Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 8

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 8

کنویں سے کچھ ہی فاصلے پر تاریکی میں ڈوبی کچی چار دیواری نظر ‘ میں نے اس کی نگاہوں کا تعاقب کیا آرہی تھی۔
یہاں بیگھے ملوں نے آسٹریلوی نسل کی گائیں پالی ہوئی ہیں۔ اور اس ڈیرے کو ’’ وجاہت نے مزید کہا۔ ‘‘ حرام کاری کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
‘‘ اس کی خبر دے سکے۔ ‘ ناوز کو یہاں لایا گیا تھا تو پھر ضرور یہاں کوئی ایسا بندہ موجود ہوگا جو ہمیں ’’ میں نے خیال آرائی کی۔
میں زبانی کلامی تو کوشش کرچکاہوں۔ یہاں سے نازو کو جیپ میں ڈال کروہ حرامی کہیں اور لے گیا تھا۔ ’’ میاں ذوالفقار کے ذکر کے ساتھ ہی اس دفعہ پھر اس کی زبان نے آگ اگلی تھی۔ ‘‘
میںنے رائفل کو تھپتھپایا۔مجھے یقین تھا کہ یہاں سے ‘‘ آج اس کالے منہ والی بلا کا کرشمہ دیکھتے ہیں۔ ’’ نازو کا کچھ نہ کچھ پتا چل جائے گا۔
ہم اس مکروہ چار دیواری سے کچھ اور نزدیک ہوگئے۔ فضا میں کتے کی مہیب آواز ابھریی تووجاہت بولا۔ اس نے ‘‘ یہاں دوبوہلی کتے ہیں۔ بوہلی نسل کے کتے بہت دور سے اجنبی کی باس سونگھ لیتے ہیں۔ ’’ میری معلومات میں اضافہ کیا۔
دیکھ ’’ ایک عجیب سی ترنگ وجوش میرے وجود میں سرایت کرچکی تھی۔ جس کے زیراثر میں نے کہا۔ ‘‘ د واور چار ٹانگوں والے کتوں کو۔ … لیتے ہیں آج

آپ تو یکسر تبدیل ’’ وجاہت نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھااور قدرے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ‘‘ ہوگئے ہیں۔ میںنے تو آج تک آپ کو کسی سے لڑتے تو کیا تلخ کلامی کرتے بھی نہ دیکھا ہے نہ سنا ہے۔
پہلے کبھی کسی نے ہمارے مچھلی فارم کے تالاب ’’ میرے ہونٹوں پر ایک زخمی سی مسکراہٹ دوڑگئی۔ اور نہ ہی میرے باپ کو بے دردی کے … امیدوں کوبھسم بھی تو نہیں کیا ‘ میں زہر ڈال کر ہماری خوشیوں آتش سیال میری آواز ‘‘ ان کی طرف انگلی بھی نہیں اٹھائی۔ ‘ ساتھ گولیوں سے چھلنی کرناتو ایک طرف رہا کے ساتھ بہنے لگا تھا۔
وجاہت کو چپ سی لگ گئی اور اس کی نظریں زمین پر گڑھ گئیں۔ اچانک ہی وہ چونکااور پھر نیچے بیٹھ گیا۔ اس وقت ہم ایک کچی پگڈنڈی پر تھے۔ اس کے انداز نے مجھے بھی چونکا دیاتھا۔
اس نے جیب سے پینسل ٹارچ نکالی اور اسے آن کرکے اس کے ننھے سے روشن دائرے کی مدد سے پگڈنڈی پر کچھ دیکھنے لگا۔
میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ ‘‘ کیا دیکھ رہے ہو؟ ’’
اس نے ہیجان زدہ انداز میں کہا۔ ‘‘ بڑے میاں کی لینڈکروزر کے ٹائروں کے تازہ اور یک طرفہ نشان ہیں۔ ’’ ‘‘ اس کامطلب ہے وہ یہاں موجود ہے۔ ’’
سنسنی کی ایک اونچی لہر میرے اوپر سے گز رگئی۔ اگر بڑے میاں یہاں موجود تھا تو نہ صرف ان کی گردن دبا کرنازو کو بازیاب کروایا جاسکتاتھا بلکہ اس کی گردن بھی توڑی جاسکتی تھی۔
بڑے میاں کارات کے اس پہر یہاں کیا کام ’’
اور ٹائروں کے نشان ابھی ‘ لینڈ کروزر کھالے سے گزر کر آئی ہے ’’ وجاہت نے الجھن آمیز انداز میں کہا۔ ‘‘ ہے؟ گیلے ہیں۔ اسے آئے ہوئے زیادہ ٹائم نہیں گزرا۔ اس نے کسی ماہر کھوجی کی طرح خیال آرائی کی۔
‘‘ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ‘ شاید قدرت ہماری مدد کررہی ہے۔ آئو ’’
وجاہت اٹھ کھڑا ہوا۔ ٹارچ بجھا کر اس نے جیب میں ڈال لی تھی۔
اسی وقت فضا میں آہنی گیٹ کھلنے کی آواز ابھری۔ مایوسی نے مجھ پر یلغار کی۔ کیا بڑے میاں واپس جارہاتھا۔ تیز رفتار اور مضبوط باڈی کی کروزر کومحض ایک سیمی آٹومیٹک اور پسٹل سے روکنا ناممکن حد تک مشکل تھا۔اس خیال نے وجاہت کو بھی پریشان کردیاتھا۔ پھر یہ دیکھ کر ہم نے اطمینان کا سانس لیا کہ ڈیرے کے گیٹ سے گاڑی کی بجائے ایک گھڑ سوار برآمد ہوا۔ تاریکی میں وہ تاریکی کاہی حصہ نظر آرہا تھا۔ اس کے عقب میں گیٹ دوبارہ بند ہوگیاتھا۔
پراسرار گھڑ سوار نے ہمیں الجھن میں مبتلا کردیاتھا۔ ہم نے ڈیرے پرحملہ آور ہونے سے پہلے اس گھڑ سوار لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ڈیرے پربڑے میاں کی یقینی موجودگی اور لوکیشن کے بارے میں ‘‘خبر’’ کی کارآمد معلومات مل سکتی تھیں۔
جس پر ابھی بھی میاں ذوالفقار کا خون خشک ہو کر جما ‘ میری پنڈلی سے ابھی تک وہ خنجر بندھا ہوا تھا ہوا تھا۔ وہی خنجر اس گھڑ سوار کی زبان کھول سکتاتھا۔
گھڑ سوار کا رخ ہماری طرف تھا۔ ہم ایک کیکر کے درخت کی اوٹ میں تھے۔ رائفل میں نے وجاہت کوپکڑوا دی تھی۔
میں نے جست بھری ‘ جیسے ہی گھڑ سوار زد میں آیا
میرے اچانک حملے کے ‘ گھوڑا ہنہنایا ‘ اورگھوڑے کی پشت سے اسے لے کر ہل چلے کھیت کی نم مٹی پر گرا میرے سر ‘ سبب مدمقابل کے حواس ایک لحظے کے لیے گم ہوگئے تھے۔ میں نے اس لحظے سے فائدہ اٹھایا وہ چیخا تو میں نے اس کامنہ دبادیا۔ ‘ کی زور دار ٹکر اس کے چہرے پر لگی
وہ جنگلی بلے کی مانند غرارہاتھااور اس کے ‘ اگلے چند لمحے ہم دونوں کے درمیان سنگین کشمکش ہوئی اس کے گھٹنے کی کئی ضربیں میں نے پسلیوں پر برداشت کیں مگر اسے ‘ توانا جسم میں خاصازور تھا اپنے نیچے سے نکلنے نہیں دیا۔
میںنے تو چادر پہلے ہی اتار دی تھی۔ اس کشمکش میں مد مقابل کی چادر بھی گر گئی اور قمیص سامنے سے پھٹ گئی تھی۔ اس کشمکش کااختتام وجاہت نے کیا۔ اس نے بڑھ کررائفل کے کندھے کی زور دار ضرب مد مقابل کے سر پر ماری تو اس کے ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑ گئے۔
میںخنجر نکال کر اس کے پیٹ پر سوار رہا۔ وجاہت نے دوبارہ ٹارچ جلا کر اس کے چہرے پر روشنی ڈالی۔ اس کی گردن میرے ناخنوں کے سبب چھل گئی تھی اور وہاں سے خون رس رہاتھا۔ پھٹ جانے والی قمیص کے نیچے اس نے شلوکا پہن رکھاتھا۔ جس کی جیبوں سے سبز اور نیلے نوٹوں کی گڈیاں جھانک رہی تھیں۔ اس کے چہرے پرنظر پڑتے ہی مجھے جھٹکا سا لگا۔ ایک لحظے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے زمین وآسمان کے قلابے مل گئے ہوں۔
وجاہت کی کیفیت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی ۔
ٹھیک یہی وقت تھا جب محسوس ہوا کہ بیگھے ملوں کاپورے کا پورا ڈیرہ جیسے بیک وقت جاگ اٹھا ہے ۔
…٭٭٭…
جن کا انعکاس چار دیواری کے اوپر فضامیں ‘ بیگھے ملوں کے ڈیرے میں تیزی سے روشنیاں جل اٹھی تھیں ہوا کے دوش پر سوار چند پرغضب وپرجوش آوازیں بھی ہماری سماعت سے ٹکرائی تھیں ‘نظر آرہا تھا اوراس کا سبب بخوبی سمجھ میں آرہاتھا۔
جرم کی بے کنار دنیا میں قدم رکھتے ہی پہلا تلخ ترین تجربہ حاصل ہوگیا تھا۔ میرے گھٹنوں کے نیچے شادو کا بھائی تھا۔ حسینی کا سالا۔ …کسمساتا ہوا مضبوط جسم کا نوجوان
اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی غرض سے یقینا اس نے بہن کے ساتھ مل کر کھچڑی پکائی تھی اور اپنے بہنوئی کے مہمانوں کو بیگھے ملوں کے ہاتھ بیچا تھا۔ اس کے سلوقے کی جیبوں میں سے جھانکتی خطیر تھی جو بیگھے ملوں نے ہمارے بارے میں اطلاع دینے والوں کو دینے کااعلان کی ‘‘ انعامی رقم ’’ رقم وہی اتھا۔ انہیں اطلاع مل گئی تھی اوروہ ہمارا خون پینے کے لیے نکلنے کی تیاری میں تھے۔خدا جانے حسینی کی آشیر باد اسے حاصل تھی یا دونوں بہن بھائی نے بالا بالاہی یہ کارنامہ انجام دیاتھا۔ پہلی دفعہ میرے وجود میں خون آشام سختی وبے رحمی نے جگہ بنائی۔ میں نے اسے بری طرح جھنجوڑا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ وجاہت نے نفرت آمیز گالی کے ساتھ ایک ٹـھوکر اس کے سر پر ماری۔ چند لمحے اسے مجھے پہچاننے میں لگے۔ پہچانتے ہی اس کارنگ مٹی جیسا ہوگیا۔
میاں ذوالفقار کے خون میں لتھڑا ہوا خنجر نکال کر میں نے اس کی شہ رگ پر رکھا۔
مجھے اپنی آواز کی وحشت خود ‘‘ مخبری کے بدلے میں ملنے والے انعام میں حسینی کا حصہ کتنا ہے؟ ’’ حسینی کی طرف سے مطمئن ہونا چاہتاتھا۔ ‘ بھی اجنبی لگی تھی۔ میں
میرے لہجے نے اس کے رہے سہے ہوش بھی اڑادیئے ۔
‘‘ شادو نے دو نیلی بھینسیں لینی تھیں۔ ’’ اس نے بمشکل جواب دیا۔ ‘‘ اسے پتانہیں ہے۔ …ا’’
میرے ساتھ ساتھ جاہت کے اوپر سے بھی منوں بوجھ اتر گیا۔ خاص طور پر وجاہت نے طمانیت کاگہرا سانس لیاتھا۔ حسینی کی دوستی کسوٹی پر پوری اتری تھی۔
بے رحمی پوری طرح میرے وجود میں جگہ بناچکی تھی۔ غیرارادی طور پر ‘‘ اور تونے دوبئی جانا تھانا؟ ’’ میرے خنجر والے ہاتھ کا دبائو بڑھ گیاتھا۔ خنجر کی دھار کے نیچے اس کی کھال کٹ گئی تھی اور وہاں سے خون رسنے لگا تھا۔
مجھے معاف کردے جٹا! دوبئی کے خوابوں نے مجھے …مم’’ اس نے بمشکل اثبات میں سرہلایااور گھگھیایا۔ ‘‘ اندھا کردیاتھا۔
میں نے اس کی گردن سے خنجر ہٹالیا۔ اس کے چہرے پرزندگی کی رمق ابھری جبکہ وجاہت کی اضطرابی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
‘‘ اسے چھوڑنا نہیں ہے۔ ’’
میرابھی اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس کی گردن کٹتی تو سینے سے لگے کرنسی نوٹ خراب وہ بجلی کی طرح تڑپااور اسی پل میرا خنجر ‘ ہوجاتے۔ پلک جھپکتے ہی میری ہتھیلی اس کے منہ پر جمی دستے تک اس کی پسلیوں میں اتر گیا۔ میں نے خنجر کھینچا تو مضروب جگہ سے خون کا فوارہ نکل
کرمیری ران کوبھگونے لگا۔ وہ جان کنی کے عالم میں تڑپ رہاتھا۔اسے سنبھالنا خاصا مشکل ہورہاتھا۔ میں ہڈیاں کٹنے کی کڑکڑاہٹ گونجی اور ہاتھ سے لے کر بازو تک ‘ نے دوبارہ خنجر اس کی پسلیوں میں گھسیڑا سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔
ایک بے رحم سی وحشت نے مجھے سر سے ‘‘ بھیج رہا ہوں۔ ‘‘آگے’’ میں تجھے دوبئی سے بھی بہت ‘چل’’ پائوں تک ڈھانپ لیا تھا۔
شدت تکلیف سے اس غدار کے چہرے کے نقوش مسخ ہوگئے تھے۔ میں نے خنجر اس کی پسلیوں میں چھوڑااور اس کے سلوقے میں سے نوٹوں کی گڈیاں اٹھا کر وجاہت کی طرف بڑھائیں۔ ان میں سے دو لاکھ وجاہت نے خفیف سی کپکپاہٹ کے ‘‘ حسینی کو دے دینا۔ دوسری شادی کے لیے اس کے کام آئیں گے۔ ساتھ نوٹ تھام لیے۔
حسینی کے غدار سالے کے ہونٹوں سے بھی خون کا اخراج شروع ہوگیا تھا۔ خنجر نے یقینی طور پر اس کے اندرونی اعضا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ موت کی طرف کالمحاتی سفر آخری مراحل میں تھا۔ میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹالیا۔ اس کے حلق سے خرخراہٹ کی بھیانک آواز کے ساتھ خون ابلنے لگا۔ جان کنی کے عالم میں وہ ایڑھیاں رگڑ رہاتھا۔
اس کے منہ سے نکلنے والا خون میرے ہاتھ پر بھی لگ گیاتھا۔ میں نے ہاتھ اس کے کپڑوں سے صاف کیا اور خنجر بھی کھینچ کر صاف کرکے پوشیدہ کرلیا۔
وجاہت نے مردار کی طرح اسے ایک ٹانگ سے پکڑ کر کھینچااور چند جھاڑیوں کی اوٹ میں کردیا۔ اس کا گھوڑا ایک طرف ہر چیز سے لاتعلق سا کھڑا تھا۔ بیگھے ملوں کے ڈیرے پر سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ کسی ٹریکٹر کے انجن کی بھی آواز سنائی دینے لگی تھی۔ معلوم نہیں ہماری کمین گاہ پر ان کا اپنے کارندوں کی مدد سے دھاوا بولنے کاارادہ تھایاپولیس کی مدد لینے کابھی جو بھی ہوتا ہمیں جلد از جلدحسینی کے باغ تک پہنچ کراپنے ساتھیوں کووہاں سے نکالنا تھا۔
اس لیے میرا پہلا قتل ایک غدار کاتھا۔ میرا جسم ابھی تک سنسنارہاتھا۔ ‘ میاں ذوالفقار ابھی تک زندہ تھا
قبرستان تک گھوڑے ’’ وجاہت کو بھی حالات کی سنگینی کااحساس تھا۔ اس نے مضطرب لہجے میںکہا۔ ‘‘ وقت بہت کم ہے۔‘ پر چلتے ہیں
میں نے اثبات میں سرہلایااور ہم دونوں گھوڑے کی پشت پر سوار ہوگئے۔ باگ وجاہت کے ہاتھ میںتھی۔ دو اچھے خاصے صحت مند نوجوانوں کابوجھ مریل سے گھوڑے پر گراں گزر رہاتھا۔ وجاہت اسے ہرممکن تیزی سے ہانکنے لگا۔
ہم پولیس وین کو کاٹ کر گزرے وہاں ابھی تک خوابیدگی کا عالم تھا۔ قبرستان میں جال کے درخت کے ہمارا پہلا اندازہ تھا کہ ‘ وہاں موجود نہیں تھا 125 نیچے ایک اور مایوسی ہماری منتظر تھی۔ ہمارا چھوڑا ہوا ہم غلط جگہ پہنچے ہیں مگر کچھ ہی پلوں میں یہ بات غلط ثابت ہوگئی۔
ہم درست جگ س ک ی نے ہمیں وہاں موٹر سائیکل کھ ڑا ً ہ پر پہنچے تھے مگر چوروں کومور پڑگئے تھے۔ غالبا کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ہمارے اغراض ومقاصد سے زیادہ اسے موٹر سائیکل میں دلچسپی محسوس نے ڈھونڈ نکالا ‘‘چور’’ ہینڈل لاک موٹر سائیکل کو لے جانا خاصا مشکل تھا۔ جس کا آسان حل ہمارے ‘ ہوئی تھا۔ کچی زمین پر کسی چھکڑے کے پہیوں کے نشانات تھے۔ یقینا موٹر سائیکل کولاد کر لے جایا گیا تھا۔ اب کیا کریں؟ تاخیر کامطلب ہے ہمارے ساتھی ’’ نامعلوم چوروں کی ماں بہن ایک کرنے کے بعد وجاہت بولا۔ ‘‘ بے خبری میں مارے جائیں۔
‘‘ اسی پر چلتے ہیں۔ ’’ میں نے گھوڑے پرنظر ڈالی۔
ہمیں اٹھا کر حسینی کے باغ تک لے جانا اس ‘ یہ یہاں تک لے آیا ہے بہت ہے ’’ اس نے مایوسی سے سرہلایا۔ اس کے لہجے ‘‘ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس سے زیادہ تیزی سے تو ہم پیدل وہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ میں بھی مایوسی در آئی تھی۔
اچانک ہی ایک خیال نے مجھے پرجوش کردیا۔ گھوڑا دونوں کو نہیں ایک فرد کوتو تیز رفتاری کے ساتھ وہاں تک لے جاسکتاتھا۔ میں نے اس قابل عمل خیال سے وجاہت کو آگاہ کیا ہی تھا کہ ایک للکارا گونجی۔
‘‘ ہاتھ اوپر کرلو اوئے! ورنہ خیر پٹادوں گا۔ ’’
اونچی نیچی قبروں اور جال کے درختوں کے درمیان سے ‘ ایک لحظے کے لیے ہم بھونچکا رہ گئے۔ اندھیرے گزرتی پگڈنڈی پر کھڑے ہمارے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ واقعی ہم کسی کے نشانے پر ہیں یا محض بولنے والا بلف کروارہا ہے۔
آواز کڑکی ۔ ماخذ ایک اونچی قبر کا عقب تھا۔ ‘‘ سنا نہیں اوئے! ’’
وجاہت نے آہستہ سے ہاتھ ‘ فیصلے میں ایک لحظے کی تاخیر ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا سکتی تھی لگتا ہے کوئی ‘ آپ پکی قبر کی طرف ‘ میں درخت کی طرف چھلانگ لگاتاہوں ’’ اٹھاتے ہوئے سرگوشی کی۔ ‘‘ پلسیا ہے۔
میںنے بھی اس کی تقلید میں ہاتھ اٹھائے۔ آنکھیں ملتے ہی ہم بیک وقت حرکت میں آئے۔ کان پھاڑ دینے والے دھماکے کے ساتھ مجھے محسوس ہوا کہ میرے کان کے قریب سے کوئی جیٹ طیارہ گزراہے۔
قبر پر گرتے ہی میں رول کرتا ہوا دوسری طرف گرا۔ فطری ردعمل کے طور پر میرا ہاتھ پسٹل کی طرف ہدف وہ گھنا درخت تھا جس کے پیچھے وجاہت نے چھلانگ ‘ گیاتھا۔ پسٹل ہاتھ میں آیا تو دوسرا فائر ہوا لگائی تھی۔
میں نے یکے بعد دیگرے دو فائر اس قبر کی طرف جھونک دیئے۔ جس کے عقب سے آواز ابھری تھی۔ پل بھر میں تاریک رات کا سکوت درہم برہم ہوگیا۔ وجاہت کی سیمی آٹومیٹک بھی گرجی اور برق رفتار انگارے قبر کے تکیے کو ادھیڑ گئے۔ ً فورا ہی فضا پولیس وسل کی منحوس آواز سے گونج اٹھی۔ اچانک ہی میں نے وجاہت کو دیکھا تووہ درخت کے عقب سے نکلااور ایک اونچی چھلانگ کے ساتھ میری طرف آیا۔میں نے اسے بانہوں میں سنبھالا شاید رفع حاجت کے لیے آنے والا کوئی پلسیا تھا۔ ‘ جلد سے جلد یہاں سے نکلیں ’’ تووہ ہیجانی آواز میں بولا۔ اس نے ہمیں معمولی چور اچکے جان کر روکا تھا۔ ہماری طرف سے فائرنگ ہوتے ہی وہ حرامی اپنے اس وقت ایک اور سنگل شارٹ ہمارے اوپر سے گزرااور ‘‘ ساتھیوں کومطلع کرنے کے لیے سیٹیاں بجا رہا ہے۔ کسی انجن کی گھوں گھوں بھی سنائی دینے لگی تھی۔وجاہت نے میرا ہاتھ دبایا اور ہم کرالنگ کے انداز میں پیچھے سرکنے لگے۔ اندازے سے مسلسل ہماری طرف فائرنگ ہو رہی تھی مگر ہم نے جوابی فائر کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی حماقت نہیں کی۔ کچھ ہی دیر جاتی تھی یہ قبرستان پولیس کے گھیرے ایسا ہوجاتا تو ہمارے ف رار کی ہرراہ مسدود ہوجاتی۔ ‘ میں آجانا تھا
ایک کچے چبوترے سے اترتے ہی وجاہت نے میرا ہاتھ تھاما اور ہم جھکے جھکے انداز میں قبروں کو پھلانگتے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہماری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوچکی تھیں۔ اس کے باوجود ٹھوکریں لگ رہی تھیں۔
کاشور پیچھے رہ گیاتھا۔ فائرنگ کی ‘جانے نہ پائے‘ کچھ دور آنے کے بعد ہم نے سمت تبدیل کرلی۔ پکڑو آوازوں میں البتہ ورائٹی آگئی تھی۔ سنگل شارٹ کے ساتھ چھوٹے چھوٹے برسٹ بھی سنائی دینے لگے تھے۔
وجاہت ان راستوں کا شناور تھا۔ جلد ہی ہم قبرستان سے باہر تھے۔ ایک کچی پگڈنڈی … شکر کامقام تھا عبور کرکے ہم کھیتوں کے ایک سلسلے میں گھس گئے اور نصف گھنٹے سے زیادہ مسلسل دوڑتے رہے۔ تین دفعہ گرنے کے سبب خود بھی ‘ کھیتوں کو پانی دیاگیاتھا۔ ہمارے پائوں کیچڑ سے بھرگئے تھے اور دو کیچڑ میں لت پت ہوگئے تھے۔ آبپاشی کے ایک متروک کچے کنویں کی منڈیر کے ساتھ ہم لگ کر بیٹھ گئے۔ ہماری سانس دھونکنی کی مانند چل رہی تھی اور دل اپنے ساتھیوں کی طرف سے فکرمند تھے۔
وہ بیچارے یہ سمجھ کر بے فکر سوئے ہوئے تھے کہ ہم دونوں باہر ان کی حفاظت کے لیے جاگ رہے ہیں۔ مگر اپنے جذباتی پن اور ناپختگی کے سبب انہیں بے یارومددگار چھوڑ کر یہاں اپنی جان بچاتے پھررہے تھے۔ کچھ دیر میں بیگھے ملوں نے بے خبری میں ان کے سر پرپہنچ جانا تھا۔ بے بسی کااحساس کچوکے لگا رہاتھا اور یہی کیفیت وجاہت کی بھی تھی۔
ہم کہاں ہیں اور حسینی کاباغ ‘کچھ اندازہ ہے’’ ہمارے سانس معمول پر آئے تو میں نے وجاہت سے پوچھا۔ ‘‘ یہاں سے کتنی دور ہے؟
‘ ہم کرتارے کے ڈیرے کے پاس ہیں۔ بالکل مخالف سمت ’’ جواب میں اس نے عمیق سانس سینے میں اتاری۔ اس کے مایوس انداز نے مجھے بھی ‘‘ باغ تک جانے کے لیے ہمیں واپس اپنے پنڈ کی طرف جانا پڑے گا۔ گھیرلیا۔ ہماری وجہ سے ہمارے ساتھی موت کے دہانے پرپہنچ گئے تھے۔ ہم دونوں ہی خود کومجرم محسوس کررہے تھے۔ خاموشی کی مایوس آمیز دھند نے ہمیں ڈھانپ لیا تھا۔ہمارے پاس جیسے کہنے کے لیے کچھ رہ ہی نہیں گیا تھا۔
کچھ دیر یہی کیفیت رہی پھر میںنے خوش امیدی کا دامن تھاما۔ عین ممکن تھا ان تینوں میں سے کوئی ہمیں ناپاکر وہ سب چوکنا ہوگئے ہوں۔ موٹر سائیکل کی غیر موجودگی یہ ‘ حوائج ضروریہ کے لیے جاگا ہو ثابت کرنے کے لیے کافی تھی کہ ہم ان کی نیند میں خلل ڈالے بغیر کسی کام سے نکل گئے ہیں۔ اس کے بعد ہماری واپسی تک وہ بھلا کہاں چین سے سوسکتے تھے۔(بعد میں میرا یہ قیاس بالکل درست ثابت ہوا)
اچانک ہی میرے ذہن میں کوندا سا لپکا۔ مجھے یاد آیا کہ کچہری میں میاں ذوالفقار پر حملے کے دوران کے ساتھ ہمارے ساتھی 47کے ‘ ہمارے ہاتھ دوپولیس والوں کی رائفلیں لگی تھیں۔ ان دو رائفلوں اور اے بیگھے ملوں کا خاطرخواہ سامنا کرسکتے تھے۔
میںنے پرجوش انداز میں وجاہت سے ان رائفلوں کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے یہ بتا کر مجھے مایوس کردیا کہ کچہری سے فرار ہوتے ہوئے ایک پولیس ناکے کے سبب انہوں نے سرکاری رائفلیں پھینک دی تھیں۔
ذہن میں بغیر کسی واضح پلاننگ کے ہم واپس گائوں کی طرف چل دیئے۔ کچھ دیر بعد ہی ہم پکی سڑک کے قریب پہنچ گئے۔ یہ دیکھ کر ہمیں دوبارہ پچھتاوے کی آگ نے گھیر لیا کہ اس سڑک پر کئی گاڑیاں رواں تھیں۔ ان میں پولیس کے مخص وص ڈالے بھی تھے۔ مسلح افراد سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی اور بیگھے کی طرف جانے کا معروف راستہ تھا۔ رکھ پور ہی وہ گائوں ‘‘رکھپور’’ ملوں کی کئی جانی پہچانی جیپیں ۔ یہ تھا جس کے ایک باغ میں ہمارے ساتھی موجود تھے۔
ہم کافی فاصلے سے بے بسی کے عالم میں قاتلوں کے اس قافلے کو گز رتا دیکھتے رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ بمشکل نصف گھنٹا تھا اس کے بعد انہوں نے ہمارے ساتھیوں کے سروں پر پہنچ جاناتھا۔
بے اختیار میری نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ میں نے صدق دل سے اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی۔ دعامانگ کر دل کابوجھ کچھ ہلکا ہوگااور ایک خیال نے سراٹھایا کہ کیا ہمیں کوئی سواری میسر آسکتی آسکتی ہے مگر اسلحے کے زور پر۔ قریب ہی بخشو ’’ ہے؟ میں نے وجاہت سے استفسار کیا تو اس نے کہا۔ ‘‘ اس کے بیٹے کے پاس موٹر سائیکل ہے۔ ‘کمہار کا مکان ہے
ٹھیک پندرہ منٹ بعد ایک شوقین مزاج دیہاتی نوجوان کا سجاسنورا موٹر سائیکل ہمارے نیچے تھا اور ہم ہرممکن تیز رفتاری سے اسی بمشکل دوفٹ چوڑے غیر ہموار اور کچے ٹریک پر ہچکولے کھارہے تھے جس کے ذریعے ہم رکھپور سے اپنے گائوں آئے تھے۔
رکھپور کے نواح میں پہنچتے ہی گولیوں کی آوازوں نے ہمارا استقبال کیا۔ کچھ دیر بعد یہ محسوس کرکے ہم نے قدرے اطمینان کاسانس لیا کہ یہ فائرنگ دو طرفہ تھی۔ کمزور سی سہی مزاحمت ہو رہی تھی۔ پیپل کے ایک گھنے درخت کے نیچے وجاہت نے موٹر سائیکل روک دیا۔ یہاں سے آگے جانا خطرناک ثابت ہوسکتاتھا۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹیں اور درجنوں ٹارچیں سامنے کی طرف چمک اور لہرارہی تھیں۔ پولیس اور بیگھے ملوں کے مشترکہ لشکر نے حسینی کے باغ کو چاروں طرف سے گھیررکھاتھا اور درجنوں خود کا 47کے‘ کارہتھیار اس طرف گولیاں برسارہے تھے۔ جواب میں کبھی کبھار شارٹ گن گرجتی تھی یااے جو جوابی فائرنگ کی آواز میں دب جاتاتھا۔ میں نے سیمی آٹومیٹک وجاہت کو …مختصر سا برسٹ تھمائی تو اس نے اضطراب میں ڈوبے لہجے میں کہا۔
ہمیں ت ’’ ‘‘ کچھ کرنا ہوگا۔ وہ ینوں زیادہ دیر انہیں روک نہیں سکتے۔ ً فورا
وہ عام لباسوں میں ہیں۔ ہمیں اندھیرے کافائدہ ‘ وردی والوں کے ساتھ بیگھے مل بھی ہیں ’’ میںنے کہا۔ ً فائرنگ کے شور کے سبب ہمیں تقری ‘‘ اٹھا کر باغ میں گھس جانا چاہیے۔ ہم بھی عام کپڑوں ہی میں ہیں۔ با چلا کربات کرنی پڑرہی تھی۔
رائفلوں اور ایک پسٹل کے ‘ تین ‘دو ‘اندر کود گئے تو ہمارا نکلنا ناممکن ہوجائے گا’’ وجاہت نے اختلاف کیا۔ ‘‘ ساتھ ہم لوگ کتنی دیر سوروں کے اس جتھے کو روک سکیں گے۔
اس کی بات ٹھیک تھی۔ بے بسی اور جھنجلاہٹ کی ملی جلی کیفیت مجھے جھنجھوڑنے لگی۔ پولیس ڈالے ‘ اور بیگھے ملوں کی جیپیں رفتہ رفتہ گھیرا تنگ کررہی تھیں۔ ایکڑوں پرمحیط اس چار دیواری کا دفاع تین چار بندوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ ممکن ہے پولیس اہلکار اندر کود کر بھی پوزیشنیں لے رہے ہوں۔ میں
یہی سوچ رہاتھا کہ فائرنگ کی آوازیں کم ہونے لگیں۔ یہ حیران کن بات تھی۔ دو منٹوں ہی میں فائرنگ مکمل طور سے رک گئی۔ میں جانتاتھا کہ میرے ساتھیوں کے پاس ایمونیشن محدود ہے ان کی طرف سے بھی جوابی فائرنگ نہیں ہو رہی تھی۔
ہوا کے ساتھ بارود کی بو ہمارے نتھنوں تک پہنچ رہی تھی۔ پھرفضا پر چھایا غیر فطری سکوت لائوڈ ایک کرخت آواز ہوا کے دوش پر سوار ہمارے کانوں سے بھی ٹکرائی۔ ‘ اسپیکر کی کھڑکھڑاہٹ سے ٹوٹا
بہتر ہے خود کو قانون کے ‘ تم لوگوں کو چاروں طرف سے گھیرا جاچکاہے۔ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ’’ ‘‘حوالے کردو۔ تمہارے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہوگا۔
تلخی میرے وجود میں اترنے لگی۔ ہمارے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہوتاتو آج ہمارے ہاتھوں میں ہتھیار ہوتے؟
بصورت دیگر تمہاری لاشیں پہچاننے میں تمہارے ’’ پولیس آفیسر کی کرخت آواز سنائی دے رہی تھی۔ تم لوگوں سے جذبات … پھر کرخت آواز قدرے نرم ہوئی۔ ہم جانتے ہیں ‘‘ گھر والوں کو بھی مشکل ہوگی۔ میں آکر کچھ غلطیاں ہوئی ہیں مگر کوئی زیادہ سنگین جرم تم سے وابستہ نہیں ہے۔ بہتر ہے خود کو ‘‘ قانون کے حوالے کردو۔ تمہارے ساتھ نرمی کا برتائو ہوگا۔
وقفے وقفے سے ‘‘ زہر کومیٹھا لگا کر دے رہا ہے۔ ’’… وجاہت نے بے اختیار کرخت آواز والے کوگالیوں سے نوازا اعلان دہرایا جارہاتھا۔ ہم تھوڑا سااور آگے بڑھ کر ایک اونچے نیم پختہ نالے کی منڈیر کے ساتھ پیٹ کے بل لیٹ گئے۔ یہاں سے باغ کی چار دیواری کاہیولہ نظر آرہا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی درجن بھر سائے چابکدستی سے دیوار پھلانگ کر دوسری طرف کود گئے تھے۔ ایک طرف ہتھیار پھینکنے کی ترغیب دی جارہی تھی تو دوسری طرف اپنی پوزیشن زیادہ مضبوط کی جارہی تھی۔ ہمارے ساتھی شدید خطرے سے دوچار تھے۔
گرجی تھی 47کے ‘ ہمارے ساتھیوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا تھا۔بلکہ اے
۔ اور یہ فائرنگ باغ کی چاردیواری کے اندر کی گئی تھی۔ جواب میں اندر ہی سے جواب بھی دیاگیاتھا۔ اندر گھسنے والوں اور ہمارے ساتھیوں کے درمیان مڈبھیڑ ہوگئی تھی۔ دبائو بڑھانے کے لیے باہر والوں نے بھی فائرنگ شروع کردی تھی۔
اچانک ہی میرے دماغ میں ایک خیال نے جنم لیااور ہیجان اور جوش کی بلند لہر میرے اوپر سے گزر گئی۔ میں نے وجاہت کو آگاہ کیاتووہ دل وجان سے ہم خیال ہوگیا۔
ہم ہ ی اپنی جگہ چھوڑ دی۔ کچھ دیر کی کوشش کے بعد ہمیں مطلوبہ گاڑی نظرآگئی۔ یہ ایک ً نے فورا پولیس ڈالا تھا۔ اس میں بھر کرآنے والے پولیس اہلکار کارروائی میں حصہ لینے کے لیے آگے نکل گئے تھے۔ صرف ڈرائیور محفوظ زاویے سے ڈالے کے ساتھ پشت لگائے کھڑا سگریٹ پھونک رہاتھا۔ اس کے کندھے سے چھوٹی نال کی رائفل لٹک رہی تھی۔
وہاں ‘ ڈالا کھڑی فصل کو روند کرکھیت میںکھڑا تھا۔ اس سے کچھ دور ایک ٹریکٹر ٹرالی بھی کھڑی تھی کچھ افراد کے ہیولے نظر آرہے تھے۔ ہم فصلوں میں پیٹ کے بل رینگتے ہوئے ڈالے کی طرف بڑھے۔ فائرنگ کا شور ہماری مدد کررہاتھا۔ کچھ دیر میں ہم ڈالے کے قریب پہنچ گئے۔ ہمارے کانوں میں ڈرائیونگ کیبن میں نصب وائرلیس کاریڈیائی شور پہنچنے لگا تھا۔
شاید ڈرائیور کی چھٹی حس نے کوئی اشارہ دیاتھا۔ اس نے چونک کر سگریٹ دور پھینکی اور اندھیرے میں ہماری سمت دیکھنے لگا پھر اس کاہاتھ اپنی رائفل کی طرف بڑھا مگر اس سے پہلے وجاہت حرکت میں آیا۔ رائفل چھوڑ کر وہ اسپرنگ کی مانند اچھلا اور ڈرائیور کو ساتھ لیے ڈالے کی باڈی سے جاٹکرایا۔ ً میں بھی فورا حرکت میں آیا۔ رائفل اٹھا کر وجاہت سے الجھے ڈرائیورتک پہنچنے میں لحظہ بھی نہیں لگا۔ میں نے پوری قوت سے رائفل کا کندا ڈرائیور کی کنپٹی پرمارا۔ اس کے حلق سے تکلیف زدہ آواز نکلی اور جسم ڈھیلاپڑگیا۔ ً اس کی رائفل پروجا ہت نے فوراہی قبضہ جمالیا۔ اس کے بے حس وحرکت جسم کوگھسیٹ کر ڈالے کے ٹائروں کی ز د سے دور کرنے اور ڈرائیونگ کیبن میں گھسنے میں ہمیں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگا۔
چابی پہلے سے لگی ہوئی تھی۔ سامنے ڈیش بورڈ پر دستی لائوڈ اسپیکر بھی رکھا تھا۔ میں نے چابی گھما کر انجن اسٹارٹ کیا۔ وجاہت رائفل بدست چوکنا ہوگیا۔ میں ڈالے کو گھما کر کچی پگڈنڈی پر لے آیا۔
پولیس گاڑی کی غیر متوقع موومنٹ نے پولیس اہلکاروں کو چوکنا کردیاتھا۔ میں لحظہ بہ لحظہ رفتار بڑھاتا چلاگیا۔
کو ‘ ایس پی ‘ ایس آئی ‘ وائرلیس پر جنرل فریکوئنسی چل رہی تھی۔ باغ کے احاطے میں موجود ایک اے رپورٹ دے رہاتھا کہ اندر موجود ملزم رہائشی عمارت کے گرد مورچہ زن ہیں اور زبردست مزاحمت کررہے ہیں۔
پولیس گاڑی کے سبب شش وپنج میں مبتلا تھے۔ اچانک ہی وائرلیس پر آپریٹر کی ‘ پولیس اہلکار موومنٹ کیوں ن ۷اوئے الفا’’ اضطرابی آواز ابھری۔ ‘‘ اپ ی جگہ واپس جائو! جواب دو۔! ً کررہے ہو؟ فورا
تو کھیتوں میں بے ہوش پڑا تھا۔ کہاں سے جواب دیتا۔ میری تمام تر توجہ ڈرائیونگ پر تھی۔ آپریٹر 7الفا پی نے ہمیں روکنے کے ‘ بار بار ہم سے شناخت طلب کررہاتھا۔ پھر اس آپریشن کی کمان کرنے والے ایس احکامات صادر کیے مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ باغ کابوسیدہ لکڑ ی کاگیٹ سومیٹر ہی دوررہ گیاتھا۔ پہلے گولیوں کی ضربوں سے ڈالے کی باڈی تھرتھرا اٹھی تھی۔ ہم نے بے اختیار سرجھکالیے۔ ‘ ہم پر فائرنگ ہوئی پھرایک اور پولیس ڈالے نے اسٹارٹ ہو کر ہماری راہ رونے کی کوشش کی مگر مکمل طور پر راہ مسدود سے اس کے قریب سے گزر گئے۔ ہم پرفائرنگ کاسلسلہ جاری تھا۔ ‘زن’ کرنے سے پہلے ہم
تاریک رات اور فائرنگ کے شور میں ہمارے ڈالے نے پوری قوت سے باغ کے گیٹ کو ٹکر ماری۔
اس تصادم کے لیے ہم پہلے سے تیار تھے۔ زور دار جھٹکے سے سنبھلتے ہی میں نے اسٹیئرنگ دائیں طرف کاٹااور انجن بند کرتے ہوئے دستی لائوڈ اسپیکر پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ممکنہ حد تک نیچے جھک گیا۔ کہیں گرجی اور ڈالے کا عقبی حصہ تھرتھرااٹھا۔ اپنے ساتھیوں سے ہمیں اسی ردعمل ۴۷‘ قریب ہی سے اے کے کی توقع تھی۔
اسی ‘‘ یہ نہ ہو کہ ہمارے اپنے ساتھی ہی ہمیں بھون دیں۔ ‘ جلدی کریں ’’ میرے قریب ہی دبکا وجاہت چلایا۔ وقت شارٹ گن گرجی اور ونڈ اسکرین بکھر کر ہمارے اوپر آگری۔
میرا ہاتھ دستی لائوڈ اسپیکر کو ٹٹول رہاتھا۔ مطلوبہ بٹن ملتے ہی میں نے اسے پریس کیاتووہ فعال ہوگیا اس ڈالے میں ہم ہیں۔ جلدی سے ‘ شوکے ‘ علی ‘اوئے بابو’’ مائوتھ پیس کے ساتھ منہ لگا کر میں چلایا۔ ‘‘ آجائو۔حسینی اور اس کی بیوی کو بھی لے لو! اب فائر نہ کرنا۔
فائرنگ د ر کے باوجود ج ید لائوڈ اسپیکر کی آواز خاصی بلند تھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو دوبارہ َ کے ش وجاہت نے بھی چلا چلا کر انہیں آوازیں دیں۔ ہم رہائشی عمارت کے بالکل قریب تھے اور ہمارے ‘پکارا ساتھی اردگرد ہی پوزیشن لیے ہوئے تھے۔
جلانے والی لکڑی کے اونچے ڈھیر کے عقب سے ایک سایہ نکلااور جھکے جھکے انداز میں ہماری طرف دوڑا۔ میں نے پہچان لیا وہ علی تھا۔
‘‘ میں لائوڈ اسپیکر میں چلایا۔ آجا علی آجا۔
فائرلیس ‘ شارٹ گن کے فائر نے جہاں ونڈاسکرین اڑائی تھی وہاں ایک اور بہت بڑا نقصان بھی کیا تھا سیٹ کو بھی آوارہ چھروں نے ناکارہ کردیاتھا۔ وائرلیس کے سبب ہم آگاہ رہتے کہ ہمارے خلاف کیا حکمت عملی کی جارہی ہے۔
علی ک ر ہراس ی پرچھائیاں تھیں۔ میرے قریب کھڑکی پرجھکتے ہوئے اس نے لرزیدہ آواز میں ٖ کے چہرے پ ‘‘آپ دونوں کہاں تھے؟’’کہا۔
‘‘ سوال جواب بعد میں باقی سب کہاں ہیں؟ ’’ مجھ سے پہلے وجاہت بولا۔
بابو کوگولی لگی ہے۔ حسینی اور شوکے نے بڑی مشکل سے پولیسئوں کو روکا ہوا ہے۔ ان ‘ قریب ہی ہیں ’’ اس نے ایک ہی سانس میں تفصیل بتائی۔ ‘‘ کے پاس گولیاں بھی ختم ہونے والی ہیں۔
پولیس ڈرائیور سے چھینی رائفل میں د اسے تھما ی۔ بابو کو گولی لگنے کی خبر نے بے چین ً نے فورا کردیاتھا۔ چند لمحوں بعد ہم گاڑی چھوڑ کر علی کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی کمین گاہ کی طرف جھکے اس وقت ‘ جھکے انداز میں دوڑے۔ جلانے کی لکڑی کے ڈھیر کے ساتھ ہی ایک کچے چبوترے پرتندور تھا یہی کچا چبوترہ ایک مضبوط مورچے کا کام دے رہاتھا۔
سامنے کی طرف سے شدید ورائٹی فائر آرہاتھا۔ شوکاگھٹنے کے بل جھکا اکادکا فائر کررہاتھا۔ اس کے قریب ہی حسینی اپنی بارہ بور سیدھی کیے اندھیرے میں کوئی ہدف ڈھونڈ رہاتھا۔ نیچے کچے فرش پر بابو بے سدھ پڑاتھا۔ شادواس پر جھکی ہوئی تھی اور اس کے کندھے پر لرزتے ہاتھوں سے پٹی باندھنے کی کوشش کررہی تھی۔
شادو کو دیکھ کر غصے اور نفرت کے جذبات نے مجھے مغلوب کردیا۔ دل چاہا کہ پسٹل کی تمام تر گولیاں اس لالچی اور دغاباز عورت کے سینے میں اتار دوں۔ بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور وجاہت کو بھی فی الحال اس سلسلے میں خاموش رہنے کااشارہ کیا۔ میرے اور وجاہت کے درمیان بڑی تیزی سے کوئی ٹیلی پیتھی قسم کاتعلق استوار ہوتاجارہاتھا۔ میں محسوس کررہاتھا کہ ہم اکثر بن کہے ہی ایک دوسرے کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی اکثر گہرے دوستوں میں یہ چیز دیکھی گئی تھی۔
ہمارے پاس موجود دو رائفلوں نے جیسے بجھتے چراغ میں نیا تیل انڈیل دیاتھا۔ اندر کودنے والے پولیس اہلکاروں نے سامنے موجود درختوں کے عقب میں پناہ لے رکھی تھی۔ شکر کامقام تھا کہ پھل دار درختوں کے سلسلے کے بعد رہائشی حصے تک نئے پودے لگے ہوئے تھے۔ جوابھی پرورش کی ابتدامیں تھے۔ اگر ان پودوں کی بجائے تناور درخت ہوتے تو پولیس اہلکار ان کی اوٹ لے کرہماری کمین گاہ کو کم از کم دو طرف سے گھیرچکے ہوتے۔ جس طرف سے ہم آئے تھے وہ بھی اوپن سائڈ تھی۔ اسے حسینی نے شارٹ گن سے ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کا محفوظ ر استہ تھا۔ ‘ممکنہ حد تک کور کررکھاتھا
میں نے اورحسینی نے بڑی مشکل سے بابو کوگاڑی کے عقبی کیبن میں منتقل کیا۔ اس کے کندھے پر گولی لگی تھی اور اندر ہی ئ اٹک گ ی تھی۔ اس کا بے تحاشا خون ضائع ہوچکاتھا اوروہ غشی کی سی ً غالبا
کیفیت میں تھا۔ ہمارے سارے کپڑے اس کے گرم خون سے بھرگئے تھے اس کی حالت دیکھ کر میرا دل ڈوبا ساجارہاتھا۔ شادو بھی ہمارے پیچھے آگئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں باقی ساتھی بھی بیک اپ فائر کرتے ہوئے ڈالے میں منتقل ہوگئے۔ انجن اسٹارٹ کرکے میں ڈالے کو پہلے ہی گھما چکاتھا۔ وجاہت میرے ساتھ والی سیٹ پر تھا۔ باقی عقبی حصے میں فرش پرلیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے بہت بڑا رسک لیا تھا۔ باہر نکلتے ہی ہم درجنوں رائفلوں کی زد پرہوتے۔ یہ کوئی بکتر بند توتھی نہیں مگر مضبوط فولادی باڈی کسی نہ کسی حد تک گولیوں کو روک سکتی تھی۔ مجھے سب سے زیادہ خطرہ ٹائروں کی طرف سے تھا۔ محض کرسکتی تھی۔ ‘‘پنکچر’’ ایک گولی ہمارے سارے ارادوں کو
میں نے اپنا پور اوزن ایکسی لیٹر پر ڈال دیا۔ طاقتور انجن غرایا اور پولیس ڈالا کمان سے نکلے ہوئے تیر کی مانند ٹوٹے گیٹ کوبکھیرتا ہوا باہر نکل آیا۔
اردگرد کاسارا نقشہ میرے ذہن میں تھا۔ سامنے کچی پگڈنڈی تھی جو تھوڑا آگے جاکرایک کچی سڑک سے مل جاتی تھی۔ ہم اس کچی سڑک پر پہنچ جاتے تو بچ نکلنے کے امکانات روشن ہوجاتے۔
میں نے ہیڈ لائٹس بند کررکھی تھیں۔ڈالا خطرناک انداز میں اچھلتا کودتا آگے بڑھا۔ حیرت انگیز طور پر ہم پر فائرنگ نہیں ہوئی۔ بمشکل ایک فرلانگ آگے آتے ہی ہمارے سفر اورارادوں کو فل اسٹاپ لگ گیا۔ پگڈنڈی کے عین درمیان میں کھڑی ٹریکٹر ٹرالی نے ہماری راہ مسدود کردی تھی۔ دونوں طرف فصل کھڑی تھی۔ میں جانتاتھا کہ فصلوں کو پانی دیا گیا ہے۔ فصلوں میں گاڑی اتارنے کانتیجہ یہ ہوتا کہ چاروں ٹائر کیچڑ میں دھنس جاتے۔
پولیس والوں نے بڑی عیاری ‘ میرے ساتھ ساتھ وجاہت نے بھی حالات کی سنگینی کو بھانپ لیاتھا کامظاہرہ کیاتھا۔وہ یہ ٹریکٹر ٹرالی باغ کے عین گیٹ کے سامنے کھڑی کرکے ہمارے باہر نکلنے کی راہ مسدود کرسکتے تھے مگر اس صورت میں ہمارے پاس باغ کے اندر رہ کر ان کی مزاحمت کرنے کی صلاحیت قائم رہتی۔ انہوں نے ہمیں باہر نکلنے کا راستہ دیاتھا اور کمین گاہ سے نکلتے ہی گھیرلیاتھا۔ اسی وقت عقب میں کسی گاڑی کی ہیڈ لائٹ چمکی۔ ہمارے پیچھے ہٹنے کی راہ بھی روک دی گئی تھی۔
ٹریکٹر ٹرالی کے قریب یقینا ہمارے استقبال کی بھرپور تیاری کی گئی ہوگی۔ میں نے رفتار تیزی سے کم کی اور پھر پہلے گیئر میں ڈالے کو ڈالتے ہوئے تیزی سے اسٹیرنگ گھما کر دائیں طرف فصل میں اتار دیا۔ اسی وقت ہم پرفائرنگ ہوئی ۔ یہ ٹریکٹر ٹرالی کے پاس سے ہوئی تھی۔ شکر کا مقام تھا۔ میں نے ڈالے کو ٹریکٹر ٹرالی کے پاس سے نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی ورنہ نصف درجن کے قریب گرجنے والی رائفلوں نے ہمیں بھون دیناتھا۔
زور لگاتا آگے بڑھا۔ میرے اقدام اور فائرنگ نے عقبی حصے میں فرش پرپڑے ‘چھنگاڑتا ‘ ڈالا فصلوں کوروندتا میرے ساتھیوں میں کھلبلی مچادی تھی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ہمارا راستہ روک لیا گیا ہے۔ مجھے شادو کے چلانے کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی نفرت وغصے نے بھی یلغار کی اسی عورت کی وجہ سے ہم پر یہ مصیبت آئی تھی۔
عقبی حصے اور ڈرائیونگ کیبن کے درمیان ایک چھوٹا سافولادی چوکھٹا تھا۔ ایک کھٹکے کے ساتھ وہ ‘‘ کیاہوا ہے؟ سیدھے کیوں نہیں نکلے؟ ’ ’ چوکھٹا کھلااور علی کی متوحش آواز سنائی دی۔
اسے جواب دینے سے پہلے ڈالا کسی اونچی جگہ سے ٹکرا کر اچھلا تو علی کا سر پوری قوت سے ڈالے کی چھت سے جاٹکرایا۔ اس کے بعد اس کی آواز سنائی نہیں دی۔
میری تمام تر توجہ ڈرائیونگ پر تھی۔ شکر کامقام تھا طاقتور انجن فصل اور کیچڑ سے جھگڑتا ڈالے کو ابھی تک رواں رکھے تھے۔ سامنے ہی مجھے فصل کے درمیان بھوسے کااونچا ڈھیر نظر آرہا تھا۔ جسے مٹی سے لیپا گیاتھا۔ ہم وہاں تک پہنچ جاتے تو ایک قدرے بلنداو رمضبوط مورچہ ہمیں میسر آسکتاتھا۔بے شک وہاں ہمیں چاروں طرف سے گھیرا جاسکتاتھا۔ مگر فی الوقت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی کافی تھا۔
میںنے کوشش کرکے عقب نما پرنظرڈالی دور ٹارچوں اور ہیڈ لائٹس کی روشنیاں چمک رہی تھیں ۔ ہم پر فائرنگ مسلسل جاری تھی۔ مگر اکادکا گولیاں ہی ڈالے کی باڈی تک پہنچ رہی تھیں۔ ہم خاصا اندر گھس آئے تھے۔ درمیانی حصے میں خاصا پانی کھڑاتھا۔ پہلے ڈالے کی رفتار مزید سست ہوئی اور پھر اس نے آگے عقبی ‘ انجن بے بسی سے غرایا ‘ بڑھنے سے انکار کردیا۔ میں نے پائوں کا پورا وزن ایکسی لیٹر پرڈال دیا پہیے کیچڑ میں گھوم کررہ گئے۔ مگر ڈالے کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
ہاتھ جھنجنا اٹھا۔ ضائع کرنے کے لیے وقت بالکل ‘ جھنجلا کر میںنے پوری قوت سے اسٹیئرنگ پرہاتھ مارا نہیں تھا۔ موت کے فرشتے ہمارے سروں پرمنڈلارہے تھے۔میںنے انجن بند کیااور نیچے اتر آیا۔ وجاہت نے بھی میری تقلید کی۔
نیچے ٹھنڈے کیچڑ میں اترتے ہی بیگھے ملوں اور پولیس والوں کے للکارے اور دیگر مبہم آوازیں ہوا کے دوش پر تیرتی ہماری سماعتوں سے ٹکرائیں۔
شوکااور حسینی بھی نیچے اتر آئے تھے۔ حالات کی سنگینی ان کے سامنے عیاں تھی۔ خاص طورپر ‘ علی حسینی کا چہرہ توبالکل راکھ ہو رہاتھا۔
بابو اور شادو ڈالے کے اندر تھے ڈالے کے آہنی فرش پربابو کا خون ہی خون پھیلا تھا۔ سبھی کے کپڑے اس کے خون سے لتھڑچکے تھے۔
اس کے سا(سانس) ٹوٹ رہے ہیں۔ اس کا کچھ کرو یہ مررہا ’’ بین کرتی آواز ابھری۔ ‘ اچانک شادو کی لرزتی ‘‘ہے۔
بابو جھٹکے سے سانس لے رہاتھا۔ اس کے جسم کو ‘ میں ایک جھٹکے سے اچھل کر ڈالے میں داخل ہوا میرے دل نے کہا وہ بابو مررہا ہے جس نے مجھے ہتھیار پکڑنااور گولی چلانا ‘ تشنجی جھٹکے لگ رہے تھے ‘ اوئے بابو! اٹھ اوئے ’’ ‘ سکھایا ہے۔ میںنے اس کا سرگود میں لے کراسے بے خودی کے عالم میں جھنجوڑا میری آنکھیں جل رہی تھیں اور آنسوئوں کا گولا ‘‘ اٹھ اوئے۔… محض ایک گولی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جیسے حلق میں پھنس گیاتھا۔
اسی وقت باہر سے فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ کسی قریب آنے والے قاتل ٹولے کو روکنے کے لیے میرے ساتھیوں نے فائرنگ کی تھی۔
میںنے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اورحسینی کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔ ہم دونوں نے مل کر بابو بابو نے جیسے میری پکار سن لی ‘ کوڈالے سے باہر نکالا۔ ہمارے ساتھی ڈالے کے گرد پوزیشنیں سنبھالے تھے تھی اس کی سانسوں میں قدرے روانی آگئی۔
میںنے سب لوگوں کو بھوسے کے ڈھیر کی طرف جانے کے لیے کہا۔ کیچڑ میں گرتے پڑتے ہم بھوسے کے ڈھیر تک پہنچ ہی گئے۔ اس کا عقب فی الحال ہمارے لیے محفوظ تھا۔ اگر بابو کو گولی نہ لگی ہوتی تو ہم یہاں سے بچ نکلنے کی کامیاب کوشش کرسکتے تھے۔ ڈالا ہمیں فصلوں کے خاصا اندر تک لے آیا تھا۔سامنے کی طرف فصلوں کاوسیع سلسلہ پھیلا تھا۔ ہم اس کی آڑ اور اندھیرے کا خاصافائدہ اٹھاسکتے تھے مگر بابو کی حالت ہمیں یہیں رکنے پرمجبور کررہی تھی۔
میں اور شو کا بھوسے کے ڈھیر کی چوٹی پرچڑھ گئے۔ ستاروں کی مدھم روشنی میں ٹھٹھرتی اس رات ہمیں بے حد سرعت سے چاروں ‘ کے اگلے تیس منٹ بے حد سنگین گزرے۔ ہم نے مقدور بھر مزاحمت کی طرف سے گھیر لیا گیا تھا۔ ہماری گولیاں اور مزاحمت آخری دموں پر تھی۔ ہم پر بلاشبہ سیکڑوں رائونڈ فائر کئے گئے تھے۔شکر کامقام تھا چکنی مٹی سے لیپا ہوا بھوسے کاڈھیر اوس سے بھیگا ہواتھا ورنہ گولیوں کی تپش سے آگ پکڑ کر یہ ہمارے لیے جہنم کانمونہ بھی بن سکتاتھا۔
بارش کی طرح برستی گولیوں سے بچنے کے لیے بھوسے کے ڈھیر کی چوٹی ہم نے پہلے ہی چھوڑ دی تھی۔ اب ہم اس کی جڑ میں دبکے ہوئے تھے۔ میرے قریب ہی شادو اونچی آواز میں رو رہی تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ ہمیں بھی کوسنے دے رہی تھی اور اس جان لیوا مصیبت کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرا رہی تھی۔ حالانکہ اس مصیبت کی سب سے بڑی ذمہ دار وہ خود تھی۔
نوکیلی آواز میرے وجود میں بھڑکتی آتش کومزید بھڑکارہی تھی۔ ہمارے چاروں طرف گونجتے ‘ اس کی تیز قاتل للکار ے رفتہ رفتہ قریب آرہے تھے۔ ہمیں گھیرنے کے بعد قاتل ٹولا قدرے مطمئن ہوگیاتھا۔ فائرنگ کی شدت میں نمایاں کمی آگئی تھی۔ مختلف گاڑیوں کے انجنوں کی گھوں گھوں اور زاویے بدلتی ہیڈ لائٹس سے اندازہ ہوتاتھا کہ سبھی دستیاب گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کا رخ چاروں طرف سے ہماری کمیں گاہ کی طرف کیا جارہا تھا۔ چاروں طرف سے گھیرنے کے بعد وہ لوگ اب اطمینان سے ہمارا شکار کرنا چاہتے تھے۔
وقفے وقفے سے فائر ہونے والی گولیوں کی سیٹی جیسی آوازوں کے درمیان علی کی کرلاتی ہوئی آواز ‘‘ ہمیں نہ چھوڑ کے جایار۔ …دغابازا‘ اوئے بابو! یہ نہ کر اوئے ’’ میری سماعت سے ٹکرائی۔
آتشیں کوڑا ہے جس نے میرے جسم کو داغا ہے۔ میں گولیوں ‘ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ آواز نہیں کی پروا کیے بغیر اٹھ کر بھوسے کے ڈھیر کی دوسری طرف دوڑا۔ مجھے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ دوڑتے ہوئے میں براہ راست ایک گاڑی کی ہیڈلائٹس کی زد میں ہوں۔ ایک لحظے کے لیے میں نے ایک پرچھائیں سی خود پر جھپٹتے محسوس کی۔ جنگلی گھوڑے کی طرح ایک توانا جسم مجھے لیتا ہوا بھوسے کے ڈھیر کی جڑ میں جاگرا۔ یہی وقت تھا جب ایک پور ارائفل کا برسٹ بمشکل دو ڈھائی فٹ اوپر بھوسے کے ڈھیر میں لگااور بہت سابھوساہمارے اوپر آگرا۔
وجاہت کی پرتشویش اور ہانپتی ہوئی آواز میرے کان کے قریب ابھری تو میرے تنے ‘‘! پاگل ہوگئے ہو یار ’’ ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔
ہم دونوں رینگتے ہوئے بابو کی طرف بڑھے۔ برسٹ کے ساتھ ہی مدھم پڑجانے والی فائرنگ دوبارہ نقطہ جس کے ‘ عروج کی طرف چل پڑی۔ ضرورت کے سبب بھوسے کے ڈھیر کونیچے کی طرف سے کریدا جاتاتھا سبب اس کے چاروں طرف قدرتی خندق سی بن گئی تھی۔ مٹی کا اونچا کنارا اس وقت ہماری بھرپور حفاظت کررہاتھا۔ ورنہ اتنی شدید فائرنگ میں ہمارا چھلنی ہوجانا یقینی تھا۔
بھوسے کے ڈھیر کی جڑ میں بابو بے حس وحرکت پڑاتھا۔ اس کے اردگرد کی مٹی اور بھوسا خون میں بھیگے ہوئے تھے۔ اس کے قریب ہی علی لیٹا آنسوئوں سے بھیگی آواز میں بابو کے بے حرکت جسم کو میں تیری بے بے کو کیا جواب دوں گا۔ تجھے گھر سے بلا کرتو میں لایا تھا۔ اس نے تو ‘اوئے’’ جھنجوڑرہاتھا۔ ‘‘ میرا گریبان پکڑنا ہے۔
میں ذہنی طور پر شاید اس منظر کے لیے تیار تھا۔ چند منٹوں پہلے والی جذباتیت اب نہیں تھی۔ آنسوئوں کاپہلا قطرہ میرے دل پرٹپکا۔ وجود میں کوئی پکار پکار کر چلارہاتھا کہ بابو اب ہم میں نہیں رہا۔علی بابو کو چھوڑ کرمجھ سے لپٹ گیا۔ قریب ہی حسینی بھی موجود تھا جو اپنی بارہ بور کی شکاری بندوق کی نالی کو بے معنی انداز میں ادھر ادھر حرکت دے رہاتھا اور بار بار خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہاتھا۔
فائرنگ کی شدت میں پھر کمی آگئی تھی۔ ہیڈ لائٹس کا رخ ہماری طرف ہوچکاتھا اور پورا بھوسے کاڈھیر ہر طرف سے روشنیوں کی زد میں تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے بابو کی آنکھیں بند کیں۔ وجاہت کی جیب وہ اس نے بابو کے چہرے پر پھیلا دیا۔ ‘ میں رومال تھا ً ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایک پولیس گاڑی حرکت میں آئی اور دھیمی رفتار سے ہماری طرف بڑھی ۔ جوابا شوکے کی رائفل گرجی اورگاڑی کے اگلے ٹائر دھماکے سے پھٹ گئے۔ گاڑی کو فل اسٹاپ لگ گیا۔ شوکے کی رائفل بھی خاموش ہوگئی۔ دوسری طرف سے بھی مدھم پڑجانے والی فائرنگ یکایک رک گئی۔
بارود کی منحوس بو سے بوجھل اس تاریک رات کی فضا میں تنائو آمیز سناٹا سا محسوس ہونے لگا یا انجنوں کی گھوں گھوں تھی یاقاتل ٹولے کی آوازیں جو ایک ودسرے کومختلف ہدایات دے رہے تھے۔
اندازہ ہوتاتھا کہ پولیس گاڑی کی موومنٹ ہماری فائرپاور کااندازہ لگانے کے لیے تھی۔ چند لحظوں بعد لائوڈ تم لوگ دیکھ رہے ہو کہ ’’ اسپیکر کی کھڑکھڑاہٹ ابھری اور پہلے والے پولیس آفیسر کی کرخت آواز گونجی۔ تمہیں چاروں طرف سے گھیرا جاچکاہے۔ بہتر یہی ہے کہ خود کو قانون کے حوالے کردو۔ مزاحمت کا مطلب یقینی موت ہے۔ تمہیں آخری موقع کے طو رپر ساٹھ سیکنڈ دیئے جارہے ہیں۔ اس کے بعد چاروں طرف سے وہ گواہ رہیں کہ ہم نے ان خطرناک … تم پر آگ کی بارش ہوگی۔ گردونواح کے جو لوگ یہ اعلان سن رہے ہیں ملزمان کو ہتھیار ڈالنے کاموقع دیا تھا اور بعد میں یہ بات ان کے لواحقین تک بھی پہنچادیں کہ ضلعی ‘‘ پولیس کی طرف سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔
بھراجی! ہمیں بندوقیں ’’ حسینی نے ایک دفعہ پھر ہونٹوں پرزبان پھیری اور لرزتی آواز میں کہا۔ میں اچانک ہی ‘‘ رہی جیل تووہ بنی ہی جوانوں کے لیے ہے۔ ‘ سٹ(پھینک) دینی چاہیں۔ زندہ تو رہیں گے شدید قسم کی کشمکش کاشکار ہوگیا۔ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی زندگی کا تمام تر انحصار مجھ پر آپڑاتھا۔
نہ جانے کب شوکا رینگتا ہوا ہمارے قریب آگیا تھا۔ اس نے مجھے اس کشمکش سے نجات دلائی۔ اس نے ٹھوس انداز میں کہا۔
نہیں حسینے !یہ صرف جھانسا ہے۔ پولیس والوں کی آنکھوں پر نوٹوں کی پٹی بندھی ہوئی ہے اور ان کے ’’ ساتھ جو سوروں کاگلہ ہے وہ کسی صورت ہمیں پولیس والوں کے ہاتھ نہیں لگنے دے گا۔ سسک سسک اور بابو کے خون ’’ اس نے آخری فقرہ بڑے پرجوش انداز میں کہا۔ ‘‘چار کو لے کرمرو!‘کے مرنے سے بہتر ہے دو علی نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ حسینی کا چہرہ بالکل مٹی ‘ کا قرض بھی تو ہمارے سرپر ہے رنگ ہوگیا۔
لائوڈاسپیکر پرگنتی شروع ہوکرپندرہ تک پہنچ چکی تھی۔ اچانک ہی میں نے محسوس کیا کہ وجاہت ہمارے درمیان نہیں ہے۔ وہ کہاں گیا؟ اس کا جواب بھی گ مل یا۔ فضا میں شادو کی گھٹی ً مجھے فورا تجھے بہت چاہ ہے نا نیلی ‘ حرام زادی ’’ گھٹی سی چیخ ابھری اور ساتھ ہی وجاہت کی غصیلی دہاڑ۔ ‘‘… بھینسوں کا
شوکے اور علی کے چہرے پر تجسس آمیز ’’ حسینی تڑپ کر سیدھا ہوا۔ میں نے اس کی کلائی تھام لی۔ میری آواز میں نہ جانے کیا تھا کہ حسینی کامچلتا ہوا جسم ساکت ہوگیا۔ ‘‘ ! لیٹا رہ حسینے ’’ سنسنی دوڑی۔ ہماری مخبری کرنے والے تیری بیوی اور سالا تھے۔ تیرے سالے نے دوبئی جانا تھا اور بیوی کو نیلی ’’ بھیج دیا ہے۔ اب ہیرا ‘‘دور’’ بھینسیں چاہیے تھیں۔ تیرے سالے کو میںنے دوبئی سے بھی بہت آگے بہت ‘‘ دلا رہاہے تو دلانے دے۔‘‘ بھینسیں ’ تیری بیوی کو
شادو کی گھٹی گھٹی آوازوں سے اندازہ ہوتاتھا کہ وجاہت اس کاگلا دبا رہا ہے۔ وہ خاصی جاندار عورت تھی اور بھرپور مزاحمت کررہی تھی۔ ً لیکن بھراج ’’ حسینی نے مردہ سی آواز میں کہا۔ ہیرا اسے جان ‘ ی کوئی غلط فہمی بھی تو ہوسکتی ہے ‘‘سے مار دے گا۔
میرے اندر جیسے دھماکے سے کچھ پھٹا تھا۔ میری آواز بے حد بلند تھی۔ ‘‘ کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ ’’ حسینی بھونچکا رہ گیا تھا۔ حقیقت سے واقف ہوتے ہی علی اور شوکے کی آنکھیں بھی خون رنگ ہوگئی تیرے سالے کو ہم نے بیگھے ملوں کے ’’ تھیں۔ میں نے اپنی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ‘‘ کے ساتھ پکڑا تھا۔ اس نے اعتراف جرم کرلیاتھا۔ ‘‘ انعامی رقم ’’ ڈیرے سے ً دوسری طرف غ الباوجاہت اس مکار عورت پرغالب آگیا تھا۔ گھٹی گھٹی چیخیں نزاعی خرخراہٹ میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ ہمارے پاس بھی چند سیکنڈ رہ گئے تھے۔وجاہت کا شادو کوکیفر کردار تک پہنچانے کافیصلہ صحیح اور بروقت تھا۔ زندگی اور موت خداکے ہاتھ میں ہے بظاہر ہمارا وقت آخر آپہنچا تھا۔ اس سے پہلے اس عورت کوسزا دے کر ہم مطمئن انداز میں موت کو گلے لگاسکتے تھے۔
میںنے بے حد قریب سے حسینی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں تو ہمارا محسن ہے اگر بابو تیری بیوی کی ‘‘ وجہ سے ہم سے نہ بچھڑتا تو شاید اسے معاف کردیا جاتا۔
اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ زبان نے اس کاساتھ نہیں ‘ حسینی کے ہونٹ پھڑپھڑائے دیا تھا۔ اس کے کان شادو اور وجاہت کی طرف لگے تھے۔ جہاں اب خاموشی تھی۔ یقینا شادو اپنے بھائی کے پاس پہنچ گئی تھی۔
‘‘ اکیاون۔ …پچاس ’’ پولیس آفیسر کی گنتی جاری تھی۔
زندہ رہے تو تیری ’’ میں نے اس کے کندھے پرہاتھ مارا۔ ‘‘ حسینی بندوق پھینک کر اپنی جان بچالے۔ …جا’’ ‘‘ دوسری شادی بڑی دھوم دھام سے کریں گے۔
یکلخت حسینی کے نقوش میں بے حد گداز اتر آیا۔ وہ روتا ہوا مجھ سے لپٹ گیا۔ ایک بازو اس نے شوکے کے مجھے معاف کردو سجنو! اپنی بے غیرت رن(بیوی) کی وجہ سے میرا سر جھکا ہوا ہے۔ ’’ گرد حائل کردیاتھا۔ جذبات کے سبب اس کا جسم دھیرے دھیرے لرز رہاتھا۔ ‘‘ میری زندگی موت اب تمہارے ساتھ ہے۔ ساٹھ سیکنڈ پورے ہوچکے تھے۔ ‘‘ تمہاری طرف آنے والی گولی سب سے پہلے اپنے سینے پر کھائوں گا۔ ’’ شادو کو کیفر کردار تک پہنچا کروجاہت بھی رینگتا ہوا اسی طرف آگیاتھا۔ ہمارے پاس خاطر خواہ ایمونیشن ہوتا تو ہم بھوسے کے اس ڈھیر کے چاروں طرف مورچہ زن رہتے مگر اب تن باتقدیر ہو کر ہم نے تین اطراف کا دفاع چھوڑ دیاتھا۔ لاشعوری طور پر شاید ہم آنے والی موت کے لیے تیار تھے اورایک دوسرے کے سنگ موت کا استقبال کرنا چاہتے تھے۔
جی گرجی اور اس کے بعد جیسے گولیوں کامینہ برسنے لگا۔ ہم نے اپنے سر ممکنہ حد ‘ ایم ‘ پہلے ایک ایل تک زمین کے ساتھ رکھے تھے۔ ہماری طرف سے ایک بھی گولی نہیں چلی۔ اپنی آخری گولیاں ہم نے دشمن سینوں کے لیے محفوظ رکھی تھیں۔ کسی یقینی ہدف پر ہی ہم نے گولی چلانے کافیصلہ کیا تھا۔
دھپ کی آوازوں کے ساتھ کچھ گرا اور فضا میں پٹرول کی بوپھیل گئی۔ … اچانک ہی ہمارے اردگرد دھپ پٹرول سے بھر اایک شاپر عین میرے چہرے کے سامنے گراتھااوراس کے ٹھنڈے چھینٹے میری پیشانی تک آئے تھے۔
قاتل ٹولے کی جانب سے یہ بے حد خوفناک اور عیا رانہ اقدام تھا۔ کوئی لمحہ جاتاتھا ہماری کمیں گاہ جہنم بننے والی تھی۔
شوکے نے پٹرول کے شاپر پھینک کرآگ لگانے کی تجویز دینے والے کی خواتین کے ساتھ نازیبا رشتے جوڑے کی آواز کے ساتھ پٹرول کو آگ لگادی تھی۔ میرے عین سامنے الائو ‘‘بھک’’ ہی تھے کہ کسی گولی نے بھڑک اٹھا تھا۔ جس کی تپش میں اپنے چہرے پر محسوس کررہاتھا۔
…٭٭٭…
گردش کرنے لگا جہاں ہرسال جڑواں افراد کا میلہ ‘‘ٹوئنسز ٹائون’’ میرے ذہن میں نہ جانے کیوں امریکہ کا منعقد ہوتاتھا۔ جعفر ایرانی بھی تو ٹوئنسز ٹائون میں اس میلے کے دوران دیکھا گیاتھا۔ وہاں اپنا کام دکھانے کے لیے اسے کسی وسیلے کی ضرورت تھی اور میرا دل کہہ رہاتھا میرے سامنے آدھی اڑی
ہی تھا۔ جعفر ایرانی کاجڑواں بھائی یا پھر حیرت انگیز مشابہت رکھنے والا ‘‘ وسیلہ ’’ پیشانی والااس کا کوئی اور سرخ بھیڑیے کے ڈیرے پر یقینا اسے ہی دیکھا گیاتھا۔
… میرے وجود میں تاریک سناٹے اترنے لگے۔ میری کائنات کا قاتل ابھی آسمان کے نیچے سانسیں لے رہاتھا یہ کوئی اور تھا۔ میں اپنے مقصد میں تاحال کامیاب نہیں ہوا تھا۔
میں نے بڑی تیزی سے اپنی کیفیت پرقابو پایا۔ ہم پرفائرنگ کرنے والے کسی بھی وقت سر پر پہنچ سکتے سنبھالی۔ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر 16… تھے۔ بیریٹا نیفے میں اڑس کر میں نے شاندار امریکن ایم باامرمجبوری میں نے مبارک علی کی لاش کو باہر دھکیلا۔ اسی وقت ڈھلوان کے نچلے حصے کی جانب سے تین گولیاں جیپ کی باڈی ‘ رائفل گرجی۔ سرخ انگارے اپنے ہدف کی تلاش میں ہمارے اوپر سے گزرگئے۔دو میںبھی لگی تھیں۔ جس کے سبب وہ تھرتھرااٹھی تھی۔
میں ا چلاتے عثمان اور آئمہ ‘ یک مختصر سا برسٹ ڈھلوان کی طرف مارااور بری طرح سے چیختے ً نے جوابا کواپنے سر نیچے جھکانے کے لیے کہا۔ وہ بیچارے معصوم چوزوں کی طرح سیٹ کے نیچے دبکنے کی کوشش کرنے لگے۔ اپنی چیخیں روکنے کے لیے آئمہ نے اپنا منہ دبالیاتھا۔ جو کچھ انہوں نے پچھلے چند منٹ میں دیکھا تھا وہ ان کے ہوش وحواس چھین لینے کے لیے کافی تھا۔
کی بھیانک تڑتڑاہٹ نے چند لمحوں کے لیے مخالفین پر جیسے فسوں طاری کردیا۔ میںنے تیزی سے ۱۶ ایم۔ ڈرائیونگ سیٹ کی طرف والا دروازہ بند کیااور اسٹیئرنگ سنبھال لیا۔ طاقتورہیڈ لائٹس نے سامنے کے منظر کو روشن کررکھاتھا۔ جھاڑی نما درخت کے اوپر کی جانب مجھے ایک پتھریلی پگڈنڈی نظر آئی۔پہاڑوں میں یہ آمدورفت کی نشانیاں تھیں۔ میں نے وزنی گاڑی تھوڑی سی ریورس کی اور پھر جھاڑی نما درخت طاقتور انجن کسی درندے کی مانند غرایااور جیپ ناہموار جگہ پر ‘ سے کاٹ کر پہلے گیئرر میں ڈال دی آئمہ اور عثمان نے مشترکہ چیخ ماری۔ ‘ اچھلتی کودتی ڈھلوان پر جاچڑھی۔ فضا پھر فائرنگ سے گونجی میری تمام تر توجہ ڈرائیونگ پر تھی۔ شکر کا مقام تھا کہ کسی گولی نے جیپ کے ٹائر کو نہیں چھواتھا۔ اگلے ہی پل ہم قدرے ہموار پتھریلی پگڈنڈی پرتھے۔ گیئر تبدیل کرتے ہی میں نے رفتار میں اضافہ کردیاتھا۔ لمحوں کے اندر ہم فائرنگ کی زد سے دور آگئے تھے۔
میرا ذہن تیزی سے رواں تھا۔ ہم پر فائرنگ دو مختلف ہتھیاروں سے ہوئی تھی اور فائرنگ کرنیوالے وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ میرے ہونٹ خودبخود زہریلی سی مسکراہٹ کے انداز میں کھچ گئے۔ یہ یقینا ذیشان خان کا آپشن نمبر دو تھا۔ میرا یہ اندازہ غلط تھا کہ وہ طورا خان کے لوگ تھے۔ اس کے پلان کے مطابق اگر طورا خان کو گولی مار دینے کے بعد میں کسی طرح مین گیٹ سے نکلنے میں کامیاب بھی
اب کمالا جٹ ‘‘کمال پتر’’ ہوجائوں تو یہاں میرا شایان شان استقبال کیاجاسکے۔ مگر وہ نہیں جانتاتھا کہلاتاتھا اور ذیشان خان جیسے درجنوں عیار منصوبہ ساز اس کی ٹانگ کے نیچے سے گزر چکے تھے۔
پگڈنڈی بے حد مختصر سی تھی ایک طرف کٹی پھٹی پتھریلی دیوار اور دوسری طرف ڈھلان ۔ طاقتور ہیڈ لائٹس مجھے معقول رفتار سے جیپ دوڑانے میں مدد دے رہی تھیں۔ مجھے محسوس ہو رہاتھا کہ پگڈنڈی رفتہ رفتہ بلند ہو رہی ہے۔ اس دوران پگڈنڈی گھوم کر پہاڑی کے دوسری طرف چلی گئی تھی۔ میرے سامنے کوئی منزل نہیں تھی۔ صرف یہی خیال تھا کہ کم سن آئمہ اور عثمان کو باکی موشو جیسے ہوس طوراخان اور سرخ بھیڑیے جیسے درندے سے محف وظ کسی ٹھکانے تک لے جائوں۔ اپنی نہ مجھے ‘پرست پہلے پروا تھی اور نہ اب۔ روز وشب کی سنگین ہنگامہ خیزی سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ جس دن موت کے خوف سے میں بھاگ کھڑا ہوا موت مجھے آلے گی۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور اس سے پنجہ آزمائی ہی اسے بھگانے کانسخہ کیمیا تھا اورمیں اسی پرعمل پیرا تھا۔
میرااندازہ تھا کہ ہم درکئی کی گھاٹی کے مخالف سمت میں سفر کررہے ہیں اوریہ کوئی اچھی علامت گلریز خان سے دور سے دور تر ہوتے جارہے تھے۔ بلندی بڑھنے کے ساتھ ساتھ سردی بھی ‘ نہیں تھی۔ ہم شدید تر ہوتی جارہی تھی۔ آئمہ اور عثمان ابھی تک سیٹ کے نیچے دبکے ہوئے تھے اور خوف و سردی کے سبب بری طرح سے کانپ رہے تھے۔ میں نے جیپ کا اندرونی ہیٹر آن کرنے کے ساتھ ساتھ اندرونی لائٹس بھی بند کردیں۔ جیپ کے عقبی حصے میں جعفر ایرانی کے ہمشکل کی اڑی پیشانی والی لاش ابھی تک موجود تھی۔ اور میں نہیں چاہتاتھا کہ آئمہ اور عثمان کی دوبارہ نظر اس پرپڑے۔
میںنے ان دونوں کو حوصلہ دیا کہ ہم درندوں کے چنگل سے نکل آئے ہیں اور انہیں سیٹ پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ وہ ڈرے ڈرے اور حیران نظروں سے گردوپیش کاجائزہ لینے لگے۔
میری نظریں گاہے بگاہے عقبی آئینے کابھی جائزہ لے لیتی تھیں۔ مخالفین اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ ہم کس طرف گئے ہیں۔ ہمارا تعاقب یقینی بات تھی اور کچھ دیر بعد میرے بدترین خدشات کی تصدیق ہوگئی۔ ایک پہاڑی موڑ پر میں نے نیچے کی جانب کم از کم تین گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس چمکتی دیکھی تھیں۔انہیں ابھی گھوم کر اوپر آنا تھا۔ فاصلہ خاصا تھا مگر شکاری کتوں کی طرح وہ ہمارے تعاقب میں وہ ان کٹھن راستوں کی شناسائی تھی۔ جبکہ میرے لیے … تھے۔ایک اور بات جو انہیں فوقیت دیتی تھی یہ بالکل اجنبی ٹریک تھا۔ حالانکہ میرا خاصا وقت ان علاقوں میں گزرا تھا مگر ان پہاڑوں کی وسعت غیر معمولی تھی۔ بس میرا اندازہ تھا کہ ہم پاک افغان بارڈر کی سرحدی پٹی کے آس پاس ہی ہیں ۔
میں نے رفتار میں قدرے اضافہ کردیا۔ گاڑی کی لائٹس آن رکھنا مجبوری تھا اور یقینا یہی مجبوری تعاقب کرنے والوں کے کام آرہی تھی ۔
بھیا! ہم کہاں جارہے ’’ ہماراسفر دو گھنٹوں سے بھی زیادہ عرصے سے جاری تھا۔ آئمہ نے ایک دفعہ پوچھاتھا۔ ‘‘ ہیں؟
میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ میں خاموش رہا۔ دوبارہ اس معصوم کو پوچھنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کابھیا کہنا میری کیفیت کوپل بھر میں بدل دیتا تھا۔ کمالے جٹ کے سینے میں دھڑا سنگلاخ پتھر موم کی ڈلی میں تبدیل ہوجاتاتھا اور آنسوئوں کی یورش سینے سے آنکھوں کی طرف ہوتی تھی مگر گلے میں کسی گولے کی مانند پھنس جاتی تھی۔ پگڈنڈی اپنی انتہا کوچھو کر دوبارہ پستی کا سفر شروع کرچکی تھی اور یہ بات میرے لیے حوصلہ افزا تھی ۔ نیچے کوئی میدانی وسیع علاقہ تعاقب کرنے والوں کو بھٹکانے میں مدد دے سکتاتھا۔ سفر جاری رہا۔ رات اپنے آخری پہر میں داخل ہوگئی تھی۔ جیپ کے ٹینک میں ایندھن بھی خاصا کم رہ گیاتھا۔ پگڈنڈی خاصی وسیع ہوگئی تھی اور گردواطراف بھی کھل گئے تھے۔ میں نے رسک لیااور گاڑی کی تمام تر لائٹس بند کردیں۔ آئمہ اور عثمان نے ً ہراساںنظروں سے میری طرف دیکھا ۔ مجب ورا مجھے رفتار میں بھی خاطر خواہ کمی کرنا پڑی تھی۔ اطراف قدرے ہموار ہوتے ہی میں نے پگڈنڈی چھوڑ دی۔ دائیں طرف ایک پہاڑی کا سیاہ سا ہیولہ نظر آرہاتھا مگر رخ اسی طرف تھا۔ پہاڑی علاقوں میں اکثر آبادیاں اور پانی کے ذخیرے پہاڑوں کے دامن میں ہی ہوتے تھے۔ میری پہلی ترجیح کسی آبادی میں پہنچ کر گل ریز تک پیغام پہنچانا تھا یا پھر درگئی گھاٹی کا راستہ معلوم کرنا تھا۔ کئی ڈھلانوں اور پانی کے ایک مختصر سی لکیر والے نالے کو عبور کرکے ہم ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت میں بظاہر دس منٹ کی مسافت پر نظر آنے والی پہاڑی کے دامن میں پہنچے تھے۔ طاقتور فوروہیل جیپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ ورنہ یہیں تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ صبح کاذب کے آثار روشن ہو رہے تھے جب ہم پانی کے ایک وسیع تالاب کے قریب پہنچے۔ پانی زندگی کی علامت ہے۔ تالاب کے قریب ہی پہاڑی کی ڈھلوان پراونی خیموں کی بے ترتیب سی بستی آباد تھی۔ میرے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ سرحد کے دونوں طرف آباد خانہ بدوش پائوندے تھے۔ وہی اونی خیموں میں گزر بسر کرتے تھے۔ اپنے ریوڑوں کیساتھ جہاں پانی اور سبزہ نظر آیا یہ وہیں خیمہ زن ہوجاتے تھے۔
ہمارا استقبال سب سے پہلے رکھوالی کے دو جسیم کتوں نے کیا۔ وہ جیپ کے اطراف دوڑتے پوری قوت سے بھونک رہے تھے۔ ان کی آوازوں سے تو سوئے ہوئے مردے جاگ جاتے یہ تو بے حد چوکس پائوندے تھے۔ ہی اونی لبادے میں لپٹے دو پہرے دار سامنے آگئے۔ ان کے کندھوں سے دیسی ساختہ رائفلیں لٹکی ً فورا ہوئی تھیں اور ہاتھوں میں لٹھ تھے۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے جیپ روکنے کے لیے کہا۔رفتار پہلے ہی نہ ہونے کے برابر تھی۔ میں نے جیپ ان کے پاس روک دی۔ کتے بے چینی سے جیپ کے اطراف چکرانے لگے۔ بھونکنا انہوں نے موقوف کردیاتھا۔
کتوں اور مسلح لٹھ برداروں کو دیکھ کر آئمہ اور عثمان کا خوف وہراس دو چند ہوگیا۔
میری طرف کاشیشہ سلامت تھا۔ میں نے شیشہ نیچے کیا تو یخ بستہ ہوا جیپ کے نیم گرم کیبن میں درآئی۔ پہرے دار نے بڑی مشکوک نظروں سے مجھے گھورا اور بے حد سخت لہجے میں پوچھا۔
دوسرے پہرے دار کی نظریں اس دوران جیپ کے اندرونی ‘‘ کون ہو تم؟ اور اس وقت یہاں کیا کررہے ہو؟ ’’ جائزے میں مصروف تھیں۔
ہم ’’ پشتو سے ملتی جلتی ایک زبان بولتے ہیں۔ میں نے نرم انداز میں گزارے لائق پشتو میں کہا۔ ‘پائوندے اغوا کاروں کے چنگل سے نکل بھاگے ہیں اور ہمیں پناہ کی ضرورت ہے۔ دیکھ سکتے ہومیرے ساتھ بچے بھی ‘‘ ہیں۔
اور عقب میں پڑی جعفر ایرانی کے ہمشکل کی لاش دیکھ لی گئی تھی۔ دونوں ۱۶ اس دوران میری ایم۔ پہرے داروں کی رائفلیں بڑی سرعت سے ان کے ہاتھوں میں آگئی تھیں۔
اپنے ہاتھ رائفل سے دور رکھنا اور یہ ’’ ہم سے مکالمہ کرنے والے پہرے دار نے بے حد درشت لہجے میں کہا۔ ‘‘ لاش کس کی ہے؟
ہمارے ساتھی کی ہے۔ اغوا کاروں نے ہم پر ’’ میں نے اپنا نرم لہجہ برقرار رکھااور ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔ کوشش کرکے میں نے اپنے لہجے میں غم کی آمیزش کی تھی۔ ‘‘ فائرنگ کی تھی۔ جس سے یہ ہلاک ہوگیا۔ جفاکش اور جرائم سے دور رہنے والا قبیلہ ہے۔ جرائم سے ‘ میں بخوبی جانتاتھا کہ پائوندے ایک محنتی سے نفرت بھی پائی جاتی ہے۔ مجھے امید تھی کہ ہمیں یہاں پناہ ‘‘جرم’’ بچنے والوں میں قدرتی طور پر مل جائے گی۔
پہرے دار کی کرخت نقوش میں قدرے نرمی اتر آئی۔ اس دوران دوسرے پہرے دار نے ایک ٹارچ کی مدد سے گاڑی کابھی جائزہ لے لیاتھا۔ ونڈ اسکرین چور تھی اور باڈی پربھی متعدد گولیوں کے نشان میری کہانی میں حقیقت کارنگ بھررہے تھے۔
جومیں نہیں سن سکاتھا۔ اس کے ساتھ ہی مکالمہ ‘ ٹارچ والے نے آہستگی سے اپنے ساتھی سے کچھ کہا کرنے والے پہرے دار نے بڑی سرعت کے ساتھ اپنی دیسی ساختہ رائفل کی سرد نال میرے سر سے لگادی۔ یہ دیکھ کر آئمہ اور عثمان چیخنے لگے تھے۔
‘ تمہاری جیپ پر نمبر پلیٹ تو فاٹا ’’ پہرے دار سفاکی سے غرایا۔ ‘‘ خدائی خوار! سچ بولو تم کون ہو؟ ’’ ‘‘پاکستان کا لگا ہوا ہے۔
کیاہم نے وہ طویل وعریض پاک وافغان سرحدی پٹی جسے ‘ میں ایک لحظے کے لیے سناٹے میں رہ گیا کہا جاتاتھا عبور کرلی تھی اور اس وقت افغانستان میں تھے؟ پہرے دار نے درشت انداز ‘‘ ڈیونڈر لائن ’’ ‘‘ تم یہاں کیا کررہا ہے؟ ‘بتائو’’ میںکہا۔
اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگتے ہوئے یہ پتا ہی نہیں ‘ ہم پاکستان میں ہی تھے ’’ میں نے عمیق سانس لیا۔ ‘‘ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ‘ چلا کہ کب ہم نے سرحد عبور کرلی ہے۔میرا اعتبار کرو
‘‘سردار’’ دونوں پہرے داروں کے درمیان پھرمختصر سامکالمہ ہوا۔ میری سمجھ میں صرف ایک لفظ آیاتھا۔
میںنے عثمان اور آئمہ کو تسلی دے کرچپ کروایا۔ اس دوران دوونوں پہرے داروں نے رائفلوں کی نوک پر انہوں نے سنبھال لیں۔ ۱۶ ہمیں جیپ سے اتار لیا۔ میری اور عثمان کی جامہ تلاشی ہوئی۔ بیریٹااور ایم۔ میری پنڈلی سے بندھا باریک بلیڈ جیسا خنجر جومیرے جسم کا حصہ بنا رہتاتھا ایک دفعہ پھر اس جامہ تلاشی میں بچ گیا۔
تین اور جسیم پائوندے بھی اس دوران وہاں آگئے تھے۔ ‘ مخصوص پگڑیوں اور میلی اونی صدریوں والے دو صورت حال جانتے ہی ان میں سے ایک خیمہ بستی کی طرف دوڑ گیا۔
پائوندوں کے جلو میںہم خیمہ بستی میں داخل ہوئے۔ اسی وقت سیاہ پہاڑی کی اوٹ سے سورج کے کونے نے بھی سرنکال لیا تھا۔ آئمہ کپکپاتی ہوئی میرے بالکل ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ میں نے اسے بازو کے حلقے میں لے لیا۔
ہماری منزل ایک وسیع وعریض اونی خیمہ ثابت ہوا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ پائوندوں کے سردار کا خیمہ ہے۔ پہرے دار ہمیں لے کر خیمے میں داخل ہوئے۔ پہلے آنے والا شخص یہاں پہلے سے موجود تھا۔ وسیع وعریض خیمہ تین حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلا حصہ نشست گاہ اور بعد میں معلوم ہوا کہ باقی دوحصوں میں سردار کی دو عدد بیویاں موجود ہیں۔
اونی خیمے میں خوشگوار حرارت تھی۔ جس کامنبع ایک گول چولہاتھا۔ جس میں کوئلے دہک رہے تھے۔ اور چولہے کے اوپراسٹینڈ پر بڑی سی کیتلی رکھی تھی جس میں قہوہ کھول رہا تھا۔ خوشگوار حرارت میں قہوے کی مہک بھی رچی ہوئی تھی۔ چولہے کے عین اوپر چمنی کے اندرونی دہانہ تھا۔ دھواں وغیرہ اس کے راستے خیمے سے باہر نکل جاتاتھا۔
ہمیں جوتے اتروا کر چولہے کے قریب اونی قالین پر بٹھادیاگیا۔ پہرے داروں کے علاوہ سب لوگ باہر نکل گئے۔ پہرے دار ہمارے عقب میں چوکس کھڑے تھے۔
زنان خانے والے حصے کا اونی پردہ ہٹااور پائوندوں کے سردار کی صورت نظر آئی۔ درمیانے قد اور بے حد منحنی جسم کامالک سردار قطعی طور پرمتاثر کن شخصیت کامالک نہیں تھابلکہ ٹھوڑی سے لٹکتی خشخشی داڑھی کے ساتھ وہ کسی مزاحیہ فلم کا کردار نظر آتاتھا۔ مگر اس کی چھوٹی چھوٹی چمکدار خاص طور پر مجھ پر جمی تھیں۔ ایک … آنکھوں میں کوئی خاص بات تھی اور اس وقت یہی آنکھیں ہم پر اور بیریٹا سردار کو ۱۶ پہرے دارنے مختصر طور پر ہمارے بارے میں سردار کو آگاہ کیا۔ دوسرے نے ایم۔ دکھایا۔
میں نے محسوس کیا کہ دونوں شاندار اور قیمتی ہتھیار دیکھ کر سردار کی آنکھوں کی چمک ایک لحظے لے کر اس پر دھیرے سے ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ ۱۶ کے لیے دوچند ہوگئی تھی۔ پہرے دار کے ہاتھ سے ایم ۔ پائوندوں کی مخصوص زبان کی بجائے اس ‘‘ یہ رائفل تم نے کہاں سے لی جوان؟ ’’مجھ سے مخاطب ہوا۔ نے پشتو میں پوچھا تھا۔ جسم کے برعکس اس کی آواز بھاری اور رعب دار تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: