Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 13

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 13

لمحے کے ہزارہویں حصے میں میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ میں پکڑا جا چکا ہوں۔ ہیرا منڈی سے فرار ناکام ہو چکا تھا یہاں میرا کوئی ایسا واقف نہ تھا جو یوں روکنے کی ہمت کرتا۔ میں لاہور رہا تھا لیکن اس بازار سے میرا کبھی بھی کوئی تعلق نہ رہا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میرے دوستوں میں سے کوئی اس بازار کی جانب نہیں آتا تھا۔ ہماری اور ہی مصروفیات ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے اس قسم کی خرافات سے بچے رہتے تھے۔ گائوں کا کوئی شخص ہوتا یا کوئی واقف ہوتا تو وہ کبھی بھی یوں میرے کندھے پر ہاتھ نہ رکھتا۔
یہ بازار شہر کا عام بازار نہیں تھا جہاں ہمیں کوئی واقف کار مل جائے تو ہم آواز دے کر روک لیتے ہیں، بھاگ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں یہ بازار حسن تھا۔ خرید و فروخت یہاں بھی ہوتی تھی نئے آنے والوں کی جیبیںاس بازار میں بھی کاٹی جاتی تھیں۔ اچھا مال دکھا کر خراب مال دینا اس بازار کی بھی روایت تھی دھوکہ اور فریب بھی اس بازار میں ہوتا تھا۔ قسمیں کھا کر اپنے مال کی تعریف اس بازار میں بھی کی جاتی تھی۔ شہر کے دیگر بازاروں کی روایات اور عادات یہاں بھی نظر آتی تھیں۔
یہاں فرق صرف اتنا ہے کہ بازاروں میں بے جان اشیا کی خرید و فروخت ہوتی ہے وہاں بکنے والی جنس احساسات سے عاری ہوتی ہے۔ اس بازار میں بھی جنس ہی بکتی ہے۔ یہاں زندہ جسموں میں مردہ روحیں بھی بیچی جاتی ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ عام بازار میں اشیا بکتی ہیں جبکہ اس با زار میں زندہ انسان بیچے جاتے ہیں۔
میرے خیال میں بیچنے کا لفظ درست نہی یہ واحد بازار ہے جہاں کچھ نہیں بکتا۔ یہاں صرف چند گھنٹوں کے لیے کرایہ پر اشیا دی جاتی ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس بازار میں اشیا سے مراد زندہ اور جیتے جاگتے لوگ ہیں۔ انسانوں اور جسموں کا سودا کرنے والے اس بازار کے باسی انسانوں کو غلام بنانے کا فن جانتے ہیں۔ کرتے دیکھا تھا۔ ‘‘سلام’’ میں نے چند ہی دنوں میں یہاں بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کو
یہ وہ بازار ہے جہاں شناسا ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ چھپا لیا کرتے ہیں۔ یہاں نظر آنا بھی بدنامی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی شناسا مجھے یہاں دیکھ کر فرط محبت میں میری جانب چلا آتا۔ مجھے روکنے والے کا تعلق یقینا شبنم بائی بائی یقینا بڑے بڑے سرمایہ کاروں سے تعلقات رکھتی تھی اس لیے یہ تو ممکن تھا کہ وہ اپنے کوٹھے میں چابی خفیہ کیمروں کا انتظام کروا کر رکھتی۔
اس سے ایک طرف تو اس کے کوٹھے میں ہونے والی سرگرمیوں کا علم ہوتا رہے اور دوسری جانب وہ اپنے ہاں آنے والوں کو بھی بعد میں اپنے مقاصد کے لیے لائن پر لا سکتی تھی۔
عین ممکن تھا جب میں چھپ چھپ کر اس کوٹھے سے فرار ہو رہا تھا تو وہاں موجود تمام طوائفیں میری اس حرکت پر مسکرا رہی ہوں کہ کمالا جٹ کیمروں کی موجودگی میں اتنا پاگل ہوگیا ہے کہ چھپ کر یہاں سے فرار ہو رہا ہے اور سبھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال یہ کام تو کرنا ہی تھا۔ مجھے یہاں سے ہر صورت فرار ہونا تھا لیکن اب میں پر کھولنے سے پہلے ہی دوبارہ پنجرے میں پہنچ گیا تھا۔
میری اڑان شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ کسی نے بازو تھام کر زمین پر کھینچ لیا تھا۔ میں نے مڑ کر اس شخص کو دیکھنا چاہا جس نے میری منزل کھوٹی کردی۔ اسے دیکھ کر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ اس کا تعلق شبنم بائی کے کوٹھے سے ضرور تھا لیکن بہرحال وہ میرے لیے برا نہیں سوچ سکتا تھا میں نے اسے گلے لگا لیا۔
وہ شاہد ملتانی تھا وہی شاہد ملتانی جو مجھے شبنم بائی کے کوٹھے پر چھوڑ گیا تھا اور میرے علاج معالجہ کے لیے رقم خرچ کر رہا تھا۔ اس نے میری زندگی بچائی تھی۔ اس لحاظ سے وہ میرا محسن تھا۔ میں بے ساختہ اس سے لپٹ گیا۔ اس نے بھی مجھے گلے سے لگا لیا۔ ہم الگ ہوئے تو میرے ہاتھ میں دبے لفافے کو دیکھ کر اس کی جانب اشارہ کیا اور کہنے لگا۔
‘‘ یہ کیا چوروں کی طرح بھاگ رہے تھے؟ کسی نے کچھ کہا ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ ’’
میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے لفافے کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے شرمندگی کا احساس ہوا۔ مجھے کم از کم بائی کو یہ تو بتا دینا چاہیے تھا کہ میں یہ جگہ چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ جانے والوں کو بھلا کب کوئی روک پایا ہے۔ بائی کمالے جٹ کو روک نہیں سکتی تھی البتہ یہ ضرور تھا کہ وہاں جھگڑا ہوجاتا لیکن یوں چوری چھپے نکل آنا بھی تو اخلاقی طور درست نہیں تھا۔ مجھے خود ہی ہنسی آگئی۔ میں ہیرا منڈی میں کھڑا اخلاقیات پر سوچ رہا تھا۔
شاہد ملتانی غور سے میری جانب دیکھ رہا تھا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
یوں لگتا ہے جیسے خود سے باتیں کرنا سیکھ گئے ہو۔آئو کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ ’’ تھاما اور ہم وہیں پاس ہی لسی والی دکان پر جا بیٹھے شاہد ملتانی نے دو گلاس لسی کا آرڈر دے دیا۔ اس دکان کی پیڑے والی لسی بہت مشہور ہے۔ عام شہری پیڑے والی لسی کا پودا گلاس شاہد ہی پی سکے۔ دیہاتی لوگ البتہ شوق سے پیتے ہیں یہ ایک گلاس لسی عام شخص کے لیے صبح کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے برابر ہے۔
راشد ملتانی نے مجھے جٹا والا میں ہونے والے پولیس مقابلے کی رو داد سنانی شروع کردی۔ اس کے مطابق پولیس بس دکھاوے کے لیے تھی۔ اصل مقابلہ اشتہاریوں سے اشتہاریوں سے ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ مقابلے پر آنے والے بھی بدمعاش ہی تھے اور انہیں بیگھے مل کر سرپرستی حاصل تھی۔ اس لڑائی کے اگلے دن ایک بڑے اشتہاری کی موت کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ شاہد ملتانی نے یہ خبر پڑھی جس کے مطابق وہ اشتہاری پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ یہ مقابلہ اسی تھانہ کی حدود میں ہوا تھا۔ جہاں اس دن ہم پولیس اور بیگھے مل کے غنڈوں کے ساتھ لڑ رہے تھے۔
شاہد ملتانی کو پورا یقین تھا کہ وہ اشتہاری ہمارے ساتھ لڑتے ہوئے ہی مارا گیا تھا۔ پولیس نے اس کی لاش اپنی ترقی کے لیے استعمال کرلی تھی۔ وہ مجھے بتا رہا تھا کہ اس نے اس کے بعد اس علاقہ میں اپنے ذرائع سے معلومات لی تھیں۔ وہ اشتہاری نہ تو گرفتار ہوا تھا اور نہ ہی اس دن پولیس کی ہمارے سوا کسی سے جھڑپ ہوئی تھی۔
اس اشتہاری کا شاہد ملتانی سے بھی لین دین رہا تھا لیکن وہ شاہد ملتانی کے گروپ میں نہیں تھا اور نہ اس دن وہ ہمارے ساتھ تھا۔ اس کا مطلب صاف تھا کہ وہ بیگھے مل والوں کی طرف سے لڑنے آیا تھا۔ شاہد ملتانی کا کہنا تھا کہ وہ جس پایہ کا اشتہاری تھا اس حساب سے اس کی موت بیگھے مل کا بہت بڑا نقصان ہے۔ وہ صرف لڑنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس نے بہت سے معاملات سنبھالے ہوئے تھے اور اکثر جگہ پر اس کا صرف نام ہی چلتا تھا۔
اگر وہ بیگھے مل کے لیے کام کرتا تھا تو اس کا مطلب ہے بیگھے مل کے غیر قانونی دھندوں میں سے آدھے ٹھپ ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سامنے کوئی سر اٹھانے کی تنہیں کرسکتے تھے لیکن ٔ جرا اس کے مرنے کے بعد بہت سے لوگ سر اٹھائیں گے اور بہت سے معاملات چوپٹ ہوجائیں گے۔
جرائم پیشہ افراد کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ان کے غیر قانونی کاروبار اعتبار کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں۔ یہاں نہ تو اسٹام پیپر لکھے جاتے ہیں اور نہ ہی معاہدوں پر دستخط کیے جاتے ہیں۔ ان کے طے شدہ خاموش معاہدے ہوتے ہیں جن کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ شاہد ملتانی کے بقول وہ اس اشتہاری کی وجہ سے اس پٹی میں پائوں نہیں پھیلا رہا تھا جہاں جٹا والا بھی آتا تھا۔ اس علاقے کے دو نمبر دھندے اسی اشتہاری کی سرپرستی میں ہوتے تھے۔
اس وقت شاہد ملتانی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ بیگھے مل کے لیے کام کر رہا ہے۔ اب اسکے مرنے کے بعد ملتانی کا راستا صاف تھا اور اس نے وہاں اپنے بندوں کو پھیلا دیا تھا جو وہاں پائوں جما رہے تھے۔ بیگھے مل کے غنڈوں سے لڑائی کے دوران شاہد ملتانی کا بھی نقصان ہوا تھا۔اس کے بھی اہم ساتھی مارے گئے تھے۔ تہہ خانہ سے باہر نکلتے وقت ہمیں یہی پتا تھا کہ پولیس نے گھیرائو کرلیا ہے لیکن باہر جدید ہتھیاروں
سے ہونے والی لڑائی نے یہ واضح کردیا تھا کہ پولیس کا بس نام یا ٹھپہ استعمال ہوا ہے۔ اصل لڑائی کسی اور سے تھی اور وہ بیگھے مل تھا۔
اس جھڑپ کے بعد شاہد ملتانی نے بیگھے مل کو اپنے ذاتی دشمنوں میں شامل کرلیا تھا۔ اپنے خاص اشتہاری کی موت سے بیگھے مل کر جو وقتی جھٹکا لگا اس سے شاہد ملتانی فائدہ اٹھا رہا تھا۔ وہ اس علاقے کے بدمعاشوں میں اپنی دھاک بٹھا رہا تھا۔ جرائم کی دنیا میں اس کے نام کا ڈنکا بچتا تھا اور چھوٹے موٹے بدمعاش اس سے انکار نہیں کرسکتے تھے کہ اگر شاہد ملتانی ان سے دھندے کی بات کرے اور وہاں اس کا ٹکڑا کا کوئی موجود نہ ہو تو پھر شاہد کو نہ کرنا ممکن نہیں۔ اس سے دشمنی مول لے کر کون اپنی زندگی کے دن کم کرنا پسند کرتا۔
اب بیگھے مل کی بجائے اس علاقہ کے دو نمبر دھندوں میں شاہد ملتانی کے لوگ قدم جماتے جا رہے تھے۔ ہیروئن، اسلحہ، چرس، شراب غرض سبھی کاموں میں بیگھے مل کی ساکھ خراب ہوتی جا رہی تھی اور شاہد ملتانی کے نام کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ میرے لیے یہ خوشی کی خبر تھھی۔ بیگھے مل کو جتنا بھی نقصان ہوتا کم تھا۔ میں تصور میں اسے اپنے بال نوچتے دیکھ رہا تھا۔
اس کی بدمعاشی اور سر اٹھانے کی اصل وجہ یہی تھی کہ اس نے اشتہاری مجرم پال لیے تھے اور غیر جاگیر اور دیگر کام صرف دکھاوا تھا۔ اب اس کا اصل ، قانونی دھندوں میں ملوث ہوچکا تھا۔ زمینداری کاروبار یہی تھا جس پر شاہد ملتانی تیزی سے اپنا قبضہ جماتا جا رہا تھا۔ اگر بیگھے مل کا یہ کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوجاتا تو وہ کہیں کا نہ دہتا۔
گائوں میں اب وہ ناقابل برداشت ہوچکا تھا۔ اس کی اس غیر قانونی طاقت اور پولیس کی سرپرستی ہی اس کی اصل طاقت تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ خوفزدہ رہتے تھے اور کوئی اس کے سامنے سر نہیں اٹھاتا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ مجھے امید نہیں تھی کہ شاہد ملتانی اس پر عمل کرے گا لیکن میں ایک آخری کوشش ضرورکرنا چاہتا تھا۔ میں نے شاہد ملتانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
‘‘ اگر میں کسی خواہش کا اظہار کروںتو کیا میری مدد کرو گے؟ ’’
اس نے عام سے انداز میں کہا۔ ‘‘ ہاں کہوں کیا بات ہے۔ ’’
میں نے چند لمحے مزید اپنے خیال پر غور کیا لیکن اس کی حوصلہ افزا نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ملتانی میری خواہش ہے کہ جٹا والا اور اس کے ارد گرد جہاں جہاں غیر قانونی دھند ہو اور بیگھے مل کو ’’ نقصان ہو وہاں یہ دھندا میرے نام سے کیا جائے۔ بیگھے مل کو ہر نقصان پر میرا نام سنائی دے۔ مجھے اس دھندے سے کچھ لینا دینا نہیں نہ میں اس میں کسی بھی طرح کا حصہ دار ہوں لیکن پھر بھی یہ ایک
درخواست ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس دھندے میں نام ہی سب کچھ ہے تمہارا نام چلے گا تو اس علاقہ میں تمہاری مزید دھاک بیٹھ جائے گی۔ اس لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا لیکن یہ سب سوچنے کے باوجود ‘‘ میں نے فیصلہ کیا کہ میں تم سے یہ درخواست ضرور کروں گا۔ اسے ماننا یا نہ ماننا تمہارا اختیار ہے۔
میرے خاموش ہوتے ہی بیگھے مل مسکرایا اور کہنے لگا۔
کمالے میں نے تمہیں اپنا بھائی کہا ہے تو میں اسے نبھانا بھی جانتا ہوں۔ اس دھندے میں میرا نام کہ آیا ’’ تو کوئی اور اس خالی جگہ کو کور کرنے کے لیے چلا آئے گا۔ میرا نام ہی بہت سے اشتہاریوں کو یہاں ٹانگ اڑانے سے روکے رکھے گا۔
اس نے میری جانب یوں دیکھا جیسے یہ تسلی چاہتا ہوں کہ میں اس کی بات سمجھ رہا ہوں یا نہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو کہنے لگا۔
اس حقیقت کے باوجود میں تمہاری خواہش رد نہیں کرسکتا۔ یہ انتقام کا جذبہ ہی تمہیں طاقتور بنائے ’’ گا۔ میں یہ انتظام کردیتا ہوں کہ یہ بات سب کو معلوم ہوجائے کہ اس دھندے کے پیچھے شاہد ملتانی ہی ہے لیکن اس پٹی میں شاہد ملتانی کا کام کمالا جٹ سنبھال رہا ہے۔ تمہیں اپنا پارٹنر ظاہر کردیتا ہوں اور آج ‘‘ سے یہ علاقہ تمہارا ہے تم یہاں میرے دھندے کو چلا رہے ہو۔
یہاں ہر کام کی ذمہ داری تم پر ڈالی جائے گی اور جب جب بیگھے مل کو نقصان ہوگا تب تک تمہارا نام ’’ ہی سامنے آئے گا۔ البتہ تمہارے پیچھے میرا نام ہوگا جس کی وجہ سے باقی بدمعاش تمہیں نہیں ‘‘ چھیڑیں گے۔ میرے لوگ اپنا کام کرتے ہیں گے۔
شاہد ملتانی دم لینے کو رکا تو میں نے حیرت سے پوچھا۔
کیا تم واقعی یہ سارا سیٹ اپ میرے نام سے چلائو گے؟ مجھے تو شاید کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔ ایک ’’ ‘‘ دم سے ایک نیا نام اس قدر بڑے علاقے کو چلانے لگے تو کیا مشکلات نہیں آئین گی۔
شاہد ملتانی نے میری جانب یوں دیکھا جیسے استاد کسی نادان بچے کو دیکھتا ہے پھر کہنے لگا۔
اس دھندے میں میرا نام ہی کافی ہے۔ میں دس سال کے بچے کو کسی سیٹ اپ کا ہیڈ بنا دوں تو یہ ’’ چھوٹے موٹے بدمعاش اسے بھی استاد مان لیں گے۔ ویسے بھی تمہارا صرف نام آئے گا۔ کام کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں گا اور میرے لوگ ہی کام کریں گے۔ اس لیے تمہیں اس بارے میں فکر مند ہونے کی ‘‘ ضرورت نہیں ہے۔
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
‘‘ ہاں اب سمجھ گیا اگر ایسے ہوگا تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ’’
شاہد ملتانی کہنے لگا۔
لالے مسائلہ تو یہیں سے شروع ہوگا۔ تمہارا نام چلے گا تو مقدمات بھی تمہارے نام پر درج ہوں گے۔ ’’ پولیس کے پورے محکمہ میں تمہارے نام کی گونج سنائی دے گی۔ وہ سور پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈیں گے اور اگر تم ان کے ہاتھ لگ گئے تو تم سے کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ تم ان دھندوں میں ملوث تھے یا نہیں تھے۔ وہ تمہیں سیدھا اندر کردیں گے یا پھر کسی جعلی پولیس مقابلے میں مار دیں گے۔ اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے بیگھے مل کو تو تمہارے زخم لگتے رہیں گے لیکن جب تمہاری پکڑ آئے گی تو تم ہزار بار واویلا کرو کوئی تمہاری بے گنائی کا یقین نہیں کرے گا۔ عین ممکن ہے تمہاری سر کی قیمت رکھ دی جائے اور تم اشتہاری قرار پا جائو۔ یہاں کئی اشتہاری ایسے ہیں جنہوں نے اشتہاری ہونے سے پہلے چری ‘‘ کا بچہ بھی نہیں مارا تھا۔
شاہد ملتانی کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ وہ سچ کہہ رہا تھا میں دنیا سے کٹ کر اشتہاری اور مجرموں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہونے والا تھا۔ دماغ اس کی بات مان رہا تھا اور پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے رہا تھا۔ دوسری جانب دل کا کہنا تھا کہ دماغ کی نہ مانوں، اگر پولیس مجھے اشتہاری قرار دلوا دے گی سر پر انعام رکھ دیا جائے گا میرے خیال جھوٹے پرچے کاٹے جائیں گے تو سوال یہ ہے کہ اب کونسا ایسا نہیں ہے میرے خلاف جانے کتنے جھوٹے اور کتنے سنگین مقدمات درج ہوچکے تھے پورے ضلع کی پولیس پاگلوں کی طرح مجھے ڈھونڈ رہی تھی۔ میں اب بھی قانون کی نظر میں خطرناک مجرم ہی تھا۔
میں گرفتار ہوتا تو شاید بیگھے مل کے پالتو کتے سرکاری فرض بھول کر مجھے گولی مار دیتے اگر وہ نہ مارتے تو بھی مجھے گرفتار کرنے والے اس ڈر سے میرا جعلی پولیس مقابلہ کردیتے کہ موجودہ نظام میں بدمعاشوں کے لیے رہائی حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اگر مجھ جیسا خطرناک مجرم رہا ہوجائے تو اسے گرفتار کرنے والے ایماندار پولیس اہلکار پر زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔ اگر میں نے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں یہ سزائیں پانی ہی ہیں تو پھر ایک جرم کیا اور ہزار جرم کیا؟
شاہد ملتانی خاموشی سے میری بدلتی ہوئی کیفیت کا جائزہ لے رہا تھا۔ بالآخر میں نے حتمی فیصلہ کیا اور مضبوط لہجے میں کہا۔
لوگ مجھے مجرم بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور یہاں کے محافظ ‘‘عزت دار’’ ملتانی! اگر اس معاشرے کے ’’ مجھے خود شکاری کتوں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہیں تو پھر ایک جرم ہو یا ہزار جرم ہوں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میں تیار ہوں۔ اب مجھے بیگھے مل کے تڑپنے کا منطر دیکھنا ہے۔ میں چاہتا ہوں اسے ہر زخم لگنے
پر میرا نام سنائی دی۔ وہ مجھے پاگل کتوں کی طرح ڈھونڈے اور میری طرف سے اسے چرکے لگتے رہیں۔ ‘‘ ملتانی میں اس اندھے کنویں میں کودنے کو تیار ہوں۔
شاہد ملتانی سر ہلاتے ہوئے کہا۔
چلو یہ مسئلہ تو حل ہوگیا آج سے اس ساری پٹی میں تم میرے دھندے کی نگرانی کرو گے۔ باقی فیصلہ ’’ تم خود کرلینا۔ تمہیں صرف اپنا نام چاہیے تو بھی ٹھیک ہے اگر تم اس دھندے میں آنا چاہتے ہو تو یہ بھی تمہارے لیے بہت اچھا اسٹارٹ ہے۔ تمہارا پولیس ریکارڈ چند ہی دنوں میں بہت اوپر چلا گیا ہے۔ اب تک جتنی بھی جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں میرا نام کہیں نہیں آیا۔ ہر جگہ تمہارا ہی نام لیا گیا ہے کچھ بیگھے مل نے بھی تمہیں پھنسانے کے لیے باتیں پھیلا دی ہیں۔ اس کا یہ پراپیگنڈا بھی تمہارے کام آئے گا۔ تم دھنا شروع کرتے وقت ہی بنے بنائے سیٹ اپ کے نگراں کے طور پر سامنے آئو گے اور میں تمہاری پشت پر ‘‘ کھڑا ہوں گا۔ تم براہ راست ادھر کے سبھی معاملات سنبھال لو۔
میں نے کہا۔
میں نے میں نے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں سوچا عین ممکن ہے یہ نہ ہوسکے اور میں براہ راست ’’ جرائم کی دنیا میں نہ آئوںلیکن اگر مجھے لگا کہ یہ سب ناگزیر ہے تو میں تمہاری بات مان لوں گا۔ میں ‘‘ اس دھندے میں آئوں یا نہ آئوں لیکن تمہیں یہ یقین دلاتا ہوں کہ میں تمہیں کبھی دھوکا نہیں دوں گا۔
شاہد ملتانی نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر گرمجوشی سے دباتے ہوئے کہا۔
کمالے میں آج اگر زندہ ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں بہت بہادر ہوں۔ ہماری دنیا میں بڑے بڑے ’’ تیس مار خان لمحوں میں مار دیے جاتے ہیں۔ کوئی ان کا جنازہ پڑھنے بھی نہیں آتا۔ پولیس نے مارے تو دشمن مار دیتے ہیں۔ دشمن نہ مارے تو سجن مار دیتے ہیں شاہد ملتانی کو مار کر اس کی جگہ لینے والا چاہے اتنا بہادر نہ ہو لیکن شاہد ملتانی کی جگہ آنے کے بعد سب اسے اتنا ہی احترام دیں گے جتنا کہ مجھے دیتے ہیں۔ اس کا بھی اتنا ہی خوف ہوگا جتنا میرا ہے۔ وہ بھی میری طرح سارے دھندے سنبھال لے گا۔ اس دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ سمجھ لو یہاں بھی ایک ان دیکھی کرسی ہوتی ہے۔ شاہد ملتانی سے نہ تو کوئی ڈرتا ہے اور نہ ہی کوئی شاہد ملتانی کو سلام کرنے آتا ہے۔ یہ سب کرسی سے ڈرتے ہیں اور اسی کی پوجا کرتے ہیں۔ جو دنیا تم چھوڑ کر آئے ہو وہاں اس طاقت کو کرسی کہتے ہیں یہاں ہماری زبان میں ‘‘ اسے ڈنڈا کہتے ہیں۔ یہ ڈنڈا جس کے ہاتھ میں ہو اصل طاقت اس کی ہوتی ہے۔
شاہد ملتانی باقاعدہ لیکچر دینے لگا تھا لیکن اس کا ایک ایک لفظ دل پر اثر کر رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس سے سچا اس شہر میں کوئی نہ ہو۔ تلخ ہی سہی لیکن سچ بہرحال اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہم اس سے وقتی طور پر جان چھڑالیں تو بھی سچ ہماری جان نہیں چھوڑتا۔ وہ کہیں نہ کہیں
ذہن کے کسی گوشے سے چپکا رہتا ہے اور کسی نہ کسی لمحے سر اٹھا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ شاہد ملتانی ٹاپ تھری اشتہاریوں میں شمار ہوتا تھا لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ حقائق کیا ہیں۔ وہ طاقت کے نشے میں حقائق سے منہ موڑ رہا تھا بلکہ مجھے بھی باور کرا رہا تھا کہ اصل صورتحال کیا ہے۔
شاہد ملتانی کی گفتگو جاری تھی وہ کہنے لگا۔
دلیری یا بے خوفی کی وجہ سے زندہ نہیں ہوں۔ اس سطح تک پہنچنے کے بعد ان کی ، میں اپنی بہادری ’’ اہمیت اتنی نہیں رہتی۔ میرے پاس ڈاکوئوں کا پورا لشکر ہے، جدید ہتھیار ہیں، کئی سیاست دان میری سرپرستی کے محتاج ہیں۔ ان کے کئی کام میری وجہ سے ہوتے ہیں اور وہ میرے لیے کئی کام کرتے ہیں۔پولیس کے اعل ی عہدیدار بھی میرے نام سے کانپتے ہیں۔ میرا پورا نظام چل رہا ہے۔ اب میں چاہوں تو دور بیٹھ کر فون پر بھی اپنے معاملات دیکھ سکتا ہوں۔ میرے ڈیرے پر میری اجازت کے بنا چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ مجھے اگر مارنا ہے تو میرا کوئی اپنا یہ کام کرسکتا ہے۔ کوئی پولیس کے ساتھ مل کر رات نیند کی حالت میں گولی مار کر مجھے اوپر پہنچا سکتا ہے۔ میرے ساتھ چلنے والوں میں سے کوئی صرف ایک ایس ایم ایس کر کے میری گاڑی کا نمبر اور روٹ بتا سکتا ہے۔ میرے اہم ساتھیوں میں سے کوئی میری جگہ لینے کے لیے مجھے زہر دے سکتا ہے۔ مجھے مارنا ہو تو سو راستے ہیں مجھے گھیرنا ہو تو ہزار اس نے میری ‘‘ ہتھکنڈے ہیں لیکن میں جانتا ہوں ایسا نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہے ایسا کیوں نہیں ہوگا؟ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کردیا۔
میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ‘‘ میں نہیں جانتا۔ ’’
شاہد ملتانی تھوڑا آگے جھک آیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔
میں انسان کو پرکھنے کا فن جانتا ہوں۔ مجھے چہرہ شناسی آتی ہے مجھے بندے کو جانچنے کا ہنر آتا ہے۔ ’’ کون کس نیت سے آیا ہے یہ مجھ پر واضح ہوجاتا ہے۔ میری چھٹی حس کافی تیز ہے۔ میں نے اس دشت کے اس کے لہجے ‘‘ سفر میں صرف بندوں کو پڑھنا سیکھا ہے کتاب تو زمانے نے میرے ہاتھ سے چھین لی تھی۔ میں یاسیت در آئی۔ وہ لمحہ کے لیے سانس لینے کو رکا اور پھر کہنے لگا۔
ہوں انہیں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ میرا ‘‘ اقوال زریں ’’ کمالے میں بندے پڑھتا ہوں اور پھر ان میں سے جو ’’ کوئی ساتھی غداری نہیں کرسکتا۔ یہ جان دے دیتے ہیں لیکن مجھے نقصان پہنچانے یا میرے خلاف ہونے والی کسی سازش کا حصہ بننے پر تیار نہیں ہوتے۔ جہاں تمہاری بات ہے اگر تم میں غداری یا مطلب پرستی کے جراثیم ہوتے تو میں تمہیں وہیں کھیتوں میں لڑائی کے دوران ہی گولی مار دیتا۔ میں کھوٹے
سکے ساتھ رکھنے کا عادی نہیں ہوں۔ تمہاری آنکھوں میں وفاداری صاف نظر آتی ہے۔ اسی لیے تمہیں وہ بولتا جا رہا تھا کہنے لگا۔ ‘‘ اس میدان جنگ سے اٹھا کر یہاں لایا اور تمہاری حفاظت کا انتظام کیا تھا۔
کمالے تم ہیرے ہو ہماری دنیا میں آئے اور تربیت لے لی تو پھر سمجھو جلد ہی تمہارے نام کا ڈنکا بجنے ’’ لگے گا۔ مجھے تمہاری پروفائل ہسٹری معلوم ہے۔ تم بہت تھوڑے عرصہ میں بڑے تجربات سے گزرے ہو۔ تمہاری خصوصیت اور تمہارے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ تم کندن بن سکتے ہو۔ میں ادھر کا سیٹ اپ صرف اس لیے تمہارے حوالے نہیں کر رہا کہ تم نے کہہ دیا ہے۔ ہماری دنیا میں صرف جذبات ہی نہیں چلتے یہاں اور بھی معاملات دیکھنے پڑتے ہیں۔
میں جانچ چکا ہوں کہ تم اس قابل ہو کہ اگر میرا سیٹ اپ چلائو تو کامیاب ہوجائو گے اور مجھے نقصان نہیں ہوگا۔ تمہاری طرف سے مجھے دھوکہ کا خطرہ بھی نہیں م ہوگا۔ لہ ذا یں دیگر معاملات کو بھی دیکھ ‘‘ سکوں گا۔ لہ ذا میں دیگر معاملات کو بھی دیکھ سکوں گا۔ خلاف معمول شاہد ملتانی طویل گفتگو کر رہا تھا۔ شاید وہ لاشعوری طور پر مجھے اپنے سیٹ اپ کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اس کی مردم شناسی اور معاملہ فہمی سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔ اگر وہ مردم شناس نہ ہوتا تو اب تک اس کی لاش کے ساتھ تصویریں بنا کر کوئی پولیس افسر مزید ترقی پا چکا ہوتا یا پھر اس کا کوئی ساتھی اسے مار کر خود ڈان بن چکا ہوتا۔
میں نے شاہد ملتانی کے ساتھ وقت گزارا تھا ہم کچھ دن ایک ساتھ رہے تھے میں نے اس کے ساتھیوں کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ان میں واقعی کوئی غدار نہیں تھا اس کے ساتھی اس پر جان دیتے تھے۔ وہ اس کی خاطر کسی کی جان بھی لے سکتے تھے اور اپنی جان دے بھی سکتے تھے۔ پولیس اور بیگھے مل کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ اس کے ساتھی موقع سے فرار نہیں ہوئے اور نہ اس نے اپنے ساتھیوں کی آڑ میں بھاگ نکلنے کی کوشش کی تھی۔ وہ سب با جگری سے لڑے تھے۔
وہاں سے نکلنے کا فیصلہ ان کے لیڈر یعنی شاہد ملتانی نے کیا تھا اس کے بعد وہ نکلنے کی کوشش کرنے لگے لیکن اس کوشش کے دوران بھی وہ مننظم تھے۔ انہوں نے ایسا ہر گز نہیں کیا تھا کہ اپنے لیدر کو چھوڑ کر بھاگ جاتے وہ ایک دوسرے کو کور فائر دیتے ہوئے وہاں سے نکل رہے تھے۔
یہ وہ گروہ تھا جس میں سب مجرم ہی شامل تھے لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان ایسا تعلق موجود تھا کہ یہ اپنے ساتھی کی لاش اٹھانے کے لیے جان کی بازی لگا دیتے تھے۔ یہ لوگ اپنے ساتھی کی لاش تک پولیس کے ہاتھ نہیں لگنے دیتے تھے۔ اس پس منظر کو دیکھیں تو شاہد ملتانی کی بات درست محسوس ہوتی تھی کہ اس کے ارد گرد صرف جانثار اور وفادار ہی ہیں۔ ان میں سے کوئی غداری نہیں کرسکتا۔
شاید وہ غدار کو اسی وقت گولی مار دیتا تھا جب اس پر یہ بھید کھلتا تھا کہ اس کی صف میں کوئی غدار یا مخبر آرہا ہے۔ چاہے اس نے ابھی غداری نہ کی ہو اسے کسی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی اس کے لیے صرف شک ہونا ہی کافی تھا۔ پولیس اور ڈاکو دونوں ہی شک کی بنیاد پر فیصلہ کن اقدام اٹھانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ پولیس کے کام کی ابتدا ہی شک سے ہوتی ہے لیکن ڈاکو کا معاملہ اور ہوتا ہے اس کی انتہا شک پر ختم ہو جاتی ہے۔ وہ شک کی بنیاد پر ہی پکڑا اور مارا جاتا ہے اور شک کو ہی نظر انداز کرنے پر اپنی قبر خود کھود ڈالتا ہے۔ شاہد ملتانی تو موت کے گھوڑے پر سفر کر رہا تھا۔ وہ اس گھوڑے کو اپنے قابو میں نہ رکھتا تو یہی گھوڑا اسے قبر کے اندر تک چھوڑ کے آجاتا۔
میں نے شاہد ملتانی پر صورتحال پر واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ مجھے چھوڑ دیتا اور مجھ سے بے پروا ہوجاتا تب بھی مجھے کوئی فکر نہ تھی۔ اس کا ساتھ چھوٹ جانے سے میرے لیے مزید مشکلات پیدا ہوجانی تھیں لیکن وہ سچ کہہ رہا تھا میں اسے دھوکہ میں نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس نے میرا ساتھ دیا تھا۔ وہ مجھے کھیتوںسے زخمی حالت میں اٹھا کر یہاں نہ لاتا۔ تو اب تک میری لاش بھی گل سڑ چکی ہوتی۔ اس کا یہ مجھ پر احسان تھا میں اسے کسی صورت دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔
میں نے شاہد ملتانی کی طرف دیکھا وہ خاموشی سے لسی پی رہا تھا۔ میں نے کہا۔
ملتانی تم نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں تم سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ یہ میری زندگی ’’ کا مقصد نہیں ہے۔ میں اپنا انتقام لینے نکلا ہوں۔ میں جرائم کی دنیا میں ہر گز نہیں آئوں گا۔ مجھے بس اپنے دشمنوں کا خاتمہ کرنا ہے اور انہیں عبرت کا نشان بنانا ہے۔ اس کے بعد میں اس شہر سے بہت دور چلا ئوں گا۔ ایک نئی زندگی کا آغاز کروں گا۔ وہاں کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ میرا ماضی کیا ہے اور تقدیر مجھے کس طرف لے آئی تھی۔ اگر میں نے تمہارے سیٹ اپ میں قدم رکھا تو یہ میرے پائوں پکڑلے گا۔ پھر اس سے نکلنا آسان نہیں رہے گا۔ تم چاہو تو ابھی سے ہاتھ اٹھا سکتے ہو۔ مجھے کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔ میں یہاں سے نکلوں گا اور داتا دربار کے باہر کسی ہجوم میں گم ہوجائوں گا۔ پھر کمالا جٹ خود کو اس قابل بنائے گا کہ اپنے دشمنوں سے بدلا لے سکے۔
شاہدملتانی نے میری جانب دیکھا۔ لسی کا گلاس میز پر رکھا اور منہ صاف کرنے کے بعد
کہنے لگا۔
لالے تیری یہی ادا مجھے پسند ہے ابھی تم بچے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ تم اس ملک میں کہیں بھی ’’ چلے جائو یہ سور تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اب تم شریفوں والی زندگی نہیں گزار سکتے۔ تم قانون کے کھاتوں میں قاتل، ڈکیٹ اور پولیس مقابلوں کے ماہر کے طور پر لکھے گئے ہو۔ اب تمہارا نام نہیں مٹ
سکتا۔ تم چاہو تو ابھی مجھے ہاں مت کہو لیکن جلد ہی تمہیں احساس ہوجائے گا تم اس دنیا میں نہ آئے ‘‘ تو کہیں کے نہ رہو گے جب ایسا ہوگا تو پھر تم مجھے بتا دینا۔ میرا یہ سیٹ اپ تمہارے لیے موجود رہے گا۔
ابھی شاہد ملتانی بات کر ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل کی بیل بجنے لگی۔ اس نے اسکرین کی جانب دیکھا اور کال ریسیو کی۔ دوسری جانب خدا جانے ایسا کیا کہا گیا کہ ملتانی کے منہ سے گالیوں کا فوارہ ابل پڑا۔ اس نے موبائل بند کیا اور تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میں بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا تھا ملتانی نے تیزی سے مجھے کہا کہ اسے کسی جگہ فورا جانا ہے اس لیے مجھ سے وہ بعد میں بات کرے گا۔ دکان سے باہر آکر اس نے کہا۔
کمالے میںتم سے ملنے آئو گا اور تمہارا ساتھ دوں گا۔ تم کہیں جانے کا خیال دل سے نکال دو۔ مجھے پتا ’’ ہے تم شبنم بائی کے کوٹھے سے فرار ہو رہے تھے۔ اب تم واپس وہیں جائو، میں دو چار دن میں آکر کہیں اور انتظام کردوں گا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ تیزی سے ایک جانب چلا گیا۔
شاہد ملتانی کے جاتے ہی میں واپس شبنم بائی
کے کوٹھے کی جانب چل پڑا۔ میری حالت ایک قیدی کی سی تھی جسے فرار کے بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا ہو اب شاہد ملتانی کے آنے تک مجھے وہیں رہنا تھا۔ میں کوٹھے تک پہنچا تو وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ میں جلدی سے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔ میری کوشش تھی کہ کسی کی نظر میں آئے بنا اپنے کمرے تک پہنچ جائو۔
کمرے کے اندر قدم رکھتے ہی مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے سر پر پہاڑ پھینک دیا ہو۔ نیلی میرے بستر پر لیٹی تھی۔ اس کے لیٹنے کا انداز ایسا تھا کہ مجھے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ میں تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور پھر ٹھٹک کر رک گیا۔ وہ مر چکی تھی۔ کسی نے اس کی گردن تیز دھار چیز سے کاٹ دی تھی۔ بستر اور زمین اس کے خون سے سرخ ہورہی تھی۔ یہ خون اب میرے کپڑوں اور جوتوں پر بھی لگ چکا تھا۔ اسی دوران مجھے پیچھے س کسی کی چیخ سنائی دی۔ میں بری طرح پھنس چکا تھا۔ نیلی قتل ہوچکی تھی اور اس کا خون میرے کپڑوں پر لگا ہوا تھا۔ سامنے زیورات اور رقم والا ٹرنک کھلاپڑا تھا اور میرے ہاتھ می جو لفافہ تھا اس میں اسی ٹرنک سے چرائی گئی رقم موجود تھی۔ تقدیر جانے مجھ سے کیا بھیانک کھیل کھیلنے جا رہی تھی۔
…٭٭٭…
طبلے کی تھاپ کے ساتھ ساتھ موت کا گہرا احساس شعور کی پہلی کرن کے ساتھ ہی میرے ذہن پر حاوی ہوا تھا کہیں دورمیری موت کی خوشی میں محفل سجائی گئی تھی جس کا شور مجھے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ دماغ پر چھائی دھند کی دبیز تہہ ہٹنے لگی۔ میں جو مر چکا تھا
شاید دوبارہ زندگی کی جانب لوٹ آیا تھا۔ سنا تھا بے ہوشی کے بعد آنکھیں کھولنے والا کچھ دیر کے لیے جیسے سوال کرتا ہے۔ جانے کیوں میرے ساتھ ایسا ‘‘ میں کہاں ہوں۔ ’’ خود پر بیتے لمحات بھول جاتا ہے اور کچھ نہ ہوا تھا۔ آنکھیں کھولنے سے قبل ہی میرے ذہن میں یہ خیال گردش کر رہا تھا کہ میں موت کے سفر پر نکل کھڑا ہوا ہوں۔ خون کے چھینٹے اور جسم میں پیوست ہونے والی انگارے کی مانند گرم گولیوں کا احساس ابھی تک زندہ تھا۔ میں آنکھیں کھولنا چاہتا تھا لیکن جانے کیوں میرے پپوٹے میرے اختیار سے باہر نکل گئے۔ میں چاہتے ہوئے بھی آنکھیں نہیں کھول پا رہا تھا۔ چند لمحے یونہی گزر گئے پھر آہستہ آہستہ جسم کی توانائی بحال ہونے لگی۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو ایک اور احساس نے گھیر لیا۔ میں دیکھ نہیں سکتا تھا کھلی آنکھوں کے سامنے اندھیرے کی دبیز تہہ کے سوا کچھ نہ تھا میں نے دو تین بار آنکھیں جھپکیں لیکن بے سود رہا۔ میری آنکھوں کے سامنے مستقل اندھیرا تھا۔
کیا کسی گولی سے کوئی ایسی رگ کٹ گئی ہے جس کا تعلق بصارت سے تھا؟ کئی سوال میرے دماغ ’’ کی دیواروں سے ٹکرانے لگے۔ دور کہیں طبلے کی آواز آرہی تھی ت وا کے دوش پر یرتی یہ تھاپ سر میں َ ۔ ہ اندھے پن کا احساس اور طبلے کی دھمک انتہائی اذیت کا ، ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔ بے بسی باعث بن رہی تھی۔ چہرے پر نمی سے احساس ہوا کہ اندھی آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے۔ کائنات کا کمالا بے آواز رو رہا تھا۔ میں ایک بار پھر ہوش و حواس سے بے گانہ ہوگیا۔
دوبارہ شعور نے ذہن کے دریچے پر دستک دی تو منظر نامہ بدل چکا تھا۔ بازو میں چبھن کا احساس اور کسی کی مدہم آواز زندگی کا پتا دے رہی تھی۔ چند لمحے ذہن سن رہا اور پھر گفتگو واضح ہونے لگی۔ میں یونہی خالی ذہن لیٹا رہا۔ آوازیں پھر مدہم ہوگئیں کچھ دیر بعد کوئی میرے قریب آیا اور سر کے نیچے رکھا تکیہ درست کرنے لگا۔ میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھول دیں۔ پہلا خیال کافی خوشگوار تھا۔ میں دیکھ سکتا تھا کمرے کی چھت پر لگا پنکھا میرے سامنے تھا۔ میں کچھ دیر یونہی ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا رہا۔
اچانک کمرے میں موجود ذی نفس کو میرے ہوش میں آنے کا احساس ہوگیا۔
اس نے مدہم لہجے میں سوال کیا تو جیسے مجھے بھی اس کی موجودگی کا ‘‘ آپ کی طبیعت کیسی ہے۔ ’’ احساس ہوا۔
میں جانے کہاں تھا یہاں مجھے کون لایا تھا میرے ذہن میں تین نام گونجنے لگے۔ بیگھے مل، شاہد ملتانی یا پھر میجر صاحب؟ پولیس نے مجھے اٹھایا ہوتا تو اس وقت کسی گھر کی بجائے اسپتال میں ہوتا۔ اس کمرے کی حالت واضح کر رہی تھی کہ یہ کمرہ کسی گھر کا حصہ ہے پرانا پنکھا اور ایک طرف رکھی پیٹی
کسی اسپتال میں نہیں گھر میں ہی ہوسکتی تھی۔ میں نے سوال کرنے والی کی جانب دیکھا۔ وہ ایک نو عمر لڑکی تھی جس کے کھلے بال میرے چہرے پر آرہے تھے۔
مجھ پر جھکتے ہوئے اس نے دوبارہ پوچھا تو اس کے لہجے سے تشویش چھلک رہی ‘‘ آپ بول سکتے ہیں؟ ’’ تھی۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دوبارہ آنکھیں موند لیں کمزوری اور تھکاوٹ کا بے پناہ احساس آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ آج مجھے احساس ہو رہا تھا کہ آنکھیں کھولنا بھی کسی قدر طاقت کا مرہون منت ہے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے جسم کا سارا خون نچڑ گیا ہو۔ جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ میں آنکھیں بند کیے بے مقصد لیٹا ہوا تھا۔ وہ لڑکی ا میوس ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے قدموں ً غالبا کی چاپ دور جاتی سنائی دی۔
کچھ دیر بعد کسی نے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو میں نے آنکھیں کھول دیں۔ وہی اجنبی لڑکی میرے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے سہارا دے کر بٹھا دیا اور کمر کے پیچھے تکیہ رکھ دیا۔
گرم دودھ لینے گئی تھی۔ یہ پی لیں تو کمزوری کچھ کم ہوجائے گی۔ اس نے ایک طرف پڑا دودھ کا گلاس ’’ تھماتے ہوئے کہا۔
میں نے خاموشی سے اس کے ہاتھ سے گلاس لیا اور آہستہ آہستہ پینے لگا دودھ پی کر واقعی جسم میں توانائی بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ میں نے اسے خالی گلاس واپس کرتے ہوئے کہا۔
‘‘ مجھے یہاں کون لایا ہے؟ ’’
اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
آپ کافی زخمی تھے اس لیے ملتانی سائیں آپ کو یہاں چھوڑ گئے۔ آپ کے لیے ڈاکٹر کا انتظام بھی انہوں ’’ ‘‘ نے ہی کیا تھا۔
‘‘ شاہد ملتانی کہاں ہے؟ ’’
‘‘ انہیں ایک ضروری کام سے جانا تھا ایک دو دن میں شاید لوٹ آئیں۔ ’’
یہ کنفرم ہوگیا کہ میں اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہوں۔ شاہد ملتانی نے میرے بدلے پیسے کھرے کرنے کی بجائے نسلی خون کا ثبوت دیا تھا۔ وہ چاہتا تو مجھے وہاں مرنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا۔ لڑائی کے دوران زخمی فوجی کو بھلا کون پوچھتا ہے؟ شاہد ملتانی کے بارے میں متعدد بار سنا تھا کہ وہ اپنے گروہ کے کسی فرد کی لاش بھی پولیس کے ہاتھ نہیں لگنے دیتا۔
اپنے ساتھیوں کی لاش موقع واردات سے اٹھانا اس کے لیے زندگی موت کا مسئلہ بن جاتا تھا اس لیے مشہور تھا کہ جہاں شاہد ملتانی کی کسی سے جھڑپ ہو اور اس کا کوئی ساتھی زخمی ہوجائے یا مارا جائے تو اس کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ اس کو اٹھا کر لے آئے۔ یہ کوئی نفسیاتی پہلو تھا پولیس سے اس کی نفرت کی انتہا تھی کہ وہ اپنے ساتھیوں کی لاش تک کو پولیس سے بچاتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جب پولیس کسی لاش کو ہاتھ لگاتی ہے تو وہ ناپاک ہوجاتی ہے۔ یہ ہماری پولیس کا رویہ ہی تھا جس نے ایک بے ضرر طالب علم کو اس سطح تک پہنچایا تھا۔ میں نے شاہد ملتانی کے بارے میں یہ سب باتیں سنی ہوئی تھیں لیکن تب میرا بھی یہی خیال تھا کہ یہ محض افواہیں ہیں جو اپنی دہشت پھیلانے کے لیے اس نے پھیلا رکھی ہیں۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پولیس کا گھیرا توڑنے والے دوبارہ صرف اس لیے لوٹ آئیں کہ ان کے کسی ساتھی کی لاش پولیس کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ شاہد ملتانی اس معاملے میں جتنا جذباتی تھا اس سے کہیں زیادہ زیرک بھی تھا۔ وہ پولیس کے راستوں پر نظر رکھتا تھا اور کسی بھی وقت دوبارہ حملہ کر کے اپنا کام دکھا جاتا تھا۔
محفوظ جگہ پر ہونے کے احساس نے کئی فکریں دور کردیں۔ اب میں نے اپنے ارد گرد کا بھرپور جائزہ لینا شروع کیا۔ یہ ایک درمیانہ سا کمرہ تھا۔ ایک طرف پیٹی رکھی ہوئی تھی جس پر مزید ایک صندوق پڑا تھا دیوار کے ساتھ وہ بیڈ تھا جس پر مجھے لٹایا گیا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر مختلف کریمیں اور لوشن پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف میلے کپڑوں کا ڈھیر دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ کمرہ کسی خاتون کے زیر استعمال ہے۔ اب تک میرا سامنا صرف ایک لڑکی سے ہوا تھا۔ وہ اس وقت بھی میرے سرہانے بیٹھی تھی۔
وہ سوال جو پہلے کرنا چاہیے تھا مجھے اب یاد آیا۔ ‘‘ تم کون ہو؟ ’’
میرا نام نیلی ہے، آپ اس وقت میرے ہی کمرے میں ہیں۔ اس نے مختصر جواب دیا۔ ’’
میں نے اگلا سوال پوچھا۔ ‘‘ یہ کون سی جگہ ہے؟ ’’
اس نے گڑ بڑاتے ہوئے مختصر جواب ‘‘ لاہور ہے، اچھا میں چلتی ہوں باجی کو بتا دوں کہ آپ جاگ گئے ہیں۔ ’’ دیا اور اپنی جگہ چھوڑ دی۔
میں نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔ وقت مجھے جانے کہاں سے کہاں لے آیا تھا۔ کمالا جٹ کبھی اپنے جٹ ’’ ہونے پر فخر کرتا تھا اور آج اس حال میں تھا کہ آنکھیں کھولنے میں بھی قوت درکار تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے پورے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نکال لیا ہو۔ میرے سامنے بار بار اپنے دوستوں کے چہرے آرہے تھے۔ وہ سب مارے گئے اور میں پھر بھی زندہ تھا عام طور پر محاذ جنگ میں زندہ رہ جانے والا آخری شخص یا تو غدار ہوتا ہے یا پھر بھگوڑا۔ جری اور جانباز تو آگے بڑھ کر ایک دوسرے پر جان
لٹا دیتے ہیں۔ وہ یا تو شہید کہلاتے ہیں یا پھر غازی۔ میں کہاں کھڑا تھا؟ نہ میں اس جنگ کا فاتح تھا اور نہ ہی شہید۔ میں تو قیدی بھی نہ تھا بھاگنا کمالے جٹ نے سیکھا نہ تھا خدا جانے میرا کیا مقام تھا۔
تنہائی کے اس عالم میں خود احتسابی کا عمل شروع ہوچکا تھا اس کے ساتھ ساتھ ضمیر کچوکے لگا رہا تھا کہ جب میرے سبھی ساتھی جان دے رہے تھے تو میں زندہ کیوں رہا۔ وہ مجھ پر قربان ہوئے تو میں کیوں ان پر قربان نہیں ہوا۔ کیا میرے خلوص اور دوستی میں کھوٹ تھا؟ کیا کمالے جٹ نے جٹاں والی کی گندم نہیں کھائی تھی شدت کرب سے میں د دھر مارنا شروع کر یا۔ میرے سر کے نیچے ُ دھر ا ِ نے اپنا سر ا تکیہ تھا اس لیے اس عمل سے شدید چوٹ تو نہیں لگ سکتی تھی لیکن شاید میں اس بات سے بے نیاز ہوچکا تھا عالم دیوانگی میں زمان و مکاںکا خیال ہی کہاں رہتا ہے۔ میرے سر میں دھماکے ہو رہے تھے جانے یہ اندرونی کرب تھا یا بیرونی طور پر لگی کسی چوٹ کا اثر لیکن ان دھماکوں نے ایک بار پھر حال سے بے حال کردیا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور مجھے ان اذیت ناک سوالوں سے چھٹکارا مل گیا۔
یونہی سوتے جاگتے جانے کتنے دن گزر گئے۔ نیم غنودگی کے عالم میں یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کچھ لوگ پاس کھڑے ہو کر میرے بارے میں مبہم گفتگو کرتے ہیں کئی دفعہ بازو میںچبھن کا احساس بھی ہوتا تھا۔ مجھے دانستہ طور پر بے ہوش رکھا جا رہا تھا۔ بے ہوشی کا اثر کم ہوتا یا ختم ہونے لگتا تو چند ہی لمحوں بعد کوئی شخص چلا آتا وہ ئ کو ی ڈاکٹر یا ڈسپنسر ٹائپ شخص تھا جو آتے ہی میرے ً غالبا بارے میں کسی سے ایک آدھ سوال کرتا اور پھر بے دردی سے کوئی انجکشن لگا کر دوبارہ گہری نیند سلا دیتا تھا۔ اس دوران طبلے کی تھاپ بھی سنائی دی جسے میں کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ ماہرانہ انداز میں طبلہ کون بجاتا تھا اور وہ شخص کہاں تھا اس بارے میں مجھے کچھ نہ پتا تھا میں محض ایک قیدی بن کر رہ گیا تھا جسے جانے کیوں ہوش کی دنیا میں لوٹنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی رگوں میں نشہ بھر دینے کی وجہ بھی مجھے معلوم نہ تھی۔ سچ کہوں تو میں وہاں ایک زندہ لاش بن ً چکا تھا۔ سوچ سمجھ تو دور مجھے تو آنکھ کھلتے ہی ارد گرد دیکھنے کا بھی موقع نہ دیا جا رہا تھا غالبا مجھے وہاں رکھنے والے کسی کے منتظر تھے۔
یہ سب ایک مخصوص دائرے میں چل رہا تھا۔ پھر اس میں دراڑ پڑنے لگی۔ مجھے کچھ دیر ہوش والوں کی دنیا میں جینے کا حق ملنے لگا۔ اب میں گہری نیند سے بیدار ہوتا تو ایک نوخیز لڑکی میرے پاس بیٹھی مجھے دیکھ رہی ہوتی تھی میرے جاگنے کے کچھ دیر تک وہ یونہی بیٹھی رہتی مجھ سے ایک آدھ سوال کرتی م ہوں ہاں یں ہی ہوتا کیونکہ ہوش میں آنے کے بعد میرا ذہن میرے کنٹرول میں ً جس کا جواب عموما نہ ہوتا تھا۔ بھاری پن کا احساس مجھ پر حاوی ہوتا اور یادداشت انتہائی کمزور محسوس ہوتی۔ وہ لڑکی کچھ دیر خود ہی بولتی رہتی اور اپنی باتیں کرتی رہیتی۔ گرم دودھ لا کر پلاتی اور پھر کسی کو فون کر کے
بلا لیتی۔ ایک ادھیڑ عمر شخص اندر آتا اور کوئی بات کیے بنا انجکشن لگا دیتا جس کے بعد میں دوبارہ گہری نیند سوجاتا۔ آہستہ آہستہ ہوش میں آنے کے بعد انجکشن لگانے کا درمیانی عرصہ بڑھنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ قوت ارادی بھی لوٹنے لگی۔
ایک دن میری آنکھ کھلی تو خود کو خلاف معمول چاق وچوبند محسوس کیا۔ بازو میں ہلکی سی چبھن کا احساس تھا جیسے کسی نے ابھی انجکشن لگایا ہو یہ پہلے کے برعکس تھا۔ اس سے پہلے بازو میں چبھن کے احساس کے ساتھ ہی آنکھیں بند ہوجاتی تھیں۔ اب یہی چبھن ہوش کی دنیا میں لا رہی تھی۔ بات سمجھ میں آنے لگی تھی۔ پہلے جس انجکشن میں بے ہوشی کی دوائی ڈال کر رگوں میں اتاری جاتی تھی اب اس میں زندگی بھری گئی تھی۔ ایک ہی تکلیف انسان کو زندگی بھی دے جاتی ہے اور وہی اذیت موت کی جانب بھی دھکیل دیتی ہے۔ یہ قانون فطرت ہے۔ اس انجکشن نے بھی فطرت کے اصولوں کے مطابق اثر کیا تھا۔ یہ جن ہاتھوں میں تھا اس کی تاثیر انہی کی مرہون منت تھی۔ شاید انسان کی طرح انجکشن بھی کٹھ پتلی ہوتے ہیں۔
میں نے آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد دیکھا تو نیلی چراغ کے جن کی طرح دودھ کا گلاس اٹھائے میرے پاس پہنچ گئی۔ اب تک مجھے اسی نے سنبھالا ہوا تھا۔ شاید یہ اس کی ذمہ داری تھی۔ میں نے دودھ پینے سے انکار کردیا۔ انجکشن کی تکلیف اپنی جگہ لیکن مجھے شک ہوگیا تھا کہ اس دودھ کا بھی میری بے ہوشی سے کوئی خاص تعلق ہے۔ یہ خیال ابھی آیا تھا اور میں نے بلا جھجک نیلی سے اپنے خدشات کا بھی اظہار کردیا میری بات سن کر وہ بے ساختہ ہنسنے لگی۔ سر پیچھے کی جانب پھینکے وہ مسلسل ہنسے جا رہی تھی اور میں ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہا تھا۔ بالآخر اس نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
میں نے اثبات میں سر ‘‘ تمہیں لگتا ہے اس دودھ میں کچھ ملا کر پلاتی ہوں تو تم بے ہوش ہوجاتے ہو؟ ’’ ہلایا تو نیلی کہنے لگی۔ اگر میں نے تمہیں بے ہوش کرنا ہوتا تو اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی سیدھا اس کی بات دل پر اثر کر رہی تھی دل کہہ رہا تھا کہ اتنا بے ‘‘ سیدھا تمہیں بے ہوشی کا ٹیکہ لگا دیتی۔ ساختہ ہنسنے والی اس لمحے جھوٹ نہیں بول رہی۔ دماغ ابھی تک محتاط تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے وہ جھوٹ نہ بول رہی ہو۔ اس کی دلیل بھی اثر رکھتی ہے لیکن پھر بھی یہ ممکن تھا کہ وہ بلف کروا رہی ہو۔ دماغ محتاط تھا لیکن نیلی ایک بار پھر ہنسی تو میں نے بے ساختہ اس کے ہاتھ سے گلاس تھام لیا جہاں اتنے دن سے بے ہوش رہا وہان دو چار دن کی بات ہی کیا تھی۔ میں نے گلاس ہونٹوں سے لگایا اور غٹاغٹ پی گیا۔ گلاس خالی ہوتے ہی نیلی بے ساختہ ہنسنے لگی۔
اس نے شوخ لہجے میں کہا۔ ‘‘ تو جناب اب آپ پھر بے ہوش ہو رہے ہیں۔ ’’
اس کی شرارت محسوس کرتے ہی میں ‘‘ مجھے بے ہوش کرنے کے لیے تو جناب کی نگاہیں ہی کافی ہیں۔ ’’ نے بھی برابر کی چوٹ کردی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ نیلی خود مختار نہیں ہے وہ مجھے اس وقت تک کوئی بات نہیں بتائے گی جب تک اسے اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے کچھ پوچھنے کے لیے مجھے خوش مزاجی کا مظاہرہ کرنا تھا۔ مجھے یہ بھی احساس ہو رہا تھا کہ یہاں میری حیثیت ایک قیدی کی سی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ قیدی کو سلاخوں کے پیچھے قید کیا جائے اور اسے قید خانے کا احساس دلایا جائے بعض قیدی ان دیکھی دیواروں کے بھی قیدی ہوتے ہیں۔ چڑیا گھر میں بعض پرندوں کو آزاد رکھا جاتا ہے لیکن انہیں درختوں اور جھاڑیوں کے ایسے قید خانہ میں اڑنے کی اجازت دی جاتی ہے جہاں یہی درخت، قدرتی ‘‘ جھاڑیاں، پہاڑیاں اور جھیلیں انہیں ایک مخصوص حد سے آگے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ رکاوٹیں پیدا کر کے آزادی کے نام پر یوں قید رکھا جاتا ہے کہ قیدی کو قید کا احساس تک نہ ہو بالکل ویسے ہی جیسے ہمارا میڈیا آزادی صحافت کا تمغہ سجائے اشہاری کمپنیوں کا قیدی بناہوا ہے۔ میں بھی ایسا ہی قیدی تھا جو بظاہر طبی امداد ملنے کے بعد آرام کر رہا تھا لیکن بہرحال اس کمرے سے باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں دیا جا رہا تھا۔ میری ہی صحت کو بنیاد بنا کر مجھے نشہ آور انجکشن لگائے گئے اور غیر محسوس انداز میں اس کمرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دی گئی۔ میں ایک ایسا قیدی تھا جسے آرام کے نام پر قید کیا گیا تھا دلچسپ بات یہ تھی کہ مجھے اتنے دن تک یہی معلوم نہ تھا کہ میں کس کا قیدی ہوں۔ اب تک مجھے بس اتنا بتایا گیا تھا کہ یہاں تک میں شاہد ملتانی کی مہربانی سے پہنچا ہوں۔ مجھے یہاں بے ہوشی کے عالم میں لایا گیا اورپھر شاہد ملتانی بھی گدھے کے سر پر سینگ کی مانند غائب ہوگیا تھا۔ مجھے نہ تو کوئی اس کے بارے میں بتا رہا تھا اور نہ ہی کسی نے یہ بتایا تھاکہ میں یہاں کب تک رہوں گا۔ میں نے اتبدا میں اس حوالے سے سوال کیے تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے مسلسل بے ہوشی میں رکھا جانے لگا۔ اب میں جان گیا تھا کہ اگر میں نے قسم کا تجسس ظاہر کیا تو یہ مجھے دوبارہ نشے کا ٹیکہ لگا دیں گے۔ یہاں اگر کچھ معلوم کرنا تھا تو اس کے لیے انہیں اعتماد میں لینا ضروری تھا۔
نیلی مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھ رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک فربہی مائل خاتون اندر آگئی۔ میں نے اس کی جانب دیکھا نیلی کے مقابلے میں اس کی عمر زیادہ تھی لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی کہ میں اسے نیلی کی والدہ سمجھتا۔ آنے والی خاتون لگ بھگ چالیس سال کی تھی لباس کسی قدر مسلا ہوا تھا لیکن اس کی امارت کی نشاندہی کر رہا تھا اگر اس کے لباس پر سلوٹیں نہ ہوتیں تو مجھے لگتا کہ وہ کسی شادی کے فنکشن پر جا رہی ہے۔ زیورات سے لدی پھندی اس خاتون کی شخصیت میں کچھ خاص بات تھی۔ میں اسے سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس کا میک اپ پھیکا پڑ رہا تھا لیکن صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کسی تقریب میں شرکت کر کے آئی ہے۔ اسے دیکھتے ہی نیلی سنجیدہ ہو کر بیٹھ گئی۔ اس خاتون نے میرا حال پوچھا اور چند ایک باتیں کرنے کے بعد نیلی کو کھانا تیار کرنے کا کہا۔ یہ ایک
خاموش پیغام تھا اب اس کمرے میں نیلی کی موجودگی اسے ناگوار گزرہی ہوگی۔ نیلی خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی اور خاتون میرے بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
جانے کیا بات تھی کہ کئی دن کی کمزوری کا احساس کافی حد تک ختم ہوگیا تھا اب میں اپنے جسم میں توانائی محسوس کر رہا تھا۔ خاتون چند لمحے خاموشی سے دیکھتی رہی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے اس کے چہرے پر تذبذب کے آثار نمایاں تھے۔ جلد ہی ہاں اور ناں کی درمیانی صورت حال سے باہر نکل آئی اور اس نے مضبوط لہجے میں کہا۔
میں نہیں جانتی تم کون ہو البتہ میں یہ جانتی ہوں کہ تمہیں یہاں کون چھوڑ کر گیا ہے۔ جب تک یہاں ہو ’’ اسے اپنا گھر سمجھ کر رہو۔ تمہیں ہم سے کوئی شکایت نہیں ہوگی البتہ یہاں سے جانے کا مت سوچنا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تمہارے بارے میں جواب دہ ہیں۔ ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ شاہد ملتانی کو ‘‘ کہہ سکیں کہ اس کا مہمان کہیں اور چلا گیا۔
میں اس خاتون کی جانب ہی متوجہ تھا یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے کھل کر حقیقت سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے سانس لینے کو رکی اور پھر کہنے لگی۔
تم اس وقت لاہور میں ہو شاہد ملتانی انتہائی زخمی حالت میں تمہیں ہمارے غریب خانے پر چھوڑ گیا ’’ تھا۔ تمہارا علاج اسی کمرے میں ہوا ہے ہم تمہیں کسی اسپتال لے جانے کی غلطی نہیں کرسکتے تھے۔ یہ تمہارے لیے بھی نقصان دہ ہوتا۔ کچھ ڈاکٹر یہاں آتے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی کمرے کو اسپتال بنالیا تھا۔ تمہیں گولیاں لگی تھیں لیکن کوئی گولی کسی خطرناک مقام پر نہیں لیگی البتہ خون کافی بہہ چکا تھا۔ یہاں تمہیں خون کی بوتلیں لگائی گئیں اور تمہارے جسم سے گولیاں نکالی گئی ہیں۔
اگر یہاں ڈاکٹر آتے رہے ہیں تو میری موجودگی راز کیسے رہ سکتی ہے۔ یہ بات باہر نکل چکی ہوگی اور ’’ ڈاکٹروں نے بھی تو سوال اٹھائے ہوں گے؟ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا تو اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے استاد کسی کم عقل طالب علم کو دیکھتا ہے۔
یہاں آنے والے ڈاکٹر اپنی زبان ہمارے پاس گروی رکھ جاتے ہیں۔ یہاں کی کوئی بات باہر نکلے تو جانے ’’ اس نے پر غرور لہجے میں کہا۔ ‘‘کہاں کہاں زلزلہ آسکتا ہے۔
خیر میں تمہیں تمہارے یہاں گزرے دنوں کے بارے میں بتا رہی تھی۔ تم طویل بے ہوشی میں رہے لیکن ’’ ڈاکٹروں کی محنت اور نیلی کی توجہ کی وجہ سے ایک دن تم ہوش میں آگئے۔ ہم یہ جان کر خوش تھے ‘‘ لیکن پھر ایک اور حادثہ ہوگیا۔
میں نے بے ساختہ پوچھا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ‘‘ وہ کیا؟ ’’
دم تو لینے دو بتا رہی ہوں۔ ہمارا خیال تھا تم شاہد ملتانی کے ساتھی ہو۔ اس کے کئی زخمی ساتھی یہاں ’’ آکر آرام کر چکے ہیں لیکن تم ان سب سے مختلف ہو تم کسی شدید جذباتی حادثہ کا شکار ہوئے تھے۔ اس کا اثر تمہارے ذہن پر خاصا گہرا تھا۔ تم نے ہوش میں آتے ہی انہی باتوں کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔ اس وجہ سے تم پر جنون طاری ہونے لگا تم اپنے آپ کو زخمی کررہے تھے اس لیے ہمیں پھر ڈاکٹر کو بلانا پڑا جس نے صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ تمہیں کچھ عرصہ نیند کی حالت میں رکھا جائے تاکہ تمہارے ذہن سے بے چینی اور کرب کا احساس کچھ کم ہوسکے۔ پہلے تمہیں مسلسل بے ہوشی کی حالت میں رکھا گیا لیکن یہ عمل تمہارے لیے انتہائی نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا تھا۔ لہ ذا ڈاکٹرز نے بے ہوشی کے درمیان وقفہ شروع کیا جسے آہستہ آہستہ بڑھایا گیا اس سے تم صدمے کے اثر سے باہر ‘‘ نکلنے لگے اور اب یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ تمہیں مزید بے ہوشی کے عالم میں نہیں رکھا جائے گا۔
وہ گزشہ دنوں کا خلاصہ بتا رہی تھی اور میں خاموشی سے سنتا جا رہا تھا اس نے مختصر الفاظ میں اب تک کی صورت حال بتا دی تھی۔ اس سے جہاں میرے ذہن میں اٹھنے والے کئی سوال حل ہوچکے تھے وہیں وہ بہت خوب صورت انداز میں یہ جتلا چکی تھی کہ اب میں یہاں سے باہر جانے کا نہ سوچوں اسی طرح اس نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ مجھے بے ہوش رکھنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ میں ہوش میں آکر اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔
اس کا رویہ دیکھتے ہوئے میں نے ذہن میں بار بار آنے والا سوال پوچھ ہی لیا۔
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب دینے کے بجائے نیلی کمرے سے ہی چلی جاتی تھی ‘‘ میں کس جگہ پر ہوں؟ ’’ یا پھر بات کا رخ بدل دیتی تھی۔اس کے اس رویے کی وجہ سے ہی میرے اندر سے تجسس سر ابھارنے لگا تھا۔ میرا سوال سن کر خاتون کچھ دیر تذبذب کا شکار نظر آئی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگی۔
میرے خیال میں تمہیں اصل بات بتا دینی چاہیے۔ مجھے معلوم نہیں کہ شاہد ملتانی کو یہ بات پسند ’’ آئے گی یا نہیں لیکن یہاں رہو یا چلے جائو لیکن سچ تو کھل ہی جانا ہے۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے لیکن سچ کا تو لباس بھی نہیں ہوتا وہ ہمیشہ ننگا نظر آتا ہے۔ بالکل عیاں اور واضح۔ سچ پر کوئی شال لپیٹنے کی کوشش کریں تو وہ مرجاتا ہے۔ اسے لباس فطرت ہی میں رہنا پسند ہے۔ جھوٹ کئی بہروپ بدلتا ہے لیکن سچ کا صرف ایک ہی روپ ہے۔ میں تم سے جتنا بھی چھپائوں سچ پر جتنے بھی لباس ٹانگوں یہ ‘‘ اپنی اصل حالت میں تمہارے سامنے آجائے گا۔
میں نے بے صبری سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
مجھے صاف صاف ہی بتادیں اتنا گھمانے پھرانے کی ضرورت نہیں جو بھی سچ ہے میں دوستوں میں ہوں ’’ ‘‘ یا دشمنوں میں ہوں آپ مجھے سچ بتا دیں میں سچ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہوں۔
میری بات سن کر اس نے لب وا کیے اور کہنے لگی۔
یہ ہیرا منڈی ہے اور میں شبنم بائی ہوں تم میرے کوٹھے پر ہو۔ یہاں کیا کچھ ہوتا ہے اب وہ سب تم سے ’’ ‘‘ مخفی نہیں رہے گا۔ یہاں دن سوتے ہیں اور راتیں جاگتی ہیں۔
میرے سر پر جیسے کسی نے بم پھوڑ دیا ہو۔ الفاظ اس کے ہونٹوں سے نکل کر سیسے کی مانند میرے کانوں میں جا رہے تھے۔ کمالا جٹ تو گھر کی عورتوں کی کمائی کھانے کے خلاف تھا۔ اب یہاں جانے کتنے دن سے طوائفوں کی کمائی پر پل رہا تھا۔ میرے چہرے پر زلزلہ کے آثار دیکھ کر جیسے شبنم بائی نے میرا ذہن پڑھ لیا۔
تم بے فکر رہو، تمہارے اخراجات کے لیے شاہد ملتانی بھاری رقم دے گیا تھا۔ طوائف تو اپنے بیٹے پر نہیں ’’ ‘‘ لٹاتی تو تم پر کیسے اپنی کمائی خرچ کرسکتی ہوں۔
شبنم بائی سے یہ معلوم ہونے کے بعد کہ میں ہیرا منڈی میں ہوں۔ مجھے اس طبلے کی آواز کی حقیقت بھی معلوم ہوگئی جو گزشتہ دنوں میں اکثر سنائی دیتی تھی۔ میں جس کوٹھے پر تھا وہاں مج را ہوتا تھا شاید جسم فروشی بھی ہوتی ہو کیونکہ اب نوابوں مہاراجوں کا دور نہیں تھا جو ایک ایک ادا پر اتنا نواز دیتے تھے کہ نسلیں بیٹھ کر کھا سکتی تھیں۔ اندھیرا پھیلنے لگا تو شبنم بائی چلی گئی۔ آہستہ آہستہ کمرے میں تاریکی کا راج چھانے لگا۔ یہ چاروں اطراف سے گھرا ہوا تھااس لیے جوں جوں رات ً کمرہ غالبا بھیگنے لگی توں توں کمرے میں تاریکی گہری ہونے لگی۔ رات کے کسی پہر طبلے کی تھاپ سنائی دینے لگی۔ لائٹ بند ہونے کی وجہ سے کمرہ مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب چکا تھا۔ مجھے اپنا ہی ہاتھ نظر نہیں آرہا تھا اچانک ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔ میں زخمی ہونے کے بعد اندھا نہیں ہوا تھا اندھے پن کا احساس شاید اس لیے ہوا تھا کہ جب میں ہوش میںآیا تو وہ رات کا سماں تھا۔ گھپ اندھیرے میں اندھے پن کا احساس در آیا تھا۔ اندھیرے کمرے میں طبلے کی مدہم تھاپ سنتے سنتے جانے کس پہر میری آنکھ لگ گئی۔ کوٹھے کا علم ہونے کے بعد یہ میری کسی بھی کوٹھے پر پہلی رات تھی مجھے معلوم تھا میں ایک طوائف کے کوٹھے پر ہوں۔ صبح یہ خیال آتے ہی میں زیر لب مسکرانے لگا۔ لوگ کوٹھوں پر عیاشی کے لیے آتے ہیں اور میں جانے کتنی راتیں گزارنے کے باوجود پاک دامن تھا۔ مجھے اپنی کائنات کے سامنے نظریں نہیں جھکانی پڑیں گی۔ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوا تھا۔ خوب صورت خوابوں کی مالابنتے بنتے وہ شہر سے میرے گائوں تک چلی آئی تھی اور پھر بیگھے ملوں کی وجہ سے یہ مالا بکھر گئی۔ میرے گھر والوں، دوستوں کا قتل اور میری یہاں موجودگی تک کی کہانی شاید اسے بھی معلوم ہوچکی ہو۔
کائنات نے تو بہت حسین خواب دیکھے تھے۔ میڈیکل کے بعد ایک خوب صورت زندگی ہماری منتظر تھی۔ خواب جب ٹوٹتے ہیں تو انسان زندہ رہ کر بھی مرجاتا ہے۔ خدا جانے کائنات اب کیا سوچتی ہوگی۔ وہ مجھ
سے شادی پر آمادہ ہوگئی تھی لیکن اس وقت میں ڈاکٹر کمال بن رہا تھا۔ کب اب بھی وہ اس شادی پر رضا مند ہوتی؟ اب میں ڈاکٹر کمال کی بجائے کمالا ڈکیٹ بننے جا رہا تھا۔
میری اس زندگی کی ابتدا ہی پولیس مقابلے سے ہوئی تھی۔ کچہری میں قیدیوں پر حملہ، تھانے سے فرار، پولیس مقابلے، سرکاری اہلکاروں کا قتل، بیگھے ملوں کے پالتو غنڈوں کا قتل اور جانے کون کون سے مقدمات مجھ پر درج ہوچکے ہوں گے۔ چند ہی دنوں میں ایک خوب صورت دل کا مالک اور اعل ی مستقبل کی ضمانت رکھنے والا کمال مہذب دنیا کے لیے خوف اور دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ لوگ میرے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے خوف اور نفرت کا اظہار کرتے ہوں گے۔ پورے ضلع کی پولیس میرے نام سے واقف ہوچکی ہوگی اور ہوسکتا ہے میرے سر پر انعام بھی رکھ دیا ہو۔ حالات کا تجزیہ کرتے کرتے جانے کب میری آنکھوںسے آنسو بہنے لگے اور تکیے کو بھگونے لگے۔
لوگ صبح آنکھ کھلنے پر تازہ دم ہوتے ہیں لیکن مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد بے دم ہو کر گر پڑا ہوں۔ یہ کوئی فلمی کہانی ہوتی تو شاید کامیاب فلم کہلاتی لیکن یہ مجھ پر حقیقی زندگی میں بیتی تھی۔ میں ہی اس کے کرب سے واقف ہوں۔ سارے حسین خواب پل بھر میں جل کر راکھ ہوچکے تھے۔
دو تین دن میں اسی کمرے تک محدود رہا۔ نیلی پہلے سے بڑھ کر میرا خیال رکھ رہی تھی۔ میں سارا دن گزرے دنوں کے بارے میں سوچتا رہتا۔ یہ طے ہوچکا تھا کہ اب میں ڈاکٹر نہیں بن سکتا تھا۔ پولیس کا فرض معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ہے لیکن جانے ہر روز پولیس ہی کتنے جرائم پیشہ افراد پیدا کرتی ہے۔ میں نے اس دو تین دنوں میں اپنا مستقبل سوچا اور ہر بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ ابھی مجھے بیگھے ملوں سے بدلہ لینا تھا۔ جنہوں نے میرا ہنستا مسکراتا گھر اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ماضی یاد آتے ہی میرا خون کھولنے لگتا تھا۔ دل کرتا تھا نتائج سے بے نیاز ہو کر ابھی بیگھے مل کا پورا خاندان گولیوں سے بھون دوں۔
دو تین دن شبنم بائی سے میرا سامنا نہ ہوا اس کی اپنی مصروفیات تھیں۔ نیلی البتہ میرے پاس ہی رہتی تھی۔ تین دن بعد شبنم بائی آئی تو میں نے اس سے براہ راست دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ‘‘ بائی ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟ ’’
اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔ ‘‘ سرکار آپ دو باتیں پوچھیں۔ ’’
‘‘ کیاں میں یہاں ایک قیدی کی حیثیت سے ہوں۔ ’’
اس نے فکر مندی کے تمام تاثرات چہرے پر سجاتے ہوئے کہا تو ‘‘ ایسا کس دشمن نے آپ سے کہہ دیا؟ ’’ میں بولا۔
‘‘ کہا تو کسی نے بھی نہیں لیکن میں جاننا چاہ رہا تھا۔ ’’
‘‘ ہر گز نہیں شاہد ملتانی تو آپ کو اپنا بھائی بتا کر گیا ہے۔ آپ مالک ہیں حضور قیدی تو ہم ہیں۔ آپ کے۔ ’’ اس کے لہجے پر طوائفوں کے لہجے کی ملمع کاری ہونے لگی۔
‘‘ تو کیا میں یہاں سے باہر جاسکتا ہوں۔ ’’
‘‘ جب چاہیں جا سکتے ہیں ہم تو بے دام غلام ہیں سرکار کے۔ ’’
کچھ دیر وہ یونہی بیٹھی سوچتی رہی پھر کہنے لگی۔ ’’
‘‘ ایک عرض اس بندی کی بھی سن لیں۔ ’’
وہ میری شرارت بھانپ گئی اس لیے برا ماننے کی ‘‘ جی سنادیں حضور۔ ’’ میں نے اسی کے لہجے میں کہا۔ بجائے مسکرا کر کہنے لگی۔
سرکار آپ جہاں چاہیں جائیں آپ کو کوئی نہیں روکے گا لیکن درخواست ہے کہ اتنا دور نہ جائیے گا کہ ’’ بندی کسی عذاب میںمبتلا ہوجائے۔ شاہد ملتانی کہاں مانے گا کہ آپ اپنی مرضی سے چلے گئے۔ قہر تو میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔ ‘‘ ہم پر ہی ٹوٹے گا۔
ایسا کریں کسی کو ساتھ کردیں۔ جو مجھے اس علاقے کے بارے میں بتاتا بھی رہے اور مجھ پر نظر بھی ’’ ‘‘رکھ سکے۔
اس نے معنی خیز ‘‘ آپ پر نظر تو ہم نے رکھی ہے سرکار، کسی اور کو یہ اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔ ’’ لہجے میں کہا۔
‘‘ ویسے آپ کو علاقے کے بارے میں بتانے کے لیے میں شرفو کو ساتھ کردیتی ہوں۔ ’’
میں نے چونکتے ہوئے پوچھا۔ جب سے میں یہاں آیا تھا کبھی کسی مرد کی آواز تک نہ ‘‘ یہ شرفو کون ہے؟ ’’ سنی تھی۔ میرے سامنے بھی بس نیلی اور شبنم بائی ہی آئی تھیں۔ مجھے تو یہ معلوم تھا کہ یہاں مرد تماش بین آتے ہوں گے لیکن یہ اندا زہ نہ تھا کہ کوئی مرد بھی اس گھر میں رہتا ہوگا۔ شبنم بائی کے انداز سے تو یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہاں اسی کا کنٹرول ہے اور اس گھر میں تماش بینوں کے سوا کسی کو آنے کی اجازت نہیں۔
شرفو ہمارا اپنا ہے دلال سمجھ لیں لیکن اعل ’’ ی پائے کا دلال ہے جو صرف ہمارے گھرانے کے ساتھ منسلک شبنم نے نخوت سے بتانا شروع کیا۔ ‘‘ ہے۔ ہر ایری غیری جگہ دو پیسے کے لیے منہ نہیں مارتا۔
ویسے ہم اسے منیجر کہتے ہیں۔ وہ پروگرامز کی بکنگ کرتا ہے۔ اچھا بندہ ہے تمہیں بور نہیں ہونے دے ’’ شبنم بائی نے دو تین بار شرفو کو آواز دی تو ایک دھان پان سا آدمی دانت نکوستا ہوا چلا آیا۔ میں نے ‘‘گا۔ اسے غور سے دیکھا۔ وہ کسی بھی صورت منیجر نہیں لگتا تھا۔ تیل میں چپڑے بالوں کی لٹیں بکھری ہوئی تھیں۔ ایک کان میں بالی اور خوشبو میں بسی روئی اڑس رکھی تھی۔ گلے میں موتیوں کا ہار، ہاتھ میں مختلف نگوں والی انگوٹھیاں اور کلائی میں سرخ دھاگے بندھے ہوئے تھے۔ اس نے کاٹن کا سوٹ پہن رکھا تھا جس کے گلے کے بٹن کھلے تھے جبکہ کف چڑھائے ہوئے تھے۔ اس کی شخصیت کی طرح لباس بھی مسلا ہوا تھا۔
بے ساخہ میرے منہ سے نکل آیا۔ ‘‘ واہ کیا منیجر ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹل میں ہوتا تو قیامت ڈھا دیتا۔ ’’
شبنم بائی نے مرے طنز کا برا مانے بنا کہا۔ ’’
اسے معمولی نہ سمجھو یہ ہیرا ہے ہیرا۔ ابھی باہر کھڑے ہو کر آواز لگا دے تو اس بازار کی سبھی ’’ نائیکائیں اسے اپنے پاس رکھنے کے لیے کروڑوں کی بولی لگا دیں۔ بندہ دیکھ کر جان جاتا ہے کہ یہ کتنے کی آسامی ہے۔ اپنے لائق ہو تو پھر پر نہیں مارسکتا۔ گھٹیا درجے کا مزدور ہو تو ادھر بھٹکنے بھی نہیں ‘‘ دیتا۔
شبنم بائی کی بات سن کر میں نے شرفو کی جانب دیکھا۔ وہ میری ہی جانب دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنی جانب متوجہ دیکھ د ہاتھ آگے بڑھا یا۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور مصافحہ کیا۔ شبنم ً کر اس نے فورا بائی ا شرفو کو ہدیت کی کہ وہ مجھے اس علاقہ کا دورہ کرا دے اور یہاں کے بارے میں بھی ً نے مختصرا آگاہ کردے۔
شرفو نے مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔ ہم کمرے سے باہر نکلے تو تنگ سی سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھیں۔ سیڑھیوں کی طرح گلی بھی خاصی تنگ تھی۔ ش رفو میرا ہاتھ تھامے مختلف گلیوں میں گھومنے لگا۔ وہ ساتھ ساتھ مجھے مختلف عمارتوں اور لوگوں کے بارے میں بھی بتاتا جا رہا تھا۔ وہ جہاں سے گزرتا وہیں کوئی نہ کوئی جان پہچان والا مل جاتا جس پر شرفو سب کچھ بھول کر اس سے باتیں کرنے میں مشغول ہوجاتا۔ ہم کافی دیر یونہی بے مقصد پھرتے رہے پھر تھک ہار کر ایک گلی کے باہر تھڑے پر بیٹھ گئے۔
میرے ذہن میں اس حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے تھے اس سے پہلے میں متعدد بار لاہور آیا تھا لیکن اس بازار کا رخ کبھی نہ کیا تھا تجسس کے ساتھ ساتھ آئندہ کی منصوبہ بندی کے لیے بھی مجھے یہاں کے بارے میں جاننا تھا۔ یہ طے تھا کہ اب نامعلوم مدت کے لیے مجھے یہیں رہنا تھا کم از کم شاہد ملتانی
کے لوٹنے تک یہی بازار حسن میرا ٹھکانہ اور طوائف کا کوٹھا میری پناہ گاہ تھا۔ واپسی کے راستے بند ہوچکے تھے۔ بیگھے مل میری موت کے لیے پاگل ہوئے پڑے تھے۔ پولیس الگ میری تلاش میں تھی۔ میں نے دونوں کو بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ جٹاں والا میں ایک ہی محفوظ ٹھکانہ تھا وہاں سے میں فرار ہوچکا تھا۔ خدا جانے میرے مقابلے اور فرار کے بعد وہاں کیا صورت حال پیش آئی ہو۔ اب یہ بیگھے مل اور میری لڑائی نہ رہی تھی بلکہ کمالے جٹ اور ریاست کی لڑائی بن چکی تھی۔ شاید ہمارے ہاں کی ریاست کے مجرم اسی طرح تیار کیے جاتے ہیں حالانکہ ریاست کے اصل مجرم وہ ہونے چاہئیں تھے جنہوں نے پولیس کی وردی پہن کر بیگھے ملوں کی دلالی کی اور کمال پتر کو کمالا جٹ بنا دیا۔ میں نہتا اور تنہا واپس جا کر بیک وقت پولیس اور بیگھے مل سے نہیں ٹکرا سکتا تھا۔ طاقت حاصل کرنے تک مجھے یہیں رہنا تھا اس لیے ضروری تھا کہ مجھے اس بازار اور علاقے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہوں۔
میں نے شرفو کی طرف دیکھا اور کہا۔
پہلے تو وہ حیرت سے میری جانب دیکھنے لگا۔ اسے میرے سوال کی نوعیت کا ‘‘ شرفو یہ کیسا علاقہ ہے؟ ’’ اندازہ نہیں ہوا۔ اس کے چہرے کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ میرا سوال اس کے پلے نہیں پڑا۔ میں نے دوبارہ کہا۔
میری وضاحت سن کر اس نے یوں سر ہلایا جیسے بات کی ‘‘ میرا مطلب ہے یہاں کیسے لوگ رہتے ہیں۔ ’’ تہہ تک پہنچ گیا ہو کہنے لگا۔
‘‘ اچھے لوگ رہتے ہیں، طوائفیں بھی اور کنجر بھی۔ کچھ برے لوگ بھی ہیں لیکن وہ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ’’
اس کا جواب سن کر پہلے تو میں ہکا بکا رہ گیا پھر خیال آیا کہ وہ یہیں پلا بڑھا ہے اس نے عمر یہیں گزار دی ہے۔ یہ اس کا علاقہ اور اس کی برادری ہے۔ اس لیے اس کا جواب اس پس منظر میں درست تھا۔
یار مجھے تفصیل سے بتائو میں نے تو بس کتابوں میں پڑھا ہے کہ یہاں جسم فروشی ہوتی ’’ میں نے کہا۔ ‘‘ ہے لیکن یہاں کی تہذیب، کلچر اور رویوں کا معلوم نہیں ہے۔
شرفو نے گلے میں موجود باسی موتیوں کے ہار کو سونگھا اور کہنے لگا۔
یہاں سب ہی جسم نہیں بیچتے۔ کتابوں میں تو آپ نے نوابوں اور طوائفوں کی کہانیاں پڑھی ، بائوجی ’’ ہونگی پہلے تو لوگ طوائفوں کے ہاں اپنے بچوں کو تہذیب سکھانے بھیجتے تھے اب ایسا کچھ نہیں ہے بازاری عورتوں نے یہاں کا کلچر ہی بدل دیا ہے۔ اب یہاں کچھ ایسے کوٹھے ہیں جہاں ناچ گانا ہوتا ہے لیکن وہ غزلیں اور کتھک والا زمانہ بھی چلا گیا۔ اب تو انڈین گانوں اور پاکستانی مجروں پر ہی ڈانس ہوتا ہے۔
یہیں سے شادیوں اور فنکشن کی بکنگ ہوتی ہے۔ یہ لوگ جسم فروشی نہیں کرتے لیکن کچھ لڑکیاں اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہنے لگا۔ ‘‘ فنکشن پر دائو لگا لیتی ہیں۔
بائو جی میں فنکشن کی ٹیم لے کر جائوں تو پورا خیال رکھتا ہوں لیکن کسی کو خود ہی آفر آئی ہو تو ’’ ‘‘ وہاں بندہ کیا کرے؟
میں نے اس کی بات ‘‘ اس کا مطلب ہے اب یہاں باقاعدہ جسم فروشی نہیں ہوتی۔ یہ تو اچھی بات ہے ’’ کاٹتے ہوئے کہا۔
میری بات سن کر اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ بات بات پر کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرنا شاید اس کی عادت تھی۔ اس نے عجیب سے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
جسم فروشی کہاں نہیں ہوتی؟ دنیا بھر میں جسم بیچا جاتا ہے جہاں بھوک ہوگی وہاں جسم بھی بکیں ’’ گے۔ یہاں یہ ہوتا ہے کچھ طوائفوں نے تو گانا بجانا بھی بند کردیا ہے۔ کون اتنے جھنجٹ میں پڑے۔ جو پہلے ‘‘ گلے اور سر کی کمائی کھاتے تھے اب جسم کی کمائی کھا رہے ہیں اور عیش کر رہے ہیں۔
میں نے اس کی بات کاٹی۔ ‘‘ یعنی جسم بیچنے والے اب فنکاروں سے زیادہ کمانے لگے ہیں؟ ’’
اب نواب تو ہیں نہیں زیادہ تر تو مزدور، رکشہ ڈرائیور اور ملازم پیشہ لوگ ہی ادھر آتے ہیں۔ ، نہیں جی ’’ بعض طوائفیں تو اب ایک وقت کی روٹی کے بدلے بھی خود کو نیلام کردیتی ہیں۔ اصل میں یہاں بڑا ظلم میں چونک گیا۔ میں نے تو کبھی نہیں سنا کہ یہاں کوئی ظلم ہوا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم ‘‘ہوا ہے۔ اخباروں میں خبر ضرور آتی۔
میں نے پوچھا۔ ‘ کیسا ظلم؟ ’’

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: