Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 5

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 5

میںنے رائفل جھکائی۔ آنے والا وجاہت عرف ہیرا تھا۔ شوکے نے مجھے پہلے ہی بتادیاتھا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہے۔ اسی کی منگیتر کے اغوا کے جرم میں تو میاں ذوالفقار جیل میں تھا۔
آنکھوں میں ‘ مضبوط جسم اور لمبے قد کا خوبرو نوجوان تھا۔ چہرے پر خون کی سرخی ‘ ہیرا چوڑے شانوں کارشتہ تھا۔ ‘‘درد مشترک’’ میں نے نہ جانے کس جذبے کے تحت اٹھ کراسے سینے سے لگایا۔ شاید ‘چمک میری طرح وہ بھی تو بیگھے ملوں کے ظلم کاشکار ہواتھا۔ اس کا درد شاید مجھ سے سوا تھا۔
اس کی غیرت وعزت کو نہ صرف اغوا کرلیا گیاتھا بلکہ اس کا ابھی تک کچھ پتا بھی نہیں تھا۔
خدا جانے وہ معصوم زندہ بھی تھی یا بیگھے ملوں کے ظلم وستم برداشت نہ کرتے ہوئے یہ دنیا چھوڑ گئی تھی۔ وجاہت کے آنے کے بعد میاں ذوالفقار کو لڑھکانے کا پروگرام دوبارہ سے دہرایا گیا۔
پلان شوکی کا تھا۔اس کا کچہری آناجانا تھا۔ احاطہ عدالت میں پانی کی ایک ٹینکی تھی۔ جس پر لیٹ کر سب کی نظروں سے چھپاجاسکتاتھا۔
وہاں سے وہ بخشی خانہ قریب تھا جہاں سے ‘ پلان تھا کہ ایک بندہ اس ٹینکی پررائفل سمیت لیٹ جائے جیل سے لائے جانے والے حوالاتیوں کولاکررکھا جاتاتھااوروہاں سے باری آنے پر نکال کرعدالت میںپیش کیا جاتاتھا۔
پلان کے مطابق جیسے ہی میاں ذوالفقار کو بخشی خانے کی طرف لایا جائے۔ ایک برسٹ اس کے سینے میں اتار دیا جائے ۔
پلان تو قابل عمل تھا مگر دیگر بے گناہ افراد جو میاں ذوالفقار کے اطراف ہوں گے ان کا گولیوں کی زد میں آنے کاقوی امکان تھا۔
رسک تو لینا پڑے گا بھراجی! میراتو دل تھا اس کمبخت ’’ میرے اس اعتراض کے جواب میں شوکے نے کہا۔ یہ کام ’’ پھراس نے بابو کے کندھے پر ہاتھ پھیلائے۔ ‘‘ کے سینے میں گولیاں آپ اتاریں مگر آپ کا ہاتھ کچا ہے۔ یہ شہزادہ کرے گا۔ ہم اس کے لیے راستہ صاف کریں گے۔ بابو نے سینے پر ہاتھ مار کر اپنی رضامندی ظاہر کی۔
اچانک ایک خودسری اور جذباتیت کی بلند وبالا لہرمیرے اوپر سے گزری اور شرابور کرگئی۔ میں نے کہا۔ گھات لگا کر بزدلوں کی طرح حملہ کرنے کے بعد ہمارے اور بیگھے ملوں کے درمیان کیا فرق رہ جائے گا۔ ہم ’’ جذباتیت کے زیراثر میری آواز لرز رہی تھی۔ ‘‘ اسے للکار کر اور اپنے ہاتھوں سے ذبح کریں گے۔ ‘
سب نے بڑے اچنبھے سے میری طرف دیکھا۔ پل بھرمیں میرے سینے میں کروٹ لینے والی خود سری میرے ساتھیوں کے سینے میں بھی منتقل ہوگئی۔
اس نے جذبات کے اظہار کے لیے بے اختیار ‘‘ اوئے جٹا! سینے وچ اگ لادیتی اوئے ’’ ‘ مجھ سے آلپٹا ‘وجاہت مادری زبان استعمال کی تھی۔
چاروں جاں نثار میرے گرد اکٹھے ہوگئے۔ میں صرف ایک دفعہ کچہری گیاتھا۔مٹے مٹے نقش کوشوکے کی رہنمائی نے مکمل کردیا۔
میںنے چند منٹوں میں نیا پلان بنا کران کے سامنے رکھ دیا۔ میاں ذوالفقار کو خنجروں سے چیرنے کاکام میں نے اور وجاہت نے انجام دینا تھا۔ باقی جاں نثاروں نے ہمیں بیک اپ دینا تھا۔ میرے پلان نے سبھی میں ہیجان دوڑا دیا تھا وہ متفق ہوگئے۔
ہی سب سے اہم تھی۔ اسی کے گرج دار برسٹوں نے خوف 47 ہتھیاروں کے نام پر ہمارے پاس اے کے۔ وہراس پھیلا کر ہمارے بحفاظت کچہری سی نکلنے کی راہ ہموار کرنی تھی۔ باقی دو عدد درہ میڈتیس بور تھے۔
گھر میرے ‘ یہ آپ رکھ لو ’’ وجاہت نے اپنے لباس میں پوشیدہ ایک آب دار خنجر نکال کرمیری طرف بڑھادیا۔ ‘‘ پاس دوسرا بھی ہے۔
اس کی چمکدار آنکوں میں بجلیاں چمک رہی … میں نے خنجر تھاما۔ میری اور وجاہت کی نظریں ملیں تھیں۔
رات کے آخری پہرمیں نے باپ کی نماز جنازہ پڑھی اور علامتی کندھا دیا۔ سپرد خاک دن چڑھے ہونا تھا۔ ا س کے بعد میں بھلا کہاں باپ کو اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کرسکتاتھا۔ … جومیں کرنے جارہاتھا
اور نگہت کوپیار کرکے صابر کے ساتھ رخصت کردیا۔ صابر منظر سے ہٹنے کے لیے ‘ ماں کی پیشانی چومی قطعی تیار نہیں تھا۔ میں نے زبردستی اسے بھیجا۔ نگہت رو رو کر بے ہوش ہوگئی تھی۔
دونے دبے انداز میں مجھے ‘ برادری کے بزرگ انداز لگاچکے تھے کہ میں کچھ خاص کرنے جارہا ہوں۔ ایک روکنے کی کوشش بھی کی تھی مگر میںخود بھی چاہتاتو خود کو نہیں روک سکتاتھا۔
بہرحال میرے ممکنہ فعل کی طرف سے تشویش کے سبب برادری کے لوگ چوکنا ضرور ہوگئے۔ اب وہ بیگھے ملوں کے کسی بھی ردعمل کا بہتر طریقے سے سامنا کرسکتے تھے۔
صبح آٹھ بجے سے قبل ہی کچہری پہنچ گئے۔ کرائے پر لی گئی ایک پرانی سی گاڑی میں ہم لوگ آئے تھے۔ گاڑی کچہری کی اس بیرونی دیوار کے قریب پارک تھی۔ جسے ہم نے پھلانگ کر بھاگنا تھا۔ ان دونوں عدالتوں میں قتل عام کاسلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ اس لیے حفاظتی انتظام نہ ہونے کے برابر تھے۔
اسی کے کندھے سے 47کے ‘ بابو ایک چھولے چاول کی ریڑھی کے گرد پڑی لکڑی کی بنچ پربیٹھ گیا۔ اے لگی ہوئی تھی۔ جس کے اوپر اس نے عام دیہاتیوں کی مانند ہلکی سی چادر ڈال لی تھی۔
اس نے مجھے اور وجاہت کو حرکت میں آتا دیکھ کر زبردستی ہوائی فائرنگ کرنی تھی۔ اس کے علاوہ ان پولیس اہلکاروں کی راہ بھی روکنی تھی جو گڑبڑ ہوتے ہی بخشی خانے کی طرف چارج کرتے۔
علی کے ذمے وہ دو رائفل بردار پولیس اہلکار تے جو بخشی خانے پر تعینات تھے۔ وہ بھی پسٹل بدست بخشی خانے کے قریب ہی تھا۔ اس نے اس وقت حرکت میں آنا تھا جب وہ دونوں اہلکار ہماری طرف رائفلیں سیدھی کرنے کی کوشش کرتے۔
اس دیوار کے قریب بنے عوامی باتھ رومز کے قریب موجود تھا۔ جہاں سے ہم نے فرار ہونا تھا۔ اس کے ‘شوکا ذمے ہمیں اس وقت تک بیک اپ رہنا تھا جب تک ہم چاروں دیوار کے قریب نہیں پہنچ جاتے۔
میں اور وجاہت گرائونڈ میں ایک درخت کے نیچے فائلیں کھولے اور ان میں سر کھپائے بیٹھے تھے۔
وہ کچی پگڈنڈی جوبخشی خانے کی طرف جاتی تھی اسی درخت کے پاس سے ہی گزرتی تھی۔ شوکے کے ذمے ایک اور بات بھی تھی۔ اس نے حوالاتیوں کو جیل سے لانے والی گاڑی کی آمد کی اطلاع بھی دینی تھی۔
ہر لحظے بعد میری نظر شوکے کی طرف اٹھتی تھی اور ساتھ ہی بابو اور علی کو بھی ٹٹول آتی تھی۔
انتظار کی گھڑیاں قیامت خیز ہوتی جارہی تھیں۔ لحظہ بھر بعد میری نظر شوکے کی طرف اٹھتی۔ وہ مسلسل سرکھجائے جارہاتھا۔ یہ مخصوص اشارہ تھا۔
ہیجان کی تند لہریں میرے وجود سے ٹکرانے لگیں۔ وجاہت کی کیفیت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی۔ علی اور بابو بھی چوکنا ہوگئے تھے۔
قیدیوں کو لانے والی پولیس وین کچہری کے داخلی دروازے پر پہنچ گئی تھی۔
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ حیرت انگیز طو رپر میری آواز بھی پرسکون ‘‘ چل میرے شیر تیار ہوجا! ’’ تھی اور دل کی دھڑکن بھی۔
وجاہت نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ اس کی آنکھوں کی ‘‘ میرے ساتھ خنجر بھی تیار ہے۔ ’’ چمک دوچند ہوگئی تھی۔
دلیراور جاں نثار ساتھی ساتھ ہو تو ہمت وحوصلہ دوچند ہوجاتا ہے۔ اس وقت میری ‘ میں سمجھتا ہوں ’’ یہی کیفیت تھی۔
کی طرف آنا تھا۔ ‘‘مقتل’’ میاں ذوالفقار نے اپنے ‘ ہماری نظریں اس پگڈنڈی پر جمی تھیں جہاں سے چل کر
اچانک ہی میری تمام تر حسیات آنکھوں میں سمٹ آئیں۔ ایک چھوٹا سا ہجوم پگڈنڈی پر نمودار ہوا جو ‘ اور ایک بوسکی کی قمیص اور سفید شلوار ‘ سیاہ وخاکی وردیاں ‘ رفتہ رفتہ واضح ہونے لگا۔ سیاہ کوٹ میری رگوں میں خون ابلنے لگا۔ بے شک وہ میاں ذوالفقار تھا۔ گھنی مونچھوں کے نیچے پھیلی ہوئی تنومند گردن جو اس پل بھی اکڑی ہوئی تھی۔ اور کانٹوں کی مانند سخت ‘ خاندانی ناک سرخ گندمی رنگت بال۔
اس کے ساتھ ایک وکیل تھا جو اس کی طرف جھکا رازونیاز کررہاتھا۔ میاں ذوالفقار کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جو میرے تن بدن میں آگ لگاگئی۔
جس کاسرا ایک پولیس اہلکار نے تھام رکھا تھا۔ ان کے پیچھے دیگر ‘ اس کے ہاتھوں میںہتھکڑی تھی حوالاتی تھے اور دورائفل بردار سپاہی سب سے آخر میں تھے۔ ان کی رائفلیں کندھوں سے لگی ہوئی تھیں۔
ہمیں نشانہ نہیں بنا سکیں گے۔ اس سے پہلے ہم اپنا کامانجام دے لیں ‘ مجھے یقین تھا کہ ہڑبونگ میں وہ گے۔
انتظار کی گھڑیاںختم ہوچکی تھیں۔ جیسے ہی میاں ذوالفقار درخت کے قریب پہنچا ہم دونوں بجلی کی مانند حرکت میں آئے۔
ہم دونوں کوخنجر بدست سامنے دیکھ کر میاں ذوالفقار کے چہرے پرموت کی زردی نے یلغار کی۔
اسی وقت فضا فائرنگ ‘‘ کلمہ پڑھ اوئے عزتوں کے قاتل! تیرا ٹائم پورا ہوگیا ہے۔ ’’ وجاہت شیر کی مانند دہاڑا۔ کی زبردست آواز سے گونج اٹھی۔ بابو نے ہوائی فائرنگ شروع کردی تھی۔
اس کے ساتھ ہی ہم دونوں میاں ذوالفقار پر جھپٹے۔
اسی وقت میاں ذوالفقار کی ہتھکڑی تھامے پولیس اہلکار حیرت انگیز طور پر حرکت میں آیا اس کی دبلی پتلی ٹانگ وجاہت کے خنجر والے ہاتھ پر لگی اور خنجر اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ زوردار فائرنگ کے سبب ہر طرف افراتفری پھیل گئی تھی۔
لوٹ آئے اس ‘ وجاہت کے ہاتھ سے خنجر نکلتا دیکھ کر میاں ذوالفقار کے حواس جو پہلے خطا ہوچکے تھے کے زرد چہرے پر دوبارہ سرخی لوٹی اور ایک بڑک کے ساتھ وہ وجاہت پرجھپٹا۔دبلے پتلے پولیس اہلکار نے اس کی ہتھکڑی چھوڑ دی اور میری طرف آیا۔
میرے وجود میں جو انگارے سلگ رہے تھے انہوں نے میرے وجود کو مہمیز دی میرے کندھے کی زوردار ٹکر نے سپاہی کو دور اچھال دیا۔
شدید ترین فائرنگ کے سبب ہر کسی کو اپنی جان کی پڑی تھی۔ ہتھکڑیوں میں جکڑے حوالاتی وہیں زمین پر لیٹ گئے تھے۔ ان کے عقب والے دونوں رائفل بردار سپاہی اپنی جان بچانے کے لیے انہیں چھوڑ کر کمرہ عدالت کے برآمدے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ جہاں سنگی ستونوں کی آڑ میسر تھی۔ میرے کندھے کی ضرب کھانے والا سپاہی زمین پر لیٹے حوالاتیوں پرجاگراتھا۔
میاں ذوالفقار کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ہتھکڑی کی ضرب وجاہت کے سر پرماری ‘ میں تھی۔
وجاہت کا خون دیکھ کرمیری آنکھوں کے سامنے خون رنگ چادر سی پھیل گئی۔ میں نے میاں ذوالفقار اس نے ٹھٹک کرمیری طرف دیکھا۔ اسی وقت میرے ہاتھ میں دباخنجر اس کی پسلیوں میں گج …کوللکارا سے اتر گیا۔
سنسنی کے ساتھ طمانیت کی بھی ایک لہر تھی جومیرے ہاتھ سے شروع ہو کر پورے وجود میں پھیل گئی تھی۔ میاں ذوالفقار کے حلق سے نکلنے والی کرب انگیز چیخ نے میرے کانوں میں رس گھولا۔
اسی وقت فائرنگ تھم گئی م بابو کو یگزین تبدیل کرنے کی ضرورت پڑی تھی۔ اس کے پاس چارعدد ً ۔ غالبا فالتو میگزین تھے۔
اسی لمحاتی وقفے میں بخشی خانے کی طرف سے بھی دوسنگل شارٹ سنائی دیئے۔ لگتاتھا علی کوبھی مزاحمت کا سامنا ہوا ہے۔
یہ محض لمحوں کی بات تھی۔ خنجر ابھی تک میاں ذوالفقار کی پسلیوں میں تھااور اس کا گرم خون میرے ہاتھ کو بھگو رہا تھا۔ میںنے خنجر کھینچا۔ پسلیوں کی کڑکڑاہٹ ابھری اورمیاں ذوالفقار ذبح ہوئے بچھڑے کی مانند ڈکراتا ہوا زمین بوس ہوگیا۔
میںنے دیکھا کہ وجاہت کسی بلا کی مانند اچھل کراس دبلے پتلے سپاہی سے لپٹ گیا تھا جو سنبھل یا بیگھے … کردوبارہ میری طرف جھپٹ رہاتھا۔ خداجانے اسے اپنے فرض نے جان پرکھیلنے کے لیے آمادہ کیاتھا ملوں کے حق نمک نے۔ بہرحال جو بھی تھااس کی دلیری قابل تحسین تھی۔
میں دوبارہ میاں ذوالفقار پر جھپٹا۔ وہ ایک ہاتھ سے زخمی پسلیاں دبائے ایڑھیاں رگڑ رہاتھا۔ اس نے میری صور ت میں موت کافرشتہ دیکھ لیا تھا۔ اپنے خون میں لت پت وہ چیخا تو اس کے حلق کا کوا تک مجھے نظر آیا۔
ایک دفعہ پھر فائرنگ شروع ہوگئی مگر یہ یکسر مختلف فائرنگ تھی۔ یہ فائرنگ مجھ پر ہوئی تھی۔ میرے قدموں کے قریب سے مٹی اڑی تھی۔
یہ فائرنگ کمرہ عدالت کے ستونوں کے پیچھے پناہ لینے والے رائفل بردار سپاہیوں کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہ سنگل شارٹ تھے اور صاف طور پر میاں وجاہت کو بچا کرمارے گئے تھے۔ اس سبب میری بھی بچت ہوگئی تھی۔
میں نے خود کو زمین پر گرادیا۔ اچانک ہی دوبارہ بابو کی طرف سے زور دارفائرنگ شروع ہوگئی۔ اس کی حاضر دماغی نے میرے سینے میں اطمینان بھردیا۔اس نے دیکھ لیا تھا کہ کہاں سے مجھ پر فائرنگ ہوئی ہے۔ اس نے عدالت کے برآمدے کے ستونوں پر برسٹ ماراتھا۔
مجھ پرفائرنگ کرنے والوں میں اس سیدھی فائرنگ نے کھلبلی مچادی۔ اب مزید یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اس بات کو وجاہت نے بھی محسوس کیا تھا۔ اس نے نہ جانے کون سی ضرب گائی تھی کہ سپاہی اپنا سردونوں ہاتھوں میں تھامے شرابی کی مانند جھوم رہاتھا۔ ‘‘فرض شناس’’
نکل چلو یار! وجاہت نے ہیجانی انداز میں کہا اور اس دیوار کی طرف دوڑا جہاں سے ہم نے باہر نکلنا تھا۔ ’’ پلان کے مطابق باقی تینوں دوستوں کوہمیں فالو کرناتھا۔
مگر مجھے یقین تھا میری ‘ اب ممکن نہیں تھا ‘ میںنے بھی اس کی تقلید کی۔میاں ذوالفقار پر مزید وار کرنا پہلی ضرب ہی اسے موت کی طرف دھکیل چکی تھی۔
میںنے آخری حربے کے طور پر دوڑتے ہوئے خنجر کو نوک سے پکڑا اور میاں ذوالفقار پرکھینچ مارا۔حیرت انگیز طور پر میرا نشانہ درست لگا تھا۔ خنجر اس کے بازو کے اوپری حصے میں لگا تھا اور اس کی ایک اور چیخ بلند ہوئی۔ خون کاایک چھوٹا سا تالاب اس کے گرد بن چکاتھا۔
اس کی حالت دیکھنے کے درمیان میں نے ایک حیرت انگیز منظر بھی دیکھا۔ شرابی کی مانند جھومنے والا سپاہی ہمارے پیچھے بھاگاآرہاتھا۔
میںنے زیرلب اسے گالی دی۔ اس کی حماقت انگیز دلیری اسے موت کی طرف دھکیل رہی تھی۔ اور میں نہیں چاہتاتھا کہ میں یامیرے ساتھی اس کے بے گناہ خون سے ہاتھ رنگیں۔میں نے علی کو دیکھا اس نے بخشی خانے کے محافظ سپاہیوں کو منہ کے بل زمین پر لٹا رکھاتھا۔ ایک سپاہی کی ٹانگ کے قریب خون پھیلاہوا ک اس ی مزاحمت کا توڑکرنے کے لیے علی نے اس کی ٹانگ میں گولی اتار دی تھی۔ ً تھا۔ غالبا
بابو بھی فائرنگ کرتا ہوا قریب آگیاتھا۔ہمیں بیک اپ دینے والے شوکے نے عقب میں دوڑتے سپاہی پ رفائر جھونک دیا۔
‘‘بچا’’ میںنے پریشانی کے عالم میں سرگھمایا اور یہ دیکھ کر میں نے اطمینان کاسانس لیا کہ شوکے نے کرفائر کیاتھا۔ سپاہی تڑپ کرعوامی باتھ رومز کے قریب خود رو جھاڑیوں میں جاگرا۔
میں نے چلا کر کہا۔ اس کے کندھوں پر ان دوسرکاری رائفلوں کا بوجھ بھی تھا جو ‘‘!… علی! پہلے تو نکل ’’ اس نے خاک نشین سپاہیوں سے چھینی تھی۔
گاڑی ڈرائیو کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کی تھی۔ اس کے بعد طویل برسٹ مار کر بابو ‘ پہلے علی کودا میں دیوار پر چڑھا۔ میرے تینوں ساتھی گاڑی میں سوا رہوچکے تھے۔ ‘ اور پھرشوکا ۔سب سے آخر میں
اچانک ہی میری ٹانگ کو زوردار جھٹکا لگا اور میں واپس احاطہ عدالت میں جاگرا۔مجھے ٹانگ سے پکڑ کر واپس کھینچنے والا وہی کم بخت سپاہی تھا۔ میرے نیچے گرتے ہی وہ جونک کی مانند مجھ سے لپٹ گیاتھا۔
اسی وقت میں نے بہت سے دوڑتے قدموں کی آواز سنی۔ بڑی بے دردی سے میںنے پہلے مدمقابل کی پسلیوں میں ضرب لگائی اورپھر اس کی آنکھوں میں انگلیاں ماریں۔ اس نے چیخ کر اپنی گرفت ڈھیلی کی۔ میں نے اسے دونوں پائوں جوڑ کر دور اچھالا۔
میں سنبھل نہ پایا تھا کہ ایک قیامت خیز ضرب میرے سرپر لگی اور ایک غلیظ اور غیض وغضب سے بھری گالی میرے کانوں میں گونجی۔
میں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ ایک اور طوفانی ضرب میرے پیٹ پر لگی اورمیں زمین بوس ہوگیا۔ یہ وہ خاک نشین سپاہی تھا جن کے وزنی بوٹوں کی میں زد میں تھا۔
اگلی ضرب میں نے دونوں بازوئوں سے روکی اور خاکی پتلون والے کی ٹانگ کو سینے کے ساتھ لگا کر جھٹکا دیا۔ سپاہی ایک کراہ کے ساتھ میرے قریب گرا اوراس کے منہ سے گٹر بہہ نکلا۔
میں نے ایک موٹے سے سب انسپکٹر کو دیکھا۔ اپنے سرکاری اڑتیس بور سے اس نے چند فائر اس دیوار پر کیے جہاں سے میرے ساتھی کودے تھے۔ اب ان کے پاس مجھے چھوڑ کر فرار ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
دو ڑتے قدموں کی آوازیں قریب پہنچ گئی تھیں۔ فضا زور دارفائرنگ سے گونج اٹھی تھی۔ مجھے بھیڑوں کی مانند خاکی وردی والوں نے ڈھانپ لیاتھا اور میرے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں تھا جو ان کے غیض وغضب سے بچاہوا تھا۔
میری آنکھوں کے آگے تاریکی چھارہی تھی۔ مگر ایک عجیب سی خودسری تھی اوراسی خودسری کی دی ہوئی طاقت تھی کہ میرے لبوں سے ابھی تک آہ بھی نہیں نکلی تھی۔
کائنات میری نگاہوں کے ‘ بپھری ہوئی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ سر پر ایک اور ضرب لگی سامنے الٹ پلٹ ہوئی اور پھر گہری تاریکی چھاگئی۔
…٭٭٭…
میں نیم تاریک حوالات کے ٹھنڈے فرش پر دراز تھا۔ جسم کا جوڑ جوڑ اور ہرعضو درد کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر میاں ذوالفقار کے فربہ جسم میں خنجر اتارتے ہوئے جوارتعاش محسوس ہواتھا۔ اس کا سرور اس درد سے سواتھا کانوں میں ابھی بھی وہ موت کی خوف میں ڈوبی درد سے ڈکراتی اس کی چیخیں رس گھول رہی تھیں۔
کے ‘‘ جٹاں والی ’’ مجھے یقین تھا کہ بیگھے ملوں کی اونچی حویلیوں میں بھی کہرام برپا ہوگا۔ ایک جنازہ نیم پختہ گھر سے اٹھے گاتودوسرا ظلم وجبرکی علامت حویلی سے۔
مجھے اپنے انجام کی ذرا بھی پروا نہیں تھی۔ شکر کامقام تھا کہ میرے جاں نثار ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
وقت چیونٹی کی رفتار سے گزرتا محسوس ہو رہاتھا۔ حوالات کے سلاخ دار دروازے کے باہرایک موٹا سارائفل بردار سپاہی تعینات تھا جومسلسل سگریٹ کے مٹھی بھر کرکش لگائے جارہاتھا۔ جب بھی اس ایک آگ سی ان چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں نظرآتی تھی۔ ‘ کی نگاہ میری طرف اٹھتی تھی
میں اس آگ کی وجہ بخوبی جانتاتھا۔ ہماری کارروائی کے دوران اس کے ایک پیٹی بھائی نے ٹانگ پر گولی کھائی تھی۔ دوسرے کی میرے ہاتھوں خاصی درگت بنی تھی اور یہ بھی ممکن تھا بابو کی فائرنگ کابھی کوئی نشانہ بن گیا ہو۔
یہ تھانے کا کوئی اندرونی حصہ تھا۔ بیرونی سرگرمی کی معمولی سی آواز بھی نہیں پہنچ پارہی تھی۔ ایک سلاخ دار روشن دان سے وقت کااندازہ ہو رہاتھا کہ سورج ڈوب چلا ہے۔ میرے زندان میں ایک ‘بس بیمار سی روشنی پھیلانے والا بلب پہلے سے روشن تھا۔
میرا پورا جسم پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا۔ ناک سے بہنے والا خون اوپری ہونٹ پر جم کر سیاہ ہوگیاتھا۔ جبڑے بمشکل حرکت کررہے تھے اور پسلیوں میں رہ رہ کر نوکیلی ٹیسیں ابھررہی تھیں۔
میںنے بمشکل اٹھ کر ایک کونے میں دھرے بے حد غلیظ واٹر کولر سے گندے سے گلاس میں بساند انگیز پانی پیا تھا۔
مجھے احساس ہو رہاتھا کہ یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی ہے مجھ پر بے حد کڑا وقت آنے والا ہے۔ مگرمیں خائف بالکل نہیں تھا۔
آخر کار انتظار کی گھڑیاں اختتام پذیر ہوئیں۔ راہداری میں کئی وزنی قدموں کی گونج ابھری اور چارہٹے کٹے پولیس اہلکار نمودار ہوئے۔
ایک حوالدار نے گالی کے ساتھ کہا۔ ‘‘… باہر نکال اس ماں کے ’’
گالی نے میرے وجود میں ابال پیدا کیا۔ میں کھڑا ہوگیا اور میری نظریں اس حوالدار پرجم گئیں۔
حوالدار نے طیش آمیز انداز میں آنکھیں نکالیں اور پھر گالی دی۔ ‘‘؟… کیا گھورتا ہے ’’
جو گالی ‘‘کمالا پتر’’ نہ جانے کہاں جاسویاتھا۔ وہ … شائستہ لہجے اور دھیمے انداز میں بات کرنیوالا کمال نکالنے کاسوچ بھی نہیں ا یک بھاری بھرکم گالی لڑھکادی۔ ً سکتاتھا اس نے جوابا
اس نے ‘‘ …کھول اوئے’’ حوالدار کا طیش کے مارے برا حال ہوگیا۔ چہرہ سرخ اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔ پیٹی بھائی کو بھی گالی دی۔ جو نجانے کہاں سے چابی نکال رہاتھا۔
تیری دم … میں سلاخ دار دروازے کے قریب چلا گیا۔ یہ غصہ گھرجاکر بیوی کو دکھانا مرد ہے تو اکیلا اندر آجا میں نے دیکھ لیاتھا کہ بڑھے ہوئے پیٹ کے باوجود وہ مضبوط ‘‘ کاٹ کر تیرے منہ میں نہ دے دی تو کہنا۔ اور کسرتی ڈ اسپورٹس ونگ سے تھا اور کب ی کا کھلاڑی تھا۔ ً جسم کاتھا۔ غالبا
اسی وقت زندان کا دروازہ کھل گیا۔ پولیس اہلکار گالیاں بکتے ہوئے اندر گھسنے لگے تو حوالدار نے چیخ کر اس نے پھر بکو اس ‘‘… میں ذرا اس ماں کے شیر کی …دو منٹ ٹھہر جائو …اوئے’’ انہیں منع کیا۔ ‘‘ پھراسے اٹھا کر لے چلنا اس کی بہن کے سسرال۔ ’’… کی
ایک سنسنی خیز ڈرامے کے اشتیاق نے باقی اہلکاروں کو مغلوب کرلیا۔ انہیں یقین تھا کہ اس ڈرامے کااختتام ان کی توقعات کے مطابق ہی نکلے گا۔ بھلاایک چوٹوں سے نڈھال حوالاتی ہٹے کٹے حوالدار کا کیا بگاڑ سکتاتھا۔
کو کندھے پر لاد کر … اس بہن کے … جاشیرا ’’ دوسرے اہلکار نے حوالدار کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی۔ ‘‘ بھی تونے ہی لانا ہے۔
میں نے اسے بھی جوابی گالی سے نوازا۔ ‘‘… اس کے بعد تو آجانا ’’
اس دوران حوالدار دروازے سے اندر آگیاتھا۔ میں چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اندر آتے ہی وہ منہ سے گنداگلتا میری طرف جھپٹا۔
بھڑائی کے کسی قاعدے قانون سے آگاہ نہیں تھا۔ ‘ میں نے آج تک باقاعدہ مار کٹائی نہیں کی تھی۔ لڑائی مگر وجود میں بھسم کردینے والی جو آگ جل رہی تھی وہ طوفانوں سے بھی ٹکراجانے پرآمادہ کرنے لگی تھی۔
میںنے کوشش کرکے دماغ کوحاضر رکھا اورتندبگولے کی مانند خود پرجھپٹنے والے حوالدار کے کندھے کی ضرب سے جھکائی دے کرخود کو بچانے کی کوشش کی۔ مگر مفروب ہونے کے سبب خاطر خواہ پھرتی کامظاہرہ نہ کرسکا۔ اچٹتا سااس کاکندھا میرے سینے سے لگا اورمیں لڑکھڑا کرگرا۔البتہ گرتے ہی میںنے اس کے گھٹنے پر پائوں سے ضرب لگائی۔
چنگھاڑ جیسی کراہ کے ساتھ وہ آگے کو جھکا۔ یہ ایک نادر موقع تھا۔ میں نے کہنیوں کے بل اٹھتے ہوئے ننگے پائوں کی بھرپور ضرب اس کے چہرے پر لگائی وہ باقاعدہ پشت کے بل جاگرا۔ اس کے زمین پر گرنے سے باقاعدہ دھمک سی پیدا ہوئی تھی۔
تماشائیوں کے چہرے پر ہراس ابھرا۔
ہم دونوں بیک وقت ہی اٹھے تھے۔ چہرے پر لگنے والی ضرب کے سبب ناک سے خون جاری ہوگیاتھااور طیش وخفت کے مارے اس کا چہرہ بگڑ ساگیاتھا۔
اٹھتے ہی اس نے زیادہ پھرتی کامظاہرہ کیا۔ اس کا وزنی گھونسہ میری پسلیوں پر لگاورایک لحظے کے لیے میری نگاہوں کے سامنے اندھیرا سا چھاگیا۔ اگلے ہی لمحے میں نے خود کو ہوا میں بلند ہوتا محسوس کیا۔ حوالدار نے بڑی مہارت سے میری دونوں ٹانگوں کے درمیان ہاتھ ڈال کر مجھے اٹھالیاتھا اور اب پشت کے بل پٹخنے جارہاتھا۔ اس کے ساتھی تماشائیوں کی جانب سے اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی تھی۔
یہ محض ساعتوں کا کھیل تھا۔ کوئی پل جاتاتھا کہ میںپشت کے بل کھردرے اور سخت فرش سے ٹکراتا اورناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوجاتا۔
مجھے ہوامیں ایک چکر دیا۔ ‘ حوالدار نے اپنی مکمل برتری کی ترنگ میں
میرے کانوں میں اس کے ایک ساتھی کی پرجوش آواز ابھری اور میں نے آخری لحظے سے ‘‘ جی اوشیرا ’’ فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک آزمودہ دائو لگایا یہ دائو میں پہلے بھی کچہری میں اس سپاہی پر آزماچکاتھا جس نے مجھے ٹانگ سے پکڑ کر کھینچا تھا۔
میں نے اپنی انگلیاں بے رحمی سے اس کی آنکھوں میں ماریں۔ اس کے حلق سے تیز سسکاری برآمد ہوئی اوراس کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ وہ مجھے من چاہے انداز میں پٹخنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کے گٹر جیسے منہ پر دھرا ڈھکن دوبارہ کھل گیاتھا۔
کے بعد اس کے ساتھی بھی گالیاں بکتے ہوئے اندر گھس آئے تھے اور ایک دفعہ پھر میں ‘‘فائول پلے’’ میرے وردی والوں کی ضربات کی زد میں تھا۔ مگر یہ ضربیں مجھے تکلیف دینے کے ساتھ ساتھ میرے دل ودماغ میں خاکی سیاہ وردی سے نفرت بھی بھرتی جارہی تھیں۔ آنے والے وقتوں میں جب یہ نفرت پوری نشونما پاکر میرے وجود سے باہر نکلی تو اس نے اپنی حد سے تجاوز کرنے والے کئی وردی پوشوں کوخاکستر کردیاتھا۔ میں پیٹ کے بل پڑاتھا۔ میرے ہاتھوں میں الٹی ہتھکڑی لگ چکی تھی اور غیض وغضب سے بھرپور ٹھوکریں میرے ضبط کا امتحان لے رہی تھیں۔
میں نے انگلیاں ماری تھیں۔ اس کی ‘ اس کارروائی میں وہ حوالدار بھی شامل تھا جس کی آنکھوں میں ایک آنکھ کو معمولی نقصان ہوا تھا۔ دوسری البتہ بچ گئی تھی۔ وہ مضروب آنکھ پر ہاتھ رکھے میرے ہاتھوں کی جکڑی ہوئی انگلیوں پر ضربیں لگا رہاتھا۔
نفر ت وغصے کی آگ تکلیف کو چاٹے جارہی تھی۔ میرے ہونٹ جیسے سل ‘ وجود میں بھڑکتی خودسری گئے تھے۔ اس دفعہ بھی معمولی سی بھی کراہ میرے ہونٹوں سے برآمد نہیں ہوئی تھی۔ یہ بات ان تشد د پسند پولیس اہلکاروں کو وحشت میں مبتلا کررہی تھی۔
بس کرو اوئے ’’ ایک ہانپتی ہوئی آواز میری سنسناتی سماعت سے ٹکرائی۔ ‘ مجھے مارنے والے ہانپ گئے کب تک نہیں ‘‘ سیٹی ’’ !اس حرامی کوصبح ریمانڈ کے لیے بھی پیش کرنا ہے۔ کل دیکھیں گے اس کی ‘‘ بجتی۔
اس کے ساتھ ہی ضربات کا سلسلہ تھم گیا۔ میں نے بھی آنکھیں موند لیں۔
‘‘ اوئے امام بخشا! تو ڈسپنسری نکل جا۔ آنکھ جاکر چیک کروالے۔ ’’ وہی آواز دوبارہ ابھری ۔
امام بخش نامی اس حوالدار نے دوبارہ سے گالی دی۔ میں نے آنکھیں کھول کر اس سے بھی بڑی گالی دی۔ بے شک میری آواز کمزور تھی مگر لہجے میں جان برقرار تھی۔
یار! کل دیکھ ’’ حوالدار آنکھ پرہاتھ رکھے مجھ پر جھپٹا مگر ایک ساتھی نے درمیان ہی میں اسے تھام لیا۔ اس کے لہجے میں زہراورخطرناک عزائم بالکل واضح تھے۔ وہ بکتے جھکتے ‘‘ لیں گے اس کی زبان کو بھی۔ حوالدار کو زبردستی حوالات سے باہر لے گیا۔
دواہلکاروں نے بے رحمی کے ساتھ مجھے گھسیٹ کر کھڑا کیااور کندھوں سے تھام کر حوالات سے باہر لے آئے۔ میں بے حد کوشش کرکے اپنے قدموں پرکھڑا ہواتھا۔ پورا جسم شدید درد کی چادر میں لپٹا تھا۔ مگر دائیں طرف کی نچلی پسلیوں میں درد سوا تھا۔ رہ رہ کر ایک ٹیس اٹھتی تھی جو پورے وجود کے درد سے بھی زیادہ تکلیف کی حامل تھی۔ میں بمشکل ہی کراہ کو روک پاتاتھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی پسلی فریکچر ہوگئی ہے۔
ایک سرنگ جیسی راہداری کے اختتام پر تھانے کا صحن تھا۔ جہاں پکڑی گئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ڈھانچے کھڑے تھے۔ان میں سے کارآمد اشیا نکال کر پولیس اہلکار بیچ چکے تھے۔
او کے کمرے ‘ ایچ ‘ صحن کے ایک طرف پولیس افسران کے کمرے تھے۔ مجھے تھام کر پولیس اہلکار ایس میں داخل ہوئے۔ وہاں تین افسر موجود تھے۔ دوچہرے میرے لیے اجنبی تھے۔ تیسرے کومیں بخوبی جانتاتھا۔ وہ رانا نوید تھا۔ اس کی سرخ آنکھو میں الائو جل رہے تھے۔ باقی دو افسران بھی مجھے خشمگیں نظروں سے گھوررہے تھے۔
یہ رانا نوید کا علاقہ نہیں تھا۔ اس لیے اس کی یہاں موجودگی بہت سے قیاسات کو جنم دے رہی تھی۔
میرے چہرے کے تازہ زخموں سے خون رس رہاتھا۔ ایک بے حد سرخ وسفید سب انسپکٹر نے جس کے سینے پر لگے بیج پر جہانزیب لکھا ہوا تھا۔ اس بارے میں استفسار کیا۔
سر! اس نے ہتھکڑی لگانے کے دوران امام بخش کی آنکھوں میں انگلیاں ماری تھیں۔ اس لیے ذرا اس کی ’’ مجھے بازو سے تھامنے والے ایک اہلکار نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولا۔ ‘‘ درست کرناپڑی۔ ‘‘ طبیعت ’’
یقین نہیں ’’ جہانزیب اٹھ کرمیرے قریب آیا۔ وہ اونچا لمبا تھا۔ مجھ سے بمشکل ایک آدھ انچ ہی کم ہوگا۔ ایک سال بعد ڈاکٹربن جانے والا ہوش مند نوجوان اس طرح کے ’’ اس نے میری آنکھوں میں جھانکا۔ ‘‘آرہا اس نے قدرے تاسف بھرے انداز میں کہا۔ ‘‘ردعمل کامظاہرہ کرسکتا ہے۔
جس کے باپ کو ناحق قتل ’’ بے اختیار میرے سینے کی گہرائیوں سے کرب میں ڈوبی آواز برآمد ہوئی۔ تیزاب کے ایک ڈرم سے جس کی خوشیوئوں اور امیدوں کی کھیتی جلا دی جائے اور اس کا ‘ کردیاجائے تووہ ‘ قصور صرف یہ ہو کہ اس نے زہریلے پانی سے ماحول کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھائی ہو ‘‘ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ۔
چند لمحوں تک میرے الفاظ کی بازگشت کمرے میں گونجتی رہی۔ میںنے دیکھا کہ پولیس افسران کے ماسوائے رانا نوید کے۔ … چہروں پر جمی خشونت مدھم پڑگئی
بے شک تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے مگر تمہیں ’’… جہانزیب نامی سب انسپکٹر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ان الفاظ نے ‘‘ قانونی راستہ اپنانا چاہیے تھا۔ اپنے جذباتی پن کے سبب اپنی قبر تم خود ہی کھودچکے ہو۔ میاں ‘ ان الفاظ سے مجھے … مجھے ڈرانے کی بجائے میرے وجود میں شادیانے سے بجادیئے تھے۔ ہاں آئی تھی۔ ‘‘خوشبو’’ ذوالفقار کے ہلاک ہوجانے کی
اس کے ‘ مجھے قانون نامی بے دست وپا دیوتا سے انصاف کی ذرا بھی امید نہیں۔ میں ’’ میں نے کہا۔ ‘‘ انصاف سے لبریز کئی فیصلے دیکھ چکاہوں۔
میں دیکھ رہاتھا کہ رانا نوید کومیرااور جہانزیب کا مکالمہ ناگوار گزررہاہے۔ اس نے براسامنہ بناتے ہوئے بے زار انداز میں کہا۔
‘‘ چھوڑ یار! ہم اس فیثاغورث کے بچے کا فلسفہ سننے کے لیے نہیں بیٹھے۔ کام کی بات پوچھ۔ ’’
جہانزیب نامی وہ نوجوان آفیسر ل مقابلے کے امتحان کے بعد براہ راست سب انسپکٹر بناتھا۔ اس یے ً غالبا رانا نوید کا انداز تخاطب پسند نہیں ‘ نمک کی کان میں رہ کر ابھی مکمل طور سے نمک نہیں بنا تھا۔ اسے آیا۔ اس کے چہرے پرناگواری ابھری مگر وہ اپنے سنیئر آفیسر کے سامنے بول نہیں سکا۔ اس نے پھر مجھ ‘‘ تمہارے دیگر ساتھی کہاں ہیں؟ ’’ پر نگاہیں جمائیں اور سرسراتے انداز میں کہا۔
مجھے قطعی طور پر اس سوال کی توقع نہیں تھی۔ بلکہ میرے ذہن سے تو اپنے ساتھی جیسے محو میں نے مضبوط لہجے میں کہااور یہ سچ بھی تھا۔ ‘‘ میں نہیں جانتا۔ ’’ہوگئے تھے۔
اس کے ساتھ ہی رانا نوید کے صبر کاپیمانہ چھلک گیا۔ اپنی اسٹک کے ساتھ وہ مجھ پر پل پڑا۔ میرے ‘مجھے’’ گردن اور چہرے پر درجن بھر آتشیں لکیریں کھنچ گئیں۔ وہ کف اڑاتے ہوئے دہاڑا۔ ‘ سینے ‘شانوں ‘‘ تیرے ساتھی چاہیں ہر قیمت پر۔
‘‘ ان کے بارے میں جانتا بھی تو نہیں بتاتا۔ ‘ میں ’’
اپنی کرسی پرپہلو ‘ رانا نوید کا چہرہ طیش کے مارے مسخ ہوگیا۔ اس کی اسٹک پھر حرکت میں آئی رانا صاحب! ہاتھ ہولا رکھیں۔ ورنہ ’’نے کہا۔ ‘ او تھا‘ ایچ ‘ بدلتے ہوئے تیسرے آفیسر نے جو اس تھانے کا ایس ‘‘ صبح ریمانڈ بھی نہیں ملنااور ڈاکٹری معائنے کا حکم ہوگیا تو اور مشکل پیش آجائے گی۔
رانا نوید نے بمشکل خود کو روکا۔ اس کاسانس دھونکنی کی مانند چل رہاتھا اور سرخ آنکھیں انگاروں کاروپ دھار گئی تھیں۔ گلے کی پھولی رگوں کے ساتھ اس نے حیوانی سی آواز میںکہا۔
تو نہ ’’ دو ناقابل بیان جملوں کے بعد اس نے کہا۔ ‘ ایک ‘‘ میں دیکھتا ہوں تیری زبان کیسے نہیں کھلتی۔ ’’ اس کالہجہ ‘‘ جوتے سے نہیں بولے گاتو اپنے خاندان کے بڈھوںکی دھوتیاں اترنے کے بعد تو بولے گا۔ ‘بول اس نے نئے ‘‘ پھر نہیں بولے گا تو تیری عورتوں کا نمبر آئے گا۔ ’’ اس کے سنگین عزائم کی خبر دے رہاتھا۔ پہلو سے میری قوت برداشت پروار کیا۔
عورتیں تو رانا تیرے گھر بھی ہیں۔ بیگھے ملوں کی نمک حلالی میں یہ دیکھ لینا کہ تیرا گھر ’’ میں نے کہا۔ ‘‘ چاند پر نہیں ہے۔
او نے مجھے لانے والے اہلکاروں کو اشارہ کیا۔ پل ‘ ایچ ‘ یوں لگا جیسے رانا نوید کو ہارٹ اٹیک ہوجائے گا۔ ایس او کے تھے۔ ‘ ایچ ‘ بھر میں ہی میں کمرے سے باہر تھا۔ آخری الفاظ جومیں نے سنے وہ ایس
‘‘ رانا صاحب! کل بندہ آپ ہی لے جائیں تو بہتر ہے۔ ’’
…٭٭٭…
رات کانہ جانے کون ساپہر تھا۔ میرا جسم تیز بخار میں پھنک رہاتھا۔ ٹھنڈے فرش پر میں پڑاتھااور میرے جسم پر ایک بوسیدہ سا بدبودار کمبل لپٹاتھا۔
میںنے حوالات کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔ بمشکل سراٹھایا تو مجھے جہانزیب کی صورت نظر آئی۔ وہ ‘ اس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر کابھاری بھرکم آدمی تھا۔ جس نے ایک چھوٹا سا بیگ ‘ سادہ کپڑوں میں تھا پراناساکمبل اور ٹفن بکس اٹھا رکھا تھا۔
اس آدمی کے ساتھ ہی اندر داخل ہوا۔ داخلی دروازے پرکھڑا رائفل بردار سپاہی پوری طرح سے ‘ جہانزیب چوکس نظر آنے لگا تھا۔
اس نے قریب آکر تاسف بھرے انداز میں رسمی سوال کیا۔ ‘‘ کیا حال ہے کمال؟ ’’
ہاں اگر میاں ذوالفقار کے کوچ …آپ کے سامنے ہے’’ میرے ہونٹوں پر بے اختیار زخمی سی مسکراہٹ ابھری۔ ‘‘ کرجانے کی خبر سن لوں تو پھر بہت اچھا ہوں۔
جہانزیب نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھااور نہ سمجھنے والے انداز میں سرہلاتے ہوئے کہا۔ اس کی حالت بہت سیریس ہے۔ اس کے جگر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ڈاکٹر ناامید ہیں۔ اگلے ’’ ‘‘ وہ موت کی طرف چل پڑا ہے۔ بچ جانے کے چانسز بیس فیصد ہیں۔ ‘ اڑتالیس گھنٹے اہم ہیں
مجھے محسوس ہواجیسے میرے زخموں پر کسی نے مرہم سا رکھ دیا ہو۔ میں نے طمانیت کے احساس کے ساتھ آنکھیں موند لیں۔
‘‘اب کھانا کھالو۔ ‘اٹھو’’ جہانزیب کی نرم آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
‘‘ یہ احسان آپ کیوں کررہے ہیں؟ ’’ میںنے آنکھیں کھولیں۔
محض احساس انسانیت ہے مجھے تم سے ہمدردی ہے مگر میں اس سے ز یادہ کچھ … یہ احسان نہیں ’’ اس نے قدرے آزردہ سے انداز میں کہا تھا۔ ‘‘ نہیں کرسکتا۔
والی امریکہ سے مستعار لی ہوئی پالیسی ہوسکتی تھی مگر مجھے اس ‘‘ مار کے ساتھ پیار ’’ بے شک یہ کے انداز سے سچی ہمدردی کی خوشبو آئی۔ میں اٹھ بیٹھا۔
کچھ دیر بعد میں بدبودار کمبل کو تہہ کرکے نیچے بچھا چکاتھااور جہانزیب کا لایا کمبل اوڑھ لیا تھا۔چکن بوائل انڈے اور گاجر کا حلوہ حلق سے اترا تو توانائیاں لوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ جہانزیب میرے ‘سوپ سامنے کھڑا مجھے کھاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
دیگر چوٹوں کی تو مجھے پروانہیں تھی۔ مگر پسلی کے درد نے بے حال کررکھا تھا۔ شاید میری بے چینی اس نے تشویش ‘‘ کیا کوئی چوٹ زیادہ تکلیف دے رہی ہے؟ ’’ جہانزیب نے میرے چہرے سے بھانپ لی۔ بھرے انداز میں پوچھا۔
میںنے اثبات میں جواب دیا۔ کھانے کے بعد اس کے ساتھ آئے فربہ اندام نے میری چوٹوں کابغور جائزہ لیا۔ وہ کوئی ڈسپنسر وغیرہ تھا۔
بہتر طریقے ‘ میری پسلیوں کابغور معائنہ کرنے کے بعد اس نے کہا کہ بظاہر تو فریکچر کے کوئی آثار نہیں سے تو ایکسرے کے بعد ہی پتا چل سکے گا۔
اس نے میرے زخموں کی مرہم پٹی کی۔ یکے بعد دیگرے دوانجکشن لگائے اور چند گولیاں پانی کے ساتھ دو دفعہ اس ‘ نگلوائیں ۔ اس میں ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا تھا۔ جہانزیب مسلسل قریب رہا او رایک نے ڈسپنسر کاہاتھ بھی بٹایا۔
اس کے ہمدردانہ رویے نے میرے ذہن پران مٹ نقوش چھوڑے تھے۔ اس نے اپنا لباس منگوا کر میرے لیرولیر کپڑے بھی تبدیل کروادیئے۔
پین کلرانجکشن نے میرے وجود کے سارے درد کو وقتی طور پر ختم کردیاتھا۔ میںنے خود کو کافی بہتر ‘‘ آپ کی ہمدردی اور احسان کومیں ہمیشہ یاد رکھو ںگا۔ ’’ محسوس کرتے ہوئے جہانزیب سے کہا۔
دوبار ہ میڈیکل کالج جوائن کرنا تو یاد رکھنا ورنہ ’’ اس کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ ابھری۔ یہ کہہ کر وہ حوالات سے باہر نکل گیا۔ ‘‘ بھلادینا۔
کیا کہہ گیا تھا وہ نوجوان اور ہمدرد آفیسر! کتنی بڑی … میرے سینے کی گہرائیوں سے ایک دلدوز آہ نکلی بات کی تھی اس نے۔
کیا یہ ممکن تھا کہ میں دوبارہ اپناتعلیمی سلسلہ شروع کرسکوں؟ جن خون آشام دشمنیوں کی بنیاد کیاوہ مجھے پہلے جیسی زندگی گزارنے دے سکتی تھیں؟ … پڑچکی تھی
کوئی وجدانی آواز مسلسل اس کی نفی کررہی تھی۔ دوسرے لفظوں میں شرافت کی زندگی اب میرے لیے ناممکن ہوگئی تھی۔
جہانزیب ابھی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوا تھا۔ میںنے آواز دے کر اسے روک لیا۔ حوالات کا دروازہ بند ہوچکاتھا۔ میں دروازے کے قریب چلاگیا۔
اگرمناسب سمجھیں تویہ بتادیں کہ ’’ جہانزیب کی استفہامیہ نگاہیں میری طرف اٹھی تھیں۔ میں نے کہا۔ ‘‘ کوئی پولیس اہلکار تو ہماری کارروائی کے دوران ہلاک نہیں ہوا؟
ایک کی ٹانگ ’’ اس دفعہ اس کے چہرے پر قدرے ناراضگی کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے نفی میں سرہلایا۔ اور دواہلکاروں کی جناب نے ’’قدرے توقف کے بعد اس نے دوبارہ کہا۔ ‘‘ اور ایک کے ہاتھ پرگولی لگی ہے۔ ‘‘ آنکھیں نکالنے کی کوشش کی ہے۔
…٭٭٭…
قانون کے مطابق زیرحراست ملزم کوچوبیس گھنٹے میں عدالت میں پیش کرنا ضروری تھا۔ اگلے دن مجھے میاں ذوالفقار ‘ کچہری ہتھکڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں محض ایک دن پہلے ہم پرحملہ آور ہوئے تھے۔
کیاگیاتھا۔ اس لیے ہ ‘‘زندہ گرفتار’’ مجھے درجنوں افراد کے سامنے ی میری گرفتاری ڈالنا پولیس والوں ً فورا کی مجبوری تھی۔ ورنہ زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کاغصہ موقع پرہی گولی مار کر اتاراجاسکتاتھا۔ یہ نابھی ہوتا تو مہینوں تک کسی نجی ٹارچرسیل میں رکھنا تو عام سی بات تھی۔
چاچا احمد اور میری برادری کے چند دیگر افراد پہلے سے وہاں موجود تھے۔ میری ظاہری حالت قدرے بہتر تھی۔ وہ مطمئن نظر آنے لگے تھے۔ انہوں نے میرے دفاع کے لیے وکیل بھی مقرر کردیاتھا۔
مجھے ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے دفعہ تیس کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ مجھے دیکھتے ہی مجسٹریٹ کے چہرے پر خشونت برسنے لگی۔ عین ممکن تھا اس نے بچشم خود ہماری کل کی کارروائی ملاحظہ کی ہو۔
مجھ پر بے حد سنگین دفعات لگائی گئی تھیں۔ جن میں قاتلانہ حملہ اور پولیس مقابلہ سر فہرست تھے۔ جو ناقابل ضمانت تھے۔
اپنے مفرور ساتھیوں کی گرفتاری اور ممنوعہ بور کے اسلحے کی برآمدگی کاکہہ کرسرکاری وکیل نے بڑے آرام سے میرا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔
میرا وکیل مجھ پر شدید تشدد کارونا روتا رہ گیا۔ مگر تمام تر حالات وواقعات میرے خلاف تھے۔ ہمارے ہاتھوں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار اسپتال میں تھے اور میاں ذوالفقار زندگی وموت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔
سرکاری وکیل کی طرف سے ایک اور درخواست بھی پیش کی گئی۔ چونکہ سارے معاملے کو انسپکٹر رانا نوید دیکھ رہا تھااس لیے مجھے بھی اس کے سپرد کردیاجائے۔
چاچا فکر نہ کرنا۔ اس کتے کی ’’ میرے قریب آیا تو میں نے دھیرے سے کہا۔ ‘ کمرہ عدالت میں چاچا احمد ‘‘ کوئی خبر ہے؟
ان کے لہجے سے صاف ظاہر ‘‘ ملتان لے گئے ہیں۔ بچنا مشکل ہے۔ ’’ چاچا احمد نے پرمسرت سرگوشی کی۔ تھا کہ ہمارے اقدام کو برادری میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔
‘‘ بیگھے ملوں کی طرف سے آپ لوگ ہوشیار رہنا۔ ’’
‘‘ پر رانا نوید بڑا تنگ کررہا ہے۔ روز چھاپے ماررہا ہے۔ ‘ انہیں تو دیکھ لیں گے ’’ چاچا احمد فکر مند نظر آنے لگا۔
میرے لہجے میں نہ جانے کیا تھا کہ چاچا احمد نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ ‘‘ اسے بھی دیکھ لیں گے۔ ’’ یکلخت ہی وہ مجھ سے مرعوب نظر آنے لگا تھا۔
مجھے رانا نوید کے حوالے کردیاگیا۔ پولیس وین مجھے اپنے قصبے کے تھانے میں لے آئی۔ حوالات میں پہلے سے بند بیگھے ملوں کے زرخریدوں کومعلوم ہوچکاتھا کہ میں نے میاں ذوالفقار کو چیرڈالا ہے۔ تھانے کے مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے میرا شاندار استقبال کیا۔ شور تو روایتی تھا البتہ خیرمقدمی نعروں کی جگہ گالیاں اور پھولوں کی جگہ پلیٹیں اور گلاس انہوں نے مجھ پر نچھاور کیے۔
گالیوں کا البتہ میں نے بھی مقدور بھر جواب دیا تھا۔
اس تھانے میں صرف ایک ہی حوالات تھی۔ اس لیے مجھے ایک اور کمرے میں رکھا گیا ہ ی ً ۔جہاں فورا میراامتحان شروع ہوگیا۔ ہتھکڑی کیساتھ ایک زنجیر منسلک کرکے اسے کمرے کی چھت میں نصب ایک آہنی کڑے سے منسلک کردیا گیا۔ اب میرے دونوں ہاتھ اٹھے ہوئے تھے اور پائوں کے انگوٹھے بمشکل زمین کوچھورہے تھے۔
چند ہی منٹوں میں پور اجسم پسینے سے بھیگ گیااور کندھے شانوں کے قریب ‘ یہ بڑی تکلیف دہ سزا تھی سے پھٹتے محسوس ہونے لگے۔
میرے قریب موجود اہلکار میری حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے زیرمونچھ مسکرایا۔ یہ بھاری بھرکم اہلکار رانا نوید کاوہی چہیتا تھا جسے والد صاحب نے مچھلی دینے سے انکار کیاتھا۔ وہ زہریلے لہجے میں یہ الفاظ نہیں جیسے جلتا ہوا لاوا تھا ‘‘ سنا ہے تیرے تلا(تالاب) کی مچھی کتے بھی اب نہیں کھارہے۔ ’’بولا۔ جومیرے سارے وجود کو خاکستر کرگیا۔
‘‘ باپ تیرا مچھی پرجان دیتاتھا۔ اب بیٹھا ہوگا دوزخ میں مچھی بھونتا۔ ’’
اچانک ہی مجھ پرانکشاف ہوا کہ میں اس بدزبان کو بھرپور جواب دے سکتاہوں۔ بے شک میرے ہاتھ بندھے تھے مگر پائوں تو آزاد تھے۔ میں نے یکلخت سارا وزن بازوئوں پرڈالا۔ کندھوں میں ناقابل برداشت درد کی نئی لہریں ابھریں اور میں نے جھولنے کے انداز میں دونوں پائوں جوڑ کر اس کے منہ پرمارے۔ یہ اچانک
اور بڑی شدید ضرب تھی۔ وہ اچھل کر دیوار کے ساتھ ٹکرایا۔ دوبارہ اٹھا تو منہ سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا اور سامنے والے دانتوں کی جگہ خلا نظر آرہاتھا۔
اس کی حالت دیکھ کر زخموں پر جیسے ٹھنڈک سی پڑگئی۔ میں نے ایک دفعہ پھر اچھل کر اس کی گردن دونوں ٹانگوں میں جکڑنا چاہی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ جھکائی دے کروہ میری ٹانگوں سے لپٹ گیااور بدبخت نے پوری قوت سے میری ران میں دانت گاڑھ دیئے۔
چند منٹ بعد ایک دفعہ پھر پولیس اہلکاروں نے مجھے بھیڑیوں کی مانند گھیر رکھاتھا اور میرا زخم زخم جسم ان کی اندھی ضربوں کی زد میں تھا۔ پسلی کادرد دوبارہ سے جاگ اٹھا۔
ان کی گالیوں کا جواب دیتے ہوئے ہوش وحواس سے بیگانہ ہوگیا۔دوبارہ ہوش آیا تو ‘ نہ جانے کب میں کمرے میں تاریکی تھی اور میں بدستور کمرے کے وسط میں نیم معلق تھا۔ حلق سوکھ کرکانٹا ہورہاتھا اور بازو تو لگتاتھا جسم کے ساتھ ہیں ہی نہیں۔
دوتین اہلکاروں کے ساتھ رانا نوید اندر گھس آیا۔ وہ چاروں ‘ کچھ دیر بعد کمرے میں روشنی کردی گئی اور مجھے بھوکے بھیڑیوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں میرے خون کی پیاس بے حد واضح تھی۔
رانا نوید میرے قریب آیا۔ ایک اہلکار نے بڑھ کر میری ٹانگیں تھام لیں۔ میرے زخمی ہونٹوں پر بے اختیار پولیس والوں کے دل میں جگہ بناچکاہے۔ ‘‘خوف’’ مسکراہٹ ابھری۔ یہ احساس بڑا طمانیت بھراتھا کہ میرا
‘ کیوں اپنی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اپنے سجنوں کا پتا بتادے ’’ رانا نوید نے خلاف توقع نرم انداز میں کہا۔ ورنہ یہاں سے تیرا بے … آرام سے یہاں چار دن نکال اور جوڈیشل(عدالتی تحویل) ہوتے ہی ضمانتیں کروالے آخر میں وہ دھمکی دینے سے باز نہیں آیاتھا۔ ‘‘ روح لاشہ ہی باہر جائے گا۔
میں نے بمشکل کہااور گلے میں شدید خراش کے سبب کھانسی کا دورہ سا پڑگیا۔ ‘‘ میرا جواب وہی ہے۔ ’’ رانا نوید کے جبڑے بھینچ گئے۔ اس نے اہلکاروں کو خفیف سا اشارہ کیا۔ انہوں نے مکمل بے رحمی کامظاہرہ کیا۔ تین منٹ بعد میرے پائوں زمین سے تین فٹ اوپر اٹھ چکے تھے اور مزید ستم یہ کہ لکڑی کا ایک وزنی ٹکڑا میرے پائوں سے بھی منسلک کردیا گیاتھا۔اب یوں محسوس ہو رہاتھا جیسے میرے جسم کو دوطاقتور گھوڑے مخالف سمت میں کھینچ رہے ہوں۔
‘‘ دماغ ٹھکانے آجائے تو بتادینا اور یہ ابھی ابتدا ہے۔ ’’ باہر نکلتے ہوئے رانا نوید نے کہا۔
میں دو گھنٹے تک ناقابل بیان اذیت کے شکنجے میں جکڑا رہا۔ پھرنیچے اتار کر صرف پائوں میں ہتھکڑی لگادی گئی۔ پانی اور بے مزہ کھانا بھی دیاگیا۔
پولیس اہلکار تشدد کے بے حدماہر ہوچکے تھے۔ ایک خاص حد سے زیادہ وہ مجھے نہیں لٹکا سکتے تھے۔ آخر چوتھے روز عدالت میںپیش کرنا بھی تو ضروری تھا۔ حد سے زیادہ تشدد کے سبب دوبارہ ریمانڈ لینا ناممکن ہوجاتا۔
اگلے دو روز رانا نوید نے ہرممکن حربہ آزمالیا۔ مگر میری زبان کھلوانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ بے شک میں نہیں جانتاتھا کہ میرے ساتھی کہاں ہیں مگر رانا نوید ان کے کسی ممکنہ ٹھکانے کے بارے میں بھی معلوم نہیں کرسکا۔
ایک عجیب سی خودسری اور مضبوطی میرے وجود میں جگہ بناچکی تھی۔ جومیری زبان پر مضبوط تالے لگادیتی تھی۔
یہ تھانے میںمیری تیسری رات تھی۔ صبح مجھے عدالت میں پیش کیاجاناتھا۔ میں اس کمرے کے فرش پر لیٹاتھا۔ باہر ایک خوبصورت چاندنی رات تھی۔ پندرھویں کاچاند صاف آسمان پر روشن تھالی کی مانند نظر آرہاتھا۔ چاندنی سلاخ دار کھڑکی سے میرے بندی خانے میں اتری تو شاید میری حالت دیکھ کر سسک اٹھی۔
شاید چاندنی رات کا فسوں تھا کہ کچھ دورحوالات کے باہر کرسی پربیٹھے پولیس اہلکار نے کان پر ہاتھ … راتاں آگیاچانیاں ‘ چھٹی لے کے آجا بالماں ’’ رکھااور بھونڈی آواز میں تان کھینچی۔
حوالاتیوں کی جانب سے دادوتحسین کے ڈونگرے برسے ۔ افسران اپنی رہائش گاہوں میں تھے اور تھانہ محض چند اہلکاروں کے رحم وکرم پر تھا۔ اس لیے وہ اہلکار کھل کر تان لگا رہاتھا۔
میں بھی اپنی فرشی ہتھکڑی گھسیٹتے ہوئے کھڑکی میںآگیا۔
حوالاتی تان لگانے والے اہلکار کو اکسا رہے تھے کہ اچانک ہی ایک گولی کی آواز نے چاندنی رات کا فسوں درہم برہم کردیا۔ گانے والااہلکار اپنا کندھا تھامے فرش پر لوٹ پوٹ ہورہاتھا۔
اس کے ساتھ ہی شدید ترین فائرنگ کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ قطعی یک طرفہ فائرنگ تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کسی گروہ نے تھانے پرحملہ کردیا ہے۔
کی جانی پہچانی آواز سنتے ہی میرے تن مردہ میں جیسے نئی روح پھونک گئی۔ ساری 47 اے کے توانائیاں لوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ لگتاتھا میرے
جاں نثار ساتھیوں نے مجھے چھڑانے کے لیے حملہ کیا ہے۔
چاندنی رات میں سا را منظر بے حد واضح نظر آرہاتھا۔زوردار چڑچڑاہٹ کے ساتھ دھماکہ ہوااور ایک وزنی جیپ تھانے کابیرونی لکڑی کا سالخوردہ دروا زہ توڑتے ہوئے اندر گھس آئی۔ اس سے کئی مسلح افراد نیچے کودے۔
اچانک ہی مجھ پر انکشاف ہوا کہ تھانے پرحملہ آور ہونے والے میرے ساتھی نہیں ہیں۔
ایک لمباچوڑا نوجوان وحشت جس کے چہرے پرنمایاں تھی عقاب کی مانند میرے بندی خانے کی طرف نمایاں نظر آرہی تھی۔ 47‘کے ‘ جھپٹا۔ اس کے ہاتھوں میں اے
اچانک ہی میری تمام تر حسیات آنکھوں میں سمٹ آئیں اور لہو سنسنانے لگا۔ وہ میاں امجد تھا۔ میرے باپ اور میجر صاحب کا قاتل اور اب فرشتہ اجل کی مانند مجھ پرجھپٹ رہاتھا۔
…٭٭٭…

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 26

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: