Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 7

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 7

‘‘ دس منٹ میں سے ایک گز رچکا ہے۔ ’’ میںنے کہا۔
ساتھ ہی اس نے آنکھ دبا کر اشارہ کیا۔ ‘‘تھوڑا ٹائم دو۔ ‘ اتنی جلدی انتظام نہیں ہوسکتا ’’ ذیشان خان بولا۔
میرا لہجہ سنگین تر ہوگیا تھا۔ میں واقعی ‘‘ باقی آٹھ منٹ ’’ اس کے اشارے کوخاطر میں نہیں لایا۔ ‘ میں دس منٹ پورے ہونے پر جعفر ا یرانی کی کنپٹی میں گولی اتارنے کافیصلہ کرچکاتھا۔ اوراس فیصلے نے میرے لہجے کو بڑی طاقت دی تھی۔
ان کا مہمان تھا اور یہ قبائلی مہمان کی خاطر اپنی ‘ وہ سبھی سرجوڑ کرمشورہ کرنے لگے۔ جعفر ایرانی اولادیں کٹوانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ ان کی دکھتی رگ میرے ہاتھ میں دبے بیریٹا کے نیچے تھی۔
جعفر ایرانی کے ساتھ گردوپیش پر بھی نظر رکھنے کی کوشش کررہاتھا۔ اچانک ہی مجھے سامنے ‘ میں ایک چھت پر چند سائے متحرک نظر آئے۔ وہاں سے کوئی نشانہ باز مجھے نشانہ بنانے کی فکر میں وہ گیدڑ کے شکار کے لیے تو ‘ سامنے چھت پر تم لوگ جو مچان لگا رہے ہو ‘ طورا خان ’’ تھا۔میںنے کہا۔ مرنے سے پہلے میں تم لوگوں کے اس خاص ‘ مناسب ہے مگر میرے لیے نہیں۔ میری بات کا یقین رکھو ‘‘مہمان کوضرور مار دوں گا۔
‘‘ مہمان کی وجہ سے ہم مجبور ہیں تم پرگولی نہیں چلائی جائے گی۔ ’’ طورا خان بولا۔
میں نے ممکن حد تک خود کو ‘‘ سامنے چھت پر سے کیامجھ پر پھول نچھاور کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ’’ جعفر کے عقب میں سمیٹتے ہوئے کہا۔
طورا خان کاچہرہ اتر گیا۔ اس نے تیزی سے سالار خان کو کچھ ہدایات دیں اور سالار خان منظر سے غائب ہوگیا۔
اگلے چند منٹ بے حد کڑے گزرے تھے۔ جعفر کی طرف سے میں ایک دفعہ پھر حیرانی کاشکار ہو رہا تھا۔ اس کاجسم بھی ڈھیلا محسوس ہو ‘ اس نے ابھی تک کوئی مزاحمت کی کوشش نہیں کی تھی اور مجھے رہاتھا۔ حالانکہ پہلے اس کے جسم میں فولاد سی سختی تھی۔
مہمان کو ‘ تمہارا مطالبہ پورا کیاجارہا ہے ’’ دور کہیں سے انجن کی گڑگڑاہٹ ابھری تو ذیشان خان نے کہا۔ ‘‘ تمہیں یہیں چھوڑ کرجانا ہوگا۔
ورنہ میں کہتا کہ شکل سے تمہیں بدھو نظر آتاہوں۔ یہ میرے ساتھ جائے … تم نے میرا چہرہ نہیں دیکھا ’’ ‘‘گا۔ البتہ محفوظ فاصلے پر پہنچ کر اسے چھوڑ دوں گا۔
ذیشان خان کے ساتھ طور اخان بھی پیچ وتاب کھانے لگا۔
تم مہمان کو چھوڑ کریرغمالی کے طور پر مجھے یا کسی اور کوساتھ لے جائو۔ مہمان کو لے جانا ہماری ’’ مجھے طور اخان ‘ ذیشان خان نے ابھی بھی امید کادامن نہیں چھوڑا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ ‘‘ توہین ہے۔ کو ساتھ لے جانے اور بعد میں گولی مارنے پر اکسا رہاتھا۔
میں نے قطعی انداز میں کہا تووہ ہونٹ چبانے لگا۔ ‘‘ میں صرف اسے ساتھ لے جائوں گا۔ ’’
چند لمحوں بعد ایک پرانے ماڈل کی لینڈ کروزر میرے سامنے آرکی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر سالار خان تھا۔ آئمہ اور اس کابھائی اور وہ ڈرائیور نظر آیا جو قید خانے میں آئمہ کے بھائی ‘ عقبی نشست پر مجھے کیساتھ تھا۔ ان تینوں کے چہرے ہراس کی تصویر نظر آرہے تھے۔
پانی چیک کرکے ‘ میں اردگرد کی بلندیوں کی طرف سے بے حد محتاط تھا۔ آئمہ کے ڈرائیور کو میںنے تیل ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کے لیے کہا۔ میری ہدایت پر دونوں نوعمر بہن بھائی فرنٹ سیٹ پرچلے گئے۔ آئمہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اوراس کابھائی کانپے چلا جارہاتھا۔
ایک لحظے کے لیے جعفر کی گردن ‘ جعفر کولیے عقبی نشست پر آگیا۔ پوزیشن تبدیل ہونے کے سبب ‘ میں فقرہ مکمل ہونے ‘‘ میں …مم’’… سے میری گرفت قدرے ڈھیلی ہوئی تواس کے حلق سے خرخراتی آواز نکلی سے پہلے میری گرفت دوبارہ قائم ہوگئی۔
‘ یہ تو میں ویسے بھی جیت چکا ہوں ’’ لیتے ہوئے کہا۔ ۱۶ روانہ ہونے سے پہلے میں نے سالار خان سے ایم۔ ‘‘ تمہیں اٹھا کر پٹخنا اگلی ملاقات پر۔
ام قبر تک تمہارے ’’ طیش کے سبب اس کے گلے کی رگیں پھول گئیں۔ وہ بیٹھی بیٹھی آواز میں بولا۔ پہلی دفعہ ا س نے گلابی اردو استعمال کی۔ ‘‘ پیچھے آئے گا۔
میں نے اسی کے انداز میں کہا۔ ‘‘ اور ام قبر کھود کر تمہارا انتظار کرے گا۔ ’’
اس کے قریب کھڑے باکی موشو نے ایک نظر آئمہ پرڈالی۔ اس کی نگاہ کی تپش سے وہ معصوم کلی مرجھاسی گئی اور خود میں سمٹنے لگی۔ باکی موشو کے چہرے کاغیر انسانی سا تاثر نمایاں تر ہوگیا۔ وہ تم اس لڑکی سمیت خود کو بہت جلد بے بس پائوگے۔ میرے پالتو زوگالے ’’ قطعی بے تاثر آواز میں بولا۔ ‘‘ تمہارا گوشت یقینا بہت شوق سے کھائیں گے۔
زبر‘ اس کی بے تاثر آواز میں نہ جانے کیا تھا کہ ایک لحظے محض ایک لحظے کے لیے میری دھڑکنیں زیر ہوئیں ہ ی معمول پر آگئیں۔ ً مگر فورا
تم اپنی تمام تر ہوس کے ساتھ کسیی ویران گھاٹی میں پڑے ‘ خدانخواستہ ایسا وقت آیا تو یہ یقین کرلو ’’ ساتھ ہی میں نے ڈرائیور کو جیپ آگے بڑھانے کے لیے ‘‘ ہوگے اور مردار خور جانور تمہیں نوچ رہے ہوں گے۔ کہا۔
کچھ ہی دیر میں ہماری جیپ حویلی سے باہر تھی۔ آئمہ اور اس کابھائی عثمان سر گھما کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ اب دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آئمہ نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے کہا۔
ہم ابھی خطرے سے مکمل طور پر نکلے نہیں ہیں۔ تم لوگ حوصلہ رکھواور شیشے سے باہر گردوپیش ’’ انہوںنے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرکے اپنی نظریں باہر جمادیں۔ ‘‘پرنظر رکھو۔
ڈرائیور کانام مبارک علی تھا۔ اسٹیئرنگ پرجمے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میںنے اس کاحوصلہ بڑھایا اور ‘ راستے کے متعلق ہدایت دی۔ ہمارا روٹ وہی تھا جو ذیشان خان نے میرے فرار کے لیے منتخب کیا تھا۔ کٹے
پھٹے پتھریلے راستے پر لینڈ کروزر ہچکولے کھاتی آگے بڑھ رہی تھی۔ میری نظریں عقب نما آئینے پر تھیں۔ حسب توقع کئی اچھلتی کودتی ہیڈلائٹس ہمارے عقب میں تھیں۔ وہ اتنی آسانی سے کہاں ہمارا پیچھا چھوڑنے والے تھے۔
میں نے مبارک علی کورفتار بڑھانے کے لیے کہا۔ لینڈ کروزر کی اندرونی روشنی میں جعفر ایرانی بے بسی کی مکمل تصویر نظر آرہا تھا۔ میرے بازو کی کلاسیکل گرفت نے قطعی طور پر اسے بے بس کردیاتھااور اس گرفت کے سبب خون کی روانی بھی متاثر ہوئی تھی ۔ اس کا سرخ وسفید چہرہ نیلا سا ہو رہاتھا۔ اس کازہریلا پن میرے خون میں انگارے سے سلگارہاتھا۔
لینڈکروزر ایک قدرے بلند راستے پر چل رہی تھی۔ جس کے دونوں جانب ڈھلوان تھی۔ بالکل اچانک ہی گولی ونڈ اسکرین سے گزر کر مبارک علی کی پیشانی پر لگی۔ لینڈکروزر بے قابو ‘ کہیں قریب سے فائر ہوا ہو کر ڈھلان پراتری۔ میرے کانوں میں آئمہ کی ہذیانی چیخ گونجی اور پھر گاڑی پرجیسے گولیوں کی بارش ہونے لگی۔
میںنے چیخ کرآئمہ اور عثمان کو سرجھکانے کے لیے کہا۔ گاڑی بے قابو ہو کرڈھلان پر دوڑی جارہی تھی۔ اس … طوراخان وغیرہ نے ہم پر ہلا بول دیاتھااور میں نے ایسی کسی حرکت کا جوانجام انہیں بتایا تھا پرعمل ک رنے جارہاتھا۔ میںنے ہونٹ بھینچتے ہوئے ٹریگر دبادیا۔
جعفرایرانی کے جسم کوجھٹکا لگااور وہ میرے بازو کی گرفت میں تڑپنے لگا۔ گولی اس کے سر کے پچھلے حصے سے داخل ہو کر پیشانی سے باہر نکل گئی تھی۔
لینڈ کروزر بری طرح ہچکولے کھارہی تھی۔ اس کے سفر کااختتام کسی کھائی میں بھی ہوسکتاتھا مگراب مجھے موت کی ذرا بھی پروا نہیں تھی۔ میرا جسم ودماغ جیسے بالکل ہلکے پھلکے ہوچکے تھے۔ میری کائنات کاقاتل میرے سامنے جان کنی کے عالم میں تڑپ رہاتھا۔ اس کی پیشانی کا اوپری حصہ اڑ گیاتھا۔ گاڑی کا کیبن آئمہ اور عثمان کی چیخوں سے گونج رہاتھا۔
گاڑی س ک ی ہموار جگہ پرپہنچ گئی تھی اوراس کی رفتار میں بھی خاطر خواہ کمی ً ڈھلوان سے اتر کر غالبا واقع ہوئی تھی۔ اس کاسبب مبارک علی تھا۔ جس کا پائوں ایکسی لیٹر سے ہٹ گیا تھا اور وہ خود بھی سیٹ سے لڑھک گیاتھا۔ پھر گاڑی ایک جھاڑی نما درخت سے ٹکرا کر رک گئی۔ میں پہلے ڈرائیونگ نشست سے زور سے ٹکرایااور پھر جعفر ایرانی کی لاش پرجاگرا۔
آئمہ اور عثمان بھی ڈیش بورڈ سے ٹکرائے تھے اور اب پھر سے چیخ رہے تھے۔ گاڑی کاانجن بدستور بیدار تھااور اندرونی لائٹس جل رہی تھیں۔ ہم پرگولیاں چلانے والے اوپر ڈھلان پر ہی رہ گئے تھے۔ انہیں ہم تک
ہم نہ صرف کسی سنگین حادثے سے بچ گئے تھے … پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگنا تھا۔ شکر کامقام تھا بلکہ گاڑی بھی الٹنے سے محفوظ رہی تھی۔
اچانک ہی میری نظر جعفر ایرانی پرپڑی۔ نصف اڑی ‘ خود کو سنبھالتے ہوئے میں بڑی تیزی سے سیدھا ہوا پیشانی کے ساتھ وہ بے حد بدہیت نظر آرہا تھا۔ اس کامنہ کھلا ہواتھااور سفید دانت گاڑی کی اندرونی لائٹس میں چمک رہے تھے۔
میں شاک کی سی کیفیت میں رہ گیا تھا۔ اس کے دانت کا کونا جو میری ضرب سے ٹوٹ گیا تھا وہ سلامت میرے نیچے پڑی لاش جعفر ایرانی کی نہیں ہے۔ … تھا۔ میرے وجود میں کوئی چیخ چیخ کرکہہ رہاتھا
…٭٭٭…
میرا لہو سنسنااٹھا۔ میرے باپ کا قاتل اب میرے درپے تھا اور میں مزاحمت کے بھی قابل نہیں تھا۔ بے شک میرا جسم زخموں سے چور تھا مگر مجھے پروا نہیں تھی۔ مجھے صرف ہتھکڑی نے بے بس کررکھا تھا۔میں نے اضطراری حالت میں پائوں کو زو ر دار جھٹکے دیئے مگر چھٹکارے کی کوئی راہ نہیں تھی۔ بندے خانے کے قفل کو ایک مختصر سے برسٹ نے ادھیڑ ڈالا۔ لکڑی کامضبوط دروازہ ایک جھٹکے سے میرے سینے کی طرف اٹھی 47کے ‘ کھلااور میاں امجد آنکھوں میں وحشت لیے میرے سامنے تھا۔ اے ہوئی تھی۔ موت سامنے تھی مگر فطری خود سری نے مجھے سینہ پھلانے پرمجبور کردیاتھا۔مجھ پرفائر رائفل کا وزنی کندا میری پیشانی پرلگااور میں الٹ کر گرا۔ ‘ کرنے کی بجائے وہ گالیاں بکتا مجھ پر جھپٹا اس نے گالیوں کی بوچھاڑ کے ساتھ مجھے ٹھوکروں پررکھ لیا۔
میری زبان بھی چل نکلی تھی۔ البتہ بے بسی کا احساس میرے سینے میں صحرا کی طرح پھیلا تھا۔ میرے باپ کا قاتل مجھ پر ٹھوکریں برسارہاتھا اورمیں بے بس گدھے کی طرح پٹ رہاتھا۔ پھراچانک ہی اس کی ایک ٹانگ میرے ہاتھ میں آگئی۔ میں نے جھٹکا دیا تو وہ بے توازن ہو کرنیچے گ را۔ اپنے زخم زخم جسم کی اس کے اوپر جاگرا۔ اس کے نفرت انگیز لمس نے میرے وجود میں ‘ تمام تر بچی کھچی طاقت کے ساتھ میں ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھی مگر رخ تبدیل ہوگیا تھا۔ میں نے رائفل پرہاتھ 47کے ‘ آگ بھردی تھی۔ اے ڈالا۔ اس نے ٹریگر دبادیا۔ گولیاں بوچھاڑ کی طرح نال میں سے نکلیں اور چھت پھاڑ کرباہر نکل گئیں۔
وہ پوری قوت سے مجھے الٹنے کی کوشش میں تھا۔طیش کے سبب اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی سے اس کے ‘‘ دھائیں ’’ تھیں۔ ایک ہی وقت میں اس کاگھٹنا میری پسلیوں اور میرے سر کی زور دار ٹکر چہرے پر لگی۔
میرا سانس جیسے رک گیاتھا مگر اس کی چیخ نے جیسے زخموں پرڈھیر سارا مرہم لگادیاتھا۔
ان کی بے رحم ٹھوکروں کی زد ‘ یہی وقت تھا جب کئی افراد بھرا مار کر بندی خانے میں گھس آئے۔ میں میں آگیا۔
دیکھتا ہوں کیسے ’’ ہانپتی ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ ‘ ایک بپھری ‘‘ لے چلو! اس بدمعاش کو ’’ ‘‘ نہیں دوسرے کتوں کاپتا بتاتا۔
مجھ پر کیوں نہیں خالی کی تھی۔ بیگھے ملوں کامقصد 47کے ‘ مجھ پرانکشاف ہوا کہ میاں امجد نے اے مجھے تھانے سے اغوا کرکے ساتھ لے جانے کا تھا تاکہ میری زبان جو رانا نوید قانونی حد میں رہ کر نہیں تھانے پرحملہ آور ہونے اور مجھے اغوا کرکے لے ‘ عین ممکن تھا ‘ اپنے طریقے سے کھلوائی جائے ‘کھلواسکاتھا جانے کامنصوبہ رانانوید ہی کاہو۔
اگلے ہی لمحے میرے اس شک کی بھی تصدیق ہوگئی ۔ رانا نوید کاچہیتا اہلکار جس کے چہرے کامیں نے نقشہ بگاڑ دیاتھا۔ اس نے آگے بڑھ کر میرے پائوں سے ہتھکڑی کھول دی۔ اگلے ہی لمحے کئی ہاتھوں نے مل کر مجھے اٹھالیاتھا۔
میاں صاحب! ہتھکڑی پربھی دوچار فیر ’’ چہیتے سپاہی نے ا پنی پیٹی کو ٹٹولتے ہوئے فدویانہ انداز میں کہا۔ ‘‘ صبح انکوائری بھگتنے میں آسانی رہے گی۔ ‘ماردو
میاں امجد نے ہتھکڑی پر باقی ماندہ میگزین خالی کردیا۔
مجھے باہر لاکر بے رحمی سے جیپ کی نشستوں کے درمیان پٹخ دیاگیا۔ تین چار افراد مجھ پر پائوں رکھ کربیٹھ گئے اور جیپ بیک گیئر میں تھانے کی عمارت سے باہرنکل آئی۔
بے پناہ جسمانی تکلیف کے سبب میری حسیں جیسے کندھ کررہ گئی تھیں۔ میرے اوپر سوار نہ صرف پیروں سے مجھے کچوکے دے رہے تھے بلکہ آنے والے بے رحم وقت سے بھی آگاہ کررہے تھے۔
پھر کسی نے میرے بال جکڑ کر بڑی بے رحمی سے میرا چہرہ اوپر اٹھایا۔ میرے چہرے کے مقابل میاں امجد اس کی پھیلی ہوئی خاندانی ناک کچھ اور پھیلی ہوئی تھی اور چہرہ ‘ کا چہرہ تھا۔ میرے باپ کے قاتل کا وحشت کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ وہ غیر انسانی سی آواز میں بولا۔
اسے کچھ ہوگیا تو یاد رکھ تیری نسل مٹادوں گا۔ تو ‘ میرے بھ را(بھائی) کی زندگی کے لیے دعا کر … اوئے’’ ‘‘ موت مانگے گامگر موت تجھ سے دور بھاگے گی۔
اسے ’’ میرے وجود میں قدرے مایوسی اتری تو ابھی میاں ذوالفقار زندہ تھا۔ میں نے کوشش کرکے کہا۔ ‘‘ تو اپنی فکر کر۔ اس کی طرح تجھے بھی بہت جلد چیردوں گا۔ ‘چھوڑ
اس کے چہرے پرزلزلے کی سی کیفیت نمودار ہوئی۔ منہ گٹر کے دھانے میں بدل گیااور اس نے میرا سر پوری قوت سے جیپ کے فرش پرمارا۔ میری آنکھوں کے سامنے ستارے سے ناچ گئے۔ جیپ کے فرش پر بچھے بوسیدہ اور بدبودار سے میٹ کے سبب میرا سرپھٹنے سے بچ گیاتھا۔
میاں جی کہیں یہ حرامی مرہی ’’ میاں امجد نے دوبارہ میرے بال جکڑے تو ایک دبی سی آواز سنائی دی۔ بولنے ‘‘ اس کی زبان کھل جائے پھر اسے پیروں کی طرف سے کاٹنا شروع کریں گے۔ ‘ ذرا صبر کریں ‘نہ جائے والے کے لہجے سے خوفناک عزائم واضح تھے۔
میاں امجد نے ایک جھٹکا دے کر میرے بال چھوڑ دیئے۔ اس کی گالیوں کا جواب د ینے کی میں بھرپور کوشش کررہاتھا مگر میری زبان جیسے خشک چمڑے کے ٹکڑے میں بدل گئی تھی۔ سر بری طرح سے چکر ارہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہاتھا جیسے میں ہوش کھونے لگا ہوں۔
نیچے راستوں پرہچکولے لیتی آگے بڑھ رہی تھی کچھ دیر میں ہی جیپ کہیں درختوں کے ‘ جیپ اونچے درمیان سے گزرنے لگی۔ چاندنی اب پتوں میں سے چھن چھن کر آرہی تھی۔ مجھے اندازہ ہو رہاتھا کہ جیپ کافی رقبے پرپھیلے بیلے میں داخل ہوگئی ہے۔ جو ابتدا میں چھدرااور پھر بے حد گھنا ہوجاتاتھا۔ میں نے سن رکھاتھا کہ بیگھے ملوں نے ا پنے پالتو اشتہاریوں کو پناہ دینے کے لیے بیلے میں ہی کئی ٹھکانے بنا رکھیے ہیں۔
یہی وقت تھا جب میں نے ایک فائر کی آواز کے ‘ جیپ ایک دفعہ پھر ڈگمگائی تو مجھے بڑے زور کاچکر آیا کی جانی پہچانی تڑتڑاہٹ ابھری اور 47کے ‘ پھر اے‘ ساتھ ہی اپنے بالکل قریب کریہہ سی چیخ سنی جیپ سواروں میں سراسیمگی سی پھیل گئی۔
میں کوشش کے باوجود اپنے حواس سلامت نہ رکھ سکا۔ آنکھوں کے آگے دبیز سیاہ پردہ سا پھیل گیاتھا۔ ساتھ ہی وجود میں طمانیت سی بھی اتر آئی تھی۔ میرے جاں نثار ساتھی مجھے بھولے نہیں تھے۔ آخرکار وہ پہنچ ہی گئے تھے اوربڑے اہم وقت پر پہنچے تھے۔
بعد کے واقعات مٹے مٹے سے تھے۔ میں نے خود کو کسی موٹر سائیکل پر دوافراد کے درمیان بیٹھا محسوس کیا۔ میرے پیچھے بیٹھے شخص نے مجھے بڑی نرمی سے تھام رکھا تھا۔ میرے پیچھے بیٹھا وہ جو بھی ہے … شخص کچھ کہہ بھی رہاتھا مگر مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ صرف اتنا احساس تھا میں اسے بخوبی جانتاہوں۔
موٹر سائیکل غیر ہموار راستے پر ممکنہ تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ قریب ہی ایک اور موٹر سائیکل کی آواز بھی گونج رہی تھی۔ اس کے بعد میرا دماغ پھر سے گہری تاریکی میں ڈوب گیا۔
وہاں نیم تاریکی ‘ جہاں میں تھا ‘ دوبارہ حواس لوٹے تو میں نے خود کو کسی آ رام دہ بستر پر محسوس کیا پورا ‘ حواس لوٹے تو احساس ہوا ‘ تھی اور ابھی میری آنکھیں بھی ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہوئی تھیں جسم پھوڑے کی مانند دکھ رہا ہے۔ بے اختیار تکلیف کے سبب ایک آہ لبوں سے آ زاد ہوگئی۔ ً ہوش آگیا۔ جی …اوہ ’’ فورا ہی چوڑیوں کی مدہم کھنکھار ابھری اور ایک نسوانی ہاتھ میرے سینے پرآٹکا۔ نیم خواندہ لہجے والی نسوانی آواز ابھری اور کیروسین لیمپ کے پیچھے نسوانی وجود کا سایہ ‘‘آپ کو۔ دیوار پر نظر آنے لگا۔
میری ہ ‘‘ تم کون ہو؟ اور یہاں مجھے کون لایا ہے؟ ’’ حالانکہ دل چیخ چیخ کرکہہ ‘ ی سوال مچلے ً زبان پر فورا رہاتھا۔ میں اپنے ساتھیوں اور ہمدردوں کے درمیان ہوں۔
‘‘ میں شادو ہوں جی اور آپ کو آپ کے سنگی بیلی لائے ہیں۔ انہیں ابھی خبر دیتی ہوں۔ ’’
…٭٭٭…
شادو باہر نکلی تو کھلے دروازے سے مجھے صبح کاذب کی روشنی نظر آئی۔ کیروسین لیمپ کی روشنی میں نے خود کو نیچی چھت والے ایک کچے کمرے میں پایا۔ دیواروں کے ساتھ کارنس پر کانچ اور ‘ میں اسٹیل کے سستے برتن نظر آرہے تھے۔ دیواروں پر کئی تصویریں بھی چسپاں تھی مگر لیمپ کی روشنی اتنی نہیں تھی کہ تمام جزئیات واضح ہوتیں۔
جن ‘ میں کسی غریب دیہاتی کے گھر میں موجود تھا۔ میرے قریب دو اور چارپائیاں بھی نظر آرہی تھیں پربستر بچھے تھے۔
میںنے محسوس کیا کہ میرے جسم پرپہلے والا لباس نہیں ہے اور میرے زخموں پربھی مرہم پٹی کی گئی ہے۔
وہ ‘ چند لمحوں بعد کھلے دروازے میں سب سے پہلے مجھے شوکانظر آیا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی اس نے بڑی نرمی سے میرے سینے پرہاتھ رکھا۔ اس کے ‘‘ بھراجی۔ … لیٹے رہو ’’ … لپک کرمیرے قریب آیا بابو او روجاہت بھی تھے۔ وہ چاروں مجھ سے لپٹ گئے۔ ‘ پیچھے علی
میں انہیں زندہ ‘ جن حرام کے جنونے آپ کا یہ حال کیا ہے ’’ وجاہت رندھی آواز اور جذباتی لہجے میں بولا۔ باقی تینوں بھی جذباتی ہونے لگے۔ ‘‘ جلادوں گا۔ کسی ایک کوبھی نہیں چھوڑوں گا۔
کوئی نہیں ’’ خود میرے سینے میں بھی نقارے سے بج اٹھے تھے۔ اس کے باوجود میں نے دھیرے سے کہا۔ ‘ کوئی سنگین زخم نہیں ہے ‘ یار! جوانوں کو یہ معمولی چوٹیں کیا کہتی ہیں۔ ہڈیاں ساری سلامت ہیں
یہ کہتے ہوئے پہلو کا درد جس طرح ‘‘ معمولی چوٹیں ہیں۔ دوچار دن میں لوٹ پوٹ کر ٹھیک ہوجائوں گا۔ میں ہی جانتاتھا۔ … سے چھپایا تھا
میری چارپائی پر تھا۔ میںنے تکیے ‘ وہ چاروں پروانوں کی مانند میرے قریب بے چین سے بیٹھے تھے۔ علی سے سراٹھا کر اس کی گود میں رکھ دیا۔ وہ نہال ہوگیا اور دھیرے دھیرے میرا سر دبانے لگا۔ سر مضروب ‘ میرے شیرو !تم کیسے مجھ تک پہنچ گئے ’’ تھا دبانے سے تکلیف ہو رہی تھی مگر میں نے اسے روکا نہیں۔ ‘‘ سچ پوچھو تو ابھی تک مجھے یقین نہیں آرہا۔
وجاہت کافقرہ نامکمل رہ گیا۔ ‘‘…آپ کوبھلا چھوڑ…ہم’’ ان کے چہرے جگمگااٹھے۔
شادو نامی دہرے بدن کی وہی جواں سال عورت اندر داخل ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں ایک جہازی سائز پیتل اس کے عقب میں ایک غریب صورت دبلاپتلا سا مرد بھی تھا۔ مرد کی پراشتیاق نظریں مجھ پر ‘کاگلاس تھا جمی تھیں۔
یہ ہمارے میزبان شادو اورحسینی ہیں۔ میری ‘ بھراجی ’’ وجاہت نے فقرہ ادھورا چھوڑ کر تعارف کروایا ۔ ‘‘ میرا سنگی(دوست) ہے۔ ‘ برادری کے اور حسینی
بیگھے … جیوندا رہ اوئے شیر جٹا ’’ حسینی نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔ بیوی کی موجودگی کی پروا کیے بغیر اس سادہ لوح نے ایک ناقابل بیان فقرہ کہہ دیا تھا۔ میں …ملاں نوتے وہ جہازی سائز گلاس سنبھالے میرے قریب ‘ حیران ہوا کہ شادو کے چہرے پرشرم کاکوئی تاثر نہیں ابھرا دودھ میں ھ … یہ لوجی ’’ آئی۔ اندرونی ‘‘ چا گ ی اور ہلدی ملادی ہے۔ اندرونی چوٹوں کی ٹکور ہوجائے گی۔ ُس باقی کا … چوٹوں کے لیے واقعی یہ اکسیر ٹانک تھا۔ میںنے گلاس تھام لیا۔ نصف تو میں نے رغبت سے پیا مجھے زبردستی پلایا گیا۔
شادو گلاس لے کرواپس چلی گئی۔ حسینی البتہ وہیں بیٹھ گیا تھا۔ وہ مجھ سے خاصا مرعوب نظر آرہا تھا۔ یہ تو مجھے بعد میں پتاچلا کہ کچہری میں میاں ذوالفقار پرخنجر آزمانے کے سبب گردونواح کے دیہاتوں میں اچھا خاصا مشہور ہوچکا تھا۔پولیس بائولے کتے کی طرح میری اور میرے ساتھیوں کی تلاش ‘ میں میں تھی۔
میں ہیں۔ ‘‘رکھ پور’’ کے ایک قریبی گائوں ‘‘ جٹاں والی ’’ وجاہت نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ ہم
شادو اورحسینی بااعتماد لوگ تھے اور ہم یہاں کافی حد تک محفوظ تھے۔ حسینی نے ایک باغ ٹھیکے پرلے رکھا تھا جو گائوں سے کافی ہٹ کرتھا اور ہم اسی باغ میں موجود تھے۔ ان میاں بیوی کے علاوہ کسی اس لیے دونوں ‘ کوبھی یہاں ہماری موجودگی کی خبر نہیں تھی۔ ابھی چونکہ پھل اترنے کاموسم نہیں تھا
تین مزدوروں ‘ میاں بیوی دو عدد کتوں کے ساتھ باغ کی رکھوالی کرلیتے تھے۔ پھل اترنے کے موسم میں دو اورحسینی کے سالے کاباغ میں قیام ہوتاتھا۔
یہ تفصیل جاننے کے بعد میں خاصا مطمئن ہوگیا۔ میرے ساتھی البتہ میری حالت کی طرف سے خاصے متفکر تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی ڈاکٹر کو احتیاط سے یہاں بلاکر میرامعائنہ کروایا جائے۔ مگر میں نے سختی سے مخالفت کی۔ البتہ میں نے ایک کاغذپر چند انجکشن اور پین کلرز گولیاں ضرور لکھ دیں۔ انہیں مہیا کرنا حسینی کے ذمے تھا۔ میں خود بھی پہلو کے درد کی طرف سے اندیشے میں مبتلا تھا۔ اگر کوئی پسلی وغیرہ فریکچر تھی تو اس کاعلاج ضروری تھا۔ مگر کم ہوجانے والی سوزش ڈھارس بندھوارہی تھی کہ پسلیاں سلامت ہیں۔ میں بے چینی سے منتظر تھا کہ میرے ساتھی مجھے اپنی روداد سے باخبر کریں کہ وہ کیسے مجھ تک پہنچ گئے۔ آخر میرے پوچھنے پر انہوںنے جو بتایا اس کی تفصیل کچھ یوں تھی۔
اسی نے لنکا ڈھائی تھی۔وجاہت اپنی منگیتر کی ‘ بیگھے ملوں کاایک ملازم جو وجاہت کاجاننے والا تھا بازیابی کے لیے پہلے ہی اس سے رابطے میں تھا مگر اس ملازم سے کوئی خاص خبر نہیں مل رہی تھی۔پھر جب اس ملازم نے سنا کہ کچہری میں ہم لوگوں نے میاں ذوالفقار کے مکروہ جسم میں خنجر اتارے ہیں تو اس پر طاری بیگھے ملوں کاخوف کچھ کم ہوا۔ کچھ ہاتھ تو تھے جنہوںنے ظلم کا پنجہ مروڑا تھا۔اس خیال سے اسے کچھ حوصلہ ہوااور وہ تعاون پرآمادہ ہوگیا۔
بیگھے ملوں اور رانا نوید نے جہاں بیٹھ کر تھانے پرحملے کی منصوبہ بندی کی وہ ملازم انہی کی خاطر داری کے لیے قریب ہی تھا۔ اس نے چھپ کر سب کچھ سن لیا۔
بلکہ اس حملے کو ‘ تھانے پرحملہ کرکے نہ صرف مجھے اپنی تحویل میں لے لیا جائے ‘ منصوبہ بڑا عیارانہ تھا منسوب بھی میرے مفرور ساتھیوں سے کردیا جائے کہ وہی تھانے پرحملہ کرکے مجھے چھڑوا لے گئے ہیں۔
اس حد تک تو وہ کامیاب رہے تھے مگر مجھے جہاں لے جاکر وحشیانہ تشدد کانشانہ بنانے کی تمام تر اس ٹھکانے سے میرے جاںنثار ساتھی پہلے ہی آگاہ ہوچکے تھے۔ اس لیے انہوں نے ‘ تیاریاں مکمل تھیں راستے میں گھات لگالی تھی۔
ان کی اس دلیرانہ کارروائی میں بیگھے ملوں کاایک بندہ ہلاک ہواتھااور میاں امجد کے بازو پربھی گولی لگی تھی۔ اپنی جانیں بچانے کے لیے وہ مجھے جیپ میں ہی چھوڑ کربھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
ورنہ میرے ساتھیوں کا ارادہ ان میں سے کسی کو بھی چھوڑنے کا ‘ بیلے کے درختوں نے انہیں پناہ دی تھی نہیں تھا۔
‘‘ اس مخبر نے تمہاری منگیتر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟ ‘‘ میں نے وجاہت سے کہا۔
وجاہت کے خوبرو چہرے پر یاسیت کا تاریک سایہ اتر آیا۔ حلق میں پھنسے آنسوئوں کے گولے کو جیسے ‘‘ اس نے بمشکل نگلااور نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔ وہ کہتا ہے میں کوشش کررہا ہوں۔
وجاہت کی کیفیت دیکھ کرمجھے افسوس ہونے لگا کہ میں نے یہ موضوع کیوں چھیڑاتھا۔ ہم لوگوں کے درمیان افسردہ کردینے والی خاموشی اتر آئی تھی۔
میرا دل اس کے لیے موم کی مانند پگھلا جارہاتھا۔ میں نے بانہیں پھیلائیں ‘ میں نے وجاہت کو قریب بلایا زبردستی کے روکے آنسو مردانہ انا کامضبوط بند توڑ ‘ تووہ تڑپ کر میرے سینے سے آلگا۔ جانے کب کے رکے کر بہہ نکلے۔ اس کے سینے سے ایک دلدوز آہ نکلی۔
ظالموں نے پتا نہیں اس معصوم کا کیا حال کیا ہے؟ وہ توبڑی نازک سی ہے۔ اسے تو ایک دفعہ کانٹا ‘ہائے’’ اس کی سسکیاں اور آنسو میرے ‘‘ چبھ گیاتھا توتین دن تک بخار رہاتھا۔ پتا نہیں کس حال میں ہوگی؟ بابو اور شوکے کی آنکھوں میں بھی آنسو جھلملانے لگے۔ ‘ سینے میں آگ بھڑکانے لگے تھے۔ علی
پھراس کے لہجے میں لاوا ‘‘ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ‘بھرا’’ وجاہت نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔ میں خود مرجائوں گا یا پھر بیگھے ملوں کی ساری نسل مٹادوں گا۔ کسی کونہیں چھوڑوں ’’اچھلنے لگا۔ ‘‘ گامیں۔
تو دیکھ تو سہی کتوں کی مانند ان ‘ اوئے پاگل ! ہم تیرے ساتھ ہیں ’’ بابو نے اس کے کندھے پرہاتھ رکھا ۔ ‘‘ ظالموں کوگلیوں میں گھسیٹ کرماریں گے۔
‘ کچھ دیر بعد ہم پانچوں ظلم گزیدہ ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے۔ ان چاروں کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر مجھے اپنی آنکھیں جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتاتھا جیسے آنسوئوں کے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔
جذبات کے بادل چھٹے تو حسینی ناشتہ لے آیا۔ اس غریب نے مہمان نوازی کا حق ادا کردیاتھا۔ دیسی گھی ساتھ میں لسہوڑے کااچار اور رات کے بچے ہوئے آلو۔ ‘ پیاز اور دیسی انڈوں کا سالن ‘ میں تربتر پراٹھے
دیسی گھی اور ہلدی ملے جہازی سائز کے دودھ کے گلاس کے بعد پیٹ میں ذرا بھی گنجائش نہیں مگر حسینی کے اصرار پر مجھے ناشتے میں شریک ہوناپڑا۔ ‘ تھی
ناشتہ آخری مراحل میں تھا کہ شادو مٹی کے رنگین پیالوں میں چائے لے آئی۔ چائے پی کر حسینی میرا اس کی جیب میں ‘ لکھا ہوا دوائوں کا پرچا لے کر باہر نکل گیا۔ شوکے نے زبردستی بلکہ دھنیگا مشتی کرکے کچھ نوٹ گھسیڑے تھے۔ وہ کسی صورت پیسے لینے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔
باپ اور میجر صاحب کے جنازے کا پوچھتے ‘‘؟… کوئی اپنے گائوں کی خیر خبر ’’ چائے کے بعد میں نے کہا۔ ہوئے زبان جیسے اٹک سی گئی تھی۔ سینے میں دھواں سابھر گیاتھا۔
شوکرے تو ‘ پولیس نے ہم سب کے گھروں پرچھاپے مارے ہیں۔ چھوکرے ’’ علی نے قدرے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ‘‘ پہلے ہی ادھر ادھر ہوگئے تھے۔ رانا نوید نے عورتوں کے ساتھ سخت زبان استعمال کی ہے۔
کی گٹھڑی وزنی کرتا جارہاتھا۔ ‘‘احسانات’’ میرے جبڑے بھینچ گئے۔ رانا نوید بڑی تیزی سے اپنے
‘‘؟… اور بیگھے مل ’’
فی الحال وہ اپنی ناندوں میں گھسے پڑے ہیں۔ میجر صاحب کے دونوں بیٹے آچکے ہیں۔ انہوں نے اسلام ’’ آباد سے بھی فون شون کروائے ہیں۔ بظاہر تو پولیس میاں امجد وغیرہ کی گرفتاری کے لیے بھی سرتوڑ تین چھاپے انہوں نے بیگھے ملوں کے گھروں پر بھی مارے ہیں مگر کوئی گرفتاری ‘ کوشش کررہی ہے۔ دو علی نے تفصیل بتائی۔ ‘‘ نہیں ہوئی۔
باپ کے جنازے اور صدمے کے سبب ہوش وحواس سے بیگانہ ماں کے بارے میںپوچھتے ہوئے میرے سینے میں جیسے آنسوئوں کاگولا سا پھنس گیاتھا۔
چاچے کی نماز جنازہ میں ‘ اور ہاں بھراجی! آپ کے کالج سے بھی دولڑکے ’’ علی نے کچھ یاد آنے پر کہا۔ ‘‘ شریک ہونے کے لیے آئے تھے۔ ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔
فرحان اورکائنات تھے۔ کائنات کا خیال آتے ہی دل سے ہوک سی اٹھی تھی۔ ‘ یقینا وہ نادرمگسی ‘ میں چونکا وہ مجھے ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے پر محسوس ہونے لگی تھی۔
چاچی سے لپٹ کر روتے ر وتے بے ہوش ہوگئی تھی اور ہر کسی سے آپ ‘ وہ لڑکی ’’ علی مزید کہہ رہاتھا۔ ‘‘ کاپوچھ رہی تھی۔دونوں لڑکے بمشکل اسے واپس لے گئے۔
سینے کے زخموں سے دوبارہ خون رسنے لگ گیاتھا۔ میرے ساتھیوں سے میری کیفیت پوشیدہ نہ رہ سکی تھی۔ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اس لڑکی سے میرا کوئی خاص تعلق تھا۔
ایک دوسرے کوآنکھوں آنکھوں میں اشارے کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھے آرام کرنے کاکہہ کرباہر نکل گئے۔
کائنات ‘ آرام اب کہاں نصیب میں تھا۔ ظالموں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیاتھا۔ سنہرا مستقبل ماں کی مہربان آغوش اور بہن کودھوم دھام سے رخصت کرنے ‘ باپ کی چھائوں جیسی شفقت ‘کاساتھ کی خواہش۔
ننھی ننھی خواہشیں ‘ میں نے نہ جانے نگہت کی شادی کے حوالے سے کیا کیا سوچ رکھاتھا۔ وہ سب ارمان پولیس مقابلے سمیت ‘جس پر اقدام قتل ‘ خون کی سرخی نے کھالی تھیں۔ میں اب ایک مفرور ملزم تھا کئی سنگین الزامات تھے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ جان لیوا دشمن بھی میری تاک میں تھے۔ میرا وجدان ایک پل یہاں تو دوسرا پل کہیں … مجھے بتارہاتھا کہ میری زندگی اب صحرائی بگولے کی مانند گزرنی ہے اور۔ صحرائی بگولے اپنے جلومیں تباہی اور بربادی لے کرچلتے ہیں۔ میرے جلو میں بھی اب تباہی وبربادی کھیلتی زندگی اجاڑ کررکھ دی تھی۔ ‘ تھی۔ ان تمام لوگوں کی جنہوں نے میری ہنستی
دل کے پھپھولے جل اٹھے تھے۔ میں بستر پر بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپتا رہا اورگزرتا وقت میرا تماشا دیکھتا رہا۔
وہ مطلوبہ ادویات لے کرآگیا تھا۔ اس کے پاس ذاتی ‘ پھر نہ جانے کتنا وقت گزر گیا۔ حسینی نے اندر جھانکا سے یہ ادویات اور ‘‘مجاہد چوک’’ سواری کے طور پر موٹر سائیکل تھااور دوراندیشی کے طور پر وہ خاصا دور انجکشن لایا تھا۔
اور چند گولیاں پھانک لیں۔ کچھ ہی دیر میں ‘ بابو کی مدد سے دو انجکشن میں نے اپنی نس میں لگائے انہوں نے اثر دکھایا۔ درد کا احساس مٹ گیا اورمیری آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔
بابو نے میرے زخموں کی نئے سرے سے مرہم پٹی کی اورپھر میں نیند کی گہری وادی میں اترتا چلا گیا۔
دوبارہ آنکھ کھلی تو اندھیرا اتر آیا تھا۔ میں خود کو خاصابہتر محسوس کررہاتھا۔ بھوک کابھی احساس ہو رہا تھا۔ اور یہ خوش آئند بات تھی۔
شادو نے میرے لیے ہلکے مصالحے والی شوربے دار دیسی مرغی بنائی تھی۔ اس کے ساتھ میں تندور کی دوخاصی وزنی روٹیاں کھاگیا۔
جسم میں توانائی محسوس ہوئی تو میں نے ساتھیوں اور حسینی کے ساتھ باغ کاجائزہ لیا۔ حسینی نے اب وہ مجھے اکیلا دیکھ کر بھی پہچان ‘ دونوں کتوں کومیرے پائوں سونگھا کرمیری خوشبو سے شناسا کیا ہے۔ ‘‘دوست’’ لیتے کہ یہ
جامن اور کھجور کے درخت بھی تھے۔ ‘ باغ چھ ایکڑ پرمحیط تھا۔ اکثریت آم کے درختوں کی تھی۔ شہتوت باغ کو چاروں طرف سے کچی چار دیواری نے گھیر رکھا تھا۔ یہ چار دیواری مرمت طلب تھی۔ کہیں اس کی بلندی پانچ فٹ تو کہیں چار فٹ سے بھی کم تھی۔ حفاظتی نقطہ نگاہ سے یہ خاصا کمزور پہلو تھا۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ گائوں سے خاصے فاصلے پر تھا۔
دو کچے کوٹھے اور باورچی خانہ وغیرہ باغ کے وسط میں تھے اور درختوں سے گھرے ہوئے تھے۔ ہم اپنی سرگرمیاں باغ تک محدود رکھتے تو چھپ کروقت گزارنے کے لیے یہ بہترین جگہ تھی مگر باغ تک محدود رہنا ہمارے لیے خاصا مشکل تھا۔
رات گہری ہوتے ہی میرے ساتھی باہر نکلنے کے لیے پرتولنے لگے تھے۔ علی اور شوکے کو گائوں کی خبر اس پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے ‘ہم ‘ لانی تھی اور اخراجات کے لیے پیسے بھی۔ حسینی غریب آدمی تھا کے پاس چکر لگانے کا تھا۔ شاید اس سے وجاہت کی منگیتر کے ‘‘مخبر’’تھے۔ وجاہت اور بابو کا ارادہ اپنے بارے میں کوئی خبر مل جائے اورمیاں ذوالفقار کی تازہ ترین کیفیت سے بھی وہی آگاہ کرسکتاتھا۔ مجھے تھانے سے اغوا کرکے لے جانے والی پارٹی پر ہلا بولنے کے درمیان میرے ساتھیوں کے ہاتھ ایک سیمی آٹومیٹک رائفل بھی لگی تھی۔ جس نے ہماری اسلحی قوت میں خاطر خواہ اضافہ کیا تھا۔
آنے جانے کے لیے حسینی کے موٹر سائیکل کے علاوہ بابو نے بھی ایک موٹر سائیکل کابندوبست کرلیاتھا۔ دونوں کی نمبر پلیٹیں اتار دی گئی تھیں۔
مگر میں نے منع کردیا۔ ایک پسٹل میرے لیے کافی تھا۔ اور ‘ میرے پاس چھوڑ کر جاناچاہتاتھا 47کے ‘ بابو اے حسینی کے پاس ڈبل بیرل بارہ بور تھی اور وہ اسے استعمال کرنے کے لیے بھی پرجوش تھا۔ آپس میں گلے مل کروہ چاروں نکل گئے ۔ موٹر سائیکلوں کی آوازیں باغ میں آمدورفت کا راز کھول سکتی تھیں۔ اس لیے بغیر انجن اسٹارٹ کیے وہ موٹر سائیکلوں کودھکیل کر باغ سے خاصے فاصلے پر لے گئے تھے۔ واپسی پر بھی یہی طریقہ اختیار کیا جاناتھا۔
ہمارے لیے چائے بنا کر لے آئی۔ چائے کے بعد ‘ میں اور حسینی چادریں اوڑھ کر باہر ہی بیٹھ گئے۔ شادو ہم باتیں کرتے رہے اور وقت اپنی متعین رفتار سے گزرتا رہا۔ دونوں کتے اپنی ‘ حسینی نے سگریٹ سلگالی تو کبھی معمولی سا ‘ جبلت کے تحت بے حد چوکس تھے۔ کبھی آکر حسینی کے قدموں میں لوٹنے لگتے کھٹکا سنتے ہی اس طرف لپک جاتے۔
رات آخری پہر میں داخل ہوگئی مگر وہ چاروں ابھی تک نہیں لوٹے تھے۔ مجھے بے چینی سی ہو رہی تھی۔ حسینی کو جمائیاں آتی دیکھ کر میں نے زبردستی اسے سونے کے لیے بھیج دیا۔
مجھ سے پہلے کتوں نے کسی کی آمد کو محسوس کیا۔ وہ بھونکتے ہوئے لکڑی کے داخلی دروازے کی طرف لپکے ان کا جارحانہ انداز دیکھ کر میں نے بھی پسٹل تھام لیا۔
اور دمیں ہلاتے ہوئے آہستہ آہستہ آوازیں نکالنے لگے۔ میں دروازے کے ‘ مانوس مہک پاکر کتے شانت ہوگئے پاس گیا تو کتے میرے قدموں میں لوٹنے لگے۔
فضا میں مدھم سی ٹاٹیر(ایک شب بیدار پرندہ) کی آواز ابھری تو میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ یہ آواز بابو نے نکالی تھی میں نے آہستگی سے دروازہ کھول دیا۔ بابو اور وجاہت موٹر سائیکل دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ میں نے اطمینان کاسانس لیا۔
وجاہت کاچہرہ اترا ہوا سا محسوس ہوا۔ بابو موٹر سائیکل ‘ چاند کی مدہم سی روشنی میں مجھے کومحفوظ جگہ پرکھڑا کرنے چلاگیا۔
میں نے بے چین ہوکر پوچھا۔ ‘‘ کیاہوا ہے وجاہت؟ ’’
وہ ٹوٹے ہوئے انداز میں بولا۔ ‘‘! کیا ہونا ہے بھراجی ’’ وجاہت کے تاثر میں کوئی کمی نہیں آئی۔
‘‘ کچھ دن اس نے ملنے سے بھی روک دیا ہے۔ ‘ وہ بہت زیادہ گھبرایا ہوا تھا ‘ مخبر سے کچھ پتا نہیں چلا ’’
‘‘؟… کیوں ’’
وہ زہر بھری تلخی سے ہنسا وہ سب ‘‘ کاشک پڑگیا ہے۔ ‘‘ سفید بھیڑ ’’ بیگھے ملوں کواپنی صفوں میں کسی ’’ ایک نظر مجھ پر ڈال کر اس نے مزید ‘‘ کالی بھیڑیں جو ہیں۔ ان میں ہمارا کوئی ہمدرد سفید بھیڑ ہی ہوا نا۔ آپ کو چھڑانے کی کارروائی کے بعد انہیں یقین ہے کہ ان کی صفوں میں کوئی ایسا بندہ موجود ہے ’’کہا۔ ‘‘ تین ملازموں کو انہوںنے کٹ شٹ بھی چڑھائی ہے۔ ‘ جس نے مخبری دی ہے۔ دو
یہ ‘‘ دل بڑا کر یار! آج نہیں تو کل کچھ پتا چل ہی جائے گا۔ ’’ میں نے قریب ہو کر اس کے شانے پربازو پھیلایا۔ کہتے ہوئے خود مجھے اپنا لہجہ کھوکھلا سا محسوس ہوا۔ اس پر جوبیت رہی تھی وہی جانتاتھا۔
اس کے ’’ اس نے میرے سینے پر سرٹکایا۔ اس کاجسم دھیرے دھیرے لرز رہاتھا۔ دلگیر آواز میں وہ بولا۔ مگر میرا تصور دکھاتا ہے کہ اس کو بیگھے مل کتے … مرنے کی خبر ہی مل جائے تو دل کو کچھ قرار آجائے گا میں ‘ جب یہ دیکھتا ہوں تو دماغ پھٹنے لگتا ہے ‘ کی طرح نوچ رہے ہیں اور وہ چیخ چیخ کرمجھے پکار رہی ہے ‘‘ کیا کروں ؟
اس کے ٹوٹے پھوٹے انداز نے میرے سینے میں آگ فروزاں کردی۔ ساتھ ہی بے بسی کااحساس کچوکے لگانے لگا۔
وجاہت کے گرم آنسو میرا سینہ بھگو رہے تھے اور میں بے بسی سے ص رف اسے تھپک رہاتھا۔ بابو کے آنے تک وجاہت نے خود کو سنبھال لیا۔ ہم تینوں ساتھ بیٹھ کر شوکے اور علی کاانتظار کرنے لگے۔وجاہت گم صم ساتھا۔ ہمارے ساتھ ہونے کے باوجود وہ ہمارے ساتھ نہیں تھا۔
‘‘ اس کتے ذوالفقار کے بارے میں بھی کچھ پتا نہیں چلا؟ ’’ میںنے بابو سے پوچھا۔
بیگھے ملوں ’’ میری طرح بابو کی آواز میں بھی نفرت در آئی تھی۔ ‘‘ اس کی حالت ویسی کی ویسی ہے۔ ’’ مگر اس کا بچنا ‘ نے شاہ شمس کے دربار پر پچاس دیگیں پکوا کر اس کی زندگی کے لیے دعا کروائی ہے ‘‘مشکل ہے۔
ہم تینوں کے درمیان بوجھل خاموشی درآئی۔
وقت تھوڑا سا اور آگے سرکا تو شوکے اور علی کے حوالے سے ہمیں تشویش ہونے لگی۔ پھراچانک ہی کتے دروازے کی طرف لپکے تو ہم نے اطمینان کا سانس لیا۔
دروازہ بابو نے کھولا۔ شوکا موٹر سائیکل دھکیل کر اندر داخل ہوا۔
میں نے بے چینی سے پوچھا۔ ‘‘ علی کہاں ہے؟ ’’
شوکا چہکا۔ ‘‘ ساتھ ہی ہے وہ بھی۔ ’’
اورشوکے کی چہکنے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی۔ علی کے ہاتھوں میں ایک ‘ اگلے ہی لمحے علی نظر آیا چمچماتا ہوا موٹر سائیکل تھا۔ اس کا چہرہ بھی چمک رہاتھا۔ 125 بالکل نیا
بابو نے موٹر سائیکل پر پراشتیاق نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ ‘‘ اوئے یہ کہاں سے لے آئے ہو؟ ’’
علی نے کہا۔ ‘‘ دم تولینے دے یار۔ ’’
کچھ دیر بعد موٹر سائیکلوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہم پانچوں یکجا تھے۔
وہ دونوں نہ صرف کچھ رقم کابندوبست کرآئے تھے بلکہ دیگر خبروں کے ساتھ سب کے گھروں کی خیریت بھی معلوم کرآئے تھے۔
وہ اس حد تک تو ضرور کامیاب رہاتھا کہ تھانے پر حملے … رانا نوید اور بیگھے ملوں نے جو پروگرام بنایاتھا پی ‘ کومیرے ساتھیوں کے سر ڈال دیا گیاتھا۔ اس حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔ ایس اور ہم پانچوں کو خطرناک مفرور قرار دے کر پوری دلجمعی سے ‘ نے مستقل گائوں ہی میں ڈیرہ ڈال لیا تھا تلاش کیا جارہاتھا۔اس سلسلے میں کئی چھاپامار ٹیمیں تشکیل دی جاچکی تھیں۔
پولیس کے مسلسل ہراساں کیے جانے کے سبب برادری کے بڑوں نے ہائیکورٹ ملتان بینچ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
نگہت کو لے کرمنظر سے غائب تھا۔ میاں ذوالفقار کے حوالے ‘ میری ماں کی حالت بدستور خراب تھی۔ صابر سے یہ مایوس کن خبر ملی تھی کہ میڈیکل کی بنیاد پر اس کی ضمانت منظور ہوگئی تھی اور بیگھے مل اسے لاہور لے جانے کی تیاریاں کررہے تھے۔
سب سے اہم خبر یہ تھی کہ گردونواح کے ٹائوٹ اور پولیس کے مخبروں کابیگھے ملوں کی حویلیوں میں خاصا آنا جانا دیکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بیگھے ملوں کی جانب سے یہ اعلان بھی کردیا گیا تھا کہ ہم اسے پانچ لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ ‘ پانچوں کے بارے میں جو بھی مصدقہ خبر دے گا
پانچ لاکھ خاصی خطیر رقم تھی۔ انعام کااعلان ہمارے لیے پریشان کن تھا۔ پیسہ تو اچھے اچھوں کے ایمان خرید لیتا تھا۔ اس حوالے سے وجاہت نے حسینی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ جان تو دے سکتا ہے نہیں بیچ سکتا۔ ‘‘ یاری ’’ مگر پیسے کی خاطر
یہ ساری خبریں چاچا احمد نے گائوں سے خاصی دور پہلے سے طے شدہ اور مقررہ وقت پرآکر انہیں دی تھیں۔ رقم کاانتظام بھی انہوں نے کیاتھااور ساتھ ہی یہ مشورہ بھی کہ ہم لوگ کچھ عرصے کے لیے علاقہ چھوڑ دیں۔ اس بارے میں تبادلہ خیال ہونے لگا تو وجاہت نے بات کاٹ کر کہا۔
‘‘ یار یہ معاملہ صبح دیکھ لیں گے۔ پہلے اس نئے موٹر سائیکل کی کہانی تو سنائو۔ ’’
شوکے کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ علی کے ہونٹوں پر بھی دھیمی سی مسکراہٹ نے جگہ بنالی۔ شوکا بولا۔ ‘‘ یہ مال غنیمت ہے یار۔ ’’
‘‘ اور یہ بھی ۔ ’’ علی نے جیب سے ایک پھولا ہوا پرس نکال کر لہرایا۔
واضح طور پر وہ لوگ موٹر سائیکل اورپرس کسی سے چھین کر لائے تھے اور مجھے یہ بات بری لگ رہی ایک دبلے پتلے چہرے والے ‘ تھی۔ میں نے علی سے پرس لیا۔ اس میں چھوٹے بڑے کرنسی نوٹوں کے علاوہ نوجوان کی پاسپورٹ سائز تصویر بھی لگی تھی۔ اس کے نقوش کچھ جانے پہچانے سے لگ رہے تھے۔ میںنے پرس اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا۔ دونوں چیزیں اس کے مالک کو واپس کرنا پڑیں گی۔ ہم نے ظلم نہ چاہنے کے باوجود میرا لہجہ ‘‘ سے پنجہ آزمائی کی ہے۔ چور اور ڈاکو کا لیبل ہمارے لیے مناسب نہیں ہے۔ سپاٹ اور سخت ہوگیا تھا۔
بھراجی! موٹر سائیکل اور پرس ہم نے کسی ’’شوکے نے قدرے ہکلاہٹ سے کہا۔ ‘ ان دنوں کے چہرے اتر گئے ‘‘ عام بندے سے نہیں چھینے۔
میں نے اس کے چہرے پر نظریں جمائیں۔
آپ کو وہ پولیس والا تو نہیں بھولا ہوگا جو آپ اور ہیرے کے ’’ لمحاتی وقفے کے بعد اس نے دوبارہ کہا۔ ‘‘ خنجروں کے آگے میاں ذوالفقار کو بچانے کے لیے آگیاتھا؟
میرے ذہن میں جھماکا سا ہوا اور یاد آگیا کہ پرس میں لگی تصویر اس پولیس اہلکار سے خاصی مشابہہ تھی۔ یقینا تصویر والا نوجوان اس کا خونی رشتے دار تھا۔
اس حرامی کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ میاں ذوالفقار ابھی تک زندہ ہے تو ’’ مجھ سے پہلے وجاہت بولا۔ ‘‘ صرف اسی کی وجہ سے۔
وجاہت نے صحیح کہا تھا بلکہ میری گرفتاری کا سہرا بھی اسی کے سر تھا۔ میرا اثبات میں سرہلتا دیکھ کر شوکے نے مزید کہا۔
کا رہنے والا ہے۔ یہ موٹر سائیکل اورانعام شنام اسے ‘‘ کھوہ والی ’’ اس پولیس والے کانام ملک سعید ہے اور ’’ ‘‘ بیگھے ملوں نے دیا ہے۔
ہم چکری کاٹ کر کھوہ والی کی طرف سے آرہے تھے کہ ملک سعید کا چھوٹا بھائی شامت اعمال سے موٹر سائیکل اور انعام ‘ہم جھپٹ پڑے ‘ بس‘ملکوں کے سارے خاندان کوجانتا ہے‘ ہمارے سامنے آگیا۔ علی اس نے ایک ہی سانس میں ساری تفصیل بتادی تھی۔ ‘‘ کے بارے میں اس چھوکرے نے خود ہی بتادیا۔
‘‘ یہ تو ٹھیک ہے مگر آئندہ احتیاط کرنا۔ ’’
ٹھیک ہے بھراجی! شوکے نے تابعداری سے کہا۔ ’’
انعام کے اعلان کے سبب اب ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔ میں نے ایک انجکشن خود کولگایا اور سب کوسونے کے لیے بھیج کر خود باورچی خانے کی چھت پر چڑھ کر چادر اوڑھی اور چمنی کے ساتھ پشت میرے کندھے سے لگی تھی۔ سیاہ چادر نے مجھے چھپالیا تھا اور میں اس بلند 47کے ‘ لگا کر بیٹھ گیا۔ اے مقام سے گردوپیش پرنگاہ رکھ سکتاتھا۔
کتے کچھ دیر نیچے بے چینی سے چکراتے رہے پھرادھرادھر نکل گئے۔
خوراک اور دوائی نے اپنا اثر دکھایا تھا۔ ان تین دنوں میں ‘ میں اچھا خاصا ہوگیا۔ آرام ‘ اگلے تین دنوں میں کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا۔ ایک دن صرف ایک مضبوط جسامت کا سانولا سا نوجوان باغ میں آیا تھا۔ ہم پانچوں نے چھپنے کے لیے ایک اور جگہ بھی بنالی تھی۔ یہ گندم کے بھوسے کابہت بڑا ڈھیر تھا۔ جسے مٹی ہم نے اس کے اندر سرنگ سی بنالی تھی۔ یہ کام ہم نے ر اتوں کو باری باری جاگ ‘ سے لیپ دیاگیا تھا کرگردوپیش پرنظر رکھنے کے دوران انجام دیا تھا اور آپس میں طے کیا تھا کہ حسینی کوبھی اس خفیہ
ٹھکانے سے بے خبر رکھا جائے۔ جلانے کی کانٹے دار لکڑی کے ذریعے اس سرنگ کادہانہ بڑے اچھے طریقے سے چھپایا جاسکتاتھا۔
وہاں سے ہم نے اسے دیکھا تھا۔ حسینی ‘ ہم باغ کے ایک دور افتادہ کونے میں تھے ‘ جس وقت وہ نوجوان آیا ڈیڑھ گھنٹا وہاں رہا تھا۔ ‘ نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا۔وہ نوجوان ایک
بعد میں حسینی نے بتایا کہ وہ نوجوان اس کاسالا تھا اور اکثر بہن کے پاس آتارہتاتھا۔ حسینی نے اپنی کسی کوبھی ہمارے بارے ‘ بیوی شادو کوسختی سے منع کیاتھا کہ بے شک اس کابھائی ہی کیوں نہ ہو میں نہ بتایا جائے۔
حسینی نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ اس کاسالا آج کل دوبئی جانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہاتھا۔ یہ اسی رات کاواقعہ ہے۔ میں اور وجاہت شبینہ ڈیوٹی نبھارہے تھے۔ اپنی مغوی منگیتر کے لیے اس کی بے چینی دیدنی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا دل کٹا جارہاتھا۔
اچانک ہی بے خودی اور کچھ کرنے کی مضبوط لہر اٹھی اور مجھے بہالے گئی۔ میں نے وجاہت کے ہاتھ پر اپنی منگیتر ‘‘ نازو کا چل کر پتا کرتے ہیں۔ ‘چل اٹھ وجاہت’’ہاتھ رکھا۔ ا س نےیہی نام بتایا تھا۔ ً کاغالبا
اس کی آواز میں پراشتیاق لر زش تھی۔ ‘‘کہاں سے ؟’’ میرے لہجے وانداز سے چونکا۔ ‘ وہ
‘‘ جو تمہاری نظر میں آسان ہدف ہو؟ ‘ تم نے بھیگے ملوں کا کوئی ایسا ڈیرہ دیکھ رکھا ہی ’’
میرا مطلب سمجھ گیا تھا اس نے اثبات میں سرہلایا تو میںنے ‘ وہ ‘ اس کے وجیہہ چہرے پر چمک ابھری کہا۔
ورنہ ایک آدھ بندہ تو گراہی ‘ مل گیاتوحلق چیر کرنازو کا پتااگلوالیں گے ‘ کوئی بیگھے مل ‘ تو پھر نکلتے ہیں ’’ ‘‘ آئیں گے۔
اس دن مجھے پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ کچھ کر گزرنے کاپختہ ارادہ ہو تو لہجہ کتنا جاندار ہوجاتا ہے اور مدمقابل پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
وجاہت نے مجھے بڑی خاص نظروں سے دیکھا۔ میرے سینے میں مچلتے طوفانوں سے محض نگاہوں کے ایک ہی ملاپ سے وہ آشنا ہوگیا اور اس طوفان نے اسے بھی قدموں سے اکھاڑ لیا۔
اصولی طو رپر تو ہمیں اپنے بے خبر اور مطمئن سوئے ہوئے ساتھیوں کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے وہ اختلاف رائے کے بالکل حق میں نہیں تھی۔ ہمارے درمیان نہ ‘ مگر ہم جس کیفیت کے زیر اثر تھے ‘تھا جانے کون سا رشتہ استوار ہوگیاتھا کہ بغیر کچھ بولے ہم ایک ہی انداز میں سوچنے لگ گئے تھے۔
اس کی چمک ‘ سیمی آٹومیٹک اور ایک پسٹل ہمارے پاس تھے۔ وجاہت نے چھینا ہوا موٹر سائیکل نکالا لشکارے مار رہاتھا۔ ‘‘ جوبن ’’ دمک چھپانے کے لیے ہم نے اس پر کیچڑ مل دیاتھا مگر کہیں کہیں سے اس کا ً اس کاایندھن والا ٹینک تقری با فل بھرا ہوا تھا۔
ہم نے موٹر سائیکل کو دھکیل کرباہر نکالااور آہستگی سے دروازے کو باہر سے کنڈی لگادی۔ موٹر سائیکل باہر سرد رات پھیلی تھی اور فصلوں پر کہر کی چادر سی پھیلی ‘ دھکیل کر ہم محفوظ فاصلے تک لے آئے سیاہ چادریں جسم کے گرد لپیٹ رکھی تھیں اور منہ مفلروں میں چھپا رکھے تھے۔ ‘ تھی۔ ہم نے گرم
وجاہت ‘ وجاہت نے موٹر سائیکل کاانجن اسٹارٹ کیاتو پرسکوت رات کا سارا سکوت درہم برہم ہوگیا۔ میں رائفل میرے پاس تھی۔ اسے میں نے گھٹنے پررکھ کراوپر چادر پھیلا لی تھی۔ رائفل کا ‘ کے پیچھے بیٹھ گیا سیفٹی کیچ ہٹا ہواتھااور میں اسے بے دریغ استعمال کرنے کے لیے تیار تھا۔ اس رائفل کے استعمال کی ً تکنیک بھی تقری جیسی تھی۔ مزید بابو نے اس کے موثر استعمال کا طریقہ بھی 47کے ‘ با اے سمجھادیاتھا۔
موٹر سائیکل فصلوں کے درمیان سے پگڈنڈی نما راستے پر آگے بڑھ رہاتھا۔ انجن کی آواز نے شب بیدار ‘ جانوروں کوبے چین کردیاتھا۔ کتوں اور گیدڑوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ بغیر ہیڈ لائٹ روشن کیے اس سرد اورتاریک رات میں ستاروں کی چادر کے نیچے وہ ایک یادگار سفر تھا۔
وجاہت اس راستے کاشناور تھا۔ اس لیے مناسب رفتار سے موٹر سائیکل دوڑا رہاتھا۔ آدھے گھنٹے میں ہم کینوؤں کے باغات ‘ پختہ سڑک پرپہنچ گئے۔ یہی برانچ روڈ اس ٹریک تک جاتی تھی جو میرا پسندیدہ تھا کے ساتھ ساتھ کا کچا راستہ جو سیدھا میرے گائوں تک جاتاتھا۔
میرے لیے مناسب نہیں ‘‘ سیدھا راستہ ’’ ‘ میرے دل سے ہوک سی اٹھی۔ اب میں جن راہوں کا مسافر تھا تھا۔ اس سیدھے راستے پرپولیس کے ناکے تھے۔ اس بات سے وجاہت بھی باخبر تھا۔ اس نے فصلوں کے درمیان متوازی راستے کومنتخب کیاتھا۔ اب ہیڈ لائٹس جلانا ضروری ہوگیا تھا۔
اس کاہدف وجاہت کی ‘ ہم ایک ڈیرے کے پاس سے گزرے تو رکھوالی کاتنومند کتا بھونکتا ہوا ہم پرجھپٹا ٹانگ تھی۔ میرا ہاتھ برق رفتاری سے حرکت میں آیا اور محض لحظہ بھر پہلے رائفل کا وزنی کندا پوری قوت سے کتے کی کھوپڑی سے ٹکرایا۔ کتے کے حلق سے تکلیف زدہ غراہٹ ابھری اور وہ تیورا کر گرا۔
آپ ’’ وجاہت نے کتے کے حملے کے سبب ڈگمگا تے موٹر سائیکل کو سنبھالتے ہوئے توصیفی انداز میںکہا۔ انجن کے شور کے ‘ خوب چل پڑا ہے۔ میں تو سمجھا تھا موزی پنی(پنڈلی) سے گوشت لے گیا ‘‘ہاتھ’’کا تو سبب اسے اونچی آواز میں بولنا پڑرہاتھا۔
میں دھیرے سے ہنس پڑاتھا۔ ‘ جواب میں
چند اور کتوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ہمیں دو دفعہ موٹر ‘ ہمارا سفر ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہا ہم اپنے گائوں کے نواح ‘ سائیکل کوکندھوں پر اٹھا کر ٹھنڈے یخ پانی کے کھالے عبور کرنے پڑے تھے۔ آخر کار میں پہنچ گئے۔
گائوں کے باہر پیرمکی شاہ کے مزار سے متصل چھوٹے سے قبرستان میں جال کے ایک درخت کی زمین تک پہنچی شاخوں کے اندر موٹر سائیکل کو ہم نے چھپادیا۔ وجاہت نے اس کالاک بھی لگا دیاتھا۔راستے تو میرے بھی دیکھے بھالے تھے مگر رہنمائی کی تمام تر ذمہ داری وجاہت نبھارہاتھا۔
جسے عرف عام ‘ وہاں سے نکل کر ہم نے پہلی دفعہ پولیس اہلکار دیکھے۔ یہ مخصوص پولیس گاڑی تھی میں ڈالا کہا جاتا تھا۔ عقبی نشستوں پر دو اہلکار ہلکے کمبل اوڑھے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ ڈرائیونگ کیبن میں البتہ ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ وہاں جو بھی موجود تھا شاید جاگ رہا تھا۔
مگر ہمارے سامنے کچھ اور ‘ ہم چاہتے تو باآسانی ان اہلکاروں کو باندھ کر ہتھیار وغیرہ چھین سکتے تھے مقصد تھا ۔ اس لیے ہم وہاں سے کترا کر نکل گئے۔
کچے نیچی چھتوںوالے مکانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے وجاہت کے قدم سست پڑگئے۔
اس کی آواز ان بہے آنسوئوں کے سبب بھیگ گئی تھی۔ ‘‘ یہ سامنے والا کوٹھا(مکان) نازو کاہے۔ ’’
اس مکان کے سلاخ دار روشن دان سے دیے کی مدھم روشنی چھن رہی تھی۔ ‘ میں نے نگاہ اٹھائی
وجاہت کی نظریں دیے ‘‘ نازو کی ماں مصلے پر بیٹھی اس وقت بھی بیٹی کی سلامتی کے لیے دعاگو ہے۔ ’’ کی مدھم روشنی پرتھیں اور چہرہ بھجے دیے کاعکس بن گیاتھا۔
‘ میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کرمسل دیاتھا ۔ میرے پاس رات کے اس پہر بیٹی کے لیے دعا گو آنسو بہاتی ماں اور دل گرفتہ وجاہت کوحوصلہ دینے کے لیے الفاظ ہی نہیں تھے۔ بے اختیار میری نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ روشن ستاروں سے اوپر بہت اوپر ایک ایسی عظیم وبرتر ہستی موجود تھی جو مگر وہ ہستی جب اس رسی کو کھینچتی ہے تو ‘ سب دیکھ رہی تھی۔ بے شک ظلم کی رسی دراز ضرور ہے ظالموں کی گردنیں ٹوٹ جاتی ہیں۔
اس واحد ویکتا ہستی کے تصور وایمان نے میرے دل کو ہمت وطاقت سے بھر دیا۔ میں نے وجاہت کاہاتھ ‘‘ چل یار! آج اس مظلوم کے لیے کچھ کرکے ہی لوٹیں گے۔ ’’تھاما۔
وجاہت نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامااور اس کے قدموں میں دوبارہ سے تیزی آگئی۔ دس منٹ کے بھراجی! اسی کنویں کے پاس نازو ’ ’ پراحتیاط سفر کے بعد ہم ایک کنویں کے پاس سے گزرے تو وجاہت بولا۔ نے اس کتے ذوالفقار کے منہ پر تھپڑ مارا تھا اور پھربے غیرت سوروں کا جتھااسے گھسیٹ کر اس ڈیرے پر اس کی آواز غم وغصے کے سبب لرز رہی تھی۔ ‘‘ لے گیاتھا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: