Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 9

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر 9

یہ میں نے اپنے اغوا ’’ میں اس کی دلچسپی محسوس کرلی تھی۔ اسی کی بنیاد پر کہا۔ ۱۶ میں نے ایم۔ کاروں کے درمیان ہونے والے ایک جسمانی زور آزمائی کے مقابلے میں جیتی تھی اور یہ میں محترم سردار ‘‘ کو تحفے کے طور پر پیش کرتا ہوں۔
سردار کی باریک بین نظروں نے پل بھر میں میرے تنومند جسم کو ٹٹول لیا۔ اس کی نظروں میں واضح تحسین نظر آئی۔ مجھے دیکھنے اور سننے والے ایسے ہی مجھ سے مرعوب ہوجاتے تھے۔ میںنے اپنی بات جاری رکھی ۔
اغوا کاروں کے چنگل سے بچوں سمیت میںبڑی مشکل سے نکل پایا ہوں۔ مجھے آپ کی مدد اور پناہ کی ’’ ضرورت ہے۔ اغوا کار ہمارے تعاقب میں تھے۔ جلد یا بدیر وہ یہاں تک بھی پہنچ جائیں گے اور ہماری گاڑی ‘‘ یہاں ہماری موجودگی کی نشان دہی کردے گی۔
تمہاری گاڑی کا کچھ کرلیتے ہیں مگر تمہارا تحفہ قبول کرنے اور ’’ سردار کے چہرے پر اضطراب چمکا۔ تمہیں پناہ دینے کا فیصلہ مغرب کے بعد قبیلے کے بڑوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ تمہارے یہ تمہارے ساتھ ایک عدد ’’ ایک لحظے کو رک کر اس نے دوبارہ کہا۔ ‘‘ ہتھیار اور گاڑی ہمارے پاس امانت ہے۔ ‘‘… لاش بھی ہے جو تمہارے بقول تمہارے ساتھی کی ہے
میں نے تیزی سے ذہن میں کہانی ترتیب دیتے ہوئے ‘‘ محترم سردار کی بات کاٹنے پرمعذرت چاہتا ہوں۔ ’’ وہ اغوا کاروں کا ہی بندہ تھا۔ اسے یرغمال بنا کرہم … پہرے دار کے سامنے میںنے غلط بیانی کی تھی ’’کہا۔ ‘‘ ان کے چنگل سے نکلے تھے۔ اغوا کاروں کی فائرنگ سے ہی وہ ہلاک ہوا ہے۔
آئمہ اور عثمان بلی کے ننھے بچوں کی مانند ایک دوسرے سے لپٹے یہ مکالمہ سن رہے تھے۔ زبان ان کے لیے اجنبی تھی۔ غیر محسوس انداز میں آئمہ کا ایک ہاتھ اب بھی میرے بازو پر گرفت کیے تھا۔
خیمے کے باہر صبح کا آغاز ہوچکاتھا۔ قریب سے گزرنے والے جانوروں کے ریوڑ اوران کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
ناگوار گزراتھا۔ اپنے تاثرات پر قابو رکھتے ‘‘پہلا جھوٹ’’ سردار کے جبڑے بھینچ گئے۔ واضح طور پر اسے میرا ‘‘کچھ اپنے اغوا اور اغوا کاروں کے متعلق بتائو۔ ‘ تم لوگ میدانی علاقے کے لگتے ہو ’’ہوئے اس نے کہا۔
‘‘ملک’’ محترم سردار کا اندازہ درست ہے۔ ہمارا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے۔ ہم سرحد پار کے ’’ گل ریز خان کے مہمان تھے۔
گل ریز کے نام پر س ردار کے چہرے کا رنگ بدلا۔ پائوندے سرحد کے دونوں اطراف آزادی سے آتے جاتے رہتے گل ریز خان کوجانتا ہو۔ سردار نے محض پہلو بدلا اور میری گفتگو میں ‘ تھے اور یہ عین ممکن تھا کہ سردار ہم لوگ شکار پر نکلے تھے۔ ان بچوں کاباپ پنجاب ’’ مداخلت نہیں کی تومیں نے اپنی داستان جاری رکھی۔ ‘ پولیس کاایس پی ہے اور میرا تعلق بھی پولیس سے ہے۔ ہمارے پڑائو پر رات کو ڈاکوئوں نے شب خون مارا ‘‘ اور مجھے اور ان بچوں کو باندھ کراپنے ساتھ لے گئے۔ درگئی گھاٹی کے آس پاس ان کا خفیہ ٹھکانا تھا۔
طوراخان اور باکی موشو کے حوالے نہیں دیئے۔ سردار بغور مجھے سن رہاتھا۔ ‘ میںنے دانستہ سرخ بھیڑیے میں نے مزید کہا۔
ہمیں ان اغوا کار ڈاکوئوں کے قبضے میں پندرہ دن سے زیادہ ہوگئے تھے۔ وہ ہمارے وارثوں سے تاوان لینے ’’ کے چکر میں تھے۔ اس دوران گزشتہ رات ڈاکوئوں نے اپنے ٹھکانے پر ناچ گانے کی محفل سجائی تھی۔ ہمیں بھی باندھ کر وہیں بٹھادیاگیا۔ شراب کے نشے میں دھت ایک ڈاکو نے وہاں موجود لوگوں کو جسمانی انعام میں دینے کااعلان کیا تومیں نے ۱۶ مبارزت کے لیے للکارا اور خود کو شکست دینے والے کو اپنی ایم۔ کو چیلنج کردیا۔ ‘‘للکار’’ اس کی
اس ڈاکو کے ساتھ جسمانی مقابلے کے لیے رسیوں سے آزاد کردیاگیا۔ میںنے نہ صرف اس ڈاکو …مجھے’’ بلکہ ڈاکوئوں کے خاص مہمان کو بھی یرغمال بنا کر وہاں … کو پچھاڑ کر اس کی ایم ۔سولہ پر قبضہ کرلیا سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ بعد میں وہ خاص مہمان عقب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ‘‘کا طالب ہوں۔ ‘‘پناہ’’ ہوگیا اور اب میں آپ کے سامنے
اگر تمہاری کہانی درست ہے تو نہ صرف تمہیں پناہ دی جائے گی ’’ میرے خاموش ہوتے ہی سردار نے کہا۔ ‘‘ بلکہ ہر طرح سے تمہاری مدد بھی کی جائے گی۔
‘‘ اس کے لیے میں سردار کا بے حد مشکور ہوں۔ ’’
اگر یہ جھوٹ ہوا اور تم کسی جرم میں ملوث پائے ’’ میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سردار نے مزید کہا۔ سردار کا ٹھوس لہجہ اس کے ارادوں کی گواہی دے رہاتھا۔ ‘‘ گئے تو خود کو بڑی اذیت میں پائوگے۔ تمہاری کہانی کی تصدیق ہم ملک گل ریز سے کریں گے۔ ہمارا قبیلہ دو دفعہ ملک کی زمینوں پر وقت ’’ اس کے احسان مندہیں۔ اگر تم واقعی ملک کے مہمان تھے تو تمہیں بحفاظت اس تک ‘گزار چکا ہے۔ ہم ‘‘ پہنچانا ہمارے لیے بڑی خوشگوار بات ہے۔
میرے وجود میں گہری طمانیت اتر آئی۔ آئمہ اور عثمان کی وجہ سے میں خود کو بندھا ہوا سا محسوس کررہاتھا۔ میری کوشش تھی کہ وہ کسی طرح محفوظ ہاتھوں میںپہنچ جائیں۔
ان پسماندہ ترین قبائلی علاقوں میں جدید ترین اسلحہ اور جدید ترین ذرائع مواصلات کادستیاب ہونا عام سی بات تھی۔ عین ممکن تھا مزاحیہ فلم کے کردار جیسے پائوندوں کے اس سردار کے پاس سیٹلائٹ فون ہو۔ سیٹلائٹ فون دستیاب ہوتے ہی میں کرنل سلیم کے ذریعے گل ریز تک اپنی یہاں موجودگی کا پیغام پہنچاسکتاتھا۔
میںنے اس خواہش کااظہار کیا تو سردار نے مثبت جواب دینے سے اعتراض کیا۔ یقینا قبیلے کے بڑوں سے مشاورت کے بعد ہی وہ کوئی قدم اٹھانا چاہتاتھا۔
ہمیں ایک جھونپڑے میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ سردار نے ہماری گاڑی کو چھپانے اور ہماری قبیلے میں موجودگی کو راز میں رکھنے کے احکامات صادر کردیئے تھے۔ ہمیںبھیڑ کا نیم گرم دودھ اور ٹھنڈی خمیری روٹی کھانے کے لیے دی گئی۔ پیٹ میں دوڑتے چوہوں کے لیے یہ کافی تھا۔ آئمہ اور عثمان کو میں نے بمشکل چندلقمے لینے پر آمادہ کیا ۔ گاہے بگاہے ان کی آنکھیں نم ہوجاتی تھیں اور سینوں سے ہچکیاں برآمد ہوتی تھیں۔
وہ دونوں مجھ سے لپٹے تھے۔ جیسے خوف ہو کہ علیحدہ ہوتے ہی حوادث کی آندھی انہیں اڑا کر لے جائے خاص طور پرآئمہ تو جیسے میرے بازو کا حصہ بن چکی تھی۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ … گی میں نے کسی طرح طوفانوں کا رخ اپنے حق میں س ا ی لیے میری طرف دیکھتے ہوئے اس کی ً پلٹاتھا۔ غالبا بڑی بڑی آنکھوں میں ہراس قدرے کم ہوجاتا تھا۔ ً اس اونی خیمے میں ہم تقری باہر ایک رائفل بردار موجود تھا اور خیمے کے داخلی پردے کو ‘ با قیدی ہی تھے میری پنڈلی سے بندھا جان ‘ میرے لیے بے معنی تھی ‘‘ قید ’’ باہر سے ڈوری کے ساتھ بند کردیا گیا تھا۔ یہ لیوا خنجر اونی خیمے کو بآسانی چاک کرسکتا تھا اور اسی خنجر کی نوک باہر موجود پہرے دار کی گردن پر رکھ کر اس کی رائفل پر قبضہ جمانا میرے لیے معمولی سی بات تھی مگر فی الحال میرا ایسا کوئی
گل ریز کا احسان تھا اور میں اپنا تعارف گل ریز کے مغوی مہمان کے طور پر ‘ پروگرام نہیں تھا۔ سردار کرواچکا تھا۔
یہاں پہنچ بھی جاتے تو پائوندوں کا یہ قبیلہ ہمارے قبیلے میں ‘‘ شکاری ’’ اگر ہمارے تعاقب میں آنے والے موجودگی سے انکاری ہوجاتا۔کسی مخبری کا اندیشہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ قبائل میں سردار اورقبیلے سے وفاداری کو بہت ہمیت حاصل تھی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو میں نے سخت ترین اور عبرت ناک انجام کاشکار ہوتے دیکھا تھا۔
میں خود کوقدرے مطمئن محسوس کررہاتھا۔ آئمہ اور عثمان کو بھی میں نے تسلی تشفی دی کہ اب طورا میں ہوں گے۔ اس تسلی کا ان پر ‘‘محفوظ ہاتھوں’’ خان وغیرہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور بہت جلد ہم خاص طور پر میری موجودگی سے ان کی ڈھارس بندھی ہوئی تھی۔ …خاصااثر ہوا
خیمے میں اونی قالین قبچھے تھے اور بھیڑ کے اون کے بنے میلے اور بدبودار کمبل تھے۔ ہم جن حالات سے تھیں۔ پیٹ بھی بھرچکاتھااور قدرے بے فکری بھی ‘‘ فائیواسٹار ’’ گزرے تھے اس کے بعد یہ سہولیات بھی تھی۔ جسمانی چوٹیں آرام کا تقاضا کررہی تھیں۔ میں نے ایک کمبل اوڑھ لیا۔ دوسرا کمبل میںنے آئمہ اور عثمان کو اوڑھایااور انہیں کچھ دیر سونے پرآمادہ کیا۔
کچھ ہی دیر میں تھکے ماندے وجود پر سستی غالب آگئی اور نیند نے آلیا۔ اس حالت میں بھی آئمہ کا ہاتھ میرے ہاتھ پر گرفت کیے ہوئے تھا۔
…٭٭٭…
وہاں میرے اور سردار خوشحال ‘ منظر سردار جس کانام سردار خوشحال معلوم ہوا تھا اس کے خیمے کا تھا کے علاوہ قبیلے کے تین بڑے موجود تھے۔ ان بڑوں میں ایک طویل قامت اور چوڑی ہڈی کامالک شامل خان بھی تھا جس کے چوڑے سینے پر کسی مضبوط دیوار کا گمان ہوتاتھااور سرمہ لگی آنکھوں میں عقابی چمک تھی۔ یہ قبیلے کا سپہ سالار تھا۔ قبیلے کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری اس کے مضبوط کندھوں پر تھی۔
جن کے چہروں کی جھریوں میں جہان دیدگی جیسے جم کررہ گئی تھی۔ ‘ باقی دونوں بڑے عمر رسیدہ تھے میںنے اپنی کہانی ایک دفعہ پھر بیان کی تھی اس دفعہ میرا لہجہ زیادہ مضبوط تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ طورا خان وغیر ہ کاشکاری جتھا ابھی تک یہاں نہیں پہنچا تھا۔ یقینا میں انہیں بھٹکانے میں کامیاب رہاتھا۔
چاروں بڑے آپس میں صلاح ومشورے کرنے لگے۔ گل ریز خان کے حوالے کی وجہ سے میرا وزن خاصا بڑھ سردار خوشحال دبے انداز میں میری حمایت ‘ گیاتھا۔ دونوں عمررسیدہ بڑے شش وپنج کاشکار تھے کررہاتھا جبکہ شامل خان نے میری واضح حمایت کی تھی۔ اس کاکہنا تھا کہ اگر میں واقعی گل ریز خان جس میں ایک اور قبیلے سے ‘ کامہمان تھا تو میری مدد ان کا فرض تھا۔ اس نے ایک واقعہ کاذکر کیا چراگاہ کے جھگڑے پر گل ریز خان نے ان کی حمایت ومدد کی تھی۔
اگر وہاں سے ‘ مختصر بحث ومباحثے کے بعد طے پایا کہ ایک قاصد گل ریز خان کی طرف روانہ کیاجائے گل ریز خان کے پاس پہنچا دیا جائے ۔ ‘‘پار’’ میری کہانی کی تصدیق ہوتی ہے تو ہمیں بحفاظت سرحد کے بصورت دیگر جھوٹ کی سزا کے طور پر مجھ سے تین ماہ بیگار لی جائے اور اگر اس دوران ہماری حوالگی کا مطالبہ لے کر کوئی دوسری پارٹی سامنے آجاتی ہے تو ہمیںان کے حوالے کردیاجائے گا۔ اور ہمارے ہتھیار اور گاڑی بھی ضبط کرلی جائے گی۔
آنے والی جعفر ایرانی کے ہمشکل ‘‘ساتھ’’ اس زبانی معاہدے پرمیں نے اپنی آمادگی کا اظہار کردیا۔ ہمارے کی لاش کابھی مسئلہ زیربحث آیا۔ اسے فی الحال ایک برفیلی قبر میں بطور امانت دفن کرنے کا فیصلہ ہواتھا۔
شامل خان تھوڑا بہت پڑھا لکھا تھا۔ اس نے میری طرف سے گل ریز خان کو ایک خط تحریر کیا ۔ خط کے مندرجات میری طرف سے لکھے گئے تھے۔ اس لیے میں مطمئن تھا کہ گل ریز سچویشن سمجھ جائے گا۔
میں سردار کے خیمے سے اٹھا تو اور زیادہ مطمئن تھا۔ آئمہ کو سردار خوشحال کی بڑی بیوی کے پاس اور… بیوی کے خیمے میں ‘ پائوندوں کے لباس میں رہنا تھا۔ اسی طرح عثمان کو ایک عمر رسیدہ میاں اس طرح ہم قبیلے کا ہی ایک حصہ بن جاتے اور مجھے محسوس ہواتھا اس …مجھے شامل خان کے ساتھ رکھنے میں کوئی دشواری ‘‘نظر’’ طرح عقابی آنکھوں والے شامل خان کو بھی ہم پر خاص طور پر مجھ پر پیش نہ آتی۔
سورج کب کا غروب ہوچکاتھا۔ سرد شمالی ہوائیں ہڈیوں سے کراج مانگتی پھررہی تھیں۔ آسمان پر سیاہ بادلوں کا راج تھا۔ خیمہ بستی میں چند جگہوں پر آگ کے الائو روشن تھے اور مرد ان کے گرد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ قہوے کی بڑی بڑی دیگچیاں ہر الائو کا لازمی جز تھیں۔ خیموں سے نکلنے والے دھویں نے فضا میں کہر کی سی صورت اختیار کرلی تھی۔
شامل خان کے ساتھ پہلے اسی خیمے میں آیا جہاں آئمہ اور عثمان سہمے سے موجود تھے مجھے ‘ میں دیکھ کر ان کے زرد چہروں پر زندگی لوٹ آئی۔
ہوں گے۔ علیحدہ علیحدہ ‘‘گھر’’ میںنے انہیں صورت حال سے باخبر کیااور تسلی دی کہ بہت جلد وہ اپنے رہنے پر میں نے انہیں بمشکل آمادہ کیاتھا۔ آئمہ ایک دفعہ پھر میرے بازو سے لپٹ کر آنسو بہانے لگی تھی۔ میں کتنی دیر اسے تسلی دیتا رہاتھا۔
واپسی پر میں نے ایک دفعہ پھر محسوس کیا کہ آسمان پر تاریکی دیکھتے ہی شامل خان کی آنکھوں میں تشویش ہلکورے لینے لگ جاتی تھی۔ پہلا اندازہ تو یہی تھا کہ موسم کے تیور اور بارش کی ممکنہ آمد کے سبب یہ تشویش ہے مگر ان بارانی علاقوں میں بارش تو بہت بڑی نعمت تھی اور ہر موسم میں اسے خوش آمدید کہا جاتاتھا اور موسم کی سختیوں سے لڑنا تو ان بے حد سخت جان پائوندوں کی سرشت میں شامل تھا پھراس تشویش کی کیا وجہ تھی؟
میں نے فی الحال زبان پر قابو رکھنا ہی مناسب سمجھا۔ شامل خان مجھے اپنے خیمے میں لے گیا۔ وہ شادی شدہ نہیں تھا۔ خیمے کے ہی ایک حصے میں اس کی ماں رہائش پذیر تھی اور یہ حصہ ایک موٹے اونی پردے کی مدد سے علیحدہ تھا۔
جب تک ملک گل ریز کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں ’’ خیمے میں داخل ہوتے ہی شامل خان نے کہا۔ ایک قبائلی جب اپنے خیمے کا دروازہ کسی کے لیے کھولتا ہے تو وہ اپنے دل کا … تم مہمان ہو … آجاتی ‘‘آئو۔… دروازہ بھی کھول دیتا ہے
میں جوتے مخصوص جگہ چھوڑ کر خیمے میں داخل ہوگیا۔ شامل خان نے اپنی چھوٹی نال کی رائفل اور صدری اتار کر ایک کھونٹی سے لٹکائی اور مجھ پر ایک گہری نظر ڈالتا ہوا اونی پردے کی اوٹ میں چلا گیا۔
چند منٹ بعد اس کی واپسی ہوئی تو اس کے ہاتھوں میں ایک تہہ شدہ اونی لباس اور ایک لوہے کا گول لحظہ بھر کے ‘‘ یہ میرا لباس ہے امید ہے تمہیں آجائے گا۔ ’’ ڈبا تھا۔ میرے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے کہا۔ آئو تمہاری … میں نے سردار کے خیمے میں بھی دیکھا تھا تم زخمی ہو ’’توقف کے بعد اس نے دوبارہ کہا۔ اس نے گول ڈبا کھولا۔ ‘‘ مرہم پٹی کردوں۔
‘‘ اتنا زخمی بھی نہیں ہوں کہ مرہم پٹی کی ضرورت پیش آئے۔ … نہیں ’’
اگر واقعی ‘سخت جان بندے ہو’’ اس کی عقابی آنکھیں مجھ پر آجمی۔ واضح طور پر ان میں تحسین تھی۔ ‘‘شمانڈو ٹائپ کے بندے ہو۔ ‘ تمہارا تعلق پاکستانی پولیس سے ہے تو ضرور کمانڈو
میںنے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ یہ ‘‘ میری صداقت کا ثبوت تمہیں بہت جلد مل جائے گا۔ ’’ ساری گفتگو پشتو میں ہو رہی تھی۔ میں بہت اچھی پشتو تو نہیں بول سکتاتھا مگر کام ضرور چلا رہاتھا۔
شامل خان نے میرے انکار کوچنداں اہمیت نہیں دی تھی اور میری مرہم پٹی پر جت گیا ۔ اس کے انداز میں خلوص تھا۔ میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا۔ پہلے والا لباس میں نے اتار دیا تھا۔ شامل خان کے ہاتھ بڑی مشاقی سے چل رہے تھے ۔ اس نے ایک سیاہی مائل مرہم سا میرے زخموں پر لگایا تھا۔ نہ جانے وہ کیا چیز تھی چند لمحوں کے لیے تو یوں محسوس ہوا جیسے آگ کے کوئلے میرے زخموں پر دھر دیئے گئے ہوں۔ میں نے بے چینی سے پہلو بدلا تو شامل خان نے تسلی آمیز انداز میں میرے سینے پر ہاتھ دھرا۔
‘‘ یارا! صرف چند سیکنڈ۔ ’’
واقعی چند سیکنڈ بعد آگ کے شعلے برف کے ڈلوں میں تبدیل ہوگئے۔ مرہم پٹی کے بعد میں نے شامل خان کا لباس پہن لیا۔ ہم دونوں خیمے سے باہر نکلے تو ایک دفعہ پھر سیاہ آسمان کی طرف دیکھ کر شامل خان کی آنکھوں میں تشویش چمکی۔ ہم چند قدم ہی چلے تھے کہ اچانک ایک ضعیف العمر پائوندا ہمارے سامنے آگیا۔ اس کے جھریوں بھرے چہرے پر فکرمندی ڈیرے ڈالے ہوئے تھی اور زرد آنکھیں شامل کچھ کرو لال ’’ خان کے چہرے پر کچھ تلاش کررہی تھیں ۔اس نے ہاتھ جوڑے اور ملتجیانہ انداز میں بولا۔ ‘‘ شاہ! اس کی بیوی رو رو کر مرجائے گی۔
بھی کہا جاتاتھا۔ ‘‘لال شاہ’’اور ‘‘بڑا رکھوالا’’ بعد میں معلوم ہوا کہ قبیلے کے سپہ سالار کو
قبیلے کے بہترین ‘ حوصلہ رکھو چاچا ’’ شامل خان نے تسلی آمیز انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ قبیلے کے تین اور افراد … اور یہ بھی یاد رکھو تمہارا بیٹا اکیلا نہیں ہے … نوجوان اس کام پر لگے ہوئے ہیں ‘‘ بھی تو ہیں۔
بوڑھا بے بسی سے ہونٹ کاٹنے لگا وہ اپنے آنسو ضبط کرنے کی جدوجہد کررہاتھا۔ اسی وقت ایک قریبی خیمے سے کسی نوجوان عورت کی کرلاتی اور بین کرتی آواز بلند ہوئی۔ بوڑھا چونکااور پھر تیزی سے اسی خیمے کی طرف بڑھ گیا۔
مجھے کسی گمبھیر معاملے کی بومحسوس ہوئی۔ میں نے اس بارے میں شامل خان سے پوچھا تو اس چند دن پہلے قبیلے کے چند نوجوان برفانی بکرے کے شکار کے لیے نکلے ’’ نے قدرے متذبذب انداز میں کہا۔ تھے۔ ان میں سے دو نوجوان پراسرار طور پر غائب ہوگئے تھے ۔ ان کے گھوڑے وغیرہ تو مل گئے تھے مگر ان پچھلے چاند کی پندرہ کو اس کی شادی … کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔ ان میں ایک اس بوڑھے کابیٹا بھی تھا ‘‘ ہوئی تھی۔
‘‘ ان پہاڑوں میں حوادث منہ کھولے رہتے ہیں۔ ’’ میں نے خیال آرائی کی۔ ‘‘ کوئی حادثہ وغیرہ۔ ’’
کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ وہ دونوں کڑیل جوان اور قبیلے کے بہترین شکاری ’’ شامل خان نے کندھے اچکائے تھے۔ یہ پہاڑ ان کے شناور تھے اور سب سے بڑھ کر کسی حادثے کی صورت میں نعشیں تو دستیاب ‘‘ ہوتیں۔
میں نے ایک اور سمت خیال کاگھوڑا دوڑایا۔ ‘‘ کوئی دشمنی وغیرہ؟ ’’
‘‘ ہمیں پڑائو کیے دوسرا مہینہ ہے اور قریبی آبادی یہاں سے کوسوں دور ہے۔ … یہاں تو دور دور تک نہیں ’’ یہ کہہ کر وہ اور زیادہ متذبذب نظر آنے لگا۔ یوں لگتاتھا کوئی اور بات بھی ہے جو وہ مجھے بتانا نہیں چاہتا۔
تم کھل کربات کرسکتے ہو شامل خان۔ ممکن ہے میں تمہارے ’’ اس کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے میںنے کہا۔ میرے لہجے میں ہ ‘‘ کسی کام آجائوں۔ ی مقابل پراثرانداز ہوتاتھا۔ ً وہ مخصوص اعتماد تھا جو فورا
شامل خان کے لہجے میں ‘‘! پتا نہیں کیا جادو ہے تم میں یارا ’’ شامل خان نے چونک کرمیری طرف دیکھا۔ ‘‘ خواہ مخواہ ہی دل تمہاری طرف کھنچتا ہے۔ کاش تم میرے بھائی ہوتے۔ ’’ بے تکلفی اتر آئی۔
کچھ زبانی بنائے جانے ’’ میںنے چلتے ہوئے اس کے مضبوط ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائیں۔ اور انہیں دل کے رشتے کہا جاتا … والے رشتے خونی رشتوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتے ہیں شامل خان تھا اور میری زندگی میں دل کے ایسے رشتے موجود ہیں جو خون کے رشتوں سے بڑھ کر ہیں۔ میں آج سے میں نے پورے خلوص سے کہا۔ ‘‘ تمہارا بھائی ہوں۔
یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ یہ سچا خلوص اثر نہ دکھاتا۔ اس سنگلاخ سینے والے قبائلی نے بے اختیار مجھے اس نے جذبات سے بھیگی آواز میں کہا۔ ‘‘ یہ کیا بول دیا ہے تونے لالے کی جان! ’’ گلے سے لگالیا۔
‘‘ آج سے شامل خان کی جان تیری ہوئی۔ ’’
درآئے تھے اور مجھے ‘‘ بہن اور بھائی ’’ چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں میری طوفانی زندگی میں ایک دونوں کا حق ادا کرناتھا۔
تھوڑی دیر بعد شامل خان نے بتایا کہ شکار پر جانے والے دونوں نوجوانوں کے علاوہ تین دن پہلے پہرے پر مامور دو اور نوجوان بھی اپنے اسلحے سمیت غائب ہیں۔ قرب وجوار میں ان کی تلاش کے لیے کئی پارٹیاں دوڑائی گئی تھیں مگر حصے میں ناکامی آئی تھی۔ یوں لگتاہے چاروں نوجوانوں کو زمین نگل گئی ہے۔ شہروں سے بہت پرے بسنے والی آبادیوں میں ان دیکھی مخلوق اور ان کی انسانی زندگیوں میں مداخلت کاتصور عام سی بات ہے۔ ویسے تو شہروں میں بھی اس اعتقاد کے حامل لوگوں کی تعداد کم ہے مگر اس دور دراز قبائلی علاقے کی پراسرار فضا میں یہ تصور تو اور زیادہ پختہ تھا۔
شامل خان کے قبیلے میں بھی خوف وہراس کی فضا قائم تھی۔ ان گم شدگیوں کو پراسرار رنگ دیا جارہاتھااور ان دیکھی مخلوق کے کھاتے میںان چاروں نوجوانوں کو ڈالاجارہاتھا۔ جس میں سے ایک کی نوبیاہتا بیوی نیم پاگل ہوچکی تھی۔
دو سوسال پہلے انگریز فوج کی ایک کمپنی کو ‘ ڈیڑھ ‘ جس پہاڑی کے دامن میں قبیلے نے پڑائو ڈالا تھا حریت پسندوں نے گھیر کر ہلاک کردیاتھا او ران کی لاشوں کی بے حرمتی کی تھی۔ کئی دن تک مردار کے حوالے سے کئی ‘‘روحوں’’ خورجانور اور پرندے ان کی لاشوں کو نوچتے رہے تھے۔ ان انگریزوں کی کہانیاں تھیں۔ اب پائوندوں کے قبیلے کے کئی لوگ اس بات کے دعویدار تھے کہ انہوں نے رات کو سرخ ان میں ‘ وردیوں اور لمبی سنگینوں والی رائفلیں تھامے ان لمبے چوڑے انگریزوں کی روحوں کو دیکھا ہے سے کسی کا کان غائب تھا تو کسی کاناک اور کئی بغیر آنکھوں کے تھے۔
اب قبیلے کی واضح اکثریت سردار پرزور ڈال رہی تھی ہ ی اس جگہ سے پڑائو اٹھالیا جائے۔ مگر ً کہ فورا سردار اورقبیلے کے چند اور بااثر لوگ جن کے جانوروں کے بڑے بڑے ریوڑ تھے یہاں سے پڑائو اٹھانے کے حق میں نہیں تھے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ اردگرد کی وسیع چراگاہیں اور پانی کاخاصا ذخیرہ تھا۔ یہ ساری معلومات شامل خان نے دی تھیں۔ وہ تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہونے کے باوجود تھا تو سرتاپا قبائلی ہی اس کے تم خود ہی سوچو ان جوانوں کو گندی ’’ چہرے پر بھی ان دیکھی ارواح کا خوف صاف نظر آرہاتھا۔ وہ بولا۔ روحوں نے اپنی خوراک نہیں بنایا تو وہ کہاں جاسکتے ہیں؟ مان لیا شکار پر جانے والے تو کسی حادثے میرے چہرے پر وہ اپنے سوال کا جواب تلاش ‘‘ کاشکار ہوسکتے ہیں مگر پہرے پرمامور جوان کہاں گئے؟ ‘‘ اب اگر مزید کوئی گمشدگی ہوئی تو سردار یہاں سے پڑائو اٹھانے پرمجبور ہوجائے گا۔ ’’کرتا ہوا بولا۔
میرا ذہن تیزی سے رواں تھا مگر پراسرار گمشدگیوں کامعمہ ہنوز ویسے کاویسے تھا۔ میرا پس منظر بھی چڑیلوں اور پچھل پیریوں کے قصے سنے تھے۔ جنوں کا وجود ‘بھوتوں ‘ دیہہ تھا۔ بچپن سے ہی میں نے جنوں تو قرآن سے بھی ثابت تھا مگر ان دیکھی مخلوق کے انسانی زندگی میں اتنے زیادہ دخل پر مجھے کبھی یقین نہیں رہاتھا کہ وہ انہیں باقاعدہ اغوا کرکے اپنی خوراک بنالے۔ میںنے شامل خان سے اختلاف رائے کی بجائے خاموش رہنا بہتر جانا۔
شامل خان مجھے لے کر ایک بڑے الائو کے قریب پہنچا یہاں بیس سے زیادہ لٹھ بردار نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ رائفلیں بھی ان کے کندھوں کاجز تھیں۔ یہ سبھی شامل خان کے جتھے کے تھے۔ انہوںنے کھڑے ہو کر کی حیثیت سے بھی وہ واقف تھے۔ ہمیں الائو کے قریب جگہ ‘‘مہمان’’ اپنے سالار کا استقبال کیا۔ میری دی گئی ہ ی قہوے کی پیالیاں بھی گردش میں آگئیں۔ ً ۔ فورا
قہوے کی چسکیوں کے دوران شامل خان نے ان بڑی ٹارچ اور ڈرائی سیلوں کا معائنہ کیا جو پراسرار گمشدگیوں کے بعد بڑی تعداد میں منگوائی گئی تھیں اور آج ہی قبیلے میں پہنچی تھیں۔ شامل خان نے ایک ٹارچ آن کرکے اس کا روشن ہالہ تاریک گوشوں میں ڈال کر اپنا اطمینان کیا۔
شب کے پہرے کے لیے شامل خان نے دو کی بجائے چار نوجوانوں پر مشتمل ٹولیاں بنائیں اور ہر نوجوان کو ٹارچ کے ساتھ اسے ضرورت کے وقت استعمال کرنے کی ہدایت کی۔
میں محسوس کررہاتھا کہ شامل خان کے جتھے کے نوجوانوں کی آنکھوں میں جہاں میرے لیے دلچسپی تھی وہیں ان دیکھی ارواح کا خوف بھی تھا اور اس کاثبوت بھی گ سامنے آ یا۔ جب شامل خان نے ً فورا ٖ طلب کیے۔ ‘‘رضاکار’’ پہاڑی کی چوٹی پر پہرے کے لیے ٹھیک ’’ سبھی جوانوں کو سانپ سونگھ گیاتھا۔ کوئی بھی سامنے نہیں آیا۔ شامل خان کا چہرہ تمتمااٹھا۔ ‘‘ چوٹی پرپہرہ میں دوں گا۔ ‘ہے
تین نوجوانوں نے نیم ‘کا منصب تھا۔ دو ‘‘بڑے رکھوالے’’اور ‘‘لال شاہ ’’ میں جانتاتھا اس فیصلے کے پیچھے دلی اور مردہ سے انداز میں اپنے سالار کو روکنے کی کوشش کی اور خود کو اس ذمہ داری کے لیے پیش اس نے تند لہجے میں کہااور اٹھ کھڑا ہوا۔ ‘‘ بس فیصلہ ہوگیا۔ ’’ کیا مگر شامل خان نے انہیں جھڑک دیا۔ باقی نوجوانوں نے بھی اس کی تقلید کی۔
ہم خیمے میں واپس آگئے۔ اس دوران شامل خان کی ماں نے کھانا تیار کردیاتھااور ایک دفعہ پھر پردے کے پیچھے اوجھل تھی۔
ماں! یہ میرا بھائی اور تیرا دوسرا بیٹا ہے۔ اس سے کوئی ’’ خیمے میں داخل ہوتے ہی شامل خان نے کہا۔ ‘‘ پردہ نہیں ہے۔
اونی پردے کی اوٹ سے شامل خان کی ماں برآمد ہوئی ۔ مخصوص سیاہ قبائلی لباس اور اس پر زرد دوہرے جسم کی وہ طویل القامت اور مضبوط ہڈی کی سیدھی کمر کی دبنگ عورت تھی۔ عمر ‘ کڑاھی پچپن سال کاتھا۔ ‘کااندازہ پچاس
میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا تو میںنے سرجھکالیا۔ میرے سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس مجھے اپنی ماں کا پرشفقت ہاتھ تو ‘ نے طویل عمر کی دعا دی۔ مائیں تو سبھی کی ایک جیسی ہوتی ہیں یاد آناہی تھا۔ آنسوؤں نے پھر سینے سے آنکھوں کی طرف یلغار کی تھی مگر درمیان میں نہ جانے کون سا صحرا پھیلا تھا کہ آنسو اسی نے چوس لیے تھے۔ ہمیشہ کی طرح خشک آنکھیں جلنے لگی تھیں۔
کاہاتھ تھام کر چوما تو اس کے چہرے پر ممتا کا نور برسنے لگا۔ اس نے ایک دفعہ پھر ‘‘ماں ’’ میںنے اس میرے سر پرہاتھ پھیرا اور کھانے کے لیے بیٹھنے کا کہا۔
‘‘ تمہاری والدہ حیات ہیں؟ ’’ شامل کی نظریں میرے چہرے پر تھیں۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
میںنے نفی میں سرہلایا۔ زبان فی الحال جواب دینے پرآمادہ نہیں تھی۔ خیمے کی نیم گرم فضا میں بوجھل خاموشی درآئی۔ کھانا اسی کیفیت میں کھایا گیا۔
سویٹ ’’ کھانا موٹے پہاڑی چاولوں اور ثابت آلوئوں پرمشتمل تھا۔ ساتھ اخروٹ اورخوبانی کو گڑ میں پکا کر تھی۔ میں نے خود کو نارمل ظاہر کرنے کے لیے کھانا خوب رغبت سے کھایا۔ ‘‘ڈش
کھانے کے بعد برتن سمیٹے جاچکے تھے۔ قہوے کا آخری دور بھی چل چکاتھا۔ شامل خان نے اپنی صدری رائفل کندھے سے لٹکائی اور ٹارچ تھامی تو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ ‘ پہنی
‘‘ میں نے پہرے پر جانا ہے۔ ‘ تم یہیں سوجائو ’’ مجھے کھڑا ہوتا دیکھ کر شامل خان نے کہا۔
‘‘ میں بھی تمہارے ساتھ چل رہا ہوں۔ ’’ میںنے پگڑی کاپلو لپیٹتے ہوئے کہا۔
اس کی عقابی آنکھیں متحرک ہوئیں۔ میرے ارادے کی مضبوطی کو اس نے پل بھر میں جان لیا۔ اس کے نیچ ہوگئی تو میں اور میراقبیلہ ملک ‘ خدانخواستہ کوئی اونچ ‘ یارا! تم مہمان ہے ’’چہرے پرتذبذب چمکا۔ آخری جملہ سے صاف عیاں تھا کہ اس صاف دل کے قبائلی نے لاشعوری ‘‘ گل ریز کو کیا منہ دکھائیں گے۔ طو رپر میری کہانی کو حقیقت جان لیاتھا۔
کی خوراک بن گیاتو اسے بول ‘‘بدروح’’ تمہاری طرح گل ریز بھی اپنا بھائی ہے۔ میں کسی ‘ اللہ مالک ہے ’’ ‘‘ دینا میں اپنی خوشی سے تمہارے ساتھ گیا تھا۔
‘‘ منہ سے اچھی بات نکالو نیک بخت۔ ‘اوئے’’
اس کے چہرے پر خوف دیکھ کر میں خاصا محظوظ ہوا۔
‘ یہ رکھ لو ’’ کھونٹی سے لٹکے ہولسٹر سے اس نے دیسی ساختہ تیس بور نکال کر میری طرف بڑھایا۔ ‘‘ ہوسکتا ہے اس کی ضرورت پڑ جائے۔
وزن سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ ہتھیار فل لوڈ ہے۔ میں نے بڑی مہارت سے تیس بور کو انگلی پر گھما کر پلکیں جھپکتے ہی دوسرے ہاتھ میں لیا تو شامل خان نے حیرت ورشک کی ملی جلی نظروں سے اس منظر کو دیکھا۔
دونوں ہاتھوںمیں لٹو کی طرح پسٹل کو گھمانا کبھی میرا محبوب مشغلہ رہا تھا۔ اب بھی کبھی کبھار شامل خان نے ایک اور ٹارچ ‘ میں نادانستگی میں یہ حرکت کربیٹھتاتھا۔ پسٹل میں نے نیفے میں اڑس لیا مجھے تھمادی۔
ہم دونوں باہر نکل آئے۔ پہرے دار اپنی متعین جگہوں پر جاچکے تھے۔ الائو کے گرد بیٹھے قبائلی بھی اپنے خیموں میں چلے گئے تھے۔ الائو البتہ یونہی چھوڑ دیئے گئے تھے جو اب دہکتے انگاروں میں تبدیل ہوچکے ً تھے۔ ان کادوہرا فائدہ تھا۔ ایک تو آگ کی وجہ سے جنگلی جانور مثلا بھیڑیے وغیرہ ادھر کا رخ نہیں کرتے دوسرا جسے آگ چاہیے ہوتی وہ یہاں سے لے لیتاتھا۔ آسمان مکمل طور پرتاریک تھا۔ دور کہیں بادل …تھے بھی گرج رہے تھے۔ بارش ہونے کی خاصی امید تھی۔ الائو کی مدہم روشنی میں ہم خیمہ بستی سے باہر نکل آئے۔ شامل خان نے ٹارچ روشن کرلی۔ اسی کے روشن دائرے کی مدد سے ہم نے چڑھائی کا سفر شروع کیا۔ میں اپنے گردوپیش سے پوری طرح چوکنا تھا۔ لمحے سے بھی کم وقت میں پسٹل میرے ہاتھ میں آسکتاتھا اور پنڈلی سے بندھا خنجر بھی جاں نثار ساتھی کی طرح اپنی موجودگی کااحساس دلارہاتھا۔
سب سے پہلے ہمارا سامنا رکھوالی کے جسیم کتے سے ہوا۔ اس نے شامل خان کے قدموں میں لوٹ لگائی اورمیری طرف دیکھ کرحلق سے ناراض سی آواز نکالی۔یہ بات یقینی تھی کہ اگر میں تنہا ہوتا تو یہ کتا مجھ پرحملہ کرچکا ہوتا۔
رکھوالی کے کتے بلڈ ہائونڈ نسل کے تھے۔ یہ اجنبی پر خاموشی سے حملہ کرنے کے لیے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اجنبی کوگراتے ہی پھر یہ پوری شدت سے بھونکتے ہیں۔ میرااندازہ تھا کہ پہرے پرمامور بیس نوجوانوں کے مقابلے میں یہ چند کتے زیادہ کارگر تھے۔ سونگھنے کی زبردست حس کے ساتھ یہ خیمہ بستی میں کسی کو بھی گھسنے سے پہلے گھیر سکتے تھے۔
شامل خان نے ا س کتے کے سرپر ہاتھ پھیرکر پچکارا تو وہ اس کی ٹانگوں کے ساتھ جسم رگڑنے لگا۔ کتا ً کچھ دیر ہمارے ساتھ چلتا رہا پھر غالباکسی آہٹ پر کسی اورطرف نکل گیا۔
اسی وقت ہوا کا رخ تبدیل ہوااور یک تارے کی مدہم پرسوز آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
‘‘ کیا بدروحیں یک تارا بھی بجالیتی ہیں؟ ’’
یہ تو ہمارے قبیلے کا نیم پاگل نوجوان ہاشم ہے۔ پچھلی ‘ پتانہیں ’’ شامل خان کھوکھلے انداز میں ہنسا۔ سردیوں میں اس کی منگیتر بھیڑوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی ایک کھائی میں گر کر ہلاک ہوگئی تھی۔ اس کے بعد سے یہ نیم دیوانہ ساہوگیا ہے۔ یک تارا پہلے بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔
اور یہ اب تاریک راتوں میں یک تارا بجاتے … تاریکی کے سبب ہی اس کی منگیتر کھائی میں جاگری تھی اس نے تفصیل بتائی۔ ‘‘ ہوئے اسے یاد کرتا ہے۔
اس دیوانے ‘آئو’’ یک تارے کی آواز واضح ہوتی جارہی تھی۔ میرا دل اس پرسوز آواز کی طرف کھنچ رہاتھا۔ میری آواز میں بے نام سی اداسی در آئی تھی۔ ‘‘ عاشق کے پاس چلتے ہیں۔
‘‘ اسے سننا چاہتے ہو تو بہتر ہے اسے ہماری موجودگی کاپتہ نہ چلے۔ ‘ اگر تم ’’
‘‘؟… کیوں ’’
اپنی منگیتر کی ہلاکت کے بعد اس نے کبھی کسی مجمع میں یک تارا نہیں بجایااور نہ ہی گایا ہے۔ چاند ’’ کہانیاں چھیڑتے ہیں تو اس دیوانے کو گانے پر ‘ کی روشن راتوں میں جب قبیلے کے لوگ مل بیٹھ کر قصے بہتر ہے کسی پتھر کی اوٹ … یہ ٹس سے مس نہیں ہوتا ‘ آمادہ کرنے کی متعدد دفعہ کوشش کی گئی ہے شامل خان نے اپنی روشن ٹارچ آف کردی۔ ‘‘لے لو۔
کہاں ہو تم؟ … زرمینے … زرمینے ’’ تاریک اور خاموش رات کا سینہ چیرتی ہوئی ایک درد بھری آواز ابھری۔ ‘‘ زرمینے۔ … سورج ڈوب گیا ہے۔ واپس لوٹ آئو
سامنے ایک اونچی چٹان پر ایک ہیولہ سا نظر آرہا تھا۔ وہی دیوانہ ہاشم تھا۔ ہم دونوں ایک پتھر کی اوٹ میں ہوگئے۔
شامل خان نے سرگوشی کے انداز میں بتایا۔ ‘‘ اس دیوانے کی منگیتر کا نام زرمینہ تھا۔ ’’
کچھ دیر مجنونانہ انداز میں کبھی نہ واپس آنے والی کو آوازیں دینے کے بعد اس کی انگلیاں یک تارے پررینگنے لگیں اور ساتھ ہی اس نے پرسوز آواز میں کوئی علاقائی گیت چھیڑ دیا تھا جس کے بیشتر الفاظ میرے لیے اجنبی تھے مگر مفہوم کااندازہ بخوبی ہوگیاتھا۔
جومجھے تیزی سے بہالے گئی تھی۔ … آواز تھی یادرد کی لہر
بھیڑوں ‘ بادام کے درختوں نے سفید پھولوں کی چادر اوڑھ لی ہے ‘ برف پگھل رہی ہے ‘ میرے پردیسی لوٹ آئو ‘‘ تم بھی لوٹ آئو۔ … نے دوبارہ اونی لباس پہن لئے ہیں
مگر ‘ آگ سے اٹھنے والے دھویں نے تمہاری تصویر بنادی ہے ‘ میرے خیمے کادراوزہ تمہاری آہٹ کامنتظر ہے ‘ تم کہاں ہو میرے پردیسی لوٹ آئو
اس دیوانے کی زرمینہ … جہاں سے وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے … کچھ پردیسی ایسے دیس کو چلے جاتے ہیں ایسے ہی دیس چلی گئی تھیں۔ ‘‘ میری کائنات …اور
میںنے نیچے بیٹھ کراپنا سر گھٹنوں میں چھپالیا تھا۔ جی چاہ رہاتھا کہ چلا چلا کرروئوں مگر سینے میں پھیلا صحرا بھلا کہاں رونے کی اجازت دیتاتھا۔
اس دیوانے ہاشم کے سینے میں کوئی صحرا نہیں تھا۔ اس کی زرمینہ کسی ظالم سے اپنی عصمت بچاتے سو وہ اب دھاڑیں مار ‘ اسے کھائی میں دھکا دینے والا قدرت کاہاتھ تھا۔ ‘ ہوئے کھائی میں نہیں گری تھی چلا رہاتھا۔‘‘ زرمینے اوزرمینے ’’مار کر رو رہاتھا اور دوبارہ سے
اپنے بھائی کے سامنے … تم بھی عشق کے روگی لگتے ہو ‘ یارا ’’ شامل خان کا مہربان بازو میرے گرد آلپٹا۔ ‘‘ سینہ کھول دو۔ دل کابوجھ ہلکا ہوجائے گا۔
میںنے چہرہ اٹھایا۔ شامل خان کو حیرت کاجھٹکا لگا۔ اس کاخیال تھا کہ میر اچہرہ آنسوئوں سے تربتر ہوگامگر یہاں تو صرف جلتی ہوئی سرخ آنکھیں تھیں۔
جو آنسو ہے وہ ‘ اوئے ظالم! اس سینے میں دل ہے یاپتھر لیے پھرتے ہو ’’ اس نے ہاتھ سے میرا سینہ بجایا۔ ‘‘ بہادو ورنہ یہ چھپائے ہوئے آنسو کسی دن جلا کررکھ دیں گے۔
میںنے اسی کے انداز میں ‘‘ یہ آنسوئوں کی آگ ہی تو زندہ رکھے ہے لالے کی جان! ’’ میںنے اٹھتے ہوئے کہا۔ ‘‘ جس دن یہ آنسو بہہ گئے میں ختم ہوجائوں گا۔ ’’کہا۔
‘‘ تم پولیس کابندہ نہیں لگتے۔ …مجھے ’’ شامل خان نے مجھے دونوں بازوئوں سے تھاما۔
‘‘ پھر کیا لگتا ہوں؟ کس کابندہ لگتا ہوں؟ ’’
ہاشم دیوانے کو ہماری موجودگی کی بھنک پڑگئی تھی۔وہ بالکل ہی خاموش اور کسی سنگی مجسمے کی مانند بے حرکت ہوکربیٹھ گیاتھا۔
دونوں کے ‘‘ عشق اور دنیا ’’تم ’’ شامل خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا پھر اس کی گمبھیر آواز ابھری۔ پھر اس ‘‘ لے لی ہے لیکن تمہارا معاملہ بالکل جدا لگتا ہے۔ ‘‘پناہ’’ ستائے لگتے ہو۔ ہاشم نے تو دیوانگی میں تمہارے بازوئوں میں دنیا سے ٹکرانے کی طاقت اور سینے میں دلیری کاطوفان قید ’’ نے میرا توانابازو دبایا۔ ‘‘ اس نے بے وفائی کی ہے؟ … عشق میں پتا نہیں تم نے کیسے چوٹ کھالی ‘ہے
دوسروں کو سہارا دیتے دیتے اس پل خود مجھے سہارے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ میری …آہ ٹانگیں اپنا ہی وزن اٹھانے سے جواب دے رہی تھیں۔ خدا کی مہربانی تھی جو مجھے اس وقت شامل خان کا سہارا میسر تھا۔ میں نے دونوں بازو اس کے کندھوں پر ڈالے۔ اس نے کمال مہربانی سے مجھے تھام لیا۔
ابھر کر سامنے آگیا۔ میں نے شامل خان کے کندھے ‘‘کمال پتر’’ اوجھل ہوگیا اور ‘‘کمالا جٹ’’ کچھ پل کے لیے طویل سسکی سے مشابہ میری آواز ابھری۔ میرے ایک ‘‘ وہ تو وفا کی دیوی تھی۔ … نہیں ’’ پرسررکھ دیا۔ ظالم دشمن سے عصمت بچانے کے لیے خونخوار ٹائیگر شارکس سے بھرے سمندر میں کود کر جان دے دی ‘‘ تھی۔
پچکنے لگاتھا۔‘ فرط غیظ وغضب سے اس کھرے قبائلی کاسینہ پھولنے
بہن دنیا کی بھیڑ میں کہیں … می را باپ ‘ مجھ سے میرا سب کچھ دشمنوں نے چھین لیا ہے یارا میری ماں ’’ ‘‘ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ‘‘ ٹھنڈی راکھ ’’ میرے پاس … اوجھل ہوگئی ہے
شامل خان کی غیظ کے سبب لرزتی ہوئی آواز ابھری۔ ‘‘ کون ہے وہ دشمن؟‘بتا’’
اس ‘‘ مرجائوں گا یا تیرے دشمنوں کومٹادوں گا۔ بتا کون ہیں وہ؟ … تیرے بھائی ہونے کی … قسم ہے مجھے ’’ نے مجھے کندھوں سے تھام کر جھنجوڑا۔
میں تیزی سے کمالے جٹ کے وجود میں لوٹنے لگا۔
تیرے ساتھ ہوں۔ چاہے مجھے قبیلہ ہی کیوں نہ چھوڑنا ‘ آج کے بعد تیرے دشمن میرے بھی ہیں۔ میں ’’ ‘‘پڑے۔
مجھے اس پر پیار آیا۔ قبائلی علاقے میں اپنا قبیلہ چھوڑنے سے بڑی قربانی کا تصور نہیں تھا۔ ہماری ملاقات کو دیر ہی کتنی ہوئی تھی اور وہ میرے لیے سب کچھ لٹانے کو تیار تھا۔ کبھی میں سوچتا ہوں تو خدا کا بے حدشکر گزار ہوتا ہوں کہ جہاں ہر قدم پر نئی دشمنیوں کی بیڑیاں میرے پائوں میں پڑتی جاتی کرنل سلیم کے ساتھ اس موضوع پر طویل نشستیں … وہیں جاں نثار دوست بھی مل جاتے تھے … تھیں ہوئی تھیں۔ ایسی ہی ایک نشست میں ان کادوست ڈاکٹر تسنیم غوری بھی شریک تھا۔ اس نے میری اس کومقناطیسی کشش سے تعبیر کیا تھا۔ ڈاکٹر موصوف کاکہناتھا کہ ہرجاندار میں یہ کشش ہوتی ‘‘صفت ’’ مقناطیسی ’’ ہے۔ کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ مثال کے طور پر کوبرا سانپ اپنی آنکھوں میں موجود ہماری روز مرہ زندگی میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ‘ سے مدمقابل کو مسحور کردیتا ہے ‘‘کشش … باتیں کرنا دوستی رکھنا اچھا لگتا ہے ‘ ا س سے ملنا‘ کہ ہمارا دل کسی خاص شخص کی طرف کھنچتا ہے ڈاکٹر صاحب نے تو اس حوالے سے اچھا خاصا لیکچر دیے ‘‘ بھی اسی کشش کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘محبت’’ دیاتھا۔ اس کے بقول مجھ میں یہ مقناطیسی کشش اچھی خاصی موجود تھی۔ انسان تو انسان جانور بھی اس کشش سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
مجھے یاد ہے اس آخری جملے پر زور دار قہقہہ پڑاتھا۔
بستی کے اجنبی ‘ کبھی کبھی سوچتا ہوں تو لگتا ہے ڈاکٹر غوری سچ کہتا ہے۔ لوگوں کامیری طرف کھنچنا میں … کتوں کا بہت جلد مجھ سے مانوس ہونااور اب یہ تازہ مثال شامل خان کی تھی مگر میراخدا گواہ ہے میرے لیے جان دینے کو تیار رہتے تھے تو ‘ نے کسی جاںنثار دوست کو کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ وہ میری کیفیت بھی مختلف نہیں تھی۔ میرا خون اور پسینہ بھی ہر پل ان کے لیے حاضر رہتے تھے۔ ان کی تکلیف میری تکلیف تھی۔
یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ ‘ ٹھیک ہے ’’ میںنے شامل خان کا شانہ چوما۔ میں جانتا تھا ‘‘ چوٹی کی دوسری طرف سے کوئی خون آشام روح آکر ہم میں سے کسی کو اٹھاکر لے جائے۔ کہ وہ جذبات کی جن بلندیوں پر ہے وہاں میرا انکار اسے کتنی شدید جذباتی ٹھیس پہنچا سکتاتھا۔
وہ تو ٹھیک ہے لالے کی جان! مگر میرا فیصلہ اٹل ’’ شامل خان چونکا ہم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔ ‘‘ہے۔
میںنے ہنس کر اس بات کو ٹالا۔
پراسرار گمشدگیوں کے بعد ’’ ہاشم دیوانہ ابھی تک اپنی جگہ پرموجود تھا اسے دیکھتے ہوئے میں نے کہا۔ شامل خان ‘‘ اس بیچارے کا یوں اندھیری راتوں میں بھٹکنا نقصان دہ بھی تو ثابت ہوسکتا ہے اس کے لیے۔ نے اثبات میں سرہلایا۔
‘‘ وہ قابو میں نہیں رکھتے اسے ؟ ‘ اس کے خون کے رشتے بھی تو ہوں گے ’’
ماں کے چل بسنے کے بعد کسی کو اس کی فکر ’’ شامل خان نے افسردہ سے انداز میں کہا۔ ‘‘ سبھی ہیں ’’ ‘‘ نہیں ہے۔
ہے۔ ہم اس ‘‘ماں ’’ کسی نے سچ کہا ہے کہ کائنات کا سب سے بڑا سچ ‘ میرے سینے سے ہوک سی اٹھی دوران دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے ہاشم دیوانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ہمیں دیکھ کر وہ سہم سا گیاتھا اور خود میں سمٹ گیا تھا۔ البتہ یک تارے پر اس کی گرفت بے حد سخت ہوگئی تھی اور اسے وہ اپنی پھٹی پرانی صدری میں چھپانے کی کوشش کررہاتھا۔
شامل خان نے اسے نرمی سے پچکارا اور ٹارچ کی روشنی اس پرپھینکی۔ روشنی کے دائرے سے وہ بدکااور حیرت انگیز پھرتی سے چٹان سے کود کرخیمہ بستی کی طرف بھاگا۔
مجھے فکر ہوئی کہ اندھیری رات میں اپنی زرمینہ کی طرح وہ بھی کسی کھائی کی نذر نہ ہوجائے۔
ٹارچ کی روشنی میں ایک پل کے لیے اس کے نقوش چمکے تھے۔ کھنڈرات سے عمارت کی عظمت کا سرخ وسفید ‘ گئے وقتوں میں یقینا جب سنہری کڑھائی والی واسکٹ زیب تن کیے ‘ بخوبی اندازہ ہوتاتھا
چہرے اور تیکھے نقوش کے ساتھ سیاہ پگڑی باندھے یک تارا بجاتا ہوگا تو قبیلے کی لڑکیوں کے دل مچل اٹھتے ہوں گے۔
اس دیوانے کے حوالے سے میرے دل میں دبیز اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ کاش وقت کی طنابیں میرے ہاتھوں میں آجاتیں تو میں وقت کو سمیٹ کر اس منحوس گھڑی کو روک لیتا جب اس کی زرمینہ کھائی میں گری تھی۔
مگر یہ محض سوچ کی آوارگی تھی ۔ قدرت کے معاملات میں کون دخل دے سکتا ہے۔
ہم پہاڑی کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ یہاں ہوا خاصی تیز تھی۔ موٹے اونی لباس اور صدری کے باوجود ٹھنڈی ہوا ہڈیوں میں سرایت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔
میںنے چوٹی کی دوسری طرف ڈھلوان پر ٹارچ کی روشنی پھینکی۔ پہاڑی کے اسی طرف آزادی کے نظر نہیں ‘‘روح’’ مجھے تو ٹارچ کی روشنی میں کسی انگریز سپاہی کی ‘ متوالوں نے انگریز فوج کو کاٹاتھا آئی تھی۔
شامل خان نے ٹارچ کا رخ نیچے خیمہ بستی کی طرف کرتے ہوئے مخصوص سگنل دیا ہ ی چار مختلف ً ۔ فورا جگہوں سے سگنل کا جواب آگیا۔ خیمہ بستی کے چاروں طرف پہرے دار پارٹیاں مستعد تھیں۔
بجھ چکے تھے مگر شعلوں کا انعکاس دیکھا جاسکتاھا۔ اس کے علاوہ ‘ نیچے خیمہ بستی میں جلتے الائو شامل خان نے چربی سے جلنے والے کئی بڑے بڑے لیمپ بھی مختلف جگہوں پر لٹکوادیئے تھے۔ اس طرح ہمیں خیمہ بستی پرنظر رکھنے میں بھی آسانی ہو رہی تھی۔ ہوا کی براہ راست مار سے بچنے کے لیے ہم نے ایک چٹان کی اوٹ لے لی۔ سامنے کی طرف ہم دونوں نے مل کر ایک بڑا پتھر دھکیل کررکھ دیا۔ اس طرح ہمیں سامنے کی طرف سے اوٹ بھی میسر آگئی تھی اور ہوا کا رخ بھی بدلتا تو ہم ہوا کی مار سے بچ سکتے تھے۔
بے حد ٹھنڈے پتھر کو دھکیلنے کے سبب میرے ہاتھ سن سے ہوگئے تھے۔ میںنے ہاتھ بغلوں میں دبائے اور دبک کربیٹھ گیا۔ شامل خان بھی میرے پاس ہی تھا۔وہ بار بار ہونٹوں پر زبان پھیر رہاتھا اورایک انجانا سا خوف تاریکی کے باوجود اس کے چہرے پر دیکھا جاسکتاتھا۔ وہ ایک دلیر شخص تھا مگر ارواح کا خوف تو دیگر قبائلیوں کی طرح اس کی گھٹی میں شامل تھا۔ اردگرد پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہم نے میرے ماضی کے حوالے سے کرید لگ چکی تھی۔ اس کے سوالوں کا سلسلہ ‘ گفتگوشروع کردی۔ اسے شروع ہوا تو میں م اپنے بارے یں بتایا۔ وہ ایک دفعہ پھر جذباتی ہونے لگا تو میں نے گفتگو کا رخ ً نے مختصرا اس کی طرف پھیردیا۔
‘‘ منگیتر وغیرہ؟ ‘ محبوبہ‘ کوئی لڑکی ‘ اپنے بارے میں بھی تو بتائو ’’
نہیں یارا! ایسا تو ’’ اس کے ہونٹ مسکراہٹ کے انداز میں کھنچے تو اندھیرے میں سفید دانت چمک اٹھے۔ صنف نازک کا موضوع ہی ایساتھا کہ اس کی آواز ریشم ‘‘ میری زندگی میں ابھی تک کچھ بھی نہیں ہے۔ جیسی نرم ہوگئی تھی۔
مجھے واقعی حیرانگی ہوئی تھی۔ ‘‘؟… کیوں ’’
قبیلے کی کئی لڑکیوں کی آنکھیں مجھے دیکھ کر چمک ’’ اس نے قدرے بے پروائی سے کہا۔ ‘‘ پتا نہیں ’’ شادی لگائے رکھتی ہے۔ اس … اٹھتی ہیں مگر میرا کسی کو دیکھ کر دل نہیں دھڑکتا۔ ماں ہر وقت شادی ‘‘ تین لڑکیاں دیکھ رکھی ہیں ۔ انہی میں سے کسی کے ساتھ شادی کرلوں گا۔ ‘نے دو
اس طرح کی باتوں میں خاصا وقت گزر گیا۔ شامل خان سے ایک کام کی بات معلوم ہوئی تھی کہ قاصد تین دنوںمیں اس کی واپسی متوقع تھی۔ میرے لیے ‘ خط لے کر گل ریز خان کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ دو یہ بے حد اطمینان کن بات تھی۔
تھا۔ ‘‘سب اچھا’’ دو دفعہ اٹھ کر شامل خان نے ٹارچ سے سگنل دیاتھا۔ جوابی طے شدہ سگنل کے مطابق میں محسوس کررہاتھا کہ میری موجودگی شامل خان کے لیے خاصی تقویت کا باعث تھی ورنہ یہاں تنہائی اس کے اعصاب کا کڑاامتحان ثابت ہوتی۔
اور شب بیدار ‘ پہاڑی کی چوٹی ‘ ہڈیوں کو چھیدتی ٹھنڈی ہوا ‘ دور کڑکتی بجلی ‘ سیاہ آسمان کے نیچے نمایاں تھی۔ وہ میری زندگی کی یادگار راتوں میں سے تھی۔ ‘‘کوک’’ جانوروں کی آوازیں جن میں گیدڑ کی
نہ جانے رات کا کون ساپہر تھا جب بیٹھے بیٹھے مجھے اونگھ نے آلیا۔ ہلکی سی شامل خان کی چیخ کی پہلا احساس یہ تھا کہ شامل خان میرے پہلو میں نہیں تھا۔ پسٹل برق ‘ آواز سے میں حواس میں آیا بے دریغ میں نے ہوا میں فائر کیا۔ یہ خطرے کا سگنل تھا۔ اگلے ہی پل ‘ رفتاری سے میرے ہاتھ میں آیا جست بھر کر میں کمین گاہ سے باہر تھا۔ اسی جست کے دوران میں نے ٹارچ روشن کرلی تھی ہ ی ً ۔ فورا ٹارچ کے روشن دائرے میں شامل خان آگیا۔ وہ زمین سے اٹھنے کی کوشش کررہاتھا۔ اسی وقت فضافائرنگ کی آواز سے تھرتھرااٹھی۔ پہرے پرمامور پارٹیوں نے بھی ہوائی فائرنگ شروع کردی۔
میں لپک کر شامل خان تک پہنچا۔ شکار پر نکلے درندے کی مانند میں اپنے اطراف سے چوکنا تھا۔
میںنے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کھڑا کرنے کی کوشش ‘‘ کیاہوا یا را! میں نے تمہاری چیخ سنی تھی۔ ’’ کی تو پتا چلا اس کازیریں لباس اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ اس کاچہرہ بالکل راکھ ہو رہا تھا اور ہونٹوں پر اس نے بمشکل کہا۔ ‘‘ پیچھے سے مجھ پرحملہ کیا تھا۔ …پپ… کسی نے …کک’’ پپڑیاں جمی تھیں۔
اس دوران پوری خیمہ بستی جاگ چکی تھی اور ہربندہ ہوائی فائرنگ کررہاتھا۔ کسی خطرے کااحساس ہوتے ہی دشمنوں کو ڈرانے اور اپنی چوکسی کے اظہار کے لیے شدید ہوائی فائرنگ قبائلیوں کے دفاع کاایک انداز تھا۔
میںنے اسے چھوڑ کرتیزی سے ٹارچ چاروں طرف گھمائی۔ کسی طرف کوئی جانور نظر نہیں آرہاتھا۔پہاڑی تین ‘ کی ڈھلوانوں پر چھوٹے بڑے پتھر ہی پتھر تھے جو چھپنے کے لیے بہترین جگہیں تھیں۔ میں نے دو بڑے پتھروں پرفائرجھونک دیئے مگر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیاتھا۔
شامل خان نے خود کو سنبھال کر زیریں لباس بھی ٹھیک کرلیاتھا۔ اس کے چہرے پر خوف ‘ میں واپس پلٹا کی زردی تھی۔ ٹارچ کی روشنی میں اس کی گردن کے عقبی حصے سے بہہ کر سامنے کی طرف آنے والے خون کی لکیر دیکھ کر میں تڑپ اٹھا۔
تشویش سے زیادہ حیرت کامقام تھا کہ اس کی گردن ‘ سب سے پہلے میں نے اس کی گردن کا معائنہ کیا پر شانے کے قریب دانتوں کے کاٹے کا بے حد گہرا نشان تھا۔ جس سے بھل بھل خون بہہ رہاتھا۔
میں نے اپنی پگڑی اتار کر اس کی گدی سی بنا کر اس زخم پررکھی۔ آثار سے یہی اندازہ ہوتاتھا کہ اس پرحملہ کسی جانور نے کیا ہے۔
ڈھلوان پر کئی ٹارچیں متحرک تھیں۔ کافی سارے لوگ اس طرف آرہے تھے۔ ‘ خیمہ بستی کے رخ
‘‘ کیا ہوا تھا یار؟ کس نے حملہ کیا تھاتم پر؟ ’’
شامل خان کے چہرے پر ابھی بھی ہراس تھا۔ اس نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے دھیمی سی آواز میں پتا نہیں یارا! میں رفع حاجت کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ پیچھے سے جیسے کوئی بے حد وزنی سی چیز ’’کہا۔ میرے اوپر گری اوراس نے اپنے دانت میری گردن پر گاڑ دیئے۔
اس کے ادھورے ‘‘…وہ… میرے سنبھلنے سے پہلے تم نے فائر کیا تووہ مجھے چھوڑ کر غائب ہوگئی۔ لگتا ہے ‘‘بدروح’’ چھوڑے جملے کومکمل کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ اس کے خیال میں وہ کسی انگریز سپاھی کی تھی۔
جب بندے کے جسم کے ساتھ کوئی چیز چھوتی ہے تو خودبخود ذہن اس کی تصویر سی بنا لیتا ہے۔ ’’ ‘‘ تمہیں وہ چیز کیسی لگی؟
وہ چند لمحوں کے لیے سوچ میں ڈوب گیا۔
‘‘ اس بات کی میں ضمانت دیتاہوں کہ وہ کوئی بدروح نہیں تھی۔ وہ کوئی جانور تھا۔ ’’ میںنے کہا۔
میں نے صرف بے پناہ وزن اور شدید قسم کی بدبو ’’ شامل خان نے سوچ میں ڈوبے انداز میں کہا۔ محسوس کی تھی۔ وہ بڑے سے پرندے یا بڑے بندر جیسی چیز تھی اور اس بات کی میں بھی تمہیں ‘‘ ضمانت دیتاہوں کہ وہ پرندہ یا بندر ہرگز نہیں تھا۔
میںنے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
بھی ہے کسی بھی پرندے یابندر میں اس قسم کی بدبو ‘‘ شکار ’’ ہمارا ایک پیشہ ’’ وہ گمبھیر انداز میں بولا۔ ‘‘ نہیں ہوتی۔
خیمہ بستی کی طرف سے آنے والے لوگ قریب آگئے تھے۔وہ اونچی آواز میں پکار رہے تھے اور ہماری خیروعافیت دریافت کررہے تھے۔ شامل خان نے زور سے انہیں آواز دے کر اپنی خیریت سے آگاہ کیا تووہ ہماری طرف آنے لگے۔
کوحملہ ‘بدروح’ تم بھی قبیلے کے لوگوں کے سامنے ’’ میںنے اس کے گردن کے زخم پر دبائو بڑھاتے ہوئے کہا۔ میرے لہجے ‘‘ بھی تمہیں دیتا ہوں۔ ‘‘ضمانت’’ خواہ مخواہ ہی خوف پھیلے گا۔ میں ایک اور ‘ آور قرار نہ دینا نے کمالے جٹ کا مخصوص انداز ا پنایا تھا۔
شامل خان نے چونک کر میری طرف دیکھا ہ ی اس کے چہرے پر مرعوبیت نمایاں ہوگئی۔ ً ۔ فورا
میرے بھائی کی گردن پر دانت آزمانے والی بد روح اپنے دانت ہتھیلی پر لیے میرے …بہت جلد… بہت جلد ’’ ‘‘ بھائی سے جان بخشی کی اپیلیں کررہی ہوگی۔
کچھ تو ’’ اس کے چہرے پرزندگی کی سرخی لوٹ آئی۔ اس نے مجھ سے لپٹتے ہوئے سرشار انداز میں کہا۔ ‘‘ ہے تجھ میں لالے کی جان! یونہی تو میں تجھ پر فدا نہیں ہوا۔
خیمہ بستی کی طرف سے آنے والوں میں سردار خوشحال نمایاں تھا۔ اس کے ہاتھوں میں میری نمایاں تھیں اور جہاں جوش کے سبب چہرہ تمتما رہاتھا وہیں ایک انجانا ساخوف بھی صاف نظر 16 ایم۔ آرہا تھا۔
نے ‘‘انسان’’ میرے کہنے کے مطابق شامل خان نے ان لوگوں کو بتایا کہ رفع حاجت کے وقت اس پر کسی کی فائرنگ کے سبب بھاگ گیاتھا۔ گردن کے زخم کو اس نے ایک پتھر کی چوٹ ‘‘مہمان’’ حملہ کیا تھا جو بتایا تھا۔ شکر کامقام تھا کسی نے اس زخم کو دیکھنے کی فرمائش نہیں کی ورنہ دانتوں کا واضح نشان کسی بد روح کی طرف ہی اشارہ کرتے تھے۔
حملہ آور کے انسان کا سنتے ہی ان قبائلیوں کے چہروں پر نظر آنے والی خوف کی جھلک غائب ہوگئی اور اس کی جگہ غیض وغض نے لے لی۔ وہ ہر طرف پھیل کرحملہ آور کو تلاش کرنے لگے۔ شاید تلاش کاکام
دور کڑکنے والی بجلیاں اچانک ہی سروں پر چمکنے لگیں تو چند ہی پلوں میں بارش ‘ ساری رات جاری رہتا شروع ہوگئی۔
حملہ آور کی تلاش کا کام ادھور اچھوڑ کر سبھی نی خیمہ بستی کی راہ لی۔
خیمے میں واپس آکر شامل خان نے سب سے پہلے ماں کو تسلی دی۔ اس کی بے کل مامتا کو بڑی مشکل شامل خان کازخم دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہی تھی۔ میں نے بڑی مشکل سے اسے ‘ سے چین آیا تھا۔ وہ سمجھایا کہ معمولی سا زخم ہے اور اب خون بھی رک چکا ہے۔
روشنی میں دانتوں کے ‘ وہ سونے کے لیے گئی تو میں نے گرم پانی سے شامل خان کے زخم کو صاف کیا گہرے نشان واضح نظر آرہے تھے اور اردگرد کی جگہ نیلگوں ہو رہی تھی۔ زخم کابغور معائنہ کرتے ہوئے ایک اور حیرت میری منتظر تھی۔ دانتوں کے نشان چپٹے تھے۔ ایسے دانت صرف انسانوں یا کسی حد تک بندروں کے ہوتے ہیں۔ میرا ذہن بڑی تیزی سے گھومنے لگاتھا۔ اگر واقعی اپنے دانتوں سے شامل خان جیسے مضبوط جسم کے جوان پرحملہ کرنے والا کوئی انسان ہی تھا تو کیا کسی انسانی جبڑے میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ اتنی گہرائی تک ٹھوس گوشت میں دانت اتار سکے؟
اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
سردار وغیرہ کی طرف ‘ صبح آسمان ہنوز بادلوں سے ڈھکا ہواتھااور بارش کا سلسلہ جاری تھا۔ شامل خان آئمہ اور عثمان کو ملنے کاارادہ تھا۔ رات کے ہنگامے اور فائرنگ سے وہ دونوں یقینا ‘ چلا گیاتھا۔ میرا ازحدپریشان ہوںگے۔
شامل خان کی طرف سے میرے باہر آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ میںنے خیمے سے نکلنے کاارادہ اس چادر کے سبب میں بھیگنے ‘ کیا تو ماں نے موم جامہ کی ہوئی ایک چادر مجھے اوپر اوڑھنے کے لیے دی سے محفوظ رہتا۔
میں باہر نکلا ہی تھا کہ میری نظر پانی کے تالاب کے قریب آکررکتی تین عدد دیوہیکل جیپوں پرپڑی جو بارش میں بھیگی ہوئی تھیں۔
پھرمیںنے ایک جیپ کی فرنٹ سیٹ پربیٹھے جہانزیب خان کودیکھا۔ اس کا سرخ وسفید چہرہ تمتما رہاتھا۔
…٭٭٭…

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: