۔ اس کے باوجود گلریز خان دم توڑ چکا تھا۔
گلریز خان کی موت اس بات کا واضح پیغام تھا کہ زندگی اور موت انسانی ہاتھ میں نہیں ہے۔ انسان بس ایک مہرے کی طرح کام کرتا ہے کب کیا ہوجائے۔ کب کونسی چال چلی جائے اس کا علم انسان کو نہیں ہوتا۔ یہ جس کے کام ہیں وہی کرتا ہے بڑے بڑے سلطان دنیا فتح کرنے نکلے اور اسہال کی وجہ سے مر گئے۔ گل ریز خان بھی ڈاکٹروں کی تمام تر کوشش، خون دینے والوں کی لمبی لائن، درجنوں محافظوں اور ہماری دعائوں کے باوجود مر گیا۔
انسان بھلا کب کسی کو بچا پاتے ہیں؟ یہ زندگی اور موت کے کھیل تو اسی کے ہاتھ میں ہیں جو ان پر قار ہے انسان تو محض ایک مہرے کے طور پر کام کرتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ اسی کی وجہ سے کوء یمرا ہے یا اس نے کسی کو موت کے منہ میں پہنچا دیا ہے۔ ایسے لمحوں میں وہ یہ تو سوچتا ہی نہیں کہ کل کوئی اور اسی طرح مہرہ بن کر اسے بھی موت کے منہ میں پہنچا دے گا تب اس قاتل کے ذہن میں بھی یہی بات ہوگی کہ وہ کسی کو بھی قتل کر کے زندگی کی قید سے آزد کرسکتا ہے۔ وہ بہت طاقتور ہے اور پھر کوئی نیا قاتل یہی سوچتے ہوئے اسے بھی اگلے جہاں پہنچا دے گا۔ خدا نے قاتل اور مقتول کو کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے تک محدود کر رکھا ہے۔ جو قتل کرتا ہے اسے اگلے پھیرے میں مقتول بھی بننا پڑتا ہے۔ جو طاقت کے بل پر اکڑتا ہے اسے یہی موقع کسی اور کو بی دینا پڑتا ہے۔
آج نامعلوم دشمنوں نے گل ریز خان اور اس کے وفادروں کو قتل کردیا تھا۔ گل ریز خان کی موت کی خبر ان تک بھی پہنچی تھی۔ انہوں نے آج جشن منانا تھا۔ آج انہوں نے یہی سوچا تھا کہ وہ بہت طاقتور ہیں انہوں نے گلریز خان اور اس کے وفاداروں کو قتل کردیا ہے۔ وہ جسے چاہیں قتل کرسکتے ہیں۔ آج کا دن گلریز خان کے قاتلوں کا دن تھا آج انہیں بڑھکیں لگانے کی کھلی چھوٹ تھی۔ یہ ان کا جشن تھا انہوں نے گلریز خان جیسے جری پٹھان کو مار گرایا تھا۔
اگلی باری گل ریز خان کے قاتلوں کی تھی۔ آج وہ قاتل تھے لیکن اب انہیں مقتول بننا تھا۔ انہیں بھی جلد ہی اس جہاں جانا تھا جہان گل ریز خان گیا تھا اب کمالے جٹ کو قاتل بننا تھا۔ جی ہاں، مجھے اپنے دوست گل ریز خان کا بدلہ لینا تھا۔ یہ فیصلہ میں نے اسی وقت کرلیا تھا جب ڈاکٹر سر جھکائے آئی ایم سوری کہہ رہا تھا۔ جس لمحے ڈاکٹر کا سر جھکا تھا اسی لمحہ کمالے جٹ کا سر اٹھا تھا۔ گل ریز خان کے قتل کا بدلہ مجھ پر قرض تھا۔ یہ ایک پٹھان کا پنجابی پر قرض تھا جسے ہر صورت اتارنا ہی تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ گل ریز خان اور مجھ پر حملہ کرنے والے کون تھے لیکن مجھے یقین تھا کہ اب وہ پاتال میں بھی جا پہنچیں کمالا جٹ انہیں ڈھونڈ نکالے گا۔ میرے اندر بدلے کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔
گل ریز خان کی لاش آپریشن تھیٹر سیے منتقل کی جا رہی تھی۔ سالار کان میرے پاس آیا اور گل لگ کر رونے لگا۔ اسے شاید سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کسی ک یگلے لگ کر اپنا دل ہلکا کرے۔ گل ریز خان صرف اس کا سردار یا مالک ہی نہیں تھی۔ آج سالار خان کا باپ مر گیا تھا۔ اس کی کیفیت ایسی ہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ مجھ سے گلے ملتے ہی جیسے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سالار خان کی دہشت تھی لوگ جانتے تھے کہ اب تک وہ جانے کتنے لوگوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس نے گل ریز خان کی حفاظت کرتے ہوئے جانے کتنے دشمنوں کو قتل کیا تھا اور جانے کتنی بار وہ موت کے منہ میں گیا ور پھر لوٹ آیا تھا۔ آج وہی سالار خان تمام تر رکھ رکھائو، رعب اور دبدبہ بھول کر میرے گلے لگا بچوں کی طر سسک رہا تھا۔ میں اس کی پیٹھ تھپکنے لگا میں چاہتا تھا کہ وہ کھل کر رولے اس نے اب سارے انتظامات دیکھنے تھے۔ اگر وہ راتا نہ تو پھر قیامت اٹھاتا۔ قیامت تو اب بھی اٹھنی تھی لیکن اس سے پہلے ہمیں گل ریز خان کی آخری رسومات ادا کرنی تھیں۔ سالار خان آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس نے الگ ہوتے ہوئے مضبوط لہجے کہا۔
‘‘ میں اپنے خان کا بدلہ لوں گا۔ ان قاتلوں کی نسلوں کو بھی ختم کردوں گا۔ ’’
میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا۔
سالار خان اس انتقام کو اپنے اندر پالتے رہو یہ آگ سرد نہ ہونے دینا ہم گلریز خان کا بدلہ لیں گے۔ میں ’’ ‘‘تمہارے ساتھ ہوں۔
سالار خان کی آنکھوں میں ممنونیت کا احساس ابھرا میں نے مزید کہا۔
اب سارے معاملات تمہی کو دیکھنے ہیں۔ حالات اپنے کنٹرول میں لو اور صورت حال کو سنبھالو ہم جلد ’’ ‘‘ ہی خان کی موت لکا بدلہ لینے نکلیں گے لیکن اس سے قبل کچھ اور معاملات بھی دیکھنے ہیں۔
سالار خان میرا اشارہ سمجھ گیا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اسپتال کی انتظامیہ کی طرف چلا گیا۔ اب اسے گلریز خان کی لاش وصول کرنے سے لے کر جنازے تک کے سبھی معاملات دیکھنے تھے۔ میرے سینے سے لگ کر رونے سے اس کا دل ہلکا ہوگیا تھا۔ اب اس نے انتقام تو لینا تھا لیکن اس سے پہلے جو فرائض ادا کرنے تھے ان کی جانب بھی متوجہ ہوگیا تھا گلریز خان کی موت کی خبر سن کر میری طرح وہ بھی بکھر گیا تھا لیکن اب اسے رستہ نظر آگیا تھا اس نے کیا کرتا تھا اور کب کونسا قدم اٹھانا تھا یہ سب واضح ہو رہا تھا۔
گلریز کی موت کی خبر نے مجھے بھی بکھیر دیا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے جسم کا کوء یاہم حصہ کٹ کر الگ ہوگیا تھا۔ سالار خان گلے لگا تو جیسے اس کے ساتھ ساتھ میں بھی سنبھل گیا۔ بنا کچھ کہے ہم ایک دوسرے کے گلے لگے اپنا اپنا بوجھ ہلکا کر گئے تھے۔ میں صرف سالار خان کو ہی نہیں کہہ رہا تھا کہ ہم
گلریز خان کا انتقام لیں گے بلکہ میں در اصل اپنے آپ کو بتا رہا تھا کہ مجھے ہر صورت یہ انتقام لینا ہے۔ یہ میرا خود سے وعدہ تھا۔ گلریز خان کے قاتل نامعلوم تھے۔ وہ آندھی کی طرح اچانک آئے اور سب کچھ اجاڑ کر طوفان کی طرح واپس چلے گئے۔ یہ درست تھا کہ اب اس طوفان کی طاقت کم تھی اس کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ ہم نے ان کا بھاری نقصان کیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ ایک گلریز خان کی موت ان کے سب بندوں کی ہلاکت پر بھاری تھی۔ ہمارا لیڈر مارا گیا تھا میرا محسن اور بھائی مجھ سے جدا ہوگیا تھا۔ میں قبائلی علاقوں میں اپنا انتقام لینے کے لیے گلریز خان کے سہارے ہی آیا تھا۔ یہاں میرا کوئی بھی نہ تھا لیکن گلریز خاندان، قبیلہ، عزت، سپورٹ، اسلحہ، لوگ کیا کچھ نہیں تھا میرے پاس، یہ ، خان نیے سب کچھ دیا بھائی سب گلریز کے دم سے تھا اور اب شاید کچھ بھی نہ رہا تھا۔ مجھ سے گلریز ہی نہیں سب کچھ چھن گیا تھا۔ میں ایک بار پھر تنہا ہوگیا تھا مجھے ہر صورت گلریز کا انتقام لینا تھا۔ اس کا انتقام اس کے قبیلے سے زیادہ مجھ پر فرض تھا کیونکہ وہ میرے لیے قتل ہوا تھا۔
گل ریز خان کی لاش گھر لے جانے کے بجائے ایمبولینس میں رکھی گئی تو میں بھی اس کے پاس بیٹھ گیا۔ ایمبولینس ایک جھٹکے سے چل پڑی۔ میں جانے کس کیفیت میں گلریز خان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ ذہن پر جیسے فلیش بیک چل پڑا۔
گل ریز خان اور میں نے لاہور کے ایک مشہور کالج میں ایک ساتھ فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تھا۔ مجھے میٹرک کے بعد آزادی کا احساس ہو رہا تھا جبکہ گلریز خان کو اپنے وطن کی یاد ستا رہی تھی۔ وہ اپنے قبیلے کو اپنا وطن ہی کہتا تھا اتفاق سے ہم دونوں اسپتال میں روم میٹ بن گئے۔ کالج کے اسپتال میں ایک کمرے میں دو طالب علم رہتے تھے ایک کمرہ میرے اور گلریز خان کے حصہ میں آیا۔
وہ قبائلی سردارکا بیٹا تھا عام طور پر قبائلی سردار بہت پڑھے لکھے نہیں ہوتے لیکن گل ریز خان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے۔ وہ لاہور اپنے والد کی اسی کواہش پر آیا تھا۔ اس کے والد نے اپنے ہی قوانین و نظریات اپنا رکھے تھے۔ گل ریز کو اپنے گھر کے پاس کسی کالج میں داخلہ بھی مل سکتا تھا لیکن اس کے والد کا خیال تھا کہ اسے سرداری کی پگ سر پر رکھنے سے پہلے اپنا مقام بنانا چاہیے اور سخت مشقت کا عادی ہوجانا چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے گلریز خان کو لاہور پڑھنے کے لیے بھیج دیا تھا تاکہ ایک تو اسے دوسرے صوبے کی رسم و رواج اور ترقی کا علم ہوسکے وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے لیکن اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھنے کے بھی خلاف تھے۔ گل ریز خان اور میں دو سال روم میٹ رہے۔ ہماری شرارتیں، دکھ، سکھ سبھی سانجھے تھے ہم نے ایک ساتھ فلمیں دیکھیں اور دو سال ایک کمرے میں گ زار دیے۔ ہمارے درمیان کوئی راز، راز نہ تھا۔ کالج میں ہماری دوستی مثالی تھی۔ گل ریز خان دو سال میرے ساتھ لاہور رہا لیکن اس کے باوجود اس پر لاہور کا رنگ نہ چڑھ سکا۔ اس کی قبائلی روایات، دوستی اور دشمنی کے اصول سبھی اس کے ہمراہ رہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے
دشمن قبائلی علاقوں میں ہیں تو میں نے گل ریز خان سے رابطہ کیا۔ اس نے اگلی بات سنے بنا مجھے آنے کا کہا اور پھر میرا بھرپور ساتھ دیا۔
گل ریز خان کی شادی بہت کم عمر میں ہوگئی تھی۔ اسے اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ ہاسٹل میں وہ اکثر چھٹیوں میں گھر جانے کا پروگرام بناتا تو اپنی شریک حیات کے لیے ڈھیروں شاپنگ کر کے جاتا تھا وہ بھی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر بن کر وہ اپنے علاقے میں ایک اسپتال بنائے گا جہاں قبیلے کے لوگوں کا بہترین علاج ہوگا۔ بد قسمتی سے میری طرح گل ریز خان بھی ڈاکٹر نہ بن سکا۔ اس کے ایف ایس سی میں بہت اچھے نمبر آئے تھے۔ لاہور کے بہترین میڈیکل کالج کے میرٹ پر وہ پورا اترتا تھا لیکن انہی دنوں اس کے والد ایک قبائلی جھڑپ کے دوران مخالفین کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ گل ریز خان خبر ملتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھر چلا گیا لیکن اس سے قبل ہی اس کے والد اس دنیا سے جا چکے تھے۔ وہ جاں بحق تو اسی وقت ہوگئے تھے جب ان کے سر پر برسٹ لگا تھا لیکن واپس آنے تک یہ خبر گل ریز سے چھپائی گئی تھی۔ اسے صرف اتنا بتیا گیا تھا کہ اس کے والد زخمی ہوگئے ہیں۔
گل ریز خان اپنے علاقے میں پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد قتل ہوچکے ہیں۔ اس نے جانے کس کیفیت میں اپنے باپ کا آخری دیدار کیا۔ جنازے کو کندھا دیا اور گھر آکر ڈھ گیا۔ گل ریز خان کے لیے شاید سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ اس کا کوئی بھائی یا چچا نہیں تھا۔ وہ تنہا اور لاوار ہوگیا تھا لیکن قبیلے کے بڑوں نے اس کے والد کے جنازے کے اگلے ہی دن سرداری کی پگ اس کے سر پر رکھ دی گلریز خان پھر لوٹ کر لاہور نہیں آیا۔ قبیلے کی سرداری پھولوں کی سیج نہ تھی۔ اسے اپنے والد کی ساکھ بھی بر قرار رکھنی تھی اور ان کے قاتلوں سے انتقام بھی لینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی جرگوں میں شرکت بھی ضروری تھی۔ وہ اپنے علاقہ کے معاملات سمجھتا سمجھتا ایک مکمل سردار بن چکا تھا۔ اس نے اپنے والد کی روایات کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ وہ مہمان نواز ہی نہیں بلکہ درد دل رکھنے والا بھی تھا۔ اس کے ارد گرد اس کے وفاداروں کی فوج اکٹھی ہونے لگی اور وہ طاقت اختیار کرتا چلا گیا۔ اس نے جلد ہی اپنے باپ کے قاتلوں کو دنیا کی قید سے آزاد کردیا تھا۔
گل ریز خان کا یہ روپ ایک مکمل قبائلی سردار کا روپ تھا۔ وہ اس گل ریز خان سے کافی مختلف ہوگیا تھا جو میرے ساتھ ہاسٹل میں رہتا تھا لیکن اس کے باوجود میرے لیے وہ میرا دوست اور راز دان ہی تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو عبرت کا نشان بنا دیتا تھا تو دوسری طرف ان کے بچوں اور خواتین کے اخراجات کی ذمہ داری بھی خود اٹھا لیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ لڑائی مردوں کے درمیان ہوتی ہے۔ عورتوں اور بچوں کی عزت سانجھی ہوتی ہے۔ ان کا ہمارے جھگڑوں سے بھلا کیا تعلق ہے۔ اس لیے وہ اپنے مخالفین کے بچوں اور بیویوں کو کافی عزت و احترام دیتا تھا۔ ایسی ہی متعدد عادات اسے نہ صرف دوسروں سے ممتاز رکھتی تھیں بلکہ عام طبقہ اسے اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگتا تھا اس کے لوگ اس پر جان قربان کرنے پر تلے
ہوئے تھے۔ اس کے باوجود یہ سچ تھا کہ جس گولی پر اس کا نام لکھا تھا اسے اس کا کوئی وفادار نہیں روک پایا۔ اس کے وفااروں نے جانیں تو قربان کردیں لیکن اس کے باوجود وہ گل ریز خان کو نہ بچا سکے۔ ایمبولینس ایک جھٹکے سے گل ریز خان کے گھر کے باہر رکی تو میں ماضی سے ھال میں آگیا۔
گل ریز خان کی لاش آنے سے پہلے ہی گھر کے باہر لوگ اکٹھے ہوچکے تھے۔ سالار خان نے ایمبولینس کا دروازہ کھولا تو میں گلریز خان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اسی حالت میںبیٹھا تھا۔ سالار خان کے کہنے پر اس کا ہاتھ چھوڑا اور گلریز خان کی لاش ایمبولینس سے اتار کر چار پائی پر ڈال دی گئی۔ میں گل ریز خان پر حملے کے بعد جیسے ہمت ہار بیٹھا تھا لیکن جانے کیا ہوا کہ جیسے ہی گلریز کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما تب سے میری کیفیت بدلنے لگی تھی۔
کمالا جٹ اپنی پوری توانائیاں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اب مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اگر میں ہمت ہار بیٹھا تو میرے دوست کا بدلہ کوئی نہیں لے پائے گا۔ میں نے سالار خان کو بلایا اور اس سے گل ریز خان کی آخری رسومات کے بارے میں پوچھنے لگا۔ سالار خان نے بھی شاید میری بدلتی کیفیت کا اندازہ لگا لیا۔ اس نے مجھے وہی حیثیت دی جو گل ریز خان کی تھی یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی لیکن فی الوقت میں نے اس بارے میں کوئی بات نہ کی۔ گلریز خان کا ایک ہی بیٹا تھا لیکن وہ اس قدر چھوتا تھا کہ باپ کے غم کے سوا اسے دیگر معاملات میں شریک نہیں کیا جاسکتا تھا۔
گل ریز خان کی تعزیت کے لیے آنے والوں کو میں ہی مل رہا تھا۔ سالار خان مجھے عمائدین کے بارے میں بتاتا جا رہا تھا اور ان کی حیثیت اور مرتبہ سے آگاہ کر رہا تھا۔ گل ریز خان کے گھر کی طرف سے میں ہی ان سے مل رہا تھا۔ اسی طرح سالار خان بھی ہر معاملے میں مجھ سے مشورہ کر رہا تھا۔ اگر کوئی اہم معاملہ بات ہوتی تو میں زنان خانے میں پیغام بجھوا دیتا لیکن مجھے احساس تھا کہ گلریز خان کی بیوہ ابھی اس حالت میں نہیں کہ کوئی فیصلہ کرسکے اس لیے میں نے زیادہ تر فیصلے خود ہی کرنا تھے۔ میں یہ ذمہ داری سچے دل سے نبھا رہا تھا۔ خون کا رشتہ نہ سہی لیکن گل ریز خان میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر تھا۔ جب گلریز خان کا جنازہ اٹھایا گیا تو میں نے سارے راستے چارپائی کا پایہ ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ گل ریز خان کے قتل کے بعد دس یونہی سوگ میں گزر گئے۔
دسویں دل قبیلے کے بڑے اکھٹے ہوئے۔
گل ریز خان کے حجرے میں سب کے لیے قہوے کا انتظام کیا گیا تھا۔ روایات کے مطابق اب گلریز خان کے جانشین کا اعلان ہونا تھا۔ اس کا بیٹا بہت چھوٹا تھا لیکن گل ریز کا نہ تو کوئی چچا زاد بھائی تھا اور نہ ہی کوئی سگا بھائی تھا۔ اگر جرگہ اس کے بیٹے کو قابل سمجھتا تو اسے جانشین مقرر کردیتا کہ اصل وارث تو بہرحال وہی تھا لیکن اس کی کم عمری کی وجہ سے اس کے اہل ہونے تک تمام معاملات کسی اور کو بھی سونپے جاسکتے تھے۔ بہرحال یہ قبیلے کے بڑوں نے اپنی روایات اور حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا تھا۔
میرا اس سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا کسی بھی خاموش تماشائی کا ہوسکتا تھا۔ البتہ میری کوشش تھی کہ انتظامات میں کسی قسم کی کمی نہ ہونے پائے۔ سالار خان سمیت دیگر وفادار جرگے کے انتظامات دیکھ رہے تھے میں انہیں ملازم نہیں کہتا وہ جانباز اور وفادار ہی تھے۔ انہی کے بھائی بندوں نے گل ریز خان کے لیے جانیں دی تھیں۔
عمائدین اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے تو میں گلریز خان کے بیٹے کو ساتھ لیے حجرے میں جا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ سالار خان مجھے سالار خان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک نظر آرہی تھی جسے میں کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ وہ غیر ارادی طور پر میری جانب دیکھ رہا تھا۔ مجھے صورتحال میں عجیب سا ڈرامائی احساس ہو رہا تھا۔ محفل میں ایک بے چینی سی پھیلی ہوئی تھی جسے میں کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ اس کے باوجود میں وہاں بیٹھ کر صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میرا رواں دواں دعا کر رہا تھا کہ جرگہ کسی اور کے بجائے گل ریز خان کے بیٹے کو ہی اس کی جگہ سونپ دے اگر کسی اور کا نام ہو تو وہ محض انتظامی معاملات سنبھالنے تک محدود ہو اور اس کے لیے اسے گل ریز خان کی بیوہ سے تحریری اجازت لینی پڑے۔ یہ گلریز خان کی بیوہ اور اس کے بیٹے کے مستقبل کے لیے بہت ضروری تھا۔ یہ بھی سچ تھا کہ یہ میرے دل کی خواہش تھی لیکن جرگہ میرے دل کا پابند نہیں تھا۔ میری حیثیت اس قدر کمزور تھی کہ کوئی بھی اٹھ کر اعتراض کرسکتا تھا کہ قبیلے کے اندرونی معاملات کے لیے بیٹھے جرگے میں غیر مقامی اور غیر قبائلی شخص کیوں بیٹھا ہے؟ اگر کوئی یہ اعتراض کردیتا تو مجھے جرگہ سے اٹھ کر جانا پڑتا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں یہاں محج خاموش تماشائی کا سا کردار ادا کروں البتہ اگر مجھے لگا کہ گل ریز خان کے بیٹے کے ساتھ نا انصافی ہونے لگی تو پھر میں دخل اندازی کرتا۔ اس وقت سے پہلے تک مجھے اپنا منہ بند کرھنا تھا تاکہ اپنے آپ کو اس جرگہ میں ً لازما موجود رہنے کا اہل ثابت کرسکوں۔
جرگہ کی کارروائی شروع ہوئی تو پہلے گل ریز خان کی بہادری اور دیانت کے قصیدے پڑھے گئے۔ بلا شبہ وہ ان اوصاف کا مالک بھی تھا کچھ بزرگوں نے اس کی شجاعت کی داستانیں بھی سنائین اس کسے محفل اپنی مخصوص ڈھب پر آگئی۔ جرگہ کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی تو حجرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ جرگہ کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ قتل سے کچھ عرصہ قبل ہی گل ریز خان نے اپنا وصیت نامہ تحریر کیا تھا یہ دستاویز اس کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی تھیں۔ گل ریز خان کی وصیت کا انکشاف ہونے کے بعد جرگہ کے فیصلہ کی اہمیت پہلے جیسی نہ رہی گل ریز خان نے اس سلسلے میں خود اپنے فیصلے سنا دیے تھے۔ اس نے اپنے وصیت نامہ میں جو کچھ بھی لکھا تھا وہ اس کا ذاتی فیصلہ تھا جس سے کسی ہنگامی صورت کے بنا ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
گل ریز خان کے مبینہ وصیت نامہ کی بازگشت سنائی دی تو متعدد اراکین بھی تجسس میں مبتلا ہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں بھی اس جانب مائل ہوگیا۔ مجھے بھی تجسس تھا کہ آخر گل ریز خان نے کیا وصیت کی ہوگی۔ اس کی وصیت سے متعدد معاملات حل ہوسکتے ہیں تو دوسری جانب اسی وصیت سے مزید جھگڑے جنم لے سکتے ہیں۔ یہ جائیداد اور مرداری کا جھگڑا تھا اور گل ریز خان کا بیٹا ابھی اس قابل نہ تھا کہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا بے ایمانی پر کوئی قدم اٹھا سکے۔ جرگہ نے گل ریز خان کے وصیت نامہ کوپڑھنا شروع کیا تو میں جیسے اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا۔ وصیت نامہ سننے کے بعد میری کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔ گل ریز خان نے اپنے وصیت نامے میں مجھے اپنا جانشین قرار دیا تھا۔ اس نے میرے دونوں ناموں کی وضاحت کردی تھی۔ قبائلی علاقوں میں میرا نام حارث تھا گل ریز خان نے بعض وجوہات کی بنا پر مجھے اسی نام سے متعارف کروایا تھا لیکن اس نے اپنے وصیت نامہ میں حارث کا اصل نام کمال جٹ ہے لیکن میری ہدایات پر اس طرح عمل کیا جائے کہ ’’واضح طور پر لکھا تھا کہ کمال جٹ میری جگہ آجائے میرے تمام ساتھیوں پر فرض ہے کہ نا صرف اس سے وفاداری نبھائیں بلکہ اس کی کسی بھی لڑائی کی صورت میں بھرپور ساتھ دیں۔ اسی طرح متعدد ہدایات اور احکامات لکھے گئے تھے۔ یہ وصیت نامہ گل ریز خان کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا اس لیے اس میں کسی شبہ کی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی۔ جرگہ کی جانب سے وصیت نامہ سنائے جانے کے بعد سب خاموشی سے میری جانب دیکھنے لگے۔
بات واضح ہوچکی تھی گلریز خان اپنی جگہ مجھے مقرر کر گیا تھا۔ یہ ایسا فیصلہ تھا جو میری سمجھ سے باہر تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوئی یہ سوال بھی نہیں اٹھا سکتا تھا کہ جرگہ کے کسی شخص نے جعلی وصیت نامہ سنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرا تعلق سرے سے ہی اس قبیلے سے تھا ہی نہیں۔ اس لیے میں نہ تو کسی لابی کا حصہ تھا اور نہ ہی ان میں سے کسی کا قریبی تھا۔ ابھی اس پر بات شروع نہ ہوئی تھی حجرے میں ایک ایسی خاموشی تھی جو بولنے سے چند لمحے پہلے ہوتی ہے یوں لگ رہا تھا کہ سبھی کچھ بولنے سے پہلے الفاظ تو رہے تھے۔ اچانک گل ریز خان کا بیٹا میرے پاس سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ سبھی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ چھوٹا تو تھا لیکن اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا کہ اسے معاملے کی نوعیت کا علم نہ ہوگا۔ اس کے یوں اچانک کھڑے ہونے سے لگا کہ شاید وہ اس فیصلے سے بغاوت کا اعلان کردے۔ میں نے تاسف سے اس کی جانب دیکھ۔ا اگر وہ مجھے ویسے بھی کہہ دیتا تو میرا فیصلہ اس کے حق میں ہوتا۔ یہ جانشینی اس کا حق تھا۔ میں نے لمحوں میں فیصلہ کرلیا کہ اگر اس نے کوئی اعتراض اٹھایا تو میں اس کے حق میں کھڑا ہوں گا۔ گل ریز خان کے بیٹے نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور جرگہ کے بڑوں کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا یہ زنان خانہ سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا جب وصیت پڑھ کر سنائی جائے تو اسے بھی پڑھ لیا جائے۔ ایک شخص نے وہ لفافہ پکڑ کر اسی شخص کی جانب سے بڑھا دیا جس نے وصیت نامہ پڑھ کر سنایا تھا۔ اس نے چند عمائدین کی جانب دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں
چند اشارے ہوئے اور اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے لفافہ کھول کر اس میں سے ایک کاغذ برآمد کرلیا۔ کاغذ پر لکھی تحریر بھی اسی طرح پڑھ کر سنائی جانے لگی۔ جیسے گلریز خان کا وصیت نامہ پڑھا گیا تھا۔ یہ گل ریز خان کی بیوہ کا خط تھا اس سے اندازہ ہوا کہ وہ دکھ اور غم کے ان لمحات میں بھی صورتحال پر ً نظر رکھے ہوئے تھیں۔ ان کے وفادار کسی نہ کسی طرح زنان خانہ تک صورتحال پہنچا رہے تھے۔ یقی نا یہ کام ملازمائیں کر رہی تھیں۔ یا پھر گل ریز خان کے وفاداروں میں سے کسی کی بیوی کو یہ ذمہ داری سوپنی گئی تھی۔ گل ریز خان کی بیوہ نے اپنے خط میں جرگہ کے عمائشین کے احترام میں چند جملے تحریر کرنے کے بعد وصیت نامہ پر ہی بات کی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ گل ریز خان کا وصیت نامہ اصل ہے اور اس نے اس کے مندرجات سے زنان خانہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔
اس کی بیوہ کے مطابق اس کی وجوہات اور دیگر صورت حال ان کے علم میں تھیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ ان کے شوہر کے وصیت نامے پر عن و من عمل کیا جائے۔ انہوں نے جرگہ کے عمائدین کو یہ بھی یقین دلایا تھا کہ زنان خانہ سے اور گلریز خان کے بیٹے کی جانب سے اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی جائے گی۔ گل ریز خان کی بیوی کے اس خط نے وصیت نامہ پر گویا مہر لگادی۔ جو لوگ سوچ رہے تھے کہ اس حوالے سے یہ اعتراض کردیں کہ باہر کا شخص گل ریز خان جیسے قبائل کا وارث نہیں بن سکتا وہ بھی اب دبک کر بیٹھ گئے۔ جرگہ نے کچھ دیر آپس میں صلاح مشورے کیے اور پھر گل ریز خان کی وصیت پر عن و من عمل کرنے کا اعلان کیا۔ سرداری کی پگ میرے سر پر رکھ دی گئی اور گل ریز خان کا اسلحہ میری ملکیت میں دے دیا گیا۔ اسلحہ دینا ایک علامتی رسم تھی ورنہ درحقیقت گل ریز خان کا سبھی کچھ اب میرا ہوچکا تھا۔ جرگہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا تو سالار خان نے آگے بڑھ کر اعلان کیا کہ گل ریز خان کی خواہش تھی کہ اس کی وصیت پر عمل ہوا تو حجرے میں آنے والوں کو بہترین کھانا کھلایا جائے۔ اس لیے کھانا تیار کروایا جا رہا تھا جو جلد ہی عمائدین کے آگے چنا جائے گا۔ سالار خان کے اعلان کے بعد وہ لوگ دوبارہ ا پنی جگہ بیٹھ گئے جو اٹھ کر جانا چاہتے تھے کچھ ہی دیر میں ملازمین نے دنبے کا بھنا ہوا گوشت دیگر لوازمات کے ساتھ دستر خوان پر رکھنا شروع کردیا۔ پر تکلف ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ سب اپنے اپنے خیالات میں گم تھے۔ یہ وصیت نامہ سبھی کے لیے حیرت کا باعچ تھا۔ کچھ لوگ دبی دبی آواز میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ لیکن بظاہر سبھی اس فیصلے پر اپنا اطمینان ظاہر کر رہے تھے۔ باقیوں کو تو چھوڑیں خود میں گل ریز خان کے اس فیصلے پر حیرت زدہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ میں یہاں اپنا انتقام لینے آیا تھا۔ میری کائنات کو قتل کرنے والا ظالم درندہ ان علاقوں میں کہیں تھا اور میں اسی کے تعاقب میں تھا۔ تعاقب کرنے والے بھلا کب ٹھہرتے ہیں۔ وہ تو مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ یہ مسلسل سفر ہی تو تعاقب کرنے والوں کی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔ گل ریز خان اس حقیت سے واقف تھا۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ انتقام لینے کے بعد مجھے واپس چلے جانا تھا۔ میں قبائلی نہیں تھا۔ یہاں کی روایات میرے پائوں کی زنجیر نہیں بن سکتی تھیں۔ اس لیے مجھے ہر صورت واپس جانا تھا۔ گل ریز خان نے ایک
ایسی زنجیر میرے پائوں میں ڈال دی تھی جو اب مجھے یہاں کا غلام بنانے والی تھی۔ میرے لیے یہ فیصلہ کافی عجیب و غریب تھا۔ اس نے مجھے الجھن کا شکار کردیا تھا۔ آخر اس فیصلے کے پیچھے گلریز کان کی کیا حکمت تھی۔ یہ میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ میں نے سر جھٹکا اور عمائدین کے پروٹوکول کی جانب متوجہ ہوگیا۔ بہرحال یہ سچ تھا کہ اب گلریز خان مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال گیا تھا جسے ہر صورت نبھانا تھا۔ میں نے چند لمحے صورت حال کا جائزہ لیا اور پھر کھڑا ہوگیا۔ میرے اس طرح کھڑے ہونے سے سبھی میری جانب متوجہ ہوگئے۔ اب میں گل ریز خان کی جگہ کھڑا تھا اور میری حیثیت وہی ہوگئی تھی جو گل ریز خان کو حاصل تھی۔ میں نے ایک پل کے لیے سب کی جانب دیکھا سبھی میری جانب دیکھ رہے تھے۔ میں نیکہا۔
میں اس عزت پر آپ سب کا شکر گزار ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مجھے یہاں کے مکمل قوانین اور ’’ روایات کا علم نہیں۔ آپ سب لوگ میری رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ مجھے امید ہے آپ میری رہنمائی کریں گے لیکن ایک گستاخی کی اجازت چاہتا ہوں۔
میں نے جیسے ہی گستاخی کا کہا سبھی چونک گئے کچھ کے چہرے پر غصے کے اثرات نظر آنے لگے جبکہ کچھ اس بات پر خوشی محسوس کرنے لگے کہ اب معاملات بگڑ جائیں گے۔ میں سبھی کے تاثرات محسوس کر رہا تھا چہروں پر آنے والا وقتی رنگ بھی ہمیں دوست، دشمن کی پہچان کر دیتے ہیں کبھی لمحوں میں یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ کسی پراندھا اعتماد کرتا ہے اور کسی سے محتاط رہنا ہے۔ چہروں پر آنے والا وقت رنگ ہی ہمیں انسان کی اصلیت سے آگاہ کردیتا ہے۔ میں بھی حجرے میں بیٹھے افراد کے چہروں پر آنے والا رنگ دیکھ رہا تھا۔ لمحوں میں یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ مجھے کسی پر اعتبار کرنا ہے اور کس کے شر سے خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہاں دوست کے روپ میں کوئی سانپ بھی بیٹھے تھے۔ جنہیں جب بھی موقع ملتا انہوں نے مجھے ڈس لینا تھا۔ میرا تجربہ ہے کہ سانپ کا ڈسا تو پانی مانگ لیتا ہے لیکن انسان کے ڈسے کو اکثر پانی مانگنے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ اسے تو علم ہی تب ہوتا ہے جب حسد اور نفرت کا زہر پھیل کر اپنا کام کرچکا ہو۔ کبھی کبھی تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ ڈس کون گیا ہے۔
میں نے سبھی کے چہروں کو دیکھا اور گل ریز خان کے بیٹے کو ہاتھ پکڑ کر کھڑا کردیا۔
میں یہ گستاخی کرنا چاہتا ہوں کہ گلریز خان کا اسلحہ اپنے پاس رکھوں لیکن سرداری کی دستار گل ریز ’’ خان کے بیٹے کے سر پر رکھ دوں۔ یہ اسی کی امانت ہے اور اسی کے پاس رہے گی۔ البتہ جب تک صورت حال اس کے کنٹرول میں نہیں آجاتی تب تک گلریز خان کا انتقام لینے کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات نمٹاتا ‘‘رہوں گا۔
میری بات سن کر کئی تنے ہوئے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور کچھ کا اطمینان رخصت ہوگیا ان کی توقع کے مطابق کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ میرے اعلان کے ساتھ ہی حضرے میں ہر سمت سے داد و
تحسین کے نعرے لگنے لگے۔ عمائدین کو یہ خوشی تھی کہ میں نے گلریز خان کی وصیت پر بھی عمل کیا اور قبیلے کی سرداری بھی قبیلے سے باہر نہیں جانے دی۔ میں نے گل ریز خان کے بیٹے کو بھی اس کا حق دیا تھا۔ وہ مسائل جن کا سوچ کر عمائدین پریشان ہو رہے تھے میں نے انہیں لمحوں میں نمٹا دیا تھا۔ اس سے میری ایمانداری ثابت ہوگئی تھی۔ سب کو علم ہوگیا کہ میرے دل میں کھوٹ نہیں ہے اور نہ میرا اس منصب پر ہمیشہ کے لیے کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ بات جرگہ کے عمائدین کو بہت پسند آئی۔ اب رائے عامہ بھی میرے حق میں نظر آنے لگی۔ اس سے پہلے ماحول میں تنائو کی سی کیفیت موجود تھی۔ اب میں ان کا اپنا تھا اب یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ گلریز خان کے کمالے جٹ کو منتخب کر کے اپنے بیٹے اور خاندان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ ابھی حجرے میں ایسے لوگ موجود تھے جن کے چہروں پر چھائی مسکراہٹ کے پردے کے پیچھے زہریلے ناگ کلبلا رہے تھے۔ یہ وہ تھے جن کا خیال تھا کہ اس معاملے میں ان کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے ہی طوفان اٹھانا تھا لیکن گل ریز خان کی بیوہ کے خط کے بعد ان کے پاس کوئی جواز بچا ہی نہ تھا۔ اب انہوں نے جو بھی کرنا تھا پیٹھ پیچھے ہی کرنا تھا۔ بہرحال مجھے موقع کی نزاکت کا احساس تھا اس لیے انجان بنا ان سے بھی مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ حجرہ خالی ہونا شروع ہوگیا۔ لوگ واپس لوٹنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہاں سالار خا سمیت چند وفادار رہ گئے۔ میں اپنی جگہ پر بیٹھا تھا اور گلریز خان کا بیٹا میرا ہاتھ تھامے جانے کن خیالوں میں گم تھا۔ اس کی عمر کم ضرور تھی لیکن بہرحال وہ یہ شعور رکھتا تھا کہ وہ اپنے باپ کو کھو چکا ہے۔ میں نے ایک وفادار کو اشارہ کیا اور وہ گلریز خان کے بیٹے کا ہاتھ تھام کر اسے زنان خانہ کی جانب لے گیا۔ باقی وفادار بھی ایک ایک کر کے حجرے سے باہر چلے گئے۔ شاید انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ میں اس وقت تنہائی چاہتا ہوں۔ یہ سب کچھ اس قدر تیزی سے رونما ہوا تھا کہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ میں تنہا بیٹھ کر سوچناچاہتا تھا کہ کاتب تقدیر میرے ارد گرد کون سی کہانی بن رہا ہے۔ آکر گلریز نے میرے پائوں میں یہ زنجیر کیوں ڈالی۔ وہ تو میرے مشن سے واقف تھا۔
میں یہی سب سوچ رہا تھا کہ سالار خان کسی کام سے حجرے میں چلا آیا۔ اسے دیکھتے ہی میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا سالار خان کی معانی خیز نظریں میری آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ کیا سالار خان کو اس وصیت کا پہلے سے پتا تھا؟ سیکنڈ کے ہزارویں لمحے میں یہ سوال میرے ذہن میں ابھرا اور میں نے واپس جاتے سالار خان کو آواز دے کر روک دیا۔
سالار خان پلٹ کر میری جانب آیا اور سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
سالار خان بیٹھ جائو میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ وہ خود سے الجھتے ہوئے میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
سالار خان میں بات گھما پھر کر کرنے کا عادی نہیں ہوں اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ تم مجھ سے کچھ ’’ ‘‘ چھپائو گے نہیں۔
سالار خان نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے بات آگے بڑھائی۔
‘‘ تم پہلے سے جانتے تھے کہ گلریز خان نے وصیت میں کیا لکھا ہوا ہے؟ ’’
میرے سوال پر سالار خان چند لمحے تذبذب کا شکار نظر آیا۔ پھر جیسے کسی فیصلے تک پہنچ گیا۔
‘‘ خان صاحب نے خود بتایا تھا مجھے۔ ’’ اس نے اعتراف کرلیا۔ ‘‘ جی میں جانتا تھا۔ ’’
پھر تو اس کی وجہ بھی جانتے ہوں گے کہ گلریز خان نے کیا سوچ کر یہ فیصلہ کیا تھا؟ وہ میری زندگی اور ’’ ‘‘ مقصد سے بخوبی واقف تھا۔ پھر بھی اس کا یہ فیصلہ کرنا مجھے عجیب لگ رہا ہے۔
سالار خان چند لمحے میری جانب عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا پھر کہنے لگا۔
خان صاحب نے آپ پر جان قربان کردی۔ وہ آپ کو بچانے گئے تھے لیکن خود شہید ہوگئے۔ خدا جانے آپ ’’ سے ان کا ایسا کیا تعلق تھا کہ ان کا کوئی سگا بھائی ہوتا تو شاید اس کے لیے بھی اتنا نہ کرتے۔ ان کی دشمنی بھی بہت تھی لیکن ہمارے یہاں تو سب کی ہی دشمنی ہوتی ہے۔ خان کی شہادت کا تو ہم نے سوچا تک نہ تھا لیکن ایک دن وہ کہنے لگے پنجاب سے میرا بھائی آیا ہوا ہے یہاں اس کا کوئی بھی اپنا نہیں لیکن غیرت مند ہے اس لیے تنہا ہی لڑنے آپہنچا ہے۔ اسے صرف میرا شیلٹر میسر ہے۔ اس لیے میں ‘‘ رہوں یا نہ رہوں تم نے اسے میری جگہ سمجھتا ہے۔ اس کے مجھ پر بہت احسان ہیں۔
سالار خان بولتا چلا جا رہا تھا اور میں خاموشی سے سنتا جا رہا تھا۔ اس نے ایک ایسی کہانی کے ورق الٹنے شروع کردیے تھے جو میرے علم میں نہ تھی۔ گل ریز خان مجھ سے اتنا پیار کرتا تھا مجھے اس کا اندازہ تھا لیکن وہ اس دوستی میں کس حد تک چلا جائے گا اس کا علم مجھے ہر گز نہ تھا۔
سالار خان دم لینے کو رکا اور پھر کہنے لگا۔
خان چاہتا تھا کہ آپ ہر صورت اپنا انتقام لو۔ اس مقصد کے لیے وہ کھل کر آپ کے پیچھے کھڑا تھا لیکن ’’ اس نے ایسی وصیت بھی لکھ دی تھی کہ اگر اسے کچھ ہوجائے تو آپ کو وہ تمام اختیارات، مراعات اور پشت پناہی مل جائے جو اس کے دم سے تھی۔ اس صورت میں آپ اس علاقہ میں رہتے ہوئے اپنے دشمن سے بدلہ لے سکتے تھے۔ سچ کہوں تو ہمارے کان نے آپ کی خاطر اپنے اکلوتے بیٹے کا مستقبل دائو پر لگا دیا۔ اب آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو خان کا تھا لیکن ان کا بیٹا اس وقت تک اپنی وراثت سے محرو رہے تا جب تک آپ خود نہیں دیں گے خان نے آپ کو نگران نہیں بنایا بلکہ براہ راست مالک بنا دیا تھا۔
سالار خان کی باتیں میری برداشت سے باہر تھیں۔ میر دوست عظیم تھا وہ عظمت کی بلندیوں پر تھا دوستی کی ایسی مثالیں صرف ناولوں اور کہانیوں میں ملتی ہیں لیکن میرے ساتھ حقیقت میں یہ سب ہو رہا تھا میں نے سالار خان کی جانب دیکھا اور کہا۔
سالار خان میرا تم سے وعدہ ہے کہ یہ حق جس کا ہے اسی کو ملے گا۔ یہ سب گل ریز خان کے بیٹے کا ہے ’’ مجھے صرف اپنا اور گل ریز خان کا انتقام لینا ہے اس کے بعد میں واپس چلا جائوں گا۔ یہ بات طے ہے کہ مجھے یا تو کسی مقابلے میں مرنا ہے یا پھر غازی بن کر لوٹ جانا ہے۔ مسافر عشق کا ہو یا انتقام کا قیام اس کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ اسے حرکت میں رہنا ہی ہوتا ہے۔ یہی حرکت اسے زندہ رکھتی ہے اس لیے ‘‘ جب تک میرا انتقام پورا نہیں ہوجاتا تب تک مجھے بھی اپنے دشمنوں کا پیچھا کرتے رہنا ہے۔
سالار خان خاموشی سے سر ہلاتا رہا اور پھر اجازت لے کر چلا گیا ایک ماہ یونہی گزر گیا۔ مجھ پر بے انتہا ذمہ داریاں آپڑی تھیں۔ بہت سے معاملات اب مجھے ہی دیکھنے تھے۔ گل ریز خان کے کاروبار کا حساب کتاب زمینوں کی آمدن اور ان تمام افراد کی فہرست جنہیں وہ ہر ماہ بہت خاموشی سے امداد دیا کرتا تھا۔ ان تمام معاملات کو ترتیب میں لانا اور سمجھنا اتنا آسان نہ تھا سچ پوچھیں تو اس کے جانے کے بعد احساس ہو رہا تھا کہ وہ کس قدر عظیم تھا۔ شاید درویشن ایسے ہی ہوتے ہیں بظاہر چھپے ہوئے دنیا داروں کی طرح لیکن اسی دنیا داری کے پردے میں خدمت خلق میں مصروف۔ وہ نہ کوئی حساب رکھتے ہیں کہ کس کو کتنا دیا اور نہ ہی کوئی فہرست بناتے ہیں۔ میں گلریز طرح درویش نہ تھا وہ اپنی مرضی کا مالک تھا۔ جسے جتنا چاہتا اتنا ہی نواز دیتا۔ میں ایسا نہیں کرسکتا تھا مجھ پر ذمہ داریوں کا بوجھ تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال زندہ تھا کہ یہ سب میرا نہیں ہے۔ یہ ایک امانت تھی جو مجھے حق دار تک پہنچای تھی۔ اس لیے مجھے امداد کی بھی فہرست بنانی تھی۔ کتنی رقم کس مد میں خرچ ہوتی ہے اس کا مکمل ریکارڈ رکھنا تھا۔ جس طرح گل ریز خان مجھے اپنا وارث بنا گیا تھا اس کی رو سے میں کسی کو حساب دینے کا پابند نہ تھا۔ اگر کبھی یہ سب گل ریز کے بیٹے کو سونپ دیتا تو بھی وہ مجھ سے یہ پوچھنے کا مجاز نہ تھا کہ میں نے گلریز خان کی دولت کہاں خرچ کی۔ یہ جرگہ کا قانون تھا اور اس قانون کو اس جگہ پاکستان کا کوئی ادارہ چیلنج نہیں ک رسکتا تھا۔ نہ یہاں پولیس پر مارتی تھی اور نہ عدالت تک کوئی جاتا تھا یہاں سب کچھ جرگہ ہی تھا اور یہی جرگہ میرے حق میں فیصلہ سنا چکا تھا۔ اب میں اس ساری دولت کا مالک تھا لیکن اس جرگہ سے بڑی ایک اور عدالت تھی وہاں میرا ضمیر جج کی صورت بیٹھا مجھے گھو رہا تھا۔ میں اس کی نظروں کی تاب نہ لاسکتا تھا۔ اس لیے میں چاہتا تھا کہ جب یہ سارا انتظام اور معاملات گلریز خان کے بیٹے کے سپرد کروں تو میرے پاس ایک ایک پائی کا حساب ہو۔ میں یہ سارے کھاتے اس کے حوالے کر کے جانا چاہتا تھا۔ اس لیے اب اس سارے بکھرے ہوئے نظام کو کاغذوں پر سمیٹنے میں مصروف تھا۔ میرا ایمان ہے کہ ہم جب کھاتوں میں گڑ بڑ ک رتے ہیں تو اسے پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ دنیاوی کھاتوں میں شاید جلد پکڑ نہ ہو لیکن آسمان پر کھلنے والے کھاتوں میں پل بھر کے اندر پکڑ ہوجاتی ہے۔ یہ پکڑ ہارٹ اٹیک، بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد اور کینسر کی صورت ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ کچھ بیماریاں امیروں اور طاقتوروں سے ہی منسوب ہیں۔ دنیا کو اپنا غلام سمجھنے والوں کو جب خدا ان کی اوقات بتاتا ہے تو پھر تمام تر آسائیشات ہونے کے باوجود ان پر پابندی لگا دیتا ہے۔ پھر ڈاکٹر بتاتا ہے کہ آپ کے پاس
دولت تو ہے لیکن آپ کھانا صرف پھیکا اور پرہیزی کھا سکتے ہیں۔ میں نے کبھی کچی بستی اور جھگی وہ ناقص خوراک کھا ، میں رہنے والوں کو پرہیزی کھانا کھاتے نہیں دیکھا۔ انہیں مٹی سے الرجی نہیں ہوتی کر بھی بیمار نہیں ہوتے اس کے برعکس اسی فیصد سے زائد امیروں کو پرہیزی کھانے اور ادویات کھاتے ہی دیکھا ہے۔ تھوڑی سی مٹی اڑے تو انہیں الرجی ہوجاتی ہے۔ یہ واضح پیغام ہے لیکن صرف سمجھنے والوں کے لیے۔ یہ پیغام کمالے جٹ کو جٹا والا سے ہی مل گیا تھا مجھے معلوم تھا کہ اگر گلریز خان کے بیٹے کی وراثت میں غبن کیا یا کھاتوں میں ہیرپھیر کی تو اوپر آسمانوں پر پڑے میرے کھاتے میں بھی ہیر پھیر کردی جائے گی۔ اس لیے میں نے سبھی کام چھوڑ کر سب سے پہلے گلریز خان کے تمام معاملات ترتیب میں لانے شروع کردیے اور انہیں ریکارڈ میں رکھنا شروع کردیا۔ میں چاہتا تھا کہ میرے جانے کے بعد گلریز خان کا بیٹا ان کھاتوں اور ریکارڈ کی مدد سے تمام معاملات خود سنبھالنے کے قابل ہوجائے۔ اسی طرح اس کی بیوہ بھی انہیں دیکھ کر تمام معاملات کی نگرانی کرسکے اور ماں بیٹا کود سارے معاملات چلا سکیں۔ اگر یہ معاملات ان کی نگرانی میں نہ رہے اور کسی دوسرے پر ہی چھوڑ دیے گئے تو عین ممکن ہے سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ستاتا تھا کہ گلریز خان میری وجہ سے مارا گیا۔ اس کے بیٹے کو دیکھ کر یہ احساس اور بھی شدید ہوجاتا تھا۔ اس نے وصیت کی صورت مجھ پر جو احساس کیا اور میرے یہاں رہ کر انتقام لینے کی جو سبیل نکالی اس نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ میں یہ احسان اس کے بیٹے کو قابل نا کر ہی اتار سکتا تھا۔ گلریز خان میرے لیے جو کچھ کرسکتا تھا وہ کر گیا تھا۔ اب میرا وقت تھا۔ مجھے بتانا تھا کہ پنجاب کا کمالا جٹ اپنے محسن کے لیے کیا کرسکتا ہے۔
میں شب و روز گلریز خان مرحوم کے معاملات میں الجھا ہوا تھا اس دوران عجیب ہی دھن سوار تھی۔ نہ دن کا ہوش تھا اور نہ ہی رات کی پروا تھی۔ بس یہی فکر تھی کہ کہیں مجھ سے کسی معاملے میں کوتاہی نہ ہوجائے۔ شاید احساس ذمہ داری ہماری طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔ یہی کام اگر میرے ذاتی ہوتے تو شاید میں اس قدر جنون کے عالم میں نہ کرتا لیکن اب یہ ذمہ داری اور فرض بن چکے تھے۔ ایک دن اچانک سالار خان نے کوئی بات کرتے کرتے بتایا کہ قبیلے کے عمائدین جرگہ بلانا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہ تھی۔ یہاں پولیس اور تھانوں کا رواج تھا بلکہ پولیس سے مدد طلب کرنے والے کو نفرت سے دیکھا جاتا تھا۔ یہاں چھوٹے چھوٹے معاملات کے لیے بھی جرگہ ہی بلایا جاتا تھا۔ اس لیے میں نے سرسری سے انداز میں پوچھ لیا کہ کس بارے میں جگہ بیٹھے گا۔ سالار خان کہنے لگا۔
ملک صاحب! آپ نے گلریز خان مرحوم کی سب چیزیں اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں لیکن ایک جانب سے بے ’’ ‘‘ پروا ہوگئے ہیں جرگہ اسی سلسلے میں بیٹھے گا۔
سالار خان کی بات سن کر میں چونک گیا۔ جہاں تک میرا خیال تھا میں اتنے عرصہ میں نا صرف تمام معاملات سنبھال چکا تھا بلکہ انہیں ایک سسٹم میں بھی لے آیا تھا۔ اب ایسا کیا تھا جس جانب سے
کوتاہی ہوئی تھی میں تو پائوندو قبیلے کے سردار خوشحال خان کو بھی پیغام بھجوا چکا تھا گلریز خان کے سوگ میں ثابت اور دارا کے درمیان ہونے والا مقابلہ ملتوی کروا دیا جائے۔ اب گلریز خان کی جگہ میں یہ مقابلہ دیکھنے آئوں گا۔ میں جانتا تھا کہ بظاہر یہ ثابت کے ساتھ زیادتی تھی لیکن مجھے یہ بھی اطمینان تھا کہ مقابلہ ملتوی ہونے کا فائدہ بھی ثابت کو ہی ہوتا۔ اسے میں نے جو دائو سکھائے تھے وہ اب تک ان میں مزید پختہ ہوچکا تھا۔ میرا وجدان کہتا تھا کہ گلریز خان کے قتل کے پیچھے دارا ہی ملوث تھا۔ اب میں اسے سبق سکھانا چاہتا تھا مقابلہ ملتوی کروانا میرے اسی پلان کا حصہ تھا۔ اس میں خوش آئند بات یہ تھی کہ سردار شامل خان نے جوابی پیغام میں مقابلہ ملتوی کرانے کی حامی بھرلی تھی۔
میں نے تو ہر چیز کو اس کی باریکیوں سمیت سمجھا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اب لگ بھگ چار ماہ گزر جانے کے بعد تو مجھے ہر معاملہ اپنی فنگر ٹپس پر یاد تھا لیکن سالار خان کوئی اور ہی کہانی سنا رہا تھا۔ میں نے بے چینی سے اس کی جانب دیکھا اور پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے جرگہ کی نظر میں ایسا کونسا معاملہ ہے جو میرے عالم میں ہی نہیں ہے اور میں بے پروائی بھی برت رہا ہوں۔ سالار خان نے نظریں جھکاتے ہوئے جو کچھ کہا اسے سن کر مجھے یوں لگا کہ جیسے کسی نے میرے سر پر بم پھوڑ دیا ہو۔ جرگہ کو جس کی فکر تھی وہ کوئی بے جان چیز نہیں تھی بلکہ ایک سانس لیا، جیتا جاگتا وجود تھا۔ جرگہ گلریز خان کی بیوہ کا فیصلہ کرنے آرہا تھا۔ وہ ہی حویلی میں تھی جہاں اسے گلریز خان نے رکھا تھا۔ اس کے پاس ملازمائیں موجود تھیں۔ جو اس کی خدمت پر مامور تھی۔ میں نے اپنا مستقل قیام حجرے میں کرلیا تھا اس کے باوجود جانے جرگہ کیا فیصلہ کرنے آرہا تھا بہرحال ایک ہفتے بعد جرگہ نے اسی حجرے میں بیٹھنا تھا۔
جس دن جرگہ تھا اس دن صبح سے ہی مجھے عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ خدا جانے جرگہ کیا فیصلہ سنائے۔ میں سوچ لیا تھا کہ اگر جرگہ کی جانب سے گلریز خان کی بیوہ یا بیٹے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا زبردستی ہوئی تو میں اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کروں گا۔ چاہے سبھی میرے خلاف ہوجائیں لیکن میں کسی بھی صورت ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔ مقررہ وقت پر قبیلے کے بزرگ اکھٹے ہونا شروع ہوگئے۔ وہ حجرے میں آتے چلے گئے اور میرے پاس ہی بیٹھتے چلے گئے۔ ان کی تواضع قہوہ سے کی گئی جبکہ قبائلی روایات کے تحت حجرے میں داحلے سے قبل سالار خان ان سے ہتھیار لے کر ایک جگہ رکھتا رہا۔ اب وہ کمالے جٹ کے مہمان تھے۔ اس حجرے کی روایت تھی کہ یہاں آنے والے سبھی افراد گلریز خان کی مہمان نوازی میں ہی سمجھے جاتے تھے۔ اب یہی روایت میں نبھا رہا تھا۔
جرگہ اپنے روایتی انداز میں شروع ہوا تو حجرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف ایک شخص بول رہا تھا جبکہ باقی سب خاموش اور پوری توجہ سے اس کی بات سن رہے تھے۔ اس نے صورتحال کا پس منظر بیان کیا اور پھر سب کو بتایا کہ دراصل جرگہ کیوں بلایا گیا ہے اس کے بعد سب نے اپنی اپنی رائے دینی شروع
گلریز خان کی شہادت کا ہم سب ’’ کردی۔ اس کے بعد جرگہ کے سربراہ نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ کو دکھ ہے لیکن قبیلے کی روایات پر عمل کرتے ہوئے کچھ معاملات حل کرنا بہت ضروری تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ گلریز خان نے چند سال قبل ہی شادی کی تھی۔ اب اس کے اس دنیا سے چلے جانے کے باوجود اس کی بیوہ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ اب گلریز خان کو گزرے چار ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے۔ اس کی بیوہ آزاد ہے۔ دوسری جانب گلریز خان کا موجودہ وارث اور جانشین کمال جٹ ہے جس کا بظاہر قبیلے یر ‘‘ گلریز خان کے خاندان سے کوئی خونی تعلق نہیں ہے۔
اپنا ذکر سن میں نے بے چینی سے پہلو بدلا لیکن کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ میں مکمل صورت حال واضح ہوئے بنا کسی قسم کی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ البتہ مجھے یہ حیرت ضرور ہوئی کہ آخر اس موقع پر میرا ذکر کیوں کیا جا رہا ہے۔
کمال جٹ نے ان چند ماہ میں یہ ثابت کردیا ہے کہ ’’ جرگہ کے سربراہ نے اپنی گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا گلریز خان کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ اس نے بالکل درست بندے کا انتخاب کیا تھا۔ بلا شبہ کمال جٹ اس کا اہل ہے۔ اس لیے جرگہ کمال جٹ کو یہ ذمہ داریاں جاری رکھنے کا کہتا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ کمال جٹ اور گلریز خان کی بیوہ کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ کمال جٹ کو بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے حویلی میں جانا پڑے گا کیونکہ دراصل اب کمال جٹ ہی اس کا مالک ہے۔ ایسی صورت میں قبیلے کے عزت دار لوگ یہ پسند نہیں کرسکتے کہ دو غیر محرم ایک ساتھ رہیں۔جہاں دو تنہا ہوں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ حویلی میں ملازمائیں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بات شریعت اور غیرت کی ہے۔ اگر یہ روایت چل نکلی تو پھر سبھی کی بہن بیٹیاں خراب ہوں گی۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کمال جٹ ور گلریز خان کی بیوہ کا آپس میں نکاح پڑھا دیا جائے ایک تو اس لڑکی کو تحفظ مل جائے گا دوسرا گلریز خان کے تمام معاملات کا وارث ہونے اور اس کی بیوہ سے کوئی محرم رشتہ نہ ہونے کے وجہ ‘‘ سے کمال جٹ کا ہی حق ہے کہ وہ اس کی بیوہ کو بھی اپنی زوجیت میں لے سکے۔
جرگہ کا سربراہ جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا لیکن میں اپنے حواس کھوتا چلا جا رہا تھا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی زہر میں بجھے تیر میرے دل میں اتار رہا ہے اور ابلتا ہوا سیسہ میرے کانوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ میرا جسم ہولے ہولے لزر رہا تھا۔ بھابی سے تو کسی نے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ بس ان کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو مجھ سے بھی نہیں پوچھا گیا تھا مجھے بھی بس حکم نامہ ہی سنایا گیا تھا عجیب جرگہ تھا جو دو زندگیوں کے فیصلے ان سے پوچھے بنا کرتا چلا جا رہا تھا اور ان سے پوچھنا تک گوارا نہیں کر رہا تھا۔ پوچھنا تو دور کی بات ہے مجھ سے تو رائے تک طلب نہ کی گئی تھی۔ شاید جرگوں میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ قانون کی طرح یہاں بھی پہلے سے طے شدہ روایات کے بنڈل اور خود ساختہ قوانین کی بوسیدہ سی پوٹلی رکھی ہوئی تھی۔ جرگہ کو انہی کی روشنی میں فیصلہ سنانا تھا۔
شاید دنیا کی سبھی عدالتوں میں دل، جذبات اور احساسات کے بجائے پرانی روایات اور پرانے اصولوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ منصف، احساسات سے عاری ہوتے ہیں یا انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ سزا صرف ایک شخص کو نہیںملتی۔ ہم قتل کے جرم میں پھانسی دیتے یہں یہ مقتول کے ساتھ انصاف ہے کہ اسے قتل کرنے والے کو بھی قتل ہی کیا جائے لیکن یہ پھانسی صرف قاتل کو ہی نہیں دی جاتی بلکہ قاتل کے چھوٹے چھوٹے بچوں اور جوان بیوی بھی اس کے ساتھ ہی لٹکا دیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قاتل ایک ہی بار پھندے سے لٹک کر دنیا کی فکر سے آزاد ہوجاتا ہے جبکہ اس کے بچے اور جوان بیوی ہر روز پھندے پر جھولتے ہیں اور اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگر منصف کے پاس احساس ہوتا اور وسعت نظری ہوتی تو یقینا وہ قاتل کو پھانسی کی سزا سناتے وقت اس کی بیوی بچوں کے لیے ایسے انتظامات بھی کرنے کا حکم دیتے جن کی وجہ سے انہیں زمانے کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ ہم قاتل سے زیادہ اس کے بیوی بچوں کو سزا سناتے ہیں اور پھر اپنی انصاف پروری کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔ آج یہ جرگہ بھی پرانی روایات کے تحت ایک ایسا فیصلہ سنایا جا رہا تھا کہ اگر اس پر عمل ہوجاتا تو میں خود سے نظریں نہ ملا پاتا۔ گلریز خان کی روح مجھ سے سوال کرتی کہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم اسی مقصد کے لیے یہاں آئے تھے؟
ابھی جرگہ اپنے خود ساختہ فیصلے پر مہر ثبت کرنے ہی لگا تھا کہ میں کھڑا ہوگیا۔ سب نے میری جانب دیکھا۔ یہ بغاوت کی علامت تھا اور روایات کے خلاف بھی تھا جرگہ اپنا فیصلہ سنا چکا تھا۔ اب کسی کو بولنے یا انکار کرنے کی اجازت نہ تھی۔ میں نے کھڑے ہوتے ہی کہا۔
میں آپ کی انصاف پروری کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں ’’ گے جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے مجھے بولنے کا ‘‘ موقع دیا جائے۔
عمائدین میں سے چند ایک نے میری تائید کرتے ہوئے مجھے اپنی بات جاری رکھنے کا کہا۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ میری ابتدائی تمہید نے اپنا اثر دکھایا تھا۔ میں نے انصاف کی بات کر کے جرگہ کی اہم رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اب وہ یہ طعنہ نہیں سننا چاہتے تھے کہ انہوں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ انہیں یہ یقین تھا کہ میری تمام تر دلیلوں کے بعد بھی فیصلہ وہی ہوگا جو وہ سنا چکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس اس کے حق میں ہزار ناقابل تردید دلائل تھے۔ گلریز خان کی بیوہ اور میرا غیر محرم ہو کر ایک جگہ رہنا ہی سب سے بڑی دلیل تھی۔ یہ تو طے تھا کہ قبائلی روایات سے انحراف ممکن نہ تھا۔ اس لیے انہیں مکمل اطمینان تھا کہ یہ فیصلہ نہیں بدل سکتا۔
میں نے اپنی بات آگے بڑھائی اور کہا۔
آپ جو فیصلہ سنا رہے ہیں اس کی حکمت اور دور رس اثرات سے انکار نہیں۔ آپ فساد اور شر کو ختم ’’ کرنا چاہتے ہیں۔ میں آپ کی تردید نہیں کر رہا لیکن ہمارے پنجاب کی بھی کچھ روایات ہیں۔ ہم جسے جو
رشتہ دیں پھر مرتے دم تک اسے نبھاتے ہیں۔ گلریز خان کی بیوہ اور میرے درمیان بھی ایک رشتہ قائم میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حجرے میں کھسر پھسرشروع ہوگئی۔ عمائدین ایک دوسرے کی ‘‘ہوچکا ہے۔ جانب دیکھ رہے تھے۔ کچھ چہروں پر میرے لیے نفرت اور غصہ کی کیفیت ظاہر ہو رہی تھی جبکہ کچھ کے تیور ایسے تھے کہ جیسے ابھی مجھے سنگسار کرنے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ میں دم لینے کو رکا اور پھر کہنا شروع کردیا۔
یہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے۔ گلریز خان میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر تھا اور اس کی بیوہ میری بہن ہے۔ ہم ’’ منہ بولے رشتوں پر جان تک قربان کردیا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ رشتے سگے رشتوں سے بڑھ کر حرمت والے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو بہن بھائی ایک چھت تلے رہنا منظور نہیں تو میں یہیں اس حجرے میں ہی رہوں گا اور حویلی میں داخل نہیں ہوگا لیکن میری درخواست ہے کہ ایک بھائی اور بہن کے درمیان نکاح نہ کروائیں۔ میں فیصلہ آپ پر ہی چھوڑتا ہوں لیکن اپنی درخواست آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا تھا گر یہ ‘‘ گستاخی ہے تو آپ جو سزا دیں گے وہ بھی مجھے قبول ہوگی۔
گلریز خان کی جگہ آکر میں خاصا طاقتور اور با اچر ہوچکا تھا اس کے باوجود جرگہ کے سامنے میری عاجزی اور سادہ لہجہ عمائدین کے دلوں میں میرے لیے نرم گوشہ پیدا کرچکا تھا۔ دوسری جانب گلریز خان کی بیوہ کو بہن کہنے سے بھی اچھا تاثر پیدا ہوا۔ یہاں کئی ایسے لوگ بھی تھے جو صوبائی عصبیت کی وجہ سے یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کے ایک طاقت ور مردار کی بیوہ مال غنیمت کی طرح پنجاب کے جٹ کے قبضے میں چلی جائے۔ ان لوگوں نے میری حمایت میں بڑھ چڑھ کر بولنا شروع کردیا۔ ان کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ کمال جٹ نے گلریز خان کی بیوہ کو بہن کہہ کر اپنی پاک نیت کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔ اگر دل میں کھوٹ ہو تو کسی اجنبی لڑکی کو بھی بہن نہیں کہا جاتا۔ اب جرگہ کو کمال جٹ کا مان اور اس کے رشتے کی حرمت برقرار رکھنی چاہیے۔ انہیں بہن بھائی ہی سمجھنا چاہیے۔
جرگہ کے اکابرین نے کچھ دیر آپس میں صلاح مشورے کیے اور پھر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے میرے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ انہوں نے مجھے حویلی میں اسی طرح رہنے کی اجازت دے دی جس طرح کوئی بھی بھائی اپنی بہن کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ میرا اس طرح غیرت مندی کا ثبوت دینا اور اپنے دوست کی بیوہ کو زوجیت میں نہ لینا میری گلریز خان سے دوستی اور خلوص کا سچا جذبہ تھا جسے عمائدین نے بھی محسوس کیا۔ اب وہ میری تعریفیں کر رہے تھے۔ اپنے حوالے سے مجھے دو جرگوں میں بیٹھنا پڑا اور دونوں بار میں معتبر ٹھہرا۔ مجھے پسندیدگی کی سند مل چکی تھی۔
سب لوگ حجرے سے چلے گئے تو سالار خان میرے پاس آ بیٹھا۔ اس نے میرے ہاتھ تھامے اور انہیں چومتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیا۔
میں نے ہاتھ واپس کھینچتے ہوئے سوال کیا۔ ‘‘ سالار خان یہ کیا کر رہے ہو؟ ’’
سالار کان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ عجیب وھشت کی سی حالت میں تھا لیکن اس کے لہجے سے عقیدت کا رنگ جھلک رہا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر میری جانب دیکھا اور کہا۔
آپ عظیم ہو، آپ نے ہمارے خان کی عزت کو احترام بخشا ہے۔ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا لیکن آپ نے ’’ خان کی حرمت کو عزت بخشی ہے۔ آج آپ نے سالار خان کو اپنا ذاتی غلام بنا لیا ہے۔ خان عمر میں کم لیکن ‘‘ پھر بھی میرے لیے باپ جیسا تھا۔ سالار خان آپ کو اس احسان کا بدلہ اپنی جان قربان کر کے چکائے گا۔
میں سالار کان کی دلی کیفیت سمجھ رہا تھا اس لیے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا۔
سالار خان میں نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔ گلریز خان میرا دوست اور بھائی ہی نہیں محسن بھی تھا۔ ’’ میں اس کی عزت کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس لیے مجھے یہ بات بھی جرگہ کو بتانی ہی تھی کہ جو فیصلہ وہ سنانے جا رہے ہیں اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔
سالار خان کی حالت کے پیش نظر میں نے اسے آرام کرنے بھیج دیا تاکہ وہ اس جذباتی کیفیت سے باہر نکل سکے۔ جب تک انہی کیفیات میں گھرا رہتا تب تک اس سے اپنا کام نہیں ہونا تھا۔
میں جرگہ کے فیصلہ کے بعد حجرے سے حویلی میں منتقل ہوگیا۔ میرا ذیادہ وقت اب بھی حجرے میں ہی گزرتا تھا۔ جو کہ حویلی کے سامنے یہ ایک گھر کی صورت میں بنا ہوا تھا لیکن اب یہ آسانی تھی کہ حویلی میں آنے جانے کی وجہ سے مجھے براہ راست وہاں کے مسائل اور ضروریات کا علم رہتا تھا۔
گلریز خان کی بیوہ کا نام مہک خان تھا۔ بھابی پختون روایات کے برعکس گلریز خان کی راز دان تھیں اور وہ انہیں تمام معاملات سے آگاہ رکھتا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ وہ اپنی خانگی زندگی میں ایک اچھا شوہر تھا اور اس کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان اعتماد اور بھروسہ کا رشتہ ہی اصل رشتہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو کبھی عملی زندگی میں نہیں لائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اسے تمام معاملات اور دن بھر کی مصروفیات سے آگاہ رکھتا تھا۔
شریک حیات کے لیے یہی بہت ہوتا ہے کہ اس کا شوہر اسے اپنی زندگی کے تمام معاملات میں شریک رکھتا ہے اور ان سے مشورے بھی کرتا ہے وہ کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتی کہ حقیقت کیا ہے۔ شریک حیات کو یوں اپنے معاملات میں شریک کرنا اپنے پن کا احساس دلاتا ہے۔ گلریز خان اس لحاظ سے آئیڈیل شوہر تھا۔ اس کے خانگی معاملات احسن انداز میں چل رہے تھے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ مہک بھابی کو بیوہ ہونے کے بعد بہت سے معاملات کا علم تھا اور ان کے پس منظر سے بھی آگاہ تھیں۔ میرے سلسلے میں ان کی گواہی اس کی بڑی دلیل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اب میں نے بھی ان سے اکثر معاملات میں مشورہ لینا شروع کردیا تھا۔ وہ مجھے پوری تفصیل سے آگاہ کرنے کے بعد مشورہ دیتیں جو اکثر کامیاب ہی رہتا۔
مہک بھابی کو جرگہ کی کارروائی اور میرے اعلان سمیت سب رپورٹس مل چکی تھیں۔ میری جانب سے انہیں بہن کہنے کے واقعہ نے ان کے دل میں میری عزت مزید بڑھا دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب میں حویلی منتقل ہوا تو انہوں نے مجھ سے پردہ کرنے کے بجائے یہ کہہ دیا کہ ایک بہن اپنے بھائی سے پردہ نہیں کرسکتی۔ اس سے جہاں میرا مان بڑھ گیا وہیں میں اس مشکل سے بھی نکل گیا کہ میں حویلی میں کیسے داخل ہوسکتا ہوں جہاں کے مکین مجھ سے پردہ کرتے ہیں۔ مہک بھابی نے یہ فیصلہ کر کے مجھے ان مشکلات سے بھی باہر نکال دیا تھا۔ ہم حقیقی معنوں میں بہن بھائی ہی تھے۔
حویلی میں جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں ایک اور اہم معاملے کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ سچ کہوں تو گل ریز خان والے حادثہ نے مجھے کسی اور جانب سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔ میں بیٹھا تھا کہ میں اپنے ساتھ آئمہ اور اس کے بھائی عثمان کو بھی رہا کروا کر لایا تھا۔ اس بچی کو بھی میں نے بہن کہا تھا۔ جب گل ریز خان اور مجھ پر حملہ ہوا تو یہ دونوں بھی اسی گاڑی میں تھے۔ گل ریز خان کو گولی لگنے اور مسلسل فائرنگ نے ان کے اعصاب شل کردیے تھے۔ جب ہماری گاڑی اسپتال پہنچی تو تب تک یہ دونوں بہن بھائی بے ہوش ہی تھے۔ مجھے لگا تھا کہ شاید انہیں بھی کوئی گولی لگ گئی ہے۔ اس کے بعد گل ریز خان کی موت اور دیگر معاملات کی وجہ سے میری توجہ اس جانب نہیں ہوئی۔ شاید میرے لاشعور میں تھا کہ یا تو یہ دونوں بھی جاں بحق ہوگئے ہیں یا پھر اپنے شہر پہنچ چکے ہوں گے۔
اب حویلی آیا تو وہیں آئمہ اور عثمان کو دیکھ کر مجھے ندامت کے شدید ترین احساس نے گھیر لیا۔ میں نے آئمہ سے معذرت کی تو اس نے پھیکی سی ہنسی سے اسے ٹال دیا اور کہا کہ اسے صورتحال کا علم ہے۔ جہاں اتنے دن وہ اذیت میں رہی وہیں چند روز مزید گزر جائیں تو کیا حرج ہے۔ مہک بھابی نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کی اس کے گھر والوں سے بات کروا دی تھی اور خود بھی بات کر کے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ اب آئمہ اور اس کا بھائی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ آئمہ کو لانے کے دوران ان کے شوہر دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔ اس لیے بعض معاملات کی وجہ سے آئمہ کو یہاں کچھ عرصہ لگ جائے گا لیکن اب وہ محفوظ ہے۔ انہوں نے عقل مندی یہ کی کہ اس کے گھر والوں کو مکمل تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ کس جگہ کس کی تحویل میں ہے۔
یہ پاک افغان سرحدی علاقہ ہی تھا۔ یہاں افغان سم چلتی تھی اور ان کے سگنل بھی آتے تھے۔ مہک بھابی نے افغان سم کارڈ سے فون کیا تھا جس کی وجہ سے وہاں افغانستان کا نمبر گیا تھا۔ دوسری طرف ان علاقون کی صورتحال ایسی تھی کہ نہ تو آئمہ کے گھر والے کسی قسم کی مہم جوئی کرسکتے تھے اور نہ ہی پولیس کا ان علاقوں میں اثر و رسوخ تھا۔ اس لیے اس کے گھر والے محض مناسب وقت کا انتظار ہی کرسکتے تھے۔ البتہ اب انہیں یہ اطمینان تھا کہ ان کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور جلد ہی ان سے آملیں گے۔
میں نے صورتحال کا جائزہ لیا۔ ابھی مجھے کئی محاذ چھیڑنے تھے۔ میرے دشمن اسی علاقے میں کہیں تھے اور میں ان کے پیچھے ہی یہاں آیا تھا۔ ان سے کسی بھی وقت مڈ بھیڑ ہوسکتی تھی۔ اسی طرح مجھے گلریز خان کے دشمنوں سے بھی سلسلہ آگے بڑھانا تھا۔ اس کے کئی دشمن تھے جو اب گلریز خان کی جائیداد کی طرح میرے حصے میں آچکے تھے۔ اسی طرح گلریز خان کے قاتلوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا تھا۔ عین ممکن تھا یہ سب محاذ ایک ساتھ کھل جاتے۔ ایسی صورت میں نہ تو میری زندگی کی ضمانت تھی اور نہ ہی اس بات کی کوئی ضمانت تھی کہ اس دوران آئمہ اور اس کا بھائی اپنے گھر پہنچ پائیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر بیک وقت کئی محاذ کھل جاتے تو کمالے جٹ کو اپنی عادت کے مطابق آگے رہ کر لڑنا تھا۔ لہ ذا یہ ممکن نہ ہوتا کہ میں آئمہ کو اپنی نگرانی میں اس کے گھر روانہ کرپاتا۔ حویلی منتقل ہونے کے اگلے ہی ہفتے میں نے آئمہ کو بلایا اور اسے نوید سنائی کہ اسی ہفتے وہ اپنے گھر والوں سے مل سکے گی۔ اس لیے ضروری تیاریاں کرے۔ اے بحفاظت لاہور اس کے گھر پہنچا دیا جائے گا۔ اسے چند لمحوں تک جیسے میری بات کا یقین ہی نہ آیا۔ کیا ہم واقعی اپنے گھر پہنچ جائیں گے؟ اس کے لہجے سے بے یقینی جھلک رہی تھی۔
مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
آپ پر ہی تو اعتبار ہے اب تک آپ مجھے بچاتے آئے ہیں ورنہ کوئی اور ہوتا تو جانے کب کا جان چھڑا چکا ’’ ‘‘ ہوتا۔ آپ تو گولیاں چلاتے ہوئے بھی ہمارا خیال رکھ رہے تھے۔
لڑائی کے منظر یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں نظر آنے لگی۔ وہ شہر میں پلی بڑھی معصوم سی بچی تھی۔ جس نے اس سے پہلے ایسے مناظر صرف فلموں میں دیکھے ہوں گے۔ اب وہ خود ایک زندہ فلم کا حصہ بن چکی تھی۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے گھر واپسی کی تیاریاں کرنے کا کہا۔
میرا ارادہ تھا کہ آئمہ کو اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ کوئی بھائی اپنی بہن کو کرتا ہے۔ اس کے لیے مجھے دو چار دن درکا تھے۔ میں نے ان دو دنوں میں سالار خان کو اس بارے میں ہدایات دیں اور آئمہ کے لیے یہاں کے روایتی لباس اور زیورات خریدے۔ اسی طرح عثمان کے لیے بھی خریداری کی۔ تین روز بعد آئمہ کی روانگی تھی۔ جس دن اسے یہاں سے واپس جانا تھا اس دن کی عجیب سی کیفیت تھی۔ متعدد خدشات اور انجانہ خوف اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ اسی طرح وہ مہک بھابی سے کافی مانوس ہوچکی تھی۔ وقت روانگی وہ ان سے لپٹ کر رونے لگی۔ انہوں نے اسے تسلی دی اور گھر لوٹنے پر مبارکباد دی۔ میں ایک طرف کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔ آئمہ نے جس لینڈ کروزر میں سفر کرنا تھا اس میں وہ تمام تحفے رکھ دیے گئے تھے جو کمالے جٹ نے اپنی بہن اور بھائی کے خریدے تھے۔ اسی طرھ اس کی گاڑی کے
ساتھ جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی دو جیپیں بھی تھیں۔ ان میں سے ایک جیپ نے اس کی گاڑی کے آگے رہنا تھا جبکہ دوسری نے پیچھے آنا تھا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ سب بہت ضروری تھا۔ آئمہ مہک بھابی سے فارغ ہوئی تو سسکتی ہوئی میرے سینے سے آلگی۔ اس کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ ایک بھائی کے لیے بہن کے جذبات سمجھنے کے لیے الفاظ کی ضرورت ہوتی بھی نہیں ہے۔ بھائی بنا کہے سمجھ جاتے ہیں کہ بہن کیا کہہ رہی ہے۔ خدا نے بہن کے آنسوئوں میں وہ تاثیر رکھی ہے جو بھائی کو اس کے دل کے بھید بتا دیتی ہے۔ میں نے شفقت سے آئمہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا۔
‘‘ پگلی رونے کا وقت تو گزر گیا ہے۔ اب تو گھر جانے کا وقت ہے۔ پہنچ کر مجھے فون کردینا۔ ’’
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کہنے لگی۔
‘‘ بھائی آپ جب واپس آئو گے تو مجھ سے ملنے آئو گے نا۔ مجھے بھول تو نہیں جائو گے؟ ’’
میں نے اس کے سر پر ایک چپت لگاتے ہوئے ماحول کی اداسی ختم کرنے کی کوشش کی اور کہا۔
ہاں، میں ضرور آئوں گا اور تمہاری شادی میں تو مجھے ہر حال میں آنا ہی ہے۔ اس کے بعد ہم حویلی سے ’’ نکلنے لگے تو میں نے اسے کچھ نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔ اسے بتایا کہ اس کے اور عثمان کے لیے جو تحائف لیے تھے وہ گاڑی میں ہی ہیں اور اس کی حفاظت کے لیے مسلح محافظوں کی دو جیپیں بھی ساتھ سفر کریں گی۔ میں نے کچھ رقم بھی اس کے پرس میں رکھ دی تاکہ دوران سفر ضرورت پڑے تو اس کو تنگی نہ ہو۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے میری جانب دیکھا اور پھر خاموش ہوگئی۔ میں نے اسے آخر میں ایک بار پھر یاد دلایا کہ اب اسے عثمان کا خاص خیال رکھنا ہے۔ اس بے چارے کے ساتھ جو ظلم ہوا تھا وہ اس کی شخصیت مسخ کرسکتا تھا۔ اس لیے چند ماہ اس کے دوسر اسکول اور سوسائٹی پر خاص نظر رکھنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ غلط ہاتھوں میں نہ جاسکے۔ آئمہ میری باتیں غور سے سن رہی تھی اور سمجھ بھی رہی تھی۔ درمیان میں اس نے ایک دو سوال کر کے رہنمائی بھی لی۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دونوں بہن بھائی اس وقت ہاتھ ہلاتے رہے جب تک میں انہیں نظر آتا رہا۔ ان کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد میں واپس حویلی چلا آیا۔ ایک اہم فرض ادا کرنے کے بعد اطمینان کی جو لہر جسم میں سرایت کرتی ہے اب مجھے اس کیفیت کا سامنا تھا۔ میں اپنی ذات میں ایک بار پھر سرخرو ہو چکا تھا آئمہ کو اس کے گھر روانہ کرنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے سر سے کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا ہو۔ اس بچی کے ساتھ بہت ظلم ہوا تھا شاید درندوں کو احساس نہیں ہوتا کہ بیٹیوں کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ اس دکھ کا احساس صرف بیٹی والے کو ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن درندوں میں احساس ہوتا تو انہیں درندہ کون کہتا؟
آئمہ کو بھیجنے کے بعد میں نے بعض معاملات میں مہک بھابی سے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں حویلی میں گیا تو ان کے سامنے جا بیٹھا۔ وہ میرا انداز دیکھتے ہی سمجھ گئیں کہ میں کوئی بات کرنا
چاہتا ہوں۔ اس لیے خاموشی سے میری جانب دیکھنے لگیں۔ میں نے کچھ دیر غور کیا کہ کیا مجھے اس موقع پر یہ موضوع چھیڑنا چاہیے یا نہیں پھر اس فیصلے پرپہنچا کہ یہ باتیں کبھی نہ کبھی تو ہونی ہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور یہ ذکر چھیڑے اور پھر زبانوں کو لگام نہ دی جاسکے۔ ہمیں خود ان معاملات پر کسی حتمی نتیجے یا فیصلے تک پہنچ جانا چاہیے۔ اس لیے میں نے جی کڑا کر کے مہک بھابی سے کہا۔
بھابی! میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں یہ بہت ضروری ہے کہ بعض اہم معاملات پر ہماری کوئی ’’ ‘‘ متفقہ رائے قائم ہوجائے اور ہم کسی فیصلے تک پہنچ جائیں۔
مہک بھابی نے مجھے الجھن آمیز نظروں سے دیکھا اور کہنے لگیں۔
گل ریز خان تم پر بہت اعتماد کرتے تھے تم نے جو بات کرنی ہے یقینا اس میں کوئی بہتری کی نیت ہی ’’ ہوگی۔ اس لیے بے فکر ہو کر اپنی بات کرو۔
حوصلہ افزائی ملتے ہی میں نے کہا۔
بھابی آپ میرے لیے بہن جیسی ہی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم لوگوں کی زبانیں نہیں کھینچ سکتے۔ ’’ ہم اس حویلی میں اکھٹے رہتے ہیں۔ میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ جب تک میں موجود ہوں تب تک کوئی اس حویلی کی جانب میلی نظر سے نہیں سکتا۔ میں آپ کی حرمت کا محافظ ہوں لیکن بہرحال ہم فطرت اور سچائی سے منہ نہیں موڑ سکتے۔ آپ کی عمر اتنی زیادہ نہیں ہے اور پوری جوانی آپ کے سامنے پڑی ہے۔ ‘‘ اصولی طور پر آپ کو اپنی اگلی زندگی کا سوچنا چاہیے۔
مہک بھابی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے انہیں روکتے ہوئے کہا۔
پہلے میری بات مکمل ہونے دیں آپ کا رد عمل بھی فطری ہے لیکن بہرحال آپ کو کسی نہ کسی سے ’’ شادی کرنی ہی ہوگی۔ اس بارے میں آپ نے کیا سوچا ہے اور کے ذہن میں کیا ہے؟
یہ زندگی یوں بسر نہیں کی جاسکتی۔ میں آج مارا جائوں یا کل واپس چلا جائوں کچھ پتا نہیں ہے۔ آپ کا ’’ میکہ مضبوط سہی لیکن اب آپ کی تنہائی آپ کے لیے مسائل کا باعث بنے گی۔ میں اپنی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ گل ریز خان کی تمام جائیداد آپ کی اور میرے بھتیجے شمریز خان کی ہے۔ میں یہ سب آپ کو سونپ کر جائوں گا۔ میرے کمرے میں تمام کھاتے اور رجسٹر موجود ہیں جن میں ایک ایک پائی کا حساب ہے۔ میں نے آئمہ کو جو تحائف دیے ہیں وہ میری ذاتی رقم سے خریدے گئے ہیں۔ پھر بھی جاتے وقت حساب کتاب میں آپ کو کوئی کمی محسوس ہوئی تو میں وہ پوری کردوں گا۔ بھابی یہ سب آپ کا ہے لیکن اس کے باوجود یہ دولت آپ کے لیے مشکلات کھڑی کردے آپ کو کسی کے ساتھ شادی کرنی ہی
پڑے گی۔ شمریز خان کے اچھے مستقبل کے لیے بھی اور اپنی جانب اٹھتی نظروں اور سازشوں کے خاتمہ کے لیے بھی اگر آپ کے ذہن میں کوئی ہو تو میں خود اس سے بات کرنے پر تیار ہوں۔ میں ایک بھائی کی ‘‘ حیثیت سے یہ فرض نبھانا چاہتا ہوں۔
مہک بھابی نے میری بات خاموشی سے سنی لیکن آخری جملہ سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ کچھ دیر یونہی سسکتی رہیں۔ میں بے بسی کے عالم میں ان کی جانب دیکھ رہا تھا۔ مجھے اس رد عمل کی توقع تو تھی لیکن میں انہیں دکھ نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ انہوں نے جلد ہی اپنی اس کیفیت پر قابو پالیا اور کہنے لگیں۔
ہو سکتا ہے تمہاری باتیں درست ہوں مجھے تمہارے خلوص اور نیت پر شک نہیں اور تم میرے لیے ’’ بھائیوں سے بڑھ کر ہو لیکن میں صرف خان جی کی ہی ہوں۔ وہ اس دنیا میں نہیں لیکن شمریز خان ہمارے مضبوط رشتے کی علامت ہے۔ میں کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی تم مجھے اب دوبارہ ایسی بات کہو گے۔ خدا گواہ ہے مجھے دولت اور جائیداد سے سروکار نہیں ہے۔ تم یہ سب لے جانا چاہو تو بے شک لے جانا ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے جس سے میرا بیٹا کسی کا محتاج نہ رہے اور جوان ہو کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرسکے میں اسے لے کر کہیں دور چلی جائوں گی۔ جہاں نہ تو یہاں کی دشمنیاں اس کے پیچھے آسکیں اور نہ وہ ان روایات کے جال میں جکڑا جائے اور آتشیں ہتھیاروں ‘‘ کو ہی زندگی سمجھ لے۔ میں اسے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں۔
میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ مہک بھابی بولتی چلی جا رہی تھیں۔ آج وہ اپنے دل کی کیفیات عیاں کر رہی تھیں۔ گلریز خان کی محبت اور اس کی موت نے انہیں اس سارے نظام سے متنفر کردیا تھا۔ حالانکہ وہ یہیں پیدا ہوئیں اور اب تک اسی نظام کا حصہ رہی تھیں۔ اب شوہر کے قتل کے بعد وہ اپنے بیٹے کو اس قبائلی روایات کے جال سے بچا کر کہیں دورے لے جانا چاہتی تھیں۔ یہاں رہتا تو ان کا بیٹا ایک طاقت ور سردار اور با اثر شخص بنتا لیکن وہ اسے سردار نہیں بنانا چاہتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ کسی اجنبی شہر میں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرلے اور سکون کی زندگی گزارے۔ شاید، طاقت، اختیار اور شہرت بھی کسی عذاب سے کم نہیںہوتی۔ وہ اس عثاب سے گزر چکی تھیں۔ اپنی تمام تر اچھائیوں اور نیک نامی کے باوجود ان کا سہاگ اسی طاقت کے نظام کی نذر ہوگیا تھا اور وہ عین عالم شباب میں بیوہ ہوچکی تھیں۔ اب انہیں اس نظام میں اپنے بیٹے کا بھی ایسا ہی انجام نظر آرہا تھا۔ مہک بھابی کی گفتگو جاری تھی۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ گلریز خان کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتیں اور نہ اس کے بعد کسی اور کو یہ حق دے سکتی ہیں کہ وہ ان کے نام سے گلریز کا نام ہٹا کر اپنا نام لگا سکے۔ان کے اٹل لہجے کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین سا ہو گیا کہ وہ زندگی بھر ہر طرح کی مشکلات تو برداشت کرتی رہیں گی لیکن اب دوبارہ شادی نہیں کریں گی۔ اب انہیں اس حوالے سے کوئی مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ زیادہ تنگ کرنے کا رد عمل انتہائی بھیانک بھی ہوسکتا تھا۔
میں نے مہک بھابی کو یقین دلایا کہ اب انہیں کوئی شادی پر مجبور نہیں کرے گا۔ میں ان کے ساتھ ہوں میں سمجھ سکتا تھا کہ گلریز خان سے بچھڑنے کا غم کتنا بڑا ہے۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب ان کی شادی اسی وقت ہوگی جب وہ خود اس پر آمادہ ہوں۔ میں کسی کو زبردستی ان کی زندگی کا فیصلہ نہیں کرنے دوں گا۔ اسی طرح اگر گل ریز خان کا بیٹا یہاں محفوظ نہ ہوا تو میں ان دونوں کو پنجاب لے جائوں گا۔
میں اپنے محسن اور دوست کی بیوی اور بچے کو ساری عمر اپنے پاس رکھ سکتا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں میرے لیے بہن ہی تھیں۔ اب اپنی بہن کے لیی جو مناسب سمجھتا وہی فیصلہ کرنے کا حق رکھتا تھا۔ یہ بات میں نے مہک بھابی کو بھی صاف کہہ دی تھی اور انہوں نے ایک بہن کی طرح ہی مجھے یہ حق سونپ دیا تھا۔ البتہ یہ واضح کردیا تھا کہ ان کی شادی کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا۔ میں نے ان کی یہ بات تسلیم کرلی۔
گلریز خان کے تمام معاملات اور لین دین اب ایک نظام کے تحت آچکا تھا۔ یہ سب کھاتو اور رجسٹروں میں لکھا جاتا تھا۔ ایک منیجر کم منشی کی یہی ذمہ داری تھی کہ وہ تمام حساب کتاب نوٹ کرتا جائے اور اسے متعلقہ کھاتے میں لکھتا جائے۔ شام کو وہ اپنا ریکارڈ مجھے دکھاتا تھا اور میں تسلی کرنے کے بعد انہیں اپنے پاس موجود کھاتوں میں بھی درج کرلیتا تھا۔ اس طرح ہر طرح کی آمدن اور خرچ کا ریکارڈ دو جگہ پر لکھا جاتا تھا کسی قسم کے غبن یا غلطی کی صورت میں دونوں رجسٹروں کو ملا کر اصل صورتحال تک پہنچا جا سکتا تھا۔
یہ حساب کتاب تاریخ کے مطابق لکھے جاتے تھے۔ اس لیے کسی بھی دن کی آمدن اور اخراجات کو الگ سے بھی تلاش کیا جاسکتا تھا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین سا ہوتا چلا گیا کہ اب گلریز خان کی جائیداد اور کاروبار میں غبن ہونا اتنا آسان نہیں تھا اور مہک بھابی یا شمریز خان بھی چند ہی گھنٹوں میں ان کھاتوں کو سمجھنے کے اہل ہوسکتے تھے اور اس کی مدد سے چند ہی روز میں سارے معاملات سمجھ سکتے تھے۔
شروع شروع میں یہ سارا نظام بناتے ہوئے مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گلریز خان کا سارا نظام ہی بکھرا پڑا تھا جسے سمیٹنا آسان کام نہ تھا مجھے اس دوران کھانے پینے کا بھی ہوش نہ تھا۔ مجھ پر ایک جنون کی سی کیفیت طاری تھی۔ سچ کہوں تو اسی جنون نے مجھ سے یہ کام کروالیا تھا۔ جنون ایک ایسی طاقت ہے جسے چیلنج کرنے والے کو ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاید یہی انسان کی مخفی قوتوں کا نام ہے۔ عالم جنون میں سرزد ہونے والی غلطی بھی معجزہ بن جاتی ہے۔ اس سے جانے کتنوں کا بھلا ہوجاتا ہے اور عالم جنون میں منہ سے نکلے الفاظ بھی عرش پر جا کر سر پٹخنا شروع کردیتے ہیں۔
میں جنون کی اس منزل پر نہیں تھا لیکن جنون کی ابتدائی منزل بھی کہاں کسی سے کم ہوتی ہے اس جنون نے ہی تو کمالے جٹ سے ایسے کھاتے تیار کروا لیے تھے جس کے لیے اسی فیلڈ میں اعل ی ڈگری ہولڈ ہونا شرط سمجھی جاتی ہے۔ میں اس کام میں ماہر نہیں تھا لیکن حفاظت اور امانت کا احساس مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ اب یہ کھاتے بن گئے تو مجھے اطمینان ہوا مجھ پر ڈالی گئی ایک بڑی ذمہ داری پوری ہو رہی تھی۔
میں نے آہستہ آہستہ مہک بھابی کو ان کھاتوں کا بنیادی ڈھانچہ سمجھانا شروع کردیا۔ روازانہ، ہفتہ وار، شش ماہی اور سالانہ بنیادوں پر آمدن اور اخراجات معلوم کرنے کا طریقہ کار بھی ، ماہانہ، سہہ ماہی سمجھا دیا۔ آہستہ آہستہ انہیں یہ حساب کتاب سمجھ آنے لگا اور وہ اسے اسی ڈھانچے پر مزید اندراج کے قابل ہوگئیں۔ اب یہ کہا جاسکتا تھا کہ گلریز خان کی بیوہ کو نا صرف تمام معاملات سے آگہی ہوچکی تھی بلکہ وہ انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر احسن انداز میں چلانے کی اہل بھی ہوچکی تھیں۔
اب میں کسی بھی وقت مارا جاتا تو بھی میرے محسن کی بیوہ اور بیٹے سے کوئی نہ تو جھوٹ بول کر ان کا حق چھین سکتا تھا اور نہ وہ اپنے معاملات چلانے کے لیے کسی منشی یا ملازم کی محتاج تھیں۔ یہ میری بہت بڑی کامیابی تھی۔ اب دوبارہ وہی کمالا جٹ انگڑائی لے کر بیدار ہو رہا تھا جسے دشمن کا خون بہا کر سکون ملتا تھا۔ جس کی زندگی کا مقصد صرف اپنے دشمنون سے انتقام لینا تھا اور جسے اپنی زندگی کی اتنی پرواہ تھی جتنا کہ کسی شخص کو پائوں تلے آنے والی چیونٹی کی ہوتی ہے۔
میں قبائلی علاقہ میں آیا تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ یہاں جان ہتھیلی پر ہی رکھنی ہے۔ ویسے ہتھیار اٹھانے سے لے کر اب تک میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ لڑائی میں زندہ وہی رہتا ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ لیتا ہے۔ جو لوگ جان بچانے کی فکر میں رہتے ہیں وہی سب سے پہلے مارے جاتے ہیں۔ یہ جنگ کی تلخ حقیقت ہے یہاں جان بچانے والوں کی جان پہلے جاتی ہے جو مرنے آتے ہیں وہ فتح کا تاج سر پر سجائے لوٹ جاتے ہیں۔ جنگ بہادروں کی قدر کرتی ہے اور بزدلوں سے نفرت کرتی ہے۔
گلریز خان کے مرنے کے بعد میں بزدل ہوگیا۔ جرگہ نے مجھے ایسی ذمہ داری سونپ دی تھی جو میرے قدموں کی زنجیر بن گئی تھی میں اپنے محسن کے اہل و عیال کا محافظ بن گیا تھا۔ محافظ جتنے بھی جری ہوں آگے بڑھ کر نہیں لڑتے۔ انہیں ایک دائرے تک محدود رہنا ہوتا ہے۔ وہ لڑاکے نہیں بلکہ صرف محافظ ہوتے ہیں۔ ان کا کام نہ جنگ جیتنا ہوتا ہے اور نہ آگے بڑھ کر دشمن کا سر قلم کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ انہیں صرف حفاظ کرنی ہوتی ہے۔ اسی لیے حفاظت کرنے والے کئی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں۔
میں اس جنگ میں لڑاکے کے طور پر اترا تھا لیکن جرگہ اور گلریز خان کی وصیت نے مجھے لڑا کے سے محافظ میں تبدیل کردیا تھا اب کمالا جٹ دوبارہ محافظ سے لڑاکا بن رہا تھا۔ اب گلریز خان کی بیوہ نا
صرف کاروباری معاملاتدیکھ سکتی تھی بلکہ اپنی حفاظت بھی کرسکتی تھی۔ وہ د رجنوں محافظ رکھ سکتی تھی اور اسے معلوم ہوسکتا تھا کہ ان محافظوں کی تنخواہ کس مد میں آنے والی رقم سے ادا کی جاسکتی تھی۔ اب میں آزاد ہوچکا تھا۔ اب مارا بھی جاتا تو غم نہ تھا۔
اب مجھے اپنا انتقام لینا تھا۔ اب گلریز خان کی روح میری جانب دیکھ رہی تھی۔ یہ فیصلے کی گھڑی تھی۔ مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ میں یہ دشمنی ختم کردوں یا پھر بھیانک انتقام لے کر دنیا کو ایک نئی مثال دوں۔ مین نے جلد ہی فیصلہ کرلیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ پھر میں نے زیادہ دیر نہیں لگائی اور سالار خان کو بلا لیا۔ اس نے آتے ہی میری جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور خاموشی سے کھڑا ہوگیا۔ یہ اس کی عادت تھی کہ میرے بلانے پر خود سے سوال نہیں کرتا تھا بلکہ سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ کر خاموشی سے کھڑا ہوجاتا تھا۔ اس کی یہ ادا مجھے ہی نہیں گلریز کان کو بھی بہت پسند تھی۔ میں نے سالار خان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ بیٹھ گیا تو میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
‘‘ سالار کان کیا تمہیں یاد ہے کہ گلریز خان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ’’
سالار خان نے حیرت سے میری جانب دیکھا اور کہا۔
‘‘ یہ بات کون بھول سکتا ہے۔ ’’
کیا تمہیں یہ بھی یاد ہے کہ اسپتال میں گلریز خان کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر میں نے تم سے کہا تھا ’’ کہ میں گلریز خان کے قتل کا بدلہ لوں گا۔ میں نے اگلا سوال کیا تو سالار خان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تصدیق کردی۔
اس کی تصدیق کے بعد میں نے کہا۔
سالار خان تب تم نے گلریز خان کا انتقام لینے کی حامی بھری تھی۔ آج میں تمہیں اس وعدے سے آزاد ’’ ‘‘ کرتا ہوں۔ تم چاہو تو ایک طرف ہوجائو۔ میں تمہیں اس انتقام کے لیے مجبور نہیں کروں گا۔
سالار خان میری بات سن کر جیسے تڑپ اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے لپکنے لگے وہ بولا تو اس کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
ملک صاحب اپنے خان کا بدلہ لینے سے اگر یہ سالار خان ایک قدم بھی پیچھے ہٹا تو اپنے باپ کی اولاد ’’ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ ‘‘ نہیں ہوگا۔
اس کا لہجہ مجھ پر واضح کرگیا کہ وہ اس جنگ میں میرے ساتھ کھڑا ہوگا۔ میں نے حتمی لہجے میں اسے کہا۔
سالار تو پھر سن لو، میں گلریز خان کا انتقام لینے لگا ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کے قتل کے ’’ پیچھے کس کا ہاتھ تھا اور کون اس سازش میں ملوث تھا میری آنکھیں شعلے برسانے لگیں اور سالار خان مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
…٭٭٭…

Read More:  Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 37

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: