Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 15

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 15

‘‘ بھائی آپ جب واپس آئو گے تو مجھ سے ملنے آئو گے نا۔ مجھے بھول تو نہیں جائو گے؟ ’’
میں نے اس کے سر پر ایک چپت لگاتے ہوئے ماحول کی اداسی ختم کرنے کی کوشش کی اور کہا۔
ہاں، میں ضرور آئوں گا اور تمہاری شادی میں تو مجھے ہر حال میں آنا ہی ہے۔ اس کے بعد ہم حویلی سے ’’ نکلنے لگے تو میں نے اسے کچھ نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔ اسے بتایا کہ اس کے اور عثمان کے لیے جو تحائف لیے تھے وہ گاڑی میں ہی ہیں اور اس کی حفاظت کے لیے مسلح محافظوں کی دو جیپیں بھی ساتھ سفر کریں گی۔ میں نے کچھ رقم بھی اس کے پرس میں رکھ دی تاکہ دوران سفر ضرورت پڑے تو اس کو تنگی نہ ہو۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے میری جانب دیکھا اور پھر خاموش ہوگئی۔ میں نے اسے آخر میں ایک بار پھر یاد دلایا کہ اب اسے عثمان کا خاص خیال رکھنا ہے۔ اس بے چارے کے ساتھ جو ظلم ہوا تھا وہ اس کی شخصیت مسخ کرسکتا تھا۔ اس لیے چند ماہ اس کے دوسر اسکول اور سوسائٹی پر خاص نظر رکھنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ غلط ہاتھوں میں نہ جاسکے۔ آئمہ میری باتیں غور سے سن رہی تھی اور سمجھ بھی رہی تھی۔ درمیان میں اس نے ایک دو سوال کر کے رہنمائی بھی لی۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دونوں بہن بھائی اس وقت ہاتھ ہلاتے رہے جب تک میں انہیں نظر آتا رہا۔ ان کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد میں واپس حویلی چلا آیا۔ ایک اہم فرض ادا کرنے کے بعد اطمینان کی جو لہر جسم میں سرایت کرتی ہے اب مجھے اس کیفیت کا سامنا تھا۔ میں اپنی ذات میں ایک بار پھر سرخرو ہو چکا تھا آئمہ کو اس کے گھر روانہ کرنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے سر سے کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا ہو۔ اس بچی کے ساتھ بہت ظلم ہوا تھا شاید درندوں کو احساس نہیں ہوتا کہ بیٹیوں کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ اس دکھ کا احساس صرف بیٹی والے کو ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن درندوں میں احساس ہوتا تو انہیں درندہ کون کہتا؟
آئمہ کو بھیجنے کے بعد میں نے بعض معاملات میں مہک بھابی سے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں حویلی میں گیا تو ان کے سامنے جا بیٹھا۔ وہ میرا انداز دیکھتے ہی سمجھ گئیں کہ میں کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس لیے خاموشی سے میری جانب دیکھنے لگیں۔ میں نے کچھ دیر غور کیا کہ کیا مجھے اس موقع پر یہ موضوع چھیڑنا چاہیے یا نہیں پھر اس فیصلے پرپہنچا کہ یہ باتیں کبھی نہ کبھی تو ہونی ہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور یہ ذکر چھیڑے اور پھر زبانوں کو لگام نہ دی جاسکے۔ ہمیں خود ان معاملات پر کسی حتمی نتیجے یا فیصلے تک پہنچ جانا چاہیے۔ اس لیے میں نے جی کڑا کر کے مہک بھابی سے کہا۔
بھابی! میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں یہ بہت ضروری ہے کہ بعض اہم معاملات پر ہماری کوئی ’’ ‘‘ متفقہ رائے قائم ہوجائے اور ہم کسی فیصلے تک پہنچ جائیں۔
مہک بھابی نے مجھے الجھن آمیز نظروں سے دیکھا اور کہنے لگیں۔
گل ریز خان تم پر بہت اعتماد کرتے تھے تم نے جو بات کرنی ہے یقینا اس میں کوئی بہتری کی نیت ہی ’’ ہوگی۔ اس لیے بے فکر ہو کر اپنی بات کرو۔
حوصلہ افزائی ملتے ہی میں نے کہا۔
بھابی آپ میرے لیے بہن جیسی ہی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم لوگوں کی زبانیں نہیں کھینچ سکتے۔ ’’ ہم اس حویلی میں اکھٹے رہتے ہیں۔ میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ جب تک میں موجود ہوں تب تک کوئی اس حویلی کی جانب میلی نظر سے نہیں سکتا۔ میں آپ کی حرمت کا محافظ ہوں لیکن بہرحال ہم فطرت اور سچائی سے منہ نہیں موڑ سکتے۔ آپ کی عمر اتنی زیادہ نہیں ہے اور پوری جوانی آپ کے سامنے پڑی ہے۔ ‘‘ اصولی طور پر آپ کو اپنی اگلی زندگی کا سوچنا چاہیے۔
مہک بھابی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے انہیں روکتے ہوئے کہا۔
پہلے میری بات مکمل ہونے دیں آپ کا رد عمل بھی فطری ہے لیکن بہرحال آپ کو کسی نہ کسی سے ’’ شادی کرنی ہی ہوگی۔ اس بارے میں آپ نے کیا سوچا ہے اور کے ذہن میں کیا ہے؟
یہ زندگی یوں بسر نہیں کی جاسکتی۔ میں آج مارا جائوں یا کل واپس چلا جائوں کچھ پتا نہیں ہے۔ آپ کا ’’ میکہ مضبوط سہی لیکن اب آپ کی تنہائی آپ کے لیے مسائل کا باعث بنے گی۔ میں اپنی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ گل ریز خان کی تمام جائیداد آپ کی اور میرے بھتیجے شمریز خان کی ہے۔ میں یہ سب آپ کو سونپ کر جائوں گا۔ میرے کمرے میں تمام کھاتے اور رجسٹر موجود ہیں جن میں ایک ایک پائی کا حساب ہے۔ میں نے آئمہ کو جو تحائف دیے ہیں وہ میری ذاتی رقم سے خریدے گئے ہیں۔ پھر بھی جاتے
وقت حساب کتاب میں آپ کو کوئی کمی محسوس ہوئی تو میں وہ پوری کردوں گا۔ بھابی یہ سب آپ کا ہے لیکن اس کے باوجود یہ دولت آپ کے لیے مشکلات کھڑی کردے آپ کو کسی کے ساتھ شادی کرنی ہی پڑے گی۔ شمریز خان کے اچھے مستقبل کے لیے بھی اور اپنی جانب اٹھتی نظروں اور سازشوں کے خاتمہ کے لیے بھی اگر آپ کے ذہن میں کوئی ہو تو میں خود اس سے بات کرنے پر تیار ہوں۔ میں ایک بھائی کی ‘‘ حیثیت سے یہ فرض نبھانا چاہتا ہوں۔
مہک بھابی نے میری بات خاموشی سے سنی لیکن آخری جملہ سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ کچھ دیر یونہی سسکتی رہیں۔ میں بے بسی کے عالم میں ان کی جانب دیکھ رہا تھا۔ مجھے اس رد عمل کی توقع تو تھی لیکن میں انہیں دکھ نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ انہوں نے جلد ہی اپنی اس کیفیت پر قابو پالیا اور کہنے لگیں۔
ہو سکتا ہے تمہاری باتیں درست ہوں مجھے تمہارے خلوص اور نیت پر شک نہیں اور تم میرے لیے ’’ بھائیوں سے بڑھ کر ہو لیکن میں صرف خان جی کی ہی ہوں۔ وہ اس دنیا میں نہیں لیکن شمریز خان ہمارے مضبوط رشتے کی علامت ہے۔ میں کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی تم مجھے اب دوبارہ ایسی بات کہو گے۔ خدا گواہ ہے مجھے دولت اور جائیداد سے سروکار نہیں ہے۔ تم یہ سب لے جانا چاہو تو بے شک لے جانا ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے جس سے میرا بیٹا کسی کا محتاج نہ رہے اور جوان ہو کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرسکے میں اسے لے کر کہیں دور چلی جائوں گی۔ جہاں نہ تو یہاں کی دشمنیاں اس کے پیچھے آسکیں اور نہ وہ ان روایات کے جال میں جکڑا جائے اور آتشیں ہتھیاروں ‘‘ کو ہی زندگی سمجھ لے۔ میں اسے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں۔
میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ مہک بھابی بولتی چلی جا رہی تھیں۔ آج وہ اپنے دل کی کیفیات عیاں کر رہی تھیں۔ گل ریز خان کی محبت اور اس کی موت نے انہیں اس سارے نظام سے متنفر کردیا تھا۔ حالانکہ وہ یہیں پیدا ہوئیں اور اب تک اسی نظام کا حصہ رہی تھیں۔ اب شوہر کے قتل کے بعد وہ اپنے بیٹے کو اس قبائلی روایات کے جال سے بچا کر کہیں دورے لے جانا چاہتی تھیں۔ یہاں رہتا تو ان کا بیٹا ایک طاقت ور سردار اور با اثر شخص بنتا لیکن وہ اسے سردار نہیں بنانا چاہتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ کسی اجنبی شہر میں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرلے اور سکون کی زندگی گزارے۔ شاید، طاقت، اختیار اور شہرت بھی کسی عذاب سے کم نہیںہوتی۔ وہ اس عثاب سے گزر چکی تھیں۔ اپنی تمام تر اچھائیوں اور نیک نامی کے باوجود ان کا سہاگ اسی طاقت کے نظام کی نذر ہوگیا تھا اور وہ عین عالم شباب میں بیوہ ہوچکی تھیں۔ اب انہیں اس نظام میں اپنے بیٹے کا بھی ایسا ہی انجام نظر آرہا تھا۔ مہک بھابی کی گفتگو جاری تھی۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ گل ریز خان کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتیں اور نہ اس کے بعد کسی اور کو یہ حق دے سکتی ہیں کہ وہ ان کے نام سے گلریز کا نام ہٹا کر اپنا نام لگا سکے۔ان کے اٹل
لہجے کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین سا ہو گیا کہ وہ زندگی بھر ہر طرح کی مشکلات تو برداشت کرتی رہیں گی لیکن اب دوبارہ شادی نہیں کریں گی۔ اب انہیں اس حوالے سے کوئی مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ زیادہ تنگ کرنے کا رد عمل انتہائی بھیانک بھی ہوسکتا تھا۔
میں نے مہک بھابی کو یقین دلایا کہ اب انہیں کوئی شادی پر مجبور نہیں کرے گا۔ میں ان کے ساتھ ہوں میں سمجھ سکتا تھا کہ گل ریز خان سے بچھڑنے کا غم کتنا بڑا ہے۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب ان کی شادی اسی وقت ہوگی جب وہ خود اس پر آمادہ ہوں۔ میں کسی کو زبردستی ان کی زندگی کا فیصلہ نہیں کرنے دوں گا۔ اسی طرح اگر گل ریز خان کا بیٹا یہاں محفوظ نہ ہوا تو میں ان دونوں کو پنجاب لے جائوں گا۔
میں اپنے محسن اور دوست کی بیوی اور بچے کو ساری عمر اپنے پاس رکھ سکتا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں میرے لیے بہن ہی تھیں۔ اب اپنی بہن کے لیی جو مناسب سمجھتا وہی فیصلہ کرنے کا حق رکھتا تھا۔ یہ بات میں نے مہک بھابی کو بھی صاف کہہ دی تھی اور انہوں نے ایک بہن کی طرح ہی مجھے یہ حق سونپ دیا تھا۔ البتہ یہ واضح کردیا تھا کہ ان کی شادی کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا۔ میں نے ان کی یہ بات تسلیم کرلی۔
گل ریز خان کے تمام معاملات اور لین دین اب ایک نظام کے تحت آچکا تھا۔ یہ سب کھاتو اور رجسٹروں میں لکھا جاتا تھا۔ ایک منیجر کم منشی کی یہی ذمہ داری تھی کہ وہ تمام حساب کتاب نوٹ کرتا جائے اور اسے متعلقہ کھاتے میں لکھتا جائے۔ شام کو وہ اپنا ریکارڈ مجھے دکھاتا تھا اور میں تسلی کرنے کے بعد انہیں اپنے پاس موجود کھاتوں میں بھی درج کرلیتا تھا۔ اس طرح ہر طرح کی آمدن اور خرچ کا ریکارڈ دو جگہ پر لکھا جاتا تھا کسی قسم کے غبن یا غلطی کی صورت میں دونوں رجسٹروں کو ملا کر اصل صورتحال تک پہنچا جا سکتا تھا۔
یہ حساب کتاب تاریخ کے مطابق لکھے جاتے تھے۔ اس لیے کسی بھی دن کی آمدن اور اخراجات کو الگ سے بھی تلاش کیا جاسکتا تھا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین سا ہوتا چلا گیا کہ اب گل ریز خان کی جائیداد اور کاروبار میں غبن ہونا اتنا آسان نہیں تھا اور مہک بھابی یا شمریز خان بھی چند ہی گھنٹوں میں ان کھاتوں کو سمجھنے کے اہل ہوسکتے تھے اور اس کی مدد سے چند ہی روز میں سارے معاملات سمجھ سکتے تھے۔
شروع شروع میں یہ سارا نظام بناتے ہوئے مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گل ریز خان کا سارا نظام ہی بکھرا پڑا تھا جسے سمیٹنا آسان کام نہ تھا مجھے اس دوران کھانے پینے کا بھی ہوش نہ تھا۔ مجھ پر ایک جنون کی سی کیفیت طاری تھی۔ سچ کہوں تو اسی جنون نے مجھ سے یہ کام کروالیا تھا۔ جنون ایک
ایسی طاقت ہے جسے چیلنج کرنے والے کو ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاید یہی انسان کی مخفی قوتوں کا نام ہے۔ عالم جنون میں سرزد ہونے والی غلطی بھی معجزہ بن جاتی ہے۔ اس سے جانے کتنوں کا بھلا ہوجاتا ہے اور عالم جنون میں منہ سے نکلے الفاظ بھی عرش پر جا کر سر پٹخنا شروع کردیتے ہیں۔
میں جنون کی اس منزل پر نہیں تھا لیکن جنون کی ابتدائی منزل بھی کہاں کسی سے کم ہوتی ہے اس جنون نے ہی تو کمالے جٹ سے ایسے کھاتے تیار کروا لیے تھے جس کے لیے اسی فیلڈ میں اعل ی ڈگری ہولڈ ہونا شرط سمجھی جاتی ہے۔ میں اس کام میں ماہر نہیں تھا لیکن حفاظت اور امانت کا احساس مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ اب یہ کھاتے بن گئے تو مجھے اطمینان ہوا مجھ پر ڈالی گئی ایک بڑی ذمہ داری پوری ہو رہی تھی۔
میں نے آہستہ آہستہ مہک بھابی کو ان کھاتوں کا بنیادی ڈھانچہ سمجھانا شروع کردیا۔ روازانہ، ہفتہ وار، شش ماہی اور سالانہ بنیادوں پر آمدن اور اخراجات معلوم کرنے کا طریقہ کار بھی ، ماہانہ، سہہ ماہی سمجھا دیا۔ آہستہ آہستہ انہیں یہ حساب کتاب سمجھ آنے لگا اور وہ اسے اسی ڈھانچے پر مزید اندراج کے قابل ہوگئیں۔ اب یہ کہا جاسکتا تھا کہ گل ریز خان کی بیوہ کو نا صرف تمام معاملات سے آگہی ہوچکی تھی بلکہ وہ انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر احسن انداز میں چلانے کی اہل بھی ہوچکی تھیں۔
اب میں کسی بھی وقت مارا جاتا تو بھی میرے محسن کی بیوہ اور بیٹے سے کوئی نہ تو جھوٹ بول کر ان کا حق چھین سکتا تھا اور نہ وہ اپنے معاملات چلانے کے لیے کسی منشی یا ملازم کی محتاج تھیں۔ یہ میری بہت بڑی کامیابی تھی۔ اب دوبارہ وہی کمالا جٹ انگڑائی لے کر بیدار ہو رہا تھا جسے دشمن کا خون بہا کر سکون ملتا تھا۔ جس کی زندگی کا مقصد صرف اپنے دشمنون سے انتقام لینا تھا اور جسے اپنی زندگی کی اتنی پرواہ تھی جتنا کہ کسی شخص کو پائوں تلے آنے والی چیونٹی کی ہوتی ہے۔
میں قبائلی علاقہ میں آیا تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ یہاں جان ہتھیلی پر ہی رکھنی ہے۔ ویسے ہتھیار اٹھانے سے لے کر اب تک میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ لڑائی میں زندہ وہی رہتا ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ لیتا ہے۔ جو لوگ جان بچانے کی فکر میں رہتے ہیں وہی سب سے پہلے مارے جاتے ہیں۔ یہ جنگ کی تلخ حقیقت ہے یہاں جان بچانے والوں کی جان پہلے جاتی ہے جو مرنے آتے ہیں وہ فتح کا تاج سر پر سجائے لوٹ جاتے ہیں۔ جنگ بہادروں کی قدر کرتی ہے اور بزدلوں سے نفرت کرتی ہے۔
گل ریز خان کے مرنے کے بعد میں بزدل ہوگیا۔ جرگہ نے مجھے ایسی ذمہ داری سونپ دی تھی جو میرے قدموں کی زنجیر بن گئی تھی میں اپنے محسن کے اہل و عیال کا محافظ بن گیا تھا۔ محافظ جتنے بھی جری ہوں آگے بڑھ کر نہیں لڑتے۔ انہیں ایک دائرے تک محدود رہنا ہوتا ہے۔ وہ لڑاکے نہیں بلکہ صرف
محافظ ہوتے ہیں۔ ان کا کام نہ جنگ جیتنا ہوتا ہے اور نہ آگے بڑھ کر دشمن کا سر قلم کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ انہیں صرف حفاظ کرنی ہوتی ہے۔ اسی لیے حفاظت کرنے والے کئی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں۔
میں اس جنگ میں لڑاکے کے طور پر اترا تھا لیکن جرگہ اور گل ریز خان کی وصیت نے مجھے لڑاکے سے محافظ میں تبدیل کردیا تھا اب کمالا جٹ دوبارہ محافظ سے لڑاکا بن رہا تھا۔ اب گل ریز خان کی بیوہ نا صرف کاروباری معاملاتدیکھ سکتی تھی بلکہ اپنی حفاظت بھی کرسکتی تھی۔ وہ درجنوں محافظ رکھ سکتی تھی اور اسے معلوم ہوسکتا تھا کہ ان محافظوں کی تنخواہ کس مد میں آنے والی رقم سے ادا کی جاسکتی تھی۔ اب میں آزاد ہوچکا تھا۔ اب مارا بھی جاتا تو غم نہ تھا۔
اب مجھے اپنا انتقام لینا تھا۔ اب گل ریز خان کی روح میری جانب دیکھ رہی تھی۔ یہ فیصلے کی گھڑی تھی۔ مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ میں یہ دشمنی ختم کردوں یا پھر بھیانک انتقام لے کر دنیا کو ایک نئی مثال دوں۔ مین نے جلد ہی فیصلہ کرلیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ پھر میں نے زیادہ دیر نہیں لگائی اور سالار خان کو بلا لیا۔ اس نے آتے ہی میری جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور خاموشی سے کھڑا ہوگیا۔ یہ اس کی عادت تھی کہ میرے بلانے پر خود سے سوال نہیں کرتا تھا بلکہ سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ کر خاموشی سے کھڑا ہوجاتا تھا۔ اس کی یہ ادا مجھے ہی نہیں گلریز کان کو بھی بہت پسند تھی۔ میں نے سالار خان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ بیٹھ گیا تو میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
‘‘ سالار کان کیا تمہیں یاد ہے کہ گل ریز خان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ’’
سالار خان نے حیرت سے میری جانب دیکھا اور کہا۔
‘‘ یہ بات کون بھول سکتا ہے۔ ’’
کیا تمہیں یہ بھی یاد ہے کہ اسپتال میں گل ریز خان کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر میں نے تم سے کہا ’’ تھا کہ میں گل ریز خان کے قتل کا بدلہ لوں گا۔ میں نے اگلا سوال کیا تو سالار خان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تصدیق کردی۔
اس کی تصدیق کے بعد میں نے کہا۔
سالار خان تب تم نے گل ریز خان کا انتقام لینے کی حامی بھری تھی۔ آج میں تمہیں اس وعدے سے آزاد ’’ ‘‘ کرتا ہوں۔ تم چاہو تو ایک طرف ہوجائو۔ میں تمہیں اس انتقام کے لیے مجبور نہیں کروں گا۔
سالار خان میری بات سن کر جیسے تڑپ اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے لپکنے لگے وہ بولا تو اس کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
ملک صاحب اپنے خان کا بدلہ لینے سے اگر یہ سالار خان ایک قدم بھی پیچھے ہٹا تو اپنے باپ کی اولاد ’’ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ ‘‘ نہیں ہوگا۔
اس کا لہجہ مجھ پر واضح کرگیا کہ وہ اس جنگ میں میرے ساتھ کھڑا ہوگا۔ میں نے حتمی لہجے میں اسے کہا۔
سالار تو پھر سن لو، میں گل ریز خان کا انتقام لینے لگا ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کے قتل کے ’’ پیچھے کس کا ہاتھ تھا اور کون اس سازش میں ملوث تھا میری آنکھیں شعلے برسانے لگیں اور سالار خان مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
…٭٭٭…
لمحے کے ہزارہویں حصے میں میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ میں پکڑا جا چکا ہوں۔ ہیرا منڈی سے ف رار ناکام ہو چکا تھا یہاں میرا کوئی ایسا واقف نہ تھا جو یوں روکنے کی ہمت کرتا۔ میں لاہور رہا تھا لیکن اس بازار سے میرا کبھی بھی کوئی تعلق نہ رہا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میرے دوستوں میں سے کوئی اس بازار کی جانب نہیں آتا تھا۔ ہماری اور ہی مصروفیات ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے اس قسم کی خرافات سے بچے رہتے تھے۔ گائوں کا کوئی شخص ہوتا یا کوئی واقف ہوتا تو وہ کبھی بھی یوں میرے کندھے پر ہاتھ نہ رکھتا۔
یہ بازار شہر کا عام بازار نہیں تھا جہاں ہمیں کوئی واقف کار مل جائے تو ہم آواز دے کر روک لیتے ہیں، بھاگ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں یہ بازار حسن تھا۔ خرید و فروخت یہاں بھی ہوتی تھی نئے آنے والوں کی جیبیںاس بازار میں بھی کاٹی جاتی تھیں۔ اچھا مال دکھا کر خراب مال دینا اس بازار کی بھی روایت تھی دھوکہ اور فریب بھی اس بازار میں ہوتا تھا۔ قسمیں کھا کر اپنے مال کی تعریف اس بازار میں بھی کی جاتی تھی۔ شہر کے دیگر بازاروں کی روایات اور عادات یہاں بھی نظر آتی تھیں۔
یہاں فرق صرف اتنا ہے کہ بازاروں میں بے جان اشیا کی خرید و فروخت ہوتی ہے وہاں بکنے والی جنس احساسات سے عاری ہوتی ہے۔ اس بازار میں بھی جنس ہی بکتی ہے۔ یہاں زندہ جسموں میں مردہ روحیں بھی بیچی جاتی ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ عام بازار میں اشیا بکتی ہیں جبکہ اس با زار میں زندہ انسان بیچے جاتے ہیں۔
میرے خیال میں بیچنے کا لفظ درست نہی یہ واحد بازار ہے جہاں کچھ نہیں بکتا۔ یہاں صرف چند گھنٹوں کے لیے کرایہ پر اشیا دی جاتی ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس بازار میں اشیا سے مراد زندہ اور جیتے جاگتے لوگ ہیں۔ انسانوں اور جسموں کا سودا کرنے والے اس بازار کے باسی انسانوں کو غلام بنانے کا فن جانتے ہیں۔ کرتے دیکھا تھا۔ ‘‘سلام’’ میں نے چند ہی دنوں میں یہاں بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کو
یہ وہ بازار ہے جہاں شناسا ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ چھپا لیا کرتے ہیں۔ یہاں نظر آنا بھی بدنامی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی شناسا مجھے یہاں دیکھ کر فرط محبت میں میری جانب چلا آتا۔ مجھے روکنے والے کا تعلق یقینا شبنم بائی بائی یقینا بڑے بڑے سرمایہ کاروں سے تعلقات رکھتی تھی اس لیے یہ تو ممکن تھا کہ وہ اپنے کوٹھے میں چابی خفیہ کیمروں کا انتظام کروا کر رکھتی۔ اس سے ایک طرف تو اس کے کوٹھے میں ہونے والی سرگرمیوں کا علم ہوتا رہے اور دوسری جانب وہ اپنے ہاں آنے والوں کو بھی بعد میں اپنے مقاصد کے لیے لائن پر لا سکتی تھی۔
عین ممکن تھا جب میں چھپ چھپ کر اس کوٹھے سے فرار ہو رہا تھا تو وہاں موجود تمام طوائفیں میری اس حرکت پر مسکرا رہی ہوں کہ کمالا جٹ کیمروں کی موجودگی میں اتنا پاگل ہوگیا ہے کہ چھپ کر یہاں سے فرار ہو رہا ہے اور سبھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال یہ کام تو کرنا ہی تھا۔ مجھے یہاں سے ہر صورت فرار ہونا تھا لیکن اب میں پر کھولنے سے پہلے ہی دوبارہ پنجرے میں پہنچ گیا تھا۔
میری اڑان شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ کسی نے بازو تھام کر زمین پر کھینچ لیا تھا۔ میں نے مڑ کر اس شخص کو دیکھنا چاہا جس نے میری منزل کھوٹی کردی۔ اسے دیکھ کر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ اس کا تعلق شبنم بائی کے کوٹھے سے ضرور تھا لیکن بہرحال وہ میرے لیے برا نہیں سوچ سکتا تھا میں نے اسے گلے لگا لیا۔
وہ شاہد ملتانی تھا وہی شاہد ملتانی جو مجھے شبنم بائی کے کوٹھے پر چھوڑ گیا تھا اور میرے علاج معالجہ کے لیے رقم خرچ کر رہا تھا۔ اس نے میری زندگی بچائی تھی۔ اس لحاظ سے وہ میرا محسن تھا۔ میں بے ساختہ اس سے لپٹ گیا۔ اس نے بھی مجھے گلے سے لگا لیا۔ ہم الگ ہوئے تو میرے ہاتھ میں دبے لفافے کو دیکھ کر اس کی جانب اشارہ کیا اور کہنے لگا۔
‘‘ یہ کیا چوروں کی طرح بھاگ رہے تھے؟ کسی نے کچھ کہا ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ ’’
میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے لفافے کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے شرمندگی کا احساس ہوا۔ مجھے کم از کم بائی کو یہ تو بتا دینا چاہیے تھا کہ میں یہ جگہ چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ جانے والوں کو بھلا کب کوئی روک پایا ہے۔ بائی کمالے جٹ کو روک نہیں سکتی تھی البتہ یہ ضرور تھا کہ وہاں جھگڑا ہوجاتا لیکن یوں چوری چھپے نکل آنا بھی تو اخلاقی طور درست نہیں تھا۔ مجھے خود ہی ہنسی آگئی۔ میں ہیرا منڈی میں کھڑا اخلاقیات پر سوچ رہا تھا۔
شاہد ملتانی غور سے میری جانب دیکھ رہا تھا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
یوں لگتا ہے جیسے خود سے باتیں کرنا سیکھ گئے ہو۔آئو کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ ’’ تھاما اور ہم وہیں پاس ہی لسی والی دکان پر جا بیٹھے شاہد ملتانی نے دو گلاس لسی کا آرڈر دے دیا۔ اس
دکان کی پیڑے والی لسی بہت مشہور ہے۔ عام شہری پیڑے والی لسی کا پودا گلاس شاہد ہی پی سکے۔ دیہاتی لوگ البتہ شوق سے پیتے ہیں یہ ایک گلاس لسی عام شخص کے لیے صبح کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے برابر ہے۔
راشد ملتانی نے مجھے جٹا والا میں ہونے والے پولیس مقابلے کی رو داد سنانی شروع کردی۔ اس کے مطابق پولیس بس دکھاوے کے لیے تھی۔ اصل مقابلہ اشتہاریوں سے اشتہاریوں سے ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ مقابلے پر آنے والے بھی بدمعاش ہی تھے اور انہیں بیگھے مل کر سرپرستی حاصل تھی۔ اس لڑائی کے اگلے دن ایک بڑے اشتہاری کی موت کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ شاہد ملتانی نے یہ خبر پڑھی جس کے مطابق وہ اشتہاری پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ یہ مقابلہ اسی تھانہ کی حدود میں ہوا تھا۔ جہاں اس دن ہم پولیس اور بیگھے مل کے غنڈوں کے ساتھ لڑ رہے تھے۔
شاہد ملتانی کو پورا یقین تھا کہ وہ اشتہاری ہمارے ساتھ لڑتے ہوئے ہی مارا گیا تھا۔ پولیس نے اس کی لاش ا پنی ترقی کے لیے استعمال کرلی تھی۔ وہ مجھے بتا رہا تھا کہ اس نے اس کے بعد اس علاقہ میں اپنے ذرائع سے معلومات لی تھیں۔ وہ اشتہاری نہ تو گرفتار ہوا تھا اور نہ ہی اس دن پولیس کی ہمارے سوا کسی سے جھڑپ ہوئی تھی۔
اس اشتہاری کا شاہد ملتانی سے بھی لین دین رہا تھا لیکن وہ شاہد ملتانی کے گروپ میں نہیں تھا اور نہ اس دن وہ ہمارے ساتھ تھا۔ اس کا مطلب صاف تھا کہ وہ بیگھے مل والوں کی طرف سے لڑنے آیا تھا۔ شاہد ملتانی کا کہنا تھا کہ وہ جس پایہ کا اشتہاری تھا اس حساب سے اس کی موت بیگھے مل کا بہت بڑا نقصان ہے۔ وہ صرف لڑنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس نے بہت سے معاملات سنبھالے ہوئے تھے اور اکثر جگہ پر اس کا صرف نام ہی چلتا تھا۔
اگر وہ بیگھے مل کے لیے کام کرتا تھا تو اس کا مطلب ہے بیگھے مل کے غیر قانونی دھندوں میں سے آدھے ٹھپ ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سامنے کوئی سر اٹھانے کی ہ ت ن یں کرسکتے تھے لیکن ٔ جرا اس کے مرنے کے بعد بہت سے لوگ سر اٹھائیں گے اور بہت سے معاملات چوپٹ ہوجائیں گے۔
جرائم پیشہ افراد کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ان کے غیر قانونی کاروبار اعتبار کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں۔ یہاں نہ تو اسٹام پیپر لکھے جاتے ہیں اور نہ ہی معاہدوں پر دستخط کیے جاتے ہیں۔ ان کے طے شدہ خاموش معاہدے ہوتے ہیں جن کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ شاہد ملتانی کے بقول وہ اس اشتہاری کی وجہ سے اس پٹی میں پائوں نہیں پھیلا رہا تھا جہاں جٹا والا بھی آتا تھا۔ اس علاقے کے دو نمبر دھندے اسی اشتہاری کی سرپرستی میں ہوتے تھے۔
اس وقت شاہد ملتانی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ بیگھے مل کے لیے کام کر رہا ہے۔ اب اسکے مرنے کے بعد ملتانی کا راستا صاف تھا اور اس نے وہاں اپنے بندوں کو پھیلا دیا تھا جو وہاں پائوں جما رہے تھے۔ بیگھے مل کے غنڈوں سے لڑائی کے دوران شاہد ملتانی کا بھی نقصان ہوا تھا۔اس کے بھی اہم ساتھی مارے گئے تھے۔ تہہ خانہ سے باہر نکلتے وقت ہمیں یہی پتا تھا کہ پولیس نے گھیرائو کرلیا ہے لیکن باہر جدید ہتھیاروں سے ہونے والی لڑائی نے یہ واضح کردیا تھا کہ پولیس کا بس نام یا ٹھپہ استعمال ہوا ہے۔ اصل لڑائی کسی اور سے تھی اور وہ بیگھے مل تھا۔
اس جھڑپ کے بعد شاہد ملتانی نے بیگھے مل کو اپنے ذاتی دشمنوں میں شامل کرلیا تھا۔ اپنے خاص اشتہاری کی موت سے بیگھے مل کر جو وقتی جھٹکا لگا اس سے شاہد ملتانی فائدہ اٹھا رہا تھا۔ وہ اس علاقے کے بدمعاشوں میں اپنی دھاک بٹھا رہا تھا۔ جرائم کی دنیا میں اس کے نام کا ڈنکا بچتا تھا اور چھوٹے موٹے بدمعاش اس سے انکار نہیں کرسکتے تھے کہ اگر شاہد ملتانی ان سے دھندے کی بات کرے اور وہاں اس کا ٹکڑا کا کوئی موجود نہ ہو تو پھر شاہد کو نہ کرنا ممکن نہیں۔ اس سے دشمنی مول لے کر کون اپنی زندگی کے دن کم کرنا پسند کرتا۔
اب بیگھے مل کی بجائے اس علاقہ کے دو نمبر دھندوں میں شاہد ملتانی کے لوگ قدم جماتے جا رہے تھے۔ ہیروئن، اسلحہ، چرس، شراب غرض سبھی کاموں میں بیگھے مل کی ساکھ خراب ہوتی جا رہی تھی اور شاہد ملتانی کے نام کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ میرے لیے یہ خوشی کی خبر تھھی۔ بیگھے مل کو جتنا بھی نقصان ہوتا کم تھا۔ میں تصور میں اسے اپنے بال نوچتے دیکھ رہا تھا۔
اس کی بدمعاشی اور سر اٹھانے کی اصل وجہ یہی تھی کہ اس نے اشتہاری مجرم پال لیے تھے اور غیر جاگیر اور دیگر کام صرف دکھاوا تھا۔ اب اس کا اصل ، قانونی دھندوں میں ملوث ہوچکا تھا۔ زمینداری کاروبار یہی تھا جس پر شاہد ملتانی تیزی سے اپنا قبضہ جماتا جا رہا تھا۔ اگر بیگھے مل کا یہ کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوجاتا تو وہ کہیں کا نہ دہتا۔
گائوں میں اب وہ ناقابل برداشت ہوچکا تھا۔ اس کی اس غیر قانونی طاقت اور پولیس کی سرپرستی ہی اس کی اصل طاقت تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ خوفزدہ رہتے تھے اور کوئی اس کے سامنے سر نہیں اٹھاتا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ مجھے امید نہیں تھی کہ شاہد ملتانی اس پر عمل کرے گا لیکن میں ایک آخری کوشش ضرورکرنا چاہتا تھا۔ میں نے شاہد ملتانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
‘‘ اگر میں کسی خواہش کا اظہار کروںتو کیا میری مدد کرو گے؟ ’’
اس نے عام سے انداز میں کہا۔ ‘‘ ہاں کہوں کیا بات ہے۔ ’’
میں نے چند لمحے مزید اپنے خیال پر غور کیا لیکن اس کی حوصلہ افزا نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ملتانی میری خواہش ہے کہ جٹا والا اور اس کے ارد گرد جہاں جہاں غیر قانونی دھند ہو اور بیگھے مل کو ’’ نقصان ہو وہاں یہ دھندا میرے نام سے کیا جائے۔ بیگھے مل کو ہر نقصان پر میرا نام سنائی دے۔ مجھے اس دھندے سے کچھ لینا دینا نہیں نہ میں اس میں کسی بھی طرح کا حصہ دار ہوں لیکن پھر بھی یہ ایک درخواست ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس دھندے میں نام ہی سب کچھ ہے تمہارا نام چلے گا تو اس علاقہ میں تمہاری مزید دھاک بیٹھ جائے گی۔ اس لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا لیکن یہ سب سوچنے کے باوجود ‘‘ میں نے فیصلہ کیا کہ میں تم سے یہ درخواست ضرور کروں گا۔ اسے ماننا یا نہ ماننا تمہارا اختیار ہے۔
میرے خاموش ہوتے ہی بیگھے مل مسکرایا اور کہنے لگا۔
کمالے میں نے تمہیں اپنا بھائی کہا ہے تو میں اسے نبھانا بھی جانتا ہوں۔ اس دھندے میں میرا نام کہ آیا ’’ تو کوئی اور اس خالی جگہ کو کور کرنے کے لیے چلا آئے گا۔ میرا نام ہی بہت سے اشتہاریوں کو یہاں ٹانگ اڑانے سے روکے رکھے گا۔
اس نے میری جانب یوں دیکھا جیسے یہ تسلی چاہتا ہوں کہ میں اس کی بات سمجھ رہا ہوں یا نہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو کہنے لگا۔
اس حقیقت کے باوجود میں تمہاری خواہش رد نہیں کرسکتا۔ یہ انتقام کا جذبہ ہی تمہیں طاقتور بنائے ’’ گا۔ میں یہ انتظام کردیتا ہوں کہ یہ بات سب کو معلوم ہوجائے کہ اس دھندے کے پیچھے شاہد ملتانی ہی ہے لیکن اس پٹی میں شاہد ملتانی کا کام کمالا جٹ سنبھال رہا ہے۔ تمہیں اپنا پارٹنر ظاہر کردیتا ہوں اور آج ‘‘ سے یہ علاقہ تمہارا ہے تم یہاں میرے دھندے کو چلا رہے ہو۔
یہاں ہر کام کی ذمہ داری تم پر ڈالی جائے گی اور جب جب بیگھے مل کو نقصان ہوگا تب تک تمہارا نام ’’ ہی سامنے آئے گا۔ البتہ تمہارے پیچھے میرا نام ہوگا جس کی وجہ سے باقی بدمعاش تمہیں نہیں ‘‘ چھیڑیں گے۔ میرے لوگ اپنا کام کرتے ہیں گے۔
شاہد ملتانی دم لینے کو رکا تو میں نے حیرت سے پوچھا۔
کیا تم واقعی یہ سارا سیٹ اپ میرے نام سے چلائو گے؟ مجھے تو شاید کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔ ایک ’’ ‘‘ دم سے ایک نیا نام اس قدر بڑے علاقے کو چلانے لگے تو کیا مشکلات نہیں آئین گی۔
شاہد ملتانی نے میری جانب یوں دیکھا جیسے استاد کسی نادان بچے کو دیکھتا ہے پھر کہنے لگا۔
اس دھندے میں میرا نام ہی کافی ہے۔ میں دس سال کے بچے کو کسی سیٹ اپ کا ہیڈ بنا دوں تو یہ ’’ چھوٹے موٹے بدمعاش اسے بھی استاد مان لیں گے۔ ویسے بھی تمہارا صرف نام آئے گا۔ کام کی نگرانی
میں خود کر رہا ہوں گا اور میرے لوگ ہی کام کریں گے۔ اس لیے تمہیں اس بارے میں فکر مند ہونے کی ‘‘ ضرورت نہیں ہے۔
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
‘‘ ہاں اب سمجھ گیا اگر ایسے ہوگا تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ’’
شاہد ملتانی کہنے لگا۔
لالے مسائلہ تو یہیں سے شروع ہوگا۔ تمہارا نام چلے گا تو مقدمات بھی تمہارے نام پر درج ہوں گے۔ ’’ پولیس کے پورے محکمہ میں تمہارے نام کی گونج سنائی دے گی۔ وہ سور پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈیں گے اور اگر تم ان کے ہاتھ لگ گئے تو تم سے کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ تم ان دھندوں میں ملوث تھے یا نہیں تھے۔ وہ تمہیں سیدھا اندر کردیں گے یا پھر کسی جعلی پولیس مقابلے میں مار دیں گے۔ اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے بیگھے مل کو تو تمہارے زخم لگتے رہیں گے لیکن جب تمہاری پکڑ آئے گی تو تم ہزار بار واویلا کرو کوئی تمہاری بے گنائی کا یقین نہیں کرے گا۔ عین ممکن ہے تمہاری سر کی قیمت رکھ دی جائے اور تم اشتہاری قرار پا جائو۔ یہاں کئی اشتہاری ایسے ہیں جنہوں نے اشتہاری ہونے سے پہلے چری ‘‘ کا بچہ بھی نہیں مارا تھا۔
شاہد ملتانی کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ وہ سچ کہہ رہا تھا میں دنیا سے کٹ کر اشتہاری اور مجرموں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہونے والا تھا۔ دماغ اس کی بات مان رہا تھا اور پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے رہا تھا۔ دوسری جانب دل کا کہنا تھا کہ دماغ کی نہ مانوں، اگر پولیس مجھے اشتہاری قرار دلوا دے گی سر پر انعام رکھ دیا جائے گا میرے خیال جھوٹے پرچے کاٹے جائیں گے تو سوال یہ ہے کہ اب کونسا ایسا نہیں ہے میرے خلاف جانے کتنے جھوٹے اور کتنے سنگین مقدمات درج ہوچکے تھے پورے ضلع کی پولیس پاگلوں کی طرح مجھے ڈھونڈ رہی تھی۔ میں اب بھی قانون کی نظر میں خطرناک مجرم ہی تھا۔
میں گرفتار ہوتا تو شاید بیگھے مل کے پالتو کتے سرکاری فرض بھول کر مجھے گولی مار دیتے اگر وہ نہ مارتے تو بھی مجھے گرفتار کرنے والے اس ڈر سے میرا جعلی پولیس مقابلہ ک ردیتے کہ موجودہ نظام میں بدمعاشوں کے لیے رہائی حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اگر مجھ جیسا خطرناک مجرم رہا ہوجائے تو اسے گرفتار کرنے والے ایماندار پولیس اہلکار پر زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔ اگر میں نے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں یہ سزائیں پانی ہی ہیں تو پھر ایک جرم کیا اور ہزار جرم کیا؟
شاہد ملتانی خاموشی سے میری بدلتی ہوئی کیفیت کا جائزہ لے رہا تھا۔ بالآخر میں نے حتمی فیصلہ کیا اور مضبوط لہجے میں کہا۔
لوگ مجھے مجرم بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور یہاں کے محافظ ‘‘عزت دار’’ ملتانی! اگر اس معاشرے کے ’’ مجھے خود شکاری کتوں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہیں تو پھر ایک جرم ہو یا ہزار جرم ہوں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میں تیار ہوں۔ اب مجھے بیگھے مل کے تڑپنے کا منطر دیکھنا ہے۔ میں چاہتا ہوں اسے ہر زخم لگنے پر میرا نام سنائی دی۔ وہ مجھے پاگل کتوں کی طرح ڈھونڈے اور میری طرف سے اسے چرکے لگتے رہیں۔ ‘‘ ملتانی میں اس اندھے کنویں میں کودنے کو تیار ہوں۔
شاہد ملتانی سر ہلاتے ہوئے کہا۔
چلو یہ مسئلہ تو حل ہوگیا آج سے اس ساری پٹی میں تم میرے دھندے کی نگرانی کرو گے۔ باقی فیصلہ ’’ تم خود کرلینا۔ تمہیں صرف اپنا نام چاہیے تو بھی ٹھیک ہے اگر تم اس دھندے میں آنا چاہتے ہو تو یہ بھی تمہارے لیے بہت اچھا اسٹارٹ ہے۔ تمہارا پولیس ریکارڈ چند ہی دنوں میں بہت اوپر چلا گیا ہے۔ اب تک جتنی بھی جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں میرا نام کہیں نہیں آیا۔ ہر جگہ تمہارا ہی نام لیا گیا ہے کچھ بیگھے مل نے بھی تمہیں پھنسانے کے لیے باتیں پھیلا دی ہیں۔ اس کا یہ پراپیگنڈا بھی تمہارے کام آئے گا۔ تم دھنا شروع کرتے وقت ہی بنے بنائے سیٹ اپ کے نگراں کے طور پر سامنے آئو گے اور میں تمہاری پشت پر ‘‘ کھڑا ہوں گا۔ تم براہ راست ادھر کے سبھی معاملات سنبھال لو۔
میں نے کہا۔
میں نے میں نے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں سوچا عین ممکن ہے یہ نہ ہوسکے اور میں براہ راست ’’ جرائم کی دنیا میں نہ آئوںلیکن اگر مجھے لگا کہ یہ سب ناگزیر ہے تو میں تمہاری بات مان لوں گا۔ میں ‘‘ اس دھندے میں آئوں یا نہ آئوں لیکن تمہیں یہ یقین دلاتا ہوں کہ میں تمہیں کبھی دھوکا نہیں دوں گا۔
شاہد ملتانی نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر گرمجوشی سے دباتے ہوئے کہا۔
کمالے میں آج اگر زندہ ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں بہت بہادر ہوں۔ ہماری دنیا میں بڑے بڑے ’’ تیس مار خان لمحوں میں مار دیے جاتے ہیں۔ کوئی ان کا جنازہ پڑھنے بھی نہیں آتا۔ پولیس نے مارے تو دشمن مار دیتے ہیں۔ دشمن نہ مارے تو سجن مار دیتے ہیں شاہد ملتانی کو مار کر اس کی جگہ لینے والا چاہے اتنا بہادر نہ ہو لیکن شاہد ملتانی کی جگہ آنے کے بعد سب اسے اتنا ہی احترام دیں گے جتنا کہ مجھے دیتے ہیں۔ اس کا بھی اتنا ہی خوف ہوگا جتنا میرا ہے۔ وہ بھی میری طرح سارے دھندے سنبھال لے گا۔ اس دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ سمجھ لو یہاں بھی ایک ان دیکھی کرسی ہوتی ہے۔ شاہد ملتانی سے نہ تو کوئی ڈرتا ہے اور نہ ہی کوئی شاہد ملتانی کو سلام کرنے آتا ہے۔ یہ سب کرسی سے ڈرتے ہیں اور اسی کی پوجا کرتے ہیں۔ جو دنیا تم چھوڑ کر آئے ہو وہاں اس طاقت کو کرسی کہتے ہیں یہاں ہماری زبان میں ‘‘ اسے ڈنڈا کہتے ہیں۔ یہ ڈنڈا جس کے ہاتھ میں ہو اصل طاقت اس کی ہوتی ہے۔
شاہد ملتانی باقاعدہ لیکچر دینے لگا تھا لیکن اس کا ایک ایک لفظ دل پر اثر کر رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس سے سچا اس شہر میں کوئی نہ ہو۔ تلخ ہی سہی لیکن سچ بہرحال اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہم اس سے وقتی طور پر جان چھڑالیں تو بھی سچ ہماری جان نہیں چھوڑتا۔ وہ کہیں نہ کہیں ذہن کے کسی گوشے سے چپکا رہتا ہے اور کسی نہ کسی لمحے سر اٹھا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ شاہد ملتانی ٹاپ تھری اشتہاریوں میں شمار ہوتا تھا لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ حقائق کیا ہیں۔ وہ طاقت کے نشے میں حقائق سے منہ موڑ رہا تھا بلکہ مجھے بھی باور کرا رہا تھا کہ اصل صورتحال کیا ہے۔
شاہد ملتانی کی گفتگو جاری تھی وہ کہنے لگا۔
دلیری یا بے خوفی کی وجہ سے زندہ نہیں ہوں۔ اس سطح تک پہنچنے کے بعد ان کی ، میں اپنی بہادری ’’ اہمیت اتنی نہیں رہتی۔ میرے پاس ڈاکوئوں کا پورا لشکر ہے، جدید ہتھیار ہیں، کئی سیاست دان میری سرپرستی کے محتاج ہیں۔ ان کے کئی کام میری وجہ سے ہوتے ہیں اور وہ میرے لیے کئی کام کرتے ہیں۔پولیس کے اعل ی عہدیدار بھی میرے نام سے کانپتے ہیں۔ میرا پورا نظام چل رہا ہے۔ اب میں چاہوں تو دور بیٹھ کر فون پر بھی اپنے معاملات دیکھ سکتا ہوں۔ میرے ڈیرے پر میری اجازت کے بنا چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ مجھے اگر مارنا ہے تو میرا کوئی اپنا یہ کام کرسکتا ہے۔ کوئی پولیس کے ساتھ مل کر رات نیند کی حالت میں گولی مار کر مجھے اوپر پہنچا سکتا ہے۔ میرے ساتھ چلنے والوں میں سے کوئی صرف ایک ایس ایم ایس کر کے میری گاڑی کا نمبر اور روٹ بتا سکتا ہے۔ میرے اہم ساتھیوں میں سے کوئی میری جگہ لینے کے لیے مجھے زہر دے سکتا ہے۔ مجھے مارنا ہو تو سو راستے ہیں مجھے گھیرنا ہو تو ہزار اس نے میری ‘‘ ہتھکنڈے ہیں لیکن میں جانتا ہوں ایسا نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہے ایسا کیوں نہیں ہوگا؟ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کردیا۔
میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ‘‘ میں نہیں جانتا۔ ’’
شاہد ملتانی تھوڑا آگے جھک آیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔
میں انسان کو پرکھنے کا فن جانتا ہوں۔ مجھے چہرہ شناسی آتی ہے مجھے بندے کو جانچنے کا ہنر آتا ہے۔ ’’ کون کس نیت سے آیا ہے یہ مجھ پر واضح ہوجاتا ہے۔ میری چھٹی حس کافی تیز ہے۔ میں نے اس دشت کے اس کے لہجے ‘‘ سفر میں صرف بندوں کو پڑھنا سیکھا ہے کتاب تو زمانے نے میرے ہاتھ سے چھین لی تھی۔ میں یاسیت در آئی۔ وہ لمحہ کے لیے سانس لینے کو رکا اور پھر کہنے لگا۔
ہوں انہیں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ میرا ‘‘ اقوال زریں ’’ کمالے میں بندے پڑھتا ہوں اور پھر ان میں سے جو ’’ کوئی ساتھی غداری نہیں کرسکتا۔ یہ جان دے دیتے ہیں لیکن مجھے نقصان پہنچانے یا میرے خلاف ہونے
والی کسی سازش کا حصہ بننے پر تیار نہیں ہوتے۔ جہاں تمہاری بات ہے اگر تم میں غداری یا مطلب پرستی کے جراثیم ہوتے تو میں تمہیں وہیں کھیتوں میں لڑائی کے دوران ہی گولی مار دیتا۔ میں کھوٹے سکے ساتھ رکھنے کا عادی نہیں ہوں۔ تمہاری آنکھوں میں وفاداری صاف نظر آتی ہے۔ اسی لیے تمہیں وہ بولتا جا رہا تھا کہنے لگا۔ ‘‘ اس میدان جنگ سے اٹھا کر یہاں لایا اور تمہاری حفاظت کا انتظام کیا تھا۔
کمالے تم ہیرے ہو ہماری دنیا میں آئے اور تربیت لے لی تو پھر سمجھو جلد ہی تمہارے نام کا ڈنکا بجنے ’’ لگے گا۔ مجھے تمہاری پروفائل ہسٹری معلوم ہے۔ تم بہت تھوڑے عرصہ میں بڑے تجربات سے گزرے ہو۔ تمہاری خصوصیت اور تمہارے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ تم کندن بن سکتے ہو۔ میں ادھر کا سیٹ اپ صرف اس لیے تمہارے حوالے نہیں کر رہا کہ تم نے کہہ دیا ہے۔ ہماری دنیا میں صرف جذبات ہی نہیں چلتے یہاں اور بھی معاملات دیکھنے پڑتے ہیں۔
میں جانچ چکا ہوں کہ تم اس قابل ہو کہ اگر میرا سیٹ اپ چلائو تو کامیاب ہوجائو گے اور مجھے نقصان نہیں ہوگا۔ تمہاری طرف سے مجھے دھوکہ کا خطرہ بھی نہیں م ہوگا۔ لہ ذا یں دیگر معاملات کو بھی دیکھ سک م ‘‘ وں گا۔ لہ ذا یں دیگر معاملات کو بھی دیکھ سکوں گا۔ خلاف معمول شاہد ملتانی طویل گفتگو کر رہا تھا۔ شاید وہ لاشعوری طور پر مجھے اپنے سیٹ اپ کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اس کی مردم شناسی اور معاملہ فہمی سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔ اگر وہ مردم شناس نہ ہوتا تو اب تک اس کی لاش کے ساتھ تصویریں بنا کر کوئی پولیس افسر مزید ترقی پا چکا ہوتا یا پھر اس کا کوئی ساتھی اسے مار کر خود ڈان بن چکا ہوتا۔
میں نے شاہد ملتانی کے ساتھ وقت گزارا تھا ہم کچھ دن ایک ساتھ رہے تھے میں نے اس کے ساتھیوں کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ان میں واقعی کوئی غدار نہیں تھا اس کے ساتھی اس پر جان دیتے تھے۔ وہ اس کی خاطر کسی کی جان بھی لے سکتے تھے اور اپنی جان دے بھی سکتے تھے۔ پولیس اور بیگھے مل کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ اس کے ساتھی موقع سے فرار نہیں ہوئے اور نہ اس نے ا پنے ساتھیوں کی آڑ میں بھاگ نکلنے کی کوشش کی تھی۔ وہ سب با جگری سے لڑے تھے۔
وہاں سے نکلنے کا فیصلہ ان کے لیڈر یعنی شاہد ملتانی نے کیا تھا اس کے بعد وہ نکلنے کی کوشش کرنے لگے لیکن اس کوشش کے دوران بھی وہ مننظم تھے۔ انہوں نے ایسا ہر گز نہیں کیا تھا کہ اپنے لیدر کو چھوڑ کر بھاگ جاتے وہ ایک دوسرے کو کور فائر دیتے ہوئے وہاں سے نکل رہے تھے۔
یہ وہ گروہ تھا جس میں سب مجرم ہی شامل تھے لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان ایسا تعلق موجود تھا کہ یہ اپنے ساتھی کی لاش اٹھانے کے لیے جان کی بازی لگا دیتے تھے۔ یہ لوگ اپنے ساتھی کی لاش تک
پولیس کے ہاتھ نہیں لگنے دیتے تھے۔ اس پس منظر کو دیکھیں تو شاہد ملتانی کی بات درست محسوس ہوتی تھی کہ اس کے ارد گرد صرف جانثار اور وفادار ہی ہیں۔ ان میں سے کوئی غداری نہیں کرسکتا۔
شاید وہ غدار کو اسی وقت گولی مار دیتا تھا جب اس پر یہ بھید کھلتا تھا کہ اس کی صف میں کوئی غدار یا مخبر آرہا ہے۔ چاہے اس نے ابھی غداری نہ کی ہو اسے کسی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی اس کے لیے صرف شک ہونا ہی کافی تھا۔ پولیس اور ڈاکو دونوں ہی شک کی بنیاد پر فیصلہ کن اقدام اٹھانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ پولیس کے کام کی ابتدا ہی شک سے ہوتی ہے لیکن ڈاکو کا معاملہ اور ہوتا ہے اس کی انتہا شک پر ختم ہو جاتی ہے۔ وہ شک کی بنیاد پر ہی پکڑا اور مارا جاتا ہے اور شک کو ہی نظر انداز کرنے پر اپنی قبر خود کھود ڈالتا ہے۔ شاہد ملتانی تو موت کے گھوڑے پر سفر کر رہا تھا۔ وہ اس گھوڑے کو اپنے قابو میں نہ رکھتا تو یہی گھوڑا اسے قبر کے اندر تک چھوڑ کے آجاتا۔
میں نے شاہد ملتانی پر صورتحال پر واضح کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ مجھے چھوڑ دیتا اور مجھ سے بے پروا ہوجاتا تب بھی مجھے کوئی فکر نہ تھی۔ اس کا ساتھ چھوٹ جانے سے میرے لیے مزید مشکلات پیدا ہوجانی تھیں لیکن وہ سچ کہہ رہا تھا میں اسے دھوکہ میں نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس نے میرا ساتھ دیا تھا۔ وہ مجھے کھیتوںسے زخمی حالت میں اٹھا کر یہاں نہ لاتا۔ تو اب تک میری لاش بھی گل سڑ چکی ہوتی۔ اس کا یہ مجھ پر احسان تھا میں اسے کسی صورت دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔
میں نے شاہد ملتانی کی طرف دیکھا وہ خاموشی سے لسی پی رہا تھا۔ میں نے کہا۔
ملتانی تم نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں تم سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ یہ میری زندگی ’’ کا مقصد نہیں ہے۔ میں اپنا انتقام لینے نکلا ہوں۔ میں جرائم کی دنیا میں ہر گز نہیں آئوں گا۔ مجھے بس اپنے دشمنوں کا خاتمہ کرنا ہے اور انہیں عبرت کا نشان بنانا ہے۔ اس کے بعد میں اس شہر سے بہت دور چلا ئوں گا۔ ایک نئی زندگی کا آغاز کروں گا۔ وہاں کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ میرا ماضی کیا ہے اور تقدیر مجھے کس طرف لے آئی تھی۔ اگر میں نے تمہارے سیٹ اپ میں قدم رکھا تو یہ میرے پائوں پکڑلے گا۔ پھر اس سے نکلنا آسان نہیں رہے گا۔ تم چاہو تو ابھی سے ہاتھ اٹھا سکتے ہو۔ مجھے کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔ میں یہاں سے نکلوں گا اور داتا دربار کے باہر کسی ہجوم میں گم ہوجائوں گا۔ پھر کمالا جٹ خود کو اس قابل بنائے گا کہ اپنے دشمنوں سے بدلا لے سکے۔
شاہدملتانی نے میری جانب دیکھا۔ لسی کا گلاس میز پر رکھا اور منہ صاف کرنے کے بعد کہنے لگا۔
لالے تیری یہی ادا مجھے پسند ہے ابھی تم بچے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ تم اس ملک میں کہیں بھی ’’ چلے جائو یہ سور تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اب تم شریفوں والی زندگی نہیں گزار سکتے۔ تم قانون کے کھاتوں میں قاتل، ڈکیٹ اور پولیس مقابلوں کے ماہر کے طور پر لکھے گئے ہو۔ اب تمہارا نام نہیں مٹ
سکتا۔ تم چاہو تو ابھی مجھے ہاں مت کہو لیکن جلد ہی تمہیں احساس ہوجائے گا تم اس دنیا میں نہ آئے ‘‘ تو کہیں کے نہ رہو گے جب ایسا ہوگا تو پھر تم مجھے بتا دینا۔ میرا یہ سیٹ اپ تمہارے لیے موجود رہے گا۔
ابھی شاہد ملتانی بات کر ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل کی بیل بجنے لگی۔ اس نے اسکرین کی جانب دیکھا اور کال ریسیو کی۔ دوسری جانب خدا جانے ایسا کیا کہا گیا کہ ملتانی کے منہ سے گالیوں کا فوارہ ابل پڑا۔ اس نے موبائل بند کیا اور تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میں بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا تھا ملتانی نے تیزی سے مجھے کہا کہ اسے کسی جگہ فورا جانا ہے اس لیے مجھ سے وہ بعد میں بات کرے گا۔ دکان سے باہر آکر اس نے کہا۔
کمالے میںتم سے ملنے آئو گا اور تمہارا ساتھ دوں گا۔ تم کہیں جانے کا خیال دل سے نکال دو۔ مجھے پتا ’’ ہے تم شبنم بائی کے کوٹھے سے فرار ہو رہے تھے۔ اب تم واپس وہیں جائو، میں دو چار دن میں آکر کہیں اور انتظام کردوں گا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ تیزی سے ایک جانب چلا گیا۔
شاہد ملتانی کے جاتے ہی میں واپس شبنم بائی کے کوٹھے کی جانب چل پڑا۔ میری حالت ایک قیدی کی سی تھی جسے فرار کے بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا ہو اب شاہد ملتانی کے آنے تک مجھے وہیں رہنا تھا۔ میں کوٹھے تک پہنچا تو وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ میں جلدی سے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔ میری کوشش تھی کہ کسی کی نظر میں آئے بنا اپنے کمرے تک پہنچ جائو۔
کمرے کے اندر قدم رکھتے ہی مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرے سر پر پہاڑ پھینک دیا ہو۔ نیلی میرے بستر پر لیٹی تھی۔ اس کے لیٹنے کا انداز ایسا تھا کہ مجھے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ میں تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور پھر ٹھٹک کر رک گیا۔ وہ مر چکی تھی۔ کسی نے اس کی گردن تیز دھار چیز سے کاٹ دی تھی۔ بستر اور زمین اس کے خون سے سرخ ہورہی تھی۔ یہ خون اب میرے کپڑوں اور جوتوں پر بھی لگ چکا تھا۔ اسی دوران مجھے پیچھے س کسی کی چیخ سنائی دی۔ میں بری طرح پھنس چکا تھا۔ نیلی قتل ہوچکی تھی اور اس کا خون میرے کپڑوں پر لگا ہوا تھا۔ سامنے زیورات اور رقم والا ٹرنک کھلاپڑا تھا اور میرے ہاتھ می جو لفافہ تھا اس میں اسی ٹرنک سے چرائی گئی رقم موجود تھی۔ تقدیر جانے مجھ سے کیا بھیانک کھیل کھیلنے جا رہی تھی۔
…٭٭٭…
سچ کہوں تو نیلی کے قتل نے مجھے ہوا باختہ کردیا تھا۔ مجھ پر پہلے ہی جانے کتنے مقدمات درج تھے۔ ان میں سے کچھ سچ تھے لیکن اکثر جھوٹ پر مبنی تھے۔ یہ ہمارا نظام ہی ایسا ہے یہاں جو سچا ہو وہ جائز رپورٹ درج کروانے کے لیے تھانوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے لیکن کوئی اس کی فریاد سننے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس مجرم دندناتے ہوئے تھانے میں داخل ہوتے ہیں اور جسے قتل کر کے آئے ہوں اسی کے
خاندان پر مقدمات درج کروا دیتے ہیں جس شہر میں پولیس چند ماہ کے دودھ پیتے بچے پر مقدمہ در کردے اور عدالت اس کی ضمانت منظور کرے وہاں اور کسی مثال کی ضرورت ہی کہاں رہتی ہے۔
میں نے نیلی کو قتل کیا یا نہیں کیا تھا یا نہیں یہ بات مجھ سے کسی نے نہیں پوچھنی تھی۔ میں لاکھ قسمیں اٹھاتا لیکن کسی نے میرا یقین نہیں کرنا تھا۔ بے اعتباری کی فضا بھی تو ہم نے خود ہی پیدا کی ہے۔ سنا ہے ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب کوئی بزرگ اپنی پگڑی اتار کر قدموں میں رکھ دیتا تو سات خون معاف کردیے جاتے تھے۔ جب کوئی قرآن درمیان میں لے آتا تو دلائل رد کردیے جاتے تھے۔ قرآن کے مقابلے میں قرآن نہیں اٹھایا جاتا تھا اور قسم کے بعد دلیل نہیں مانگی جاتی تھی۔
پھر ایک نیا دورشروع ہوا شیطان کا خون اپنی اصلیت دکھانے لگا۔ خدا جانے وہ کون سا پہلا شخص تھا جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اور جھوٹا حلف اٹھایا۔ وہ جو بھی تھا میں اسے نہیں جانتا البتہ یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس نے نسل انسانی کے منہ پر کالک مل دی تھی اور انسان کو اعتبار اور یقین کے اعل ی مقام سے اٹھا کر بے غیرتی کی دلدل میں پھینک دیا تھا۔
شاید وہ شخص سب سے بڑا مظلوم تھا جس کو غلط ثابت کرنے کے لیے جھوٹا حلف دیا گیا ہوگا اور جھوٹی قسم اٹھائی گئی ہوگی۔ وہ بے چارہ مدتوں یہی سوچتا رہا ہوگا کہ اس سے پہلے ایسا کب ہوا؟ بھلا کوئی جھوٹی قسم بھی اٹھا سکتا ہے؟ یا پھر یہ بھی ممکن ہے لوگوں نے جھوٹی قسم پر یقین کر کے اس پر تھوتھو کیا ہو اور وہ وہیں زمین پر گر کر دم توڑ گیا ہو۔
بہرحال جو بھی ہوا تھا حقیقت یہ ہے اب انسان کا قسم سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ اب عدالت قسم پر یقین نہیں کرتی۔ تھانے میں کوئی قسم اٹھائے تو عام سا کانسٹیبل بھی اسے ماں بہن کی گالیاں بکتا ہوا دو چار لگا دیتا ہے۔ اس لیے میں بھی لاکھ قسمیں اٹھاتا کسی نے میرا اعتبار نہیں کرنا تھا۔
بظاہر حالات میرے خلاف تھے۔ میرے ہاتھ میں خون آلود چھری تھی۔ نیلی کا خون میرے کپڑوں پر لگا ہوا تھا اور زیورات اور رقم والا ٹرنک کھلا پڑا تھا جس میں سے سب کچھ چرایا جا چکا تھا۔ میرے ہاتھ میں پکڑے لفافے میں اسی ٹرنک سے نکالی گئی رقم تھی حالات میرے خیال جا رہے تھے۔
اب تک کے تجربات سے میں جان چکا تھا کہ ہمارے ملک میں قتل کرنا کوئی جرم نہیں بڑے بڑے قاتل اور ڈکیت اسمبلیوں تک پہنچ کر قانون بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ جن کے خلاف قانون بنایا جاتا ہے وہ اس قانون کو بنانے کے دوران اپنی رائے دے رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں اصل جرم قتل کرنے کے بعد پکڑے جانا ہے گرفتار ہونے والے پر جرم ثابت ہونے سے پہلے وہ سلوک کیا جاتا ہے کہ اسے نانی یاد آجاتی ہے۔ اگر وہ دولت مند ہو تو پولیس اہلکار یہ دولت رگوں سے بھی
اسی کے لیے ہوتا ہے ہر کسی کا غصہ ‘‘چھتر’’ کھینچ لانے میں ماہر ہیں۔ اگر وہ غریب ہو تو تھانہ میں موجود اسی پر اتارا جاتا ہے جو قابو آچکا ہو۔
کسی کی بیوی لڑ کر میکے گئی ہوتی ہے اور وہ مجرم کو بیوی سمجھ کر مارتا ہے کسی کا بچہ نشے کی لت میں پڑ چکا ہوتا ہے تو وہ مجرم کی تشریف کو اپنے بیٹے کی تشریف سمجھ کر چھتر مارتا ہے۔ کسی کی کمیٹی نہیں نکلتی تو وہ کمیٹی والی خالہ کا غصہ مجرم پر نکالتا ہے۔ کسی کو اپنے افسر پر غصہ ہوتا ہے اور وہ افسر کو گالیاں بکتا ہوا پوری قوت سے ملزم کو چھتر مارتا ہے اور پھر مظلوم سی شکل بنا کر اپنے افسر کو سیلوٹ کرنے پہنچ جاتا ہے۔
حالات کے مارے یہ پولیس اہلکار رشوت لینے کے باوجود خوش نہیں ہوتے قدرت اپنا انتقام کچھ یوں لیتی ہے کہ اس سے سکون چھین لیتی ہے۔ یہ ملزم کی چھترول کرتے ہیں اس پر ڈنڈے برساتے ہیں اور اکثر اس کی ٹانگوں پر رولر پھیر کر عمر بھر کے لیے معذور بنا دیتے ہیں۔ ان کی گرفت میں آنے والا امام مسجد بھی ہو تو اگلے ہی دن وہ قتل اور ڈکیتی سمیت کئی وارداتوں کا اعتراف کرچکا ہوتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مال بھی برآمد کروا دیتا ہے۔ چوبیس گھنٹے میں اس بیچارے کی حالت ایسے ہوجاتی ہے کہ اپنے گھر ہونے والی ڈکتی کا بھی اقبالی ہوجاتا ہے۔
دوسری جانب جو مجرم گرفتاری سے بچ جاتا ہے وہ آزاد نظر آتا ہے۔ لوگ اسے حاجی صاحب کہتے ہیں اور اپنے مسائل حل کروانے اس کے ڈیرے پر آتے ہیں۔
میں بھی گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا اس لیے شبنم بائی کے کوٹھے سے فرار ہونا میرے لیے زندگی موت کا مسئلہ بن چکا تھا۔ قتل کی آواز بلند ہوچکی تھی۔ اب میں جتنی دیر کرتا اتنا ہی جال میں پھنستا چلا جاتا۔ میں تیزی سے سیڑھیاں اترتا چلا گیا۔ اچانک سامنے سے کوئی تیزی سے میری جانب بڑھا اور اس نے مجھے پنجاب کے خاص دیہاتی انداز میں جھپا ڈال لیا۔
جن لوگوں نے دیسی اسٹائل کی پہلوانی دیکھی ہے اور اکھاڑے میںپہلوانوں کو لڑتے دیکھا ہے وہ جانتے ڈال لیتے ہیں اور پھر بازوں کے زور ‘‘جھپا’’ ہیں کہ کشتی کے دوران پہلوان مخالف کو اپنے بازوں میں لے کر سے ہی بعض اوقات مخالف کی پسلیاں توڑ دیتے ہیں۔ اس خاص انداز سے پسلیاں توڑنا ہر پہلوان کے بس کی بات نہین لیکن بہرحال وہ اپنے مخالف کو ہلانے میں کامیاب ضرور ہوجاتا ہے۔
مجھے جھپا ڈالنے والا اس دائو میں اتنا ماہر نہیں تھا لیکن اس کی گرفت خاصی مضبوط تھی میں نے اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگایا لیکن ناکام رہا۔ اس زور آزمائی میں وہ دو تین بار دیوار سے ٹکرایا لیکن مجھے چھوڑنے پر آمادہ نہ تھا۔ اسے تھوڑا سا وقت اور م لجاتا تو کافی لوگ یہاں پہنچ جاتے اور پھر میرا نکلنا محال ہوجاتا۔
میں نے جھنجلاہٹ میں سر کی زور دار ٹکڑ اس کے ناک پر ماری جس سے وہ لڑکھڑا گیا اور اس کی گرفت قدرے ڈھیلی پڑ گئی۔ اس کے ناک سے خون بہنے لگا لیکن ہ ی دوبارہ اپنی گرفت مضبوط کی ً اس نے فورا اور سر نیچے کو جھکا لیا۔ اب وہ زور لگا کر مجھے پیچھے دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس نے مجھے بازوں کے اوپر سے پکڑ رکھا تھا جس کی وجہ سے میں خود کو کسی قدر بے بس سا محسوس کر رہا تھا۔ میرے سر کی مخصوص ٹکڑ کے بعد اس نے دوبارہ اپنی گرفت مضبوط کی تو کسی قدر میرا ایک بازو مخصوص دائرے میں حرکت کے قابل ہوگیا اتفاق سے میرے اسی ہاتھ میں خود آلود چھری تھی جو اس دھکم پیل اور زور آزمائی کے دوران بھی میرے ہاتھ سے نہ نکلی تھی۔ میں نے وہی چھری اس کے پہلو میں گھونپ دی اور ہاتھ کو تھوڑا سا گھماتے ہوئے چھری باہر نکال لی ہاتھ کو اس طرح گھمانے سے چھری کا چھوٹا کٹ گہرا ہوگیا اور زخم کھل گیا۔ وہ درد سے کسی بکرے کی مانند ڈکرایا اور مجھے چھوڑ دیا۔ میں نے اسے دھکا دیا تو لڑکھڑاتا ہوا دیوار سے جا ٹکرا۔ حالات خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے تھے مجھے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ اس بے وقت کی لڑائی میں وقت ضائع کرنا میرے لیے مزید خطرات کا باعث بن چکا ہے۔ میں تیزی سے دروازے کی جانب بڑھالیکن گلی میں شور کی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھیں۔
یہ اندرون لاہور کا شاہی محلہ تھا اندرون لاہور میں اصل لاہور ہے جو بارہ دروازوں کے درمیان بند ہے۔ یہاں ابھی بھی بعض روایات بہت مضبوط ہیں۔ لاہور کے لوگ اپنے ہمسائے کو خطرے میں دیکھ کر دروازے بند نہیں کرتے بلکہ للکارتے ہوئے باہر نکل آتے ہیں۔ یہی اس وقت ہوا تھا۔
گلی میں اٹھنے والا شور اور بھاگنے کی آوازیں واضح کررہی تھیں کہ شبنم بائئی کے کوٹھے پر قتل ہوچکا ہے۔ باہر اکٹھے ہونے والے لوگ کسی بھی پل کوٹھے میں داخل ہوسکتے تھے میں واپس اوپر کی جانب بھاگا مجھے اس چوہے دان میں نہیں پھنسنا تھا ابھی تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی لگاتے ساتھ ہی چیخ بلند کرنے والی ئ وہاں آ ی تھی یا اس قتل میں اسی کا ہاتھ تھا یہ ً اتفاقا ممکن تھا کہ قاتل نے اپنا آپ بچانے کے لیے جو پھندا لگایا ہو اس میں میرا پائوں پڑتے ہی رسی کھیچنے والا بھی وہی ہو۔
میرے ساتھ جو بھی ہوا اس کا پتا بھی تب ہی چلنا تھا جب میں یہاں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوپاتا۔ میں اوپرآتے ہوئے اپنے پیچھے دروازے بند کرتا چلا آیا تھا یہ عارضی طور پر وقت حاصل کرنے کا ایک حربہ تھا۔ ورنہ میں بخوبی جانتا تھا کہ اس پرانے دروازوں کی کنڈیاں اتنی مضبوط ہرگز نہیں تھیں کہ آنے والوں کو زیادہ دیر روک سکیں۔
کوٹھے کی چھت پر پہنچ کر میں نے تیزی سے دائیں بائیں دیکھا پرانے طرز تعمیر پر بنے ہوئے گھر آپس میں ملے ہوئے تھے ان کی دیواریں اتنی اونچی نہیں تھیں کہ کمالا جٹ انہیں پھلانگ نہ سکے۔ نچلی منزلوں پر دروازے توڑنے کا شور سنائی دے رہا تھا۔ لوگ شاید زور لگا کر دروازے کے قبضے اکھاڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں تیزی سے دائین جانب بڑھا اور منڈیر پر ہاتھ رکھ کر اسے پھلانگتا ہوا ساتھ والی چھت پر چلا گیا۔
اس چھت پر کوئی نہیں ل گ ی میں اٹھنے والے شور اور قتل قتل کے شور نے سب کو متوجہ کر رکھا ً تھا غالبا تھا۔ اس گھر کے مکین بھی شاید گلی میں کھڑے تماشا دیکھ رہے ہوں گے میرے چھت پر آنے سے پہلی سی دھمکی ضرور ہوئی لیکن کہیں اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس دھمک سے کہیں زیادہ توجہ کا حامل وہ قاتل تھا جس کے بارے میں اکثریت کا خیال تھا کہ وہ ابھی تک شبنم بائی کے کوٹھے کے کسی کمرے میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ میں اس چھت پر بھی زیادہ دیر نہیں رک سکتا تھا۔ اس لیے ہ ی اگلے کوٹھے کی ً فورا دیوار پھلانگ گیا۔
اچانک گلی میں پولیس سائرن کی آواز گونجنے لگی۔ بٹی تھانہ اس کوٹھے کے ساتھ ہی تھا شاید فون کی بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی ہو کسی نے پیدل جا کر ہی تھانے اطلاع کردی ہگی۔ اس گلی میں گاڑیون کا آنا بھی انتہائی مشکل تھا۔ اس لیے پولیس نے گلی کے باہر ہی گاڑی کھڑی کر کے سائرن چلا دیا تھا۔ اہلکار ً یقی نا فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شبنم بائی کے گھر تک آچکے ہوں گے۔
جب انہیں پتا چلا ہوگا کہ قتل کا الزام جس پر لگا ہے وہ بڑھکیں مارنے کی بجائے بائی کے کوٹھے پر کسی کمرے میں پناہ لیے ہوئے ہے تو انہیں اپنی بہادری اور فرض شناسی یاد آگئی ہوگی۔ اس لیے انہوں نے بھی دروازہ توڑنے کے کار خیر میں حصہ لیا۔
میں تیزی سے ایک گھر کی چھت سے دوسرے گھر کی چھت پر جاتے ہوئے اس منحوس کوٹھے سے دور جاتا جا رہا تھا موت ایک مرتبہ پھر میرے تعاقب میں تھی اور میں اسے جل دینے کوشش کر رہا تھا آگے جا کر مکانوں کا سلسلہ ختم ہوگیا اگلے مکان کی چھت کافی دور تھی درمیان میں گلی تھی۔
کبھی کبھی یونہی بھاگتے بھاگتے ایک دم ہمارے سامنے گہری کھائی آجاتی ہے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ پیچھے سے آتے دشمن کا مقابلہ کیا جائے یا کھائی میں کود جایا جائے۔ یہ دونوں فیصلے خطرناک ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایک تیسرا راستہ بھی موجود ہوتا ہے یہ تیسرا راستہ کم خطرناک ہوتا ہے لیکن اس نے تلاش کرنا ہی اصل کام ہے۔
میں تیزی سے ارد گرد کا جائزہ لیا اور پھر میری آنکھوں نے وہ تیسرا راستہ تلاش کرلیا۔ یہ سیڑھیاں تھین جو گھر کے اندر جا رہی تھیں۔ میں واپس نہیں جاسکتا تھا کیونکہ اب تک یہ راز کھل چکا تھا کہ خوفزدہ
قاتل کمرے مین نہیں چھپا ہوا بلکہ کہیں فرار ہوچکا ہے۔ میرے فرار کا راستہ تلاش کرنے والوں کا دھیان یقینا چھت کی جانب ہی جانا تھا۔ اس کے علاوہ فرار کا کوئی اور راستہ نہ تھا۔
میں اب آگے بھی نہیں جا سکتا تھا کیونکہ گلی کی صورت ایک گہری کھائی میری منتظر تھی میں کسی فلم کا کردار نہیں تھا جو طویل جمپ لگا کر گلی کے پار دوسری چھت پر پہنچ جاتا۔ مجھے اب انہی سیڑھیون کی جانب بڑھنا تھا۔ یہ فیصلہ مجھے محفوظ راستہ بھی مہیا کرسکتا تھا اور مشکل میں بھی ڈال سکتا تھا۔
مجھے علم نہیں تھا کہ یہ کس کا گھر ہے اور یہاں کتنے لوگ موجود ہیں۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اور پھر سیڑھیوں سے نیچے اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
اس گھر کا نقشہ بھی ایسا ہی تھا جیسا اندرون لاہور کے اکثر چھوٹے اور تنگ گھروں کا نقشہ ہے۔ ہر منزل پر ایک آدھ کمرہ اور تنگ سی سیڑھیاں، میںتیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے احتیاط کا دامن چھوڑ بیٹھا۔ اس وقت میرا مقصد بس کسی بھی طرح یہاں سے نکلنا تھا۔
پہلی منزل سے اترتے ہوئے مجھے اپنے پیچھے تالیوں کی آواز سنائی دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو دو اسلحہ بردار افراد نے مجھ پر رائفلیں تان رکھی تھیں جبکہ ان کے پیچھے ایک موٹی سی خاتون کھڑی تالیاں بجا رہی تھی۔ میرے قدم رکھتے ہی اس نے کہا۔
‘‘ میاں کھیل ختم ہوچکا ہے اپنی جگہ پر بیٹھ جائو ورنہ بے موت مارے جائو گے۔ ’’
میں نے ایک نظر اسلحہ برداروں کو دیکھا وہ مکمل طور پر ہوشیار نظر آرہے تھے اگر میں اس منحوس عورت کی ہدایت پر عمل نہ کرتا تو وہ یقینا گولی چلا دیتے۔
میں ان کے گھر میں موجود تھا اور اسی علاقہ میں ایک قتل کا الزام بھی مجھ پر ڈالا جا چکا تھا۔ میرے ہسٹری ریکارڈ کے مطابق میں خطرناک دہشت گرد تھا جو پولیس مقابلوں کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اگر وہ مجھے گولی مارنے کا حکم دے دیتی تو بھی اس پر کوئی الزام نہ آتا کیونکہ وہ صاف کہہ سکتی تھی کہ اپنے گھر گھنے والے دہشت گرد کو اس نے اپنے دفاع میں قتل کیا۔
میں ہدایت کے مطابق نیچے بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دیے میرے پاس اسلحہ کے نام پر چھری تک نہ تھی اس لیے ہاتھ اوپر اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ میرے اس طرح بیٹھنے پر اس عورت کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے اشارہ کیا تو ایک گن مین نے میرے قریب آکر میری تلاشی لینا شروع کردی۔
آنے سے پہلے وہ اپنی رائفل اسی عورت کے قدموں میں رکھ آیا م تھا۔ لہ ذا یرا اس پر ہاتھ ڈالنا یا مزاحمت کی کوشش کرنا خود اپنے آپ کو قتل کرانے کے مترادف ہوتا۔ میں نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنی تسلی کرنے دی۔ میری تلاشی لے کر اس نے اس عورت کی جانب اطمینان بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور واپس اپنی جگہ پر آگیا۔
مجھ سے کچھ برآمد نہ ہونے کے بعد ان کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ اس عورت نے واپس مڑتے ہوئے ان دونوں گن مینوں سے کہا۔
‘‘ اسے میرے کمرے میں لے آئو۔ ’’
اپنی بات کہہ کر اس نے جواب سنے بنا ہی ایک جانب قدم بڑھا دیے۔ ایک شخص میرے قریب آیا اور پشت کی جانب کھڑے ہو کر رائفل میری پشت سے لگا کر بولا۔
‘‘ چل اوئے، کھڑا ہوجا بہت آرام کرلیا میرے شہزادے نے۔ ’’
اس کا طنزیہ لہجہ سن کو میرا خون کھول اٹھا لیکن اس وقت مجھے جذباتیت کی بجائے ٹھنڈے مزاج سے کام لینا تھا۔ ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے تو دروازے کے سامنے ہی مسہری پر وہی عورت شاہانہ انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔ میںکمرے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا اور دونوں اسلحہ بردار میرے پیچھے اپنی اپنی رائفل کی نال میری پشت سے لگائے کھڑے تھے۔ وہ چند لمحے یونہی نگاہوں میں تولتی رہی پھر کہنے لگی۔
میاں کن چکروں میں تھے، کچھ چرانا ہو تو کوئی ہتھیار بھی پاس رکھتے ہیں، یا پھر شکیلہ بائی کے کوٹھے ’’ ‘‘ پر کوئی دل چرانے آئے ہو؟
اس کے لب و لہجہ سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ بھی شبنم باھئی کی طرح کسی نائیکہ کا گھر ہے۔ دوسری بات یہ تھی کہ اسے ابھی تک شبنم بائی کے کوٹھے پر ہونے والے قتل کا علم نہیں تھا اگر اسے علم ہوتا تو اس کا لہجہ بدل چکا ہوتا اور وہ اتنے آرام سے بیٹھی بات نہیں کر رہی ہوتی۔ صورت حال کسی حد تک میرے حق میں تھی۔
وہ محض ایک نہتے چور کو قتل نہیں کرسکتی تھی البتہ یہ ضرور تھا کہ اگر وہ مجھے پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیتی تو یہ بات میرے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی نوبت یہاں تک آنے سے پہلے ہی مجھے صورت حال اپنے حق میں ہموار کرنی تھی۔ وہ عورت میری جانب دیکھ رہی تھی۔ اس کے انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ وہی شکیلہ بائی ہے میں نے لمحہ کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر کہا۔
‘‘ شکیلہ بائی دل چرانے والے اسلحہ نہیں لاتے، یہ دنیا کا نہیں دلوں کا سودا ہے۔ ’’
دل چرانے والے جب کوٹھے پر آتے ہیں تو گھر بیچ کر ساری رقم یہاں قدموں میں ’’ شکیلہ بائی مسکرائی۔ اس نے اپنے پائوں کی جانب اشارہ کیا۔ ‘‘ ڈھیر کردیتے ہیں۔
میں نے اس کے بے ساختہ اور طنزیہ جواب کے بدلے میں ‘‘ اگر دل چرانے والا کنگال ہوتو پھر کیا کرے؟ ’’ سوال کردیا۔
‘‘ کنگال لوگ تو کہیں ڈوب مر کر نشہ کرتے ہیں اور دھرتی کا بوجھ ختم کرتے ہیں۔ ’’
شکیلہ بائی تم نے پوری بات نہیں کی۔ کنگال لوگ اگر دل چرانے پر آجائیں تو شہزادیاں محل کا عیش و ’’ آرام چھوڑ کر جھونپڑی میں چلی آتی ہیں اور اگر دل والے اپنی آئی پر آجائیں تو مکان بیچ کر دولت نہیں ‘‘ لاتے بلکہ کوٹھے کی اصل دولت اٹھا کر گھر لے جاتے ہیں۔
میری بات سن کر شکیلہ بائی کی آنکھوں میں داد و تحسین کی جھلک نظر آئی۔ اس نے تالی بجاتے ہوئے داد دی اور کہا۔
‘‘ تو پھر اب تم کسے اٹھا کر گھر میں بسانے کا خواب دیکھ رہے ہو۔؟ ’’
میں نے ایک نظر ڈھلتی عمر کی اس نائیکہ کو دیکھا اور جوا کھیلتے ہوئے کہا۔
‘‘ میں تو شکیلہ بائی کو اٹھانے آیا تھا اس نے خود مجھے ہی اغوا کر رکھا ہے۔ ’’
شکیلہ بائئی طنزیہ مسکرائی اور کہنے لگی۔ میرا خیال ہے اب اس کھیل کو یہیں ختم کردیا جائے سچ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی یہ بتائو لیل ’’ ی کے ‘‘ علاوہ اور کتنے لوگوں کا قتل کرچکے ہو؟
شکیلہ بائی کے منہ سے یہ جملہ نکلتے ہی جیسے کسی نے میرے سر پر بم دے مارا۔ اسے سب معلوم تھا اور وہ محض مجھ سے بلی چوہے والا کھیل کھیل رہی تھی۔ اس سے پہلے میں اس کے محافظوں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کرتا اور وہاں سے فرار ہونے کا راستہ تلاش کرتا وہ جیسے میرا ارادہ بھانپ گئی۔
فکر نہ کرو میں تمہیں نہ تو گرفتار کرائوں گی اور نہ ہی کسی کے حوالے کروں گی میں تمہیں یہاں سے ’’ ‘‘ بچ کر جانے دوں گی۔
یہ میرے لیے دوسرا بڑا جھٹکا تھا۔ میں نے اس کے ہمسایہ میں دو دو قتل کیے تھے باہر پورے با زار میں شور مچا ہوا تھا پولیس میری تلاش میں تھی اور اندر یہ نائیکہ کوئی تعلق قور رشتہ ہوئے بنا مجھے بچانا چاہتی تھی۔
میں اب اس بازار کے مزاج کو سمجھ چکا تھا۔ یہاں مطلب اور مفاد کے بغیر یوں کسی اجنبی کی مدد نہیں کی جاتی تھی۔ جہاں دلوں کے سودے ہوں وہاں ہمدردی کھوٹے سکے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ دل کی خرید و فروخت کا ظالمانہ کاروبار ہے جب جب دل کی قیمت لگائی گئی تب تب ہوس کا بازار سجا ہے دل تو انمول ہوا کرتے ہیں یہ مل جائیں تو بھی ان کی قیمت کا تعین نہیں ہوسکتا۔
یہ تو عام دنیا کی باتیں ہیں طوائفوں کے نگر کے تو اصول ہی مختلف ہیں۔ یہاں رحم کھایا جائے یا کسی سے ہمدری جتائی جائے تو کاروبار ہی ٹھپ ہوجائیں۔ اس لیے مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ بلا وجہ مجھے اس مصیبت سے کیوں نکالنے کی کوشش کرے گی۔
وہ چاہتی تو مجھے پولیس کے حوالے کر کے اپنے آپ کو معتبر ثابت کرسکتی تھی۔ پولیس کے ساتھ اچھے تعلقات ہی اس دھندے کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ اسی طرح جس کے پولیس کے تعلقات خراب ہوجائیں اس کے گاہک واپس لوٹنے لگتے ہیں۔ یہ بھی چاہتی تو مجھے پولیس کے حوالے کرکے خود کو تھانیدار کے قریب کرسکتی تھی جس سے اسے فائدہ پہنچ سکتا تھا۔
اس کا رویہ اس سے برعکس تھا۔ اسی لیے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس کا کوئی ایسا مفاد مجھ سے وابستہ ہے جس کی خاطر وہ مجھ پر احسان کرنا چاہ رہی ہے۔ میرے لیے اس وقت سب سے اہم اس جگہ سے باہر نکلنا تھا۔ یہ محلہ میرے لیے خطرناک ہوچکا تھا اس کے باوجود میں خود کو سوال کرنے سے نہ روک پایا اور اس سے پوچھ بھی لیا کہ اس کے بدلے مجھے کیا کرنا ہوگا۔ وہ اس ادائے بے نیازی سے مسکرائی اور کہنے لگی۔
کرنا کچھ نہیں ہوگا ایک دو قتل تم کر ہی آئے ہو، اس سے پہلے بھی کیے ہوں گے بس ایک ایسا قتل بھی ’’ ‘تمہارے سر پڑ جائے گا۔
میں اپنی جگہ سے اچھل پڑا۔ ‘‘ کیا مطلب، کون سا قتل؟ ’’
میں نے اس سے پہلے بھی قتل کیے تھے تھے لیکن وہ سب اپنے دفاع میں کیے تھے یا پھر انتقامی جذبات کے طور پر کیے تھے میں پیشہ ور قاتل نہیں تھا۔ آج ہی ایک دم سے دو دو ایسے قتل میرے کھاتے میں ڈالے جا رہے تھے جن سے میرا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔
میرے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر شکیلہ بائی کہنے لگی۔ آج اس گلی میں صرف لیل ’’ ی ہی قتل نہیں ہوئی بلکہ ایک اور طوائف چنبیلی بھی قتل ہوگئی ہے۔ وہ میرے ساتھ والے کوٹھے میں رہتی تھی۔ تم اسی کا کوٹھا پھلانگ کر میرے کوٹھے کی چھت پر آئے تھے۔ اس کی وجہ سے میرا دھندا چوپٹ ہو رہا تھا اس لیے اس کا مرنا بہت ضروری تھا اسے میں نے اپنے ہاتھوں
سے قتل کیا ہے اس کے چہرے پر بھی تیزاب پھینک دیا ہے تم گرفتار ہوگئے تو اس کے قتل کی الگ سے تفتیش شروع ہوجائے گی اور اس کا الزام مجھ پر ہی آجائے گا۔ اب تم میرے لیے امید کی کرن بنے ہو۔ اگر تم فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہو تو اس قتل پر کوئی بھی تفتیش نہیں کرے گا بلکہ اسے براہ راست تمہارے کھاتے میں ڈال دیا جائے گا۔ اس طرح تم ہی اس قتل کے اصل ذمہ دار سمجھے جائو گے پولیس سمجھے گی کہ تم نے میرے گھر کے بجائے اس کے گھر کا انتخاب کیا تھا اور وہاں سے فرار ہوتے وقت تم نے ‘‘ کسی وجہ سے چنبیلی کو بھی قتل کردیا تھا۔
میں لمحوں میں ساری کہانی سمجھ گیا۔ وہ اپنا ملبہ مجھ پر ڈال کر مجھے یہاں سے نکالنا چاہتی تھی بعد میں مجھے گرفتار کر کے یہ وارداتیں بھی اگلوالی جائیں تب وہ مکر جاتی تو میں کچھ نہ کرپاتا۔ یہ سیدھا سادا سا کچھ لو، کچھ دو کا اصول تھا۔
میں نے چند لمحوں میں صورت حال کا جائزہ لیا میرے لیے اس وقت سب سے اہم یہاں سے کسی بھی نکلنا تھا۔ اگر میں یہاں پر پھنس جاتا تو پھر شاید کبھی بھی اپنے اصل مقصد میں کامیاب نہ ہوپاتا۔ اگر میں نکل جانے میں کامیاب ہوجاتا تو پھر امکان تھا کہ میں اپنے اصل مقصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجائوں گا۔
دوسری بات یہ بھی تھی کہ میں جب بھی گرفتار ہوجاتا مجھ پر بنائے گئے پہلے مقدمات ہی مجھے پھانسی کے پھندے پر پہنچانے کے لیے کافی تھے۔
اگر سچ کہوں تو گرفتاری کے بعد شاید ہی مجھ پر مقدمات چلائے جاتے مجھ پر جس حد تک مقدمات درج ہوچکے تھے اور ان میں جو جو دفعات لگائی جا چکی تھیں ان سے آدھی بھی کسی ملزم پر ہوں تو اسے عدالت میں پیش کرنے کے بجائے پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار یہ مجرم خود بھی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے مجرم اگر ناکافی ثبوتوں اور گواہوں کے منحرف ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر ہتھکنڈوں کی بناء پر وہاں ہونے میں کامیاب ہوجائیں ئ رہا ی کے بعد اس تھانہ کے عملے کو ً تو وہ انتقاما مار دیتے ہیں جنہوں نے اسے گرفتار کیا ہو یہی سلوک ان کے خلاف گواہی دینے والے افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس لیے پولیس یا تو ایسے خطرناک اشتہاریوں کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی اور انہیں ان کا کام کرنے دیتی ہے۔
جنوبی پنجاب میں کچے کا علاقہ ایسے اشتہاریوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب خوفزدہ پولیس اہلکاروں اور افسروں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب اگر پولیس انہیں گرفتار کر ہی لے تو پھر انہیں زندہ چھوڑنے کا خطرہ مول نہیںلیا جاتا یا تو انہیں پولیس مقابلے میں پار کردیا جاتا ہے یا پھر ان کے کسی مخالفت سے ساز باز کر کے رہائی ف بعد مخال ین کی گولیوں کا نشانہ بنوا دیا جاتا ہے۔ اس طرح ً کے فورا
پولیس اہلکار ان کے ساتھیوں کے عتاب سے بھی بچ جاتے ہیں اور ان کی توجہ ان کے ہی مخالفین کی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ان اشتہاریوں کے بدلے سے بھی محفوظ ہوجاتے ہیں یہ ایک تیر سے دو شکار کے مترادف ہے۔
میں لاکھ انکار کروں لیکن یہ حقیقت تھی کہ میرا شمار ایسے ہی مجرموں میں ہونے لگا تھا۔ کچہری کے احاطے میں کی جانے والی فائرنگ سے لے کر شاہد ملتانی کے ہمراہ پولیس مقابلے تک میرے کھاتے میں اس قدر مقدمات درج ہو چکے تھے کہ اب مجھے ٹاپ بدمعاشوں میں شمار کیا جانے لگا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ میرے نام یا چہرے کی بھنک اور سرکاری ریکارد اس بازار تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ البتہ یہ لازم تھا کہ میرے فرار کے بعد جٹاں والے کے ایک ایک گھر کی سخت تلاشی لی گئی ہو گی تاکہ زخمی کمالے کو برآمد کیا جاسکے۔
شکیلہ بائی کی نظریں مجھ پر تھیں اور میں سود و ضیاع کے چکر میں الجھا ہوا تھا۔ بالآخر میں نے فیصلہ کرلیا مجھ پر ایک ایک قتل ڈالا جاتا یا سو قتل ڈال دیے جاتے میں محفوظ تب تک ہی تھا جب تک پولیس کی گرفت سے باہر تھا۔ اس لیے میں نے ایک اور قتل قبول کرنے کا فیصہ کرلیا۔
میرا جواب سنتے ہی شکیلہ بائی کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ میں نے اسے یقین دلانے کے لیے کہا۔
شکیلہ بائی تم ابھی مجھے نہیں جانتی میں اس قدر قتل کرچکا ہوں کہ اب مزید کسی قتل سے مجھے ’’ کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لیے اگر یہ قتل میرے کھاتے میں ڈالنے سے تمہاری جان بچ جائے گی تو ‘‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تم یہ شوق پورا کرسکتی ہو۔
میرے جواب سے شکیلہ بائی کے محافظوں کے تنے ہوئے اعصاب بھی ڈھیلے پڑ گئے۔ اب میں اس قتل میں ان کا حصہ دار تھا۔ اس لیے بائی کے اشارے پر انہوں نے اپنی رائفلوں کا رخ نیچے کرلیا اور کمرے سے باہر چلے گئے۔
یہ ایک طرح سے مجھے بتایا گیا تھا کہ اب میں اس کے لیے قابل اعتبار ہوں میں جانتا تھا کہ اس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے اس کے محافظ بظاہر کمرے سے باہر چلے گئے تھے لیکن اب بھی مجھے پر ان کی گہری نظر ہوگی اور میری ایک غلط حرکت میری موت کا باعث بن سکتی تھی۔
میرا فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جو مجھے خطرے میں ڈال دے اس لیے میں آنکھیں بند کر کے ایک طرف بیٹھ گیا۔ بائی کمرے سے باہر چلی گئی اور کچھ دیر بعد کھانا لے آئی۔ میں نے کھانا کھاتے وئے اس سے پوچھا کہ مجھے کب یہاں سے نکالے گی اس نے کہا۔
تم چاہو تو ابھی چلے جائو میں تمہیں نہیں روکوں گی لیکن ابھی حالات ٹھیک نہیں ہیں باہر تمہیں تلاش ’’ بجے جائو گے تو اس بازار 8 یا 7 کیا جا رہا ہے اس لیے رات ڈھلنے دو صبح یہاں رات ہونے لگتی ہے تم اگر کے سبھی مکین سو رہے ہوں گے۔ ارد گرد مووجد بازاروں میں دکانیں کھلنا شروع ہو چکی ہوں گی اور کاروباری سرگرمیاں آنکھ کھول کر جاگ گئئی ہوں گی اس وقت تم انہی میں شامل ہو کر یہاں سے نکل سکتے ہو۔
ابھی بظاہر رات ہے لیکن اس وقت یہ بازار خوب روشن ہے تمہیں رات کے اندھیرے میں فرار ہونا ہے لیکن یہ ذہن میں رکھنا کہ اس بازار میں رات تب آتی ہے جب شرفا کے شہر میں دن ہوتا ہے۔ میں نے سر ہلایا تو اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
‘‘ ابھی کافی وقت پڑا ہے تم چاہو تو اطمینان سے سو سکتے ہو۔ جب وقت ہوگا میں تمہیں جگا دوں گی۔ ’’
پھر وہ کمرے سے باہر کی جانب چل دی۔ دروازے کے پاس اس نے مڑ کر میری جانب دیکھا اور کہنے لگی۔
یہ شک اپنے ذہن سے نکال دو کہ میں تمہیں دھوکے سے پکڑا دوں گی اگر میں نے ایسا کرنا ہوتا تو پھر ’’ اس وقت تمہیں گرفتار کروا دیتی جب تم میرے گن مینوں کے نشاے پر تھے۔ تمہاری گرفتاری میرے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ تم پکڑے گئے تو ساتھ والے گھر میں پڑی لاش میرے گلے کا پھندا بن جائے ‘‘ گی۔ اس لیے تمہیں ہر حال میں یہاں سے فرار کروانا میرے لیے بہت ضروری ہے۔

Read More:  Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 4

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: