Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 3

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 3

مجھے بھی یوں محسوس ہو رہاتھا کہ میں بھوکے افریقن کتوں کے گھیرے میں ہوں۔ یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ کلائی نیلگوں مائل اورخون سے رنگی تھی۔ شانہ ایک حیوان دبوچے تھا۔ دوسرے کے دانت نرخرہ نہ ملنے کی بعد سینے پر ہدف ڈھونڈ رہاتھا۔
دونوں کی ٹانگوں نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ پسٹل پہلے ہلے میں چھوٹ گیا تھا۔ مگر وہ دونوں بلائیں اس بات محض ایک جھٹکے کامنتظر ہے۔ب ‘‘قاتل’’ سے بے خبر تھیں کہ میری آستین میں چھپا مہلک
بازو کو مطلوبہ پوزیشن پرلانے کے لیے میں نے زخمی کلائی والے ہاتھ کی انگلیاں بے رحمی سے شانہ دبوچنے والے بونے کی آنکھوں پرماریں۔
اگلاپل پھرمیرے لیے حیرت لیے تھا۔ حیرت انگیز پھرتی سے اس نے میرا حملہ بلاک کیا۔اوچھا سا ہاتھ پڑا۔ جس کا خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ مگر اس لمحاتی کشمکش میں بازو کو مطلوبہ زاویہ مل گیاتھا۔
اسی پل سینے کے اوپری حصے پر بونے نے دانت گاڑھ دیئے تھے۔ تکلیف اور نفرت کی ملی جلی کیفیت میں نے بازو کو مخصوص جھٹکادیا۔ میرا نشانہ سینے پر سے گوشت اتارنے کی کوشش کرنے والا بونا ‘ میں تھا۔
کی آواز کے ساتھ جان لیوا خنجر اس کی پسلیوں کے درمیان اتر گیا۔ وہ بن پانی کی مچھلی کی ‘‘گچ’’ مانند تڑپا۔ میرے سینے پر اس کے دانتوں کی گرفت ختم ہوگئی تھی۔
وہاں حیرت ہی حیرت تھی۔ تکلیف کا شائبہ تک ‘ ایک دفعہ پھر اس کی آنکھوں سے میری آنکھیں ٹکرائیں نہیں تھا۔
میں نے جھٹکے سے خنجر کھینچااور دوسرے بونے کونشانہ بنایا۔وہ بے حد کائیاں ثابت ہوا۔ میرا شانہ چھوڑ کر وہ پشت کے بل گرا۔ خنجر ہوا ہی میں لہرا کررہ گیا۔ پشت کے بل گرتے ہی اس نے الٹی قلابازی کھائی
اور ایک دیوار کی دوسری جانب غائب ہوگیا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ نئے زخموں میں جیسے مرچیں سی بھرگئی تھیں۔ میں نے آخری سانسیں لیتے بونے کوٹھوکر ماری۔
اچانک ہی میدان کے دوسرے سرے پرہلچل سی محسوس ہوئی۔ میں ا یک دیوار کی اوٹ لی۔ اس ً نے فورا سے پہلے میں اپنا گرا ہوا پسٹل اٹھانا نہیں بھولا تھا۔ ً فورا ہی مجھ پر فائرنگ ہوئی۔ میں نے بھی چند جوانی فائر ٹھوکے اور سامنے نظر آنے والے گلی نما راستے پر بھاگ کھڑا ہوا۔
یکایک ایک بند دروازہ کھلا۔ میں کسی بھی جارح کونشانہ بنانے کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ میرا پسٹل والا ہاتھ سیدھا ہوا مگر دروازے میں نظر آنے والے ایک غریب صورت بوڑھے قبائلی نے واضح طور پرمجھے اندر آنے کااشارہ کیا۔
سمجھنے کا وقت نہیں تھا۔ اگر وہ دشمن تھا تو مجھے نشانہ بنانے کی بجائے اندر آنے کااشارہ کیا ‘سوچنے معنی رکھتاتھا۔ اور اگر درست تھا تو پھر کون تھا؟ ٹانگوں کے ساتھ ساتھ میرا دماغ بھی تیزی سے حرکت کررہاتھا۔
اندیشے کوپس پشت ڈا ل دیا تھا۔ ‘ زندگی میں کئی مواقع پر میں نے دل کی آواز پر کان دھرا تھا۔ ہرمنطق اس وقت بھی میں نے دل کی سنی اور برق رفتاری سے کھلے دروازے میں گھس گیا۔ بوڑھے نے ہرممکن تیزی اور خاموشی سے دروازہ بند کردیا۔
بوڑھے نے تھرتھراتی آواز میں کہا۔ اس کے چہرے پر خوف کے گہرے سائے تھے۔ ‘‘ میرے ساتھ آئو ’’
میں نے اس کاساتھ دیتے ہوئے پوچھا۔ ‘‘ تم کون ہو؟ ’’
‘‘ حکم کا غلام۔ ’’
اس کے بعد میں نے کچھ پوچھنا فضول جانا۔
مختصر صحن عبور کرکے ہم ایک کمرے میں آئے۔ کمرے میں لالٹین کی مدہم روشنی تھی۔ دو بستر بچھے ہوئے تھے۔ جن میں سے ایک پر کوئی ذی روح حالت نیند میں تھا۔ اس کے دھیمے دھیمے خراٹے سنائی دے رہے تھے۔
بوڑھے نے بے آواز طریقے سے ایک کھڑکی کھولی۔ کھڑکی اتنی بڑی تھی کہ میرے جیسا قوی ہیکل آدمی بھی اس سے بہ آسانی گزر سکتاتھا۔
اس کے اشارے پرمیں بھی دوسری طرف کود گیا۔ بوڑھے نے احتیاط سے کھڑکی بند کردی۔ ‘ پہلے بوڑھا کودا
یہ ایک خاصی وسیع چار دیواری تھی۔ جس میں ہر طرف لکڑی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ایک طرف شیلڈ کے نیچے لکڑی چیرنے کے لیے دو آرے لگے ہوئے تھے۔
بوڑھا ہرممکن تیزی سے مجھے لے کر اسی شیڈ کی طرف بڑھا۔ چار دیواری کے اطراف سے کبھی کبھار ہوا کے دوش پرسوار کوئی نہ کوئی ایسی آواز سنائی دے جاتی تھی جس سے اندازہ ہوتاتھا کہ میری تلاش میں آنے والے آس پاس ہی ہیں۔
مجھے لے کربڑے آرے کے نیچے گھس گیا۔یہاں یقینا کوئی خفیہ پناہ گاہ تھی۔ اس نے تیزی سے ‘بوڑھا لکڑی کے چند تختے ہٹائے۔ دوسری طرف تاریکی تھی۔
بوڑھے نے اضطراری انداز میں کہا۔ خوفزدہ ہونے کے باوجود وہ پوری طرح چوکس نظر ‘‘ یہاں چھپ جائو! ’’ آتاتھا۔
میں نے اس تاریک خلامیں گھسنے میں لحظہ بھی نہیں لگایا۔ حالانکہ یہ چوہے دان بھی ثابت ہوسکتاتھا مگر میںخود کو تن باتقدیر کرچکاتھا۔ …
میں تمہیں نکالنے کے لیے آئوں گا۔ اپنے طور پر ’’ بوڑھے نے تختے لگاتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا۔ ‘‘ نکلنے کی کوشش نہ کرنا۔
میں صرف اتنا ہی کہہ سکا آخری تختہ بوڑھے نے جوڑ دیا تھا۔ میں نے گہری تاریکی میں اپنی ‘‘ ٹھیک ہے ’’ پناہ گاہ کو ہاتھوں سے ٹٹولا۔ بمشکل چار فٹ چوڑی اور سات فٹ لمبی جگہ تھی۔ نیچے لکڑی کاخشک برادہ بچھاتھا۔ میں اسی برادے پر لیٹ گیا۔
کھٹ پٹ کی آوازوں سے انداز ہ ہوتاتھا کہ بوڑھا ابھی وہیں پر ہے اور تختوں کے آگے لکڑیاں وغیرہ ڈال کر میری پناہ گاہ کومزید محفوظ بنانے کی کوشش میں ہے۔
کچھ دیر بعد خاموشی چھاگئی۔ بوڑھا وہاں سے جاچکاتھا۔
ہاتھ میں دبا ‘ میں بے حرکت لیٹا تھا۔ جسم پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا۔ کان اطراف کی طرف جمے تھے پسٹل کسی ناگہانی کے لیے مکمل تیار تھا اور ذہن گھڑ دوڑ کا میدان بناہواتھا۔
یہاں اس دشمن حویلی میں کون تھا میرا ہمدرد؟ جس کے حکم پر بوڑھے نے مجھے یہاں چھپایا تھا۔ کیا گل ریز کومیرے اغوا کاروں اور اس حویلی میں میری موجودگی کا علم ہوچکا ہے؟ اور اس کا نیٹ ورک میری مدد کے لیے حرکت میں آچکا ہے ؟
یہ بڑا حوصلہ افزا خیال تھا۔ جسم میں توانائی سی دوڑتی محسوس ہوئی اور یہ خیال حقیقت کے بھی قریب محسوس ہوا۔
قدرے اطمینان کا احساس ہواتو جسمانی ٹوٹ پھوٹ کااحساس سوا ہوگیا۔ پہلے ڈاکوئوں کے ہاتھوں گدی پھر ریچھ کے خونی پنجوں نے بھی مقدور بھر مجھے ادھیڑا تھا۔ ‘ اور پیشانی پرلگنے والے قیامت خیز ضربیں اس کے بعد خون آشام بونوں نے بھی میرے جسم پر دانت آزمائے تھے۔
میں نے صرف زخم کھائے ہی ‘ وہاں راحت کا بھی احساس ہوتاتھا ‘ ان زخموں سے جہاں ٹیسیںا ٹھتی تھیں لگائے بھی تھے ۔ ڈاکوئوں میں سے کوئی نہ کوئی میرا نشانہ بناتھا۔ قیدخانے میں بھی میرے دو ‘ نہیں تھے مقتول موجود تھے۔ ریچھ کا بھی دل میں نے ادھیڑا تھااور خون آشام بونوں میں سے ایک کی پسلیوں میں خنجر اتارتے ہوئے بازو میں جو سنسناہٹ ہوئی تھی۔وہ یاد گار تھی اور کئی زخموں کا مرہم تھی۔
بے خیالی میں ہاتھ کو حرکت دی تو پسٹل کا اوپری حصہ ٹھوڑی کے نچلے حصے سے ٹکرایا تو درد کی لہرنے اس زور دار پنچ کی یاد تازہ کردی جو سرخ بھیڑیے نے لگائی تھی۔
یار زندہ صحبت باقی۔ میرا مقولہ … دل سے ہوک اٹھی۔ اس ضرب کا جواب ابھی دینا باقی تھا۔ مثل ہے دشمن زندہ ضرب ادھار۔ …تھا
دشمنوں کا سوچتے ہی سینے میں زہریلا سا دھواں بھرنے لگا تھا۔ میں نے اپنی فطرت کے مطابق ہرجگہ اور ہر میدان میں اپنے اور ملک کے دشمنوں کا ڈٹ کر سامنا کیا تھا۔ زخم کھائے تھے تو جگر پاش کردینے والے زخم لگائے بھی تھے۔
اچانک میرے حساس کانوں نے پہلے کسی کے کودنے اور پھر کوئی وزنی دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔ وہ بوڑھا کوئی بہت ‘ سرسرایا۔کیامجھے پناہ دینا ایک دھوکاتھا  سانپ کی مانند ایک اندیشہ دماغ میں بڑا کلاکار تھا؟جس نے اپنی جسمانی کمزوری کے باعث اپنی ذہنی طاقت سے مجھے زیر کیا تھا؟بہرحال گیا تین ہی گولیاں بچی تھیں۔ ‘ وقت لوٹ نہیں سکتاتھا۔ میں آنے والے وقت کے لیے تیار ہوگیا۔ پسٹل میں دو مرتے ہوئے بھی میں انہیں مناسب طریقے سے استعمال کر سکتاتھا۔ موت سے آنکھ مچولی اب میرے لیے محض ایک کھیل ہی تھا۔ موت سے ڈر کر میں کبھی نہیں بھاگاتھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے کئی دفعہ موت کو بھی خود سے آنکھیں چراتے ہوئے دیکھاتھا۔
اگلے چند منٹوں میں یہ اندیشہ غلط محسوس ہونے لگا کہ بوڑھے نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ یہ میری تلاش میں نکلی کوئی سرچ پارٹی تھی۔ جو لکڑی کے اس گودام کے کونوں کھدروں میں مجھے تلاش کررہی تھی۔اگرانہیں میری پناہ گاہ سے پہلے ہی آگاہی ہوتی تو وہ سیدھے اسی طرف آتے۔
پھراپنی پناہ گاہ کے قریب مجھے کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دیں۔ دل کی دھڑکن خفیف سی بڑھ گئی۔یہ پناہ گاہ کچھ ایسی خاص بھی نہیں تھی۔ باریک بینی سے اور ٹارچ وغیرہ کی مدد سے جائزہ لیا جاتا تو اسے ڈھونڈا جاسکتاتھا۔
کسی نے جھنجلائے انداز میں غائبانہ طور پر مجھے پشتو کی ایک کلاسیکل گالی سے نوازتے ہوئے کہا۔ اسکے بعد پھر مغلظات کا طوفان تھا۔ ‘‘…کہاں چھپ سکتا ہے’’
وہ چھپکلی تو ہے نہیں کہ یہاں چھپا رہے گا۔ اچھا خاصا جوان … یہاں سے تو نکل ’’ ایک دوسری آواز نے کہا۔ ‘‘ہے۔
جھنجلائی آواز نے اب کے آواز قدرے دبا ‘‘ سالار خان سر پرکھڑا ہے۔ کوئی کارکردگی تو دکھائیں۔ … تیرا سالا ’’ کر کہا
دوسرا ۔ اس کو سالا بول کر دل خوش کردیا خاناں! تمہارے منہ میں مسرت شاہین ’’ منہ دبا کر ہنسا ً غالبا ‘‘نسوار کاچٹکا۔
وہ دونوں آواز دبا کرہنسنے لگے۔ میںبھی قدرے اطمینان کے احساس کے ساتھ ان کے مکالمے سے لطف سرانجام دے رہے تھے۔ ان کے وہم وگمان ‘‘ ڈیوٹی ’’ اندوز ہوا۔ وہ محض کسی سالار خان کی ماتحتی میں میں بھی نہیں تھا کہ جس کی انہیں تلاش ہے وہ محض ان سے چند فٹ کی دوری پرلکڑی کے تختوں کے پیچھے پوشیدہ ہے۔
انسان ہے یا درگئی کی گھاٹی سے ‘ شیرخاناں! وہ جوان ’’ سالار خان کو سالا بنانے کے آرزومند کی آواز ابھری۔ سرخ بھیڑیا کوئی بدروح اٹھالایا ہے۔ بند تالوں میں ہونے کے باوجود اس نے ناصرف الک اور صاب کوہلاک جیسے خونخوار ریچھ کو بھی گولی مارے بغیر ہلاک ‘‘ڈھوڑے’’ کرکے قیدخانے سے رہائی حاصل کرلی بلکہ ‘‘کرچکا ہے۔
زیادہ حیران کن اس کا شیطانی بونوں کو پچھاڑنا ہے۔ ان بلائوں کو دیکھ ’’ دوسرے نے اس کی بات اچکی۔ سنگلاخ پہاڑوں کی بلندیوں پر رہنے والا ایک عورت نما افسانوی جانور) بھی راستہ بدل لیتی (‘‘مم’’کر تو ‘‘ہے۔
کا اعلان کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔میں نے اطمینان کا ‘‘ کچھ نہیں ’’ شاید انہیں اوپر سے پکارا گیا۔ وہ نیچے سانس خارج کیا۔ ساتھ ہی یقین ہوگیا کہ اس دشمن حویلی میں میرے خیرخواہ بھی موجود ہیں اوراب میں انہی کے پاس ہوں۔
کچھ دیر بعد ہر طرف خاموشی چھاگئی۔ دونوں کارندوں کے توصیفی جملے بڑا سرور دے گئے تھے۔ میری بڑی تہلکا خیز ثابت ہوئی تھی۔ ‘‘آمد’’
کہنااور ان سے خوفزدگی کااظہار بہت معنی خیز تھا۔ لگتا تھا وہ بڑی خاص چیز ‘‘ شیطانی بونے ’’ بونوں کو سینے اور کلائی سے اٹھتی ٹیسیں ان کے خاص چیز ہونے کا ‘ تھے۔ اوراس میں شک بھی نہیں تھا۔ شانے خدا کی پناہ ہرگز انسانی نہیں لگتی تھیں۔ … واضح ثبوت تھیں اوران کی بھوکی آنکھیں
تاریکی رفتہ رفتہ میرے حواس پر چھانے لگی۔ ذہن پر خمار سا چھانے لگا۔ زخم زخم جسم کو درد جیسے مٹھیاں سی بھرنے لگا۔
کوئی ستارہ نہ آجائے پائوں کے نیچے
سنبھل کر قدم اٹھائو کہ بہت اندھیرا ہے
ساغر صدیقی کے اس شعر کے ساتھ ہی اس وقت کی یادوں نے مجھ پریلغار کردی جب بارود کے دھویں صرف کمالا پتر ہوتاتھا۔ جو اپنے نام کے ساتھ ‘‘کمالا جٹ’’ میں غرق اور دن رات خون کی ہولی کھیلنے والا سردیوں کی ‘پرندے‘ لکھ کرخوش ہوتاتھا۔ جسے اچھی شاعری مسحور کردیتی تھی۔ جسے تتلیاں ‘‘ڈاکٹر’’ بہن کو تنگ کرنا اور ماں کے ہاتھوں کی ‘ دوستوں کی محفلوں میں بلند آہنگ قہقہے لگانا ‘ سرمئی شامیں اور ستارہ آنکھوں والی ‘ جس کے سینے میں بستاتھا ‘‘ جٹاں والی ’’ بلوری لسی اچھی لگتی تھی۔ اپنا قصبہ ایک لڑکی اس کی کل کائنات تھی۔
برق رفتار کمپیوٹر جیسے زندگی کی فلم کوبجلی کی سی تیزی سے ریوائنڈ کرتا چلا گیا۔ بیگھے ملوں کے ڈیرے سے بے عزت ہوکرآنے کے بعد مجھے والد صاحب نے زبردستی واپس ہوسٹل بھیج دیا۔
میں کھولتے دماغ کے ساتھ واپس آیا تھا۔ جہاں بے عزتی کا احساس رہ رہ کر کچوکے لگاتاتھا۔ وہاں والد صاحب کی فکر بھی ستاتی تھی۔
بیگھے ملوں کے ڈیرے پر گئے تھے۔ جہاں مجھ پر ہونے ‘ بعد میں پتا چلا کہ والد صاحب اور میجر صاحب والے تشدد کے حوالے سے میجر صاحب اور بڑے میاں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔
بہت عرصے بعد علاقے کے لوگوں نے ریٹائرڈ میجر واجد علی ترین کو اتنے غصے میں دیکھا تھا۔انہوں نے مصلحت کی چادر اتار ی اور لوگوں نے ان کے وسیع تعلقات کا کرشمہ دیکھا۔
صرف دو دن میں چنگڑوں کے لڑکے بشمول اغوا ہونے والی لڑکی کامنگیتر وجاہت عرف ہیرا حوالات سے باہر تھے بلکہ لڑکی کے اغوا کے شبہے میں میاں ذوالفقار نہ صرف حوالات میں تھابلکہ اس کے دیگر خاندان کے دولڑکوں کوپکڑنے کے لیے پولیس بیگھے ملوں کے کئی ڈیروں پر چھاپے مارچکی تھی۔
میرے قریب تھی۔ کیسے ممکن تھا کہ وہ میری بیرونی چوٹوں اور اندرونی ٹوٹ … میرے دل کی حکمران پھوٹ سے بے خبر رہتی۔
میں نے سب کچھ اس کے سامنے کھول دیا ئ تحفظ ’’ پرجوش ہوگ ی۔ اس کے رشتے کے ایک ماموں ً ۔ وہ فورا کے وفاقی ادارے میں اونچی پوسٹ پر تھے۔ کائنات نے ان سے بات کی۔ کالج کے ہی ایک ‘‘ قدرتی ماحول لڑکے کے والد محکمہ انہار میں بڑے توپ قسم کے آفیسر تھے۔
بیٹے کے دبائو پر وہ بھی بادل نخواستہ حرکت میں آئے۔ میجر صاحب پہلے ہی سرگرم تھے۔ نتیجہ بہت جلد سامنے آگیا۔
ہوگئی۔ بھاری جرمانہ علیحدہ سے بھرناپڑاتھا۔ ‘‘ سیل ’’ بیگھے ملوں کی چمڑا رنگنے والی فیکٹری
گیا تو بڑا سرشار تھا۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ کائنات میرے ساتھ تھی۔ وہ شہر کی ‘‘ جٹاں والی ’’ میں دوبارہ سفر۔ اس کے لیے یہ ‘‘ یادگار ’’ کچے راستے اور چاچا فضی کے تانگے میں ‘ پلی بڑھی تھی۔ گائوں کا ماحول اسے خوش دیکھ کرخوش ہو رہاتھا۔ ‘ سب بہت دلچسپ تھا۔ میں
کائنات کو پانے کے بعد میں محسوس کررہاتھا کہ اسے مسکراتا دیکھ کر اگر میں پژمردہ ہوتاتھا تو پژمردگی ایک نرم پھوار جیسی سرشاری میں بدل جاتی ہے۔
کہتے ہوئے اس کے احمریں لب بڑی خوبصورتی سے ‘‘کمال’’ میرا نام بڑی خوبصورت ادا سے لیتی تھی۔ ‘ وہ چٹکتے تھے اور میں مبہوت ہو کر دیکھتا رہ جاتاتھا۔ میری محویت پر وہ مصنوعی خفگی کا اظہار کرتی تھی۔ اس کے لبوں کی چٹک دیکھ کر اکثر
میں یہ شعر اسے سناتاتھا۔
شاید تیرے لبوں کی چٹک سے ہوجی بحال
اے دوست! مسکرا کہ طبیعت اداس ہے
‘‘ یہ کون ہے کمال پتر؟ ’’ کائنات کو دیکھ کرچاچا رمضی نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا تھا
‘‘ ہے چاچا! ‘‘نو’ تیری ’’ میںنے بڑی ترنگ میں کہا۔
‘‘ چاچا نے بے ساختہ کہا۔ خدا جوڑی سلامت رکھے۔ ‘‘ بڑی سونی ہے۔ ’’
کائنات نے بری طرح جھینپ کر دونوں ہاتھوں میںچہرہ چھپالیا تھا۔
…٭٭٭…
چاچا رمضی سے گھل مل چکی تھی۔ وہ تھی ہی ایسی پانی کے جیسی جس برتن ‘ کچھ ہی دیر میں وہ میں جاتی اسی کی صور ت میں ڈھل جاتی تھی۔
وہ چاچا رمضی اورمیرے سارے قصبے سے غائبانہ طور پر پہلے ہی واقف تھی۔ چاچا رمضی کی دوسری شادی نامی دکھتی رگ سے بھی واقف تھی ھ چ یڑ چھاڑ شروع کردی۔ چاچا رمضی کو بھی ً ۔ اس نے فورا شہری لڑکی کی چھیڑ چھاڑ مزہ دے رہی تھی۔ وہ چاچارمضی کے ساتھ اگلی سیٹ پر تھی۔ ‘ ایک چلبلی جگہ تو وہاں میری بھی بنتی تھی مگر گائوں کے ماحول کے سبب میں عقبی نشست پر براجمان تھا۔ رخ میں نے ممکن حد تک ان دونوں کی طرف گھمالیاتھا۔
کچے راستے کے ساتھ چلتا پانی کا کھالااور دوسری ‘ میرا پسندیدہ ٹریک شروع ہوگیاتھا۔ ایک طرف نہر طرف میجر صاحب کے باغات کا وسیع سلسلہ۔ کینوئوں کاموسم ابھی باقی تھا۔ فضا میں اعل ی نسل کے کینوئوں کی خوشبو رچی بسی تھی۔
کائنات نے بھی یہ جاں افزا خوشبو محسوس کرلی تھی۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انگریزی ‘‘ جانتے ہو اس پل میری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ ’’ میں کہا۔
اس خمار کے سبب میرا لہجہ بھی بھاری ‘‘؟… کیا ’’ میں نے ان ستارہ آنکھوں میں خمار اترتے دیکھ لیا تھا۔ ہوگیا تھا۔
اس نے بڑے جذب سے ‘‘ تمہارے شانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لوں اور یہ راستہ کبھی ختم نہ ہو۔ ’’ کہا۔سب کچھ جیسے خمار بھری دھند میں چھپ گیا تھا۔ سامنے تھیں تو صرف دو ستارہ آنکھیں اور ان شاید میری کیفیت اور ارادے کو اس نے محسوس کرلیاتھا ہ …سے چھلکتا خمار ی وہ شوخ ہوئی۔ ً ۔ فورا ‘‘ مسٹر! ہم تانگے میں ہیں اور یہ آپ کا گائوں ہے گائوں۔ ’’
دھند پل بھرمیں غائب ہوگئی ۔ اب چاچا رمضی بھی نظر آنے لگا تھا۔ جو انگریزی سے تو نابلد تھا مگر جذبوں کی زبان خوب سمجھتا تھا۔ اس کے ہونٹوں پرمعنی خیز مسکراہٹ جمی تھی۔
وہ جھینپ ‘‘ یاد دلانے کا شکریہ! ورنہ کچھ دیر میں پورا گائوں میری بے حیائی کے چرچوں سے گونج رہاہوتا۔ ’’ گئی۔
اس ‘‘ چاچا!آج کینو کھلادے تو ہر کینو کے بدلے دو مچھلی کے دانے۔ ’’ میں چاچا رمضی کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے پچھلی دفعہ کی مانند ‘‘ جیوندارہ پتر! ’’ فیاضی پر چاچا رمضی کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ کنوئوں سے بھرا لفافہ اور کالانمک نکال کرمجھے دے دیا۔
میں نے ایک کینو چھیل کر کائنات کودیا۔
رسیلے اور میٹھے کینو میں نے پہلی دفعہ ‘ اتنے خوشبودار ’’ پہلی ڈلی منہ میں ڈالتے ہی اس نے کہا۔ ‘‘ چکھے ہیں۔
‘‘ یہ ایکسپورٹ کوالٹی ہے۔ ہمارے ملک کے بہت کم لوگوں کے نصیب میں یہ آتے ہیں۔ ’’
اس نے بات کو سمجھتے ہوئے اثبات میں سرہلایا۔
کائنات کی آمد سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ ماں نے یقینا ‘ کچھ دیر بعد ہم دونوں گھر میں تھے۔ نگہت اور ماں والد صاحب کو بھی بتادیا تھا۔
گھر میں داخل ہونے سے پہلے کائنات کی ملی جلی سی کیفیت تھی۔ جہاں اشتیاق تھا وہاں قدرے جھجک بھی تھی۔
ماں اور بہن نے کائنات کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔ ان دونوں کو کائنات حسب توقع بے حد پسند آئی تھی۔ اس پذیرائی پرکائنات کا چہ رہ بھی شفق کی تصویر بن گیا تھا۔ نگہت اور ماں کی خوشی تو سنبھالے نہیں سنبھلتی تھی۔ خاص طور پر نگہت تو بے حد خوش تھی۔
کھانا کھا کر اور لسی پی کر میں نے مچھلی فارم کارخ کیا۔ والد صاحب اس دفعہ بھی وہیں تھے۔ کائنات ماں اور والد صاحب کے لیے اچھی خاصی چیزیں لائی تھی۔ نگہت اور وہ کمرے میں ‘اپنے ساتھ نگہت گھسی ہوئی تھیں۔
والد صاحب مچھلی فارم پر ہی موجود تھے۔پچھلے دنوں فارم کو پانی سپلائی کرنے والے ٹیوب ویل کا بور تین مسلح لڑکے بھی وہاں موجود تھے۔ بیگھے ‘ بیٹھ گیا تھا۔ ا ب اسی پر کام ہو رہا تھا۔ ہماری برادری کے دو مل ابھی تو جھاگ کی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ مگر ان کا کینہ مشہور تھا۔ اسی لیے احتیاط ضروری تھی۔
مجھے والد صاحب کے چہرے پر خوشی کی چمک پہلے سے نظر آرہی تھی۔ انہوں نے مجھے بانہوں میں ‘‘ میرا سوہنا پتر! …آ’’ بھر کرپیشانی چومتے ہوئے کہا۔
مجھ سے بھی اونچے ‘ میں بھی ان سے لپٹ گیا۔ ان کاوسیع سینہ میرے لیے آج بھی بستر تھا۔ والد صاحب تھے۔ میں نے ان کے سینے پر سررکھ دیا۔
لہجے میں خفیف سی شرارت تھی۔ ‘‘ تیرے ساتھ کوئی اور بھی آیا ہے؟ ‘ سنا ہے ’’
دیکھنے کا …ئوں…گا…اسے ’’ ہکلاہٹ خودبخود میرے اندر اتر آئی تھی۔ ‘‘ کالج کی ایک دوست ہے۔ …وہ… جی ’’ ‘‘شوق تھا۔
انہو ں نے محبت سے میری کمر پر گھونسہ مارا۔ میں مزید ان سے لپٹ گیا۔ ‘‘ اوئے بس! ’’
انہوںنے میرے کان کے قریب سرگوشی کی۔ انہوںنے ‘‘ اس بچی کے حوالے سے سنجیدہ تو ہے نا؟ ‘تو’’ زندگی کا گرم وسرد دیکھا تھا۔ نوجوانی کی لہر سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ اس لیے یہ سوال بہت اہم تھا۔
اسی لیے تو ’’ میں نے اثبات میں سرہلادیا۔والد صاحب کے دوستانہ انداز نے بھی کچھ حوصلہ دیا۔ ‘‘… جی ’’ ‘‘ گھرلایا ہوں۔
اس کے خاندان کے بارے میں بھی کچھ … پچھاڑی دیکھتے ہیں ‘ گھوڑی کی طرح عورت کی بھی اگاڑی ‘ اوئے’’ انہوں نے مجھے خود سے علیحدہ کیا۔ ‘‘جانتا ہے؟
‘‘ سندھ کے وینس ہیں۔ ’’ میں نے سنجیدگی سے کہا۔ ‘‘ لکھے اور شریف خاندان کی ہے۔ ‘پڑھے’’
‘‘ گائوں میں گزارا کرلے گی؟ ’’
میں نے ڈاکٹر بن کر گائوں میں ہی رہنا تھا۔ اس لیے والد صاحب نے پوچھا تھا۔ میرے اور کائنات کے درمیان جی۔عورتوں کا علاج کرے گی۔ ’’ ایسا کچھ طے نہیں ہوا تھا مگر والد صاحب کے سامنے میں نے بھرم رکھا۔ میرا انداز بے ربط سا تھا۔ ‘‘ شادی کے بعد گائوں ہی میں۔
پھر تو چنگی کڑی ہے۔ نصیب والی بھی ہے۔ پہلی دفعہ آئی ہے اور آج ہی ’’ والد صاحب خوش ہوگئے۔ والد صاحب نے سبز پرانے نوٹوں کی گڈی دکھائی۔ ‘‘ مچھلی کا سودا بھی بہت اچھا ہوگیا ہے۔ یہ بیعانہ ہے۔
خوشی کی لہر نے مجھے بھی بھگودیا۔ اب نگہت کی شادی روایتی دھوم دھام سے ہوسکتی تھی۔ ہم بیٹا ایک دفعہ پھر گلے لگ گئے۔ ‘باپ
والد صاحب ٹیوب ویل کی طرف متوجہ ہوگئے۔ میں اپنی برادری کے لڑکوں سے جاملا۔ اس دوران نگہت کامنگیتر صابر بھی وہاں آگیا۔
مگر اب اس اژدھا کا زہر نکالا ‘ بیگھے ملوں کا ذکر چل نکلا۔ سامنے ہی وہ اژدھا نما زہریلے پانی کا پائپ تھا جاچکا تھا۔
اب میجر د ’’ شوکے نامی ایک لڑکے نے بیگھے ملوں کو سلواتیں سناتے ہوئے کہا۔ ب نے ڈنڈا یا ہے تو َ صاح بیٹے کو تو چھڑوا کر ‘ اپنی اوقات میں آئے ہیں۔ خود کو بڑا پھنے خان سمجھتے تھے۔ اب بڑے میاں ‘‘ دکھائے۔چنگڑوں کی کڑی کے اغوا میں پکی بات ہے۔ اسے جیل ہوجائے گی۔
‘‘ لڑکی برآمد ہوگئی ہے کیا؟ ’’ میں نے دلچسپی لی۔
جب تک پولیس میاں ذوالفقار کو چن کتھا گزاری رات وے والا چھتر ’’ بھراجی! دوسرے لڑکے نے کہا۔ ‘ نہیں ’’ نہیں دکھاتی کڑی کہاں برآمد ہوگی۔ اس کے دونوں چاچے کے پتر بھی ابھی نہیں پکڑے گئے ۔ پتا نہیں اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔ ‘‘… کڑی زندہ بھی ہے یا
میرے حلق میں کڑواہٹ دوڑ گئی۔ میجر صاحب نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے میاں ذوالفقار کو گرفتار تو کروادیاتھا مگر بیگھے ملوں کے بھی تو تعلقات تھے۔ یقینا میاں ذوالفقار تھانے میں وی آئی پی کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔ کمزور ایف آئی آر کا نتیجہ جلد یا بدیر اس کی رہائی کی صورت میں نکلنا تھا۔
‘ لڑکی نسرین کامنگیتر ہیرابائولا سا ہو رہا ہے۔ یاتووہ بیگھے ملوں میں سے کسی کی جان لے ’’ صابر نے کہا۔ ‘‘ لے گا یا پھر انہی کے ہاتھوں مارا جائے گا۔
بائو کمال! تونے بھی کمال دکھایا ہے۔ چند دنوں ’’ شوکے نے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے توصیفی انداز میں کہا۔ اس نے دور نظر آنے والی فیکٹری کی طرف ہاتھ ‘‘ میں ہی اس لعنتی فیکٹری کو سرکاری تالے لگوادیئے۔ جب فیکٹری کو تالے لگے اور بیگھے ملوں کو جرمانہ بھی بھرناپڑا تو ان کے ’’سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک ناقابل بیان جملہ کہا۔ جس کے سبب سبھی کھلکھلا کر ‘‘… چہرے ایسے ہو رہے تھے جیسے ہنس پڑے۔ میری ہنسی سب سے بلند اور نمایاں تھی۔
میں اور والد صاحب گھر آگئے۔صابر کو دیکھتے ہی نگہت کمرے میں کہیں جاچھپی ‘ کچھ دیر بعد صابر تھی۔ صابر اور والد صاحب بھی کائنات سے مل کر بہت خوش ہوئے۔
رات کا کھانا اکٹھے کھایا گیا۔ اس وقت میں آنے والی گھڑیوں سے قطعی بے خبر تھا۔ نہیں جانتا تھاکہ آج آخری دفعہ میں نے ماں اور باپ کے ساتھ کھانا کھایا ہے۔ ماں کے ہاتھ کابنا ساگ آخری دفعہ کھایا ہے۔ یہ یہ لمحے آئندہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ماں کے شفیق ہاتھ آخری دفعہ میرے سامنے مکھن اور ‘پل شکر رکھ رہے ہیں۔
کائنات اور نگہت بہت دیر تک جاگ کر باتیں اور ہنسی مذاق کرتے رہے۔ نگہت کو ہم نے صابر ‘ رات کومیں کے حوالے سے بہت تنگ کیا۔ اس کی شادی کچھ ہی دنوں کی بات تھی۔ اس کے چہرے پر دوڑتے شفق رنگ بہت بھلے لگ رہے تھے۔
میں نہیں جانتاتھا کہ ایک خوفناک اژدھا ہماری خوشیوں کو نگلنے کے لیے حرکت میں آچکا ہے۔ بہت جلد بہت جلد میرے شب وروز ایک نئے اور خونی انداز میں بدلنے والے ہیں۔
کے نام سے معروف ہونے والا ہے۔ جس کا ‘‘کمالے جٹ’’بہت جلد ‘‘کمالا پتر ’’حال کا ‘ مستقبل کاڈاکٹر کمال ہر قدم دشمنوں کی گردنوں پر ہوگا۔
میں آنے والی گھڑیوں سے بے خبر تھا۔ قطعی بے خبر اور حال میں مست۔ ‘ہاں
میں اور کائنات واپس لوٹ آئے۔
مجھے پچیس فروری کی وہ شام آج بھی یاد ہے۔ جو بظاہر تو عام شاموں جیسی تھی مگر میرے لیے قیامت لانے والی تھی۔
کچھ دیر پہلے ایک معمولی سی بات پر میری اور جعفر ایرانی کی تلخ کلامی ہوئی تھی۔ بات ہاتھا پائی تک پہنچتے پہنچتے رہ گئی تھی۔
مجھے کھینچ کر باہر لے گئی تھی۔ ‘کائنات
اسی وقت میں نے اپنے کلاس فیلو نادر مگسی کو بڑی تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھا۔ اس کے ہاتھوں میں بھدا سا موبائل فون تھا۔ ان دنوں میں موبائل فون بہت خاص ہوتے تھے اور سارے کالج میں نادر مگسی واحد طالب علم تھا جس کے پاس موبائل فون تھا۔ جس کی وہ بڑے فخر سے نمائش ک رتاتھا۔
نادر مگسی سے میری اچھی بنتی تھی۔ کسی فوری رابطے کی غرض سے میں نے والد صاحب اور صابر کو اسی کانمبر دے رکھا تھا۔
میرے دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔
اس نے مجھ سے نگاہیں چرائیں۔ ‘‘ تمہارے لیے کال ہے۔ ’’ نادر مگسی نے فون میری طرف بڑھایا۔
میںنے موبائل فون کان سے لگایا۔ دوسری طرف سے صابر کی ہانپتی ہوئی متوحش آواز ریڈیائی شور کے ساتھ سنائی دی۔
! …کمال’’ ‘‘ گائوں آجائو ً تم فورا
اندیشے مجھے لرزانے لگے۔ ‘‘ کیوں؟ کیا ہوا؟ ’’
‘‘ چاچا اور میجر صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ’’ صابر کی آواز کانپ اٹھی۔ ‘‘… تو آجا ’’
مجھے محسوس ہوا جیسے یہ الفاظ نہیں طاقتور بم تھا۔ جس نے میرے پرخچے اڑادیئے ہیں۔
‘‘ اس کے بعد۔… بیگھے ملوں نے مچھلی فارم میں زہر ڈال دیاتھا ’’ صابر مزید کہہ رہاتھا۔
مزید کچھ سننے کامجھ میں یارا نہیں تھا۔
ایک سرخ سی دھند تھی جومیرے حواس پر چھانے لگی تھی۔
کھٹ پٹ کی آوازیںمجھے حال میںواپس لے آئیںمیںپوری طرح سے چوکنا ھوگیامیرے ہاتھ میںدبا پستول کسی کی بھی جان لینے کیلئے مکمل طورسے تیارتھا۔
جیسے کسی نے ان ‘ سردی کے باوجود میرا جسم پسینے میںبھیگا ہوا تھا۔ آنکھیںیوںجل رہی تھیں میںصحرائی ریت بھردی ہو۔ یاد ماضی میرے لیے یوں ہی عذاب ناک ہوتا تھا۔
‘‘ یہ میں ہوں۔ ’’ میرے کسی منفی ردعمل سے بچنے کی غرض سے حکم کے غلام نے دبی آواز میں کہا۔
میرے تنے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔ ساتھ ہی مجھے احساس ہوا کہ بھوک کا آسیب میرے معدے میں پنجے گاڑ چکا ہے۔ جانے کس وقت سے میں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔
لکڑی کے تختے ہٹائے جارہے تھے۔ ساتھ ہی تاریکی میں پنسل ٹارچ کی روشنی ننھا سا دائرہ چمک رہا تھا۔ باہر ایک اور سرد رات اتر آئی تھی۔
پنسل ٹارچ ‘‘ یہ کپڑے پہن لو۔ ’’ حکم کے غلام نے پسینے کی بو سے مہکتا ایک گٹھر سامیری طرف پھینکا۔ کی مدد سے میں نے وہ ڈھیلا ڈھالا سا قبائلی لباس پہن لیا جس کی لمبائی میرے سائز سے کم تھی۔ مگر کام چل گیاتھا۔
اس لباس کے ساتھ ایک پگڑی بھی تھی جس نے میرا نصف سے زیادہ چہرہ چھپا لیا تھا۔پسٹل میں نے نیفے میں اڑس لیاتھا۔
چند لمحوں بعد میں حکم کے غلام کے ساتھ کھڑکی سے کود کر اس نیم تاریک کمرے میں تھا جہاں سے ہم لکڑی والے گودام میں داخل ہوئے تھے۔
میں نے ‘‘ کھانے کے لیے کچھ مل سکتا ہے؟ ’’ اندازہ ہوتاتھا کہ مجھے یہاں سے کہیں اور منتقل کیا جارہا ہے۔ قدرے دبی آواز میں کہا۔
حکم کے غلام نے روکھے اور کسی قدر ناراض سے انداز میں کہا۔ میری ‘‘ یہ فرمائش اپنے میزبان سے کرنا۔ ’’ مدد کرنا یقینا اس کے لیے ناپسندیدہ فعل تھا۔ مگر میرے کسی نامعلوم مہربان کے حکم سے وہ مجبور تھا۔
مجھے نیم تاریک کمرے میں ل وہ سن گن ینے کے لیے باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی ً چھوڑ کر غالبا میرے ساتھ قدم ملا کر چلنا اور خبردار ’’ اس نے ہیجان زدہ آواز میں کہا۔ ‘‘ میرے ساتھ آئو ’’ واپسی ہوئی۔ کسی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنا۔ تم میرے بھتیجے ہو اور میں نوکری دلانے کی غرض سے تمہیں ‘‘چھوٹے ملک شہباز کے پاس لے جارہا ہوں۔
میں نے اثبات میں سرہلایا ۔فی الحال میں نے اپنے میزبان کے حوالے سے ذہن کو آزاد چھوڑدیا تھا۔ یقینی طور پر گل ریز نے ہی ڈوریاں ہلائی تھیں۔
حکم کاغلام مجھے اس رہائشی یونٹ سے باہر لے آیا۔ جہاں تاریکی اور سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا تھا۔
کھلے میں آتے ہی میرے اعصاب تن گئے تھے۔ میری تمام تر حسیات انگڑائی لے کر بیدار ہوچکی تھیں۔ ایک لحظے سے بھی کم وقت میں پسٹل میرے ہاتھ میں آسکتاتھا اور آخری چند گولیوں کامیں مناسب استعمال کرسکتاتھا۔
غالبا یہ ملازمین کے رہائشی یونٹ تھے۔ جہاں سے نکلتے ہی مناسب فاصلے پر گیس لیمپ نظر آنے لگے تھے اورقبائلی لباس میں ہتھیار بند محافظ بھی نظر آرہے تھے۔ قرب وجوار میں مچی ہلچل سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ میری تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ہم کئی محافظوں کے قریب سے گزرے۔ کسی نے کوئی تعرض نہیں کیا۔چند ایک نے حکم کے غلام سے علیک سلیک بھی کی۔مجھ پرمحض انہوں نے سرسری سی نظر ڈالی تھی۔
ہمارا رخ حویلی کی مرکزی عمارت کی طرف تھا پھررخ قدرے تبدیل ہوا۔ مرکزی عمارت سے متصل یہ جدید عمارت تھی اور لگتاتھا حال ہی میں تعمیر کی گئی ہے۔
اس کے کھلے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے میری نظر قدیم حویلی کے مرکزی دروازے پرنمودار ہونے والے ایک درمیانی قامت کے بے حد سرخ وسفید فربہ اندام شخص پر پڑی۔ اس کے چہرے پر گھنی سیاہ جگمگا 16 مونچھیں جہاں بھلی لگ رہی تھیں وہیں اسے بارعب بھی بنا رہی تھیں۔ اس کے کندھے پر ایم۔ رہی تھی۔
یہاں خاصی روشنی تھی ۔ جس کے سبب تمام جزیات نمایاں تھیں۔ ایک لحظے کے لیے میری آنکھیں اس شخص سے چار ہوئیں۔ وہ ایک بے حد چوکس شخص کی نظریں تھیں۔ اس دوران ہم جدید عمارت میں داخل ہوچکے تھے۔
‘‘ یہ کون تھا؟ ’’
اس کے لہجے میں ہراس اتر ‘‘سالار خان!’’ میری طرح حکم کے غلام نے بھی اس بارعب شخص کو دیکھاتھا۔ حویلی کے محافظوں کا سردار ہے۔ اس حویلی سے بغض رکھنے والے اس کے سائے سے بھی بچ کر ’’ آیا۔ ‘‘ گزرتے ہیں۔
میں نے اثبات میں سرہلایا۔ مجھے پہلی دفعہ بجلی کے قمقمے نظر آئے۔ یقینا یہ انتظام کسی جنریٹر کا مرہون منت تھا۔
یہاں بھی ہمارا واسطہ چند محافظوں سے پڑاتھا۔ مگر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ حکم کا غلام ضرور یہاں خصوصی اہمیت رکھتاتھا۔
وہ مجھے لکڑی کی جدید ریلنگ والی سیڑھیاں چڑھا کر دوسری منزل پر لے آیا۔ میرے سامنے ایک شاندار ٹیرس اوروسیع وعریض گلاس روم تھا۔ شیشے کی دیواروںکے پار سرخ دبیز پردوں نے اندرونی منظر چھپالیاتھا۔
میرا نیا میزبان اس حویلی میں خصوصی اہمیت ومرتبے کا مالک ہے۔ … میرے دل نے کہا
ٹیرس پر قدم رکھتے ہی حکم کا غلام مودب نظر آنے لگا تھا۔ اس نے بے حد آہستگی کے ساتھ گلاس روم کا دروازہ کھولااور جوتے اتار کر اندر داخل ہوا۔ میں بھی اس کے عقب میں تھا۔ البتہ میری خود سری جوتے اتارنے میں مانع رہی تھی۔
اس نیم گرم وسیع وعالیشان گلاس روم کے گلابی ایرانی قالین پر ہم دونوں پھٹے جوتوں کی مانند نظر آنے لگے تھے۔
جس پرانگورکی … اطراف میں سرخ آرام دہ صوفے پھیلے ہوئے تھے۔ درمیان میں شیشے کے ٹاپ والی میز بیٹی تمام تر لوازمات کے ساتھ سجی تھی اور اس میز کے دوسری طرف ایک تخت نما نشست پربیٹھا تیس بتیس سالہ بے حد خوبرو نوجوان مجھے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ ترشی ہوئی بھوری مونچھیں اور بے حد چمکدار آنکھیں۔اس کے پہلومیں ایک قیامت بھی تھی۔ سیاہ چمکدار کپڑے کامیکسی نما لبادہ گال پر سیاہ تل اور ‘ جسے اس کے متناسب خدوخال والے جسم پررکھ کر سلائی کیا گیا تھا گلابی رنگت ھ ‘ آبشار کی مانند ڈائی کیے سنہرے بال اس چ ین لینے والے حسن وشباب کی مالک ِ بلاشبہ وہ ہوش وحو تھی۔
اس کی نظروں کا مرکز بھی میں تھا۔ ان نظروں میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ شرارت چمکتی ہوئی نظر آرہی تھی۔
خوبرو نوجوان کا اشارہ پاکرحکم کاغلام الٹے قدموں گلاس روم سے باہر نکل گیا۔
نوجوان کی پراعتماد آواز ابھری۔ میرے اعصاب پتھر ‘‘کمالا جٹ’’ ڈاکٹر کمال المعروف… خوش آمدید ’’ البتہ خفیف سا طویل سانس ضرور لیا۔ مجھے شناخت کرلیا گیا ‘ ہوچکے تھے۔ اس لیے میں چونکا تو نہیں تھا۔
ذیشان خان ہوں۔ ناگوٹ ‘ میں ’’ نوجوان تخت چھوڑ کر میرے قریب آیا۔ وہ مضبوط جسم کاطویل القامت تھا۔ اس کا اردو کالہجہ بالکل صاف تھا۔ ‘‘ اور لپیٹائی کے سردار ملک طوراخان کا چھوٹا بھائی۔ ‘باگوٹ‘
میں نے اس کی چمکدار ‘‘ موت کے چنگل سے سلامت نکال لینے کی مہربانی کی وجہ جان سکتا ہوں۔ ’’ ‘‘ یہ بات شاید آپ کے بڑے بھائی کو بھی ناگوار گزرے۔ ’’ آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
وہ ملائم ‘ ایک لحظے کے لیے اس کے چہرے پر طیش کی سرخی چمکی۔ مگر اگلے ہی پل معدوم ہوگئی ‘‘ تمہاری مدد پر مجبور کرنے والی یہ حسین خاتون ہیں۔ ’’ لہجے میں بولا۔
میں نے چونک کر اس قیامت کی طرف دیکھا جو خطرناک زاویے پر نیم دراز ہوچکی تھی۔ اس کے دراز لبوں پر بڑی پراسرار مسکراہٹ تھی۔
یہ تمہاری ’’ اس قیامت پر ایک ریشہ خطمی ہونے والی نظر ڈال کرذیشان نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ ‘‘ ہے اور میں اس کا۔ ‘‘ فین ’’ بڑی
تم اس وقت آسیبی بونوں سے نبرد آزما تھے جب ہم دونوں طلوع آفتاب کامنظر دیکھنے کے لیے اسی گلابی روم میں موجود تھے۔ پردے ہٹے ہوئے تھے۔ مگر طلوع آفتاب کے دل موہ لینے والے منظر کی بجائے ہم نے بیک وقت دو تم ‘ جو ایک بھی تین تنومند لڑاکوں پر بھاری پڑتا ہے … ایک دلخراش منظر دیکھا۔آسیبی بونے سے چمٹے تھے اور مجھے قوی یقین تھا کہ چند منٹوں بعد وہاں ایک ادھڑی ہوئی لاش پڑی ہوگئی۔
اس کے لہجے میں بڑی دلچسپی ‘‘ مگر میں نے اپنی زندگی کے حیران کن مناظر میں سے ایک دیکھا۔ میںنے تمہارے ہاتھوں مفروب ہونے والے ایک بونے کو جان کنی کے عالم میں ’’ اورمیرے لیے ستائش تھی۔ تڑپتے اور دوسرے کو راہ فرار اختیار کرتے دیکھا۔
میرے لیے یہ بات دلچسپی کا عنصر لیے ہوئے تھی کہ مجھ پر حملہ آور ہونے والے بونے ایک خلقت کے لیے بہت بڑی چیز تھے۔
ذیشان خان نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس قاتلہ کی طرف رخ موڑا۔ اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک ازلی پیاس اس کے چہرے پر نظر آنے لگتی تھی۔ صاف نظر آتاتھا وہ اس دلنواز پیکر پر دل وجان سے خاصا فاصلہ ہونے کے باوجود انہوںنے تمہیں … فدا ہے۔ یہ حسین خاتون چند دن پہلے لاہور سے آئی ہیں ‘‘ پہچان لیا اور تمہاری مدد کرنے کا مجھے حکم دیا۔
میںنے بغور اس حسینہ کو دیکھا۔ اس کے نقوش کہیں لاشعور سے ابھرتے تھے اور واضح ہونے سے پہلے میں پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا۔ ‘ غائب ہوجاتے تھے مگر یہ بات یقینی تھی کہ اسے
ذیشان خان کے انداز تخاطب پر یقینا اس حسینہ کا اپنی قوت تسخیر پر اعتماد بڑھ گیا تھا۔ اس کا ثبوت اس کی گہری ہوتی مسکراہٹ تھی۔
میں اس مخمصے میں الجھ گیا تھا کہ وہ کون تھی؟ اور ذیشان خان کو کیوں میری مدد پر آمادہ کیا۔ بظاہر اس کا گل ریز سے بھی کوئی تعلق نظر نہیں آرہاتھا۔
میںنے ک ’’ ذیشان خان کہہ رہا تھا۔ وا ی ٹاکی استعمال کیا اور اپنے ایک وفادار کو جو تمہارے قریب ً فورا پھرا س نے کلائی پرجگمگاتی گھڑی پرنظر ‘‘ تمہاری مدد کے لیے کہا۔ نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ … ترین تھا اس ‘‘ تمہارے ساتھ پھر ملاقات ہوگی۔ فی الحال تم شیری کے مہمان ہو اور میزبانی اسی کے ذمے۔ ’’ ڈالی۔ کے بعد اس نے بڑی بے باکی سے میرے سامنے شیری نام کی اس لڑکی کا بوسہ لیا اور گلاس روم سے باہرنکل گیا۔اس کے منظر سے غائب ہوتے ہی شیری لپک کرمیرے قریب آئی ۔
اس کی نظریں تشویشی انداز میں میری حالت زار کاجائزہ لے رہی تھیں۔ ‘‘ پ یہاں کیسے؟ …آ’’
گل ریز کا نام ‘‘ مگر تم کون ہو ؟ اور میری مدد کیوں کی؟ ‘ کہیں بھی پایا جاسکتا ہوں … میں آوارہ گرد ہوں ’’ لینا میں نے فی الحال مناسب نہیں سمجھا۔
فی الحال تو آپ کو طبی امداد کی … یہ بھی بتادوں گی ’’ اس نے گہرا سانس لے کر بالوں کو جھٹکا ۔ میں کوشش کے باوجود اس کے انداز میں مصنوعی پن نہ ڈھونڈ سکا۔ اس کی فکر وپریشانی ‘‘ضرورت ہے۔ حقیقی محسوس ہوتی تھی اور یہی بات مجھے قیاس آرائیوں پر مجبو ر کررہی تھی وہ کون تھی ؟ دیکھی سی کیوں لگتی تھی۔ … اورمجھے دیکھی
وہ حال ہی میں لاہور سے آئی تھی اور میں نے لاہور میں بڑا طوفانی وقت گزارا تھااور یہی وقت تھا جب کے نام سے ہوا دی تھی۔ ‘‘کمالا جٹ’’ … میں نے کمال احمد کو
پھنے خان قسم کے پولیس ‘ نامی گرامی بدمعاش ‘ ایک لحظے سے بھی کم وقت میں ٹیکسالی کے کوٹھے میرے سامنے سے گزر گئے۔ مگر وہ لڑکی مجھے کہیں نظر نہیں آئی۔ ‘ آفیسر
جو ماں کی ‘ اندرون لاہور کی دھول ‘ پکوان‘ لاہور یاد آیا تو دل سے ہوک سی اٹھی۔ مال روڈ کی گہما گہمی جوپیشانی پر نم سے ‘ برسات کے دنوں میں راوی کوچھو کر آنے والی ہوا ‘ چادر کی مانند ڈھانپ لیتی تھی جہاں میرے بڑھتے قدم روکنے کے لیے … بوسے دیتی تی اور جناح پارک کا وہ دور افتادہ پرسکون گوشہ کائنات کسی کی پروا کیے بغیر مجھ سے لپٹ گئی تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: