Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 2

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 2

آپ کی چمڑا رنگنے کی فیکٹری کا آلودہ پانی براہ راست بڑی نہر میں شامل ہو رہا ہے۔ یہی پانی فصلوں ’’ کو بھی دیا جاتا ہے۔ لوگوں کے مویشی اور جگہوں پر تو انسان بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔یہ پانی اس کے چہرے پر بڑی خبیث سی مسکراہٹ چمکی۔ بڑی ‘‘ فصلوں اور جان داروں کے لیے بے حد مضر ہے۔ تائو دلانے والی مسکراہٹ تھی۔ مجھے اپنے خون میں کھولن سی محسوس ہوئی۔ میں نے خود پر قابو پاتے اللہ نے آپ کو وسیع رزق دیا ہے۔ آپ ٹریٹ منٹ پلانٹ لگوالیں اس سے گزرنے کے بعد ’’ ہوئے بات مکمل کی۔ یہ پانی اس قابل ہوجائے گا کہ اسے نہر میں چھوڑا جائے اور آپ کے فیکٹری سے نکلنے والے اس آلودہ پانی
کے پائپ سے ہمارے فش فارم کو بھی مستقل خطرہ ہے۔ یا تو آپ کنکریٹ کا پائپ ڈلوا لیں یا پھر پائپ کا ‘‘ راستا بدل دیں۔
وہ میجر ’’ بڑے میاں نے طیش آمیز تلخی سے کہا۔ ‘‘ تیرے منہ میں تو وہی زبان ہے جو تیرے باپ کی ہے۔ ’’ ‘‘کے کان بھرتا رہتا ہے۔
یہ محض کسی فرد واحد کا نقصان نہیں ہے۔ پورے علاقے کو اس گندے پانی سے خطرات لاحق ہو چکے ’’ میری آواز غیر ارادی طور پر بلند ہوگئی۔ ‘‘ ہیں۔ میرے باپ نے آواز بلند کی ہے تو اس میں سبھی کا بھلا ہے۔
میں نے اپنے عقب میں رائفل مین کو حرکت کرتے دیکھا۔ اگلے لمحے رائفل کی سرد نال میری گردن سے آلگی۔
رائفل بردار نے درشت انداز میں کہتے ہوئے ٹہوکا دیا۔ ‘‘ آواز نیچی رکھ۔ ‘اوئے’’
مجھے لگا جیسے میرا وجود ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گا۔ سبھی اندیشے اور مصلحتیں کہیں دور جا سوئی تھیں۔ بے عزتی کاشدید احساس ہر چیز پر حاوی ہوگیا تھا۔
میں نے رائفل کی نال پر ہاتھ ڈالا اور ایک زور دار جھٹکا دیا۔ رائفل بردار کو شاید اتنے شدید رد عمل کی توقع نہیں تھی۔ وہ میرے کندھے کے اوپر سے بڑے میاں کے قدموں میں جا گرا۔
رائفل میرے ہاتھ میں رہ گئی تھی۔ اس کا ٹھنڈا فولادی لمس میں نے پہلی دفعہ محسوس کیا تھا۔ یہ سارا کچھ ایک لحظے میں ہوگیا تھا۔ بڑے میاں بھی ششدرہ رہ گیا تھا۔ اس کے کھلے منہ سے جھانکتا سونے کا دانت واضح نظر آرہا تھا۔
سب سے پہلے نہتے رائفل مین کو ہوش آیا۔ بڑے میاں کے سامنے ہونے والی اس رسوائی کے سبب اس کا ً چہ رہ مسخ سا ہو گیا تھا۔ وہ یقی نا کوئی نامی گرامی ہستی تھی۔ جسے ایک لڑکے نے بری طرح اچھال دیا تھا۔
رائفل کو ابھی تک میں نے نال کی طرف سے ہی پکڑ رکھا تھا۔ در حقیقت مجھے سوجھ ہی نہیں رہا تھا کہ میں کیا کروں۔ اس لمحے سے رائفل مین نے فائدہ اٹھایا۔ ایک بھڑک کے ساتھ وہ مجھ پر جھپٹا رائفل پر ہاتھ ڈالتے ہی اس کے سر کی زور دار ٹکر میرے سینے پر لگی۔ رائفل چھوٹ گئی اور میں الٹ کر گرا۔
اس کے ساتھ ہی میرے دماغ پر سرخ سی دھند نے یلغار کردی۔ الٹتے ہی میں کھڑا ہوگیا سینے میں درد کے گولے پھٹ رہے تھے مگر طیش درد پر حاوی تھا۔ رائفل بردار نے رائفل کو نال سے پکڑ کر گھمایا۔ نشانہ میرے سر کا تھا۔ میں نے جھکائی دے کروار خالی کیا۔ اسی وقت کئی افراد بھرا مار کر گھس آئے۔ میں نے بھرپور مزاحمت کی۔ مگر انہوں نے مجھے جکڑ کر بے بس کردیا۔ اس کشمکش کے درمیان کمرے کا حشر نشر
ہوگیا تھا۔ بچا تھا تو محض بڑے میاں کا تخت جس پر وہ دانت بھینچے بت بنا بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں طیش کی بجلیاں تڑپ رہی تھیں۔
میری حالت بھی زیادہ بہتر نہیں تھی۔ قمیص کا نام و نشان نہیں تھا۔ بنیان پھٹ چکی تھی۔ چہرے پر چوٹوں کے متعدد نشان تھے اور منہ میں خون کا ذائقہ گھلا ہوا تھا۔
میری مزاحمت کے دم توڑتے ہی بڑے میاں کھڑا ہوگیا تھا۔ مستحکم قدموں سے چلتا ہوا وہ میرے قریب آیا میرے ڈیرے پر چلا آیا ہے۔ اس لیے چھوڑ رہا ہوں۔ آئندہ آواز نیچی رکھنا اور نظر ’’ اور زہر خند انداز میں بولا۔ اس نے زور لگا کر میرا سر جھکانے کی کوشش کی۔ مگر میں نے سر نہیں جھکایا۔ اس کے گرگروں ‘‘ بھی۔ نے زور لگا کر میرا سر جھکایا۔
کہہ دینا اپنے باپ اور اس کے حمایتی سے پائپ بھی وہیں رہے گا اور فیکٹری کا پانی بھی نہر میں جائے ’’ ‘‘ گا۔ جس نے جو اکھاڑنا ہے بیگھے ملوں کا اکھاڑلے۔
ظلم و زیادتی کے دن تھوڑے ’’ میں نے بغیر کسی لحاظ کے کہا۔ ‘‘ میاں تو نے بات کو خواہ مخواہ بڑھایا ہے۔ ’’ ‘‘ ہوتے ہیں۔
بڑے میاں نے حقارت بھری نظر مجھ ڈالی اور اپنے گرگروں سے کہا۔ مجھے ڈیرے کے باہر چھوڑ دیا جائے۔ میں ڈیرے سے نکلا تو جسمانی چوٹوں سے زیادہ ہونے والی بے عزتی سے چور تھا۔
چند قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے والد صاحب چند دیگر افراد کے ساتھ آتے نظر آئے۔ قدموں میں تیزی اور چہرے پر موجود تشویش سے اندازہ ہوتا تھا کہ کسی نے مجھے بیگھے ملوں کے ڈیرے میں داخل ہوتا دیکھ کر انہیں اطلاع کردی تھی۔
کیا ’’ مجھے پہچانتے ہی ان کا چہرہ دھواں ہوگیا۔ مجھے بانہوں میں تھامتے ہی انہوں نے ٹٹولتے ہوئے کہا۔ ان کی آواز میں طیش کروٹ لینے لگا۔ دوسرے افراد نے بھی مجھے ڈھانپ ‘‘ہوا پتر؟ کس نے مارا ہے تجھے؟ لیا۔ ان میں نگہت کا منگیتر صابر بھی تھا۔
ایک مسئلہ سلجھانے لگا تھا۔ مگر وہ مزید الجھ گیا ’’ میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔ ‘‘ کچھ نہیں ہوا۔ ’’ ‘‘ ہے۔ اسی چکر میں یہ حال ہوا ہے۔
یہ بیگھے ملوں کا کام ہے۔ اب ان کا حوصلہ بڑھ گیا ہے جٹوں کے ’’ صابر نے جوش بھرے انداز میں کہا۔ ‘‘ منڈے پر ہاتھ اٹھا کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ اب جواب دینا ضروری ہوگیا ہے۔
دیگر افراد نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ہ ی دنگے فساد کا ماحول بن گیا۔ ً فورا
والد صاحب نے پوچھا۔ ‘‘ مگر ہوا کیا ہے؟ تو کیا کرنے گیا تھا بیگھے ملوں کے ڈیرے پر؟ ’’
میں ہ ان یں تفصیل بتائی۔ جسے سن کر میری برادری کے نوجوانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ ً نے مختصرا گئی۔ اس دوران برادری کے کچھ اور لوگ بھی پہنچ گئے تھے۔
والد صاحب نے فطری فہم و فراست سے کام لے کر جذباتی نوجوانوں کو قابو میں کیا۔ بیگھے ملوں کے ساتھ ہونے والے کسی فوری تصادم کا نتیجہ سراسر بیگھے ملوں کے حق میں نکلتا۔
اپنی برادری کے درجنوں مردوں کے علاوہ ان کے پاس کرائے کے ٹٹوئوں کی بھی مختصر سی فوج تھی۔ کئی نامی گرامی اشتہاری اور مفرور ڈکیت و قاتل ان کے محفوظ ڈھیروں پر پناہ لیے رہتے تھے۔ جنہیں وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ بظاہر پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ بھی ان کا گٹھ جوڑ بنا ہوا تھا۔
اگر ہوش کے بجائے جوش سے کام لے کر یہ جذباتی نوجوان ڈیرے پر ہلہ بول دیتے تو رائفل برداروں کا کہاں سامنا کر سکتے۔ اپنا نقصان کروانے کے ساتھ ساتھ جارح کی حیثیت سے پولیس کے جوتے بھی کھاتے۔
میرا اپنا دماغ آگ پر دھری ہانڈی کی مانند کھول رہا تھا۔ جی چاہتا تھا رائفل لے کر بیگھے ملوں کے ڈیرے میں گھس جائوں۔ سب کو مار دوں یا خود مرجائوں۔ مگر ناتوانی اور بے بسی کا احساس کچو کے لگا رہا تھا۔
والد صاحب سبھی کو سمجھا بجھا کر وہاں سے لے آئے۔ میری حالت دیکھتے ہی ماں نے کلیجہ تھام لیا۔ نگہت رونے لگی۔
صابر ئ تھا۔ والد ‘‘ڈاکٹر صاحب’’ تھا تو وہ ڈسپنسر مگر کہلاتا‘ موٹر سا یکل پر جا کر ڈاکٹر کو لے آیا ً فورا صا د کپڑے تب یل کیے اور گھر سے نکل گئے۔ ً حب نے فورا
…٭٭٭…
اچانک میری نظریں ایک گھڑ سوار پر پڑی۔ ماضی سے حال کا سفر میں نے لحظے بھر میں طے کرلیا۔
کولٹ خود بخود میرے ہاتھ میں آگیا۔ گھڑ سوار کا انداز مشکوک تھا۔ وہ گھوڑے کو دبے قدموں چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ملگجے اندھیرے میں اس کے ہاتھ میں رائفل کا ہیولہ بھی صاف نظر آرہا تھا۔ اچانک میری تمام تر حسیات آنکھوں میں سمٹ آئیں یہ ایک درجن سے زائد گھڑ سوار تھے۔ جو بڑی خاموشی کے ساتھ ہمارے پڑائو کو گھیرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
میں بڑی آہستگی سے پتھر پر لیٹ گیا۔ اس بلند پتھر سے مجھے اپنا پڑائو اور اس کا گرد و نواح واضح نظر آرہا تھا۔
مشکوک گھڑ سوار اب گھوڑوں سے اتر آئے تھے اور پتھروں کی آڑ لے کر پڑائو کی طرف بڑھنے لگے۔ آڑ اور احتیاط کے سبب وہ ابھی تک پڑائو کے چوکس پہرے داروں کی نظروں میں نہیں آئے تھے۔ میرے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ میرے من پسند کھیل کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔
مزید خاموش رہنے کا مطلب یہ تھا کہ گھڑ سوار اچانک ہلہ بول کر ابتدائی کامیابی حاصل کرلیتے۔ مجھے شدت سے رائفل کی کمی کا احساس ہوا۔ اگر میرے پاس اس وقت خود کار رائفل ہوتی تو میں کم از کم دو افراد کو ضرور گرا لیتا۔ بہر حال میرا کولٹ کم از کم پڑائو والوں کو ہوشیار تو ضرور کرسکتا تھا۔
رینج میں نہ ہونے کے باوجود میں نے ہیولے پر یکے بعد دیگرے دو فائر کیے ہ ی پتھر سے نیچے کود ً اور فورا گیا۔ ایک مزید ئ وا ی فائر بھی میں نے کردیا۔ َہ
ان دو فائروں نے پر سکون رات کا سکوت درہم برہم کردیا۔ محض چند لمحوں کے وقفے سے فضا فائرنگ کی بھیانک آوازوں سے گونجنے لگی۔ ایک فل میگزین برسٹ اس پتھر پر مینہ کی مانند برسا جہاں سے میں نے فائرنگ کی تھی کئی پتھر ٹوٹ کر مجھ پر گرے تھے۔
مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ زبردست گھن گرج والی خوف ناک ایم جی تھی۔ یعنی حملہ آور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس تھے۔
پڑائو کی ئ وا ی فائرنگ ہوئی جو چند لمحوں بعد دو طرفہ فائرنگ میں َ جانب سے پہلے کتے بھونکے پھر ہ تبدیل ہوگئی۔ خاموش رات تیزی سے چھوٹے سے میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی تھی۔
مجھے یقین تھا کہ میرے کولٹ ریوالور سے نکلنے والی گولیوں کی مخصوص سیٹی جیسی آواز پڑائو کے اسلحہ شناسوں نے پہچان لی تھی۔ گل ریز سمیت کئی افراد میرے پاس کولٹ کی موجودگی سے آگاہ تھے۔ دونوں طرف سے فائرنگ پوری شدت سے ہو رہی تھی۔ نباتات کی مہک پر بارود کی منحوس بو غالب آتی جا رہی تھی۔
میں نے آڑے لے کر پڑائو کا رخ کیا۔ میں جانتا تھا کہ گل ریز میرے لیے فکر مند ہوگا۔
جتنی تیزی سے فائرنگ شروع ہوئی تھی۔ اتنی ہی تیزی سے رک بھی گئی ۔ اندھا دھند فائرنگ کے بعد ً یقی نا دونوں طرف گولیاں محفوظ رکھنے کا خیال غالب آگیا تھا۔
اچانک ہونے والی خاموشی غیر فطری اور اعصاب پر بوجھ سی محسوس ہونے لگی تھی۔ فائرنگ کے شور میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھ رہا تھا۔ کسی قسم کی آہٹ پیدا نہ کرنے کے خیال سے میں ایک پتھر ‘ میں
کی اوٹ میں دبک گیا۔ جا بجا بکھرے ہوئے بڑے بڑے پتھروں نے دونوں فریقوں کو محف وظ قدرتی پناہ گاہیں فراہم کردی تھیں۔
میری تمام تر حسیات بے دار ہوچکی تھیں۔ میں گرد و پیش سے چوکنا تھا۔ ایک بار پھر میں نے آہستگی کے ساتھ اپنا سفر شروع کردیا۔
فضا کا سکوت ایک دفعہ پھر درہم برہم ہوا۔ ایک مختصر سے برسٹ نے پھر اس جگہ کی خبر لی جہاں سے میں نے فائرنگ کی ابتدا کی تھی۔ پڑائو کی طرف سے البتہ خاموشی رہی۔
اوئے خنزیر کے بچے! کہیں مر تو نہیں گیا؟ ’’ برسٹ کے بعد ایک بھاری سی مردانہ آواز نے پشتو میں کہا۔ اس نے ناقابل اشاعت اور اشتعال انگیز الفاظ ادا کیے۔ ‘‘!… پیٹھ پر وار کرتا ہے۔ ایم جی سامنے ہے تو
مگر میں اب خود پر قابو رکھنا سیکھ گیا تھا۔ میری چلائی گولیاں رائگاں نہیں گئی ‘ خون میں کھولن ہوئی تھیں۔ ضرور انہوں نے کسی کا مزاج پوچھا تھا۔ اسی سبب وہ گند اگل رہا تھے۔ مجھے اشتعال دلانے کی یہ بڑی عیارانہ حکمت عملی تھی۔ اندھیرے میں رائفل کی نال سے نکلنے والی چنگاریوں سے پوزیشن کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ مجھے اشتعال دلا رہے تھے کہ میں فائرنگ کروں اور انہیں میری پوزیشن کا اندازہ ہو۔
ایک دفعہ پھر کئی رائفلیں گرجیں اور میرے ارد گرد چنگاریاں سی اڑ گئیں۔ یہ اندازے سے کی جانے والی فائرنگ تھی۔
اس دفعہ پھر پڑائو کی جانب سے زبردست فائرنگ ہونے لگی۔ نالے کی طرف ہونے والی فائرنگ سے انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ فائرنگ کا ہدف کون ہے اور یہ بھی ممکن تھا للکارا بھی انہوں نے سنی ہو۔
میرے سفر میں تیزی آگئی۔ اچانک میں نے ایک پتھر کی اوٹ سے برق رفتار شعلے پڑائو کی جانب اڑتے ً دیکھے۔ یقی نا پتھر کی اوٹ میں کوئی دشمن جاں موجود تھا۔
انگلیوں میں مخصوص اینٹھن جاگ اٹھی۔ میں نے رخ تھوڑا سا تبدیل کرلیا۔ فائرنگ کا شور مجھے کور فراہم کر رہا تھا۔
آخری چند گز میں نے رینگ کے طے کیے۔ وہ ایک قوی ہیکل شخص تھا۔ پتھر کے عقب میں وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے بیٹھا تھا۔ خود کار رائفل اس نے پتھر کے اوپر لٹکائی ہوئی تھی۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دو چھوٹے چھوٹے برسٹ فائر کیے۔ میں چاہتا تو بڑی آسانی کے ساتھ ‘‘کمارا جٹ’’ میرا ہمزاد جسے دنیا ‘ عقب سے اس کی کھوپڑی میں فائر اتار سکتا تھا۔ مگر میرے اندر بستا کہتی تھی کروٹیں لے کر بے دار ہو چکا تھا۔
میں نے ایک جست بھری اور اس قوی ہیکل ہ میں نے اسے کمر سے تھام کر ‘ وا ی میں َ رائفل بردار پر جا پڑا۔ ہ اچھالا تھا۔ اس کے ہاتھ سے رائفل چھوٹ گئی تھی اور اس اچانک پڑنے والی افتاد کے سبب وہ بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ اس بوکھلاہٹ کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کے سینے پر سوار ہو کر میں نے یکے بعد دیگرے دو گھونسے اسے جڑ دیے۔
سنبھلتے ہی اس نے مجھے خود سے جھٹک دیا۔ چند لحظے بعد ہم دونوں آمنے سامنے تھے۔ وہ قوی ہیکل اور درمیانے قد کا سرتا پا قبائلی نظر آتا تھا۔ گلے میں گولیوں کے ہار اور چہرے پر منڈاسا مارا ہوا۔ اچانک میں چونکا۔ میرے سامنے ایک سو فیصد ڈاکو کھڑا ہوا تھا۔ جس کی گدلی آنکھوں میں میرے خون کی طلب تھی۔
ایک گالی کے ساتھ وہ مجھ پر حملہ آور ہوا۔ انداز ایسا تھا جیسے مجھے بازوئوں میں بھر کر پیس دے گا۔ میں نے ایک جچی تلی پائوں کی ضرب اس کے سینے پر ماری۔ یہ طاقت سے زیادہ توازن اور ٹائمنگ کا کھیل تھا۔ وہ جتنی تیزی سے میری طرف آیا تھا اتنی تیزی م وا یں اچھل کر پشت کے بل ایک پتھر پر َ سے ہ گرا۔
میرے پاس کھیلنے کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا۔ قریب و جوار میں اس کے دیگر ساتھی موجود تھے۔ جو اس طرف متوجہ ہوسکتے تھے۔
وہ کھڑا ہوا ہی تھا کہ میں اس کے سر پر پہنچ گیا۔ پھر جیسے بجلی سی چمکی۔ اس کم بخت نے نا جانے کہاں سے ایک فٹ لمبا چھرا نکال لیا تھا اور اسے سرعت سے گھمایا بھی تھا۔ ً بالکل آخری لمحے پر میں نے پہلو بدلا تھا۔ دھاتی لکیر تقری با میرے سینے کو چھوتی ہوئی گزری تھی۔ میں ہی چھرا بردار کو بغل میں داب کر کہنی کی بھرپور ضرب مد مقابل کی کھوپڑی پر لگائی۔ یہ ضرب ً نے فورا آزمودہ تھی اور خچر کو بھی لٹا سکتی تھی۔ مد مقابل کے حلق سے بے معنی سی آواز نکلی اور اس کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ میں نے اسے چھوڑا تو وہ پٹ سے میرے قدموں میں گرا۔ چھرا پہلے ہی اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔
اچانک ایک آہٹ ابھری میں تیزی سے پلٹا ایک طویل القامت سایہ مجھ پر جھپٹ چکا تھا۔ اس کا رائونڈ پنچ کے انداز میں گھونسہ میری تھوڑی کے نیچے پڑا اور آنکھوں کے سامنے رنگ برنگے ستارے ناچ گئے۔ میرے قدموں نے زمین چھوڑ دی تھی۔ میں اچھل کر سنگلاخ زمین پر پشت کے بل گرا تھا۔
میںنے اپنی دھواں دھار زندگی میں بلا شبہ سیکڑوں لڑائیاں لڑی تھیں مگر ایسا بہت کم ہوا تھا کہ کسی نے ایک ہی ضرب میں مجھے خاک چٹا دی ہو۔
ہونے کی مخصوص آواز سنی سیاہ ‘‘کاک’’ میں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ اچانک ہی میں نے رائفل کے فولادی نال میرے سینے کی طرف اٹھی۔ یہ بڑا بے بسی کا لمحہ تھا۔ میں نے فرشتہ اجل کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ اپنے بالکل قریب سنی۔
طویل القامت سایہ جس کے ہاتھ میں دبی خود کار رائفل کھلونے کی مانند نظر آرہی تھی دو قدم بڑھا کر خود کو ’’ میری سمت آیا ۔ پشتو کے ایک بدکلامی کے زمرے میں آنے والے جملے کے ساتھ اس نے کہا۔ تیس سیکنڈ میں تجھے ٹانگوں سے پکڑ کرچیر نہ دیا تو اپنے ہاتھ سے گردن …اٹھ …رستم زماں سمجھتا ہے ساتھ ہی اس کی رائفل جھک گئی۔ ‘‘کاٹ لوں گا۔
میرے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ مدمقابل نے دیکھا ہے کہ میں نے اس کے ساتھی کو گولی مارنے کی بجائے ہاتھ سے زیر کیا ہے۔
فائرنگ کا شور بڑھ گیا تھا۔ پتھروں پرگولیاں مینہ کی طرح برس رہی تھیں۔ میرا طاقتور حریف مجھ سے چند میٹر کے فاصلے پر ٹانگیں چوڑی کیے مجھے دعوت مبارزت دے رہا تھا بلاشبہ یہ ایک دلیر شخص کا دلیرانہ اقدام تھا۔ ورنہ اس نے ناصرف مجھے ایک ہی ضرب میں خاک چٹوائی تھی بلکہ میں اس کی رائفل کے بھی نشانے پر تھا۔ اس کے وزنی ہاتھ کی ضرب کاارتعاش ابھی تک محسوس ہو رہاتھا۔ درد کی لہر تھی جو جبڑا ہلنے بھی نہیں دے رہی تھی۔ اگر ضرب کی شدت تھوڑی زیادہ ہوتی تو یقینی طور پر جبڑا ٹوٹ چکا ہوتا۔
جبڑا سہلاتے ہوئے میں اٹھ کھڑا ہوا خجالت آمیز طیش نے یلغار کردی تھی۔ میں نے گزارے لائق پشتو میں ‘‘ میں دوسرا موقع بھی تجھے دوں گا۔ ’’کہا۔
اسی لمحے سیٹی جیسی آواز کے ساتھ ایک اندھی گولی حریف کے سر کے قریب ایک پتھر سے ٹکرائی وہ بے اختیار جھکا ۔ درمیانی فاصلہ کم ہوتا ورنہ رائونڈ پنج کا جواب اس سے بھی زیادہ شاندار طریقے سے دیاجاسکتا تھا۔ میرا جسم محض اضطراری جھٹکا لے کررہ گیاتھا۔
جھکتے ساتھ ہی حریف نے رائفل کا رخ دوبارہ میری طرف کردیاتھا۔وہ ایک چوکس شخص تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک دو نئے زاویوں سے شدید فائرنگ ہونے لگی۔ یہ قدرے بلندی سے ہونے والی فائرنگ تھی۔ میں نے ایک درد میں ڈوبی چیخ بھی سنی۔ اپنا سر بھی مجھے جھکانا پڑا تھا۔ ساتھ ہی میں نے ایک بڑا پتھر تاڑ لیا۔ ایک لمحہ مجھے مل جاتا تو میں اس پتھر کے پیچھے ہوتا۔ کولٹ کا ٹھنڈا لوہا اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ کولٹ ہاتھ میںآتے ہی میں ایک دوجانیں لے سکتاتھا۔
حریف نے وحشت میں ڈوبی آواز میں مجھے گھٹنوں پر جھکنے کاحکم دیا۔ میں نے تعمیل کی۔ اس کی وحشت صاف کہہ رہی تھی کہ اسے میری لمحاتی تاخیر بھی گوارا نہیں۔ مجھ پر میگزین خالی کرنے میں وہ لمحہ بھی نہیں لگائے گا۔
حریف نے ایک پتھر کی اوٹ لے لی۔ اس کی رائفل بدستور میری طرف اٹھی تھی۔ اس نے مجھے بے حرکت رہنے کا نیا حکم دیا اور زور سے اپنے جابر نامی کسی ساتھی کو آواز دی۔ حملہ آور جومیرے قیاس کے مطابق ڈاکو تھے۔ ان میں اس کی کیفیت نمایاں تھی۔میری مداخلت کی وجہ سے ان کا اچانک شب خون کامیاب نہیں ہوا تھا۔ میرے کیمپ والے سنبھل گئے تھے اور بہترین پوزیشن سنبھال چکے تھے۔
اس نے مودب ‘‘ جی سردار! ’’ میں نے جو پتھر تاڑا تھا۔ اسی کے پیچھے سے ایک اور ڈھاٹا پوش برآمد ہوا۔ انداز میں میرے حریف کو مخاطب کیا۔
میں نے پہلی دفعہ اپنے حریف کو بغور دیکھا ۔ ‘ میں پہلی دفعہ چونکا۔ ستاروں کی مدھم روشنی میں اس کے چہرے پرڈھاٹا نہیں تھا مگر نقوش اندھیرے نے چھپالیے تھے۔ وہ طویل القامت اور چوڑاچکلاتھا۔ نمایاں لمبے اورگھنے بال تھے جو چہرے کے اطراف پھیلے تھے۔ ملگجے اندھیرے میں وہ گوریلے کی مانند نظر آرہاتھا۔ ً جابر فو ‘‘اسے ساتھ لے چلو۔ ‘ یہ مقامی نہیں ہے ’’ سردار نے جابر کو مجھے باندھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا۔ را میرے عقب میں آیا۔ میرے رگ وپٹھے تنے تھے۔ رائفل کی نال میرے سینے کی طرف اٹھی تھی۔ مجھے مل جاتاتو میں بازی پلٹ سکتاتھا۔ ‘‘لمحہ’’ محض ایک لمحہ درکار تھا۔ اگر یہ
غفلت کاایسا کوئی لمحہ آنے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے تارے سے ناچ اٹھے۔ میں منہ کے بل پتھریلی زمین پر گراتھا۔ کم بخت جابر نے رائفل کا بٹ میری گدی پر آزمایا تھا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش دوسری ضرب میرے سرپر لگی۔ شدید درد اور تاریکی نے یکلخت یلغار کی۔ قوت برداشت کا دامن ‘ کی ابھی میرے ہاتھ میں تھا۔ اپنے تئیں میں تیزی سے گھوما تھا۔ درحقیقت یہ سلوموشن جیسی حرکت تھی۔
میں نے جابر کی آنکھوں میں اپنے لیے تحیر دیکھا۔ اس کی حیرت بجا تھی۔ دو قیامت خیز ضربیں کھانے کے بعد بھی میں نہ صرف ہوش میں تھا بلکہ اس کے سامنے بھی تھا۔
تیسری ضرب میری پیشانی پر لگی۔ میں پشت کے بل گرا۔ زمین جیسے پھرکی کی مانند گھومی۔ ہوش سے بیگانہ ہوتے ہوئے میں نے سردار کی آواز سنی۔ جو اپنے ساتھیوں کو وہاں سے نکلنے کا کہہ رہاتھا۔ ڈاکوئوں کا شب خوں ناکام رہا تھا۔
…٭٭٭…
نہ جانے کس وقت میں ہوش میں واپس آیا تھا۔ تاریکی میں صرف یہ احساس ہواتھا کہ میرے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں اور مجھے کسی چوپائے پرپیٹ کے بل ڈالا گیا ہے۔
جی بری طرح متلا یا اورایک اور زلزلے جیسی کیفیت کے حامل چکر نے مجھے دوبارہ ہوش سے بیگانہ کردیا۔
دوبارہ ہوش آیا تو مجھے اپنے نیچے کھردرے سے بستر کااحساس ہوا۔ پورا جسم پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا اور سر کی جگہ محسوس ہوتاتھا جیسے منوں وزنی پتھر رکھا ہے۔ سردی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ میرے ہاتھ البتہ آزاد تھے۔
میںنے سر کو جنبش دینے کی کوشش کی ۔ شدید درد کی لہر نے یہ کوشش ناکام بنادی۔
کچھ دیر بے حرکت رہ کرمیں نے چند طویل سانس لیے۔حواس مزید بیدار ہوئے۔ میرے اطراف ملگجا سا اندھیرا تھا۔ یقینا قریب ہی کہیں دیا یا کیروسین لیمپ روشن تھا۔ میرے نیچے کوندر کے خشک پتوں چمکیلے اور خاصے لمبے ‘ ان علاقوں میں عام پایا جانے والا پودا تھا جس کے پتے موٹے …کابستر تھا۔ کوندر ہوتے ہیں۔ میری حس شامہ ان پتوں کی مخصوص خوشبو سے آشنا تھی۔
اپنے پیروں کے قریب مجھے کسی کپڑے کی موجودگی کااحساس ہوا۔ میں نے پیروں کی مدد سے اسے ایسے کمبل جیل میں قیدیوں کو اوڑھنے کے لیے دیئے جاتے ‘ کھینچ لیا۔ یہ ایک بدبودار پٹ سن کاکمبل تھا ہیں۔
میں نے غنیمت جانتے ہوئے اس کمبل کو سینے تک اوڑھ لیا۔ کچھ دیر بعد میں اپنے سر کو حرکت دینے پر قادر ہوگیاتھا۔ میں نے پیشانی پرہاتھ پھیرا جہاں سے درد کی شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ وہاں انڈے کے سائز کا گومڑ نمودار ہوچکاتھا۔ سر کے عقبی نچلے حصے پر ہاتھ پھیرنے سے اندازہ ہوا کہ یہاں سے خون نکلا البتہ گردن اور کان کے قریب خشک ہو کر جم چکاتھا۔ ‘تھا۔ جو اب بند ہوچکاتھا ً اتنی دیر میں میری آنکھیں ملگجے اندھیرے کی عادی ہوچکی تھیں۔ میں نے اط راف پرنظر ڈالی۔ یہ اندازا یہاں کوئی اور بھی موجود تھا۔ بلکہ یہ دو افراد تھے جو کمبل ‘ پندرہ ضرب آٹھ فٹ کا کمرہ تھا۔ میں چونکا لپیٹے یقینا نیند میں ڈوبے ہوئے تھے۔
ایک طرف لوہے کی موٹی سلاخوں والا دروازہ تھا۔ جس کے دوسری طرف راہداری کی کچی دیوار پھر ایک کیروسین لیمپ کیل کے سہارے ٹنگا تھا۔ جس کی روشنی اس قید خانے میں بھی آرہی تھی۔
چار فٹ اونچی مٹی کی دیوار تھی۔ جو یقینا اس قید خانے کا واش روم تھا۔ اس دیوار ‘ ایک کونے میں تین کے قریب ہی مٹی کاایک مٹکا رکھا ہوا تھا جس پر پلاسٹک کا گلاس اوندھا رکھا تھا۔
چھوڑااور سرمیںہوتے درد کے ‘‘ عالیشان بستر ’’ پانی دیکھ کرمجھے پیاس کااحساس ہوا۔میںنے اپنا دھماکوں کو دباتا ہوا پانی کی طرف بڑھا۔ میرے قدموں میں خفیف سی لڑکھڑاہٹ تھی۔
یخ ٹھنڈے پانی نے جسم میں کپکپاہٹ سی دوڑا دی۔ مگرپین کلر کا کام بھی دیا۔ ساتھ ہی مجھے اپنی اسی وقت کہیں قریب ‘ توانائیاں لوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ میں نے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارے سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ لائوڈ اسپیکر کے بغیر موذن کسی اونچی جگہ پر کھڑا فلاح کی طرف لوگوں کو بلارہاتھا۔ نماز نیند سے بہتر ہے۔
میں وہیں بیٹھا رہا۔ یہ فجر کی اذان تھی۔ اس کامطلب تھا کہ سحر ہونے میں کچھ ہی دیر ہے۔
اذان کا اختتام ہوتے ہی میں اٹھااور مستحکم قدموں سے چلتا ہوا سلاخوں والے داخلی دروازے کے قریب چلا گیا۔ راہداری کامنظر مزید نمایاں ہوگیا۔ راہداری میں کسی انسان کی موجودگی کا احساس نہیں ہو رہا میری آواز کی بازگشت ابھری مگر جواب ندارد۔ ‘‘ کوئی ہے؟ ’’ تھا۔ میں نے بلند آواز اور پشتو میں کہا۔
میںنے پھر آواز دی۔ کوئی ردعمل سامنے ناآیا تو میں نے زور سے لوہے کی سلاخوں کو جھنجوڑتے ہوئے کہا۔ ‘‘ کوئی کتے کا جنا میری آواز سن رہا ہے؟ ’’
اپنی جان کے دشمن چپ کرکے بیٹھ …اوئے’’ اپنے عقب سے ایک ڈری ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ ‘‘ جا۔ کیوں اپنی موت کو للکار رہا ہے۔
میںنے سرگھمایا۔میرے سامنے دو بے حد ہراساں چہرے تھے۔ ایک ادھیڑعمر کابالکل گول چہرہ تھا۔ جس پرکئی دنوں کی بڑھی ہوئی داڑھی تھی۔ مجھے خبردار کرنے والا یہی تھا۔
دوسراایک نوعمر لڑکاتھا۔ شکل وصحت سے وہ مجھے اپرپنجاب کالگا۔ اس کی پھٹی ویران آنکھوں میں میرے لیے بڑ ی خوف آمیز حیرت تھی۔
میرے جواب دینے سے پہلے راہداری میں تیز قدموں کی چاپ ابھری۔ یہ تیزی یقینا میری بدکلامی کے سبب تھی۔
مونچھوں والا پستہ قد قبائلی ‘ میں نے رخ راہداری کی طرف کرلیا۔ اگلے ہی لمحے ایک جھاڑ جھنکار داڑھی میرے سامنے تھا۔ چرس کے زور دار سوٹوں کے سبب اس کی آنکھیں خون کبوتر کی مانند سرخ ہو رہی تھیں۔ اپنے قد کے برابر اس نے دیسی ساختہ وزنی رائفل بمشکل اٹھا رکھی تھی۔ چہرے کے نقوش کو طیش اور حیرت کے ملے جلے تاثرات نے عجیب سا روپ دیا تھا۔ نہ جانے کیوں اسے دیکھ کر میری حس مزاح پھڑکی۔ اس کے کچھ کہنے سے پہلے میں نے کہا۔
‘‘ تجھے دیکھ کرمعلوم ہوا ہے کہ یہاں رشین نسل کے کتے بھی پائے جاتے ہیں۔ ’’
وزنی رائفل اس نے حیرت انگیز پھرتی سے میری ‘ اس کے چہرے پر زلزلے کی سی کیفیت نمودار ہوئی میں نے ایک ہذیانی چیخ سنی۔ ‘ طرف سیدھی کی۔ اپنے عقب میں
مجھے جو لمحہ چاہیے تھا وہ مل گیا تھا۔ سلاخوں کا درمیانی خلا اچھا خاصا تھا۔ میں نے اپنی دسترس میں آنے والی رائفل کی نال پر ہاتھ ڈالتے ہی زور دار جھٹکا دیا۔ یہ لمحے کا گیم تھا۔ مد مقابل کوپتابھی نہیں چلا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ رائفل کوٹھری کے اندر تھی۔ مدمقابل کی پشت سلاخوں کے ساتھ لگی تھی۔ میراایک بازو کوڑیالے سانپ کی مانند اس کی گردن کے گرد لپٹا تھا اور آستین میں چھپا بلیڈ کی مانند باریک فولادی خنجر نہ صرف میرے ہاتھ میں تھا بلکہ میں مدمقابل کی آنکھوں کے سامنے لہرا بھی رہا تھا۔
سانپ جیسی تیز تر حرکت کے ساتھ ہی میرے لہجے میں وہ جادو ‘‘ کوٹھری کی چابی تیرے پاس ہے نا؟ ’’ بھی نمودار ہوچکاتھا جو مدمقابل کو میرا بے دام غلام بنا دیتا تھا۔یہ کسی پیشہ ور صدا کار کالہجہ نہیں کا لہجہ تھا جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے موت کے تعاقب ‘‘کمالے جٹ’’ تھا۔ یہ خون کی ہولی کھیلنے والے میں رہتاتھا اور جان لینے میں بھی ایک لحظہ نہیں لگاتاتھا۔ اپنے الفاظ کو فوری عملی جامہ پہنانے کی طاقت اس لہجے کو خاص طاقت دیتی تھی۔
موت کی زردی اس کے چہرے پر اتر آئی ہے۔ … مدمقابل کاچہرہ تومیرے سامنے نہیں تھا مگر میں جانتا تھا ‘‘بول ورنہ کاٹ دوں گا۔’’
اس نے بمشکل اثبات میں سرہلایا۔
اسے قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ میں راہداری کی طرف سے بھی چوکنا … چابی نکال کر اندر پھینک ’’ تھا۔ کسی دوسرے پہرے دار کی موجودگی عین ممکن تھی۔
مجھے احساس ہوا کہ میری گرفت کچھ زیادہ ہی سخت ہے۔ مدمقابل کے حلق سے خرخراہٹ سی بلند ہو رہی تھی اور جسم آکسیجن کے لیے مچل رہا تھا۔ میں نے اس کی گردن سے گرفت ڈھیلی کی۔ خرخراہٹ خفیف سی کھانسی میں تبدیل ہوگئی۔
ہ ‘‘ نکال چابی ’’ ی اپنے لباس کی جیب میں سے چند چابیوں پرمشتمل گچھا نکال کر نیچے ً اس نے فورا گرادیا۔
اٹھ کر بیٹھے ہوئے ‘‘ روم میٹ ’’ میرے دونوں ‘ مجھے اب کسی مددگار کی ضرورت تھی۔ میںنے سرگھمایا تھے۔ ملگجے اندھیرے کے باوجود میں لڑکے کے جسم کی واضح تھرتھراہٹ دیکھ سکتاتھا۔چہروں کے
تاثرات اندھیرے میں چھپے تھے۔ قیاس یہی ہے کہ وہاں بھی خوف وہراس کے سائے تھے۔ میں نے پشتو میں زیادہ عمر والے کو آواز دی اور چابیاں اٹھا کر کوٹھری کا تالا کھولنے کے لیے کہا۔
اس کی آواز میں لرزش ‘‘ کیوں اپنے ساتھ ہمیں بھی مروانا چاہتا ہے۔ ’’ اس نے سہمی آواز میں جواب دیا۔ یہ بہت خطرناک لوگ ہیں۔ کتوں سے تجھے چیروادیں گے۔ اسے چھوڑ کر اسی کے پائوں میں ’’ بڑھ گئی ۔ ‘‘ شاید تیری جان بچ جائے۔ …گرجا
بزدلی کی ترغیب نے نفرت کی ایک تندلہر میرے وجود میں دوڑادی۔ اسے کوئی سخت جواب دینے سے پہلے میں نے ایک مخصوص جھٹکے سے اپنی گرفت میں آئے پہرے دار کی گردن توڑ دی۔
گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز بڑی واضح تھی۔
اس کے ساتھ ہی اس نے کبوتر کی مانند حالات سے ‘‘ تو مرے گااور ہمیں بھی مروائے گا۔ ’’ ادھیڑ عمر چلایا۔ آنکھیں بند کرلیں اور کمبل اوڑھ لیا۔ لڑکے نے بھی اس کی تقلید کی۔
میرے لہجے ‘‘ حالانکہ موت صرف ایک دفعہ آتی ہے۔ ‘ بزدل لوگ اپنی زندگی میں ہزاروں دفعہ مرتے ہیں ’’ میں ان دونوں کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔ میرے وجود میں چھپا آتش فشاں کروٹ لے کربیدار ہوچکاتھا۔
میرے بازو کی گرفت میں پہرے دار نزاعی جھٹکے لے رہا تھا۔ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ نیچے گرا۔ وزنی لباس کی وجہ سے اس کے گرنے کی زیادہ آواز بلند نہیں ہوئی تھی۔
دو ہی ‘ چابیوں کی تعداد سے اندازہ ہوتاتھا کہ یہ کوئی بڑا نجی جیل خانہ نہیں ہے۔ ممکن ہے یہاں ایک کوٹھڑیاں ہوں۔ اس لیے یہاں پہرے دار بھی ایک آدھ ہی تھا۔ اگر کوئی اور تھا بھی ن یند کے غلبے ً تو غالبا میں تھا۔
وزنی رائفل کندھے سے لٹکا کر میں چند لحظوں میں کوٹھری سے باہر تھا۔ باہر نکلتے ہی میں نے رائفل کے نام سے معروف اس رائفل میں نائن ‘‘ پانچ ڈزی ’’ سیدھی کرلی تھی اور اس کا سیفٹی لاک ہٹادیاتھا۔ ایم ایم کی پانچ گولیوں کامیگزین لگتاتھا۔سنگل شارٹ باآسانی ریچھ کو بھی گراسکتاتھا۔ فی الوقت میرا سامنا انسانوں سے تھا اور میں کسی کو بھی گرانے کے لیے بالکل تیار تھا۔
یہ مختصر سی راہداری تھی جہاں صرف دو کوٹھریاں تھیں۔ سامنے ہی نکاسی کابند دروازہ تھا۔ دروازے کے قریب اونی قالین بچھا تھا۔ جس پرقیمتی اور چمکتے ہوئے کورین کمبل میں لپٹایقینا دوسرا محافظ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا ۔ اس کی دیسی ساخت رائفل بھی دیوار کے سہارے کھڑی تھی۔
میرے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔ میںنے محو خواب محافظ کی رائفل اٹھائی تو اس کا دستہ قریب خانہ ’’ پڑے کھانے کے برتنوں سے ٹکرایا۔ محافظ کے جسم میں حرکت ہوئی اور نیند میں ڈوبی آواز ابھری۔ اگلا فقرہ نہایت نازیبا تھا۔ ‘‘ توپھر چھوکرے کو نکال لایا ہے …خراب ً ان دونوں محافظوں کی شیطانی دست برد کا مسلسل شکار تھا۔ ایک … غالبا میری کوٹھری والا نوعمر لڑکا اپنے انجام کوپہنچ چکا تھا دوسرے کے لیے میرے دل میں بے رحمی شدت سے جاگ اٹھی تھی۔
میں نے رائفل دیوار کے سہارے کھڑی کی اور ایک جھٹکے سے اس کے اوپر سے کمبل کھینچ لیا۔ اس اچانک افتاد سے بوکھلاہٹ کے عالم میں اس کے منہ سے پہلے بے معنی اور پھر گٹر ابل پڑا۔ اس کی اس کے ساتھی نے ‘ آنکھیں بند تھیں۔ واضح طور پر وہ بھی چرس کے نشے میں غرق تھا۔ وہ سمجھ رہاتھا مذاق کے طور پر اس کے اوپر سے کمبل کھینچا ہے۔
خون آشام خنجر دوبارہ میرے ہاتھ میں آگیا تھا۔ جلد کے ہم رنگ بے حد باریک غلاف میں چھپا یہ بلیڈ جیسا خنجر میری کلائی کا حصہ ہی لگتاتھا۔ خصوصی طور پر ٹٹولے بغیر اسے ڈھونڈنا خاصامشکل تھا۔ مجھے ‘ یہاں لانے والوں کے گمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ میری کلائی کے ساتھ ایسی کوئی چیز بندھی ہے انہوں نے محض سرسری تلاشی لے کر میری جیبیں خالی کرنے پر توجہ مرکوز رکھی تھی۔
نسوار اور چرس ‘ میں نے جست کی اوراس گھٹے ہوئے بدن کے قبائلی پر جاپڑا۔ میرے نتھنوں سے پسینے کی ملی جلی بوٹکرائی۔
میں نے بازو موڑ کر کہنی کی جچی تلی ضرب اس کے جبڑے پرماری۔ اس آزمودہ ضرب کا دوسرا فائدہ بلکہ جبڑے پر ضرب لگنے کے سبب اس کے حلق سے زیادہ آواز بھی ‘ تھا۔ نہ صرف وہ اپنے حواس میں آگیا نہیں نکلی تھی۔
اس کا جسم پارے کی مانند مچلا۔ اس نے پوری قوت سے مجھے خود پر سے الٹنے کی کوشش کی مگر میں نے اس کے سینے پر سوار رہتے ہوئے ایک طوفانی گھونسا اس کے مضروب جبڑے پر جڑ دیا۔ اگلے چند لمحوں میں اس کے دونوں بازو میرے گھٹنوں کے نیچے دبے تھے اور خنجر کی باریک نوک اس کی گردن پررکھی تھی۔ میرے ہاتھ کا معمولی دبائو اس کی شہ رگ کاٹ سکتاتھا۔
گردن پر موت کی فولادی نوک محسوس کرتے ہی وہ بے حرکت ہوگیاتھا۔ اس کی گدلی نفرت انگیز آنکھوں ‘‘صولت کہاں ہے؟’’ میں موت کی زردی اتر آئی تھی۔ اس نے بمشکل کھڑکھڑاتی آواز میں کہا۔
‘‘ تیری مراد اپنے شیطان ساتھی سے ہے تو وہ اس وقت خدا کے حضور اپنے گناہوں کا حساب دے رہا ہوگا۔ ’’
اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس سوال کا جواب دینا ضروری ‘‘ تو آزاد کیسے ہوگیا؟ …تو’’ نہیں تھا۔ میں نے خنجر کی نوک دبائی۔ مضروب جگہ سے خون کابڑا سا قطرہ نکل آیا۔ بے اختیار اس نے تکلیف بھری سسکی لی۔
میرے لہجے میں وہی مخصوص درندگی درآئی تھی۔ جو مدمقابل کو مسحور ‘‘ یہ کون سی جگہ ہے؟ ’’ کردیتی تھی۔
پرخنجر کی نوک سے زیادہ اس لہجے نے اثردکھایا۔ موت کی زردی میں ہراس کا رنگ بھی ‘‘ میرے قیدی ’’ اس نے اٹک کر جواب دیا۔ ‘‘گوٹ…با’’ شامل ہوگیا۔
میں چونکا۔گل ریز نے بھی باگوٹ نامی بستی میں سرخ بھیڑیے کی آمد کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ مجھے یہیں پرندوں کے تاجر کے روپ میں آنا تھا۔ مگر تقدیر مجھے کسی اور روپ میں یہاں لے آئی تھی۔
‘‘نا؟‘ تم لوگ ڈاکو ہو ’’
وہ اور اس کے ساتھی ہمارے ملک نورا کے مہمان ‘ سردار نور جان لایا ہے … تمہیں ’’ اس نے نفی میں سرہلایا۔ ‘‘ ہیں۔
‘‘ یہ نور جان کوئی ڈاکو ہے؟ ’’ نورجان کے نام پر ذہن میں کچھ کھٹکنے لگا تھا۔
تو نور جان کا قیدی ہے۔ تو بے ’’ اس کے لہجے نے جان پکڑی۔ ‘‘ قبائلی علاقوں کا سب سے بڑا ڈکیت …ہاں’’ ‘‘ تجھے وہاں سے بھی واپس کھینچ لائے گا۔ ‘وہ… شک بھاگ کر جہنم میں بھی چلا جا
میرے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ میں جان گیاتھاکہ وہ کس نور جان کا ذکر کررہا ہے۔
‘‘ کہتی ہے۔ وہ تجھے بھیڑیے کی طرح ہی چیر دے گا۔ ‘‘ سرخ بھیڑیا ’’ ساری دنیا اسے ’’
اچانک ہی وہ بجلی کی مانند تڑپا۔ اس کے دونوں گھٹنے بیک وقت اور پوری قوت سے میری کمر پر لگے تھے۔ میرے لیے یہ قطعی غیر متوقع حرکت تھی۔ میرا سر پوری قوت سے سامنے والی دیوار سے ٹکرایا۔ وہ تڑپ کرمیرے نیچے سے نکل گیا۔ میرے خنجر نے اس کی گردن اور تھوڑی پر ایک طویل اور گہری سرخ لکیر ضرور چھوڑ دی تھی۔
لیٹے اس کی ٹانگیں اپنی ٹانگوں ‘ اس کے ہاتھ داخلی دروازے کی کنڈی سے ٹکرائے تھے کہ میںنے لیٹے میں جکڑ کر زور دار جھٹکا دیا۔
وہ زمین پر آرہا۔میںنے ٹانگوں کا زاویہ تبدیل کرکے ایک بے رحم جھٹکا دیا۔ خاموشی میں پنڈلی کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز بڑی واضح طور پر ابھری۔ وہ بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپا مگر اس کے حلق سے صرف
مگر اس کی گردن پر نظر پڑتے ‘ خرخراہٹ ابھری۔ میں ایک لحظے کے لیے اس کی قوت برداشت پر حیران ہوا ہی یہ حیرانی دور ہوگئی۔ اس کی تھوڑی اور گردن سے بے تحاشا خون بہہ رہاتھا گردن پر لگنے والے گہرے کٹ نے کسی ایسی نس کو کاٹ دیاتھا جس کے سبب اس کے حلق سے ماسوائے خرخراہٹ کے کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ اپنے تئیں وہ زور زور سے چلا کر اپنے مددگاروں کو آوازیں دے رہا تھا۔
میں نے اطمینان محسوس کرتے ہی اس کی ٹانگوں پر سے گرفت ختم کردی۔ دیوار کے ساتھ سرٹکرانے کی وجہ سے سرمیں دھمک سی پیدا ہو رہی تھی اور گردن کے عقبی حصے کا مدھم پڑجانے والا قیامت خیز درد دوبارہ جاگ اٹھا تھا۔ ً مدمقابل میرے لیے بیکار ہوچکاتھا۔ میں نے دوبارہ اسے دبوچا تو اس کاجسم ٹھنڈا پڑنے لگا۔ اس نے غالبا میری آنکھوں میں اپنی موت کا عکس دیکھ لیا تھا۔
خنجر کی ایک افقی لکیر نے لحظے سے بھی کم وقت میں اس کی گردن کاٹ دی۔ میں نے خنجر اس کے لباس سے صاف کرکے دوبارہ پوشیدہ کرلیا۔ا س کا جسم نزعی جھٹکے لے رہاتھا۔ میں نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔ جلد ہی شلوار کے نیفے میں ا ڑسے فولادی لمس نے میری توجہ کھینچ لی۔
یہ چائنا میڈ نائن ایم ایم تھا۔ اس کا وزن بتارہاتھا کہ میگزین گولیوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ میں نے بیلٹ میں اڑس لیا اور اپنے مقتولین کے بستر پرپڑی ایک گرم سیاہ چادر اپنے گرد لپیٹ لی۔
چادر لپیٹتے ہوئے میرا ہاتھ اپنی تھوڑی سے ٹکرایا تو درد کی لہر نے وہ قیامت خیز ضرب یاد دلادی جس نے مجھے چاروں شانے چت کردیاتھا۔ساتھ ہی وہ ضرب لگانے والا بھی یاد آیا۔ اچانک ہی دماغ میں پھلجھڑی کہہ کرمخاطب کیا تھا۔ کہیں وہی ‘‘سردار’’ سی چھوٹی۔ مجھے باندھنے والے ڈاکو نے اسے بڑے ادب سے تو سرخ بھیڑیا نہیں تھا؟
میر اوجدان کہہ رہا تھا کہ وہی سرخ بھیڑیا تھا۔ ذہن میں کہانی کچھ یوں ترتیب پارہی تھی کہ سرخ بھیڑیا دیکھ کر وہ ‘‘ترلقمہ’’ اوراس کے ساتھی باگوٹ کی طرف آرہے تھے کہ ہمارا کیمپ ان کی نظروں میں آگیا۔یہ ہمارے کیمپ پر ٹوٹ پڑے۔ مگرمیری مداخلت کے سبب یہ لقمہ ان کے حلق سے نہ اتر سکا۔ مال غنیمت کے طو رپر وہ مجھے ساتھ لے آئے تھے۔
گل ریز یقینا میرے لیے پریشان ہوگا۔ سب سے پہلے اسے اپنی خیریت سے آگاہ کرنا بے حد ضروری تھا اور یہ کام یہاں سے نکل کر ہی ہوسکتا تھا۔
میں نے دیسی ساختہ رائفل تھامی اور بے حد آہستگی کے ساتھ داخلی دروازے کی کنڈی کھول کر باہر میں نے بند کردیاتھا۔ ‘ نکل آیا۔ دروازہ عقب میں
میرااستقبال سرد ہوااور تاریکی نے کیا۔ صبح کاذب کسی بھی وقت طلوع ہونے والی تھی۔ میں کچھ دیر وہیں دبکا رہا۔ میری آنکھیں قدرے اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوئیں تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔
میں نے احتیاط سے گھوم کر چاروں طرف کاجائزہ لیا۔ یہ ایک سات آٹھ فٹ اونچی کچی دیوار کا وسیع احاطہ تھا جس کے عین درمیان میں قید خانہ تھا۔ اس احاطے کا وسیع لکڑی کا دروازہ بند تھا۔ میں نے دروازے کاجائزہ لیا۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔
میں نے یہ جاننے کی غرض سے دروازے کی دوسری جانب کوئی پہرے دار موجود ہے یانہیں۔ دروازے پر کھڑکھڑاہٹ سی پیدا کی مگر جواب ندارد۔
میں نے رائفل کندھے سے لٹکائی۔ میرے پاس ٹائم کم تھا۔ اجالا ہوتے ہی میرے یہاں سے بحفاظت نکلنے کے چانسز کم ہوجاتے۔ میں نے دروازہ تھوڑا سا کھولا اور باہر نکل آیا۔
سولہ فٹ اونچی ‘ ایک وسیع میدان میرے سامنے پھیلا تھا۔جس کے دوسرے سرے پر حویلی کی پندرہ فصیل میری منتظر تھی۔ جو ناقابل عبور تھی۔
میں بخوبی جانتاتھا کہ قبائلی سرداروں کی حویلیاں کسی قلعے سے کم نہیں ہوتیں۔ دور فصیل پر جلتی روشنی کسی برجی کا بھی پتا دے رہی تھی۔ میرے لیے زیادہ مناسب یہی تھا کہ کوئی کمیں گاہ اور پھر یہاں سے نکلنے کی کوئی کوشش کی جائے۔ …ڈھونڈوں
آسمان کے کنارے روشن ہوگئے تھے۔ اندھیرا ملگجا ہوگیا تھا۔ قیدخانے میں میری کارروائی زیادہ دیر چھپی رہنے والی نہیں تھی۔
میں قیدخانے کی بیرونی دیوار کے ساتھ لگ کرمحتاط انداز میں چلنے لگا۔ اچانک میرا پائوں کسی جانور کے فضلے سے ٹکرایااور ناگوار سی بو پھیل گئی۔
مقدار اور ہیئت سے یہ کسی رکھوالے کے کتے کا فضلہ نہیں لگتا تھا۔ رکھوالے کے کتوں کی موجودگی قرین قیاس تھی مگر وہ ناجانے کہاں تھے۔ اگر قرب وجوار میں ہوتے تو اب تک میری بو پاچکے ہوتے۔
اچانک میری تمام تر حسیات چونک گئیں۔ مجھے احساس ہوا کہ کوئی مجھے گھور رہا ہے۔ پھرگھورنے والا بھی نظر آگیا۔میرے جسم میں خوف آمیز سرسراہٹ دوڑ گئی۔ میدان کے وسط میں لکڑی کے بنچوں کا ایک ڈھیر ک ان ی مدد سے کوئی اسٹیج وغیرہ بنایا جانے والا تھا۔ اسی ڈھیر کے قریب وہ ً نظرآرہا تھا۔ غالبا چھاتی اٹھائے مجھے گھور رہا تھا۔ میں جان گیا تھا کہ کچھ دیر پہلے میرا پائوں کس ‘ پچھلے پیروں پربیٹھا جانور کے فضلے سے ٹکرایا تھا۔ وہ اٹھااور دھپ دھپ کی آوازیں پیدا کرتا ہوا میری طرف آیا۔
وہ ایک شاندار اور دیوہیکل کالا ریچھ تھا۔ جو یقینا تربیت یافتہ تھااور اسے رکھوالی کی غرض سے رات کوکھلا چھوڑ دیا جاتاتھا۔
ایک دل دہلادینے والی مہیب غراہٹ کے ساتھ اور ناقابل یقین تیزی سے مجھ پرحملہ آور ہوا۔ آخری لمحے جو پنجہ اس طاقتور جانور نے ‘ پر میں صرف جھکائی ہی دے سکا تھا۔ حیوانی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی میری پسلیوں پرمارا تھا۔ جھکائی دینے کے سبب میرے بازو پر لگا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی گاڑی نے مجھے ٹکر ماری ہو۔ میں اڑتا ہوا پشت کے بل گرا۔ گردن کے عقبی حصے کا درد پوری قوت سے اگلے ہی ‘ جاگا۔ آنکھوں کے سامنے رنگ برنگے ستارے سے ناچ گئے۔ جو اس ایک لمحے کے لیے معطل ہوئے پل میں نے خونخوار ریچھ کو اپنے اوپر دیکھا۔ اس کی خوفناک تھوتھنی میری گردن کی متلاشی تھی۔ رائفل میرے نیچے دب گئی تھی۔
اپنے مقتول سے حاصل کیا گیا نائن ایم ایم پر ریچھ کے پیٹ کا وزن تھا۔ وہ بھی نہیں نکال سکتاتھا۔ ریچھ کے وزن کے سبب میری پسلیاں جیسے ٹوٹنے لگی تھیں۔ حیوانی بدبومیرے نتھنوں میں گھسی جارہی تھی اور سانس جیسے سینے میں پھنس گیا تھا۔
ریچھ مجھے بھنبھوڑ رہاتھا ۔ خدا جانے میری گردن کیسے اس کے بھیانک جبڑے سے محفوظ تھی۔ ریچھ کویقینا کتوں سے بھی لڑایا جاتاتھا۔اسی لیے اس کے ناخن کاٹ دیئے گئے تھے۔ ورنہ اب تک وہ مجھے ادھیڑ چکا ہوتا۔
گردن پرحملہ کرنے کی غرض سے ریچھ تھوڑا سا پیچھے ہوا۔ میرے سینے میں زندگی بخش ہوا اتری۔ ساتھ ہی احساس ہوا کہ جان بچانے کے لیے میرے پاس چند ہی لمحے ہیں۔
میںنے کلائی کو مخصوص جھٹکا دیا۔ وفادار ساتھی م ہاتھ یں آ گیا۔ ً فورا
ریچھ جب پیچھے ہٹا تھا تو اس کے سینے کی فر میرے چہرے سے ٹکرائی تھی۔ میں جانتاتھا یہ ریچھ کے جسم کا سب سے نازک حصہ ہے۔ یہاں ایک کاری وار اسے گرا سکتا ہے۔ ریچھ نے میری گردن پر منہ مارا۔ میرے شانے ‘ میں نے گردن بچاتے ہوئے خنجر پوری قوت سے اس کے سینے میں اتار دیا۔ اس کامہیب جبڑا کو دبوچ ناپایا تھا کہ خنجر اس کے نازک ترین حصے میں اتر گیا تھا۔
اس کے جسم کو زور دار جھٹکا لگا۔ میں نے خنجر پر گرفت برقرار رکھتے ہوئے خنجر کو افقی حرکت دی۔ خون کی موٹی دار نے مجھے بھگودیاتھا۔
ریچھ کے حلق سے تکلیف دہ غراہٹیں نکل رہی تھیں اور یہ خاصی بلند تھیں۔ کسی بھی لمحے کوئی اس طرف متوجہ بھی ہوسکتا تھا۔
ریچھ دھپ سے میرے پہلو میں گرا۔ خنجرکی افقی حرکت نے یقینا اس کے دل کوچھید دیاتھا۔ ورنہ درندہ خنجر کی محض ایک ضرب سے اس طرح گرنے والا نہیں تھا۔
میںنے دور ہٹنے اور اٹھنے میں لحظہ بھی نہیں لگایا۔ دونوں شانوں اور گردن کے نیچے جلن کااحساس ہو انہوں نے کھال ضرور چھیل دی تھی۔ ‘ رہاتھا۔ بے شک ریچھ کے ناخن کٹے ہوئے تھے مگر جتنے بھی تھے
ریچھ کے حلق سے خاصی بلند نزعی آوازیں نکل رہی تھیں۔ اچانک ہی میں نے دوڑتے قدموں کی آواز سنی۔ ایک سے زیادہ افراد دوڑتے ہوئے اس طرف آرہے تھے۔
میں نے جست بھری اور لکڑی کے بنچوں کے عقب میں پہنچ گیا۔ دوڑتے قدموں کی آواز قریب آرہی تھی۔
میں نے لحظہ بھی نہیں لگایا۔ لکڑی ‘ جست بھرتے ہوئے رائفل وہیں گر گئی تھی۔ نائن ایم ایم نکالنے میں کے بنچوں کا ڈھیر اچھا خاصا تھا مگر یہ مجھے زیادہ دیر پناہ نہیں دے سکتا تھا۔
سب سے پہلے مجھے یہیں پر ڈھونڈا جاتااور بوگیر کتے تو لمحوں میں کھوج لیتے۔
صبح کا نورانی سااجالا پھیل گیا تھا۔ دوڑتے قدموں کی آوازیں ریچھ کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ سامنے ہی مجھے ایک اصطبل نما احاطے کا کھلا گیٹ نظر آرہاتھا۔ اندر گھوڑے وغیرہ بھی نظر آرہے تھے۔ میں نے بنچوں کی اوٹ میں اصطبل کی جانب پیش قدمی شروع کردی ۔ آخری سرے پرپہنچتے ہی میں نے دوڑ لگادی۔
کھلے میں آتے ہی مجھے دیکھ لیا گیا۔ پہلے ایک للکارا گونجی پھر مجھ پرفائرنگ ہوئی۔ دو مختلف ہتھیار گرجے تھے۔ ایک گولی میرے کان کے قریب سے سیٹی بجاتی گزری۔ میں نے زمین پر رول کیااور اگلے ہی لمحے اصطبل کے کھلے دروازے سے اندر تھا۔
میری راہ میں پہلے آنے والا ایک دبلا پتلا نوجوان تھا۔ گھاس کا گٹھر پھینک کروہ کسی بلا کی مانند مجھ سے لپٹ گیا۔ جوانی کے جوش وغضب میں اس نے ایک لحظہ کے لیے تو مجھے قدموں سے اوپر اٹھالیا تھا۔ میں نے نائن ایم ایم کا وزنی دستہ اس مزدور کے سر پر رسید کیا۔ یہ درمیانہ ہاتھ تھا۔ اس کی گرفت ڈھیلی پڑی۔ میںنے گھٹنا اس کی ناف پر رسید کرکے اسے دور پھینک دیا۔ وہ ایک لکڑی کی چارے سے بھری کھرلی میں گرااور اسے الٹاتا ہوا چند گھوڑوں کے درمیان جاگرا۔
گھوڑوں میں کھلبلی سی مچ گئی تھی۔
دوسرا حملہ آور ایک لحیم شحیم ادھیڑ عمر تھا۔ اس نے محض قبائلی شلوار کے اوپر میلی سی بنیان پہن رکھی تھی۔ مشقت کے سبب اس کا جسم اس سرد صبح میں بھی پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس نے ایک اشتعال انگیز گالی کے ساتھ ہاتھ میں پکڑے درانتی نما ہتھیار سے حملہ کیا۔ میں نے جھک کر سینے پر
ہونے والاوار بچایا اور ایک معمولی سے دھکے سے اس کا توازن خراب کردیا۔ وہ ایک گھوڑے کے پ یٹ سے جاٹکرایا۔
گھوڑوں کے درمیان گرنے والا نوجوان اٹھ چکا تھا اور کسی ہتھیار کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔
‘ دوڑتے قدموں کی آوازیں اصطبل کے دروازے کے قریب پہنچ گئی تھیں اور ہر طرف سے جیسے للکارنے مارو اورپکڑو کی آوازیں آرہی تھیں۔
میں نے خود کو چوہے دان میں پھنستا محسوس کیا مگر یہ کیفیت اب میری پسندیدہ بھی ہوچکی تھی۔ جسم میں سنسنی آمیز گرماہٹ مجھے اس چوہے دان کو توڑنے پر اکسا رہی تھی۔ گردوپیش کو جانچنے اگلے پل میں ایک ‘ میں ایک لحظہ بھی نہیں لگا۔ میں نے ایک کھرلی کی منڈیر پر دونوں پائوں جمائے لی اور ہوا میں ایک جست بھر کر ‘‘تھرو’’ گھوڑے پر کود چکاتھا۔ گھوڑے کی پشت کو میرے پائوں نے چھو کر میں اصطبل کی کچی اور نیچی چھت پر تھا۔
اسی وقت کئی افراد پھرا مارکراصطبل میں گھس آئے تھے۔ حیرت سے کھلے منہ کے ساتھ مزدور نوجوان نے چھت کی طرف اشارہ کیا۔
یہ منظر میں نے چھت پرگرتے ہوئے دیکھا ہ ی چھت کی طرف کئی ہتھیار گرجے مگر میں قطعی ً تھا۔ فورا محفوظ تھا۔
نیچی چھتوں کا وسیع سلسلہ ‘ اصطبل عقب سے دیگر کئی عمارتوں سے متصل تھا۔میرے سامنے اونچی تھا۔ بے حد تیزی کے ساتھ میں کئی چھتیں عبور کرگیا۔ میری حسیات مکمل طور سے بیدار تھیں۔ مجھے خطرہ برجیوں پر تعینات نشانے بازوں کی طرف سے تھا۔ یہاں مجھے دیکھ لیا جاتا تو برجی سے نشانہ بنانا آسان ثابت ہوتا۔
اچانک ہی مجھ پر سیدھا فائر آنے لگا۔میں ا یک چمنی کی اوٹ لی اور عقب میں ایک فائر جھونک ً نے فورا دیا۔ ایک سایہ تڑپ کر دیوار کی اوٹ میں ہوگیا۔ اس کا مطلب تھا کہ حملہ آور چھتوں پربھی چڑھ آئے تھے۔
میں نے دومزید فائر کیے اور پھر ایک چ اون ی چھت پر کودااور اسی پل رائفل گرجی اور میرے دائیں ً نسبتا پہلو میں کچی منڈیر کا کونا اڑگیا۔ یہ فائر یقینا کسی برجی سے آیا تھا۔ میرے گرد گھیرا تنگ ہو رہاتھا۔
اونچی چھت کے دوسری طرف جھانکتے ہی میرے سینے میں دبی سانس خارج ہوگئی۔ چھتوں کے درمیان وسیع خلا آگیا تھا۔ آگے جانے کا راستہ نہیں تھا۔ پیچھے بپھرے ہوئے حملہ آور تھے۔
محتاط انداز میں سیڑھیاں اترتا میں نیچے آیا۔ ‘ میںنے زینے کی راہ لی
یہ روایتی سا رہائشی یونٹ تھا۔ مختصر سا دالان خالی نظر آرہاتھا۔ سامنے ہی داخلی دروازہ چوپٹ کھلا تھا۔ میں اطمینان سے دروازے سے باہر نکل آیا۔ یہ م ملاز ین کے رہائشی یونٹ تھے۔ زندگی ابھی مکمل ً غالبا طور سے بیدار نہیں ہوئی تھی۔ اطراف میں البتہ ہلچل صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔
میرے سامنے قلعہ نما حویلی کاایک اور خالی میدان تھا۔ جس کے دوسرے سرے پر عمارات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیاتھا۔
میں نے چادر کندھوں پر درست کی اور پسٹل والے ہاتھ کو چادر میں پوشیدہ کرلیا۔ عمارتوں کا سلسلہ ہی میرے لیے پناہ گاہ ثابت ہوسکتاتھا۔ میں نے اسی طرف پیش قدمی شروع کردی۔
پھلاہی کے ایک چھوٹے سے درخت کی اوٹ لیتے ہی میں نے ایک پرچھائیں سی خود پر جھپٹتے دیکھی۔ تمام تر کوشش کے باوجود میں خود کو اس کی زد سے نہ بچا سکا۔ وہ غراتی ہوئی پرچھائیں مجھ سے لپٹ گئی۔
بادی النظر میں و ہ ایک بچہ نظر آتاتھا۔ درحقیقت وہ ایک بونا تھا۔ جس نے درخت کے اوپر سے مجھ پر چھلانگ لگائی تھی۔ یقینا رہائشی یونٹ سے نکلتے ہی میں اس کی نظروں میں آگیا تھا۔
اگلے چند لمحے میری زندگی کے یادگار اور حیران کن لمحے تھے۔ میں نے درندے کی مانند غراتے ہوئے اس چمونے کو جھٹکنے کی کوشش کی مگر میں ناکام رہا۔ اس مختصر سے وجود میں جناتی قوت تھی۔ اس نے بالکل کسی درندے کی مانند میری کلائی میں اپنے دانت گاڑھ دیئے تھے۔ اسی کلائی والے ہاتھ میں پسٹل تھا۔
اس کی دونوں ٹانگوں نے بڑی مہارت سے میری کمر کو گرفت کیاتھا۔ اس کی بلند آہنگ غراہٹیں یقینا میرے میزبانوں کومطلع کرنے کے لیے تھیں۔
میں نے رخ تبدیل کرکے اسے پوری قوت سے پھلاھی کے تنے سے دے مارا۔ ‘ جھنجلاہٹ کے عالم میں
مگر وہ تو جیسے گوشت پوشت کی بجائے ربر سے بنا تھا۔ اس کی گرفت قائم رہی۔ غراہٹوں میںالبتہ تکلیف کاآہنگ ضرور شامل ہوا تھا۔
میری کلائی تکلیف سے سن ہوتی جارہی تھی۔ مزید چند لمحوں میں وہ کمبخت وہاں سے گوشت کالوتھڑا جدا کردینے والا تھا۔
یہی وقت تھا جب کوئی توپ کے گولے کی مانند ہم دونوں سے ٹکرایا۔ میں پہلو کے بل گرا۔ مجھ سے لپٹی بلانے دانتوں کو وحشیانہ جھٹکادیا۔ تکلیف کے سبب پسٹل میرے ہاتھ سے نکل گیا۔
ہم دونوں سے ٹکرانے والا ایک اور بونا تھا۔ اس نے بڑی وحشت سے میرے شانے پر منہ مارا۔ اس کے دانت مجھے اپنے گوشت میں گڑھتے محسوس ہوئے۔
پہلے والے نے میری کلائی چھوڑ کر نرخرے پر دانت آزمائے۔ اس کا چوڑا جبڑا اور دانت بلاشبہ انسانی نہیں تھے۔ نرخرہ بچاتے ہوئے ایک لحظہ کے لیے میری آنکھیں اس کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ یہ آنکھیں بھی انسانی نہیں لگتی تھیں۔ اسی زرد اور بوکی آنکھیں میں نے اینمل پلانٹ پر بھوکے افریقن ہنٹنگ ڈاگنر کی دیکھی تھیں۔ جو گروہ کی صورت میں حملہ آور ہوتے تھے او رزندہ ہی اپنے شکار کو کھانا شروع کردیتے تھے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: