Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 14

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 14

بائو جی حکومت نے یہاں سختی شروع کردی تھی تو جن کے پاس کچھ پیسے تھے وہ یہاں سے چلے ’’ گئے۔ اب تو یہ لوگ شہر بھر میں پھیل گئے ہیں۔ شہر میں وہ یہ تو نہیں کہتے کہ ان کا تعلق اس بازار سے ہے لیکن آپ نے بھی سنا ہوگا کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے اب تو شہر کے ہر علاقے میں خفیہ کوٹھے کھل چکے ہیں۔ ہمیں تو یہی کام آتا تھا یہاں تو عزت دار لوگ آتے نہیں تھے شہر میں تو بڑے دولت مند آتے ہیں۔ اب اس شہر کی کئی کوٹھیوں میں طوائفوں نے کوٹھے اور کنجر خانے کھول رکھے ہیں۔ یہاں تو وہی لوگ رہ گئے ہیں جو یا تو کہیں اور جانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے یا پھر وہ ہیں جو خود ہی یہ گھر نہیں چھوڑنا چاہتے۔ مائوں نانیوں کے گھر ہیں ایک دم کیسے چھوڑے جاتے ہیں۔ مجھے بھی زرینہ بیگم نے کہا تھا کہ ڈیفنس والی کوٹھی میں آجائوں اور نہر والے فارم ہائوس کا انتظام سنبھالوں۔ پیسے بھی اچھے تھے اور عزت بھی کرتی ہے کہتی تھی وہاں پینٹ کوٹ پہنوں گا اور گاڑی بھی دے گی لیکن
خاندانی دلال ہوں۔ باپ داد کا ایک نام ہے۔ منٹو صاحب نے اپنے افسانوں میں میرے دادا کا ذکر کیا ہے۔ بنی اس کے لہجے میں تاسف در آیا اور میں حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔ ‘‘ بنائی عزت کیسے چھوڑ دوں۔
شرفو کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ الگ ہی دنیا ہے ہمارے ہاں انہیں اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن یہ اپنی الگ دنیا بسائے ہوئے ہیں جس طرح شرفو کو اپنے خاندانی دلال ہونے پر فخر تھا اسی طرح شبنم بائی کو بھی اپنے خاندانی طوائف ہونے پر فخر ہوگا۔ شرفو پر یاسیت اسے رہ رہ کر ً کا دورہ پڑ چکا تھا۔ غالبا پر لعنت بھیج کر کسی فارم ہائوس کی دلالی شروع کردیتا تو کہیں ‘‘ خاندانی عزت ’’ خیال آرہا تھا کہ اگر وہ زیادہ پیسے کما لیتا۔
میں اٹھ کھڑا ہوا میرے ساتھ ساتھ شرفو بھی اٹھ گیا۔ ہم واپس شبنم بائی کے کوٹھے کی جانب آرہے تھے کہ سامنے سے دوہیجڑے آتے نظر آئے۔ میں نے انہیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے شرفو سے کہا۔
یار، یہاں عورتیں اور لڑکیاں موجود ہیں پھر بھی اس بازار میں ہیجڑوں کا کیا کام یہاں تو کوئی شادی کا ’’ ‘‘ فنکشن بک کروانے آئے تو اسے بھی سستے داموں کوئی نہ کوئی لڑکی مل ہی جائے گی۔
میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنسا۔ پھر کہنے لگا۔
بائو جی وہ کہتے ہیں کہ شوق اپنا اپنا ویسے یہاں تو پورے شہر میں سب سے زیادہ ہیجڑے رہتے ہیں اب ’’ ‘‘ تو یوں سمجھ لو کہ بازار حسن انہی ہیجڑوں نے آباد کر رکھا ہے۔
مجھے اس گفتگو میں دلچسپی ہونے لگی۔معلومات کا ایک جہاں میرے سامنے کھل رہا تھا۔ یہ معلومات شاید کسی تعلیمی امتحان میں میرے کام نہیں آتی تھی۔ فقط یہی معلومات کیا؟ اب تو شاید کوئی بھی معلومات کسی بھی کتاب یا اخبار میں ہو میرے لیے امتحانی نقطہ نظر سے بے کار تھی۔ پورے ضلع کی پولیس کا دشمن بھلا کسی امتحان میں کیسے بیٹھ سکتا تھا؟ اب زندگی ہی میرا امتحان لے رہی تھی۔ زندگی کے امتحان میں یہ معلومات میرے بہت کام آسکتی تھیں۔
میں نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لیے شرفو سے ہیجڑوں کا پوچھا تو وہ کہنے لگا۔
بائو جی یہاں تو سیکڑوں ہیجڑے رہتے ہیں۔ اب بازار حسن اور طوائفوں کی کہانی تو بس نام کی حد تک ’’ ہے ورنہ یہ اصل ٹھکانہ تو ہیجڑوں کا ہی ہے۔ سیکڑوں ہیجڑے ہیں کچھ الگ تھلگ اور کچھ خاندان بنا کر کچھ مانگ کر گزارا کرتے ہیں کچھ گا بجا کر تو کچھ نے الگ ہی روزگار شروع کر رکھے ہیں۔ بس یہ سمجھ لو کہ ان ہیجڑوں کو بھی اسی محلہ میں پناہ ملتی ہے۔ شریفوں کے محلے میں تو کوئی انہیں دو دن بھی ‘‘سکون سے نہ رہنے دے۔
گفتگو کرتے کرتے ہم شبنم بائی کے کوٹھے پر پہنچ گئے۔ یہ کوئی عالی شان بنگلہ نہیں تھا بلکہ ڈھائی مرلہ کا تین منزلہ مکان تھا۔ اندر داخل ہوئے تو جیسے ماحول ہی بدلا بدلا سا تھا۔ شبنم بائی اور اس کی بیٹیاں سر پر دوپٹا اوڑھے گھر چمکانے میں مصروف تھیں۔ شرفو نے اس اچانک تبدیلی کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا پیر صاحب آنے والے ہیں۔
مجھ پرآج حیرتوں کے در وا ہو رہے تھے۔ کیا طوائفیں بھی پیری مریدی پر یقین رکھتی ہیں۔ اس سے بھی اہم سوال یہ تھا کہ کیا کوئی پیر صاحب اپنی مریدنیوں کے لیے اس بازار اور کوٹھے پر بھی آتے ہیں۔ کمرے تک شرفو میرے ساتھ ہی چلا آیا۔ میں نے ذہن میں اٹھنے والے سوال اس کے سامنے رکھ دیے۔ میرے سوال سن کر شرفو کچھ دیر تو ہنستا رہا پھر کہنے لگا۔
بائو جی کیا طوائفیں مسلمان نہیں ہوتیں۔ انہیں مسئلہ مسائل نہیں ہوتے۔ یہاں تو پیری مریدی پر بہت ’’ اعتقاد ہے پیر صاحب کی دعا اور اجازت سے ہی کوئی لڑکی دھندے میں پائوں رکھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ شبنم کے گھر ہی رکے اور ‘‘ پیر صاحب ’’ کرے تو اسے ناکامی اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس شام شبنم نے اپنی سہیلیوں کو بھی بلا رکھا تھا۔ رات پھر گانا بجانا چلتا رہا پیر صاحب مخمور آنکھوں سے نوخیز کلیوں کا دیدار کرتے رہے اور سر پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ نشے میں سر پر رکھا ہاتھ شانے پر اور اس سے بھی نیچے بھٹکتا رہا جسے اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ صبح سورج نکلنے تک یہ طوفان بدتمیزی جاری رہا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ میں نے جتنا جاننا تھا جان لیا اب یہاں سے نکلنا ضرور تھا ورنہ ڈر تھا کہ میں بھی اسی رنگ میں نہ رنگا جائوں۔ یہ اور ہی دنیا تھی یہاں کی شرافت اور ایماندای میں بھی بے حیائی اور ہوس نظر آتی تھی۔ یہاں پیر کا ہاتھ کندھے سے نیچے بھٹکنا برکت کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ یہ میری منزل نہیں تھی۔ منزل تو دور کی بات یہ میرا عارضی ٹھکانہ بھی نہ تھا۔
پیر جلال شاہ کے شبنم بائی کے کوٹھے پر آنے کے بعد جیسے میں کسی خواب سے جاگ گیا تھا۔ اس سے پہلے میں اس ماحول اس کلچر اور اس دنیا کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ میرے لا شعور میں کہیں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ اب مجھے طویل عرصہ یہاں رہنا ہے۔یہ کوئی مجبوری تھی یا بے بسی تھی کہ میں ہتھیار ڈال چکا تھا۔ شاید یہی شکست کی پہلی علامت ہوتی ہے کہ ہم ماضی بھولنے لگتے ہں۔ ماضی ہمارا دامن چھوڑ دے تو انتقام کی آگ سرد پڑجاتی ہے یہی سب میرے ساتھ ہوا تھا۔ ہیرا منڈی کا ماحول مجھ پر اثر کرنے لگا تھا۔ وقتی طور پر ہی سہی لیکن سچ تو یہی تھا کہ میں بہت کچھ بھول گیا تھا۔ بل کھاتی زلفوں کے جال میں الجھنے والے انتقام لینے کے اہل نہیں رہتے یہ تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے۔ میں بھی کسی کی زلفوں کا شکار ہونے لگا تھا۔
ایک ہفتے تک میں اپنے عارضی کمرے سے باہر نہیں نکلا۔ میں نے اس سارے عرصہ میں بہت کچھ سوچا۔ اکیلا آدمی بھلا کتنا سوچ سکتا ہے؟ اس سے بھی کہیں زیادہ میں نے سوچا۔ میں نے ماضی کے تمام
، واقعات دہرائے۔ کائنات سے محبت، اپنی تعلیم، گائوں کا مچھلی فارم، بیگھے مل اور پولیس کی بے غیرتی مجھے سبھی کچھ یاد آنے لگا۔ بھولا تو میں پہلے بھی نہیں تھا لیکن اب سارے واقعات تازہ ہونے لگے تھے۔ اس ساری کہانی میں بازار حسن کا بس اتنا سا تعلق تھا کہ مجھے زخمی حالت میں پولیس سے بچا کر اس بازار لایا گیا۔ اب میں جس جال میں پھنس رہا تھا وہ مجھے کسی اور ہی جانب دھکیل رہا تھا۔
میرا گھر ‘ بیگھے مل ابھی بھی دھرتی کا بوجھ بنا پھر رہا تھا ‘ میں طویل عرصہ تک یہاں رہنے نہیں آیا تھا اب ظلم کو روکنا ہی نہیں بلکہ ختم بھی کرنا ضروری ہوگیا تھا۔مجھے یہاں رہ کر اسی مشن ‘اجڑ چکا تھا اس بازار میں طوائف رہے یا ہیجڑے رہیں اس بارے میں کھوجنا اپنا رستہ کھوٹا کرنے ‘ کی پلاننگ کرنی تھی کے سوا کچھ نہ تھا۔
میں اتنے دن سے کن خرافات میں گم تھا؟ طوائفیں پیروں کا دامن تھامیں یا ‘ مجھ پر یاسیت کا دورہ پڑگیا میں ان پر ‘ یہ ان کے پرانے چلن تھے ‘ یہ مسئلہ نہیں تھا ‘ ایسے پیر نوخیز طوائفوں کے بدن پر ہاتھ پھیریں میرے والد نے ‘ کیوں کڑھتا رہوں؟جٹاں والا میں بدلہ خاندانی غیرت کی نشانی تھی میں پڑھ لکھ گیا تھا مجھے گائوں کے جھگڑوں سے دور رکھا تھا۔ وہ چاہتے تھے کمالا پتر ان فضول کے جھگڑوں میں پڑنے کی بجائے اعل ی تعلیم حاصل کرے جب تک ان کا سایہ ہمارے سروں پر رہا میں کسی اہم لڑائی کا حصہ نہ بنا۔ لڑائی تو دور کی بات ہے مجھے تو گائوں کے کئی جھگڑوں کی تفصیل تک نہ پتا تھی لیکن اب صورت حال اب بدلا گائوں کی روایت قائم رکھنے یا شملہ سیدھا رکھنے ‘ اب کمالے جٹ کا باپ قتل ہوا تھا‘ بدل گی تھی جب بیٹے باپ کے قتل کا بدلہ لینے ‘ کے لیے نہیں لیا جانا تھا۔ اب ایک بیٹے نے خود کو حلالی ثابت کرنا تھا گھر سے نکل آئیں تو پھر نہ انہیں کوئی روایت روک پاتی ہے اور نہ ہی کتابوں میں لکھا قانون ان کے درمیان رکاوٹ بنتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ انتقامی جذبہ ہے لیکن آپ لکھ لیں یہ انتقامی نہیں فطری جذبہ ہے۔ باپ کے قتل کے بعد زمین پر گرنے والا خون پہلے کی رگوں میں لوٹ آتا ہے پھر یہ خون خود اپنا حساب مجھے یہ فرض نبھانا تھا یہ فرض سے زیادہ قرض ہوتا ہے۔بیگھے مل اور اس کے پالتو کتوں ‘چکتا کرتا ہے کی موت میرے ہاتھ لکی جاچکی تھی۔
باپ کے قتل کا بدلہ لینے کی نیت ‘ میرے اردگرد گانے بجانے کے آلات رکھے گئے تھے ‘ میں حال میں لوٹ آیا سے گھر چھوڑنے والا کمالا جٹ طوائفوںکے کوٹھے پر چھپا بیٹھا تھا۔ بیگھے ملوں کو خبر ہوتی تو وہ دشمن ہونے کے باوجود میرے خون پر شک کرتے۔ اس کے ڈیرے پر میرا نام لے لے کر قہقہے لگائے جارہے ہوں گے۔ میں نے سامنے دیوار پر لگے آئینے کی جانب دیکھا اک پل کویوں محسوس ہوا جیسے آئینہ بھی مجھ پر میں ‘ میرا لباس سب اتر گیا۔ ملمع کاری کا اثر جانے لگے تو سونا بھی پیتل ہوجاتا ہے ‘ میرا بھرم ‘ہنس رہا ہے بھی سونے سے پیتل بن رہا تھا۔
یہ مجھے میرے مشن سے دور کررہا ہے۔ کمالا جٹ سب ‘ اب اس کوٹھے سے جان چھڑانا ضروری ہوگیا ہے ’’ کچھ بھول سکتا ہے لیکن اپنے باپ کا قتل نہ تو بھول سکتا تھا اور نہ ہی معاف کرسکتا تھا۔ اب میں نے میرے ذہن میں خاکہ ت رتیب پارہا تھا شاید ملتانی جانے کب آئے ‘‘ سنجیدگی سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں یہاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ مجھے ہر صورت اس ‘ اس کا کوئی وقت مقرر نہ تھا رنگین جال سے نکلنا تھا میں نے اس طرف پڑی کاپی اور بال پوائنٹ کی جانب دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر اٹھالیا میں ایک ایسی فہرست تیار کرنا چاہتا تھاجن کی مجھے یہاں سے فرار ‘ پھر اس کاپی سے ایک ورق پھاڑا کے بعد ضرورت پڑنے والی تھی۔ بال پوائنٹ ہاتھ میں تھامے کچھ دیر یونہی سوچنے کے بعد میں نے وہ ورق پھاڑ دیا۔ میں کوئی اپنی نشانی یا ثبوت نہیں چھوڑنا چاہتا تھا جو بعد میں میرے فرار کی گواہی بنے۔ مجھے یہ فہرست اپنے ذہن میں ترتیب دینی تھی۔ اس سلسلے میں رقم اور مکان سب سے بڑا مسئلہ تھا میرے یوں ‘ میں نے یہ کوٹھا چھوڑنا تھا تو اسی وقت مجھے محفوظ ٹھکانے کی ضرورت پیش آنی تھی جانے سے شاید ملتانی اور شبنم کے درمیان بھی جھگڑا ہوسکتا تھا۔ یہ لڑائی بڑھ جاتی تو اس نے جانے اس سارے سلسلے میں مجھے شبنم بائی کے لوگ پاگلوں کی طرح تلاش ‘ کتنوں کی جان لے لینی تھی مردہ خانوں اور اسپتالوںمیں ‘ کرتے رہتے۔ میری تلاش میں سب سے پہلے ہوٹل ہی چیک کیے جانے تھے ان میں ناکامی کے بعد یا تو بازار حسن میں صف اول کی طوائف کا راج قائم ہونا تھا ‘مجھے کھوجا جانا تھا اس کے لیے ‘ یا پھر پہلے کی طرح شاہد ملتانی اور اس قبیل کے لوگوں نے اپنی گرفت مضبوط کرلینی تھی شبنم بائی کو سزا دینا شاہد ملتانی کے لیے بہت ضروری ہوجاتا۔ اپنا نام رکھنے کے لیے وہ شبنم بائی کو قتل بھی کرسکتا تھا۔ اس دوران اگر میرے پاس کوئی ایسا ٹھکانہ نہ ہوتا تو میں بے موت مارا جاتا۔ شبنم بائی نے اپنی آنکھیں شہر بھر میں پھیلا رکھی تھیں پھر ان آنکھوں کا کام صرف کمالے جٹ کی تلاش رہ جاتا۔
ٹھکانے اور رقم کے لیے فی الحال میرے پاس نہ تو کچھ تھا اور نہ ہی کوئی راستہ سجھائی دے رہا تھا۔ لاہور جیسے تیز رفتار شہر میں بنا پیسوں کے رہنا اتنا بھی مشکل نہیں۔ جن لوگوں نے پچھلے رابطے ختم کردیئے ہوں اور صرف زندہ رہنے کے لیے اس شہر کا رخ کریں ان کے لیے زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ داتا کی یہاں بھوکا مرنا آسان نہیں۔ بازار حسن کے پاس ہی ایسے سیکڑوں لوگ رہتے ہیں جن کی جیب ‘ نگری ہے میں ایک روپیہ نہیں لیکن پھر بھی جئے جارہے ہیں۔ یہاں داتا کی خاص رحمت ہوتی ہے۔یہ شہر جتنا ظالم ہے اتنا ہی مہربان بھی ہے۔ امیر شخص یہاں جتنا بھی اکڑ کر چلے اسے کوئی نہ کوئی سوا سیر مل جاتا خالی جیب اور پھٹے لباس کے ‘ ہے۔ غریب جتنا بھی لاچار کیوں نہ ہو یہ شہر اسے بھوکا نہیں سونے دیتا داتا دربار میں چوبیس گھنٹے لنگر چلتا ‘ ساتھ اس شہر آنے والے پہلے ہی دن زردہ پلائو سے پیٹ بھرتے ہیں دربار کے احاطے میں تو لنگر ہے ہی لیکن داتا کے دیوانے باہر سڑک پر بھی دیگوں کے منہ کھول دیتے ‘ہے رات دربار میں نہ سہی سامنے ‘ ہیں۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن بھر دربار کے احاطے میں رہتے ہیں
فٹ پاتھ پر اور گرائونڈ میں سوجاتے ہیں انہیں نہ فکر معاش ہے اور نہ کوئی کام آتا ہے پھر بھی اس یقین کے ساتھ سوتے ہیں کہ صبح اٹھ کر بہترین کھانا نصیب ہوجائے گا۔
داتا کا دربار چند منٹوں ‘ میرا مسئلہ صرف پیٹ بھرنا نہیں تھا ایسا ہوتا تو میں کب کا اٹھ کر چلا گیا ہوتا پیٹ بھر کر کھاسکتا تھا ‘ میں وہاں چھپ سکتا تھا ‘ اکیلے بندے کا سونا کیا اور جاگنا کیا ‘ کی مسافت پر تھا لیکن میں اکیلا نہیں تھا۔ کمالے جٹ کے ہمراہ اس کے باپ کی روح بھی تھی جو انتقام انتقام کی صدا لگا ‘ رہی تھی۔ میرے دوست میرے ہاتھوں میں دم توڑتے گئے اور میں ان کا بدلہ لینے کے لیے زندہ بچ گیا تھا اب میری باری تھی مجھے یا تو جان دینی تھی یا پھر لینی تھی۔ میں دونوں حالات کے لیے تیار تھا لیکن اندھی موت نہیں مرنا چاہتا تھا ایک بار میں اپنا بدلہ لے لیتا اس کے بعد مارا بھی جاتا تو کوئی غم نہ ہوتا۔
م ‘ بدلہ اور انتقام کسی طوائف کے کوٹھے پر چھپ کر نہیں لیا جاتا و سے لپٹنے والے یدان ّ عورتوں کے پل مارنے کے لیے نہیں ہوتے۔ میدان کا دھنی وہی ٹھہرتا ہے جو ناگن جیسی زلفوں کے شکنجے سے بچنا جانتا ہو۔ جسے ہرنی سی آنکھوں میں بھی اپنے دشمن کا چہرہ نظر آئے جسے ہونٹوں کی لالی میں بھی خون کا رنگ نظر آئے جسے کاجل میں ماتمی رنگ چھلکتا محسوس ہوا اور جسے ٹھنڈی ہوائوں سے قبرستان کے ‘ گھنگھرئوں کی جھنکار ‘ طوائف کا کوٹھا‘ درختوں کی سرسراہٹ ملے۔ انتقام لینے والے ایسے ہی ہوتے ہیں ہونٹوں کی لالی اور آنکھوں کا کاجل تو انتقام کی آگ کو سرد کرنے کے لیے ہوتے ہیں جو ‘ زلفوں کی مہکار شخص ان کے چنگل میں پھنس جائے اس کے لیے انتقام بے معانی ہوجاتا ہے پھر وہ لڑتا ہے تو صرف اپنی وہ کرایہ کے قاتل سے زیادہ اہمیت نہیں ‘ محبوب طوائف کی خاطر لڑتا ہے۔ اس کا انتقام ذاتی نہیں رہتا رکھتا کیونکہ پھر وہ طوائف کا بدلہ لیتا ہے اور اسے اس کا معاوضہ جنس کی صورت مل جاتا ہے۔ کرایہ کا قاتل بھی بھلا انتقام لیتا ہے؟ ایسے لوگ جس مردانگی کا دعو ی کرتے ہیں اس کا مول طوائف کے جسم کی بکا ہوا انتقام تو کلنک کا دھبہ ہوتا ہے۔‘ صورت لگاچکے ہوتے ہیں
میں سمجھ گیا تھا کہ اگر میں زیادہ دیر شبنم بائی کے کوٹھے پر رہا تو میرا حال بھی ان جوانوں جیسا نچڑے ہوئے لوگوں کا انتقام کہاں یاد رہتا ‘ ہوجائے گا جو چوسی ہوئی گنڈیری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ہے۔ شرفو سے میں ایسی کئی کہانیاں سن چکا تھا جن میں کئی جاگیردار اس بازار آئے اور پھر سب کچھ لٹاکر اپنی ہی محبوب طوائف کے دلال بن گئے۔ ان کے لیے یہی کافی ہوگیا کہ ان کی منزل نے انہیں اپنے وہ اپنی محبوب طوائف کو ناچتے دیکھ سکتے تھے چاہے وہ کسی اور کے لیے ‘ پاس رہنے کی اجازت دے دی ہی کیوں نہ ناچ رہی ہو۔
ان کی وفا شعار بیوی اور بچے بھی تھے۔ یہ اسی دنیا کے ‘ یہ لوگ اپنے گائوں کے چوہدری ہوا کرتے تھے نوکر چاکر اور جانور ان کی پہچان تھے۔ اسی دولت کے نشے میں انہوں نے بازار ‘ باسی تھے کئی مربع زمین پیار محبت کے ‘ حسن کا رخ کیا جب تک ان کی جیب میں رقم رہی تب تک ان کی محبوبہ انہی کی تھی
ان نوابوں کا خیال تھا انہوں نے دولت کا دروازہ کھول کر ‘ وعدے بھی ہوئے اور ناز نخرے بھی اٹھائے گئے جس بازار میں قدم رکھا وہاں اب ان کی وجاہت بہادری یا نام کی وجہ سے الگ درجہ مل چکا ہے وہ جس طوائف کی زلفوں اور ادائوں کے اسیر ہوئے وہ بھی ان پر فدا ہوچکی ہے۔ بازار حسن آنے والوں کی اکثریت اس خوش فہمی کو ہوا شبنم بائی نائیکہ ہی دیتی ہے اور پھر جب ‘ اسی خوش فہمی کا شکار ہوجاتی ہے ان جاگیرداروں کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں بچتی تو یہی نائیکہ ان پر اپنے دروازے بند کردیتی ہے۔
یہی طوائفیں انہیں بتاتی ہیں کہ ان سے پہلے وہ کن کن جاگیرداروں کے پہلو گرم کرتی رہیں اور کون کون سا نواب ان کے در سے کنگال ہوکر نکلا تھا۔ اپنے عاشقوں کی طویل فہرست گنوانے کے بعد یہ بتاتی ہیں کہ اس بازار حسن کا رنگ کچھ اور ہوتا ہے۔ وفا اور پاکبازی کی تلاش تھی تو اس گلی کیا لینے آئے تھے؟ وفا پرست تو شوہر کا گھر آباد کرتی ہیں۔ روحانی حسن وہیں ملتا ہے جسے چھوڑ کر یہ جاگیردار اس بدنام زمانہ چند روز پانی لگتا ہے تو رنگ اترنے لگتا ہے پھر ‘ علاقے کا رخ کرتے ہیں یہاں تو ظاہری چمک دمک ہوتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ جس چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر لپکے تھے وہ پیتل نکلا۔
اس کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہوتی ہے جس کے پاس تھوڑی سی عزت اور عقل بچی ہو وہ تھکے ہارے جواری کی طرح مرجھائے تنگ اور اندھیری سیڑھیاں ات رتا ہے اور خاموشی سے کبھی نہ آنے کے لیے لوٹ البتہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ساری کشتیاں جلا چکے ہوتے ہیں۔ جیب کے ساتھ دماغ بھی ‘جاتا ہے خالی کرواچکے ہوتے ہیں ان کے لیے ذلت بھری زندگی اور نام نہاد محبوب کی ایک جھلک ہی کافی ہوتی ان کی انا اور خاندانی وقار دم توڑ ‘ یہ منتیں کرتے ہیں تو نائیکہ انہیں اپنے تلوے چاٹنے کا حکم دیتی ہے ‘ہے دیتا ہے اور پھر یہ اسی بازار میں اسی طوائف کے دلال بن جاتے ہیں جس پر کبھی اپنی جاگیریں لٹایا کرتے اس بازار میں آکر ہی مجھے معلوم ہوا کہ طوائفوں کے ہاں معزز گھروں کی لڑکیاں ہی جنم نہیں لیتیں ‘تھے بلکہ معزز گھروں کے سربراہ بھی اسی بازار میں دلالی کرتے ہیں۔
سنی سنائی کہانیاں اتنی مضبوط ہوتیں کہ ان پر عن ومن یقین کرلیا جائے۔ میں نے یہاں آنے سے پہلے اس بازار میں بہت کچھ سنا تھا یہاں آکر معلوم ہوا کہ اکثر کہانیاں فرضی اور جھوٹ پر مبنی تھیں۔ یہاں فیصد درست نہیں ہیں یہاں نہ تو محبت کی نہریں چلتی 95 کے جو منظر کھنچے جاتے ہیں ان میں سے جابجا بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ اور تیل سے چپڑے ‘ ہیں اور نہ ہی حسن کے دریا بہتے ہیں۔ تنگ وتاریک گلیاں بالوں والے زندگی سے تنگ آئے دلال اس بازار کی پہچان بن گئے ہیں۔ البتہ شروع میں روایات کو زندہ میں سنی سنائی ‘ رکھنے کے لیے آلات موسیقی کی مرمت اور تلوے والے کھسے کی دکانیں موجود ہیں دوسرا شرفو ‘ کہانیوں پر یقین نہیں کرتا لیکن ایک تو میں خود اس بازار کو بہت قریب سے دیکھ رہا تھا نیک ناموں ‘ دلال نے بھی بہت سی داستانیں سنادی تھیں۔ اس کی کہانیوں میں کئی انتظامی افسروں
اور اعل ی شخصیات کے نام شامل تھے جنہیں فتنہ فساد کے ڈر سے شائع نہیں کررہا۔ یہ نام جس دن سامنے آگئے اس دن ملک بھر میں طوفان اٹھ جائے۔
ایک بار اسلام آباد کی ایک نائیکہ نے کسی بات پر غصہ میں آکر اعلان کیا تھا کہ اس کے پاس اپنے گاہوں کی مکمل تفصیل موجود ہے کہ کون کب آیا اور کس لڑکی کے ساتھ وقت گزارا۔ اس نائیکہ نے اس ریکارڈ کو کتابی شکل میں شائع کروانے کا اعلان کیا تو مقدس ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔ ایک رکن اسمبلی نے یہاں فیصد سے زیادہ کو طلاقیں 90 تک کہا کہ اسے روکا جائے ورنہ اسمبلی میں بیٹھے معزز اراکین میں سے دولت ‘ ہوجائیں گی۔ وہ کتاب شائع نہ ہوسکی کیونکہ چھپنے سے پہلے ہی اس کی بولی لگنے لگی تھی مند با اثر لوگ نوٹوں سے بھری بوریاں لے کر آتے اور اصل مسودے میں سے اپنے نام کا صفحہ خرید کر لے جاتے تھے۔ خریدا گیا صفحہ کتاب سے نکال دیا جاتا تھا اور پھرکتاب کے مسودہ میں جلد کے سوا کچھ نہ لوگ منہ مانگے دام دے کر اپنا اپنا صفحہ لے گئے اور شہر پھر سے نیک ناموں اور معزز افراد سے سج ‘بچا ریکارڈ جلنے کے بعد ‘ گیا۔ یہ وہ معزز لوگ تھے جنہوں نے اپنا گناہ نامہ خرید کر آگ میں جھونک دیا تھا انہوں نے دوبارہ تسبیح سنبھالی اور زیر لب کرسی کرسی کا ورد کرنے لگے۔ یہ لوگ آج بھی اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
طوائفوں کی اس دنیا میں جتنی عجیب کہانیاں بکھری ہوئی ہیں اس سے کہیں عجیب سوچ بھی پل رہی شرفا کی بستی میں ‘ یہاں پیدا ہونے والے بچے کے ذہن میں غیرت اور عزت کا تصور مختلف ہوتا ہے ‘ہے غیرت کا مطلب گھر کی خواتین کی عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔ ہمارے ہاں عزت کی علامت بہن بیٹیوں کے سر پر چادر کو سمجھا جاتا ہے۔ طوائف زادے کی عزت اس میں ہوتی ہے کہ اس کی بہن دوسروں سے زیادہ خوب صورت ہے اور اس کے گاہک دوسری لڑکیوں کے گاہک سے زیادہ امیر اور بااثر ہیں۔ اسی نسبت بڑی طوائف کے بھائی اور دلال کی دوسروں ‘ سے بازار حسن میں عزت اور رتبہ کا معیار قائم کیا جاتا ہے سے زیادہ عزت ہوتی ہے جبکہ نچلے درجے کی طوائف کے بھائی اور دلال انہیں کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ چونکہ ان کی بہن کم خوب صورت ہے اور اس کے عاشق زیادہ امیر نہیں م لہ ذا بازار یں ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔ یہ یح ‘ میں چند دنوں میں ہی یہاں کا مزاج بھانپنے لگا تھا یح ‘ یی خان کی داستان تھا یی خان پاکستان فتح اسی لیے اس کے اردگرد ‘ کرنے والے آمروں میں سے ایک تھا۔ شراب اور کباب اس کی خاص پہچان بنے بھی طوائفیں جمع ہونے لگیں اور وہ پاکستان کو بھول کر انہی کی زلفوں کا اسیر ہوگیا۔ اسی یح یی خان کی ایک نک چڑھی طوائف کے شوہر سے ایک محفل میں کسی نے پوچھ لیا کہ دنیا بھر کو معلوم ہے کہ تمہاری بیوی ہر وقت یح کیا کبھی تمہاری غیرت نہیں جاگی؟ اس ‘ یی خان کا پہلو گرم کرتی رہتی ہے طوائف کے شوہر نے جو جواب دیا وہ تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ کرلیا تھا اس شخص نے بھری محفل
آپ کولگتاہے کہ میری بیوی یح ‘ یہ تو اپنے اپنے سوچنے کا اندازہ ہے ’’ میں کہا۔ یی خان کے پاس ہوتی ہے جبکہ میں یہ سوچ لیتا ہوں کہ بیوی تو وہ یح ‘‘ یی خان کی ہے بس کبھی کبھار میرا دائو لگ جاتا ہے۔ ماضی میں یہ واقعہ پڑھ کر مجھے حیرت ہوتی تھی کہ کوئی شوہر اپنی بیوی کے بارے میں ایسی بات بات کرنا تو دور ایسی گھٹیا بات تو سوچنا بھی محال ہے لیکن اب اسی بازار سے واسطہ ‘ کیسے کرسکتا ہے پڑا تو اندازہ ہوا کہ یہاں اس سے بھی کہیں گھٹیا سوچ پائی جاتی ہے۔ یہاں شوہر اور بھائی کمائی پر پلتے تاش کی ‘ جوا کھیلنا ‘ ہیں اور اپنی زبان میں عیش کرتے ہیں۔ کچی شراب پی کر ایک دوسرے سے لڑنا بازیاں لگانا اور کبوتر یا تیتر پالنا ان کی عادت بن چکی ہے اس کے علاوہ پان کھانا اور قمیص کے بٹن کھول کر گلی میں اکڑتے ہوئے چلنا یہاں کے مردوں کا انداز تھا۔ وہ کس کے بل پر اکڑتے تھے اس کا اندازہ آپ کو بھی ہوچکا ہوگا۔
میں اب یہاں کا مزاج سمجھنے لگا تھا یہاں سوچ کا دھارا الٹے رخ پر تھا۔ میں چند دنوں میں جتنا اس علاقے کے بارے میں جانتا جارہا تھا اتنا ہی خوفزدہ ہوتا جارہا تھا۔ یہاں کئی غیرت مند پہلے کاٹھ کے الو بنے کئی صحافی یہاں سے ہارمونیم سیکھ کر گئے ہیں شرفا کے معاشرے میں وہ گھر کے ‘اور پھر دلال بن گئے دروازے بند کرکے آج بھی ہارمونیم پر ریاض کرتے ہیں۔ یہاں بڑے بڑے پھنے خان آئے اور پھر پگڑی طوائف کے قدموں میں رکھ کر دلال بن گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت بہت بڑا امتحان ہے اس امتحان میں سرخرو ہوجائے اس کے ولی ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ ہم جیسے گناہ گاروں کا تو اس لیے بھی بھرم قائم ہے کہ ہمیں ایسے ہم اس لیے پارس ہیں کہ ہمیں گناہ کی دلدل میں اترنے کا موقع نہیں ملا۔ میں اپنے ‘ مواقع ہی نہیں ملتے آپ کو اس قدر مضبوط اعصاب کا مالک نہیں سمجھتا اس لیے یہاں سے بھاگنے کا سوچ رہا تھا۔ نیلی کی توجہ یا شبنم کا تجربہ مجھے ان کے جال میں پھنسا سکتا تھا اگر میں اب بھی نہ نکلتا تو پھر یقینا اسی رنگ میں رنگا جاتا۔ ایک بار یہ رنگ چڑھ جائے تو پھر اس کا اترنا مشکل ہے پھر نہ انسان دنیا کے ساتھ چل پاتا ہے اور نہ دنیا اسے ا پنے ساتھ چلنے کی اجازت دیتی ہے۔
میں شبنم بائی کے کوٹھے میں اپنے لیے مخصوص کمرے میں تنہا لیٹا تھا اس بار یاسیت کا شدید دورہ پ ڑا تھا خود احتسابی کے ساتھ ساتھ مستقبل کی صورت حال کا بھی اندازہ لگارہا تھا۔ میں نے پکا ارادہ کرلیا تھا کہ اب کی بار میں اس کوٹھے سے فرار ہوجائوں گا۔ کچھ پیسے ہوں گے تو ان سے ہتھیار خرید کر بیگھے ملوں سے ان تمام مظالم کا حساب لوں گا جو اس نے مجھ پر ڈھائے ہیں۔ بیگھے ملوں کا خیال آتے ہی گائوں کی ساری کہانی میرے ذہن میں آنے لگی اور تکیہ بھیگنے لگا۔ میں بے آواز رو رہا تھا اس دوران یاد تھا تو صرف بیگھے مل تھا جس ‘ مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میں کیا سوچ رہا تھا اور مجھے کیا کرنا ہے
میں اسے تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا۔ مجھے یقین ‘ نے خون کے دریا بہاکر اپنی حکومت کو آواز دے دی تھی تھا کہ اس کی موت میرے ہاتھوں لکھی ہے۔
دروازے کی جانب سے کھٹکے کی آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر ادھر دیکھنے کی بجائے آنکھیں بند کرلیں۔ آنے والا جو بھی ہوتا لیکن میں اس وقت کسی کو بھی اپنی سوچوں میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ میں رو رہا تھا اگر آنکھیں بند نہ کرتا تو آنے والے کو اس بات کی خبر ہوجاتی۔ میں ان لمحوں میں کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ آنے والے کے نزدیک میں اس وقت سورہا تھا میں نے ادھ کھلی آنکھ سے صورت حال کا جائزہ لیا نیلی خاموشی سے آگے بڑھ کر میرے کافی قریب آگئی اس نے کچھ دیر مجھے دیکھا اور پھر الگ ہوکر کھڑی ہوگئی میں یونہی اس کی حرکات و سکنات نوٹ کررہا تھا اس نے گلے میں پہنا قیمتی ہار اتارا اور ایک پرانی الماری کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس کا خیال تھا کہ میں سورہا ہوں لیکن یہ یقین ہی اسے مات دے رہا تھا۔ اس نے پیٹی کے اوپر پڑے صندوق کا ڈھکن اٹھایا اور اپنا ہار صندوق میں ڈال دیا وہ زندگی کی بڑی غلطیوں میں سے ایک غلطی کربیٹھی تھی۔ میں پلکوں کے رخنے سے اسے دیکھ رہا تھا میری جانب سے تسلی کرنے کے بعد اس نے صندوق کا ڈھکن بند کیا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر چلی گئی۔
میں اپنے ذہن میں مختلف منصوبے تشکیل دے رہا تھا ‘ نیلم کے جانے کے بعد کچھ دیر میں یونہی لیٹا رہا یہ مجرمانہ منصوبے تھے۔ مجھے یہاں سے فرار کے لیے رقم درکار تھی۔ نیلی اپنی غلطی کی وجہ سے یہیں پاس ہی صرافہ بازار تھا میں وہاں اس ہار کو ‘ مجھے بتاگئی تھی مہنگے ترین زیور کہاں سے ملیں گے سستے داموں بیچ سکتا تھا مجھے اعتراف ہے کہ اس وقت میرے سامنے اپنے بچائو کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ مجھے اب یہ ہار ہی چرانا تھا لیکن ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اگر عین وقت پر نیلی یا کوئی اور اس جانب آگیا تو جانے مجھ پر کون کون سے الزامات لگ جائیں۔
آخر کار ہاں اور نہیں کی درمیانی کیفیت سے چھٹکارا پاتے ہوئے میں اٹھ کھڑا ہوا یہاں سے نکلنے کے لیے مجھے یہ گناہ کرنا ہی تھا۔ مجھے اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا میرے سامنے بیگھے مل کھڑا قہقہے لگارہا تھا میری اپنی روح مجھ پر طنز کررہی تھی کہ انتقام کے لیے گھر سے نکلا کمالا جٹ طوائف کے کوٹھے پر چھپا بیٹھا تھا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے ان سوچوں کو پڑے جھٹکا اور صندوق کی جانب میں بعد میں اس سے زیادہ رقم لوٹا سکتا تھا۔ یہ مجبوری کے تحت کی گئی چوری تھی جسے ‘قدم بڑھائے بعد میں لوٹا دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
کمرہ خالی تھا خدا کے سوا مجھے کوئی نہ دیکھ رہا ‘ صندوق کے پاس پہنچ کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔ چارپائی سے صندوق تک یہ چند قدم طے کرنے سے ہی ہانپ رہا تھا اور بدن پسینے سے شرابور تھا یہ لوگوں کو ‘ میری پہلی چوری تھی صندوق پر قفل نہیں تھا یہ نیلی کی حد سے زیادہ خود اعتمادی تھی
دھوکا دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ صندوق غیر اہم ہے یا پھر اس سے بھول ہوگئی تھی۔ یہ سب میں نے صندوق کا ڈھکنا اٹھایا تو ‘ سوچنے کا وقت نہیں تھا بہرحال مجھ پر قسمت مہربان لگ رہی تھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ غیر مقفل صندوق کسی بینک کے لاکر سے کم نہیں تھا اس میں زیورات کے میں نے جلدی سے سو اور ہزار والے نوٹوں کے دو تین بنڈل ‘ ساتھ ساتھ نوٹوں کے بنڈل بھی موجود تھے اٹھائے اور صندوق بند کردیا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے میں واپس چارپائی پر بیٹھ گیا اور گہرے سانس شکر ہے ابھی تک ‘ لینے لگا۔ حواس بحال ہوئے تو خیال آیا کہ نوٹوں کے بنڈل میری گود میں ہی پڑے ہیں کوئی آیا نہیں تھا۔ میں نے جلدی سے انہیں شلوار کے نیفے میں اڑسا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔
اب مجھے یہاں سے باہر نکلنا تھا اس سے پہلے نیلی کو احساس ہوتا کہ اس نے صندوق کا تالا نہیں لگایا تھا یا وہ کوئی اور چیز رکھنے آئے اور میری چوری پکڑی جائے۔ میرے پاس یہاں ایسا کچھ نہ تھا جس کے لیے مجھے پڑتا۔ میں یہاں تن کے لباس اور جسم پر زخموں کے سوا کچھ نہ لایا تھا میں کمرے سے باہر نکل اتفاق سے میرا سامنا کسی سے نہ ہوا اور میں اس کوٹھے سے باہر نکل آیا۔ میرے پاس آگے کا کوئی ‘ آیا لائحہ عمل نہیں تھا کہ اب میں نے کیا کرنا ہے اور کدھر جانا ہے لیکن مجھے یہ معلوم تھا کہ میرے پاس اب میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا شبنم بائی کے ‘ اتنی رقم ہے کہ جس سے میں آگے کا راستہ بناسکتا ہوں کوٹھے سے دور ہورہا تھا کہ اچانک کسی نے پیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے روک لیا۔ ایک میرے پورے جسم میں سنسنی ‘‘کہاں بھاگ رہے ہو؟ ‘ شہزادے اتنی بھی کیا جلدی ہے ’’ آواز سنائی کہ سی دوڑ گئی۔
…٭٭٭…
گل ریز خان کی گاڑیوں کو یوں گھیر کر نشانہ بنانا کسی بھرپور پلاننگ کا حصہ تھا یہ ممکن نہ تھا کہ اس کے کسی دشمن نے اچانک اسے آتا دیکھ لیا ہو اور اس قدر بھرپور حملہ کردیا اس پہلے حملے سے گل ریز خان کے وفادار بھی نہ سنبھل سکے۔ ہماری گاڑی کے بھی شیشے ٹوٹ چکے تھے اور گاڑی بے قابو ہوچکی تھی اس وقت گل ریز خان کے وفاداروں کی لائن ٹوٹ چکی تھی اور گاڑیاں مختلف سمتوں میں نکل چکی تھیں۔ خود ہماری گاڑی بھی انجانی سمت جارہی تھی۔
گل ریز خان زخمی ہوا تو جیسے میں ہوش میں آگیا وہ میرا دوست ہی نہیں محسن بھی تھا وہ میری جان بچانے آیا تھا لیکن خود میری وجہ سے اس کی جان خطرے میں پڑگئی تھی۔ میری چھٹی حس چلا چلا کر اسی کو مجھ پرخار تھی اور میرے مخالفین میں سے ‘ کہہ رہی تھی کہ اس حملے کے پیچھے دارا کا ہاتھ تھا وہی جانتا تھا کہ ہم کس جانب گئے ہیں اور کس راستے سے گزریں گے۔ گل ریز خان کو گولی لگتے ہی میری آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ اب مجھے کسی کی پروا نہیں تھی مجھے اپنے محسن پر گولیاں چلانے والوں
سے حساب برابر کرنا تھا۔ میں اس علاقے میں دشمنیاں نبھانے ہی تو آیا تھا۔ جہاں اتنے دشمن تھے وہاں کچھ اور بھی بن جاتے تو مجھے کیا فرق پڑنا تھا۔ ویسے بھی حملہ آوروں کو سبق چکھانا ضروری تھا۔
شامل خان جتنا با ‘ ہم شامل خان کی گاڑی میں تھے میں جانتا تھا کہ یہ گاڑی نہیں بلکہ بارود کا ڈھیر ہے اثر سردار تھا اس کی دشمنیاں بھی اتنی ہی وسیع تھیں۔ اس گاڑی میں جس قدر اسلحہ ہوتا تھا وہ سوچ سے بھی باہر ہے۔ شامل خان نے یہ اسلحہ ایک ترتیب سے رکھا ہوا تھا اسے معلوم تھا کہ کس سیٹ کے نیچے راکٹ لانچر ہیں اور کس کے نیچے کلاشنکوف اور پسٹل ہیں۔ یہ بھی وہی جانتا تھا کہ دستی بم اور مجھے اس ترتیب کا علم نہیں تھا لیکن میں یہ جانتا تھا کہ اس ‘ گولیاں کن کن خانوں میں بھری ہوئی ہیں گاڑی میں بیٹھنے والا جس بھی جگہ ہاتھ ڈالے گا اسے مہلک اور جدید اسلحہ اپنے قریب محسوس ہوگا۔ وہ اس بات ‘ میں اکثر خان کو مذاق میں کہتا تھا کہ تم گاڑی پر نہیں بلکہ اسلحہ پر بیٹھ کر سفر کرتے ہو پر فخر کرتا تھا۔ یہ اس کی قبائلی روایات کی ترجمانی کرتا تھا۔
میں نے اپنی سیٹ کے نچلے حصے کو ٹٹولا تو میرے ہاتھ نے لوہے کی مخصوص ٹھنڈک محسوس کرلی میں ن خوب صورت جرمن ساختہ پسٹل میرے ہاتھ میں تھا میں نے ‘ اسے اپ ی جانب کھینچ لیا ً نے فورا سیفٹی کیچ ہٹایا اور قریبی گاڑی کی طرف کرکے خالی کردیا۔ یہ گولیاں میں نے اندھا دھند چلائی تھیں مجھے سیفٹی کیچ ہٹاتے وقت معلوم تھا کہ گاڑی میں موجود تمام اسلحہ حفاظتی نقطہ نظر سے رکھا گیا ہے اس لیے یہ فل لوڈڈ ہوگا۔ میں نے پہلا میگزین صرف حملہ آوروں کی گاڑی کو دور رکھنے کے لیے خالی کیا تھا لیکن مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میری گولیوں نے کسی کو شکار کرلیا تھا۔ میں نے ایک نظر پچھلی وہ بہت ‘ سیٹوں پر ڈالی آئمہ اور عثمان ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے سیٹوں کے درمیان دھنس گئے تھے خوفزدہ نظر آرہے تھے لیکن اس وقت ان کا اس طرح سیٹوں کے درمیان دھنسے رہنا ہی ان کی زندگی کے لیے بہتر تھا۔ انہیں ایک لفظ کہے بنا میں نے اسی سیٹ کے نیچے موجود ڈبے میں ہاتھ ڈال کر میگزین نکالے اور پھر ساتھ والی سیٹ کے نیچے چیک کیا تو ایک خوب صورت رائفل بھی مل گئی۔ باہر دیکھا تو میں نے اس گاڑی کی جانب رخ کرکے دوبارہ میگزین خالی کردیا۔ ‘ ایک اور گاڑی ہمارے قریب آرہی تھی گاڑی ایک لمحے کے لیے ڈگمگائی لیکن اس بار میری ساری گولیاں ضائع گئیں۔ اس گاڑی میں سوار کوئی شخص میرا نشانہ نہ بن سکا۔
یہ دو طرفہ فائرنگ تھی کون کس پر گولیاں برسا رہا تھا اس کا علم نہ ہوپارہا تھا اس وقت ہر کوئی اپنے آپ کو بچارہا تھا لیکن قبائلی روایات کی وجہ سے اپنے دشمن کو بھی فرار ہونے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ پہلے اور اچانک حملے میں گل ریز خان کو زیادہ ہوگیا تھا اس کے ساتھی ذہنی طور پر اس حملے کے لیے بھاگنے ‘ اب گل ریز کے ساتھی بھی سنبھل چکے تھے ‘ تیار نہ تھے جبکہ حملہ آور پوری تیاری سے آئے تھے والوں کو خیال آیا کہ ان کا سردار دشمن کے گھیرے میں ہے تو وہ تڑپ کر واپس آگئے تھے۔ کچھ پہلے حملے
میں بوکھلا جانے پر شرمندگی اور کچھ یہ احساس کہ سردار کو کچھ ہوگیا تو انہیں نامرد کہا جائے گا کہ وہ کیسے محافظ تھے جن کی موجودگی میں سردار دشمن کا نشانہ بن گیا۔ اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ گل ریز خان نے اپنے محافظوں کو اپنے بچوں کی طرح رکھا تھا وہ ان کا پورا خیال رکھتا ‘ اب وہ پلٹے تو قہر کی علامت بن چکے تھے ‘ تھا۔وہ حقیقی معانی میں خود کو گل ریز کی اولاد کہتے تھے جس طرح اولاد اپنے باپ کو بچانے کے لیے لڑتی ہے وہ بھی اسی طرح دیوانہ وار لڑرہے تھے۔
سب گاڑیاں مختلف سمتوں میں بھاگتی چلی جارہی تھیں اور ہر گاڑی کے سوا کسی نہ کسی کے مقابل تھے کوئی گھیرے میں لینے کی تگ و دو میں تھا کوئی بچ نکلنے کی کوشش کررہا تھا۔ لگ بھگ سبھی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ چکے تھے اور ان کی باڈی پر گولیوں کے نشانات نظر آرہے تھے میں جس گاڑی میں تھا اس کی باڈی پر بھی کئی گولیاں اس جھڑپ کی داستان سنانے کے لیے اپنے نشان چھوڑ چکی تھیں۔ نئی اور مہنگی گاڑیوں کی م کباڑ خانے یں کھڑی پرانی اور ناکارہ گاڑیوں جیسی ہوچکی تھی لیکن ِ حالت اس وقت گاڑیوں کی جانب کس کا دھیان جاتا؟یہاںزندگی اور موت کا میدان سج چکا تھا۔ ایک کی موت ہی دوسرے کی زندگی تھی۔
ابھی تک ‘ گل ریز خان پر نظر پڑتے ہی میرے اندر کا وحشی پن سمٹنے لگا میرا محسن خون میں لت پت تھا میں بھی اندھا دھند فائرنگ کرنے والوں میں شامل تھا اور میرا مقصد بھی حملہ آوروں کو ختم کرنا تھا۔ گل ریز خان کی حالت دیکھ کر میرے ذہن میں بجلی کی مانند خیال آیا کہ اب مجھے یہاں سے نکلنا ہے۔ کمالا جٹ میدان چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھا لیکن مجھے اپنے محسن کو بچانا تھا۔ گل ریز خان بچ جاتا تو میں ان حملہ آوروں کو پاتال سے بھی کھینچ لاتا لیکن اگر میں اس میدان جنگ کا حصہ بنا رہتا اور لڑائی طویل ہوجاتی تو خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے گل ریز خان کی موت ہوسکتی تھی۔
اب میرا مقصد یہاں سے نکلنا اور دشمن کو ‘ لمحے کے ہزارویں حصہ میں ہی میں نے منصوبہ بندی کی میں نے رائفل مضبوطی سے تھامی اور سامنے سے آتی ایک جیپ کے ٹائروں کو ‘تعاقب سے روکنا تھا دونوں گاڑیاں تیزی سے بھاگ رہی تھیں ہماری کوئی سمت متعین نہ تھی لیکن کمالا جاٹ ‘ نشانہ بنایا نشانہ بازی میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔ پہلے میرے ذہن میں کوئی ہدف نہ تھا لیکن اب ایک ہدف میرے میں پوری گاڑی اور اس میں سوار اسلحہ برداروں کو بھول کر صرف گاڑی کے ٹائروں پر توجہ ‘سامنے تھا جیپ کے ٹائر دھماکے ‘ مرکوز کیے ہوئے تھے۔ رائفل سے نکلنے والی گولیاں اپنے ہدف کا شکار بن چکی تھیں سے پھٹے اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی جھولنے لگی اس کا ڈرائیور اسے الٹنے سے بچانے کے لیے اپنی تمام تر مہارت استعمال کررہا تھا۔ میں نے یکے بعد دیگر دو تین جیپوں کے ٹائروں کو نشانہ بنایا تو حملہ آور بھی اس حملے ‘ میری پلاننگ سمجھ گئے ان کی جانب سے بھی ہماری گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ شروع ہوگئی سے بچنے کے لیے گاڑی کو زگ زیگ چلانا شروع کیا تو رفتار میں بھی کمی آئی۔
میں نے اب دوسرا حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اب میں نے سر اٹھا کر فائر کیا تو ایک گاڑی کا ڈرائیور ڈرائیور کے ‘ میرے نشانے پر تھے۔ گولی ڈرائیور کے ماتھے پر لگی اور گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر نکل گئی رُ مرتے ہی وہ گاڑی ب ی طرح لہرائی اور زور دار دھماکے سے ایک درخت سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی۔ یہ حملہ آوروں کی جانب سے مسلسل ‘ حملہ گاڑی کے ٹائر کو نشانہ بنانے سے بھی زیادہ کارگر ثابت ہوا فائرنگ کے نتیجے میں ہماری گاڑی بھی لگ بھگ تباہ ہوچکی تھی۔ مجھے حیرت تھی کہ اس کا انجن ابھی تک کام کررہا تھا اور ہمیں بھگائے لے جارہا تھا شاید گل ریز خان نے اس حوالے سے خاص توجہ دی ہو یا پھر یہ قدرت کی طرف سے ہماری کوئی مدد تھی کہ ابھی تک انجن اور ٹائروں کو ایسا نقصان نہیں پہنچا تھا جس کی وجہ سے گاڑی بند ہوتی۔ البتہ انجن سے مختلف آوازیں آرہی تھیں اور پوری گاڑی ٹین کے ڈبے کی دو تین جیپیں مزید میری گولیوں کا نشانہ بن گئیں اور ان کے ڈرائیور بھی مرتے ‘ طرح کھڑکھ ڑا رہی تھی مرتے اپنے ساتھیوں کو لے ڈوبے۔ اب ہم حملہ آوروں کے گھیرے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ گاڑی یہ گولیاں گل ریز خان کے ‘ پیچھے گولیاں برسنے کی آوازیں آرہی تھیں ‘ اپنی پوری رفتا رسے بھاگ رہی تھی ساتھی چلا رہے تھے یا حملہ آور مجھے اس سے کوئی غرض نہ تھی۔میرے لیے اتنا کافی تھا کہ ہم حملہ آوروں کی گولیوں کی رینج سے باہر آچکے تھے اب گاڑی کا رخ اسپتال کی جانب تھا میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کافی فاصلے پر جیپیں آتی نظر آئیں۔ یہ گل ریز خان کے وفاداروں کی گاڑیاں تھیں کیونکہ ان کی جانب سے ہم پر فائرنگ نہیں ہورہی تھی یہاں سے اسپتال کافی فاصلے پر تھا میرا محسن موت کے منہ میں جارہا تھا لیکن میں اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ اب اسپتال پہنچنے تک گل ریز خان کی صورت حال جیسی بھی ہوتی اسے بے بسی کے عالم میں دیکھا ہی جاسکتا تھا۔ میں نے پانی کی بوتل کھول کر اس کے منہ میں پانی ڈالنے کی کوشش کی لیکن پانی اس کے حلق میں نہ اترسکا اور اس کے چہرے اور گردن کو تر کتا ہوا نیچے گرگیا۔
گاڑی کی حالت خود ہی چیخ چیخ کر بتارہی تھی کہ اس ‘ ہماری گاڑی اسپتال کے گیٹ سے اندر چلی گئی کے اندر بیٹھ کر یہاں پہنچنے والے کس صورت حال سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہوں گے اس پر کسی نے گاڑی کی بریک ایمرجنسی کے باہر جاکر لگی۔ ہمارے پیچھے پیچھے دو ‘ گاڑی کو روکنے کی کوشش نہ کی تمام شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور باڈی ‘ ان کی حالت بھی قابل رحم تھی ‘ اور جیپیں بھی آتی چلی گئیں جیپوں کی حالت دیکھ کر لوگ سہم کر خود ہی ایک طرف ہوتے چلے گئے جبکہ ‘ گولیوں سے چھلنی تھی ایک ساتھ تین گاڑیوں کا اس حالت میں اسپتال آنا بھی تھرتھلی کا باعث بن گیا۔ ہمارے باہر نکلنے سے پہلے ہی یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ہم کسی بڑی لڑائی کا سامنا کرکے آئے ہیں اس لیے جیسے ہی میں نیچے تینوں گاڑیوں میں زخمی موجود تھے۔ گل ریز خان کو اسٹریچر پر ‘ اترا متعدد لوگ مدد کے لیے لپکے چلے آئے پہلی نظر میں مجھے یہ اندازہ نہیں ہوپایا کہ ‘ آئمہ اور اس کا بھائی بھی بے ہوش پڑے تھے ‘ منتقل کیا گیا وہ خوف اور دہشت کی وجہ سے بے ہوش ہوئے ہیں یا کسی گولی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ یہ ایسی باتیں
معلوم کرنے کا وقت نہیں تھا ڈاکٹر مجھ سے بہتر جان سکتے تھے اس لیے انہیں بھی ایمرجنسی میں منتقل کردیا گیا۔ پچھلی گاڑیوں سے بھی زخمیوں کو اسٹریچر پر منتقل کیا جارہا تھا۔
یہاں تک میرے اعصاب میرے کنٹرول میں تھے مجھ پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ میں نے اپنے محسن اپنے بھائی اور اپنے مخلص دوست کی جان بچانی ہے۔ میں نہ صرف دشمنوں سے لڑتا رہا بلکہ تمام راستے صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتا رہا تھا۔ گل ریز خان کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ہی میں نے ان نامعلوم دشمنوں کے پیچھے جانے کا ارادہ ترک کیا تھا۔ ورنہ اب کمالا جٹ اتنی طاقت رکھتا تھا کہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کو ان کے گھر سے نکال کر بیچ سڑک الٹا لٹکا سکے اور ان کی لاش کے ٹکڑے کرکے جانوروں کو کھلا سکتے ہیں میں نے اگر پسپائی اختیار کی تو اس کی وجہ یہی تھی کہ گل ریز خان کو گولی لگ چکی تھی اب اسے گاڑی سے نکال کر اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی منتقل کیا گیا تو میں خالی ذہن سے یہ سب دیکھتا میںڈھ گیا جو ‘ رہا لیکن جیسے ہی گل ریز لالہ اور اس کے جانباز ساتھی میری نظروں سے اوجھل ہوئے کمالا جٹ دشمن کی گولیوں سے نہ گرسکا لیکن اپنے دوست کا خون دیکھ کر گرگیا تھا۔
ایک دم مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ٹانگوں نے میرا ہی وزن اٹھانے سے انکار کردیا ہو۔ بے جان سے انداز میں دیوار سے ٹیک لگائے میں نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ مجھے احساس نہیں ہورہا تھا کہ میرے لوگوں کی باتیں تو دور کی بات ہیں مجھے چیخنے چلانے کی آوازیں بھی نہ سنائی دے ‘ اردگرد کیا ہورہا ہے رہی تھیں۔ چند لمحے پہلے جب میں اس اہسپتال میں داخل ہوا تو ہماری گاڑی کی حالت دیکھتے ہی شور مچ گیا تھا اب یوں محسوس ہورہا تھا جیسا سب کو سکتہ ہوگیا ہو۔ ایک ہی لمحے میں سب کو سانپ سونگھ گیا تھا یا پھر میں کسی ویران گھر میں پہنچ گیا تھا۔ گل ریز خان مجھے پاوندوں کے قبیلے سے بچانے آیا تھا اور میرے ہی سامنے نامعلوم دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ میں بے بسی کے عالم میں کچھ نہ کرپایا تھا۔
سالار ‘ میں کافی دیر یونہی زمین پر بیٹھا رہا پھر جانے کب سالار خان نے آکر مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھایا وہ نہ ‘ گل ریز خان کا ذاتی محافظ تھا۔ گل ریز خان کے والد نے اسے اپنے بچوں کی طرح ہی پالا تھا ‘خان صرف گل ریز خان کا سب سے وفادار ساتھی تھا بلکہ اس کے علاقائی اور سیاسی معاملات بھی کسی حد تک دیکھ رہا تھا۔ جہاں گل ریز خان کے مفادات پر ضرب لگنے لگتی وہاں پہلے سالار خان اپنے طور پر معاملہ حل کرنے کی کوشش کرتا اگر پھر بھی معاملہ حل نہ ہوتا تو پھر وہ صورت حال گل ریز خان کے علم میں لے آتا۔ ہمارے پیچھے تیزی سے گاڑی بھگا کر لانے والا یہی سالار خان تھا۔ وہ اپنی گاڑی گل ریز خان کی گاڑی کے بالکل پیچھے رکھتا تھا ایک طرح سے وہ گل ریز کے محافظ دستے کا سالار بھی تھا۔ وہ جانے اس نے ‘ کب مجھے ڈھونڈتا ہوا باہر آیا اور پھر ایک دیوار کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر صورت حال سمجھ گیا مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور پھر مجھے بھی ایمرجنسی میں لے گیا۔ مجھے بھی ایک بیڈ پر لٹا کر گلوکوز
ڈاکٹر کسی کو بتارہا تھا کہ شدید ذہنی دبائو کی وجہ سے میرے اعصاب چٹخ گئے ‘ کی بوتل لگادی گئی ہیں۔
گل ریز خان بالکل ہی گمنام شخص نہیں تھا ہماری ڈرامائی انداز میں اسپتال آمد اور زخمیوں میں گل ریز خان کے شامل ہونے کی خبر جانے کہاں تک پھیل گئی تھی۔ سالار خان بھی جانے کن انتظامات میں ہسپتال کو گل ریز خان کے محافظوں نے گھیر لیا تھا۔ کچھ لوگ انتقام انتقام کے نعرے لگارہے ‘ مصروف تھا گل ریز خان کا رویہ اپنے لوگوں سے بہت اچھا تھا اس لیے اس کے چاہنے والوں کی تعداد بھی کافی ‘تھے تھی۔ وہ اکثر اوقات ضرورت مندوں کی مدد کرتا رہتا تھا۔ اپنے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرا جانے کی عادت نے بھی اسے خاصی شہرت دے رکھی تھی۔ اب ان میں سے جس جس کو معلوم ہوتا جارہا تھا لہ گل ریز خان پر حملہ ہوا ہے اور وہ اسپتال میں موجود تھا وہ سب دیوانہ وار اسپتال کے باہر جمع اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ زیادہ ‘ ہورہے تھے۔ انتظامیہ ایک خاص حد تک آگے آنے سے روک رہی تھی رش ہونے سے مریضوں کے لیے پریشانی ہوتی لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ ہمدردوں کے اس ہجوم میں گل گل ریز کے جانبازوں نے اسی خدشے ‘ ریز کا کوئی دشمن بھی اس تک پہنچ کر اسے نقصان پہنچا سکتا تھا کے پیش نظر اپنا سیکورٹی حصار بھی بنالیا تھا۔
اس کے ذریعے پل پل کی صورت حال ‘ سالار خان اس صورت حال میں بھی مجھے خاص احترام دے رہا تھا مجھ تک پہنچ رہی تھی اور وہ بعض حوالوں سے مجھ سے مشورہ بھی کررہا تھا اس کے انداز سے مجھے یوں لگا کہ جیسے اسے میرے حوالے سے گل ریز نے خاص ہدایات کر رکھی ہیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ گل ریز نے میرا کیا تعارف کروایا تھا لیکن وہ مجھے اتنا ہی احترام دے رہا تھا جتنا گل ریز کے گھر کے کسی فرد کو دیا جاتا۔ گل ریز اور اس کے پانچ جانباز آپریشن تھیٹر میں تھے اس کے چاہنے والے خون دینے کے لیے لائن بنائے بیٹھے تھے جن جن کا بلڈ گروپ یکساں تھا ان میں کچھ کا خون لیا جارہا تھا۔ سالار خان نے بتایا کہ اس نے گل ریز کی صحت کے لیے قرآن اور دعائوں کا اہتمام کروادیا تھا۔
محافظ خان بھی گل ریز کے محافظ ‘ آپریشن تھیٹر سے پہلی مرتبہ خبر یہ آئی کہ محافظ جانبر نہ ہوسکا دستے میں شامل تھا۔ سالار خان نے بتایا کہ وہ بے جگری سے لڑا تھا اس نے جب دیکھا کہ گل ریز خان کو نشانے پر لیا جارہا تھا تو اپنی جان کی پروا کیے بنا کھڑکی سے باہر نکل کر دیوانہ وار دشمنوں پر گولیاں برسانے لگا اسی دوران اسے بھی کسی کی گولیوں نے چاٹ لیا۔ محافظ خان کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی اور ایک ماہ کی بیٹی تھی۔ وہ گل ریز خان کا بااعتماد ساتھی اور محافظ تھا اور اسی کی میں نے سالار خان کی طرف دیکھا او رکہا۔ ‘ حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا تھا۔ میری آنکھیں نم ہوگئیں
وہ شہید ہے۔ اس نے اپنا فرض نبھایا تھا ‘ گیا جیسے لفظ استعمال نہ کرو ‘‘مارا’’ سالار خان! اس کے لیے ’’ اس وقت اسے نہ اپنی بیوی یاد تھی اور نہ ہی ایک ماہ کی بیٹی کا خیال آیا۔ اسے صرف اتنا یاد تھا کہ گل
ریز خان پر حملہ ہوگیا ہے اس کا مالک خطرے میں تھا اور اس نے اپنے مالک کے لیے جان کی بازی لگادی۔ وہ راہ وفا میں جان لٹانے والوں میں شامل ہوگیا ہے اس میں وفاداری کا جتنا جذبہ تھا اگر اس سے آدھا میری آنکھوں میں آنسو بہنے لگے۔ سالار خان بھی رو رہا ‘‘ جذبہ ہماری بندگی میں ہوتا تو ہم ولی کہلاتے۔ تھا۔
میرے ساتھ ساتھ در و دیوار بھی بین ‘ اتنے میں خبر آئی کہ ایک اور جان باز نے راہ وفا میں جان لٹادی ہے ‘ گل ریز خان دنیا کے خوش قسمت انسانوں میں سے تھے جس کی خاطر صرف محافظ ہوتے ہیں ‘کرنے لگے جانباز قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں۔ اکثر اہم شخصیات پر حملہ ہو تو ان کے محافظ اپنی جانیں بچانے ‘ کی کوشش کرتے ہیں جبکہ جانباز جان تک نچھاور ک ردیتے ہیں۔ یہ جانباز دولت سے نہیں خریدے جاتے تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ اکثر بادشاہوں کے قتل میں ان کے ‘ دولت سے صرف محافظ خریدے جاتے ہیں محافظ دستے کے لوگ ہی شامل ہوتے تھے۔
ہم یہاں گل ریز خان ‘ ڈاکٹر پریشانی کے عالم میں بھاگ دوڑ کررہے تھے ‘ اسپتال میں افرا تفری کا سماں تھا کو بچانے لائے تھے لیکن اب ایک ایک کرکے اس کے جانبازوں کی لاشیں مل رہی تھیں۔ دو لاشیں ہمیں کچھ ڈاکٹر ہر بار باہر آتا سر جھکا کر ‘ ہی دیر میں ملنے والی تھیں کہ ایک اور جانباز کی موت کی خبر آگئی افسوس کا اظہار کرتا اور ایک لاش اسٹریچر پر آپریشن تھیٹر سے باہر چھوڑ کر واپس اندر چلا جاتا۔ آخری ابھی تک ہمیں اچھی خبر نہ ملی تھی ایک ‘ جانباز کی موت کی خبر سن کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ایک کرکے سبھی موت کی آغوش میں جارہے تھے۔ ڈاکٹر سر توڑ کوشش کررہے تھے لیکن اب یوں لگ رہا تھا کہ جیسے قیامت آنے والی ہے۔
نامعلوم حملہ آوروں سے ہماری جھڑپ پاک افغان سرحدی علاقے میں ہوئی تھی وہیں یہ جانباز زخمی ہماری طرف ‘ ہوئے تھے۔ ہم نے زخمیوں کو اس اسپتال تک لانے کے لیے تمام تر تیز رفتاری کا سہارا لیا تھا سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت تھی کہ ہم نے زخمیوں کے ساتھ طویل فاصلہ طے کیا تھا اس سارے سفر کے دوران زخمیوں کا خون بہتا رہا تھا یہاں آکر خون دینے والوں کی لائن لگ گئی تھی۔ ڈاکٹر ضرورت سے زیادہ خون حاصل کرچکے تھے لیکن اس کے باوجود زخمی ہسپتال کے سینئر ترین ‘ جانباز زندہ نہ بچ سکے تھے اب آپریشن تھیٹر میں صرف گل ریز خان رہ گیا تھا ماہر اور تجربہ کار سرجنوں کا پورا بورڈ آپریشن تھیٹر میں موجود تھا۔ وہ سب ‘ ڈاکٹروں کو بلالیا گیا تھا پورا اسپتال اس کے جانبازوں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ ایمرجنسی تک ‘ جانتے تھے کہ گل ریز خان کون ہے میں اسلحہ کی کھڑکھڑاہٹ گونج رہی تھی انہیں باہر بھیجنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ گل ریز کو گولی لگنے کی خبر نے اس کے جانبازوں کو وحشت کی جانب دھکیل دیا تھا۔ وہ سب وحشی ہورہے تھے اور ان ڈاکٹر جانتے تھے کہ اس آخری زخمی کو کچھ ہوا تو شاید ان کی زندگی ‘ کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا
کی ضمانت بھی نہ مل سکے اس لیے وہ اپنی پوری کوشش کررہے تھے کہ گل ریز کی سانسوں کی ڈوری ‘ میں تیزی سے اس کی جانب بڑھا ‘ قائم رہے۔ اچانک آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ایک ڈاکٹر باہر نکلا ڈاکٹر نے ایک نظر مجھے دیکھا اور کہا۔
آئی ’’ آپریشن تھیٹر میں اب صرف گل ریز خان تھا اور ڈاکٹر باہر آیا ‘ میرے سر پر بم آپھٹا ‘‘ آئی ایم سوری۔ ’’ کہہ رہا تھا۔‘‘ ایم سوری
…٭٭٭…
ڈاکٹروں کے نزدیک شاید کسی مریض کا مرجانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انہیں روز جانے کتنے لوگوں کو آئی ایم سوری کہنا ہوتا ہے۔ ایک ہی طرح سے ایک ہی انداز سے اور ایک ہی جگہ پر۔ وہ آئی ایم سوری کہتے ہیں اور پھر لاش کو چھوڑ کر اپنے بچوں کو کہیں گھمانے لے جاتے ہیں۔ شاید دنیا بھر میں ڈاکٹر مرنے والے کے اپنوں کو یہی ایک جملہ سناتے ہیں۔ نہ تسلی کا کوئی لفظ، نہ امید کی کوئی کرن، شاید انہیں ان مرنے والوں پر افسوس بھی نہیں ہوتا لیکن مرنے کی اطلاع دینے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کہنا ہوتا ہے نا۔ شاید اسی لیے مجھے افسوس ہے کہہ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آگے بڑھ چکا تھا اور میرے پائوں تلے زمین نکلتی جا رہی تھی۔ میرا محسن میرا دوست میرا بھائی گل ریز خان مر چکا تھا۔
مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ گل ریز خان کا چہرہ دیکھ سکوں۔ کبھی کبھی ہم حقیقت کا علم ہونے کے باوجود اس سے کنی کتراتے ہیں۔ یہی میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر گل ریز خان کی موت کا اعلان کرچکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ گلریز خان کسی حیثیت کا مالک ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ پورا اسپتال گل ریز خان کے وفاداروں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ آپریشن تھیٹر کے باہر اسلحہ برداروں کی موجودگی اسے بتانے کو کافی تھی کہ گل ریز خان کی زندگی کتنی اہم ہے۔ اس نے خون کی ایک آواز لگائی تھی تو بلڈ بینک میں گل ریز خان کو نام پر خون دینے والوں کی لائنیں لگ گئی تھیں۔
ڈاکٹر یہ سب جانتا تھا وہ سرجن تھا اس نے جانے کتنے لوگوں کو بچایا تھا اور جانے کتنے لوگ اس کے سامنے دم توڑ چکے تھے۔ وہ آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے واضح طور پر چمک رہے تھے۔ اس نے گل ریز خان کو بچانے کی پوری کوشش کی ہوگی۔ اس نے آپریشن تھیٹر میں یہ بھی سوچا ہوگا کہ اگر آج اس زخمی کو کچھ ہوگیا تو باہر کھڑے اسلحہ بردار آپریشن کرنے والے علمہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں سرجن اور اس کے ساتھیوں کی موت یقینی تھی۔ گل ریز خان کے ساتھ سرجن کی سانسوں کی ڈوری بھی بندھی تھی۔ اس کے باوجود گل ریز خان دم توڑ چکا تھا۔
گل ریز خان کی موت اس بات کا واضح پیغام تھا کہ زندگی اور موت انسانی ہاتھ میں نہیں ہے۔ انسان بس ایک مہرے کی طرح کام کرتا ہے کب کیا ہوجائے۔ کب کونسی چال چلی جائے اس کا علم انسان کو
نہیں ہوتا۔ یہ جس کے کام ہیں وہی کرتا ہے بڑے بڑے سلطان دنیا فتح کرنے نکلے اور اسہال کی وجہ سے مر گئے۔ گل ریز خان بھی ڈاکٹروں کی تمام تر کوشش، خون دینے والوں کی لمبی لائن، درجنوں محافظوں اور ہماری دعائوں کے باوجود مر گیا۔
انسان بھلا کب کسی کو بچا پاتے ہیں؟ یہ زندگی اور موت کے کھیل تو اسی کے ہاتھ میں ہیں جو ان پر قار ہے انسان تو محض ایک مہرے کے طور پر کام کرتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ اسی کی وجہ سے کوء یمرا ہے یا اس نے کسی کو موت کے منہ میں پہنچا دیا ہے۔ ایسے لمحوں میں وہ یہ تو سوچتا ہی نہیں کہ کل کوئی اور اسی طرح مہرہ بن کر اسے بھی موت کے منہ میں پہنچا دے گا تب اس قاتل کے ذہن میں بھی یہی بات ہوگی کہ وہ کسی کو بھی قتل کر کے زندگی کی قید سے آزد کرسکتا ہے۔ وہ بہت طاقتور ہے اور پھر کوئی نیا قاتل یہی سوچتے ہوئے اسے بھی اگلے جہاں پہنچا دے گا۔ خدا نے قاتل اور مقتول کو کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے تک محدود کر رکھا ہے۔ جو قتل کرتا ہے اسے اگلے پھیرے میں مقتول بھی بننا پڑتا ہے۔ جو طاقت کے بل پر اکڑتا ہے اسے یہی موقع کسی اور کو بی دینا پڑتا ہے۔
آج نامعلوم دشمنوں نے گل ریز خان اور اس کے وفادروں کو قتل کردیا تھا۔ گل ریز خان کی موت کی خبر ان تک بھی پہنچی تھی۔ انہوں نے آج جشن منانا تھا۔ آج انہوں نے یہی سوچا تھا کہ وہ بہت طاقتور ہیں انہوں نے گل ریز خان اور اس کے وفاداروں کو قتل کردیا ہے۔ وہ جسے چاہیں قتل کرسکتے ہیں۔ آج کا دن گل ریز خان کے قاتلوں کا دن تھا آج انہیں بڑھکیں لگانے کی کھلی چھوٹ تھی۔ یہ ان کا جشن تھا انہوں نے گل ریز خان جیسے جری پٹھان کو مار گرایا تھا۔
اگلی باری گل ریز خان کے قاتلوں کی تھی۔ آج وہ قاتل تھے لیکن اب انہیں مقتول بننا تھا۔ انہیں بھی جلد ہی اس جہاں جانا تھا جہان گل ریز خان گیا تھا اب کمالے جٹ کو قاتل بننا تھا۔ جی ہاں، مجھے اپنے دوست گل ریز خان کا بدلہ لینا تھا۔ یہ فیصلہ میں نے اسی وقت کرلیا تھا جب ڈاکٹر سر جھکائے آئی ایم سوری کہہ رہا تھا۔ جس لمحے ڈاکٹر کا سر جھکا تھا اسی لمحہ کمالے جٹ کا سر اٹھا تھا۔ گل ریز خان کے قتل کا بدلہ مجھ پر قرض تھا۔ یہ ایک پٹھان کا پنجابی پر قرض تھا جسے ہر صورت اتارنا ہی تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ گل ریز خان اور مجھ پر حملہ کرنے والے کون تھے لیکن مجھے یقین تھا کہ اب وہ پاتال میں بھی جا پہنچیں کمالا جٹ انہیں ڈھونڈ نکالے گا۔ میرے اندر بدلے کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔
گل ریز خان کی لاش آپریشن تھیٹر سیے منتقل کی جا رہی تھی۔ سالار کان میرے پاس آیا اور گل لگ کر رونے لگا۔ اسے شاید سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کسی ک یگلے لگ کر اپنا دل ہلکا کرے۔ گل ریز خان صرف اس کا سردار یا مالک ہی نہیں تھی۔ آج سالار خان کا باپ مر گیا تھا۔ اس کی کیفیت ایسی ہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ مجھ سے گلے ملتے ہی جیسے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سالار خان کی دہشت تھی لوگ جانتے تھے کہ اب
تک وہ جانے کتنے لوگوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس نے گل ریز خان کی حفاظت کرتے ہوئے جانے کتنے دشمنوں کو قتل کیا تھا اور جانے کتنی بار وہ موت کے منہ میں گیا ور پھر لوٹ آیا تھا۔ آج وہی سالار خان تمام تر رکھ رکھائو، رعب اور دبدبہ بھول کر میرے گلے لگا بچوں کی طر سسک رہا تھا۔ میں اس کی پیٹھ تھپکنے لگا میں چاہتا تھا کہ وہ کھل کر رولے اس نے اب سارے انتظامات دیکھنے تھے۔ اگر وہ راتا نہ تو پھر قیامت اٹھاتا۔ قیامت تو اب بھی اٹھنی تھی لیکن اس سے پہلے ہمیں گل ریز خان کی آخری رسومات ادا کرنی تھیں۔ سالار خان آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ اس نے الگ ہوتے ہوئے مضبوط لہجے کہا۔
‘‘ میں اپنے خان کا بدلہ لوں گا۔ ان قاتلوں کی نسلوں کو بھی ختم کردوں گا۔ ’’
میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا۔
سالار خان اس انتقام کو اپنے اندر پالتے رہو یہ آگ سرد نہ ہونے دینا ہم گل ریز خان کا بدلہ لیں گے۔ میں ’’ ‘‘تمہارے ساتھ ہوں۔
سالار خان کی آنکھوں میں ممنونیت کا احساس ابھرا میں نے مزید کہا۔
اب سارے معاملات تمہی کو دیکھنے ہیں۔ حالات اپنے کنٹرول میں لو اور صورت حال کو سنبھالو ہم جلد ’’ ‘‘ ہی خان کی موت لکا بدلہ لینے نکلیں گے لیکن اس سے قبل کچھ اور معاملات بھی دیکھنے ہیں۔
سالار خان میرا اشارہ سمجھ گیا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اسپتال کی انتظامیہ کی طرف چلا گیا۔ اب اسے گل ریز خان کی لاش وصول کرنے سے لے کر جنازے تک کے سبھی معاملات دیکھنے تھے۔ میرے سینے سے لگ کر رونے سے اس کا دل ہلکا ہوگیا تھا۔ اب اس نے انتقام تو لینا تھا لیکن اس سے پہلے جو فرائض ادا کرنے تھے ان کی جانب بھی متوجہ ہوگیا تھا گل ریز خان کی موت کی خبر سن کر میری طرح وہ بھی بکھر گیا تھا لیکن اب اسے رستہ نظر آگیا تھا اس نے کیا کرتا تھا اور کب کونسا قدم اٹھانا تھا یہ سب واضح ہو رہا تھا۔
گلریز کی موت کی خبر نے مجھے بھی بکھیر دیا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے جسم کا کوء یاہم حصہ کٹ کر الگ ہوگیا تھا۔ سالار خان گلے لگا تو جیسے اس کے ساتھ ساتھ میں بھی سنبھل گیا۔ بنا کچھ کہے ہم ایک دوسرے کے گلے لگے اپنا اپنا بوجھ ہلکا کر گئے تھے۔ میں صرف سالار خان کو ہی نہیں کہہ رہا تھا کہ ہم گل ریز خان کا انتقام لیں گے بلکہ میں در اصل اپنے آپ کو بتا رہا تھا کہ مجھے ہر صورت یہ انتقام لینا ہے۔ یہ میرا خود سے وعدہ تھا۔ گل ریز خان کے قاتل نامعلوم تھے۔ وہ آندھی کی طرح اچانک آئے اور سب کچھ اجاڑ کر طوفان کی طرح واپس چلے گئے۔ یہ درست تھا کہ اب اس طوفان کی طاقت کم تھی اس کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ ہم نے ان کا بھاری نقصان کیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ ایک گل ریز خان کی موت ان کے سب بندوں کی ہلاکت پر بھاری تھی۔ ہمارا لیڈر مارا گیا تھا میرا محسن اور بھائی مجھ سے جدا ہوگیا تھا۔
میں قبائلی علاقوں میں اپنا انتقام لینے کے لیے گل ریز خان کے سہارے ہی آیا تھا۔ یہاں میرا کوئی بھی نہ خاندان، قبیلہ، عزت، سپورٹ، اسلحہ، لوگ کیا کچھ نہیں تھا ، تھا لیکن گل ریز خان نیے سب کچھ دیا بھائی میرے پاس، یہ سب گلریز کے دم سے تھا اور اب شاید کچھ بھی نہ رہا تھا۔ مجھ سے گلریز ہی نہیں سب کچھ چھن گیا تھا۔ میں ایک بار پھر تنہا ہوگیا تھا مجھے ہر صورت گلریز کا انتقام لینا تھا۔ اس کا انتقام اس کے قبیلے سے زیادہ مجھ پر فرض تھا کیونکہ وہ میرے لیے قتل ہوا تھا۔
گل ریز خان کی لاش گھر لے جانے کے بجائے ایمبولینس میں رکھی گئی تو میں بھی اس کے پاس بیٹھ گیا۔ ایمبولینس ایک جھٹکے سے چل پڑی۔ میں جانے کس کیفیت میں گل ریز خان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ ذہن پر جیسے فلیش بیک چل پڑا۔
گل ریز خان اور میں نے لاہور کے ایک مشہور کالج میں ایک ساتھ فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تھا۔ مجھے میٹرک کے بعد آزادی کا احساس ہو رہا تھا جبکہ گل ریز خان کو اپنے وطن کی یاد ستا رہی تھی۔ وہ اپنے قبیلے کو اپنا وطن ہی کہتا تھا اتفاق سے ہم دونوں اسپتال میں روم میٹ بن گئے۔ کالج کے اسپتال میں ایک کمرے میں دو طالب علم رہتے تھے ایک کمرہ میرے اور گل ریز خان کے حصہ میں آیا۔
وہ قبائلی سردارکا بیٹا تھا عام طور پر قبائلی سردار بہت پڑھے لکھے نہیں ہوتے لیکن گل ریز خان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے۔ وہ لاہور اپنے والد کی اسی کواہش پر آیا تھا۔ اس کے والد نے اپنے ہی قوانین و نظریات اپنا رکھے تھے۔ گل ریز کو اپنے گھر کے پاس کسی کالج میں داخلہ بھی مل سکتا تھا لیکن اس کے والد کا خیال تھا کہ اسے سرداری کی پگ سر پر رکھنے سے پہلے اپنا مقام بنانا چاہیے اور سخت مشقت کا عادی ہوجانا چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے گل ریز خان کو لاہور پڑھنے کے لیے بھیج دیا تھا تاکہ ایک تو اسے دوسرے صوبے کی رسم و رواج اور ترقی کا علم ہوسکے وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے لیکن اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھنے کے بھی خلاف تھے۔ گل ریز خان اور میں دو سال روم میٹ رہے۔ ہماری شرارتیں، دکھ، سکھ سبھی سانجھے تھے ہم نے ایک ساتھ فلمیں دیکھیں اور دو سال ایک کمرے میں گزار دیے۔ ہمارے درمیان کوئی راز، راز نہ تھا۔ کالج میں ہماری دوستی مثالی تھی۔ گل ریز خان دو سال میرے ساتھ لاہور رہا لیکن اس کے باوجود اس پر لاہور کا رنگ نہ چڑھ سکا۔ اس کی قبائلی روایات، دوستی اور دشمنی کے اصول سبھی اس کے ہمراہ رہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے دشمن قبائلی علاقوں میں ہیں تو میں نے گل ریز خان سے رابطہ کیا۔ اس نے اگلی بات سنے بنا مجھے آنے کا کہا اور پھر میرا بھرپور ساتھ دیا۔
گل ریز خان کی شادی بہت کم عمر میں ہوگئی تھی۔ اسے اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ ہاسٹل میں وہ اکثر چھٹیوں میں گھر جانے کا پروگرام بناتا تو اپنی شریک حیات کے لیے ڈھیروں شاپنگ کر کے جاتا تھا وہ بھی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر بن کر وہ اپنے علاقے میں ایک اسپتال بنائے گا
جہاں قبیلے کے لوگوں کا بہترین علاج ہوگا۔ بد قسمتی سے میری طرح گل ریز خان بھی ڈاکٹر نہ بن سکا۔ اس کے ایف ایس سی میں بہت اچھے نمبر آئے تھے۔ لاہور کے بہترین میڈیکل کالج کے میرٹ پر وہ پورا اترتا تھا لیکن انہی دنوں اس کے والد ایک قبائلی جھڑپ کے دوران مخالفین کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ گل ریز خان خبر ملتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھر چلا گیا لیکن اس سے قبل ہی اس کے والد اس دنیا سے جا چکے تھے۔ وہ جاں بحق تو اسی وقت ہوگئے تھے جب ان کے سر پر برسٹ لگا تھا لیکن واپس آنے تک یہ خبر گل ریز سے چھپائی گئی تھی۔ اسے صرف اتنا بتیا گیا تھا کہ اس کے والد زخمی ہوگئے ہیں۔
گل ریز خان اپنے علاقے میں پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد قتل ہوچکے ہیں۔ اس نے جانے کس کیفیت میں اپنے باپ کا آخری دیدار کیا۔ جنازے کو کندھا دیا اور گھر آکر ڈھ گیا۔ گل ریز خان کے لیے شاید سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ اس کا کوئی بھائی یا چچا نہیں تھا۔ وہ تنہا اور لاوار ہوگیا تھا لیکن قبیلے کے بڑوں نے اس کے والد کے جنازے کے اگلے ہی دن سرداری کی پگ اس کے سر پر رکھ دی گل ریز خان پھر لوٹ کر لاہور نہیں آیا۔ قبیلے کی سرداری پھولوں کی سیج نہ تھی۔ اسے اپنے والد کی ساکھ بھی بر قرار رکھنی تھی اور ان کے قاتلوں سے انتقام بھی لینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی جرگوں میں شرکت بھی ضروری تھی۔ وہ اپنے علاقہ کے معاملات سمجھتا سمجھتا ایک مکمل سردار بن چکا تھا۔ اس نے اپنے والد کی روایات کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ وہ مہمان نواز ہی نہیں بلکہ درد دل رکھنے والا بھی تھا۔ اس کے ارد گرد اس کے وفاداروں کی فوج اکٹھی ہونے لگی اور وہ طاقت اختیار کرتا چلا گیا۔ اس نے جلد ہی اپنے باپ کے قاتلوں کو دنیا کی قید سے آزاد کردیا تھا۔
گل ریز خان کا یہ روپ ایک مکمل قبائلی سردار کا روپ تھا۔ وہ اس گل ریز خان سے کافی مختلف ہوگیا تھا جو میرے ساتھ ہاسٹل میں رہتا تھا لیکن اس کے باوجود میرے لیے وہ میرا دوست اور راز دان ہی تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو عبرت کا نشان بنا دیتا تھا تو دوسری طرف ان کے بچوں اور خواتین کے اخراجات کی ذمہ داری بھی خود اٹھا لیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ لڑائی مردوں کے درمیان ہوتی ہے۔ عورتوں اور بچوں کی عزت سانجھی ہوتی ہے۔ ان کا ہمارے جھگڑوں سے بھلا کیا تعلق ہے۔ اس لیے وہ اپنے مخالفین کے بچوں اور بیویوں کو کافی عزت و احترام دیتا تھا۔ ایسی ہی متعدد عادات اسے نہ صرف دوسروں سے ممتاز رکھتی تھیں بلکہ عام طبقہ اسے اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگتا تھا اس کے لوگ اس پر جان قربان کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود یہ سچ تھا کہ جس گولی پر اس کا نام لکھا تھا اسے اس کا کوئی وفادار نہیں روک پایا۔ اس کے وفااروں نے جانیں تو قربان کردیں لیکن اس کے باوجود وہ گل ریز خان کو نہ بچا سکے۔ ایمبولینس ایک جھٹکے سے گل ریز خان کے گھر کے باہر رکی تو میں ماضی سے ھال میں آگیا۔
گل ریز خان کی لاش آنے سے پہلے ہی گھر کے باہر لوگ اکٹھے ہوچکے تھے۔ سالار خان نے ایمبولینس کا دروازہ کھولا تو میں گل ریز خان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اسی حالت میںبیٹھا تھا۔ سالار خان کے کہنے
پر اس کا ہاتھ چھوڑا اور گل ریز خان کی لاش ایمبولینس سے اتار کر چار پائی پر ڈال دی گئی۔ میں گل ریز خان پر حملے کے بعد جیسے ہمت ہار بیٹھا تھا لیکن جانے کیا ہوا کہ جیسے ہی گلریز کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما تب سے میری کیفیت بدلنے لگی تھی۔
کمالا جٹ اپنی پوری توانائیاں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اب مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اگر میں ہمت ہار بیٹھا تو میرے دوست کا بدلہ کوئی نہیں لے پائے گا۔ میں نے سالار خان کو بلایا اور اس سے گل ریز خان کی آخری رسومات کے بارے میں پوچھنے لگا۔ سالار خان نے بھی شاید میری بدلتی کیفیت کا اندازہ لگا لیا۔ اس نے مجھے وہی حیثیت دی جو گل ریز خان کی تھی یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی لیکن فی الوقت میں نے اس بارے میں کوئی بات نہ کی۔ گل ریز خان کا ایک ہی بیٹا تھا لیکن وہ اس قدر چھوتا تھا کہ باپ کے غم کے سوا اسے دیگر معاملات میں شریک نہیں کیا جاسکتا تھا۔
گل ریز خان کی تعزیت کے لیے آنے والوں کو میں ہی مل رہا تھا۔ سالار خان مجھے عمائدین کے بارے میں بتاتا جا رہا تھا اور ان کی حیثیت اور مرتبہ سے آگاہ کر رہا تھا۔ گل ریز خان کے گھر کی طرف سے میں ہی ان سے مل رہا تھا۔ اسی طرح سالار خان بھی ہر معاملے میں مجھ سے مشورہ کر رہا تھا۔ اگر کوئی اہم معاملہ بات ہوتی تو میں زنان خانے میں پیغام بجھوا دیتا لیکن مجھے احساس تھا کہ گل ریز خان کی بیوہ ابھی اس حالت میں نہیں کہ کوئی فیصلہ کرسکے اس لیے میں نے زیادہ تر فیصلے خود ہی کرنا تھے۔ میں یہ ذمہ داری سچے دل سے نبھا رہا تھا۔ خون کا رشتہ نہ سہی لیکن گل ریز خان میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر تھا۔ جب گل ریز خان کا جنازہ اٹھایا گیا تو میں نے سارے راستے چارپائی کا پایہ ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ گل ریز خان کے قتل کے بعد دس یونہی سوگ میں گزر گئے۔
دسویں دل قبیلے کے بڑے اکھٹے ہوئے۔
گل ریز خان کے حجرے میں سب کے لیے قہوے کا انتظام کیا گیا تھا۔ روایات کے مطابق اب گل ریز خان کے جانشین کا اعلان ہونا تھا۔ اس کا بیٹا بہت چھوٹا تھا لیکن گل ریز کا نہ تو کوئی چچا زاد بھائی تھا اور نہ ہی کوئی سگا بھائی تھا۔ اگر جرگہ اس کے بیٹے کو قابل سمجھتا تو اسے جانشین مقرر کردیتا کہ اصل وارث تو بہرحال وہی تھا لیکن اس کی کم عمری کی وجہ سے اس کے اہل ہونے تک تمام معاملات کسی اور کو بھی سونپے جاسکتے تھے۔ بہرحال یہ قبیلے کے بڑوں نے اپنی روایات اور حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا تھا۔ میرا اس سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا کسی بھی خاموش تماشائی کا ہوسکتا تھا۔ البتہ میری کوشش تھی کہ انتظامات میں کسی قسم کی کمی نہ ہونے پائے۔ سالار خان سمیت دیگر وفادار جرگے کے انتظامات دیکھ رہے تھے میں انہیں ملازم نہیں کہتا وہ جانباز اور وفادار ہی تھے۔ انہی کے بھائی بندوں نے گل ریز خان کے لیے جانیں دی تھیں۔
عمائدین اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے تو میں گل ریز خان کے بیٹے کو ساتھ لیے حجرے میں جا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ سالار خان مجھے سالار خان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک نظر آرہی تھی جسے میں کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ وہ غیر ارادی طور پر میری جانب دیکھ رہا تھا۔ مجھے صورتحال میں عجیب سا ڈرامائی احساس ہو رہا تھا۔ محفل میں ایک بے چینی سی پھیلی ہوئی تھی جسے میں کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ اس کے باوجود میں وہاں بیٹھ کر صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میرا رواں دواں دعا کر رہا تھا کہ جرگہ کسی اور کے بجائے گل ریز خان کے بیٹے کو ہی اس کی جگہ سونپ دے اگر کسی اور کا نام ہو تو وہ محض انتظامی معاملات سنبھالنے تک محدود ہو اور اس کے لیے اسے گل ریز خان کی بیوہ سے تحریری اجازت لینی پڑے۔ یہ گل ریز خان کی بیوہ اور اس کے بیٹے کے مستقبل کے لیے بہت ضروری تھا۔ یہ بھی سچ تھا کہ یہ میرے دل کی خواہش تھی لیکن جرگہ میرے دل کا پابند نہیں تھا۔ میری حیثیت اس قدر کمزور تھی کہ کوئی بھی اٹھ کر اعتراض کرسکتا تھا کہ قبیلے کے اندرونی معاملات کے لیے بیٹھے جرگے میں غیر مقامی اور غیر قبائلی شخص کیوں بیٹھا ہے؟ اگر کوئی یہ اعتراض کردیتا تو مجھے جرگہ سے اٹھ کر جانا پڑتا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں یہاں محج خاموش تماشائی کا سا کردار ادا کروں البتہ اگر مجھے لگا کہ گل ریز خان کے بیٹے کے ساتھ نا انصافی ہونے لگی تو پھر میں ز دخل اندا ی کرتا۔ اس وقت سے پہلے تک مجھے اپنا منہ بند کرھنا تھا تاکہ اپنے آپ کو اس ً لازما جرگہ میں موجود رہنے کا اہل ثابت کرسکوں۔
جرگہ کی کارروائی شروع ہوئی تو پہلے گل ریز خان کی بہادری اور دیانت کے قصیدے پڑھے گئے۔ بلا شبہ وہ ان اوصاف کا مالک بھی تھا کچھ بزرگوں نے اس کی شجاعت کی داستانیں بھی سنائین اس کسے محفل اپنی مخصوص ڈھب پر آگئی۔ جرگہ کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی تو حجرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ جرگہ کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ قتل سے کچھ عرصہ قبل ہی گل ریز خان نے اپنا وصیت نامہ تحریر کیا تھا یہ دستاویز اس کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی تھیں۔ گل ریز خان کی وصیت کا انکشاف ہونے کے بعد جرگہ کے فیصلہ کی اہمیت پہلے جیسی نہ رہی گل ریز خان نے اس سلسلے میں خود اپنے فیصلے سنا دیے تھے۔ اس نے اپنے وصیت نامہ میں جو کچھ بھی لکھا تھا وہ اس کا ذاتی فیصلہ تھا جس سے کسی ہنگامی صورت کے بنا ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
گل ریز خان کے مبینہ وصیت نامہ کی بازگشت سنائی دی تو متعدد اراکین بھی تجسس میں مبتلا ہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں بھی اس جانب مائل ہوگیا۔ مجھے بھی تجسس تھا کہ آخر گل ریز خان نے کیا وصیت کی ہوگی۔ اس کی وصیت سے متعدد معاملات حل ہوسکتے ہیں تو دوسری جانب اسی وصیت سے مزید جھگڑے جنم لے سکتے ہیں۔ یہ جائیداد اور مرداری کا جھگڑا تھا اور گل ریز خان کا بیٹا ابھی اس قابل نہ تھا کہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا بے ایمانی پر کوئی قدم اٹھا سکے۔ جرگہ نے گل ریز خان
کے وصیت نامہ کوپڑھنا شروع کیا تو میں جیسے اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا۔ وصیت نامہ سننے کے بعد میری کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔ گل ریز خان نے اپنے وصیت نامے میں مجھے اپنا جانشین قرار دیا تھا۔ اس نے میرے دونوں ناموں کی وضاحت کردی تھی۔ قبائلی علاقوں میں میرا نام حارث تھا گل ریز خان نے بعض وجوہات کی بنا پر مجھے اسی نام سے متعارف کروایا تھا لیکن اس نے اپنے وصیت نامہ میں حارث کا اصل نام کمال جٹ ہے لیکن میری ہدایات پر اس طرح عمل کیا جائے کہ ’’واضح طور پر لکھا تھا کہ کمال جٹ میری جگہ آجائے میرے تمام ساتھیوں پر فرض ہے کہ نا صرف اس سے وفاداری نبھائیں بلکہ اس کی کسی بھی لڑائی کی صورت میں بھرپور ساتھ دیں۔ اسی طرح متعدد ہدایات اور احکامات لکھے گئے تھے۔ یہ وصیت نامہ گل ریز خان کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا اس لیے اس میں کسی شبہ کی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی۔ جرگہ کی جانب سے وصیت نامہ سنائے جانے کے بعد سب خاموشی سے میری جانب دیکھنے لگے۔
بات واضح ہوچکی تھی گل ریز خان اپنی جگہ مجھے مقرر کر گیا تھا۔ یہ ایسا فیصلہ تھا جو میری سمجھ سے باہر تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوئی یہ سوال بھی نہیں اٹھا سکتا تھا کہ جرگہ کے کسی شخص نے جعلی وصیت نامہ سنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرا تعلق سرے سے ہی اس قبیلے سے تھا ہی نہیں۔ اس لیے میں نہ تو کسی لابی کا حصہ تھا اور نہ ہی ان میں سے کسی کا قریبی تھا۔ ابھی اس پر بات شروع نہ ہوئی تھی حجرے میں ایک ایسی خاموشی تھی جو بولنے سے چند لمحے پہلے ہوتی ہے یوں لگ رہا تھا کہ سبھی کچھ بولنے سے پہلے الفاظ تو رہے تھے۔ اچانک گل ریز خان کا بیٹا میرے پاس سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ سبھی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ چھوٹا تو تھا لیکن اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا کہ اسے معاملے کی نوعیت کا علم نہ ہوگا۔ اس کے یوں اچانک کھڑے ہونے سے لگا کہ شاید وہ اس فیصلے سے بغاوت کا اعلان کردے۔ میں نے تاسف سے اس کی جانب دیکھ۔ا اگر وہ مجھے ویسے بھی کہہ دیتا تو میرا فیصلہ اس کے حق میں ہوتا۔ یہ جانشینی اس کا حق تھا۔ میں نے لمحوں میں فیصلہ کرلیا کہ اگر اس نے کوئی اعتراض اٹھایا تو میں اس کے حق میں کھڑا ہوں گا۔ گل ریز خان کے بیٹے نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور جرگہ کے بڑوں کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا یہ زنان خانہ سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا جب وصیت پڑھ کر سنائی جائے تو اسے بھی پڑھ لیا جائے۔ ایک شخص نے وہ لفافہ پکڑ کر اسی شخص کی جانب سے بڑھا دیا جس نے وصیت نامہ پڑھ کر سنایا تھا۔ اس نے چند عمائدین کی جانب دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں چند اشارے ہوئے اور اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے لفافہ کھول کر اس میں سے ایک کاغذ برآمد کرلیا۔ کاغذ پر لکھی تحریر بھی اسی طرح پڑھ کر سنائی جانے لگی۔ جیسے گل ریز خان کا وصیت نامہ پڑھا گیا تھا۔ یہ گل ریز خان کی بیوہ کا خط تھا اس سے اندازہ ہوا کہ وہ دکھ اور غم کے ان لمحات میں بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔ ان کے وفادار کسی نہ کسی طرح زنان خانہ تک صورتحال پہنچا رہے ً تھے۔ یقی نا یہ کام ملازمائیں کر رہی تھیں۔ یا پھر گل ریز خان کے وفاداروں میں سے کسی کی بیوی کو یہ
ذمہ داری سوپنی گئی تھی۔ گل ریز خان کی بیوہ نے اپنے خط میں جرگہ کے عمائشین کے احترام میں چند جملے تحریر کرنے کے بعد وصیت نامہ پر ہی بات کی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ گل ریز خان کا وصیت نامہ اصل ہے اور اس نے اس کے مندرجات سے زنان خانہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔
اس کی بیوہ کے مطابق اس کی وجوہات اور دیگر صورت حال ان کے علم میں تھیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ ان کے شوہر کے وصیت نامے پر عن و من عمل کیا جائے۔ انہوں نے جرگہ کے عمائدین کو یہ بھی یقین دلایا تھا کہ زنان خانہ سے اور گل ریز خان کے بیٹے کی جانب سے اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی جائے گی۔ گل ریز خان کی بیوی کے اس خط نے وصیت نامہ پر گویا مہر لگادی۔ جو لوگ سوچ رہے تھے کہ اس حوالے سے یہ اعتراض کردیں کہ باہر کا شخص گل ریز خان جیسے قبائل کا وارث نہیں بن سکتا وہ بھی اب دبک کر بیٹھ گئے۔ جرگہ نے کچھ دیر آپس میں صلاح مشورے کیے اور پھر گل ریز خان کی وصیت پر عن و من عمل کرنے کا اعلان کیا۔ سرداری کی پگ میرے سر پر رکھ دی گئی اور گل ریز خان کا اسلحہ میری ملکیت میں دے دیا گیا۔ اسلحہ دینا ایک علامتی رسم تھی ورنہ درحقیقت گل ریز خان کا سبھی کچھ اب میرا ہوچکا تھا۔ جرگہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا تو سالار خان نے آگے بڑھ کر اعلان کیا کہ گل ریز خان کی خواہش تھی کہ اس کی وصیت پر عمل ہوا تو حجرے میں آنے والوں کو بہترین کھانا کھلایا جائے۔ اس لیے کھانا تیار کروایا جا رہا تھا جو جلد ہی عمائدین کے آگے چنا جائے گا۔ سالار خان کے اعلان کے بعد وہ لوگ دوبارہ اپنی جگہ بیٹھ گئے جو اٹھ کر جانا چاہتے تھے کچھ ہی دیر میں ملازمین نے دنبے کا بھنا ہوا گوشت دیگر لوازمات کے ساتھ دستر خوان پر رکھنا شروع کردیا۔ پر تکلف ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ سب اپنے اپنے خیالات میں گم تھے۔ یہ وصیت نامہ سبھی کے لیے حیرت کا باعچ تھا۔ کچھ لوگ دبی دبی آواز میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ لیکن بظاہر سبھی اس فیصلے پر اپنا اطمینان ظاہر کر رہے تھے۔ باقیوں کو تو چھوڑیں خود میں گل ریز خان کے اس فیصلے پر حیرت زدہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ میں یہاں اپنا انتقام لینے آیا تھا۔ میری کائنات کو قتل کرنے والا ظالم درندہ ان علاقوں میں کہیں تھا اور میں اسی کے تعاقب میں تھا۔ تعاقب کرنے والے بھلا کب ٹھہرتے ہیں۔ وہ تو مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ یہ مسلسل سفر ہی تو تعاقب کرنے والوں کی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔ گل ریز خان اس حقیت سے واقف تھا۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ انتقام لینے کے بعد مجھے واپس چلے جانا تھا۔ میں قبائلی نہیں تھا۔ یہاں کی روایات میرے پائوں کی زنجیر نہیں بن سکتی تھیں۔ اس لیے مجھے ہر صورت واپس جانا تھا۔ گل ریز خان نے ایک ایسی زنجیر میرے پائوں میں ڈال دی تھی جو اب مجھے یہاں کا غلام بنانے والی تھی۔ میرے لیے یہ فیصلہ کافی عجیب و غریب تھا۔ اس نے مجھے الجھن کا شکار کردیا تھا۔ آخر اس فیصلے کے پیچھے گلریز کان کی کیا حکمت تھی۔ یہ میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ میں نے سر جھٹکا اور عمائدین کے پروٹوکول کی جانب متوجہ ہوگیا۔ بہرحال یہ سچ تھا کہ اب گل ریز خان مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال گیا تھا جسے ہر صورت نبھانا تھا۔ میں نے چند لمحے صورت حال کا جائزہ لیا اور پھر کھڑا ہوگیا۔ میرے اس
طرح کھڑے ہونے سے سبھی میری جانب متوجہ ہوگئے۔ اب میں گل ریز خان کی جگہ کھڑا تھا اور میری حیثیت وہی ہوگئی تھی جو گل ریز خان کو حاصل تھی۔ میں نے ایک پل کے لیے سب کی جانب دیکھا سبھی میری جانب دیکھ رہے تھے۔ میں نیکہا۔
میں اس عزت پر آپ سب کا شکر گزار ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مجھے یہاں کے مکمل قوانین اور ’’ روایات کا علم نہیں۔ آپ سب لوگ میری رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ مجھے امید ہے آپ میری رہنمائی کریں گے لیکن ایک گستاخی کی اجازت چاہتا ہوں۔
میں نے جیسے ہی گستاخی کا کہا سبھی چونک گئے کچھ کے چہرے پر غصے کے اثرات نظر آنے لگے جبکہ کچھ اس بات پر خوشی محسوس کرنے لگے کہ اب معاملات بگڑ جائیں گے۔ میں سبھی کے تاثرات محسوس کر رہا تھا چہروں پر آنے والا وقتی رنگ بھی ہمیں دوست، دشمن کی پہچان کر دیتے ہیں کبھی لمحوں میں یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ کسی پراندھا اعتماد کرتا ہے اور کسی سے محتاط رہنا ہے۔ چہروں پر آنے والا وقت رنگ ہی ہمیں انسان کی اصلیت سے آگاہ کردیتا ہے۔ میں بھی حجرے میں بیٹھے افراد کے چہروں پر آنے والا رنگ دیکھ رہا تھا۔ لمحوں میں یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ مجھے کسی پر اعتبار کرنا ہے اور کس کے شر سے خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہاں دوست کے روپ میں کوئی سانپ بھی بیٹھے تھے۔ جنہیں جب بھی موقع ملتا انہوں نے مجھے ڈس لینا تھا۔ میرا تجربہ ہے کہ سانپ کا ڈسا تو پانی مانگ لیتا ہے لیکن انسان کے ڈسے کو اکثر پانی مانگنے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ اسے تو علم ہی تب ہوتا ہے جب حسد اور نفرت کا زہر پھیل کر اپنا کام کرچکا ہو۔ کبھی کبھی تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ ڈس کون گیا ہے۔
میں نے سبھی کے چہروں کو دیکھا اور گل ریز خان کے بیٹے کو ہاتھ پکڑ کر کھڑا کردیا۔
میں یہ گستاخی کرنا چاہتا ہوں کہ گل ریز خان کا اسلحہ اپنے پاس رکھوں لیکن سرداری کی دستار گل ’’ ریز خان کے بیٹے کے سر پر رکھ دوں۔ یہ اسی کی امانت ہے اور اسی کے پاس رہے گی۔ البتہ جب تک صورت حال اس کے کنٹرول میں نہیں آجاتی تب تک گل ریز خان کا انتقام لینے کے ساتھ ساتھ دیگر ‘‘معاملات نمٹاتا رہوں گا۔
میری بات سن کر کئی تنے ہوئے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور کچھ کا اطمینان رخصت ہوگیا ان کی توقع کے مطابق کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ میرے اعلان کے ساتھ ہی حضرے میں ہر سمت سے داد و تحسین کے نعرے لگنے لگے۔ عمائدین کو یہ خوشی تھی کہ میں نے گل ریز خان کی وصیت پر بھی عمل کیا اور قبیلے کی سرداری بھی قبیلے سے باہر نہیں جانے دی۔ میں نے گل ریز خان کے بیٹے کو بھی اس کا حق دیا تھا۔ وہ مسائل جن کا سوچ کر عمائدین پریشان ہو رہے تھے میں نے انہیں لمحوں میں نمٹا دیا تھا۔ اس سے میری ایمانداری ثابت ہوگئی تھی۔ سب کو علم ہوگیا کہ میرے دل میں کھوٹ نہیں ہے اور نہ میرا
اس منصب پر ہمیشہ کے لیے کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ بات جرگہ کے عمائدین کو بہت پسند آئی۔ اب رائے عامہ بھی میرے حق میں نظر آنے لگی۔ اس سے پہلے ماحول میں تنائو کی سی کیفیت موجود تھی۔ اب میں ان کا اپنا تھا اب یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ گل ریز خان کے کمالے جٹ کو منتخب کر کے اپنے بیٹے اور خاندان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ ابھی حجرے میں ایسے لوگ موجود تھے جن کے چہروں پر چھائی مسکراہٹ کے پردے کے پیچھے زہریلے ناگ کلبلا رہے تھے۔ یہ وہ تھے جن کا خیال تھا کہ اس معاملے میں ان کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے ہی طوفان اٹھانا تھا لیکن گل ریز خان کی بیوہ کے خط کے بعد ان کے پاس کوئی جواز بچا ہی نہ تھا۔ اب انہوں نے جو بھی کرنا تھا پیٹھ پیچھے ہی کرنا تھا۔ بہرحال مجھے موقع کی نزاکت کا احساس تھا اس لیے انجان بنا ان سے بھی مسک را کر باتیں کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ حجرہ خالی ہونا شروع ہوگیا۔ لوگ واپس لوٹنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہاں سالار خا سمیت چند وفادار رہ گئے۔ میں اپنی جگہ پر بیٹھا تھا اور گل ریز خان کا بیٹا میرا ہاتھ تھامے جانے کن خیالوں میں گم تھا۔ اس کی عمر کم ضرور تھی لیکن بہرحال وہ یہ شعور رکھتا تھا کہ وہ اپنے باپ کو کھو چکا ہے۔ میں نے ایک وفادار کو اشارہ کیا اور وہ گل ریز خان کے بیٹے کا ہاتھ تھام کر اسے زنان خانہ کی جانب لے گیا۔ باقی وفادار بھی ایک ایک کر کے حجرے سے باہر چلے گئے۔ شاید انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ میں اس وقت تنہائی چاہتا ہوں۔ یہ سب کچھ اس قدر تیزی سے رونما ہوا تھا کہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ میں تنہا بیٹھ کر سوچناچاہتا تھا کہ کاتب تقدیر میرے ارد گرد کون سی کہانی بن رہا ہے۔ آکر گلریز نے میرے پائوں میں یہ زنجیر کیوں ڈالی۔ وہ تو میرے مشن سے واقف تھا۔
میں یہی سب سوچ رہا تھا کہ سالار خان کسی کام سے حجرے میں چلا آیا۔ اسے دیکھتے ہی میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا سالار خان کی معانی خیز نظریں میری آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ کیا سالار خان کو اس وصیت کا پہلے سے پتا تھا؟ سیکنڈ کے ہزارویں لمحے میں یہ سوال میرے ذہن میں ابھرا اور میں نے واپس جاتے سالار خان کو آواز دے کر روک دیا۔
سالار خان پلٹ کر میری جانب آیا اور سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
سالار خان بیٹھ جائو میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ وہ خود سے الجھتے ہوئے میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
سالار خان میں بات گھما پھر کر کرنے کا عادی نہیں ہوں اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ تم مجھ سے کچھ ’’ ‘‘ چھپائو گے نہیں۔
سالار خان نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے بات آگے بڑھائی۔
‘‘ تم پہلے سے جانتے تھے کہ گل ریز خان نے وصیت میں کیا لکھا ہوا ہے؟ ’’
میرے سوال پر سالار خان چند لمحے تذبذب کا شکار نظر آیا۔ پھر جیسے کسی فیصلے تک پہنچ گیا۔
‘‘ خان صاحب نے خود بتایا تھا مجھے۔ ’’ اس نے اعتراف کرلیا۔ ‘‘ جی میں جانتا تھا۔ ’’
پھر تو اس کی وجہ بھی جانتے ہوں گے کہ گل ریز خان نے کیا سوچ کر یہ فیصلہ کیا تھا؟ وہ میری زندگی ’’ ‘‘ اور مقصد سے بخوبی واقف تھا۔ پھر بھی اس کا یہ فیصلہ کرنا مجھے عجیب لگ رہا ہے۔
سالار خان چند لمحے میری جانب عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا پھر کہنے لگا۔
خان صاحب نے آپ پر جان قر بان کردی۔ وہ آپ کو بچانے گئے تھے لیکن خود شہید ہوگئے۔ خدا جانے آپ ’’ سے ان کا ایسا کیا تعلق تھا کہ ان کا کوئی سگا بھائی ہوتا تو شاید اس کے لیے بھی اتنا نہ کرتے۔ ان کی دشمنی بھی بہت تھی لیکن ہمارے یہاں تو سب کی ہی دشمنی ہوتی ہے۔ خان کی شہادت کا تو ہم نے سوچا تک نہ تھا لیکن ایک دن وہ کہنے لگے پنجاب سے میرا بھائی آیا ہوا ہے یہاں اس کا کوئی بھی اپنا نہیں لیکن غیرت مند ہے اس لیے تنہا ہی لڑنے آپہنچا ہے۔ اسے صرف میرا شیلٹر میسر ہے۔ اس لیے میں ‘‘ رہوں یا نہ رہوں تم نے اسے میری جگہ سمجھتا ہے۔ اس کے مجھ پر بہت احسان ہیں۔
سالار خان بولتا چلا جا رہا تھا اور میں خاموشی سے سنتا جا رہا تھا۔ اس نے ایک ایسی کہانی کے ورق الٹنے شروع کردیے تھے جو میرے علم میں نہ تھی۔ گل ریز خان مجھ سے اتنا پیار کرتا تھا مجھے اس کا اندازہ تھا لیکن وہ اس دوستی میں کس حد تک چلا جائے گا اس کا علم مجھے ہر گز نہ تھا۔
سالار خان دم لینے کو رکا اور پھر کہنے لگا۔
خان چاہتا تھا کہ آپ ہر صورت اپنا انتقام لو۔ اس مقصد کے لیے وہ کھل کر آپ کے پیچھے کھڑا تھا لیکن ’’ اس نے ایسی وصیت بھی لکھ دی تھی کہ اگر اسے کچھ ہوجائے تو آپ کو وہ تمام اختیارات، مراعات اور پشت پناہی مل جائے جو اس کے دم سے تھی۔ اس صورت میں آپ اس علاقہ میں رہتے ہوئے اپنے دشمن سے بدلہ لے سکتے تھے۔ سچ کہوں تو ہمارے کان نے آپ کی خاطر اپنے اکلوتے بیٹے کا مستقبل دائو پر لگا دیا۔ اب آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو خان کا تھا لیکن ان کا بیٹا اس وقت تک اپنی وراثت سے محرو رہے تا جب تک آپ خود نہیں دیں گے خان نے آپ کو نگران نہیں بنایا بلکہ براہ راست مالک بنا دیا تھا۔
سالار خان کی باتیں میری برداشت سے باہر تھیں۔ میر دوست عظیم تھا وہ عظمت کی بلندیوں پر تھا دوستی کی ایسی مثالیں صرف ناولوں اور کہانیوں میں ملتی ہیں لیکن میرے ساتھ حقیقت میں یہ سب ہو رہا تھا میں نے سالار خان کی جانب دیکھا اور کہا۔
سالار خان میرا تم سے وعدہ ہے کہ یہ حق جس کا ہے اسی کو ملے گا۔ یہ سب گل ریز خان کے بیٹے کا ہے ’’ مجھے صرف اپنا اور گل ریز خان کا انتقام لینا ہے اس کے بعد میں واپس چلا جائوں گا۔ یہ بات طے ہے کہ
مجھے یا تو کسی مقابلے میں مرنا ہے یا پھر غازی بن کر لوٹ جانا ہے۔ مسافر عشق کا ہو یا انتقام کا قیام اس کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ اسے حرکت میں رہنا ہی ہوتا ہے۔ یہی حرکت اسے زندہ رکھتی ہے اس لیے ‘‘ جب تک میرا انتقام پورا نہیں ہوجاتا تب تک مجھے بھی اپنے دشمنوں کا پیچھا کرتے رہنا ہے۔
سالار خان خاموشی سے سر ہلاتا رہا اور پھر اجازت لے کر چلا گیا ایک ماہ یونہی گزر گیا۔ مجھ پر بے انتہا ذمہ داریاں آپڑی تھیں۔ بہت سے معاملات اب مجھے ہی دیکھنے تھے۔ گل ریز خان کے کاروبار کا حساب کتاب زمینوں کی آمدن اور ان تمام افراد کی فہرست جنہیں وہ ہر ماہ بہت خاموشی سے امداد دیا کرتا تھا۔ ان تمام معاملات کو ترتیب میں لانا اور سمجھنا اتنا آسان نہ تھا سچ پوچھیں تو اس کے جانے کے بعد احساس ہو رہا تھا کہ وہ کس قدر عظیم تھا۔ شاید درویشن ایسے ہی ہوتے ہیں بظاہر چھپے ہوئے دنیا داروں کی طرح لیکن اسی دنیا داری کے پردے میں خدمت خلق میں مصروف۔ وہ نہ کوئی حساب رکھتے ہیں کہ کس کو کتنا دیا اور نہ ہی کوئی فہرست بناتے ہیں۔ میں گلریز طرح درویش نہ تھا وہ اپنی مرضی کا مالک تھا۔ جسے جتنا چاہتا اتنا ہی نواز دیتا۔ میں ایسا نہیں کرسکتا تھا مجھ پر ذمہ داریوں کا بوجھ تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال زندہ تھا کہ یہ سب میرا نہیں ہے۔ یہ ایک امانت تھی جو مجھے حق دار تک پہنچای تھی۔ اس لیے مجھے امداد کی بھی فہرست بنانی تھی۔ کتنی رقم کس مد میں خرچ ہوتی ہے اس کا مکمل ریکارڈ رکھنا تھا۔ جس طرح گل ریز خان مجھے اپنا وارث بنا گیا تھا اس کی رو سے میں کسی کو حساب دینے کا پابند نہ تھا۔ اگر کبھی یہ سب گل ریز کے بیٹے کو سونپ دیتا تو بھی وہ مجھ سے یہ پوچھنے کا مجاز نہ تھا کہ میں نے گل ریز خان کی دولت کہاں خرچ کی۔ یہ جرگہ کا قانون تھا اور اس قانون کو اس جگہ پاکستان کا کوئی ادارہ چیلنج نہیں کرسکتا تھا۔ نہ یہاں پولیس پر مارتی تھی اور نہ عدالت تک کوئی جاتا تھا یہاں سب کچھ جرگہ ہی تھا اور یہی جرگہ میرے حق میں فیصلہ سنا چکا تھا۔ اب میں اس ساری دولت کا مالک تھا لیکن اس جرگہ سے بڑی ایک اور عدالت تھی وہاں میرا ضمیر جج کی صورت بیٹھا مجھے گھو رہا تھا۔ میں اس کی نظروں کی تاب نہ لاسکتا تھا۔ اس لیے میں چاہتا تھا کہ جب یہ سارا انتظام اور معاملات گل ریز خان کے بیٹے کے سپرد کروں تو میرے پاس ایک ایک پائی کا حساب ہو۔ میں یہ سارے کھاتے اس کے حوالے کر کے جانا چاہتا تھا۔ اس لیے اب اس سارے بکھرے ہوئے نظام کو کاغذوں پر سمیٹنے میں مصروف تھا۔ میرا ایمان ہے کہ ہم جب کھاتوں میں گڑ بڑ کرتے ہیں تو اسے پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ دنیاوی کھاتوں میں شاید جلد پکڑ نہ ہو لیکن آسمان پر کھلنے والے کھاتوں میں پل بھر کے اندر پکڑ ہوجاتی ہے۔ یہ پکڑ ہارٹ اٹیک، بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد اور کینسر کی صورت ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ کچھ بیماریاں امیروں اور طاقتوروں سے ہی منسوب ہیں۔ دنیا کو اپنا غلام سمجھنے والوں کو جب خدا ان کی اوقات بتاتا ہے تو پھر تمام تر آسائیشات ہونے کے باوجود ان پر پابندی لگا دیتا ہے۔ پھر ڈاکٹر بتاتا ہے کہ آپ کے پاس دولت تو ہے لیکن آپ کھانا صرف پھیکا اور پرہیزی کھا سکتے ہیں۔ میں نے کبھی کچی بستی اور جھگی وہ ناقص خوراک کھا ، میں رہنے والوں کو پرہیزی کھانا کھاتے نہیں دیکھا۔ انہیں مٹی سے الرجی نہیں ہوتی
کر بھی بیمار نہیں ہوتے اس کے برعکس اسی فیصد سے زائد امیروں کو پرہیزی کھانے اور ادویات کھاتے ہی دیکھا ہے۔ تھوڑی سی مٹی اڑے تو انہیں الرجی ہوجاتی ہے۔ یہ واضح پیغام ہے لیکن صرف سمجھنے والوں کے لیے۔ یہ پیغام کمالے جٹ کو جٹا والا سے ہی مل گیا تھا مجھے معلوم تھا کہ اگر گل ریز خان کے بیٹے کی وراثت میں غبن کیا یا کھاتوں میں ہیرپھیر کی تو او پر آسمانوں پر پڑے میرے کھاتے میں بھی ہیر پھیر کردی جائے گی۔ اس لیے میں نے سبھی کام چھوڑ کر سب سے پہلے گل ریز خان کے تمام معاملات ترتیب میں لانے شروع کردیے اور انہیں ریکارڈ میں رکھنا شروع کردیا۔ میں چاہتا تھا کہ میرے جانے کے بعد گل ریز خان کا بیٹا ان کھاتوں اور ریکارڈ کی مدد سے تمام معاملات خود سنبھالنے کے قابل ہوجائے۔ اسی طرح اس کی بیوہ بھی انہیں دیکھ کر تمام معاملات کی نگرانی کرسکے اور ماں بیٹا کود سارے معاملات چلا سکیں۔ اگر یہ معاملات ان کی نگرانی میں نہ رہے اور کسی دوسرے پر ہی چھوڑ دیے گئے تو عین ممکن ہے سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ستاتا تھا کہ گل ریز خان میری وجہ سے مارا گیا۔ اس کے بیٹے کو دیکھ کر یہ احساس اور بھی شدید ہوجاتا تھا۔ اس نے وصیت کی صورت مجھ پر جو احساس کیا اور میرے یہاں رہ کر انتقام لینے کی جو سبیل نکالی اس نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ میں یہ احسان اس کے بیٹے کو قابل نا کر ہی اتار سکتا تھا۔ گل ریز خان میرے لیے جو کچھ کرسکتا تھا وہ کر گیا تھا۔ اب میرا وقت تھا۔ مجھے بتانا تھا کہ پنجاب کا کمالا جٹ اپنے محسن کے لیے کیا کرسکتا ہے۔
میں شب و روز گل ریز خان مرحوم کے معاملات میں الجھا ہوا تھا اس دوران عجیب ہی دھن سوار تھی۔ نہ دن کا ہوش تھا اور نہ ہی رات کی پروا تھی۔ بس یہی فکر تھی کہ کہیں مجھ سے کسی معاملے میں کوتاہی نہ ہوجائے۔ شاید احساس ذمہ داری ہماری طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔ یہی کام اگر میرے ذاتی ہوتے تو شاید میں اس قدر جنون کے عالم میں نہ کرتا لیکن اب یہ ذمہ داری اور فرض بن چکے تھے۔ ایک دن اچانک سالار خان نے کوئی بات کرتے کرتے بتایا کہ قبیلے کے عمائدین جرگہ بلانا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہ تھی۔ یہاں پولیس اور تھانوں کا رواج تھا بلکہ پولیس سے مدد طلب کرنے والے کو نفرت سے دیکھا جاتا تھا۔ یہاں چھوٹے چھوٹے معاملات کے لیے بھی جرگہ ہی بلایا جاتا تھا۔ اس لیے میں نے سرسری سے انداز میں پوچھ لیا کہ کس بارے میں جگہ بیٹھے گا۔ سالار خان کہنے لگا۔
ملک صاحب! آپ نے گل ریز خان مرحوم کی سب چیزیں اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں لیکن ایک جانب سے بے ’’ ‘‘ پروا ہوگئے ہیں جرگہ اسی سلسلے میں بیٹھے گا۔
سالار خان کی بات سن کر میں چونک گیا۔ جہاں تک میرا خیال تھا میں اتنے عرصہ میں نا صرف تمام معاملات سنبھال چکا تھا بلکہ انہیں ایک سسٹم میں بھی لے آیا تھا۔ اب ایسا کیا تھا جس جانب سے کوتاہی ہوئی تھی میں تو پائوندو قبیلے کے سردار خوشحال خان کو بھی پیغام بھجوا چکا تھا گل ریز خان کے سوگ میں ثابت اور دارا کے درمیان ہونے والا مقابلہ ملتوی کروا دیا جائے۔ اب گل ریز خان کی جگہ میں
یہ مقابلہ دیکھنے آئوں گا۔ میں جانتا تھا کہ بظاہر یہ ثابت کے ساتھ زیادتی تھی لیکن مجھے یہ بھی اطمینان تھا کہ مقابلہ ملتوی ہونے کا فائدہ بھی ثابت کو ہی ہوتا۔ اسے میں نے جو دائو سکھائے تھے وہ اب تک ان میں مزید پختہ ہوچکا تھا۔ میرا وجدان کہتا تھا کہ گل ریز خان کے قتل کے پیچھے دارا ہی ملوث تھا۔ اب میں اسے سبق سکھانا چاہتا تھا مقابلہ ملتوی کروانا میرے اسی پلان کا حصہ تھا۔ اس میں خوش آئند بات یہ تھی کہ سردار شامل خان نے جوابی پیغام میں مقابلہ ملتوی کرانے کی حامی بھرلی تھی۔
میں نے تو ہر چیز کو اس کی باریکیوں سمیت سمجھا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اب لگ بھگ چار ماہ گزر جانے کے بعد تو مجھے ہر معاملہ اپنی فنگر ٹپس پر یاد تھا لیکن سالار خان کوئی اور ہی کہانی سنا رہا تھا۔ میں نے بے چینی سے اس کی جانب دیکھا اور پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے جرگہ کی نظر میں ایسا کونسا معاملہ ہے جو میرے عالم میں ہی نہیں ہے اور میں بے پروائی بھی برت رہا ہوں۔ سالار خان نے نظریں جھکاتے ہوئے جو کچھ کہا اسے سن کر مجھے یوں لگا کہ جیسے کسی نے میرے سر پر بم پھوڑ دیا ہو۔ جرگہ کو جس کی فکر تھی وہ کوئی بے جان چیز نہیں تھی بلکہ ایک سانس لیا، جیتا جاگتا وجود تھا۔ جرگہ گل ریز خان کی بیوہ کا فیصلہ کرنے آرہا تھا۔ وہ ہی حویلی میں تھی جہاں اسے گل ریز خان نے رکھا تھا۔ اس کے پاس ملازمائیں موجود تھیں۔ جو اس کی خدمت پر مامور تھی۔ میں نے اپنا مستقل قیام حجرے میں کرلیا تھا اس کے باوجود جانے جرگہ کیا فیصلہ کرنے آرہا تھا بہرحال ایک ہفتے بعد جرگہ نے اسی حجرے میں بیٹھنا تھا۔
جس دن جرگہ تھا اس دن صبح سے ہی مجھے عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ خدا جانے جرگہ کیا فیصلہ سنائے۔ میں سوچ لیا تھا کہ اگر جرگہ کی جانب سے گل ریز خان کی بیوہ یا بیٹے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا زبردستی ہوئی تو میں اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کروں گا۔ چاہے سبھی میرے خلاف ہوجائیں لیکن میں کسی بھی صورت ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔ مقررہ وقت پر قبیلے کے بزرگ اکھٹے ہونا شروع ہوگئے۔ وہ حجرے میں آتے چلے گئے اور میرے پاس ہی بیٹھتے چلے گئے۔ ان کی تواضع قہوہ سے کی گئی جبکہ قبائلی روایات کے تحت حجرے میں داحلے سے قبل سالار خان ان سے ہتھیار لے کر ایک جگہ رکھتا رہا۔ اب وہ کمالے جٹ کے مہمان تھے۔ اس حجرے کی روایت تھی کہ یہاں آنے والے سبھی افراد گل ریز خان کی مہمان نوازی میں ہی سمجھے جاتے تھے۔ اب یہی روایت میں نبھا رہا تھا۔
جرگہ اپنے روایتی انداز میں شروع ہوا تو حجرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف ایک شخص بول رہا تھا جبکہ باقی سب خاموش اور پوری توجہ سے اس کی بات سن رہے تھے۔ اس نے صورتحال کا پس منظر بیان کیا اور پھر سب کو بتایا کہ دراصل جرگہ کیوں بلایا گیا ہے اس کے بعد سب نے اپنی اپنی رائے دینی شروع گل ریز خان کی شہادت کا ہم ’’ کردی۔ اس کے بعد جرگہ کے سربراہ نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ سب کو دکھ ہے لیکن قبیلے کی روایات پر عمل کرتے ہوئے کچھ معاملات حل کرنا بہت ضروری تھا۔ ہم
جانتے ہیں کہ گل ریز خان نے چند سال قبل ہی شادی کی تھی۔ اب اس کے اس دنیا سے چلے جانے کے باوجود اس کی بیوہ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ اب گل ریز خان کو گزرے چار ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے۔ اس کی بیوہ آزاد ہے۔ دوسری جانب گل ریز خان کا موجودہ وارث اور جانشین کمال جٹ ‘‘ ہے جس کا بظاہر قبیلے یر گل ریز خان کے خاندان سے کوئی خونی تعلق نہیں ہے۔
اپنا ذکر سن میں نے بے چینی سے پہلو بدلا لیکن کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ میں مکمل صورت حال واضح ہوئے بنا کسی قسم کی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ البتہ مجھے یہ حیرت ضرور ہوئی کہ آخر اس موقع پر میرا ذکر کیوں کیا جا رہا ہے۔
کمال جٹ نے ان چند ماہ میں یہ ثابت کردیا ہے کہ ’’ جرگہ کے سربراہ نے اپنی گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا گل ریز خان کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ اس نے بالکل درست بندے کا انتخاب کیا تھا۔ بلا شبہ کمال جٹ اس کا اہل ہے۔ اس لیے جرگہ کمال جٹ کو یہ ذمہ داریاں جاری رکھنے کا کہتا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ کمال جٹ اور گل ریز خان کی بیوہ کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ کمال جٹ کو بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے حویلی میں جانا پڑے گا کیونکہ دراصل اب کمال جٹ ہی اس کا مالک ہے۔ ایسی صورت میں قبیلے کے عزت دار لوگ یہ پسند نہیں کرسکتے کہ دو غیر محرم ایک ساتھ رہیں۔جہاں دو تنہا ہوں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ حویلی میں ملازمائیں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بات شریعت اور غیرت کی ہے۔ اگر یہ روایت چل نکلی تو پھر سبھی کی بہن بیٹیاں خراب ہوں گی۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کمال جٹ ور گل ریز خان کی بیوہ کا آپس میں نکاح پڑھا دیا جائے ایک تو اس لڑکی کو تحفظ مل جائے گا دوس را گل ریز خان کے تمام معاملات کا وارث ہونے اور اس کی بیوہ سے کوئی محرم رشتہ نہ ہونے ‘‘ کے وجہ سے کمال جٹ کا ہی حق ہے کہ وہ اس کی بیوہ کو بھی اپنی زوجیت میں لے سکے۔
جرگہ کا سربراہ جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا لیکن میں اپنے حواس کھوتا چلا جا رہا تھا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی زہر میں بجھے تیر میرے دل میں اتار رہا ہے اور ابلتا ہوا سیسہ میرے کانوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ میرا جسم ہولے ہولے لزر رہا تھا۔ بھابی سے تو کسی نے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ بس ان کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو مجھ سے بھی نہیں پوچھا گیا تھا مجھے بھی بس حکم نامہ ہی سنایا گیا تھا عجیب جرگہ تھا جو دو زندگیوں کے فیصلے ان سے پوچھے بنا کرتا چلا جا رہا تھا اور ان سے پوچھنا تک گوارا نہیں کر رہا تھا۔ پوچھنا تو دور کی بات ہے مجھ سے تو رائے تک طلب نہ کی گئی تھی۔ شاید جرگوں میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ قانون کی طرح یہاں بھی پہلے سے طے شدہ روایات کے بنڈل اور خود ساختہ قوانین کی بوسیدہ سی پوٹلی رکھی ہوئی تھی۔ جرگہ کو انہی کی روشنی میں فیصلہ سنانا تھا۔ شاید دنیا کی سبھی عدالتوں میں دل، جذبات اور احساسات کے بجائے پرانی روایات اور پرانے اصولوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ منصف، احساسات سے عاری ہوتے ہیں یا انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ سزا صرف
ایک شخص کو نہیںملتی۔ ہم قتل کے جرم میں پھانسی دیتے یہں یہ مقتول کے ساتھ انصاف ہے کہ اسے قتل کرنے والے کو بھی قتل ہی کیا جائے لیکن یہ پھانسی صرف قاتل کو ہی نہیں دی جاتی بلکہ قاتل کے چھوٹے چھوٹے بچوں اور جوان بیوی بھی اس کے ساتھ ہی لٹکا دیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قاتل ایک ہی بار پھندے سے لٹک کر دنیا کی فکر سے آزاد ہوجاتا ہے جبکہ اس کے بچے اور جوان بیوی ہر روز پھندے پر جھولتے ہیں اور اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگر منصف کے پاس احساس ہوتا اور وسعت نظری ہوتی تو یقینا وہ قاتل کو پھانسی کی سزا سناتے وقت اس کی بیوی بچوں کے لیے ایسے انتظامات بھی کرنے کا حکم دیتے جن کی وجہ سے انہیں زمانے کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ ہم قاتل سے زیادہ اس کے بیوی بچوں کو سزا سناتے ہیں اور پھر اپنی انصاف پروری کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔ آج یہ جرگہ بھی پرانی روایات کے تحت ایک ایسا فیصلہ سنایا جا رہا تھا کہ اگر اس پر عمل ہوجاتا تو میں خود سے نظریں نہ ملا پاتا۔ گل ریز خان کی روح مجھ سے سوال کرتی کہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تم اسی مقصد کے لیے یہاں آئے تھے؟
ابھی جرگہ اپنے خود ساختہ فیصلے پر مہر ثبت کرنے ہی لگا تھا کہ میں کھڑا ہوگیا۔ سب نے میری جانب دیکھا۔ یہ بغاوت کی علامت تھا اور روایات کے خلاف بھی تھا جرگہ اپنا فیصلہ سنا چکا تھا۔ اب کسی کو بولنے یا انکار کرنے کی اجازت نہ تھی۔ میں نے کھڑے ہوتے ہی کہا۔
میں آپ کی انصاف پروری کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں ’’ گے جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے مجھے بولنے کا ‘‘ موقع دیا جائے۔
عمائدین میں سے چند ایک نے میری تائید کرتے ہوئے مجھے اپنی بات جاری رکھنے کا کہا۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ میری ابتدائی تمہید نے اپنا اثر دکھایا تھا۔ میں نے انصاف کی بات کر کے جرگہ کی اہم رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اب وہ یہ طعنہ نہیں سننا چاہتے تھے کہ انہوں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ انہیں یہ یقین تھا کہ میری تمام تر دلیلوں کے بعد بھی فیصلہ وہی ہوگا جو وہ سنا چکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس اس کے حق میں ہزار ناقابل تردید دلائل تھے۔ گل ریز خان کی بیوہ اور میرا غیر محرم ہو کر ایک جگہ رہنا ہی سب سے بڑی دلیل تھی۔ یہ تو طے تھا کہ قبائلی روایات سے انحراف ممکن نہ تھا۔ اس لیے انہیں مکمل اطمینان تھا کہ یہ فیصلہ نہیں بدل سکتا۔
میں نے اپنی بات آگے بڑھائی اور کہا۔
آپ جو فیصلہ سنا رہے ہیں اس کی حکمت اور دور رس اثرات سے انکار نہیں۔ آپ فساد اور شر کو ختم ’’ کرنا چاہتے ہیں۔ میں آپ کی تردید نہیں کر رہا لیکن ہمارے پنجاب کی بھی کچھ روایات ہیں۔ ہم جسے جو رشتہ دیں پھر مرتے دم تک اسے نبھاتے ہیں۔ گل ریز خان کی بیوہ اور میرے درمیان بھی ایک رشتہ قائم
میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حجرے میں کھسر پھسرشروع ہوگئی۔ عمائدین ایک دوسرے کی ‘‘ہوچکا ہے۔ جانب دیکھ رہے تھے۔ کچھ چہروں پر میرے لیے نفرت اور غصہ کی کیفیت ظاہر ہو رہی تھی جبکہ کچھ کے تیور ایسے تھے کہ جیسے ابھی مجھے سنگسار کرنے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ میں دم لینے کو رکا اور پھر کہنا شروع کردیا۔
یہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے۔ گل ریز خان میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر تھا اور اس کی بیوہ میری بہن ہے۔ ہم ’’ منہ بولے رشتوں پر جان تک قربان کردیا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ رشتے سگے رشتوں سے بڑھ کر حرمت والے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو بہن بھائی ایک چھت تلے رہنا منظور نہیں تو میں یہیں اس حجرے میں ہی رہوں گا اور حویلی میں داخل نہیں ہوگا لیکن میری درخواست ہے کہ ایک بھائی اور بہن کے درمیان نکاح نہ کروائیں۔ میں فیصلہ آپ پر ہی چھوڑتا ہوں لیکن اپنی درخواست آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا تھا گر یہ ‘‘ گستاخی ہے تو آپ جو سزا دیں گے وہ بھی مجھے قبول ہوگی۔
گل ریز خان کی جگہ آکر میں خاصا طاقتور اور با اچر ہوچکا تھا اس کے باوجود جرگہ کے سامنے میری عاجزی اور سادہ لہجہ عمائدین کے دلوں میں میرے لیے نرم گوشہ پیدا کرچکا تھا۔ دوسری جانب گل ریز خان کی بیوہ کو بہن کہنے سے بھی اچھا تاثر پیدا ہوا۔ یہاں کئی ایسے لوگ بھی تھے جو صوبائی عصبیت کی وجہ سے یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کے ایک طاقت ور مردار کی بیوہ مال غنیمت کی طرح پنجاب کے جٹ کے قبضے میں چلی جائے۔ ان لوگوں نے میری حمایت میں بڑھ چڑھ کر بولنا شروع کردیا۔ ان کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ کمال جٹ نے گل ریز خان کی بیوہ کو بہن کہہ کر اپنی پاک نیت کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔ اگر دل میں کھوٹ ہو تو کسی اجنبی لڑکی کو بھی بہن نہیں کہا جاتا۔ اب جرگہ کو کمال جٹ کا مان اور اس کے رشتے کی حرمت برقرار رکھنی چاہیے۔ انہیں بہن بھائی ہی سمجھنا چاہیے۔
جرگہ کے اکابرین نے کچھ دیر آپس میں صلاح مشورے کیے اور پھر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے میرے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ انہوں نے مجھے حویلی میں اسی طرح رہنے کی اجازت دے دی جس طرح کوئی بھی بھائی اپنی بہن کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ میرا اس طرح غیرت مندی کا ثبوت دینا اور اپنے دوست کی بیوہ کو زوجیت میں نہ لینا میری گل ریز خان سے دوستی اور خلوص کا سچا جذبہ تھا جسے عمائدین نے بھی محسوس کیا۔ اب وہ میری تعریفیں کر رہے تھے۔ اپنے حوالے سے مجھے دو جرگوں میں بیٹھنا پڑا اور دونوں بار میں معتبر ٹھہرا۔ مجھے پسندیدگی کی سند مل چکی تھی۔
سب لوگ حجرے سے چلے گئے تو سالار خان میرے پاس آ بیٹھا۔ اس نے میرے ہاتھ تھامے اور انہیں چومتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیا۔
میں نے ہاتھ واپس کھینچتے ہوئے سوال کیا۔ ‘‘ سالار خان یہ کیا کر رہے ہو؟ ’’
سالار کان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ عجیب وھشت کی سی حالت میں تھا لیکن اس کے لہجے سے عقیدت کا رنگ جھلک رہا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر میری جانب دیکھا اور کہا۔
آپ عظیم ہو، آپ نے ہمارے خان کی عزت کو احترام بخشا ہے۔ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا لیکن آپ نے ’’ خان کی حرمت کو عزت بخشی ہے۔ آج آپ نے سالار خان کو اپنا ذاتی غلام بنا لیا ہے۔ خان عمر میں کم لیکن ‘‘ پھر بھی میرے لیے باپ جیسا تھا۔ سالار خان آپ کو اس احسان کا بدلہ اپنی جان قربان کر کے چکائے گا۔
میں سالار کان کی دلی کیفیت سمجھ رہا تھا اس لیے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا۔
سالار خان میں نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔ گل ریز خان میرا دوست اور بھائی ہی نہیں محسن بھی ’’ تھا۔ میں اس کی عزت کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس لیے مجھے یہ بات بھی جرگہ کو بتانی ہی تھی کہ جو فیصلہ وہ سنانے جا رہے ہیں اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔
سالار خان کی حالت کے پیش نظر میں نے اسے آرام کرنے بھیج دیا تاکہ وہ اس جذباتی کیفیت سے باہر نکل سکے۔ جب تک انہی کیفیات میں گھرا رہتا تب تک اس سے اپنا کام نہیں ہونا تھا۔
میں جرگہ کے فیصلہ کے بعد حجرے سے حویلی میں منتقل ہوگیا۔ میرا ذیادہ وقت اب بھی حجرے میں ہی گزرتا تھا۔ جو کہ حویلی کے سامنے یہ ایک گھر کی صورت میں بنا ہوا تھا لیکن اب یہ آسانی تھی کہ حویلی میں آنے جانے کی وجہ سے مجھے براہ راست وہاں کے مسائل اور ضروریات کا علم رہتا تھا۔
گل ریز خان کی بیوہ کا نام مہک خان تھا۔ بھابی پختون روایات کے برعکس گل ریز خان کی راز دان تھیں اور وہ انہیں تمام معاملات سے آگاہ رکھتا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ وہ اپنی خانگی زندگی میں ایک اچھا شوہر تھا اور اس کے نزدیک میاں بیوی کے درمیان اعتماد اور بھروسہ کا رشتہ ہی اصل رشتہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو کبھی عملی زندگی میں نہیں لائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اسے تمام معاملات اور دن بھر کی مصروفیات سے آگاہ رکھتا تھا۔
شریک حیات کے لیے یہی بہت ہوتا ہے کہ اس کا شوہر اسے اپنی زندگی کے تمام معاملات میں شریک رکھتا ہے اور ان سے مشورے بھی کرتا ہے وہ کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتی کہ حقیقت کیا ہے۔ شریک حیات کو یوں اپنے معاملات میں شریک کرنا اپنے پن کا احساس دلاتا ہے۔ گل ریز خان اس لحاظ سے آئیڈیل شوہر تھا۔ اس کے خانگی معاملات احسن انداز میں چل رہے تھے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ مہک بھابی کو بیوہ ہونے کے بعد بہت سے معاملات کا علم تھا اور ان کے پس منظر سے بھی آگاہ تھیں۔ میرے سلسلے میں ان کی گواہی اس کی بڑی دلیل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اب میں نے بھی ان سے اکثر معاملات میں مشورہ لینا شروع کردیا تھا۔ وہ مجھے پوری تفصیل سے آگاہ کرنے کے بعد مشورہ دیتیں جو اکثر کامیاب ہی رہتا۔
مہک بھابی کو جرگہ کی کارروائی اور میرے اعلان سمیت سب رپورٹس مل چکی تھیں۔ میری جانب سے انہیں بہن کہنے کے واقعہ نے ان کے دل میں میری عزت مزید بڑھا دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب میں حویلی منتقل ہوا تو انہوں نے مجھ سے پردہ کرنے کے بجائے یہ کہہ دیا کہ ایک بہن اپنے بھائی سے پردہ نہیں کرسکتی۔ اس سے جہاں میرا مان بڑھ گیا وہیں میں اس مشکل سے بھی نکل گیا کہ میں حویلی میں کیسے داخل ہوسکتا ہوں جہاں کے مکین مجھ سے پردہ کرتے ہیں۔ مہک بھابی نے یہ فیصلہ کر کے مجھے ان مشکلات سے بھی باہر نکال دیا تھا۔ ہم حقیقی معنوں میں بہن بھائی ہی تھے۔
حویلی میں جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں ایک اور اہم معاملے کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ سچ کہوں تو گل ریز خان والے حادثہ نے مجھے کسی اور جانب سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔ میں بیٹھا تھا کہ میں اپنے ساتھ آئمہ اور اس کے بھائی عثمان کو بھی رہا کروا کر لایا تھا۔ اس بچی کو بھی میں نے بہن کہا تھا۔ جب گل ریز خان اور مجھ پر حملہ ہوا تو یہ دونوں بھی اسی گاڑی میں تھے۔ گل ریز خان کو گولی لگنے اور مسلسل فائرنگ نے ان کے اعصاب شل کردیے تھے۔ جب ہماری گاڑی اسپتال پہنچی تو تب تک یہ دونوں بہن بھائی بے ہوش ہی تھے۔ مجھے لگا تھا کہ شاید انہیں بھی کوئی گولی لگ گئی ہے۔ اس کے بعد گل ریز خان کی موت اور دیگر معاملات کی وجہ سے میری توجہ اس جانب نہیں ہوئی۔ شاید میرے لاشعور میں تھا کہ یا تو یہ دونوں بھی جاں بحق ہوگئے ہیں یا پھر اپنے شہر پہنچ چکے ہوں گے۔
اب حویلی آیا تو وہیں آئمہ اور عثمان کو دیکھ کر مجھے ندامت کے شدید ترین احساس نے گھیر لیا۔ میں نے آئمہ سے معذرت کی تو اس نے پھیکی سی ہنسی سے اسے ٹال دیا اور کہا کہ اسے صورتحال کا علم ہے۔ جہاں اتنے دن وہ اذیت میں رہی وہیں چند روز مزید گزر جائیں تو کیا حرج ہے۔ مہک بھابی نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کی اس کے گھر والوں سے بات کروا دی تھی اور خود بھی بات کر کے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ اب آئمہ اور اس کا بھائی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ آئمہ کو لانے کے دوران ان کے شوہر دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔ اس لیے بعض معاملات کی وجہ سے آئمہ کو یہاں کچھ عرصہ لگ جائے گا لیکن اب وہ محفوظ ہے۔ انہوں نے عقل مندی یہ کی کہ اس کے گھر والوں کو مکمل تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ کس جگہ کس کی تحویل میں ہے۔
یہ پاک افغان سرحدی علاقہ ہی تھا۔ یہاں افغان سم چلتی تھی اور ان کے سگنل بھی آتے تھے۔ مہک بھابی نے افغان سم کارڈ سے فون کیا تھا جس کی وجہ سے وہاں افغانستان کا نمبر گیا تھا۔ دوسری طرف ان علاقون کی صورتحال ایسی تھی کہ نہ تو آئمہ کے گھر والے کسی قسم کی مہم جوئی کرسکتے تھے اور نہ ہی پولیس کا ان علاقوں میں اثر و رسوخ تھا۔ اس لیے اس کے گھر والے محض مناسب وقت کا انتظار ہی کرسکتے تھے۔ البتہ اب انہیں یہ اطمینان تھا کہ ان کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور جلد ہی ان سے آملیں گے۔
میں نے صورتحال کا جائزہ لیا۔ ابھی مجھے کئی محاذ چھیڑنے تھے۔ میرے دشمن اسی علاقے میں کہیں تھے اور میں ان کے پیچھے ہی یہاں آیا تھا۔ ان سے کسی بھی وقت مڈ بھیڑ ہوسکتی تھی۔ اسی طرح مجھے گل ریز خان کے دشمنوں سے بھی سلسلہ آگے بڑھانا تھا۔ اس کے کئی دشمن تھے جو اب گل ریز خان کی جائیداد کی طرح میرے حصے میں آچکے تھے۔ اسی طرح گل ریز خان کے قاتلوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا تھا۔ عین ممکن تھا یہ سب محاذ ایک ساتھ کھل جاتے۔ ایسی صورت میں نہ تو میری زندگی کی ضمانت تھی اور نہ ہی اس بات کی کوئی ضمانت تھی کہ اس دوران آئمہ اور اس کا بھائی اپنے گھر پہنچ پائیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر بیک وقت کئی محاذ کھل جاتے تو کمالے جٹ کو اپنی عادت کے مطابق آگے رہ کر لڑنا تھا۔ لہ ذا یہ ممکن نہ ہوتا کہ میں آئمہ کو اپنی نگرانی میں اس کے گھر روانہ کرپاتا۔
حویلی منتقل ہونے کے اگلے ہی ہفتے میں نے آئمہ کو بلایا اور اسے نوید سنائی کہ اسی ہفتے وہ اپنے گھر والوں سے مل سکے گی۔ اس لیے ضروری تیاریاں کرے۔ اے بحفاظت لاہور اس کے گھر پہنچا دیا جائے گا۔ اسے چند لمحوں تک جیسے میری بات کا یقین ہی نہ آیا۔ کیا ہم واقعی اپنے گھر پہنچ جائیں گے؟ اس کے لہجے سے بے یقینی جھلک رہی تھی۔
مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
آپ پر ہی تو اعتبار ہے اب تک آپ مجھے بچاتے آئے ہیں ورنہ کوئی اور ہوتا تو جانے کب کا جان چھڑا چکا ’’ ‘‘ ہوتا۔ آپ تو گولیاں چلاتے ہوئے بھی ہمارا خیال رکھ رہے تھے۔
لڑائی کے منظر یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں نظر آنے لگی۔ وہ شہر میں پلی بڑھی معصوم سی بچی تھی۔ جس نے اس سے پہلے ایسے مناظر صرف فلموں میں دیکھے ہوں گے۔ اب وہ خود ایک زندہ فلم کا حصہ بن چکی تھی۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے گھر واپسی کی تیاریاں کرنے کا کہا۔
میرا ارادہ تھا کہ آئمہ کو اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ کوئی بھائی اپنی بہن کو کرتا ہے۔ اس کے لیے مجھے دو چار دن درکا تھے۔ میں نے ان دو دنوں میں سالار خان کو اس بارے میں ہدایات دیں اور آئمہ کے لیے یہاں کے روایتی لباس اور زیورات خریدے۔ اسی طرح عثمان کے لیے بھی خریداری کی۔ تین روز بعد آئمہ کی روانگی تھی۔ جس دن اسے یہاں سے واپس جانا تھا اس دن کی عجیب سی کیفیت تھی۔ متعدد خدشات اور انجانہ خوف اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ اسی طرح وہ مہک بھابی سے کافی مانوس ہوچکی تھی۔ وقت روانگی وہ ان سے لپٹ کر رونے لگی۔ انہوں نے اسے تسلی دی اور گھر لوٹنے پر مبارکباد دی۔ میں ایک طرف کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔ آئمہ نے جس لینڈ کروزر میں سفر کرنا تھا اس میں وہ تمام
تحفے رکھ دیے گئے تھے جو کمالے جٹ نے اپنی بہن اور بھائی کے خریدے تھے۔ اسی طرھ اس کی گاڑی کے ساتھ جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی دو جیپیں بھی تھیں۔ ان میں سے ایک جیپ نے اس کی گاڑی کے آگے رہنا تھا جبکہ دوسری نے پیچھے آنا تھا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ سب بہت ضروری تھا۔ آئمہ مہک بھابی سے فارغ ہوئی تو سسکتی ہوئی میرے سینے سے آلگی۔ اس کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ ایک بھائی کے لیے بہن کے جذبات سمجھنے کے لیے الفاظ کی ضرورت ہوتی بھی نہیں ہے۔ بھائی بنا کہے سمجھ جاتے ہیں کہ بہن کیا کہہ رہی ہے۔ خدا نے بہن کے آنسوئوں میں وہ تاثیر رکھی ہے جو بھائی کو اس کے دل کے بھید بتا دیتی ہے۔ میں نے شفقت سے آئمہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا۔
‘‘ پگلی رونے کا وقت تو گزر گیا ہے۔ اب تو گھر جانے کا وقت ہے۔ پہنچ کر مجھے فون کردینا۔ ’’
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کہنے لگی۔

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 31

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: