Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 6

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 6

ریشمی اندھیرے میں چوڑیوں کی مدہم کھنک خطرے کے الارم کی طرح ابھری اور میں پل بھر میں ماضی سے حال میں واپس آگیا۔
ایک نرم وگرم نسوانی وجود میرے سینے پر ریشم کی گٹھری کی مانند گرا تھا۔ اس کے بالوں سے امڈتی میری … خوشبو نے پل بھر میں میرے حواس کومختل کردیا۔ مجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ وہ شیری تھی محسن۔
میں نے اپنے حواس سنبھالنے کی کوشش کی اور شیری کے کان میں دھیمی سی سرگوشی کی۔
‘‘ کیاذیشان کے ہاتھوں مجھے مروانے کاارادہ ہے؟
‘‘ دن چڑھے تک وہ ہوش وحواس سے بیگانہ ہوچکا ہے۔ ’’ شیری کی بپھری ہوئی جوابی سرگوشی ابھری۔ ساتھ ہی اس کے ہاتھ آوارہ ہونے لگے۔
میرے وجود میں تیزی سے سناٹے اترنے لگے تھے۔ کوئی اور ہوتی ‘ میںنے اس طوفان بلاخیز سے دامن بچایا تو میں اسے جھٹک چکا ہوتا۔ مگر اس کے احسان نے میرے ہاتھوں کومنوں وزنی کردیاتھا۔ میں نے آنکھیں مگر ایک من موہنی صورت ‘بہت مشکل تھا… موند کر خود کو پتھر کے مجسمے میں تبدیل کرلیا۔ یہ بہت اور ستارہ آنکھوں سے جھڑتے موتیوں کے تصور نے اسے بہت آسان بنادیاتھا۔
وہ شیشے کاسابدن رکھتی تھی مگر بے دریغ پتھرسے ٹکرا رہی تھی۔
پھر اس کی شوریدگی کم ہونے لگی۔ ‘ لہر در لہر میرے پتھر وجود سے ٹکراتی رہی ‘ وہ کچھ دیر لگی رہی اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ بے جان پتھر سے ٹکرارہی ہے۔
اس کی ناراض سی آواز ابھری۔ حسب توقع اس کی جذبات سے بوجھل آواز قدرے نارمل ‘‘ کیاہوا؟ ’’ اس نے طنزیہ انداز میں ایک ناقابل بیان جملہ ‘‘… یقین نہیں آرہا ذیشان کے خوف نے کمال جٹ سے ’’ تھی۔ کہا۔
میں اپنے جذبات واحساسات پر قابو پانا قدرے سیکھ گیاتھا۔ پھربھی دماغ میں ایک چنگاڑی چٹخی تھی اور ابھی اسے ناراض کرنابھی مناسب نہیں تھا۔ میں نے اسے دبوچ کراپنا تھوڑا سا وزن اس کے نازک وجود … پر ڈالا تو وہ کراہی
‘‘ کسی وقت تمہارا گلہ دور کردوں گا۔ ‘زخموں نے مجھے بے حال کررکھا ہے ‘ ایسی بات نہیں ہے ’’
اس کی ناراضگی قدرے کم ہوئی۔ ‘‘ ایسے بھی کیا زخم کہ بندہ بالکل ہی پتھر ہوجائے۔ ’’
اس کی سانسوں میں الکحل کی بورچی بسی تھی۔ وہ پھر بے قابو ‘ میں نے دل پرپتھر رکھ کراسے بھینچا ہونے لگی۔
میں نے کچھ دیر اسے من مانی کرنے دی پھر نرمی سے اس کے ریشمی حلقے سے نکلتے ہوئے کہا۔ ‘‘ کیا جان نکال لوگے میری۔ ‘ بس کرو‘ سوہنیو ’’
‘‘ میں آئندہ تمہارا کوئی بہانہ نہیں سنوں گی۔ ’’ دھیمی سی کھسیانی ہنسی کے ساتھ وہ بولی۔
‘‘ آئندہ تم بھاگنے کے بہانے ڈھونڈوگی۔ ’’ میںنے لہجے کو بوجھل بناتے ہوئے کہا۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور مسلسل چوڑیوں کی کھنک سے ‘ اندھیرے میں اس کی مترنم ہنسی ابھری اندازہ ہوتاتھا اپنے بال سمیٹنے میں لگی ہے۔
قریب ہی اس کی ماں پتا نہیں بیٹی سے انجان تھی یاانجان بنی پڑی تھی۔
‘‘ ذیشان جاگے گاتو میرا اس کے پاس ہونا ضروری ہے۔ ‘ میں جاتی ہوں ’’
میں نے دل ہی دل میں مصیبت ٹلنے پرخدا کاشکر ادا کیا۔ جاتے ہوئے وہ کمرے کا نائٹ بلب دوبارہ جلاگئی تھی۔ میں نے لیل ی وارثی کاجائزہ لیا۔ وہ بے سدھ سی پڑی تھی۔ وہ جس قسم کی عورت تھی اس کے بارے میں کوئی بھی درست اندازہ نہیں لگایاجاسکتاتھا۔
میں ذہن میں ایک لائحہ عمل ترتیب دے چکاتھا۔ اس کے لیے فی الحال مجھے انتظار کرناتھا۔ میں گہری نیند میں ہونے کی اداکاری کرتا رہا۔ شبینہ ڈیوٹی پر گئی لڑکیاں ایک ایک کرکے لوٹنے لگیں۔
آخری لڑکی کے آتے ہی لیل ی وارثی نے میرا جائزہ لیااور دھیمی آواز میں مجھے پکارا بھی لیکن میں نے اداکاری جاری رکھی۔ میری طرف سے مطمئن ہونے کے بعد لیل ‘ پھرشیشے کی کھنک ابھری ی وارثی اپنے لیے جام بنارہی تھی۔ یہ بات میرے لیے مزید طمانیت کاباعث تھی۔ زیادہ تر بدقماش لوگوں کی طرح اسے بھی نیند کے لیے شراب کے سہارے کی ضرورت تھی۔ مزید ڈیڑھ گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد کمرے میں لیل ‘ ی وارثی کے خراٹے گونجنے لگے۔ میں اٹھ بیٹھا کمرے میں نائٹ بلب کی نیلگوں روشنی میں سبھی مکین بے سدھ نظرآرہے تھے۔ شبینہ ڈیوٹی سے لوٹنے والی لڑکیاں بھی الکحل یا تھکن کے سبب گہری نیند میں تھیں۔
میں نے بستر چھوڑااور گلاس روم میں آگیا۔ ایک کونے میں لگے دل کی شکل کے جہازی سائز بیڈ پر ذیشان اور شیری بے سدھ پڑے تھے۔ اس بیڈ کے گرد دبیز پردے بھی لگے تھے۔ فی الوقت وہ سمٹے ہوئے تھے۔
شیری کی دودھیا ٹانگ کمبل سے باہر تھی۔ میں نے اس سے نظریں چرائیں اور محتاط انداز میں گلاس روم کی تلاشی شروع کردی۔
میرے ذہن میں کوئی واضح بات نہیں تھی۔ مبہم سی خواہش کسی ہتھیار کی تھی۔ میرے پاس جو نائن ایم ایم تھا اس میں صرف تین گولیاں باقی تھیں۔
ایک دراز میں مجھے شاندار جرمن لیوگر نظر آیا۔ ساتھ وافر مقدار میں راؤنڈ بھی تھے۔ میں کچھ دیر اس خواہش کے باوجود میں اسے اپنے ‘ بے حد خوبصورت اور ہلاکت خیز ہتھیار کوالٹ پلٹ کر دیکھتا رہا ‘ قیمتی پاس نہیں رکھ سکتاتھا۔ وہ قیمتی ہتھیار یقینا ذیشان خان کی ملکیت تھا جس کی گمشدگی زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔
اس میں پسینے کی بو رچی بسی تھی۔ یقینی طور پر ‘ میں نے اس کے نفیس لیدر کے ہولسٹر کو سونگھا ذیشان خان اسے ہر وقت اپنے پاس رکھتاتھا۔
ایک دراز میں جدید ماڈل کا سیٹلائٹ فون دیکھ کر جہاں مجھے حیرانی ہوئی وہاں بے حد خوشی بھی ہوئی۔ کرنل سلیم سے رابطے کا ذریعہ غیر متوقع طور پر حاصل ہوگیاتھا۔
میں نے فون اور اس کاانٹینا سنبھالااور بڑی احتیاط سے باہر ٹیرس پر نکل آیا۔ یہاں تاریکی اور سرد ہوانے سیڑھیوں کے اختتام پر ‘ میرا استقبال کیا۔ سن گن لینے کی غرض سے میں بے آواز انداز میں نیچے اترا دروازہ مجھے بند ملا۔ وہاں تمباکو کی بو سے اندازہ ہوتاتھا کہ بند دروازے کے دوسری طرف کوئی پہرے دار موجود ہے جو گھٹیا قسم کے سگریٹ سے اکتادینے والی ڈیوٹی سے نبردآزما ہے۔
میں خاموشی سے واپس لوٹ آیا۔ فون آن کرکے اور اس کاانٹینا وغیرہ سیٹ کرکے میں نے کرنل سلیم کا بے حد خاص نمبر ملایا۔
حسب توقع چند گھنٹیوں کے بعد ہی کرنل سلیم کی بھاری آواز سنائی دی۔ رات کے اس پہر ان کی آواز میں نیند کا ہلکا سا شائبہ محسوس ہو رہاتھا۔ میری آواز پہچانتے ہی یہ شائبہ بھی ختم ہوگیااور وہ بے حد پرجوش ہوگئے۔
‘‘ کہاں غائب ہو یار؟ ہمیں تو پریشان کیا ہوا ہے تم نے۔ گل ریز تو دیوانہ ہو رہا ہے تمہارے لیے۔ ’’
میں نے مختص اسےحالات بتائے۔ ً را
گل ریز کابھی یہی خیال تھا کہ بدقسمتی سے تم حملہ آوروں کے ہتھے ’’ حسب عادت انہوںنے ہنکارا بھرا۔ ‘‘ چڑھ گئے ہو۔ یہ سن کر بیچارہ اور پریشان ہوگا کہ وہ حملہ آور جتھا سرخ بھیڑیے کا تھا۔
جو میرے ‘ میرے لہجے میں وہ مخصوص اعتماد تھا ‘‘ میں سرخ بھیڑیے کو دیکھ لوں گا۔ ‘ اسے تسلی دیں ’’ دوستوں میں میری پہچان تھا۔ آپ گل ریز کومحتاط رہنے کا کہیں اور اسے ہدایت کریں اپنے مہمانوں ‘‘ کوجلدازجلد رخصت کردے۔ سرخ بھیڑیے کی نظر اس کی مہمان خواتین پر ہے۔
‘‘ میں صبح ہی اس سے بات کرتا ہوں۔ ’’
‘‘ ایک اور پریشان کن خبر بھی سن لیں۔ ’’
‘‘ یار! کچھ اچھا بھی سنادو۔ ’’ کرنل سلیم نے مصنوعی ٹھنڈی سانس لی۔
میں نے خلوص دل سے کہااور لیومی کی ایڈوانس پارٹی کی سرخ بھیڑیے کے ہتھے ‘‘ انشاء اللہ بہت جلد۔ ’’ چڑھنے کی خبر دی۔
وہ متفکر ہوگئے۔ ایڈوانس پارٹی کی طرف سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ پہلے ہی اندیشوں کاشکار خداان لوگوں کا محافظ ہو۔ وہ علاقہ ہی اتنا دشوار گزار ’’ تھے۔ دھیرے سے خود کلامی کے انداز میں بولے۔ ‘‘ اور دور ہے کہ فوج کی پوری کمپنی بھی ان کی بازیابی کے لیے ناکافی ہے۔
سرخ بھیڑیا میرے قریب ہی ہے۔ میں موقع ملتے ہی اس کی گردن دبوچ ‘آپ فکرمند نہ ہوں’’ میں نے کہا۔ ‘‘کر اپنے بندے چھڑوالوں گا۔
میری نیک خواہشات ’’ کرنل سلیم کا لہجہ گمبھیر ہوگیا۔ ‘‘ اور اپنے اصل مشن کو بھی سامنے رکھنا۔ ’’ ‘‘ تمہارے ساتھ ہیں۔ میں لیوی کمانڈر کو کہہ کر ایک دستہ اس طرف روانہ کرواتاہوں۔
میں نے کہا۔ ‘‘ دستے کوروانہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ میں کچھ کرلوں گا۔ ’’
‘‘ جیسے تم مناسب سمجھو۔ ‘اوکے’’
میںنے انہیں باکی موشو کے بارے میں بتایا۔
وہ دھیرے سے ہنسے ۔
تمہاری فکرمندی نے مجھے حقیقی خوشی ‘ حب الوطنی پوری طرح تمہارے وجود میں گھر بناچکی ہے ’’ ‘‘ دی ہے۔
سر! میں بھی تو اسی سرزمین کا باسی ہوں۔ اسی کے ’’ ان کے الفاظ مجھے سرشار کرگئے۔ میںنے کہا۔ ‘‘ سینے سے اگنے والی خوراک اور بہتے پانی سے توانا ہواہوں۔ اس کابھی تو حق ادا کرنا ہے۔
تمہاری فکربجا مگر باکی موشو کو ایجنسیاں کلیئر کرچکی ہیں۔ چینی سفارت خانہ بھی اس کی ‘ گڈ…گڈ’’ ‘‘ طرف سے مطمئن ہے۔وہ واقعی خبطی ہے۔
یہ سن کر میرے سینے سے اچھا خاصا بوجھ اتر گیا تھا۔ چند دیگر باتوں کے بعد میں نے رابطہ منقع کردیا۔ سیٹلائٹ فون کو اپنی جگہ واپس رکھ کرمیں نے مدہوش پڑے افراد کادوبارہ جائزہ لیا۔ خاص طور پر لیل ی نوعمر لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھااور اسے بے ‘ وارثی کا۔ مطمئن ہو کر میں نے باکی موشو کے ممکنہ شکار آواز طریقے سے بستر میں سے کھینچ لیا۔
میری گرفت مکمل ہوچکی تھی۔ نائٹ بلب کی ‘ اس سے پہلے کہ اس کی نیند مکمل طور سے ٹوٹتی تڑپی اور خود کو ‘ روشنی میں اس کی پھیلی ہوئی آنکھوں میں ہراس نمایاں ترتھا۔ وہ بری طرح مچلی مگر ناکام رہی۔ ‘ چھڑانے کے لیے پورا زور لگایا
اس سے بیس گنا زیادہ بھی زور لگاتی تو خود کوچھڑوا ‘ اس کے نوخیز جسم میں خاصی طاقت تھی مگر وہ نہیں سکتی تھی۔
اسے باہوں میں اٹھائے باہر ٹیرس پرآگیا۔ خودکو بے بس پاکر اس نے مزاحمت ترک کردی تھی۔ جنگلی ‘ میں گھوڑی کی مانند اس کاہانپا ہوا تلاطم میں اپنی فصیل جاں پر محسوس کررہاتھا۔
میںنے اپنے اس ہاتھ پر نمی محسوس کی جو اس معصوم کے ہونٹوں پر جماتھا۔ یہ آنسو تھے جو بھل بھل اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔
میرا دل جیسے کسی نے کچل دیاتھا۔ آنکھیں بے طرح جلنے لگی تھیں۔ میںنے جھک کر اس کی پیشانی شاید ‘ میں تجھے یہاں سے نکال لے جائوں گا ‘غلط نہ سمجھ ‘ تو میری بہن ہے ’’ چومی اور دھیرے سے کہا۔ لاکھوں جملے وہ اثر نہ دکھاتے جو میرے سچے لہجے نے دکھایا تھا۔ وہ یکلخت ہی پرسکون ہوگئی۔ البتہ آنسوئوں کی رفتار میں اضافہ ہوگیاتھا۔
میںنے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹالیا۔ ایک دلدوز ہچکی اس کے سینے کی گہرائیوں سے نکلی اور میرے آہ یہ کیسا رشتہ استوار … سینے میں منہ چھپا کر وہ بلکنے لگی۔ میں نے اسے باہوں کے حصار میں لے لیا !… ہوگیاتھا ایک پل میں
کئی نامہربان شب وروز کی دکھ وتکلیف تھی اس معصوم کے آنسوئوں میں۔ میں نے کچھ دیر اسے رونے دیا۔ اب بہتے آنسوئوں سے اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ میرا سینہ بھی جل اٹھا تھا۔ وہی دیوانگی اور خود سری سر اٹھانے لگی تھی جو بے خوف وخطر دہکتی آگ میں کود جانے پر آمادہ کرتی تھی۔
پہرے دار کی گردن پر لیوگر ‘ جی چاہ رہاتھا ہرمصلحت کوبالائے طاق رکھ کر جرمن لیوگر اٹھا کر نیچے اتروں رکھ کرباکی موشو اور طوراخان کاٹھکانہ پوچھوں اور جاکر انہیں اڑادوں۔
وہ دونوں اور اس جیسے نہ جانے کتنے ظالم اس وسیع چار دیواری میں موجود تھے۔ سرخ بھیڑیا بھی قریب ہی تھا۔
کرنل سلیم کے زیر سایہ آنے سے پہلے کا یہ وقت ہوتاتوشاید میں اس پر عمل بھی کرگزرتا۔ انجام کی مجھے پروا نہیں تھی۔ مگر اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکاتھا۔ میں نے خود پر قابو رکھنااور مناسب وقت پرمناسب قدم اٹھاناسیکھ لیا تھا۔
جیسے نگہت چھوٹی ہو کرمیری باہوں ‘ مجھے یوں محسوس ہو رہاتھا ‘ میں نے اس معصوم کے بال چومے میں آگئی ہو۔
اس کے رونے کی شدت میں کمی آگئی تھی۔ میںنے اس کے شفاف گالوں پر بہتے آنسو صاف کیے اور کان تجھے یہاں سے خیریت کے ‘ یہ تیرے بھائی کا وعدہ ہے ‘حوصلہ کر ‘ سوہنی بہن ’’ کے قریب سرگوشی کی۔ ‘‘ساتھ نکال لے جائوں گا۔
تاروں کی مدہم روشنی میں اس نے سراٹھا کرمیری طرف دیکھا۔ اس کی بھیگی آنکھوں میں امید کی اور میرے بھائی کو بھی ’’ مدہم سی کرن ابھر آئی تھی۔ اس کے ہونٹ لرز ے اور ٹوٹی ہوئی آواز ابھری۔ ‘‘ چھڑوا کر لے چلیں گے نابھیا؟
اس کے ساتھ اس کابھائی بھی انہی ظالموں کی قید میں تھا۔ ساتھ ہی دل بھی پگھلنے لگا۔ ‘ میں چونکا اس نے مجھے بھیا کہاتھا۔
‘‘ میری بہن اسے بھی نکال لے جائیں گے۔ وہ کہاں ہے؟ ‘ہاں’’
ساتھ ہمارا ڈرائیور بھی … طوراخان نے اسے قید کیا ہوا ہے ’’ اس کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو چمکنے لگے۔ اچانک ہی میرے ذہن میں جھماکا ہوا۔ وہ نوعمر لڑکااوراس کاساتھی مجھے یاد آئے جو میرے ساتھ ‘‘ہے۔ قید خانے میں تھے۔
میرے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والے پہرے داروں کی شیطانی دست برد کا شکار تھا۔ میںنے ‘ نوعمر لڑکا جن کے جواب مثبت ملے تو مجھے یقین ہوگیا کہ وہ لڑکا اس کابھائی ہی ہے۔ اس ‘ ایک دوسوال پوچھے کانام آئمہ اور بھائی کاعثمان تھا۔ دونوں کا تعلق پنجاب کے ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ انہیں تاوان کی طوراخان ‘ دو ہاتھوں سے گزر کر وہ بہن بھائی ‘ غرض سے ایک ماہ اور بیس دن پہلے اغوا کیا گیا تھا۔ ایک تک پہنچے تھے۔ آئمہ کوزیادہ معلومات نہیں تھیں۔
وہ قدرے مطمئن ہوگئی۔ میں نے سرگوشی ‘ میں کچھ دیر اس کے ساتھ تسلی تشفی کی باتیں کرتا رہا جو ایک بھائی کو پوچھنا زیب نہیں دیتی تھی مگر مجبوری تھی۔ اس نے بہت ‘ میں ایک بات پوچھی تین دن تک محفوظ تھی۔ ‘ مشکل سے جواب دیا تھا۔ جس کے بعد مجھے یہ تسلی ہوگئی کہ وہ ابھی دو
٭…٭…٭
اگلے دن دوپہر کے کھانے کے بعد میں اور ذیشان خان گلاس روم میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ آج رات بھی محفل رقص وسرود جمنے والی تھی لڑکیاں اس کی تیاری میںمشغول تھیں۔ شیشے کی دیواروں پر پردے پھیلنے سے پہلے میںنے دیکھاتھا کہ سامنے میدان میں کرسیاں ترتیب سے رکھی جارہی تھیں اور قدرے بلند اسٹیج کا ڈھانچہ بھی مکمل طور سے تیار تھا۔
آج ’’ اس نے بڑے نرم سے انداز میں کہا۔ ‘ ذیشان خان کی قدرے متورم آنکھیں بغور میرا جائزہ لے رہی تھیں ‘‘ رات تمہیں اس چار دیواری سے نکال دیا جائے گا۔
آئمہ اور ‘ میرالہجہ بظاہر خوشی کا رنگ لیے تھا۔ درحقیقت میں ‘‘ آپ کاشکر گزار ہوں۔ ‘ اس کے لیے میں اس کے بھائی کو یہاں چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا۔
‘‘ اگر تم اسے مہربانی اور احسان سمجھتے ہو تو جاتے ہوئے ایک چھوٹاسا کام کرکے یہ احسان اتارتے جائو۔ میرے وجدان نے مجھے اس دفعہ بھی دھوکا نہیں دیا تھا۔ مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ ذیشان خان کی
گہرائی نانپنا خاصامشکل ہے۔ محض ایک چہیتی رکھیل کی خواہش پر اپنے بھائی اور دوستوں کے مجرم کی مدد کرنا پہلے ہی میرے حلق سے نہیں اتر رہاتھا۔ میں نے کہا۔
‘‘ میں احسان فراموش نہیں ہوں۔ ‘ آپ حکم کریں ’’
‘‘ مجھے تم سے یہی امید تھی۔ ’’ اس کے باریک سرخ ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ ابھری۔
پر لعنت بھیجی۔ پتا نہیں وہ مجھ سے کیا کام لینا چاہتاتھا۔ اس نے ‘‘ امید ’’ میں نے دل ہی دل میں اس کی تمہاری شکل وشبہات کے سبب ‘ جہاں تک میں جانتا ہوں ’’ اپنی بھوری مونچھوں کو سہلایااور بولا۔ کوئی بھی تمہیں یقینی طور پر سرخ بھیڑیے کے قیدی کے طور پر شناخت نہیں کرسکتا۔ سرخ بھیڑیا جب آتے ہی تمہیں قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ وہاں سے تم خود ‘ تمہیں باندھ کر لایاتو تاریک رات تھی کوشناخت کرنے والے دونوں محافظوں کوہلاک کرکے بھاگ نکلے۔ تمہارے بارے میں جو چہ مگوئیاں میںنے سنی ہیں وہ قدوقامت کے حوالے سے ہیں۔ اس بات کے پیش نظر میرے ذہن میں ایک آئیڈیے نے جنم لیا تھا ‘‘ تمہیں یہاں سے نکالنے کے لیے۔
اس کی باریک بینی نے مجھے متاثر کیا۔ یہ بات تو میرے ذہن میں بھی نہیں تھی۔ اب آئی تو میں نے اپنے جنہوں نے مجھ پرحملہ کیا تھا۔ اس کے چہرے ‘ آپ ان ذوگالوں کو شایدبھول رہے ہیں ’’ اندیشے کااظہار کیا۔ پر قدرے تفکرابھرا۔
قبائلی لباس بھی تمہاری مدد ‘ اب تھوڑا بہت تو رسک لینا ہی پڑے گا۔ ان میں سے ایک تو ہلاک ہوگیاتھا ’’ ‘‘ میں تمہیں نکالنے میں کامیاب ہوجائوں گا۔ ‘ کرے گا۔ مجھے یقین ہے
جیسے آپ مناسب سمجھیں اور چھوٹے سے کام سے بھی مجھے آگاہ کردیں تو میں خود کو ذہنی طور پر ’’ پہلے منصوبے کے بارے میں جان ‘ بتاتاہوں ’’ اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔ ‘‘ تیار کرلوں گا۔ جوتمہیں یہاں لایا ‘ میرے ایک خاص ملازم شربت خان ‘تم ’’ لمحاتی وقفے کے بعد اس نے دوبارہ کہا۔ ’’لو۔ ‘‘ یہ تمہاری شناخت ہے۔ ‘ اس کے رشتے کے بھتیجے جو کوئی مناسب سانام سوچ لو ‘تھا
‘‘دلاور خان مناسب رہے گا۔’’ میںنے کہا۔
جہاں محفل موسیقی برپاہوگی ’’ اس نے دوبارہ اثبات میں سرہلا کر قبولیت کی سند دینے کے بعد کہا۔ اس نے شیشے کی دیوار پر پھیلا پردہ تھوڑا سا ‘‘ وہاں سے حویلی کاجنوبی دروازہ زیادہ دور نہیں ہے۔ جس کے قریب چار مسلح افراد موجود تھے۔ میںنے ‘ سرکایا۔ لکڑی کا وسیع وعریض گیٹ نمایاں ہوگیا لمحے بھر میں نوتعمیر اسٹیج اور گیٹ کا فاصلہ ناپ لیا۔ واقعی یہ فاصلہ بہت زیادہ نہیں تھا۔ذیشان
یہ واحد دروازہ ہے جس کے اوپر برجی نہیں ہے۔ یوں ’’ خان نے پردہ چھوڑا اور گفتگو کاسلسلہ آگے بڑھایا۔ ‘‘ اس قلعہ کی واحد کمزور جگہ۔ ‘سمجھو
میں پوری توجہ سے اسے سن رہاتھا۔ ً تقری ‘ دروازے سے نکلتے ہی تم ناک کی سیدھ میں دوڑو گے ’’ با دوسومیٹر کے فاصلے پر حکیم خان کا وہاں سے گھوڑا حاصل کرنا تمہارے لیے مسئلہ نہیں ہوگا۔ گھوڑا لے کراصطبل کی مغربی دیوار ‘اصطبل ہے سرخ بھیڑیا ‘ والا راستہ پکڑ لینا جو سیدھا تمہیں درگئی گھاٹی کی طرف لے جائے گا۔ جہاں سے تمہیں ‘‘ پکڑ کے لایا تھا۔
میری چھٹی حس نے خطرے کاالارم دینا شروع کردیاتھا۔
نے اپنی بے حد چمکیلی اور بھوری آنکھیں میری آنکھوں میں گاڑھیں اور قطعی بدلی ہوئی ‘ ذیشان خان جب محفل عروج پر ہوگی تو شربت خان آکر تمہیں لے جائے گا۔ اسٹیج کے بالکل قریب۔ ’’ آواز میں بولا۔ ‘‘ وہاں تم نے میرا چھوٹا سا کام کرنا ہے۔
میں نے بے ساختہ پوچھا۔ ‘‘؟… کیا ’’
تمہیں میرے بڑے بھائی ملک طورا خان کے سینے میں گولی اتارنی ’’ اس نے سرسراتے لہجے میںکہا۔ ‘‘ہے۔
ایک لحظے کے لیے مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیاتھا مگر میں دنیا کے اتنے رنگ دیکھ چکاتھا کہ مجھے بھائیوں کا صدیوں سے خون بہاتے آئے تھے۔ ‘ زمین اور اقتدار کی خاطر بھائی ‘زر ‘ زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ زن کمالے ’’ یہاں بھی یقینا کوئی ایسی محلاتی سازش چل رہی تھی۔ جس کے لیے آ گے بڑھانے کو ذیشان کو جیسا مہرہ میسر آگیاتھا۔ ‘‘جٹ
آ پ کا ‘ بس سمجھیں … اس کی وجہ پوچھنے کا میں کوئی حق نہیں رکھتا ’’ میںنے ٹھوس لہجے میںکہا۔ ‘‘ یہ کام ہوگیا۔
مسرت کے سبب اس کا سرخ چہرہ مزید گل نار ہوگیا۔ اس نے بڑی خاص نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے تم نے میرا دل جیت لیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت جلد ہماری دوبارہ ملاقات ہوگی اور بہت اچھے ’’کہا۔ ‘‘ ماحول میں ہوگی۔
‘‘ چھوٹا سا کام ختم کرنے کے بعد کی صورت حال پرتبادلہ خیال ہوجائے۔ ‘‘اب ذرا’’ میںنے کہا۔
اس سے مسرت چھپائے نہیں چھپ رہی ‘‘ بعد کی صورت حال میں ہم بادشاہ ہوں گے۔ فکر ہی نہ کرو! ’’ تھی۔اس نے مزید کہا۔
جس کافائدہ اٹھا کر تم جنوبی دروازے کی طرف ‘ تمہاری فائرنگ کے بعد لامحالہ افراتفری مچ جائے گی ’’ اسے بچا کر ‘ وہ میرا وفادار ہے ‘ ان میں سے ایک نے سبز پگڑی باندھی ہوگی ‘ دوڑنا۔ یہاں چار پہرے دار ہوگے محافظوں پرفائرنگ کرنا۔ میرا وفادار تمہارے باہر نکلنے کی راہ ہموار کرے گا۔ نکلتے ہوئے اسے بھی زخمی تمہارے تعاقب میں نکلنے والوں میں ’’ کرجانا۔ گلے کی پھولی ہوئی رگوں کے ساتھ اس نے مزید کہا۔ ‘‘ اکثریت میرے وفاداروں کی ہوگی۔ اس لیے تم باآسانی نکل جائوگے۔
اگراس منصوبے پر نیک نیتی سے عمل کیاجاتا تو قابل عمل تھا۔ مگر میرا وجدان کہہ رہاتھا کہ ذیشان میرے حوالے سے اتنے زیادہ افراد کو اعتماد میں لینے کا رسک نہیں لے سکتا۔ یقینا اس کامنصوبہ ‘خان وہی پرانا منصوبہ اور کلیہ جو صدر کنیڈی اور پاکستان کے پہلے وزی راعظم لیاقت علی خان …کچھ اور تھا کے اصل قاتلوں نے بنایااور آزمایا تھا کہ کاٹھ کے الو قاتل کوبھی موقع پر گولی مار دی جائے۔ اس کے بعد اصل قاتلوں تک پہنچنے کا ہرراستہ بند۔ بانس کے ساتھ بانسری کو بھی توڑ دیا جائے گا۔
میں نے لمحوں میں ذیشان خان کے متوازی منصوبے کے ساتھ اپنا منصوبہ بھی تشکیل دے لیااور ذیشان خان کے پرمغز منصوبے کو خوب سراہا جس کے سبب اس کے چہرے کی سرخی اور آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی۔
پھر ‘‘ تمہیں ایک پسٹل اور رائفل مہیا کردی جائے گی۔ ’’ میں نے ہتھیاروں کے بارے میں پوچھا تو وہ بولا۔ خاص استعمال کرنا اور رائفل کے برسٹ تمہارے بھاگ نکلنے کی راہ ہموار ‘‘پسٹل کا’’آنکھ دبا کر بولا۔ ‘‘ کریں گے۔
میں نے مطمئن انداز میں سرہلایا۔
تمہیں اسٹیج کے خاص حصے تک رسائی ‘ میں ’’ اس نے سادہ پانی کاگلاس حلق میں انڈیل کرمزید کہا۔ کے لیے ایک خاص ٹپ بھی دے ہی دوں۔
جسم میں سنسنی کی دھیمی سی لہر سے سر اٹھایا۔ یہی تو میں چاہتاتھا۔
میرے ‘ رقص کے ساتھ ساتھ شراب کا بھی دور چل رہاہوگا۔ اس حویلی کامحافظ انچارج سالار خان ’’ وہ بولا۔ اس تمہید کے ساتھ ہی اس کے لہجے میں سانپ بھی زہر گھولنے لگے ‘‘ بھائی کا بے حد خاص بندہ ہے۔ تھے۔ یقینا یہ زہر بھائی اور سالار خان کے لیے تھا۔
سالار خان خود کو بڑا لڑاکا سمجھتا ہے اور کسی حد تک یہ درست بھی ہے۔ شراب کے نشے میں وہ ’’ ہمیشہ قریب موجود عام لوگوں کو دعوت مبارزت دیتا ہے اور ہم قبائل میں یہ دعوت قبول نہ کرنا بے حد ‘‘ امید ہے بات تمہاری سمجھ میں آگئی ہوگی۔ … شرمندگی اور نامردی کی بات سمجھی جاتی ہے
سالار خان کی دعوت مبارزت قبول کرکے اسٹیج کے قریب ہونا تھا۔ ‘ میں نے اثبات میں سرہلایا۔ مجھے تصور کے پردے پر وہ کانٹوں جیسی سیاہ مونچھوں اور سرخ چہرے والا قوی ہیکل سالار خان ابھرا جس کا کروایا تھا۔ ‘‘ دیدار ’’آتے ہوئے شربت خان نے
سنسنی کی ایک اور اونچی لہر اٹھی تھی اور فصیل جاں سے آٹکرائی تھی۔
سب کچھ طے ہونے کے بعد ذیشان خان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
میں اندھیرے گلاس روم میں تنہا بیٹھا تھا۔ شیشے کی دیواروں پر پڑے پردے ‘ رات آٹھ بجے کا وقت تھا سمٹے ہوئے تھے اورسامنے والے میدان کامنظر نمایاں تھا جو ہیوی جنریٹر کے سبب بقعہ نور بنا ہوا تھا۔
اونچے اسٹیج پر بالائی کناروں کے ساتھ نیم دائرے میں بیش قیمت صوفے لگے ہوئے تھے۔ جس پر بہت کی صورتیں تو نمایاں نہیں ‘‘خاص مہمانوں’’ خاص مہمان ب راجمان تھے۔ فاصلہ زیادہ ہونے کے سبب ان تھیںمگر ایک بالکل دبلے پتلے پستہ قد شخص پر باکی موشو اور ایک دودسرے طویل قامت اور اطراف کا گمان کیا جاسکتاتھا۔ اس کے ‘‘ سرخ بھیڑیے ’’ میں پھیلے لمبے گھنے بالکل سرخ بالوں والے شخص پر لیل ‘ علاوہ ذیشان خان کو بھی میں پہچانتاتھا ی وارثی بھی وہیں تھی۔ اسٹیج کے بالکل سامنے قیمتی صوفے اور نشستیں تھیں۔ جہاں قدرے کم اہمیت کے حامل مہمان بیٹھے تھے۔ ان کے پیچھے عام نشستیں عام لوگوں کے لیے تھیں۔ جو کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔
اسٹیج پر اس وقت ایک بھاری کولہوں والی لڑکی چست لباس میں س ک ی پشتو گانے پرمحو رقص ً غالبا تھی جس کے سبب پٹھان قربان ہوئے جارہے تھے۔ اس پربڑے بڑے نوٹوں کی بارش ہو رہی تھی۔ لیل ی وارثی کے نوعمر کارندے بڑی تیزی سے یہ نوٹ سمیٹ رہے تھے۔ وہ بیچاری بیش قیمت صوفوں کے عقب میں لیل ‘ میری نگاہیں حزن ویاس کی تصویر آئمہ پرپڑیں ی وارثی کے کارندوں کے درمیان تھی۔
پھر ایک بہت بڑے چہرے والے اپنے ہم ‘ تین دفعہ سرگھما کر اس کی طرف دیکھاتھا ‘ باکی موشو نے دو نشیں کیطرف جھک کر اس نے کوئی بات بھی کی تھی۔ یہ منظر میرے خون میں ابال لینے کے لیے کافی خون میری رگوں میں اچھلا ‘ تھا۔ اچانک بالکل اچانک خاص مہمانوں میں بیٹھے ایک شخص نے سرگھمایا
میری کائنات کا … اور پل بھر میں لاوے میں تبدیل ہوگیا۔ مجھے گمان ہوا کہ وہ شخص جعفر ایرانی تھا وہ شخص جس کے خون کی کشش مجھے پاتال کی گہرائیوں میں بھی کھینچ لے جاسکتی تھی۔ ‘قاتل
اس نے منہ پھیرلیامگر میرے خون کی تمام تر گردش سر کی طرف ہوچکی تھی۔ میری تمام تر حسیات آنکھوں میں سمٹ آئی تھیں۔ وہ ننانوے فیصد جعفرایرانی ہی تھا۔ فاصلہ تھوڑا ساکم ہوتاتو ایک فیصد کا شک بھی ختم ہوجاتا۔
سب کچھ میرے ذہن سے محو ہوتا … مجھے محسوس ہورہاتھا کہ میں خود پر سے کنٹرول کھو رہا ہوں سرخ آتشیں پردہ میری … اپنی محسن شیری اور خطرناک ارادوں والا ذیشان خان ‘ جارہاتھا۔ کم سن آئمہ آنکھوں کے آگے نمودار ہوچکاتھااوراس پر صرف ایک ہی شبیہہ نظر آرہی تھی اور وہ جعفر ایرانی کی تھی۔
میرے کانوں میں کرنل سلیم کی دوستانہ آواز ‘ اس سے پہلے کہ میں مکمل طور سے کنٹرول کھوبیٹھتا گونجی۔
جب بھی تم پر ایسی کیفیت طاری ہوتومحض چند لحظوں کے لیے آنکھیں بند کرکے گہرے گہرے ‘ یار ’’ سانس لواور سوچو کہ اس پاک سر زمین کو بھی تم جیسے نوجوانوں کی جتنی آج ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ بے شک اپنامقصد حاصل کرو مگر دماغ کی حکمرانی قائم رہے۔
میں نے اس ہدایت پر عمل کیا۔ دل اور وجود میں دوڑتی آتشیں لہروں نے شدیدمزاحمت کی مگرمیں دماغ کی حکمرانی بحال کرنے میں کامیاب ہوہی گیا۔
بے شک جعفر ایرانی کے سرخ بھیڑیے کے ڈیرے پر پائے جانے کی اطلاع ملی تھی مگر سامنے موجود شخص کے بارے میں سوفیصد کنفرم نہیں تھا کہ وہ جعفر ایرانی ہی ہے۔
اگر وہ جعفر ایرانی ہی تھا ‘ میرے پاس موقع تھا کہ قریب سے جائزہ لے سکوں ‘ شربت خان آنے ہی والا تھا تو دنیا کی کوئی طاقت آج مجھے اس کاخونی نرخرہ چیرنے سے نہیں روک سکتی تھی۔
کرنل سلیم کی خفیہ ایجنسی پوری دنیا میں اپنے فرائض انجام د ینے کے ساتھ ساتھ جعفر ایرانی کی بھی تلاش میں تھی۔ ان قبائلی علاقوں سے پہلے اسے امریکہ کے مشہور زمانہ ٹوئنز ٹائون میں دیکھا گیاتھا۔ یہاں ہر سال جڑواں افراد کامیلہ لگتاتھااور پوری دنیا سے سیاح اس میلے کودیکھنے آتے تھے۔ جعفر اس کے سبب پوری دنیا ‘ ایرانی زمانہ طالب علمی سے ہی تعلیم ادھوری چھوڑ کر جس راہ پر چل نکلاتھا اس کی جولان گاہ تھی۔ وہ کہیں بھی دیکھا جاسکتاتھا۔
اس کمبخت کا فطری رجحان اسے خون بہانے کی طرف لے گیا تھا۔ جسے اس نے پیشہ بنالیاتھا۔ وہ اب کے مراحل طے کررہاتھا۔‘ ترقی ’ کرائے کا قاتل تھااور بڑی تیزی سے
کی خاک چھانی تھی مگر وہ گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح ‘‘ٹوئنز ٹائون’’ میںنے پورے تئیس دن غائب ہوچکاتھا۔ مگر وہاں اس کی موجودگی کی بڑی ٹھوس شہادت ملی تھی۔ دو جڑواں بہنوں کا زیادتی کے بعد گلے کاٹ کر قتل۔
دماغ کا ‘ یہ اسی درندے کا مخصوص انداز تھا۔ یہ سوچتے ہوئے میری آنکھیں جلنے لگیں … میں جانتاتھا کنٹرول کمزور پڑنے لگا۔ میری کائنات نے بھی تو اپنی عصمت کو اس درندے سے بچانے کے لیے جان دی تھی اور خود کو شارک مچھلیوں سے بھرے سمندر کے حوالے کردیاتھا۔
میںنے شیشے کی دیوار کی طرف سے رخ پھیر لیا۔ کرب واذیت کی ناقابل بیان کیفیت نے مجھے آگھیرا تھا۔جسم بھی زخموں سے چور تھا مگر یہ اذیت تو اس سے لاکھوں گنا زیادہ تھی۔
شربت خان کی آمد نے مجھے اس کیفیت سے نکلنے میں قدرے مدد دی۔ اس کے چہرے پرواضح طور پر گھبراہٹ اور سراسیمگی نظر آرہی تھی۔ میری طرح بساط پر اس کی حیثیت بھی محض ایک مہرے کی کرہی رکھا ہوگا۔ ‘‘بندوبست’’ تھی۔ اس کے لیے بھی ذیشان خان نے کوئی نہ کوئی
کے میرے حوالے کی۔ رائفل تو عام سی تھی مگر ‘ شربت خان نے ایک شاندار بیریٹا پسٹل اور چائنامیڈ اے ماسوائے نال کے مکمل طور سے بے حد کم وزن فائبر سے بنا بیریٹا بہت خاص تھا۔کیوں نہ ہوتا اس کااستعمال بھی تو بے حد خاص تھا۔
میں پہلے ہی سے قبائلی لباس میں تھا۔ پگڑی کا پلو میں نے چہرے کو چھپانے کے لیے استعمال کیا۔ جس ‘ رات کوخاصی سردی ہوجاتی تھی ‘ شربت خان نے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ پلو کو درست کیا کے سبب اکثر قبائلی سرد ہوا کی کاٹ سے بچنے کے لیے پگڑی کا یہ استعمال کرتے تھے۔
کچھ ہی دیر میں ہم باہر نکلنے کے لیے تیار تھے۔ سنسنی دوبارہ سے میرے وجود میں اتر آئی تھی۔ میںنے تمہاری گھبراہٹ بے حد واضح ہے۔ وقت سے پہلے مروا نہ دینا۔ ‘ شربت خان سے پشتو میں کہا
‘‘ کچھ نہیں ہوتا۔ ‘تو نکل’’ اس نے بے حد روکھے انداز میں کہا۔
‘ ہم دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے سیڑھیاں اترے اور قدیم حویلی کے اس جدید پورشن سے باہر نکل آئے میری تمام تر حسیات بیدار ہوچکی تھیں۔ قید خانے کے محافظ سے حاصل کیا ہوا نائن ایم ایم میں نے وہیں میرے شانے سے جھول رہی تھی اور بیریٹا ایک لمحے سے بھی کم وقت میں ۴۷‘کے ‘ چھوڑ دیا تھا۔ اے میرے ہاتھ میں آسکتاتھا۔ اس کے علاوہ آستین میں چھپا خنجر جاں نثار ساتھی کی مانند تقویت کاباعث تھا۔
تین ‘ آج ہر طرف روشنی کے قمقمے نظر آرہے تھے۔ موسیقی کی مدہم آواز ہماری رہنمائی کررہی تھی۔ دو مسلح محافظوں سے ہمارا سامنا بھی ہوامگر کسی نے تعرض نہیں کیا۔
موسیقی کی آواز کے ساتھ ساتھ میرے خون کی گردش بھی تیز ہوتی جارہی تھی۔ میرا سامنا ممکنہ طور اسے سامنے دیکھ کر میں خود پرقابو کیسے رکھ ‘ سے جعفر ایرانی سے ہونے جارہاتھا۔ اور میں سوچ رہاتھا پائوں گا۔
کچھ ہی دیر میں ہم اس میدان میں تھے جہاں شیطان رفتہ رفتہ اپنے جامے سے باہر ہوتا جارہاتھا۔ میرے تیرا کام شروع ہونے جارہا ہے ۔ ’’ ہمقدم چلتے ہوئے شربت خان نے عجیب پھٹی سی خوفزدہ آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے رخ تبدیل کیااور طورا خان کی نشاندہی کرکے مجھ ‘‘واسطہ ختم۔‘ میرا ‘ اب تیرا سے دور ہوتا چلاگیا۔
میری نگاہیں اسٹیج کی طرف جمی تھیں۔شیری اسٹیج پر محو رقص تھی اور وہ لڑکی جس نے میری مرہم اسٹیج سے نیچے قدرے کم حیثیت مہمانوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔ دونوں پر نوٹوں کی ‘ پٹی کی تھی بارش ہو رہی تھی۔
پھرمیں نے محافظوں کا نیم دائرہ دیکھا۔ جنہوںنے اسٹیج کوماسوائے سامنے کے گھیررکھا تھا۔ اسٹیج پر پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا۔
میں نے اپنا رخ اسٹیج کے عین سامنے آخر میں بیٹھے عام لوگوں کی طرف کرلیا۔ یہاں اور بھی کئی افراد کھڑے ہوئے تھے۔ حد نظر بہتر ہوتے ہی میرے وجود میں سلگتی چنگاریوں پر جیسے کسی نے پٹرول چھڑک دیا۔ بے شک وہ جعفر ایرانی ہی تھا۔ وہ کسی بات پرمسکرایاتھااس کے خوبصورت دانت چمکے تھے۔ ایک دفعہ میرے زوردار گھونسے کے سبب اس کے دائیں طرف کے لمبے دانت کا کونا ٹوٹ گیاتھا۔ پتا نہیں کیوں اس ٹوٹے دانت نے اس کی مسکراہٹ کو گہنانے کی بجائے اور چار چاند لگادیئے تھے۔
اتنی دور سے میں وہ ٹوٹا ہوا دانت تو نہیں دیکھ سکا ورنہ میرے وجود میں بھڑکتی آگ پر پانی کے چند چھینٹے ہی پڑجاتے۔
میں نے ایک دفعہ پھر کرنل سلیم کی ہدایت پر عمل کیااور خود پر قابو رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ جعفر ایرانی اب کھڑے ہوکر شیری پرنوٹ نچھاور کررہاتھااور وہ بجلی کی مانند لپک جھپک رہی تھی۔
جن کے چہرے ‘ میں عام لوگوں کے ساتھ ہی دری پرنیچے بیٹھ گیا۔ میرے قریب نوجوان لڑکے بیٹھے تھے سرخ اور نگاہوں کامرکز صرف اور صرف ناچتی لڑکیاں تھیں۔ لڑکیوں پرفحش تبصروں کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان واڈ کابھی چل رہی تھی۔
میں نے دانستہ جعفر ایرانی سے نگاہیں ہٹائیں اور باکی ‘ مجھ پرمحض چند اچٹتی ہوئی نظریں پڑی تھیں جوبڑی شان سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ‘ موشو پرنظر ڈالی وہ بے حد دبلا پتلا مگر بالکل سیدھی کمر کاتھا بیٹھا تھا۔ دو عدد زوگالے اس کے عقب میں بالکل چوکس کھڑے تھے۔ اس کے ساتھ ہی بہت بڑے چہرے والا سردارطورا خان بیٹھا ہوا تھا۔ شراب وہاں بھی چل رہی تھی۔ لیل ی وارثی کے چہرے پر نوٹوں کی بارش کے سبب مسرت کی بارش ہو رہی تھی۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دو جام بنا کر ایک نقرئی ٹرے میں سجائے اور آئمہ سے کچھ کہا۔ وہ بیچاری لاچاری کی تصویر نظر آنے لگی ل یل ً ۔ غالبا ی وارثی نے اسے اسے اپنے سامنے دیکھ کرباکی ‘ گھڑکا تووہ نقرئی ٹرے اٹھائے بادل ناخواستہ باکی موشو کی طرف بڑھی موشو کے چہرے پر نرم پھوار سی برسنے لگی۔ اپنے خاص مہمان کوخوش دیکھ کر طورا خان کا بڑا سا چہرہ بھی چمکنے لگا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر میرے تن بدن میں جیسے آگ سی لگ گئی تھی۔ باکی موشو نے ایک جام اٹھا لیا۔ سردار طورا خان نے دوسرا جام اٹھا کراپنے قریب بیٹھے سالار خان کوتھمادیا۔ جسے سالار خان نے بڑے احترام سے سرجھکا کر تھامااور حلق میں انڈیل لیا۔ سالار خان کیساتھ ہی سرخ بھیڑیا بیٹھا ہوا تھا۔
آئمہ واپس پلٹ گئی۔ باکی موشو کی پرتپش نظریں آخر تک اس پرجمی رہی تھیں۔
نہ چاہنے کے باوجود میری نگاہ دوبارہ جعفر ایرانی پرجاٹکی تھی۔ میں اس کی طرف سے بے حد محتاط مجھے ‘ بھی تھا۔ بلاشبہ اس کی نگاہ شکرے کی تھی۔ محض جسم کی ایک شناسا جنبش سے ہی وہ پہچان سکتاتھا۔
پہلے وہ کسرتی جسم کا ‘ مجھے اس میں کوئی تبدیلی سی محسوس ہوئی ‘ اس کاجائزہ لیا ‘ میں نے بغور حرکات وسکنات میں ایک پرہیبت تاثر تھا۔ اسے ‘ کندھے اور گردن بے پناہ مضبوطی کاپتا دیتے تھے ‘تھا دیکھنے والے بغیر کسی وجہ کے ہی اس سے مرعوب ہوجاتے تھے۔ مگر اب اس کے کندھے ڈھلکے ہوئے تھے۔ اکڑی ہوئی تنومند گردن پتلی سی ہوگئی تھی اور جسم بھی کچھ خاص نظر نہیں آرہا تھا۔
مگر اس کے چہرے پر کسی بیماری کا ذرا ‘ یوں محسوس ہو رہاتھا جیسے وہ طویل عرصے تک بیمار رہا ہو ساشائبہ بھی نہیں تھا۔
محض ایک لمحے کے لیے مجھے شک سا ہوا کہ وہ جعفرایرانی نہیں ہے۔ مگر بلاشبہ وہ جعفر ایرانی ہی تھا محض رفتہ رفتہ اپنے عروج کی طرف گامزن تھی۔ شراب پانی کی طرح پی جارہی تھی۔ میں نے محافظوں کو بھی دیکھا کہ وہ بھی ایک بہت بڑے واٹر کولر سے گلاس بھر کر چپکے سے چڑھالیتے تھے۔
میری نظریں سالار خان پر تھیں ۔ اس کا سرخ چہرہ تمتما رہاتھا اوراس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا ذیشان خان بظاہر اطمینان سے بیٹھا شراب کی چسکیاں لے رہاتھا مگر اس کے پائوں کی دھیمی سی اضطرابی حرکت تھی اس کے اندرونی اضطراب اور بے چینی کامیں اندازہ لگا سکتاتھا۔
ناچنے والی لڑکیاں ایک گانے کے بعد دم لینے کے لیے کچھ دیر رکیں تو سالار خان نے طور اخان کا گھٹنا چھو کر کوئی بات کی۔ جس کے جواب میں طورا خان نے اجازت دینے کے انداز میں اثبات میں سرہلایا۔ میں سیدھا ہو بیٹھا۔ جس گھڑی کاانتظار تھا وہ آنے ہی والی تھی۔ ذیشان خان نے بھی بے چینی سے پہلو بدلاتھا۔
اس کے کندھے پر ۱۲… سالار خان بدمست ہاتھی کی طرح جھومتا ہوا اسٹیج کے بالائی کنارے پرآیا۔ ایم سامنے بیٹھے لوگوں میں سے ’’ کسی کھلونے کی مانند جھول رہی تھی ۔ وہ رک کر اونچی آواز میں بولا۔ ‘‘ سے کوئی ایسا شیر کابچہ ہے جو مجھے اٹھا کرنیچے پٹخ سکے؟
پل بھر میں ماحول پر سناٹا چھاگیا۔ میںنے اپنے قریب بیٹھے لڑکوں کے چہرے پر غصے کی سرخی اور بے بسی کی سیاہی کا امتزاج دیکھا۔سالار خان کا چیلنج ان کے خون میں کھولن پیدا کررہاتھا مگر اس جیسے لحیم شحیم شہ زور اور لڑائی کے فن میں ماہر شخص کو دوبدو مقابلے میں ہرانا ان کے لیے ممکن نہیں شراب نوشی کے باوجود اس کی آواز میں لکنت نہیں تھی بلکہ ‘ تھا۔ سالار خان کی لاف زنی جاری تھی سولہ ہاتھ میں پکڑ کر لہرائی … اعتماد وغرور تھا ۔ اس نے قیمتی ایم
مجھے اٹھا کرپٹخ دے یہ رائفل اس کاانعام ہے۔ اگر میں نے اسے پٹخ دیا تو پھراس کی پیٹھ ‘ جو شیر کابچہ ’’ ‘‘ ہے کوئی یہاں۔ … پر سواری کرتا ہوا اپنے سردار ملک طورا خان کے قدموں میں لے جائوں گا
میں قبائلی رسم ورواج سے کسی حد تک آگاہ تھا۔ پیٹھ پر سواری کروانے والے کی آئندہ نسلیں بھی تضحیک کانشانہ بنتی رہتی تھیں اور چیلنج قبول نہ کرنا بھی بے حد تذلیل کاباعث تھا۔ اگر کوئی بھی چیلنج قبول نہ کرتا تو یہاں موجود مردوں کو کسی نہ کسی موقع پر طعنہ ضرور سننا پڑتا۔ میں نے دیکھا کہ ذیشان کی نظریں مجھے ڈھونڈ رہی تھیں۔ اس کااضطراب نمایاں ہوگیا تھا۔ اچانک ہی میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ بلند کردیا۔
سبھی نگاہیں میری طرف اٹھیں۔ پل بھر کوخاموشی رہی پھر جیسے داد وتحسین کاایک دریا میرے لیے بے پناہ تالیوں اور توصیفی جملوں کاشور مجھے دھکیل کر اسٹیج کے سامنے لے گیا۔ ‘بہہ اٹھا
میرا نصف سے زیادہ چہرہ تو پگڑی کے پلو میں چھپا تھا۔ اپنی چال کو میں نے مصنوعی لنگڑاہٹ کے مجھے خطرہ تھا تو صرف جعفرایرانی کی طرف سے وہی مجھے ‘ ذریعے تبدیل کرنے کی کامیاب کوشش کی پہچان سکتاتھا۔ مگرمیں یہ دیکھ کر قدرے حیران ہوا کہ اس نے محض سرسری سی نظر مجھ پرڈالی تھی
دیکھ کر … اس کے چہرے اور آنکھوں میں وہ مخصوص چمک بھی نہیں ابھری تھی جو میدان کارزار کو ابھرنی چاہیے تھی۔ا س کے حوالے سے میں دوبارہ الجھن کاشکار ہوگیا۔ اس سے زیادہ مجھے سرخ بھیڑیے میرے قدوقامت کا الجھن آمیز نظروں سے جائزہ لے رہاتھا۔ دیگر ‘ کی طرف سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ وہ شرکا کے چہروں پر البتہ صرف دلچسپی تھی۔ ذیشان خان کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔
اوئے سالار خان کی جان! تجھ سے تو ’’ میری لنگڑاہٹ دیکھ کر سالار خان نے تضحیک آمیز انداز میں کہا۔ ‘‘ مجھے کیا اٹھا کرپٹخے گا۔ ‘ اپنی ٹانگیں نہیں اٹھائی جارہیں
اس کے حواریوں نے زور دار قہقہے لگائے۔ سردار طورا خان کے ہونٹوں پربھی مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔ میرے لیے خاموش رہنا ہی بہتر تھا۔ میرا لہجہ میرے غیر مقامی ہونے کی چغلی کھاتاتھا۔ میںنے اس کی تین بھٹیکیں لگائیں۔ ‘ ہرزہ سرائی کے جواب میں دو
میرے انداز کو عام لوگوں نے بہت پسند کیا۔ درجنوں ہاتھوں نے میرے لیے تالیاں بجائیں۔ میںنے کندھے بالکل ‘‘ کون سے قبیلے سے ہے شیر جوان؟ ’’ سے رائفل اتار کر قریب کھڑے ایک نوجوان کو تھمادی۔ وہ بولا۔ وہ نوجوان حیرت ‘‘ میں پنجاب کا جٹ ہوں۔ ’’ اچانک ہی ایک عجیب سی ترنگ نے مجھے آلپکا۔ میںنے کہا۔ کی تصویر بن گیا۔
اسٹیج کے بالکل سامنے بیٹھے کم حیثیت مہمانوں نے اپنی نشستیں خالی کردی تھیں۔ جنہیں ملازموں وغیرہ نے بڑی تیزی کے ساتھ وہاں سے اٹھالیاتھا۔ سالار خان بھی اپنی رائفل ایک ساتھی کوپکڑوا کر اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ وہ گینڈے جیسی جسامت کا چوڑا چکلا شخص تھا۔ میری نظر اس کی کلائیوں پرگئی۔ میں نے زندگی میں اتنی مضبوط اور چوڑی کلائیاں نہیں دیکھی تھیں۔ وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ میرے مقابل آگیا۔
‘‘ پسندیدہ ’’ میںنے کن انکھیوں سے جعفرایرانی کی طرف دیکھا۔ مجھے یہ بات مزید حیران کرگئی کہ اپنے کھیل کی بجائے وہ ایک ڈانسر لڑکی کی طرف متوجہ تھا۔ مجھے لیل ی وارثی اورشیری کے چہروں پر ہراس نظر آیا۔ انہوںنے مجھے پہچان لیا تھا۔ میری یہاں موجودگی ان کے لیے بے حد حیرت وپریشانی کاباعث تھی۔ پھر شیری ذیشان کی طرف جھکی م یرے ً غالبا بارے میں استفسار کرنے لگی تھی۔
‘‘ اوئے کم نصیب! چہرہ کھول اور اپنا قبیلہ بتا۔ ’’ سالار خان نے میری آنکھوں میں آنکھیں گاڑھیں۔
بیدار ہوگیا۔ میں اسٹیج کے بالکل قریب تھااور محض چند لحظوں میں ‘ کمالا جٹ ’ ہلکی ہلکی انگڑائیاں لیتا چہرہ دیکھے گا تو ہوش اڑ جائیں گے۔ آج پنجاب کا ’’ اپنے ٹارگٹ تک پہنچ سکتاتھا۔ اس لیے میں نے کہا۔ ‘‘ ایک جٹ تیری پیٹھ پرسواری کرے گا۔
میرے لہجے پر غور نہ ‘ سمجھنے کی صلاحیت محدود کردی تھی۔ اس لیے وہ ‘ شراب نے اس کے سوچنے کرسکا۔ میرے جملے نے اسے بھڑکادیاتھا ہ ی اس کے گلے کی رگیں پھول گئیں اور وہ گالی کے ساتھ ً ۔ فورا مجھ پ رجھپٹا۔ اس کادس پونڈ سے بھی وزنی گھونسہ میرے چہرے کی طرف آیا۔ میںنے جھکائی دی اور ہاتھ کی زور دار ضرب اس کی بغل کے نیچے مارنے میں کامیاب ہوگیا۔
اسٹیج کی طرف ‘ عام لوگوں کی جانب سے میری حوصلہ افزائی میں تالیاں اور للکارے گونجے ‘ وہ لڑکھڑایا وہ باکی موشو تھا۔ … میں نے دیکھا ‘ سے بھی تالی کی آواز آئی
مگر میرا ‘ میں چاہتاتو سالار خان کی لمحاتی لڑکھڑاہٹ سے فائدہ اٹھا کر اسے یادگار ضرب لگا سکتاتھا مقصد کچھ اور تھا۔ میںنے اسٹیج کی طرف پشت کرلی اور اسٹیج سے فاصلہ گھٹالیا۔
تذلیل کے احساس سے اس کاچہرہ مسخ ہو رہاتھا ۔ انداز ‘ دوسری دفعہ سالار خان ڈکراتا ہوا مجھ پر جھپٹا ‘ ایسا تھا جیسے اپنے بے پناہ وزن سے مجھے پیس دے گا۔ قریب آکر اس نے ٹانگوں کی طرف جھپٹا مارا اس کے ‘ یہاں اس کی مہارت نظر آئی۔ ٹانگوں کامحض اس نے جھانسہ دیاتھا ‘ میں بے اختیار پیچھے ہوا سر کی طوفانی ٹکر میرے سینے پرلگی اور میں لڑکھڑا کر اسٹیج کی تین اسٹیپ پرمشتمل سیڑھیوں سے جاٹکرایا۔
یہاں سے اپنے ہدف پر جھپٹنے کامیرے پاس سنہرا موقع تھا مگر سالار خان کی ضرب نے دماغ میں چنگاریاں سلگادی تھیں۔ اس کی اگلی ضرب میں نے ہاتھوں پرروکی اور ساتھ ہی مجھے موقع بھی میسر آگیا۔ ضرب بلاک کرنے کے ساتھ ہی میں نے اس کاہاتھی کی سونڈ سے مشابہ بازو تھام کر ایک جھٹکے سے مروڑ دیا۔ تکلیف سے وہ کراہا۔ میں نے اس کابازو مروڑتے ہوئے اسٹیج کی بالائی سیڑھی پرقدم رکھااور ہوا میں اچھل کر کہنی کی مخصوص ضرب اس کے سر پرماری۔ یہ میری پسندیدہ اور آزمودہ ضرب تھی۔
مجھے معلوم تھا کہ کچھ دیر تک اس کے حواس نہیں لوٹیں گے۔ میں ‘ سالار خان گھٹنوں کے بل گرا مگر یہ میرا مقصد نہیں تھا۔ ‘ باآسانی اسے سر سے بلند کرکے پٹخ سکتاتھا
ایک لمحے سے بھی کم وقت میں میری نظروں نے اسٹیج کااحاطہ کرلیاتھا۔ جعفرایرانی بڑی غیر دلچسپی البتہ سرخ ‘ اور اجنبیت سے میری طرف دیکھ رہاتھا۔ حالانکہ وہ میرے پسندیدہ دائو سے بخوبی واقف تھا بھیڑیے کی آنکھوں میں تحیر اور قدرے شناسائی کاتاثر تھا۔ وہ ایک دفعہ مجھے یہ ضرب لگاتا دیکھ
سردار طورا خان وغیرہ کے چہرے دھواں تھے۔ باکی موشو البتہ تحسین آمیز نظروں سے مجھے ‘چکاتھا دیکھ رہاتھا۔ ذیشان خان کا ہیجان نقطہ عروج پر تھا۔
عام تماشائیوں نے سالار خان کوگرتا دیکھ کر خوشی کے عالم میں بے ہنگم شور مچادیاتھا۔
اگلے ہی پل میں نہ صرف اسٹیج پر تھابلکہ بیریٹا بھی میرے ہاتھ میں آچکاتھا۔ میری ‘ میںنے جست بھری مگر اب اس سے بھی ‘ تیز ترین حرکت نے جیسے سب کوہپناٹائزکردیاتھا۔ پہلے میرا ٹارگٹ سرخ بھیڑیا تھا بہتر ٹارگٹ سامنے تھا۔
اس کی آنکھوں میں ‘ اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر جعفر ایرانی اضطرابی کیفیت میں کھڑا ہوگیا تھا۔ مجھے خوف کی پرچھائیاں نظر آئیں۔
اسی پل باکی موشو کے عقب میں چوکس کھڑے زوگالوں میں سے ایک کے ہاتھ میں مجھے نیلگوں سے اس کے ‘ ہتھیار کی جھلک نظر آئی۔ میں نے بے دریغ فائر کیا۔ وہ چموناسینے پر گولی کھا کر الٹ کر گرا لڑکیاں ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی بھاگیں۔ ‘ وہ ٹوٹ گیا ‘ ساتھ ہی لمحے بھر کے لیے جوسناٹا قائم ہوا تھا ایک دو خاص مہمان بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔ اگلے ہی پل جعفر ایرانی کومیں نے عقب سے جکڑ لیاتھا اور بیریٹا اس کے سر سے لگا ہواتھا۔
میرے لہجے میں وہ مخصوص وحشت بیدار ‘‘ خبردار! کسی نے غلط حرکت کی تو اس کی لاش گرادوں گا۔ ’’ ہوچکی تھی جو مجھے بڑا اعتماد عطا کرتی تھی۔
جعفر میرے بازوئوں میں مچلا۔ مگر میرا بازو بڑے خاص طریقے سے اس کی گردن سے لپٹا تھا۔ وہ زیادہ زور آزمائی کرتاتو گردن ٹوٹ سکتی تھی۔
اسٹیج پر بیٹھے خاص مہمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر حاضرین بھی ششدر رہ گئے تھے۔ البتہ کئی محافظوں کی رائفلیں میری طرف سیدھی ہوچکی تھیں مگر میرے سامنے ان کے سردار کاخاص مہمان تھا۔
سرخ بھیڑیے نے آخری لمحے میںمجھ پر جھپٹنے کی کوشش کی تھی مگر محض ایک جھٹکا ہی لے کررہ گیاتھا اور اب بڑی کینہ توز نظروں سے مجھے گھور رہاتھا۔
ذیشان خان کا چہرہ البتہ دھواں ہو رہا تھا۔ صرف باکی موشو تھا جو نہ صرف بڑے اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا بلکہ اس کی نظریں مسلسل میرا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔
سالار خان اٹھ کھڑا ہوا تھا اور مست شرابی کی مانند جھوم رہاتھا۔
آواز کے ‘‘ اس کے سر میں گولی اتار دوں گا۔ ‘ ورنہ میں ‘ ہتھیار پھینک دیں ‘ طورا خان! اپنے بندوں کو کہو ’’ ساتھ میرے لہجے کی وحشت بھی ہرسو پھیل رہی تھی۔ ساتھ ہی میں اپنے گردوپیش کے ساتھ ساتھ میرے دائو میں پھنسے ہونے کے باوجود وہ کم بخت کوئی ‘ جعفر کی طرف سے بھی بے حد محتاط تھا دکھا سکتاتھا۔ خاص طور پر وہ اپنے گھٹنے کا بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتاتھا۔ فی الوقت ‘‘ہاتھ’’ گردن پر پڑے دبائو کی وجہ سے وہ آواز نکالنے کے قابل بھی نہیں تھااور اب بالکل ساکت بھی ہوگیاتھا۔
طورا ھ اپنے کارندوں کو ہت یار جھکانے کے لیے کہااس کے چہرے پرطیش کے ساتھ ساتھ حیرانی ً خان نے فورا کون ہو تم؟ اور کیوں درد ’’ بھی نظر آرہی تھی۔ وہ ایک قدم میری طرف آیااور اپنے طیش کو دباتے ہوئے بولا۔ ‘‘ناک موت چاہتے ہو؟
‘‘ زندگی موت کے فیصلے خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ میرے بارے میں تم جلد ہی جان جائوگے۔ ’’
ساتھ ہی ‘‘ تم نورجان کامفرور قیدی ہے نا؟ ‘ اوئے خدائی خوار ’’ میرے غیر مقامی لہجے نے اسے چونکادیا۔ دبا ہوا طیش ابھرنے لگا۔
بڑا ہتھیار عام سی بات تھی اور ہتھیار کی ‘ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ یہاں ہر فرد کے پاس چھوٹا جعفر کو گھسیٹتا ہوا حویلی کی دیوار کے ‘ موجودگی کسی کو بھی مہم جوئی پرابھار سکتی تھی۔ میں پاس لے گیااور اپنی پشت دیوار کے ساتھ لگالی۔ اب میں خاصی حد تک بہتر پوزیشن میں تھا۔
طورا خان کے کارندے بڑی تیزی سے عام لوگوں کو وہاں سے ہٹا رہے تھے۔ یہ بات پھیل گئی تھی کہ میں ہی ریچھ اورزوگالے کوہلاک کیاتھابلکہ ابھی ابھی ایک اور ‘جس نے نہ صرف دو محافطوں ‘ وہ مفرور قیدی ہوں زوگالے کوبھی ہلاک کرچکاہوں۔
نے میری اچھی خاصی شناخت بنادی تھی۔ جعفر کسمسایاتو میںنے اس کے کان کے ‘‘کارناموں’’ میرے خدا کومانتا ہے تو اسے یاد کرلے۔ تجھے آج میں زندہ ‘ جعفر تونے تو مجھے پہچان ہی لیا ہوگا ’’پاس کہا۔ میرے لہجے میں جو کچھ تھا وہ اس کا پتہ پانی کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس کے ‘‘ چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ مگر میری ‘ جسم میں واضح طو رپر کپکپاہٹ ابھری۔ میں نے محسوس کیا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہے گرفت کے سبب اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی اور میں کسی صورت گرفت نرم نہیں کرسکتاتھا۔
اور ان کے عقب میں ‘ سرخ بھیڑیا اور ذیشان خان میرے سامنے موجود تھے ‘ باکی موشو ‘ سردار طورا خان سالار خان جو اب کافی حد تک خود کو سنبھال چکاتھا۔ سبھی کی آنکھوں میں میرے لیے بجلیاں کڑک رہی اسے اندازہ ہوگیا تھا ‘ اس کابس نہیں چل رہاتھا کہ مجھے کچا چبا جائے … تھیں۔ خاص طور پر ذیشان خان کا۔ ‘‘اس ’’ استعمال کیا تھا اور میں نے ‘‘ میرا ’’کہ اس نے
نوجوان! مہمان کو چھوڑدو! تم جو کچھ کرچکے ہو اسے ’’ باکی موشو نے قدرے مفاہمانہ انداز میںکہا۔ اس کی گزارے لائق پشتو ‘‘ بھلایاجاسکتا ہے۔ میں تمہیں بحفاظت یہاں سے نکالنے کی ضمانت دیتاہوں۔ نے مجھے حیران کیاتھا۔
میں لعنت بھیجتا ہوں تمہاری ضمانت پر۔ مجھے دس منٹ میں ٹینک فل فور بائی فور جیپ ’’ میںنے کہا۔ میرے مطالبے نے انہیں ‘ اور ان کاڈرائیور بھی ہونے چاہیے ‘ اس کابھائی ‘ یہاں چاہیے اور اس جیپ میں آئمہ چونکادیا۔
اس کے بعد میں اس کتے کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی جانیں لے لوں …صرف دس منٹ’’ میں نے مزید کہا۔ ‘‘ مجھے اپنی جان کی ذرابھی پروا نہیں ہے ۔ ‘ تم لوگوں کواندا زہ تو ہوگا ‘گا
وہ جنگ جو اور جہاندیدہ لوگ تھے۔ میرے لہجے سے انہیں بخوبی اندازہ ہو رہاتھا کہ میں جو کہہ رہاہوں اس پرعمل کرنے کی بھی پوری صلاحیت رکھتاہوں۔
باکی موشو نے کہا۔ پہلی دفعہ اس کے چہرے پر میں نے ایک ‘‘ آئمہ وغیرہ سے کیا واسطہ ہے ؟ ‘ تمہارا’’ غیر انسانی سی سختی دیکھی۔ اس کے قریب کھڑا ایک زوگالا توجیسے زہر کے گھونٹ بھر رہاتھا۔
میرا تعلق لیوی سے جوڑنے کے لیے ‘ سرخ بھیڑیا ‘ باکی موشو کے سوال نے مجھے ایک نئی راہ سجھائی میرا تعلق پنجاب ‘ انہی کے پیچھے آیا ہوں ‘ میں ’’ کڑیاں ملا رہا تھا۔ اسے بھٹکانے کی غرض سے میںنے کہا۔ ‘‘ پولیس سے ہے۔
‘‘ یہ کوئی بڑی پہنچی ہوئی چیز ہے۔ ’’ سرخ بھیڑیے نے مشتعل ہو کر کہا۔ ‘‘ بکواس کرتا ہے حرامی۔ ’’
‘‘ میں پہلے تیرے گلے اور پھر شہ رگ تک بھی پہنچ جائوں گا۔ ‘ بے فکر رہ
جواب میں وہ خونی نظروں سے مجھے گھورنے لگا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: