Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 4

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 4

دل سے اٹھنے والی ہوک نے اس دفعہ ‘ یہ سب لمحے بھر میں دماغ کی اسکرین پر ابھر کرمعدوم ہوگیا تھا بھی لبوں پر آنے کی بجائے سینے کی گہرائیوں میں دم توڑ دیا تھا۔
سے آئی ایک لڑکی تھی جو بے شک اجنبی تھی مگر میری مدد کرنے ‘‘ میرے لاہور ’’ فی الحال میرے سامنے اس کے ہونٹوں پر ‘‘ ممکن ہے طبی امداد سے پہلے میںبھوک سے مرجائوں۔ ’’ پر تلی تھی۔ میںنے کہا۔
مسکراہٹ ابھری۔ وہ میرا ہاتھ تھام کرگلاس روم سے متصل ایک اور کمرے میں لے گئی یہاں تین اور لڑکیاں موجود تھیں اور زنانہ استعمال کی اشیاء ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ ان اشیاء میں گھنگھرو بھی تھے۔
شیری سمیت وہ لڑکیاں طوائفیں تھیں۔ اچانک ہی میرے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔ آج کل میں اس حویلی میں رقص وموسیقی کی بہت بڑی محفل برپا ہونے والی تھی۔ یہ لڑکیاں یقینا اسی مقصد کے لیے لاہور سے بلوائی گئی تھیں۔ ان کا تعلق بازار حسن سے تھا۔
بازار حسن کا کوئی ایسا معروف کوٹھا نہیں تھا جس کی سیڑھیاں میری قدم آشنا نہ ہوں مگر مجھے یقین میں نے شیری کوپہلے کہیں نہیں دیکھا۔ …تھا
یہ دیکھ کر میں ٹھنڈا سانس لینے پرمجبور ہوگیا کہ باقی تینوں لڑکیاں ناصر ف مجھ سے غائبانہ آشنائی پاکستان کے پنجاب کے ‘‘دھوم’’ رکھتی تھیں بلکہ شیری انہیں یہ بھی بتاچکی تھی کہ کمالا جٹ جس کی وہ ہمارے درمیان ہے۔ ‘ ساتھ ساتھ انڈیا کے پنجاب میںبھی مچی ہے
لڑکیوں کی خوف آمیز دلچسپی کاتمام تر مرکز میں تھا اور اپنی منفی شہرت سے ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی مجھے بہت الجھن ہو رہی تھی۔
چاروں لڑکیوں نے مل کر میرے سامنے انواع اقسام کے کھانے چن دیئے۔ میںنے سیر ہو کر کھایا۔ اس کے بعد میرے تمام تر اصرار کے باوجود میری مرہم پٹی بھی کی۔
میرے جسم پر ریچھ کے پنجوں کے گھائو تھے۔ جن میں اچھی خاصی جلن ہو رہی تھی۔ ان میں سے ایک جسے وقت کا ظالم اور بے رحم ہاتھ مجبوری کے ڈنڈے سے دھکیلتا ‘ لڑکی شبانہ نے نرسنگ کورس کیا تھا ہوا کوٹھے پر لے آیا تھا۔ اس نے بڑی ادا سے کہا۔
‘‘ شتے کے ساتھ آپ کی لڑائی ہوئی ہے۔ ‘ جٹ جی! لگتا ہے کسی کتے ’’
وہ جو چینی پتا نہیں جاپانی بڈھا ہے نا اس کے باڈی … کتوں سے نہیں … اری ’’… شیری نے اس کی بات کاٹی ذیشان بتارہاتھا کہ ’’ شیری نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا۔ ‘‘ … ہاں یاد آیا … گارڈز چمونوں نے انہیں کاٹا ہے ‘‘ انہوں نے ایک ریچھ کو بھی مار ڈالا ہے۔ ضرور یہ لمبی لکیروں جیسے زخم اسی کے پنجوں کے ہوں۔
دوسری لڑکیاں بھی ‘‘ جٹ جی ! آپ موئے ریچھ سے بھی بھڑ گئے؟ ’’ شبانہ نے سینے پر ہاتھ رکھا۔ ‘‘… ہائے’’ حیران وپریشان نظر آنے لگی تھیں۔
میں نے اسی کے انداز میں کہا۔ ‘‘ وہ خود مجھ سے بھڑاتھا۔… نہیں ’’
شبانہ ‘‘ کوئی انجکشن لکھ دیں۔ منگوالیتے ہیں۔ ورنہ انفیکشن ہوجائے گا۔ ‘ آپ تو خود ڈاکٹر بھی ہیں ’’ متفکر نظر آنے لگی تھی۔
میں نے بے پروائی سے کہا اور یہ حقیقت بھی ‘‘ میں ایسے کئی انفیکشن بھگتا چکاہوں۔ … کچھ نہیں ہوتا ’’ تھی۔ میرے وجود میں جو طوفان کروٹیں لیتے تھے وہ ہر زخم کو جلا کر رکھ دیتے تھے۔
ان کے … لڑکیاں بڑے اچنبھے سے میری طرف دیکھ رہی تھیں۔ ریچھ کے ساتھ لڑائی اور اسے زیر بھی کرلینا لیے بڑی ناقابل یقین بات تھی۔ مگر یہ کارنامہ انجام دینے والا ان کے سامنے تھا۔ میں نے ذیشان خان کاایک شلوار زیب تن کیا ہی تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلااور ماضی قریب کاایک جانا پہچانا چہرہ ‘ نفیس سا کرتا میرے سامنے آگیا۔ ساتھ ہی اس اسرار سے بھی پردہ اٹھ گیا کہ شیری کون تھی۔ وہ لاہور بازار حسن کی مشہور ومعروف نائیکہ لیل دونوں کے نقوش میں واضح ‘ ی وارثی تھی۔ شیری یقینا اس کی بیٹی تھی مشابہت تھی۔ میرا لیل کوٹھے کے علاوہ ڈیفنس میں بھی اس ‘‘ خاندانی ’’ جانا تھا۔ ٹیکسالی کے ‘ ی وارثی کے پاس خاصا آنا جہاں صرف خاص لوگوں کو رسائی حاصل تھی اور میں اس کے لیے خاص الخاص تھا۔ ‘ کا کوٹھی خانہ تھا
عام نائیکائوں کے برعکس وہ خاصی دبلی تھی۔ اس کاجسم ابھی بھی کمان کی مانند تنا تھا اور جسم پر اگر میں یہ نہ جانتا کہ ‘ سلیقے کا لباس تھا۔ اس کی عمر چالیس کے قریب تھی مگر لگتی تیس کی تھی اس کی کوئی بہن نہیں ہے تو شیری کو اس کی چھوٹی بہن ہی سمجھتا۔ مجھے دیکھ کر لیل ی وارثی ہکا بکا رہ گئی تھی۔ اس کے عقب میں ایک سرو کی مانندلمبی اور نوخیز لڑکی تھی۔ جس کی عمر بمشکل پندرہ سال رہی ہوگی۔ ساڑھے پانچ فٹ سے نکلتے ہوئے قد کے باوجود اس نوخیزی میں بھی وہ بڑی شاداب تھی۔ بھرابھرا جسم کسی رس بھری کی مانند محسوس ہوتاتھا۔ وہ نوخیز لڑکی بڑی بے زار بے زار سی نظر آئی تھی۔ لیل ‘‘ ! یہ آپ ہیں جٹ جی … یقین نہیں آرہا ’’ ی وارثی لپک کرمیرے قریب آئی اور بے دھڑک بغل گیر ہوگئی۔ آپ یہاں کیسے ؟جب سے آپ نے ہمارے کوٹھے سے منہ ’’ مجھے ہمیشہ ایسے ہی مخاطب کرتی تھی۔ ‘وہ اس نے مجھ سے جدا ہوتے ہوئے شکوہ کیا۔ ‘‘ موڑا ہے میں تو آپ کی صورت دیکھنے کو ترس گئی تھی۔
‘‘ دیکھو تقدیر گھیر کرکہاں لے آئی ہے۔ ‘ تم سے دوبارہ ملنا نصیب میں لکھا تھا ’’
‘‘ ہم سے بھاگ کر آپ جاہی کہاں سکتے ہیں۔ ’’
میں نے کن اکھیوں سے دیکھا۔ نوخیز لڑکی کسی کی طرف توجہ دیئے بغیر فرشی بستر پر اوجھل ہوگئی ‘‘ لگتا ہے ذیشان خان کے مہمان بن کر آئے ہیں آپ؟ ’’ تھی۔
‘‘ میں تو شیری کامہمان ہوں۔ … نہیں ’’ میں نے شیری کی طرف دیکھا۔ لیل شیری نے قدرے ہکلا کر طوائفوں کی ‘‘! وہ باجی …ہ…و’’ ی وارثی نے چونک کربیٹی کی طرف دیکھا۔ روایت کی مانند ماں کوباجی کہہ کرمخاطب کیا اور پھر سنبھالا لے کر پوری تفصیل بتادی۔
جس نے ‘ ایک لحظے کے لیے لگا کہ ماں کوبیٹی کا یہ اقدام پسند نہیں آیا مگر وہ بڑی گھاگ عورت تھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہ ی اس نے اپنے تاثرات سنبھالے۔ اس کے چہرے پر نرم پھوار سی برسنے ً تھا۔ فورا لگی۔
اور یہ ‘‘ یہ تواچھا کیا لڑکی! کمال صاحب کے بھی ہم پر کئی احسانات ہیں۔ کم از کم آج ایک تو اتر گیا۔ ’’ حقیقت تھی ۔ میں نے ایک تیس مار خان کے فلمساز سے اسے پچاس لاکھ روپے نہ صرف واپس دلائے تھے بلکہ اسے لیل ی وارثی کے سامنے فرش پرناک سے سات لکیریں بھی نکلوائی تھیں۔ یہ ناصرف مجھے جانتی ہے بلکہ میری ہمدرد بھی ہے۔ یہ … شیری کو کبھی میں نے دیکھا نہیں ’’ میں نے کہا۔ ‘‘ بات میرے لیے حیرانگی کاباعث ہے۔ شیری کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔ لیل ‘‘ میں بتاتی ہوں۔ ’’ ی وارثی نے شوخی سے کہا۔ اس نے قدرے تحکمانہ انداز میں ایک قدرے ‘‘… نازو! ہیٹر لے آ ’’ وہ مجھے لے کر نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئی۔ سانولی مگر دلفریب نقوش کی مالک لڑکی سے کہا۔
کچھ دیر میں ہمارے درمیان الیکٹرک ہیٹر خوشگوار حرارت پھیلا رہا تھا۔ کاجوسے بھری پلیٹ بھی آگئی تھی۔ لیل ی وارثی پھسکڑا مار کرمیرے سامنے بیٹھ گئی۔ ایک لڑکی نے نفیس سی چادر اس کے کندھوں پر پھیلادی۔ لڑکیاں فرشی نشست پر ہمارے گرد بیٹھ گئیں۔
یہ ان دنوں …جن دنوں آپ کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا’’ اس نے ایک شوخ سی نظر بیٹی پرڈالی اور گویا ہوئی۔ پڑھ رہی تھی اور میں نے اسے سات پردوں میں چھپا کررکھاتھا۔
‘‘ یہ ڈیفنس والی کوٹھی پر ہوتی تھی اور چھپ چھپ کر آپ کو دیکھتی تھی۔
میں نے شیری کی طرف دیکھا۔ ایک طوائف زادی کے چہرے پر جھینپی جھینپی سی شرم اچھی لگی۔ لیل اسے آپ اور آپ کی کہانی سے بڑی دلچسپی تھی۔ مجھ سے کرید کرید کر آپ ’’ ی وارثی کہہ رہی تھی۔ ‘‘… کبھی کبھی تو مجھے لگتاتھا یہ نگوڑی مرتی ہے آپ پر … کے بارے میں پوچھتی تھی
شیری نے ٹھنک کر کہا۔ اس کے چہرے پر آئے رنگ واقعی کسی گڑبڑ کی چغلی کھا رہے ‘‘… باجی ’’ تھے۔ایسی ہر پیش قدمی میرے وجود میں سناٹے اتار دیتی تھی۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔ میں نے شیری کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔ ریشمی تھان کھل گیا تھا۔ میری ذرا سی حوصلہ افزائی یاایک میری ‘ اسے پورا کھول دیتی۔ میں نے بے تاثر چہرے کے ساتھ نظریں جھکالیں۔ بہرحال وہ ‘‘خاص نظر’’ محسنہ تھی۔ لیل میں نے آپ جیسے کسی قدردان کے لیے چھپا کررکھاتھا مگر آپ ہمارا ‘اسے’’ ی وارثی نے مزید کہا۔ ‘‘ اور یہ ذیشان خان کی ہوگئی۔ ‘راستہ بھول گئے
شیری نے واک آئوٹ کرجانا مناسب سمجھا۔
رات قدرے گہری ہونے پرمیں دوبارہ سے پرشکوہ روم میں ذیشان خان کے ساتھ تھا۔ شیری بھی اس کے قریب تھی۔
میں دانستہ شیری کی طر ف دیکھنے سے اجتناب برت رہاتھا۔ اس کی آنکھوں میں پسندیدگی کی چمک اب واضح ہوچکی تھی۔
رقص وموسیقی کا پروگرام آج رات طے ہوا تھا۔ مگر کسی خاص مہمان کی آمد میں تاخیر کے سبب یہ اگلی رات ہونا تھا۔
ایک جام اس نے میری طرف بڑھایا۔ ‘ شیری نے غیر ملکی برانڈ کی شراب نفیس پیمانوں میں انڈیلی
‘‘ میں نہیں پیتا۔ … نہیں ’’
‘‘جب ہمارے ہاں آتے تھے۔’’ وہ حیران ہوئی۔ ‘‘ پہلے تو پیتے تھے آپ۔ ’’
‘‘ کوٹھے کے ساتھ اس خانہ خراب سے بھی منہ موڑ چکا ہوں۔ ’’
اس نے بغور میری طرف دیکھا اور پھر وہی جام اپنے حلق میں انڈیل لیا۔ ذیشان خان نے بھی پہلے جام کے ساتھ یہی حشر کیاتھا۔
ذیشان خان کی چمکدار آنکھوں میں گلابی ڈورے ‘ شیری نے اسے دوسرا بنا کر دیا۔ یہ تیز اثر شراب تھی تم ایک ’’ تیرنے لگے تھے۔ اس نے دوسرے جام سے ایک گھونٹ لیااور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ دلیر اور خوش قسمت شخص ہو۔
اور شیری نے بھی بہت کچھ ‘ تمہارے بارے میں خاصا سنا تھا ‘ میں نے لاہور میں خاصا وقت گزارا ہے تم اس ‘ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جتنا سناتھا ’’ اس نے شیری کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔ ‘‘ بتایاہے۔ ‘‘سے بڑھ کرہو۔
نقرئی طشتری سے ایک کاجو اٹھا کرمیںنے منہ میں ڈال لیا۔ مجھے حرارت سی محسوس … میں کیا کہتا ہو رہی تھی۔ ریچھ کے لگائے زخم اپنا اثر دکھا رہے تھے۔
اس حویلی میں تم قیدی کی حیثیت سے لائے گئے تم نے ناصرف قیدخانے سے رہائی حاصل کرلی بلکہ ’’ بنا۔ وہ بہت ‘‘دابو’’ دومحافظوں کوبھی ہلاک کردیا۔ تمہارا اگلا نشانہ میرے بھائی کا چہیتااور خونخوار ریچھ خاص ریچھ تھا۔ کتوں کے ساتھ ہونے والا کوئی مقابلہ وہ نہیں ہارا تھا۔ اور تنہا حویلی کی شمالی فصیل کامحافظ تھا۔
تم نے محض ایک خنجر کی مدد سے اسے ہلاک کردیا۔ اسی ہلے میں تمہارا ٹاکرا ان آسیبی بونوں سے یہ تمہاری دلیری تھی اور خوش قسمتی ہے کہ شیری … تم انہیں بھی پچھاڑنے میں کامیاب رہے …ہوا اس نے شیری کا بوسہ لیا۔شیری کی آنکھوں سے بھی نشہ چھلکنے لگا۔ میں نے ‘‘ تمہاری پرستارہے۔ ‘ ان کے حوالے سے دلچسپی ‘ یہ آسیبی بونے کیا چیز ہیں؟ میں … قطعہ کلامی کی معافی چاہتا ہوں ’’کہا۔ لینے پرمجبور ہوں اب تک تو یہی سنا ہے کہ وہ کوئی ناقابل تسخیر اور خوفناک قسم کی شے ہیں۔ ‘‘ مناسب سمجھیں تو ان کے بارے میں کچھ بتائیں۔
ہماری بستیوں کے شمال میں ایک ’’ ذیشان خان نے شیری کے ملائم بالوں میں انگلیاں چلائیں اور گویا ہوا۔ نامعلوم وقتوں سے بونوں کا قبیلہ ‘ نام کی بے حد دشوار گزار وادی ہے ‘‘لجلال’’ خطرناک درہ عبور کرتے ہی رسم ورواج اور مذہب سب کچھ منفی ‘رہن سہن ‘ ان کی زبان ‘ وہاں آباد ہے۔ نہ جانے یہ کہاں سے آئے تھے ہے۔
ہم قبائلی لوگ ڈرنا تو … رفتہ رفتہ ان کی شہرت پھیلی ‘ نادانستہ جو بھی ان سے ٹکرایاتباہ ہوا ‘دانستہ سیکھے نہیں مگر چند ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے ان کی شہرت کو افسانوی رنگ دے دیا ان پر ً ۔ مثلا دو اور بھی ایسے ‘ حملہ کرنے کے لیے چھپے دولت زئی قبیلے کے چند نوجوانوں پر پوری چٹان آگری۔ ایک واقعات ہوئے۔
پریت وغیرہ سے بہت ڈرتے ہیں۔ لجلال کے درے کے پاس ‘ بھوت‘ ہمارے لوگ اور کسی سے ڈریں یانہ ڈریں ‘ لوگوں نے بدروحوں کی چیخیں بھی سنیں … کئی افراد کو سیاہ لباس والی عورتیں ماتم کرتی نظر آئیں بھٹکے مسافروں اور بونوں ‘ بیس فٹ لمبے بزرگ بھی جو بھولے ‘ پچھل پیریاں بھی دیکھی گئیں اور بیس کے قبیلے پرحملہ کرنے کی نیت سے نکلے قبائلی لشکر کے ہر اول دستے کو واپس جانے کا کہتے تھے۔
یہ کہتے ہوئے ذیشان خان کے چہرے پر دبا دبا تمسخر تھا۔ جس سے ظاہر تھا کہ وہ ان لغو باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ شیری یہ سنتے ہوئے البتہ ہراساں نظر آنے لگی تھی۔
ذیشان خان کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے میں نے بھی خاموشی مناسب سمجھی۔
اس کے بعد لوگ لجلال کی وادی کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے۔ اس کے علاوہ یہ بونے جنہیں مقامی ’’ بے حد خونخوار اور لڑائی بھڑائی میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ ‘ بھی کہا جاتا ہے ‘‘زوگالے’’ زبان میں ان کے بارے میں آدم خوری کی بھی اڑتی اڑتی کہانیاں سنی گئی ہیں۔
وہیں غم وغصہ بھی موجود ہے۔ دولت زئی ‘ ہمارے لوگوں میں ان کے بارے میں جہاں خوف پایا جاتا ہے قبیلے کی ایک عورت اور اس کی تیس سے زائدبھیڑوں کی گمشدگی کا ذمہ دار انہیں سمجھا جاتا ہے۔ راہ گم کردہ لوگوں کی گمشدگی بھی انہی کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ ویسے یہ بالکل الگ تھلگ اور ‘‘ لجلال تک ہی محدود رہنا پسند کرتے ہیں۔
اور شیری نے تو انہیں کسی ’’ مجھے سوال کرنے کاموقع مل گیا۔ ‘‘ پھرآپ کی حویلی میںان کا کیا کام؟ ’’ میں نے شیری کی طرف دیکھا۔ ‘‘ جاپانی یاچینی بوڑھے کاباڈی گارڈ قرار دیا ہے۔
‘‘ میںنے تو یہی دیکھاہے۔ ’’ شیری نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
اس کے بعد میری سوالیہ نظروں کارخ ذیشان خان کی طرف ہوگیا۔ اس نے شیری کو دوبارہ جام بھرنے باکی موشیوں کانام ’’ پھر اس نے اچانک سوال کیا۔ ‘‘ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔ ’’ کااشارہ کیا اور گویا ہوا۔ ‘‘سنا ہے تم نے؟
اس نام کے حوالے سے میرے ذہن میں شناسائی کا کوئی حوالہ نہیں ابھرا۔ میں نے نفی میں سرہلایا۔شیری نے دوبارہ سے اس کاپیمانہ بھر دیا تھا۔
چین کے علاقے تبت … دنیا کے امیر ترین پچاس افراد میں سے ایک ’’ اس نے ایک بڑا ساگھونٹ لیااور بولا۔ جس کی شخصیت کا ایک اور حوالہ بھی ہے۔ وہ مارشل آرٹ کا بے مثال … سے تعلق رکھنے والا باکی موشو کھلاڑی ہے۔
باکی موشو گزشتہ آٹھ سال سے اس علاقے میں موجود ہے اور نہ جانے اس بوڑھے نے کون سامنتر پھونکا کہ یہ خونخوار زوگالے اس کے بے دام غلام بن گئے ہیں۔ مجھے ز بردست دلچسپی محسوس ہوئی۔ باکی ‘ہے موشو جیسی شخصیت کی کئی سالوں سے اس علاقے میں موجودگی کا کوئی سبب تو ضرور رہا ہوگا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ خبر کرنل سلیم کے لیے بھی حیران کن ثابت ہوگی۔
‘‘ وہ ارب پتی اس بنجر علاقے میں کیا کررہا ہے؟ ’’ میں نے ٹٹولنے کی غرض سے پوچھا۔
وہ خبطی سمجھتا ہے کہ ’’ ذیشان خان کے شراب کی حدت سے تمتاتے چہرے پردوبارہ تمسخر چمکنے لگا۔ انہی پہاڑوں میں کہیں پوشیدہ ہے۔ جس کے ستون زمرد سے تراشے گئے ہیں۔ ‘‘ عظیم معبد ’’بدھ کا وہ کے جتنے بھی مجسمے وہاں موجود ہیں سبھی قیمتی ‘‘مقدس بدھا’’ یاقوت سے بنا ہے اور ‘جس کا فرش پتھروں سے تراشے گئے ہیں۔
دوسرے لفظوں میںوہ افسانوی معبد کی تلاش میں ہے جسے رائی کا پہاڑ لکھنے والے تاریخ دانوں نے ذیشان خان نے باقی ماندہ شراب ایک ہی دفعہ حلق میں انڈیل لی۔ وہ عادی ‘‘لکھا ہے۔ ‘‘ ہیرے کا بدھا ’’ شرابی لگتا تھا۔ ابھی تک اس کی زبان میں لکنت نہیں آئی تھی۔
میرے ذہن میں ہیرے کابدھا گونج رہا تھا۔ میں نے بھی اس افسانوی معبد کی کہانیاں سنی تھیں۔ مگر مجھے بھی ایسے کسی معبد کی دنیامیں موجودگی کایقین نہیں تھا۔
بے شک ان بنجرپہاڑوں میں بدھ مت کے آثار قدیمہ کثرت سے پائے جاتے تھے۔ مگر یہ معبد صرف تاریخی قصے کہانیوں میں ملتا ہے۔
مگر میں یہ اطلاع کرنل سلیم کو دینے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ عین ممکن ‘ باکی موشو کوئی خبطی ہی لگتاتھا باکی موشو نے معبد والا شوشہ جان بوجھ کر چھوڑا ہو۔ اس کے پس پردہ مقاصد کوئی اور ہوں۔ …تھا
مگر اس کاتعلق تبت سے تھا۔ جہاں پھیلی ‘ بے شک وہ چین جیسے عظیم دوست ملک کا شہری تھا شورش چین کے لیے پریشان کن تھی۔ یہ بھی ممکن تھا باکی موشو کا تعلق شورش پسندوں سے ہو اور وہ اس ویرانے میں بیٹھا چین کے مفادات کے خلاف کام کررہا ہو۔
ککھ ’’ اس چکر میں وہ ارب پتی ضرور ’’ میں نے بھی ہونٹوں پر استہزائیہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔ ‘‘ ہوجائے گا۔‘‘ پتی
لگتا تو یہی ہے۔ ایک پوری پہاڑی ’’ ذیشان خان بھی مسکرایااور کاجو پھانک کر خالی جام شیری کو تھمادیا۔ کومسطح کروا کر اس نے بہت بڑی حویلی تعمیر کروائی ہے۔ دنیا کی ہر جدید سہولت اس حویلی میں موجود ہے اور سب سے بڑھ کر زوگالے اس حویلی کے محافظ ہیں۔
جو زوگالوں کی وجہ … اردگرد کے سرداروں سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ ماسوائے دولت زئیوں کے ‘‘ سے اسے بھی اچھا نہیں سمجھتے۔
سرداروں اور ملکوں کو وہ قیمتی تحائف بھی دیتا رہتا ہے۔ آئے دن اس کی حویلی میں کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی ہے۔
یہاں بھی ک ’’ میںنے کہا۔ ‘‘ رقص وسرور ی محفل میںشرکت کرنے کی غرض سے آیا ہے؟ ً تووہ غالبا
اس کاانداز بڑا معنی خیز تھا۔ شیری کے ‘‘ مگر ایک اور وجہ بھی ہے۔ ’’ ذیشان خان نے اثبات میں سرہلایا۔ ہونٹوں پر بھی معنی خیز مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
میں نے بے ساختہ پوچھا۔ ‘‘ کون سی ؟ ’’
اس نے شیری سے دھیمے انداز مں کچھ پوچھا جس کا جواب شیری نے اثبات میں دیا۔
نوخیز لڑکیاں ہیں۔ اور ملک طور خان ‘ شاداب ‘ لمبی ‘ باکی موشو کی سب سے بڑی بشری کمزوری اونچی ’’ اس کا انداز پھرمعنی خیز ہوا۔ ‘‘ اس کمزوری سے بخوبی واقف ہے۔ میرے خیال میں تم سمجھ گئے ہوگے۔
میں نے اثبات میں سرہلایا۔ تصور کے پردے پر وہ نوخیز لڑکی چمکی جسے میں نے تھوڑی دیر پہلے شیری وغیرہ کے کمرے میں دیکھاتھا۔ جوہر چیز سے بے زار نظر آرہی تھی۔
ابھرنے لگا جو ہرمظلوم کی مدد کرنے اور ظالم کا پنجہ مروڑنے پر آمادہ ‘ میرے وجود میں وہ نفرت انگیز غصہ کرتاتھا۔
باپ کے چمن کی تھی۔اسے ایک ہوس پرست کے بسترکی ‘ نہ جانے وہ معصوم کلی کون تھی؟کس ماں زینت بنایاجانے والاتھا۔
وہ جوبھی تھی۔اسے زبردستی لایا گیا تھا یا پھر زبردست مجبوری کی لاٹھی سے ہانک کر۔خوشی سے تووہ اس معصوم کا نام تک نہیں جانتاتھا۔ مگر ایک پل میں میرا اس سے ‘ کسی صورت نہیںآسکتی تھی۔میں وہی رشتہ قائم ہوگیا جو ہر ظلم کے شکار ہونے والے سے ہوجاتا تھا۔ میں بھی ظلم کا شکار ہوا تھا میں ہر مظلوم میں خود کو دیکھتا تھا۔ میں نے اسی وقت اس کی مدد کا تہیہ کرلیا۔
تم ’’ اچانک ذیشان خان نے میری آنکھوں میں اپنی چمکدار آنکھیں گاڑھی اور سرسراتے لہجے میں کہا۔ ‘‘ اپنے دشمنوں کی فہرست میں تین بے حد خطرناک دشمنوں کا اضافہ کرچکے ہو۔
‘‘ میں صرف دوستوں کی پروا کرتا ہوں۔ دشمنوں کی نہیں۔ ’’ میں نے کاجوچباتے ہوئے اطمینان سے کہا۔ میرے الفاظ کی گونج چند لمحے تک گلاس روم میں رہی تھی۔
تمہاری دلیری ت ’’ ذیشان خان نے بڑی خاص نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ت م اثر کن ہے مگر میرے یہ ٔ وجرا جس کے دوبندے اور چہیتا ریچھ تم مارچکے ہو دشمنوں کی … میرا بھائی طوراخان … الفاظ یاد رکھنا پرورش کرنے والا شخص ہے۔
انسان کے روپ میں واقعی کوئی بھیڑیا ہے جس پڑاؤپر حملے کے دوران وہ … نورجان المعروف سرخ بھیڑیا ‘‘ تمہیں اٹھالایا تھا۔ وہ جان چکا ہے کہ کس کا تھا۔
میں چونکا مگر خاموش رہا۔
پڑائو پرحملہ آور ہونے کی ئ ’’ جسے اس نے پہاڑی پر دیکھاتھا۔ وہ عورتوں کا بہت ‘ کو ی لڑکی تھی ً وجہ غالبا نے اسے چونکا دیا ہے۔ چند ‘‘ حالیہ کارکردگی ’’ تمہاری ‘ بڑا شکاری ہے۔ تم نے اس کے منہ سے نوالا چھینا ہے دن پہلے اس نے چند سرکاری بندے پکڑے ہیں جو اس کی ٹوہ لیتے پھررہے تھے۔ اس کاخیال ہے کہ شاید تم اضطراب و بے چینی کی ایک تند لہر میرے اوپر سے گزر گئی تھی۔ بظاہر میں ‘‘ بھی انہی میں سے ہو۔ نارمل نظر آرہاتھا آرمی کے چند جوانوں اور آفیسرز پرمشتمل ایک ایڈوانس پارٹی پہلی سے سرخ بھیڑیے کے شکار کے لیے سرگرم تھی۔ میراجاں نثار دوست وجاہت عرف ہیرا بھی انہی کے ساتھ تھا۔
سانپ کی مانند زہریلا اور بے حد سفاک شخص ‘ تیسرا ’’ میری کیفیت سے بے خبر کہہ رہاتھا۔ ‘ ذیشان خان باکی موشو ہے جو زوگالو کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہے او رتم ایک زوگالے کی جان لے چکے ہو۔
یہ تینوں دشمن تمہارے لیے اب تک کے ہر دشمن سے مختلف ثابت ہوں گے۔ میں اپنے الفاظ دہرارہا ‘‘ یہ الفاظ یاد رکھنا۔ اپنی ٹکر کے دشمنوں سے تمہارا واسطہ پہلی دفعہ پڑنے جارہا ہے۔ …ہوں
مگر اب یہ سنسنی مجھے مرغوب تھی۔ ‘ ذیشان خان کے الفاظ نے میرے وجود میں سنسنی دوڑادی تھی مگر آپ میرے محسن ہیں۔اس کے ‘ میں اپنے الفاظ دہراناپسند تو نہیں کرتا ’’ میں نے اسی انداز میں کہا۔ مجھے ان نئے دشمنوں کی کوئی پروا نہیں۔ سرخ بھیڑیے اور باکی موشو جیسے نہ ‘ لیے دوبارہ کہہ رہا ہوں دانستہ میں نے طورا خان کانام نہیں لیا تھا۔ ‘‘ جانے کتنے دشمن موت کی دھار میں بہا چکا ہوں۔
‘‘ میری نیک خواہشات تمہارے ساتھ ہیں۔ ’’
‘‘ آپ صرف مجھے رخصتی کی اجازت دے دیں۔ باقی میںسب کچھ خود دیکھ لوں گا۔ ’’ میںنے کہا۔
میرے پورشن سے نکلتے ہی تم مارے ‘ہوش کے ناخن لو’’ ذیشان خان کا تمتماتا چہرہ سرخ تر ہوگیا۔ حویلی میں کڑا پہرہ ہے۔ سبھی کو یقین کی حد تک شبہ ہے کہ تم حویلی میں ہی چھپے ہوئے ہو۔ ‘جائوگے اس نے مخمور ‘‘ شیری سے میرا وعدہ ہے کہ مناسب موقع ملتے ہی تمہیں یہاں سے نکال دیاجائے گا۔ نظروں سے شیری کی طرف دیکھا۔
اس کی بات مان لینے کااشارہ کیا۔ ‘ اس کی نظر بچا کر شیری نے مجھے
گل ریز کی فکر ہو رہی تھی۔ سرخ بھیڑیا جان گیا تھا کہ وہی ‘ اختلاف کے باوجود میں خاموش رہا۔ مجھے گل ریز تک یہ خبر پہنچنا بے حد ضروری تھا۔ ‘ میرا میزبان ہے
ذیشان خان کے پاس بظاہر میں محفوظ تھا۔ مگر کسی بھی وقت کوئی گھر کا بھیدی لنکا ڈھا سکتاتھا۔ ایسی صورت میںیہ محفوظ پناہ گاہ میرے لیے چوہے دان بھی ثابت ہوسکتی تھی۔ اس کے علاوہ میںنے
کچھ ہی عرصے میں دنیا دیکھ لی تھی۔ میرا وجدان کہہ رہا ذیشان خان ایک بے حد گہرا شخص ہے۔ اس محض ایک چہیتی طوائف کی خاطر اس نے اپنے بڑے بھائی اور اس کے ‘ کی گہ رائی ناپنا بہت مشکل ہے خاص دوستوں کے مجرم کوپناہ دی تھی میرے حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔
بہرحال چند گولیوں کے ساتھ پسٹل اور میرا خون آشنا خنجر میری تقویت کے لیے موجود تھے۔
رازداری کے خیال سے تمہیں ’’ ذیشان خان نے شیری کو اپنی آغوش میں کھینچا اور مجھ سے مخاطب ہوا۔ ِ شیری وغیرہ کے کمرے ہی میں رات گزارنا ہوگی۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ یہ تمہارے شای ان شان تو نہیں ‘‘ ہے مگر مجبوری ہے۔
یہ کہہ کرمیں اٹھ کھڑا ہوا۔ ذیشان خان کی بڑھتی خرمستیوں کے سبب وہاں سے نکل ‘‘ کوئی بات نہیں۔ ’’ جانا ہی بہتر تھا۔ میں طوائفوں والے کمرے میں آیا تووہاں صرف لیل ی وارثی اور وہی نوخیز لڑکی موجود تھی باقی لڑکیاں شیری کی طرح شبینہ ڈیوٹی پر گئی تھیں۔ ً غالبا لیل ی وارثی اور وہ لڑکی ایک ہی بستر میں تھیں۔ آہٹ پاکر لیل ی وارثی نے نیم وانظروں سے میری طرف دیکھا۔ لڑکی بدستور کمبل میں اوجھل رہی۔ میں نے لیل ی وارثی کے قریب کا ایک بستر سنبھالا۔ اس نے میری طرف رخ کرلیا۔ اس کی آنکھیں اب پوری کھل گئی تھیں۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی پھر گویا ہوئی۔
‘‘ آپ یہاں کیسے پھنس گئے جٹ جی؟ ’’
کچھ دوستوں کے ساتھ شکار پر نکلا تھا۔ ڈاکوئوں نے ہمارے پڑائو پر حملہ کردیا اور کچھ نہیں ملا تو ’’ میں ا ‘‘ مجھے ہی باندھ کر لے آئے۔ بتیا۔ ً نے اختصارا
میں ‘‘ ہائے اللہ کس میں اتنی جرات وطاقت آگئی کہ آپ کو باندھ سکے۔ ’’ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ دھیرے سے مسکرایا تو جبڑے میں خفیف سا درد جاگ اٹھا۔ یہ درد سرخ بھیڑیے کے زوردار گھونسے کا نتیجہ تھااور ابھی سلامت تھا۔ خواہش تو تھی کہ درد ختم ہونے سے پہلے بدلہ اتاردوں مگر فی الحال ا یسی کسی محاذ آرائی کے امکان نظر نہیں آرہے تھے۔ میں نے موضوع بدل کر بستر میں روپوش نوخیز لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ لیل ‘‘ یہ کون ہے؟ ’’ ی وارثی کو میں اچھی طرح سے جانتاتھا۔ اس لیے میرا انداز سرسری ساتھا۔ اس کے باوجود وہ کائیاں عورت پل بھر میں محتاط ہوگئی۔ اس نے لڑکی پر کمبل درست کرتے ہوئے کہا۔
بجھانے کے لیے میرے حوالے ‘ میرے پاس ملک طورا کی امانت ہے۔ تھوڑی اڑی کررہی ہے۔ اس نے سمجھانے ’’ نہیں اتری۔ ‘‘نتھ’’ کی ہے۔ ابھی اس کی
میں نے گہرا سانس لیا۔ اس کمبخت نے سمجھا تھا کہ میں شاید اس لڑکی پر رال ٹپکا رہا ہوں۔ اطمینان بخش بات یہ تھی کہ وہ معصوم ابھی ہوس کے بستر پر کچلی نہیں گئی تھی۔
‘‘کون ظالم اس کے درپے ہے؟ ‘ یہ تو ابھی بچی ہے ’’ واضح کرنے کی غرض سے کہا۔ ‘‘ نیت ’’ میں نے اپنی
اس نے میری طرف ‘‘ میں دے رہا ہے۔ ‘‘تحفے’’ اسے یہ لڑکی ‘ طوراخان کا کوئی چینی دوست ہے۔ طورا خان ’’ ‘ سے مطمئن ہو کر غیر محسوس طریقے سے اطمینان کا سانس لیاتھا۔ وہ مجھے بھی بخوبی جانتی تھی میرا ہاتھ روکنا بھی اس کے بس میں نہیں تھااور طورا خان اپنی امانت میں ہونے والی خیانت کی وجہ سے اس کی گردن بھی اتار سکتاتھا۔ میرے جسم وجاں میں الائو دہکنے لگا تھا۔ میری بدلتی کیفیت سے بے خبر لیل ی وارثی اپنا فلسفہ جھاڑ رہی تھی۔
کم عمر سے کم عمر لڑکی مانگنے لگتے ‘ جٹ جی! کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں جوں جوں عمر آگے بڑھتی ہے ’’ مرد کے گزرے ‘ ہیں۔ پتانہیں کس حکیم جالینوس کی ناجائز اولاد نے یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ کم عمر لڑکی ‘‘ دس سال واپس لوٹا دیتی ہے۔
تڑنگی روسی لڑکیاں پہلے سے اس کے ‘ سولہ سال کی دو لمبی ‘سولہ ‘ وہ چینی بھی اسی قبیلے کا ہے اس ‘‘ ساتھ ہیں۔ پھر بھی اس کی ہوس کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے مجھے تو اس بچاری پر ترس آرہا ہے۔ نے مدھم خراٹے لیتی لڑکی پر ایک ترحم آمیز نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
میں نے اپنی کیفیت پر بمشکل قابو پاتے ہوئے کہا۔ ‘‘ توپھر اسے بچانے کی کوئی کوشش کرو! ’’
نابابانا! مجھے اپنی اور بچیوں کی جانیں یہاں سے ’’ اس نے اپنے دونوں کانوں کو باری باری ہاتھ لگایا۔ پھر اس نے اچانک میری آنکھوں میں جھانکا۔ وہ ‘‘ سلامت لے کرجانا ہے۔میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ تو ایسا سوچ نہیں رہے؟ اڑتی اڑتی کہانیاں سنی ہیں کہ … آ… کہیں ’’ بے حد خوفزدہ نظر آنے لگی تھی۔ وہ تذبذب کاشکار ہو کر چپ کرگئی۔ اسے مناسب الفاظ نہیں سوجھے تھے۔ ‘‘…آ۔… آپ
میں جانتاتھا کہ وہ کیا کہنا چاہتی تھی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ خدائی فوجدار قسم کی کوئی چیز بن گئے ہیں۔ ہر ظالم کا پنجہ مروڑنے کے لیے آپ کے ہاتھ آگے کوپھیل جاتے ہیں۔
کہانیاں زیادہ تربے پر کی ہی اڑائی جاتی ہیں۔ میں تو خود ’’ میںنے اسے مطمئن ک رنے کی غرض سے کہا۔ ‘‘ مصیبت کا مارا ہوں۔ اس بیچاری کی کیا مدد کرسکتا ہوں۔
یہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔ مار دینا اور مرجانا ان کے ’’ وہ مطمئن نہیں ہوئی اور خوفزدہ سی آواز میں بولی۔ ‘‘ لیے محض کھیل ہے۔
میں آپ کو ڈرانے کی کوشش نہیں کررہی ’’ میری پیشانی پر پڑتی سلوٹ دیکھ کر وہ جلدی سے بولی۔ ‘‘ میرے کہنے کامطلب ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے یہاں سے نکل جائیں تو بہتر ہے۔
‘‘ تمہارا بغیر نکاحی داماد کہتاہے کہ یہاں سے نکلنا میرے لیے فی الحال مناسب نہیں ہے۔ ’’
ہمارے کوٹھے سے آپ کا تعلق جڑا رہتا تو بغیر نکاحی داماد ’’ وہ بے مزہ ہونے کی بجائے قدرے شوخ ہوئی۔ جٹ جی اک بات ’’ پھراس کی نگاہوں کازاویہ بدلا اور ساتھ ہی موضوع بھی یکدم تبدیل ہوگیا۔ ‘‘آپ ہوتے۔ ‘‘پوچھوں؟
میں نے اثبات میں سرہلایا۔ ’’
یہ آپ کو ایکدم کیا ہوگیا تھا۔ میرا مطلب ہے عورت بازی سے آپ نے رخ موڑ لیا۔ میں خاصی باخبر عورت ’’ لاہور کے کسی کوٹھے پر آپ کبھی نظر نہیں آئے۔ ٹیکسالی کے ’’ وہ اپنی بات پر خود ہی ہنسی۔ ‘‘ہوں۔ کنجروں سے مارپیٹ بھی چھوڑ دی۔ کسی بدمعاش سے بھی متھا نہیں لگایا۔ حرام خور تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں سے بھتا لینا بھی ختم کردیا۔ شیری بتاری تھی کہ آپ اب شراب بھی نہیں پیتے۔ یہ سب تبدیلی اس نے ذومعنی انداز میں خیال ‘‘ اچانک کیسے آگئی؟ کہیں کوئی عشق مشک تو نہیں ہوگیا آپ کو؟ آرائی کی۔
یہ الفاظ نہیں تھے لوہے کے ناخن تھے جنہوں نے پل بھرمیں میرے سارے زخموں پر آئے کھرنڈ کو کھرچ …آہ دیاتھا۔ جہاں سے بڑی تیزی کے ساتھ خون رسنے لگا تا۔
بظاہر میری حالت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا البتہ وہ ستارہ آنکھوں والی لڑکی چھم سے آنکھوں میں اتر آئی تھی جو جناح گارڈن میں اردگرد کے لوگوں کی پروا کیے بغیر مجھ سے لپٹ گئی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو شفاف موتیوں کی طرح گر رہے تھے۔ جو ہچکیوں کے ساتھ کہہ رہی تھی۔
واپس آجائو۔ میرے لیے آج بھی تم ‘ میری خاطر کمال ‘لوٹ آئو ‘ یہ تم کس راہ پرچل نکلے ہو کمال! لوٹ آئو ’’ ‘‘ وہی کمال ہو جومیڈیکل کالج میں ہوتے تھے۔
مجھے بانہوں میں جکڑے وہ بڑے والہانہ انداز میں میرے سینے کے ساتھ اپنا چہر ہ رگڑ رہی تھی اوراردگرد موجود لوگ بڑے اچنبھے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ایک لحظے سے بھی کم وقت میں وہ منظر میرے ذہن کی اسکرین پر ابھرکر غائب ہوگیا تھا۔ تمام تر بس گناہ ‘ ایسا کچھ نہیں ’’ کوشش کے باوجود میری آنکوں میں سرخی اتر آئی تھی۔ میں نے بمشکل کہا ‘‘ کی زندگی سے دل اکتا گیا ہے۔
پ ‘ وہ گھاگ عورت سمجھ گئی کہ یہ موضوع میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے آپ آرام ’’ ینترا بدلا۔ ً اس نے فورا اس نے اپنا بستر چھوڑا۔ ‘‘آپ کو۔ ‘ کریں تو بہتر ہے۔ میں گرم دودھ دیتی ہوں
میں نے بھی کمبل میں اوجھل ہوجانا بہتر جانا۔ لیل ی وارثی کا تھمایا دودھ کا گلاس میں نے زہر کی مانند حلق سے اتارااور دوبارہ کمبل تان لیا۔ ماضی قریب پھر میرے سامنے کھل رہا تھا۔
…٭٭٭…
میں کیسے اپنے گائوں پہنچا تھا۔ وحشت کی سرخ چادر نے مجھے مکمل طور سے ‘ مجھے معلوم نہیں ڈھانپ رکھا تھا۔ میری آنکھوں سے ایک بھی آنسو نہیں ٹپکا تھا۔ البتہ یوں محسوس ہوتاتھا جیسے آنکھوں میں صحرا کی گرم ریت بھر گئی ہو۔
پورے گائوں کو خوف وہراس کی نادیدہ چادر نے لپیٹ رکھاتھا۔ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ چکی تھی۔
مجھے سارے دلخراش واقعات سنا چکا تھا۔‘ گھر تک پہنچتے پہنچتے چاچارمضی
بیگھے ملوں کی خاموشی طوفان سے پہلے والی خاموشی ثابت ہوئی تھی۔ ایک رات انہوں نے ہمارے مچھلی فارم پر پہرہ دینے والے برادری کے چند نوجوانوںپرہلابول دیا۔ ان نوجوانوں میںصابر کا چھوٹا بھائی بھی تھا۔
بیگھے مل تعداد میں زیادہ اور جدید ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ پہرہ دینے والے چاروں نوجوانوں پر انہوں نے قابو پاکر شدید تشدد کیا اور زہر سے بھر اڈرم مچھلی فارم کے تالاب میں ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ بھنگڑے ڈالتے وہاں سے فرار ہوگئے۔
اس ر بعد ہما ی برادری کے لوگوں کا بیگھے ملوں سے تصادم ہوا۔ وہ پہلے سے تیار تھے۔ دونوں ً کے فورا اطراف سے خاصے لوگ زخمی ہوئے۔ جن میں ہماری برادری کے افراد زیادہ تھے۔ صبح سویرے میرے والد او کے پاس جارہے تھے کہ پہلے سے گھات میں بیٹھے میاں ذوالفقار کے ‘ پی ‘ صاحب اور میجر صاحب ڈی چاچا کے بیٹے میاں افتخار اور میاں امجد نے اپنے تین وفادار اشتہاریوں کے ساتھ ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
جدید ہتھیاروں سے ہونے والی اس شدید ترین فائرنگ کے سبب گاڑی اپنے سواروں سمیت چھلنی ہوگئی۔ میرے والد اور میجر صاحب کے علاوہ ڈرائیور بھی موقع پر جاں بحق ہوگیا تھا۔ اسی کیس میں میاں چنگڑوں کی لڑکی کے اغوا کیس میں پہلے ہی پولیس کو مطلوب تھے اسی کیس ‘ ذوالفقار اور میاں امجد میں میاں ذوالفقار جیل یا ترا پر تھا۔ اس کا چالان عدالت میں پیش کیا جاچکاتھا۔
ماسٹر خیردین اور مولوی انعام جو آپس میں گہرے دوست تھے اور فجر کی نماز کے بعد طویل چہل اس سنگین واقعے کے چشم دید گواہ تھے۔ ‘ قدمی کے لیے نکلتے تھے
پہلے ہونے والے تصادم کی وجہ سے پولیس کی نفری علاقے میں پہنچ نہ پائی تھی کہ یہ واردات ہوگئی۔
میجر صاحب کا قتل کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ پوری سرکاری مشینری حرکت میں آچکی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری خون ریز تصادم کے خطرے کے پیش نظر بے حد سرعت کے ساتھ علاقے میں پہنچ چکی تھی۔
بیگھے مل اپنے بلوں میں جاچھپے تھے۔ گرفتاریاں شروع ہوچکی تھیں۔
ںِ میں گھر پہنچا تو ماں ہوش وحواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔ نگہت نے دی وار سے سرٹکرا کرخود کو زخمی کرلیاتھا۔ عورتیں اسے سنبھالنے میں لگی تھیں۔
برادری کے مردوں نے مجھے گھیرلیا۔ ہرآنکھ میں آنسو تھے۔ مگر میری آنکھوں میں صرف آگ تھی اور وجود میں آتش فشاں دہک اٹھے تھے۔ میرے سامنے باپ کا گولیوں سے چھلنی جسم تھا اور اس کے قاتلوں کے چہرے۔
خداجانے میں کیسے اپنے حواس قائم رکھے ہوئے تھا۔ میری برداشت اپنی انتہائوں کو چھو رہی تھی۔ جی چاہتا تھا ابھی رائفل پکڑ کر بیگھے ملوں کی حویلی میں گھس جائوں اور سامنے آنے والے ہر ذی روح کو موت کے گھاٹ اتار دوں یا پھر خود ان کی گولیوں کا نشانہ بن جائوں۔
مگر یہ محض مجنونانہ خیالات تھے بیگھے مل اپنے بلوں میں چھپے پڑے تھے۔ تصادم روکنے کے بہانے پولیس بھی ان کی حفاظت ہی کررہی تھی اور وہ خود بھی کچھ کم نہیں تھے۔
اس وقت کوئی نادیدہ ہستی میرے وجود میں چلا چلا کر یہ اعلان کررہی تھی کہ میرے شب وروز …ہاں کتاب کی جگہ میرے ہاتھوں میں آتشیں ہتھیار ہوں گے خوشبو میں بسا ‘ یکسر تبدیل ہونے والے ہیں۔ قلم رہنے والا کمال اب بارود کے دھواں میں چھپا رہے گا۔ وہ ہاتھ جو زخم سینا سیکھ رہے ہیں اب جان لیوا زخم لگایا کریں گے۔
اسی وقت یہ فیصلہ ہوگیا تھا۔ ‘ہاں… باپ کی میت کے پاس کھڑا کمال یکسر ایک نئی دنیا کا باسی ہوگا ہماری برادری کے چھوٹے بڑوں میں بے حد غم وغصہ پایا جارہاتھا۔ ہر طرف خون کابدلہ خون کی پکار تھی۔ جاں بحق ہونے والا ڈرائیور بھی ہماری برادری کا تھا۔
میجر صاحب کے بیٹے بھی پاکستان پہنچنے والے تھے۔ یقینا آنے والا وقت بیگھے ملوں پر بھاری پڑنے والا تھا۔
بھراجی! چار چھوکرے تیار ہیں۔ چاچے کومٹی دینے ’’ شوکے نے مجھے ایک طرف لے جاکر رازداری سے کہا۔ اس کاانداز بے حد جوش بھراتھا۔ ‘‘ سے پہلے بدلہ چکادیتے ہیں۔
میں نے اسے گلے سے لگایا۔میرا جسم ‘‘ ٹھیک ہے ’’ پل بھر میں یہ جوش میرے سینے میں بھی منتقل ہوگیا۔ دھیرے دھیرے لرزنے لگا تھا۔
پولیسئے بھی ہر طرف پھیلے ہیں۔ باقیوں ‘ باقی تو سارے حرامی چھپے ہیں ’’ شوکے نے اسی انداز میں کہا۔ ‘‘ کو تو بعد میں دیکھ لیں گے۔ فی الحال ایک بندہ کل گرادیتے ہیں۔
‘‘؟… کسے’’
حرامی کو عدالت میں ہی ‘ کل اس کی پیشی ہے ’’ شوکے نے سرسراتے لہجے میں کہا۔ ‘‘… میاں ذوالفقار کو ’’ ‘‘ بھون دیتے ہیں۔
اصل قاتل تو کہیں چھپے ہوئے تھے مگر بیگھے ملوں کو جواب دینا ‘ مجھے قدرے مایوسی کااحساس ہوا بیگھے ملوں میں سے بھی تو کسی نہ کسی کو ‘ بھی تو ضروری تھا۔ میرا باپ مٹی میں چھپنے جارہاتھا اس کے ساتھ جانا چاہیے تھا۔
جوکہرام ہمارے گھر برپا تھا۔ وہی بیگھے ملوں کی حویلیوں میں بھی تو برپاہونا چاہیے تھا۔ میں نے گرین سگنل دے دیا۔ شاید آپ کو بتانا بھول گیاہوں کہ شوکا ہماری برادری کا بے حد جوشیلا اور ہتھ چھوڑ نوجوان تھااور میرے والد اور میجر صاحب کے ساتھ جاں بحق ہونے والا ڈرائیور اس کا بہنوئی تھا۔
شوکے نے مجھے رازداری برتنے کا کہااور شام کوملنے کا کہہ کر علیحدہ ہوگیا۔
میں اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کارنگ ہلدی کی طرح زرد تھااور شدید صدمے کے زیراثر وہ غشی کی کیفیت میں تھی۔ ایک عورت انہیں پانی پلانے کی کوشش کررہی تھی۔
ایک دلدوز چیخ کے ساتھ میرے سینے سے آلگی۔ اس کی آہ وبکا آسمان کا سینہ ‘ اسی وقت ماں جائی شق کررہی تھی۔
اس وقت شاید زندگی میں آخری دفعہ میری آنکھوں میں آنسو چمکے تھے۔ مگر انہیں بہنے سے پہلے میں نے بری طرح سے مسل دیاتھا۔
نگہت کو بڑی مشکل سے مجھ سے علیحدہ کیا گیا۔ میرے ایک رشتے کے چاچا نے مجھے کہا کہ علاقے کا پی بنفس نفیس تھانے میں موجود ہے اور مجھ سے ملنا چاہتا تھا۔ ‘ ایس
میںنے اپنے چندبزرگوں کے ساتھ تھانے کی راہ لی۔ راستے ہی میں مچھلی فارم پڑتاتھا۔ میرے بوجھل قدموں کا رخ اس طرف ہوگیا۔
یہ مچھلی فارم تو نہیں تھا۔ یہ تو ہماری آرزوئوں اور خوشیوں کا قبرستان تھا۔ ہزاروں مری ہوئی …آہ مچھلیاں الٹی ہو کر سطح آب پر تیررہی تھیں اور کتوں کا ایک پورا قبیلہ اس بات سے بے خبر کہ یہ مری ہوئی مچھلیاں زہریلی ہیں ان پر ٹوٹا پڑاتھا۔
ہمیںدیکھ کر کتے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
میری آنکھوں کی جلن بڑھ گئی تھی۔ میں کچھ دیر وہاں حسرتوں کا ماتم کرتا رہا پھر تھانے چلا گیا۔ حوالات داخلی گیٹ کے قریب ہی تھی۔ مجھے حوالات میں بیگھے ملوں کے کئی نوکر چاکر نظر آئے جو کینہ توز نظروں سے میری طرف دیکھ رہے تھے مگر کوئی ان کی فیملی کابندہ نظر نہیں آیا۔
پی ‘ او کے کمرے میں ایس ‘ ایچ ‘ پی صاحب تک رسائی دی گئی۔ ایس ‘ صرف مجھے اور احمد چاچا کو ایس اورانا نوید بھی موجود تھا۔ ‘ ایچ ‘ سراج رانجھا کے ساتھ ایس
اونچا لمبا اور بھاری بھرکم تھا جس کے کرخت چہرے پرنظر کی عینک تھی۔ رانا نوید درمیانی ‘ پی ‘ ایس قامت اور مضبوط جسم کاتھا۔ گول چہرہ اور بڑی بڑی سرمہ لگی آنکھیں۔ وہ ایک تشدد پسند پولیس والا تھا۔ میرے بزرگوں نے مجھے پہلے ہی بتادیاتھا کہ رانا نوید ڈھکے چھپے انداز میں بیگھے ملوں کی امداد کررہا ہے۔ دونوں پولیس افسران میرے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آئے اور رسمی افسوس بھی کیا۔ اس کے گویا ہوا۔ ‘ پی ‘ بعد ایس
‘‘ تم پڑھے لکھے نوجوان ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ قانون کے ساتھ مکمل تعاون کروگے۔ ’’
پی نہیں جانتاتھا کہ میں قانون کے ساتھ کس ‘ البتہ سینے میں کچھ جلنے لگا تھا۔ ایس ‘ میں خاموش رہا کرنے جارہاتھا۔ ‘‘تعاون’’طرح کا
تمہارے باپ اور میجر صاحب کے قاتل کو کیفر کردار تک ’’ پی نے مزید کہا۔ ‘ اس تمہید کے بعد ایس پہنچانا اب قانون کی ذمہ داری ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری برادری کے کچھ نوجوان قانون کو ہاتھ ‘‘ میں لے چکے ہیں۔ نقصان دونوں طرف ہوا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ مزید خون خ رابہ ہو۔
میرے باپ کو تو بزدلوں ’’ میرا خون ابلنے لگا ۔ ‘‘ مگربیگھے ملوں کی طرف سے کسی کی جان تو نہیں گئی۔ ’’ ‘‘نے گھات لگا کرمارا ہے۔
رانانوید نے قدرے کڑوے انداز میں کہا۔ ‘‘ جان سے مارنے کی کوشش کرنا بھی معمولی جرم نہیں ہے۔ ’’ تمہاری برادری کے لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے۔ بیگھے ملوں کے ایک بندے کی حالت نازک ہے۔ ’’ ‘‘ اسکور برابر بھی ہوسکتا ہے۔
‘‘ بندے تو ہمارے بھی زخمی ہیں۔ ’’
ایک لحظے کے لیے محض ایک لحظے کے لیے رانا نوید کی گھنی مونچھوں میں چھپے باریک ہونٹوں پر بڑی تمہاری برادری کے لوگ تھے۔ بیگھے ملوں نے تو صرف اپنا دفاع کیا ہے ‘جارح’’ کینہ توز مسکراہٹ چمکی۔ اس نے مودبانہ ‘‘ پھر بھی ہماری ہمدردی تمہارے ساتھ ہے۔ میں نے کراس پرچوں کی سفارش کی ہے۔ سااشارہ ایس پی کی طرف کیا۔میرے سینے پر جلتی آگ پر کسی نے جیسے پٹرول چھڑک دیا۔
‘‘ اور ہمارے مچھلی فارم کے تالاب میں زہرانڈیلنا تو بیگھے ملوں کی جانب سے خیر سگالی کااظہار تھا نا! آگ پہلی دفعہ میری زبان تک پہنچی تھی۔
رانا نوید کی بڑی بڑی آنکھوں میںطیش کی سرخی درآئی۔ میرا لہجہ اس کے لیے یقینا ناقابل برداشت تھا۔
‘ تالاب میں زہرڈالنے کایہ مطلب نہیں کہ تم لوگ بیگھے ملوں پر چڑھ دوڑو اور ابھی تو تفتیش چلے گی ’’ اس نے خود پر کنٹرول رکھتے ‘‘ یا تمہاری برادری کی باہمی چپقلش؟ … واقعی یہ بیگھے ملوں کا کام تھا ہوئے بڑے معنی خیز انداز میں کہا۔
مجھے محسوس ہو رہا تھا میری برداشت کی حد ختم ہونے والی ہے۔ میری کیفیت کو بھانپ کر احمد چاچا پہل بیگھے ملوں کی جانب سے ہوئی ’’ نے دھیرے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھااور دھیرے سے گویا ہوئے۔ تھی۔ رانا صاحب! انہی کا جتھا مچھلی فارم پرحملہ آور ہوا تھا۔ ہمارے لڑکوں کوباندھ کر مارنے کے بعد اس ظالمانہ ’’ انہوں نے مچھلی تالاب میں زہر ڈالا تھا۔ پھر ان کی آواز بھی رفتہ رفتہ بلند ہونے لگی۔ مناسب یہ ہے کہ آپ تفتیش صحیح رخ پر کریں۔ قتل ہمارے لوگ ‘ جارحیت کے درجن بھر معزز گواہ ہیں پہلے حملہ ہمارے بندوں اور مچھلی تالاب پر ہوا ہے۔ بے شک ہمارے کچھ جذباتی لوگوں نے قانون ‘ ہوئے ہیں کراس پرچوں میں اس معاملے کو بھی دیکھ لیں گے۔ پہلے آپ لوگ بھائی جمال اور ‘ کو ہاتھ میں لیا ہے ‘‘ میجر صاحب کے قاتلوں کو تو گرفتار کریں۔
تم لوگ بے فکر رہو۔ اس سارے معاملے کو ہم میرٹ پردیکھ ’’ اس موقع پر ایس پی رانجھا نے مداخلت کی۔ ‘‘ رہے ہیں۔ بیگھے ملوں کی ہم نے گرفتاریاں بھی کی ہیں۔
یہ سارے زرخرید ہیں۔ بے شک انہیں چھوڑ دیں۔ گرفتار کرنا ’’ میںخود کومداخلت سے باز نہیں رکھ سکا۔ ‘‘ ہے تو بڑے میاں اور دیگر نامزد ملزمان کو کریں۔
کی نظریں بدلتے ہی رانا نوید بھی بے قابو ہوگیا۔ ‘‘صاحب’’ ایس پی نے مجھے کڑے تیوروں سے گھورا۔ اپنے
‘‘نامزد ملزم’’ ان کی طرف سے نامزد گرفتاریاں نہیں ہوئیں تو تم بھی ’’وہ پھنکارا۔ ‘‘ ہمیں قانون نہ پڑھا! ’’ ‘‘ ہونے کے باوجود ہمارے سامنے کرسی پربیٹھے ہو۔
احمد چاچا نے اچنبھے سے پوچھا۔ ‘‘ کمال کس سلسلے میں نامزد ہوگیا ہے؟ ’’
ان میں بیگھے ملوں نے ‘ بیگھے ملوں کے جن دو ڈیروں پر حملہ ہوا تھا ’’ رانا نوید نے ٹھوس انداز میں کہا۔ ‘‘ تمہارے دیگر لڑکوں کے ساتھ اسے بھی نامزد کیا ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں تھوڑی دیر اور یہاں بیٹھا رہا تو میرا وجود دھماکے سے پھٹ جائے گا۔احمد ‘‘ یہ بات آپ بھی جانتے ہیں۔ … مگر یہ تو یہاں تھا نہیں ’’ چاچا نے قدرے تلخ انداز میں کہا۔
رانا نوید ا یہ تو گرفتاریوں کے بعد دود ھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا۔ ’’ مونچھوں کا یک کو نا موڑا۔ ً نے عادتا ‘‘ ہم نے تو دونوں طرف سے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں۔
ٹھنڈے مزاج کے احمد چاچا بھی بمشکل خود پرقابو رکھے ‘‘ ہمیں تھانے بلانے کامقصد بھی بیان کر دیں۔ ’’ ہوئے تھے۔
رانا نوید نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اپنے سامنے پڑی فائل میں سے ایک کاغذ نکال کراحمد چاچا کی نماز جنازہ کے بعد ان لوگوں کو پیش کردیں یہ صاحب کے سامنے آپ کے لیے ہمدردانہ مشورہ ’’ طرف بڑھایا۔ ‘‘ ہے۔ بصورت دیگر قانون اپنی تمام تر سختی کے ساتھ حرکت میں آجائے گا۔
میں نے احمد چاچا کے ہاتھ سے وہ کاغذ لے لیا۔ سرفہرست میرا نام تھا۔ پھر صابر اور شوکے وغیرہ کے نام تھے۔ دو تین آتش مزاج بزرگوں کے نام بھی تھے۔ یہ کل بیس افراد کی فہرست تھی۔
‘‘ اور جن افراد کوہم نے نامزد کیا ہے؟ ’’ میںنے وہ فہرست رانا انوید کے سامنے رکھی۔
ایسی ہی ایک لسٹ بڑے میاں کو بھی دے دی گئی ہے۔ انہیں بھی ’’ جواب ایس پی کی طرف سے آیا۔ ‘‘ چوبیس گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
لسٹ میں نے وہیں میز پر چھوڑ دی تھی۔ رانا نوید نے بڑی جلتی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھا تھا۔ واپسی پرمیرا دماغ کھولتی ہانڈی کی مانند ابل رہا تھا۔ میرے ساتھ جانے والے بزرگوں کاحال بھی مجھ سے مختلف نہیں تھا۔
مجھے معلوم ہوا کہ رانا نوید کاتبادلہ بھی اس تھانے میں بیگھے ملوں نے کروایا تھا۔ اس کے چاچا کی ایک بیٹی بیگھے ملوں میں بیاہی ہوئی تھی۔ ایک طرح سے وہ رشتے دار بھی تھے۔ اس کے علاوہ ایک پولیس رانا نوید کا اردلی تھا۔ وہ ‘ اہلکار کووالد صاحب نے مچھلی کے چند دانے دینے سے بھی انکار کیا تھا۔ وہ اہلکار پرخاش بھی رانا نوید کے دل میں تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل میں رکھنے والا کینہ توز بندہ تھا۔
اسی پل میں نے ایک بہت بڑا فیصلہ کرلیا۔ میرا وجدان چیخ چیخ کرکہہ رہاتھا کہ میرے شب وروز یکسر تبدیل ہونے والے تھے۔
ساری برادری کے سامنے میری ‘ اسی شام مرے ہوئے باپ اور بے ہوش پڑی ماں کی چارپائیوں کے درمیان ز ب ردست خواہش کے پیش نظر روتی بلکتی نگہت کانکاح صابر کے ساتھ کردیا گیا۔دیکھنے والے میرے اس فعل کو بڑی دور رس نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
وہ ایک چاندنی رات تھی۔ ہر طرف چاندنی کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔ ایسی راتیں مجھے بے خود کردیتی تھیں۔ مگر آج میرے دل وزندگی میں گہری تاریکی اتری تھی۔ چاندنی رات کافسوں مجھے زیر کرنے میں ناکام رہا تھا۔
قصبے سے باہر ایک ریتلا اور خاصا اونچا ٹیلا تھا۔ جو آسیب زدہ مشہور تھا۔ رات کو اس طرف آتے ہوئے لوگ گھبراتے تھے۔
رائفل پڑی ہوئی تھی۔ میری انگلیاں آج 47کے ‘ اس آسیب زدہ ٹیلے پرمیں نیم دراز تھا۔ میرے قریب اے پہلی دفعہ اس کے لمس سے آشنا ہو رہی تھیں۔
علی اور بابو تھے۔ ‘ میرے ساتھ شوکا
رانا نوید کی فہرست میں میرے اور صابر کے بعد انہی تینوں کے نام تھے۔ ساری پلاننگ انہوں نے کرلی تھی۔
کے استعمال کا طریقہ سمجھا 47 کے ‘مجھے اے ‘ بابو ہتھیاروں کے معاملے میں زیادہ ماہر تھا۔ اس وقت وہ بھراجی یہ بڑی قاتل شے ہے۔ بس اس کالے منہ والی بلا کا رخ دشمن کی طرف کرکے ٹریگر دبادو ۔ ’’رہا تھا۔ اٹھائیس گولیاں بارش کے قطروں کی طرح اس کے جسم پربرسنے لگیں گی۔ بندے زیادہ ہوں تو ٹریگر دبا کر بس اسے یہاں سے مضبوطی سے پکڑنا ’’ بائیں گھماتے ہوئے کہا۔ ‘ اس نے رائفل کو دائیں ‘‘ اسے یوں گھمائو ‘‘ ضروری ہے۔
رائفل کے فولادی لمس نے سینے میں جلتی آگ کو مزید فروزاں کردیا۔ ‘ میںنے اس کے ہاتھ سے رائفل لی مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ ہاتھ میں طاقتور ہتھیار ہو اور جگر میں اسے بے دریغ استعمال کرنے کی طاقت تو بڑے سے بڑا اور طاقتور دشمن محض ایک مچھر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
میں رائفل کے استعمال کابنیادی طریقہ جان گیاتھا۔ میں نے سیفٹی کیچ ہٹایا اور رائفل کی نال ایک درخت کی شاخوں کی طرف بلند کی اور بابو کی ہدایت کے مطابق مضبوطی سے تھام کر ٹریگر دبادیا۔
ایک دھماکے سے گولی چلی اور پرسکون چاندنی رات کاسارا سکون درہم برہم ہوگیا۔ ہاتھ کے ساتھ ساتھ میرے کان بھی سنسنااٹھے تھے۔
پہلی دفعہ ’’ اس نے توصیفی انداز میں کہا۔ ‘‘ کمال کردیابھراجی ’’ بابونے دھیرے سے میری پیٹھ تھپکی۔ ‘‘ اتنا فٹ فٹ فائر تو میں نے بھی نہیں کیا تھا۔
پورا پنڈپولیسئوں سے بھرا پڑا ہے۔ گولی کی آواز نے ان کے کان ’’ علی نے قدرے متوحش انداز میں کہا۔ ‘‘ کھڑے کردیئے ہوں گے۔ گشتے اس طرف چل نہ پڑیں۔
‘‘ آغاز ہی پولیس مقابلے سے ہوجائے گا۔ ’’ بابو نے بے پروائی سے کہا۔ … آنے دے ’’
اسی وقت ایک طویل قامت سایہ ٹیلے پرنظر آیا۔ بے اختیار میری رائفل کا رخ اس کی طرف ہوا۔
‘‘ خیال سجن جی خیال !یہ میں ہوں۔ ’’

Read More:  Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 19

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: