Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Last Episode 16

0

آتش زیرپا از بدر سعید قسط نمبر آخری 16

وہ لمحہ بھر کو سانس لینے کے لیے رکی اور پھر کہنے لگی۔
میں تم پر احساس نہیں کر رہی بلکہ اپنا جرم تمہارے سر ڈال رہی ہوں۔ ویسے ہی جیسے لوگ یہاں آکر ’’ اپنا جرم ہمارے سر ڈال جاتے ہیں۔ یہ دنیا ہے پیارے، یہاں ایسے ہی ہوتا ہے تمہاری زندگی میں ہی میری زندگی ہے تم یہاں سے نکل کر کسی گاڑی کے نیچے آجائو یا تمہارا کوئی مخالفت تمہیں گولی مار دے تو ‘‘ میری بلا سے۔
میں اس کی جانب حیرت سے تکنے لگا۔ وہ لگی لپٹی رکھے بنا صاف صاف بتا رہی تھی میں نے گہری سانس لی اور مسہری پر لیٹ گیا۔ دل اس نائیکہ پر اعتبار کرنے کا مشورہ دے رہا تھا اس لیے میں نے اطمینان سے کچھ دیر سونے کا فیصلہ کرلیا۔ آگے کا سفر غیر واضح تھا۔ خدا جانے کب آرام کا موقع میسر آئے۔ اس لیے ضروری تھا کہ میں کچھ دیر آرام کرلوں۔
میں کافی دیر تک سوتا رہا پھر مجھے شکیلہ بائی نے ہی آکر اٹھایا۔ فرار کا وقت آچکا تھا۔ اب آگے کیا ہونا تھا یہ میری قسمت پر تھا۔ عین ممکن تھا کہ کسی اشتہاری ی طرح مجھے قتل کرا دیا جائے۔ میں یہاں سے باہر نکلوں تو معلوم ہو کہ لیلیی کا ہی کوئی عزیز میری سپاری لے چکا ہو یا پھر انتقامی جذبات کی
بھینٹ چڑھا دیا جائوں۔ مجھے تو محج ایک ٹھکانہ چاہیے تھا۔ جہاں میں یہاں سے فرار ہو کر پہنچ سکوں لیکن فی الحال پہلا مرحلہ باہر جانے کا تھا۔
شکیلہ بائی مجھے دروزے تک چھوڑنے آئی۔ اس نے دروازے کی چٹخنی ہٹائی اور کہنے لگی۔
یہاں تک میری ذمہ داری تھی اب آگے تمہیں خود اپنا بچائو کرنا ہے کوشش کرو یہاں سے نکل کر کچھ ’’ ہی دور داتا دربار کے احاطے میں پہنچ جائو وہاں کسی کونے میں بیٹھ جانا اور گھٹنوں میں سر دے کر ‘‘ سوچنا کہ اب آگے کہاں جانا ہے۔ فی الحال اس سے بہتر پناہ گاہ کہیں نہیں ملے گی۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور چھپاک سے باہر نکل گیا۔ یہ گلی پار کرنے مین مجھے بہت احتیاط سے کام لینا پڑا۔ اس کے بعد تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اس علاقہ سے ہوتا چلا گیا مختلف گلیاں مڑتے مڑتے میں شاہی قلعہ کے پچھلے چھوٹے دروازے سے ہوتا ہوا دوسری جانب نکل گیا۔
بادشاہی مسجد اپنے پورے جلال کے ساتھ میرے سامنے کھڑی تھی اور اپنی کم مائیگی اور گناہوں کا احساس لیے میں اس سے نظریں چراتا ہوا سڑک پر آگیا آہستہ آہستہ چلتا جا رہا تھا میرا رخ داتا دربار کی جانب ہی تھا۔
داتا کے دامن میں سیکڑوں لوگ پناہ لیتے ہیں۔ انہیں صرف پناہ ہی نہیں ملتی بلکہ کھانا بھی ملتا ہے مجھ جیسے دنیا دار آتے ہیں پناہ لیتے ہیں کھانا کھاتے ہیں اور پھر نیا راستہ نظر آنے پر نظریں چراتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی آتے ہیں جو گناہوں کی پوٹلی اٹھائے لڑکھڑاتے ہوئے آتے ہیں اور اپنے سے زیادہ وزنی پوٹلی داتا کے قدموں میں ڈال کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ داتا کا دامن پکڑتے ہیں اور پھر اٹھنے سے انکار کردیتے ہیں۔ انہیں نہ پناہ سے مطلب ہوتی ہے اور نہ کمانے کی فکر، بس ڈھیٹ بن کر کسی سوال کی طرح پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ پھر ان کے لیے خاص در کھلتا ہے۔ گنج بخش کے دربار سے ایک خاص سلسلہ جاری ہوتا ہے جو صرف انہی کے لیے مخصوص ہے۔
ان منگتوں کو اس در میں پناہ ملتی ہے اور ہھر ہم جیسے ان کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگاتے رہ جاتے ہیں۔ میں اسی داتا دربار کی جانب گامزن تھا لیکن میرے ذہن میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ لیل ی کا قاتل بھی اب میرا دشمن بن چکا تھا۔ اب مجھے اس کو بھی تلاش کر کے کیفر کردار تک پہنچانا تھا۔ یہ سچ ہے کہ میں خود اسی بازار سے فرار ہو رہا تھا۔ میں یہاں سے جان چھڑانا چاہتا تھا لیکن آخری لمحے میں راشد ملتانی نے مجھے روک لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے مجھے حوصلہ دیا تھا کہ میں جلد ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائوں گا۔ اب جب مجھے امید کی کرن نظر آئی تھی تو کسی نے مجھے وہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔
بازار حسن نے مجھ پر دو ایسے قتل ڈال دیے تھے جو میں نے نہیں کیے تھے۔ یہ اس بازار کی پرانی روایت ہے۔ یہاں کسی کا گناہ کسی کے سر ڈالا جاتا ہے اور کسی کے جرم میں کسی اور کو پھنسادیا جاتا ہے۔ یہاں نہ جرم اپنا ہوتا ہے اور نہ سزا اپنی ہوتی ہے یہان تک کہ دولت بھی اپنی نہیں ہوتی۔ ادائین تک چرائی جاتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ میں بزار حسن سے بھاگ کر داتا کے دامن میں پناہ لینے جا رہا تھا۔ ظلم یہ تھا کہ اس پر بھی ندامت نہیں تھی اور حق یہ تھا کہ اپنے تمام تر گناہوں کے باوجود یقین کامل تھا کہ بازار حسن سے قتل کے دو مقدمات گلے میں لٹکائے نکلنے والے کو بھی داتا دربار میں پناہ مل جائے گی۔
مجھے ایک دفعہ بھی محسوس نہ ہوا کہ داتا دربار کے باہر مجھے روک لیا جائے گا۔ اپنے ہی خیالوں میں گم یونہی چلتا چلتا داتا دربار پہنچ گیا۔ اندر جا کر پانی پیا اور لنگر سے کھانا کھایا۔ اس کے بعد ایک کونے میں دیوار سے ٹھیک لگا کر بیٹھ گیا۔ حالات مجھے اپنی ہی رو میںبہائے لیے جا رہے تھے اور میں کسی لاوارث تنکے کی طرح ڈولتا ہو تقدیر کے قدموں کے نشانات پر چلتا ہوا جانے کس سمت جا رہا تھا۔
داتا دربار کی دیوار سے ٹیک لگائے یونہی بیٹھے بیٹھے مجھ پر قنوطیت سی طاری ہونے لگی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے اب میں کبھی اپنا انتقام نہیں لے پائوں گا۔ جب سے جٹا والا سے نکلا تھا تب سے سارا ربط ہی ٹوٹ گیا تھا۔ میرا زندہ بچنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ لیکن اپنے مقصد سے دور ہوتے جانا بھی کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ میں نے شدت سے دعا مانگی کہ مجھے کوئی راستہ مل جائے میں حق پر تھا۔ بیگھے مل نے جو ظلم کیا تھا اس کا حساب چکانا میرا فرض بنتا تھا۔ میں اتنا عظیم نہیں تھا کہ اسے معاف کرپاتا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
یہ دنیا کا کوئی بازار یا چوراہا نہیں تھا جہاں کمالا جٹ اپنی آنکھوں پر بند باندھتا یہ داتا کے دربار کا احاطہ تھا۔ یہاں بڑے بڑے سلطانوں نے آنسو بہائے تھے۔ دنیا بھر کو اپنے قدموں تلے زیر ک رنے والے یہاں آکر خود زیر ہوجاتے ہیں۔ میں خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور آنسوئوں سے چہرہ بھیگتا جا رہا تھا۔
مایوسی کے عالم میں اچانک خیال آیا کہ میں ابھی بالکل تنہا نہیں ہوں میری جیب مین موبائل فون موجود تھا جس میں راشد ملتانی کا نمبر تھا وہی راشد ملتانی جو اب تک کئی بار میری مدد کو آچکا تھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔
اب میں تنہا کمالا جٹ نہیںرہا تھا۔ جٹا والی سمیت اس ساری پٹی میں میرا نام چل رہا تا جرائم کی دنیا کے بڑے بڑے نام اب چند ہی روز میں مجھ سے ملنے کی خواہش کرنے والے تھے۔ کیونکہ اس سارے علاقے میں راشد ملتانی کے سارے دھندے میری نگرانی میں ہونے تھے۔ میں نے بازار حسن کی ایک دکان میں بیٹھ کر راشد ملتانی سے اس معاملے پر گفتگو کی تھی۔ میری خود اعتمادی لوٹنے لگی۔ میں نہ صرف اپنا انتقام لے سکتا تھا بلکہ مضبوط حوالہ بھی رکھتا تھا۔ میں نے جیب سے موبائل فون نکالا اس میں صرف
ایک ہی نمبر فیڈ کیا گیا تھا جو راشد ملتانی کا تھا میں نے نمبر ملایا تو دوسری ہی بیل کے بعد راشد ملتانی کی آواز سنائی دی۔
میں چونک اٹھا۔ ‘‘ ہاں جٹ، سنا ہے دو دو قتل کردیے ہیں، شیر ہے یار پکا شیر ہے۔ ’’
راشد ملتانی بے خبر نہ تھا اس کے ذرائع بہت مضبوط تھے جو اسے پل پل کی خبروں سے آگاہ کرتے رہتے تھے میں نے کہا۔
میری بات سن کر راشد ‘‘ وہ قتل میں نے نہیں کیے بلکہ مجھ پر الزام لگایا گیا ہے۔ اصل قاتل کوئی اور ہے۔ ’’ ملتانی نے بے ساختہ قہقہہ لگایا اور بولا۔
کس دنیا میں رہتے ہو؟ تہماری اس بات پر کون یقین کرے گا میں جانتا ہوں تم نے انہیں قتل نہیں کیا ’’ کیونکہ تم مجھ سے جھوٹ نہیں بلوتے لیکن میرا مشورہ ہے کہ ڈنکے کی چٹ پر اس قتل کو تسلیم کرو۔ اگر تم کہو گے کہ تم نے قتل نہیں کیا تو لوگ تمہیں دبانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے باوجود وہ آپس میں کہیں گے کہ قتل تو اسی نے کیا تھا لیکن ڈر گیا ہے۔ اس کے برعکس تم اعلانیہ کہو کہ ہاں تم نے ہی وہ قتل کیے ہیں تم دیکھنا کہ عام لوگ تو دور ان کا اصل قاتل بھی تم سے ڈرنے لگا گا۔ یہ نفسیاتی گیم ہوتی ہے بازی اسی کے ہاتھ آتی ہے جو پہلے اچھا دائو مار جائے۔ اب وقت تمہارے پاس آیا ہے اسے گنوائو ‘‘ گے تو خسارے میں رہو گے۔
میں نے سوال پوچھا تو وہ کہنے لگا۔ ‘‘ تو پھر اب میں کیا کروں؟ ’’
تم صرف اتنا کرو کہ اگر تم سے کوئی پوچھے تو اس قت کا انکار نہ کرو باقی معاملات میں خود دیکھ لوں ’’ بات ختم کر کے اس نے اگلا سوال پوچھ لیا۔ ‘‘گا۔ تم اس وقت کہاں ہو؟
‘‘ داتا دربار کے احاطے میں ہوں۔ ’’
اس کے ساتھ ‘‘ اوکے، میں آتا ہوں تم باہر نکل کر دربار مارکیٹ کے شروع میں موجود جوس کارنر پر آجائو۔ ’’ ہی اس نے فون کاٹ دیا۔
راشد ملتانی سے بات ہوجانے کے بعد میں ایک دفتہ پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہوگیا تھا وہ سبھی سلسلے جڑ گئے تھے جو ایک ہی پل میں مجھ سے کھو گئے تھے میں سرشاری کی سی کیفیت میں اٹھا اور دربار کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ ایک دم لاوارث ہوجانے والا کمالا جٹ انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ کبھی کبھی ایک سہارا بھی کافی ہوتا ہے۔ داتا دربار کے احاطے میں دوبارہ سے مل جانے والا یہ سہارا میرا اعتماد بحال کرنے کے لیے کافی تھا۔
میں دربار کے احاطے سے نکلتا چلا گیا۔ اب میں نے ایک بار بھی سر اٹھا کر دربار کی جانب نہیں دیکھا تھا۔ شاید یہ ہم اناسنوں کی فطرت کا حصہ ہے۔ ہم پر مصیبت آجائے تو سہاروں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ دعائیں، مناجات اور لمبے لمبے سجدے شروع ہوجاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی مصیبت ٹلتی نظر آتی ہے ویسے ہی ہمارا رویہ بدلنے لگتا ہے۔ ہم تمام عبادات اور سہارے بھول جاتے ہیں۔
میں بھی آیا تو میرے ذہن میں تھا کہ مجھے صرف داتا دربار میں پناہ مل سکتی ہے۔ اس وقت یہ دربار میرے لیے سب سے بڑی پناہ گاہ تھی۔
اب صورتحال بدل چکی تھی۔ راشد ملتانی سے ہونے والی گفتگو کے بعد میں پل بھر کے لیے بھی نہ رکا تھا۔ یہ خیال ذہن میں آتے ہی میرے قدم زمین میں دھنس گئے۔ میں جہاں تھا وہیں کھڑا رہ گیا۔ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس مڑا اور پھر دیوانہ وار بھاگتا ہوا دربار کے صحن کو عبور کرکے مزار کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوچکے تھے۔ میں نے فاتحہ پڑھی اور الٹے قدموں دربار پر نظریں جمائے پیچھے کی جانب آنا شروع ہوگیا۔ اسی طرح چلتا ہوا سیڑھیوں تک پہنچا اور پھر سر جھکائے دربار سے باہر آگیا۔
تھوڑے ہی فاصلے پر وہ جوس کارنر تھا۔ جس کی نشاندہی راشد ملتانی نے کی تھی میں وہاں پہنچ کر راشد ملتانی کا انتظار کرنے لگا مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ وہ چند ہی لمحوں میں پہنچ گیا اس کی سیاہ لینڈ کروزر میں اس کے اسلحہ بردار ساتھی نظر آرہے تھے۔ سر عام اسلحہ کی نمائش پر پابندی تھی لیکن لینڈ کروزر مین بیٹھے اسلحہ برداروں سے شاید پورے لاہور میں سوال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ایسی گاڑیوں اور اسلحہ کو دیکھتے ہی پولیس اہلکار خود راستہ چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ عام طور پر ان میں بیٹھے شکص کے ہاتھ اس قدر وسیع ہوتے ہیں کہ اس کے ماتھے پر پڑنے والی شکن ہی پولیس افسروں کو معطل کرانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
راشد ملتانی نے مجھے لینڈ کروزر میں آنے کا اشارہ کیا اور میرے بیٹھتے ہی گاڑی انجانی منزلوں کی جانب چلنے لگی۔ ہم داتا دربار سے دور نکل آئے تو راشد ملتانی مجھ سے بازار حسن میں پیش آنے والے واقعات کا پوچھنے لگا۔ میں نے اسے ساری تفصیلات بتادیں۔ وہ ساتھ ساتھ مختصر تبصرے اور بھاری بھر کم گالیاں بکتا رہا۔ شکیلہ بائی کے ذکر پر تو جیسے اس کے منہ سے گالیوں کا گٹر ابل پڑا۔
میں نے راشد ملتانی سے پوچھا کہ اب میں کہاں رہوں گا؟ کیا ہم لاہور سے باہر جا رہے ہیں تو اس نے یہ کہہ کر مجھے پریشان کر دیا کہ مجھے اب بھی اسی بازار حسن میں رہنا ہے۔ میں نے اس کی بات سن کر حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔
میں وہیں سے تو فرار ہوا ہوںوہاں مجھ پر قتل کے دو دو مقدمات درج ہوچکے ہوں گے اور پولیس مجھے ’’ ڈھونڈ رہی ہوگی اور پولیس ہی نہیں بلکہ جو دو طوائفیں قتل ہوئی ہیں ان کے ساتھی اور چاہنے والے بھی میری تلاش میں ہوں گے۔ پھر میں کیسے ان حالات میں وہیں رہ سکتا ہوں۔ ابھی تو قتل ہونے والے کے قل ‘‘ بھی نہیں ہوئے۔
شاہد ملتانی نے میری جانب دیکھا اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔
کمالے میری بات غور سے سنو، اگر تم آج بھاگے تو ساری عمر بھاگتے رہو گے یہ دنیا طاقتوروں کی ہے آج ’’ تمہارا اصل امتحان ہے۔ تم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرو کہ تم نے ان دونوں کو قتل کیا ہے اور اگر کوئی اور تمہارے سامنے سر اٹھائے گا تو تم اسے بھی انہی دونوں کے پاس بھیج دو گے پھر دیکھنا یہی سب کتے کی طرح قدموں میں لوٹنے لگیں گے۔ یہاںپیار بھی تب تک ہوتا ہے جب تک جیب میں پیسے اور جان ‘‘ محفوط ہو جب اپنی جان پر بن آئے تو پھر پیار خود ہی اپنی اوقات دکھا دیتا ہے۔
بات ختم کر کے راشد ملتانی نے کسی کو فون کیا اور کچھ احکامات دینے شروع کردیے۔ مجھے اتنا ہی اندا زہ ہوا کہ کسی مکان کے لین دین کا کوئی چکر ہے میں نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا اور آنکھیں موند لیں۔ راشد ملتانی نے بھی مجھ سے مزید کوئی بات نہ کی۔ وہ فون پر اپنے معاملات نمتاتا رہا کچھ دیر بعد گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو میں نے آنکھیں کھول لیں۔ راشد ملتانی نے باہر نکلتے ہی میں تیزی سے باہر آگیا ارد گرد کی عمارتوں کو دیکھتے ہی مجھے انداز ہوگیا کہ ہم اندرون لاہور کی کسی گلی نما بازار میں کھڑے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک تنگ سی گلی تھی۔ راشد ملتانی اسی گلی میں چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ تیسرے مکان پر پہنچ کر اس نے دستک دی تو دروازہ جھٹ سے یوں کھل گیا جیسے کوئی دروازے کے پاس کھڑا ہمارا انتظار کر رہا تھا مکان سے ایک مخنی سا شخص باہر نکلا۔ اس نے خاموشی سے چابی راشد ملتانی کو دی اور ایک طرف چلا گیا۔ راشد ملتانی نے وہ چابی مجھے دیتے ہوئے کہا۔
کمالے اب یہ تمہارا گھر ہے۔ کچھ ہی دیر میں یہاں جدید اسلھہ اور گولا بارود پہنچ جائے گا۔ میں علاقے ’’ کے ایس ایچ او کو بھی کہلوادوں گا وہ اب تمہاری جانب نہیں دیکھے گا۔ بدلے میں اسے مکمل نذرانہ پیش کیا جاتا رہے گا۔ تم نے بس اس علاقہ پر اپنی دھاک بٹھانی ہے۔ اس علاقے میں ہونے والی ہر واردات کسی نہ کسی ذرائع سے پولیس اور مجرم دونوں طرف سے پہنچ جاتی ہے۔ اگر تم اس علاقہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوگئے تو زیر زمین دنیا ہی نہیں پولیس بھی تمہاری ہوجائے گا۔ ہمارے پاس بہترین موقع ہے۔ اسے ضائع کرنے کی بجائے اس سے فائدہ اٹھا۔
ابھی راشد ملتانی کی گفتگو جاری ہی تھی کہ گلی کے باہر دو تین گاڑیوں کے ٹائر چرچرانے کی آوازیں ’’ سنائی دیں اور پھر کچھ افراد لکڑی کی پٹیاں اٹھائے ہماری جانب آگئے۔ راشد ملتانی نے انہیں سامان اس مکان کے اندر رکھنے کا کہا۔ ہم بھی ان کے ساتھ اندر آگئے جبکہ وہ ایک کمرے میں یہ پٹیاں ترتیب سے رکھنے لگے۔ راشد ملتانی نے ایک پیٹی کا ڈھکن اوپر اٹھایا تو مجھے اس میں موجود گولیاں نظر آنے لگیں۔ باقی پیٹیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
ان سب میں جدید اسلحہ ہے۔ دستی بم سے لے کر کلاشنکوف، رپیٹر اور دیگر رائفلیں بھی شامل ہیں۔ دو ’’ ‘‘ پیٹیاں صرف گولیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ سب تمہارے کام آئیں گی۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
لیکن میرا شہر تباہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں نے تو صرف اپنے دشمنوں سے حساب برابر کرنا ’’ ‘‘ہے۔
میری بات سن کر اس نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگا۔
لالے پہلے اپنے آپ کو طاقت ور تو بنالو۔ شیر کے شکار کے لیے اس سے زیادہ طاقت ور ہونا ضروری ہے۔ ’’ ‘‘ ورنہ ارد گرد کے گیڈر بھی راستے میں آکھڑے ہوتے ہیں۔
میں نے اس کی بات سمجھتے ہوئے سر ہلایا تو اس نے کہا۔
تم تم جٹاں والے میں میرے دھندوں کے انچارج ہو اور اس کی بات سمجھتے ہوئے سر ہلایا تو اس نے کہا۔ ’’
اب تم جٹاں والے میں میرے دھندوں کے انچارج ہو اور اس بازار حسن میں بھی تم ہی میرے مخالفین کے ’’ ‘‘ سامنے کھڑے ہو گے آج ہم یہاں اتنی فائرنگ کرین گے کہ کل پورا بازار تمہیں سلام کرنے آئے گا۔
سارا سامان مکان کے اندر رکھنے کے بعد ہم نے ان پیٹیوں کے ڈھکن کھولے اور مختلف رائفلیں نکال لیں۔ پھر بے شمار رائونڈ نکال کر سامنے رکھ لیے اور ضرورت کے مطابق سب نے تیاریاں شروع کردیں۔ ہمارے میگزین ہی نہیں جیبیں بھی گولیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ شاہد ملتانی کے کہنے پر ہم سب باہر آئے اور ایک ساتھ ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ دس افراد بیک وقت ہیوی اور لائٹ گنز سے مسلسل فائرنگ کر رہے تھے ارد گرد سے چیخوں کی آوازیں سنائی دیں۔ لوگ خوف کے مارے چیخ رہے تھے لیکن جلد ہی خاموش ہو کر دبک گئے۔ مسلسل فائرنگ سے فضا میں بارود کی بو رچ سی گئی تھی اور دھواں پھیل گیا تھا۔ ہم نے لگ بھگ ایک گولیوں کی ایک پیٹی اسی ہوائی فائرنگ میں استعمال کردی تھی۔
مکان کے اندر آئے تو راشد ملتانی نے نوٹوں کی ایک گڈی مجھے تھماتے ہوئے کہا۔
یہ تمہارے کام آئے گی یہ سمجھ لو کہ تم جتنی جلدی اس علاقہ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرو گے اتنی ’’ ہی جلدی اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے گے علاقہ کے تھانیدار کو میں پیغام بھیج چکا ہوں۔ اب اس سے مل کر جائوں گا۔ ویسے تو اسے ہڈی ڈال دی گئی ہے لیکن ابھی یہاں جس قدر فائرنگ کی گئی ہے اس کے بعد وہ تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہ ت ن یں کرسکتا۔ اس سوروں کو یا تو ہڈی رام ک رتی ٔ جرا ہے یا پھر یہ بھی ڈنڈے کی سنتے ہیں۔
شاہد ملتانی گیا تو میں وہیں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔ میں کیا تھا، کیا کرنا تھا اور کس طرف چل پڑا تھا۔ عجیب و غریب سی زندگی تھی جو مزید الجھتی چلی جا رہی تھی۔ اس رات میں نے ساری صورت حال کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ملتانی ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اگر مجھے بیگھے مل سے انتقام لینا تھا تو پھر اس سے زیادہ طاقتور بننا ضروری تھا۔ ہمارے ہاں کایاب لوگوں کی ایک جیب میں مجرم اور دوسری میں قانون ہوتا ہے جبکہ ان کے پیچھے دولت کا پہاڑ کھڑا ہوتا ہے۔ مجھے بھی اب اسی سطح پر آنا تھا۔ اس نتیجے پر پہنچے کے بعد میں نے وہی کیا جو شاہد ملتانی چاہتا تھا۔
میں دو سال بازار حسن سے ملحقہ علاقے میں رہا اور اس دوران میری دھاک بیٹھ گئی۔ چھوٹے موٹے جرائم پیشہ اپنے اپنے جھگڑوں کے فیصلے کے لیے میرے پاس آنے لگے۔ بازار حسن کی سبھی نائیکہ میرا نام سن کر کانپ جاتی تھیں۔ ان دو سالوں میں کمالے جٹ نے کئی لوگوں کو دوسری دنیا پہنچا دیا البتہ یہ ضرور تھا کہ وہ سبھی خطا کار تھے۔ میں نے کبھی مظلوم پر ظلم نہیں کیا اور ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میں خود بھی ظلم کا شکار ہو کر اس دلدل میں آیا تھا کمال جٹ کو کمالا جٹ بنانے والے وہی تھے جو معاشرے میں طاقت کے بل بوتے پر شرفا کی پگڑیاں اچھالتے پھرتے ہیں اور غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے پھرتے ہیں۔ میری تو لڑائی ہی ان کے خلاف تھے پھر میں بھلا کیسے ان کے ساتھ کھڑا ہوسکتا تھا۔ اپنی دہشت قائم رکھتے ہوئے بھی میں نے کبھی کسی مظلوم اور غریب پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا البتہ ایسے بگڑے ہوئے پھنے خانوں کو ضرور قتل کردیا تھا جو خود کو دھرتی کا خدا سمجھتے تھے۔
یہ دو سال میری زندگی کے ہنگامہ خیز سال ثابت ہوئے۔ پولیس ریکارڈ میں میرا نام اوپر سے اوپر آتا رہا اور میرے خلاف درجنوں مقدمات درج ہوچکے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہی مقدمات درج کرنے والا تھانیدار رات میرے پاس حاضری دیا کرتا تھا اور میرے دشمنوں کو میرے گھرلا کر سزائیں دیا کرتا تھا۔ میں نے ان دو سالوں میں ایک نیا روپ اختیار کرلیا تھا۔ بیگھے مل کو ہونے والے نقصانات کی اطلاع مجھے ملتی رہتی تھی اور اس تک ہر بار میرا نام پہنچتا رہتا تھا کہ اسے یہ نقصان پہنچانے والا کون ہے۔ وہ میرے خون کا پیاسا تھا لیکن میرے علاقے میں آکر میرے مقابل کھڑے ہونے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔
میں نے اس سارے عرصہ میں کائنات سے کوئی رابطہ نہیں کیا لیکن اس کو بھول بھی نہ پایا تھا۔ وہ میری محبت تھی۔ ہم نے اکٹھے زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے۔ یہاں تک کہ وہ میرے ساتھ جٹا والا بھی آئی تھی لیکن یہ سب ماضی کی باتیں تھیں۔ تب کمالا جٹ ڈاکٹر بن رہا تھا۔ وہ معاشرے کا با عزت شہری تھا اور اس کے سامنے روشن مستقبل تھا اب حالات بدل چکے تھے میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا کہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر اسے کہوں کہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ محبت خود گرض ہوتی ہے لیکن اتنی خود غرض نہیں ہوتی کہ اپنے ہی محبوب کی زندگی برباد کردے۔ میں جس دنیا میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس کا انجام پھانسی کا پھندا یا اندھی گولی ہی تھا۔ اس راہ کے مسافر زیادہ طویل عمر نہیں جی پاتے۔ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر ایسے مجرم جوانی یا ادھیڑ عمری میں ہی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اب اگر ان حالات میں کائنات کو اپنے ساتھ زندگی بسر کرنے کا کہتا تو یہ اس معصوم کی زندگی تباہ کرنے سوا اور کچھ نہ ہوتا۔ اب وہ خواب بھکر چکے تھے۔ میں کمال جٹ سے کمالا بن چکا تھا اور کائنات کے ڈاکٹر بننے کے آخری مراحل میں تھی۔ شاید اب تک وہ مجھے ویسے ہی بھول چکی ہو۔ اس لیے میں نے لاہور میں رہتے ہوئے اس سے کبھی رابطہ نہیں کیا۔ میں ان علاقوں اور ان گلیوں میں بھی جانے سے کتراتا تھا جہاں اس کا سامنا ہونے کا امکان ہو۔ اس کے باوجود خدا گوا ہے کہ میری کوئی رات اس کی یاد سے خالی نہیں گئی۔ وہ میری دھڑکن بن چکی تھی اور دھڑکن سے جان چھڑانے اولے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان دو سالوںمیں میرا کائنات سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ یہ محبت بھی عجیب ہوتی ہے جب پاس ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک دن کی جدائی بھی مار ڈالے گی اور جب دور ہوں تو دو دو سال گزر جانے کے باوجود انسان زندہ رہتا ہے ہجرو وصال کی اس کیفیت سے باہر بھی محبت کا الگ ہی وجود ہے۔
اسے کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ عجیب سے احساسات ہوتے ہیں یا پھر میرے ہاتھ ہی یہ سب ہوا کہ دو سال تک میں کائنات کی یاد میں زندگی کا سفر طے کرتا رہا اور اب جبکہ میں اس کے لیے قابل نفرت بد معاش بن چکا تھا تو ایک دم اس کے بنا رہنا دو بھر ہوگیا۔ وہ اس شدت سے میرے اعصاب پر سوار ہوئی کہ مجھے شکست تسلیم کرنا پڑی۔ چاہے اسے دور سے ہی دیکھ لیتا لیکن اب اسے دیکھنا ضروری ہوگیا۔ پہلے میں اس لیے اس سے دور بھاگتا رہا کہ اس کی زندگی میں ایک قاتل، بدمعاش اور اشتہاری کی کوئی جگہ نہیں ہے اب میرے ہی پاک ہزاروں تاویلیں موجود تھیں مجھے لگ رہا تھا کہوہ مجھے سمجھ سکتی ہے۔ اسے تو معلوم ہے کہ میں بے گناہ اور مظلوم تھا۔ وہ مجھ سے ویسی ہی محبت کرتی ہوگی۔ اگر وہ مجھ سے خفا ہوئی تو بھی میں اسے منا لوں گا۔
ایک ہی پل میں میری حالت غیر ہونے لگی تھی۔ میں خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔ ایک طرف مجھ پر دیوانگی کا دورہپڑا ہوا تھا دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ میرے پاس کائنات کا رابطہ نمبر تک نہیں
تھا۔ تمام تعلقات اور تمام رابطے میں بازار حسن کے اس پار چھوڑ آیا تھا۔ میں اپنے ساتھ مقدس رشتوں اور مخلص دوستوں کو اس بازار کے کیچڑ میں نہیں لایا تھا۔
میں نے کائنات سے ملنے کا فیصلہ تو کرلیا لیکن اب اس کا نمبر حاصل کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ اس سمیت میرا کسی سے بھی رابطہ نہیں تھا۔ سب سے کٹ جانے والے کے لیے دو سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ میرے پاس اصرف ایک کلیو تھا وہ یہ کہ مجھے اپنے میڈیکل کالج کا معلوم تھا میں اور کائنات اکٹھے پڑھتے تھے اگر اس نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ہوا تو اسی کالج سے اس کا معلوم ہوسکتا تھا لیکن اس قدر طلبا میں اسے تلاش کرلینا نا ممکن نہیں تو اتنا آسان بھ نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں کسی بھی طرح اسے تلاش کرنا چاہتا تھا۔
اگلے ہی دن میں کالج جا پہنچا۔ عجیب سے احساسات تھے یہ وہی کالج تھا جہاں میں ڈاکٹر بننے کے لیے آیا تھا اور اب ایک خطرناک مجرم بن کر دوبارہ اسی ادارے میں داخل ہو رہا تھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ ویسے ہی پڑھاکو طالب علم اور دل کے ہاتھوں ہار جانے والے نوجوان۔ سبھی بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہوئے یہاں تک آئے تھے اگر انہیں معلوم ہوجاتا کہ کمالا جٹ جیسا نامی اشتہاری ان کے درمیان موجود ہے تو شاید وہ اصل صورت حال کا معلوم کیے بنا ہی چیختے چلاتے بھاگ جاتے۔ میں نے دو سال میں ہی جرائم کی دنیا میں خاصا نام کما لیا تھا لیکن میڈیکل و اخبارات اور خبر ں پر ً کے طالب علم عموما زیادہ توجہ نہیں دے پاتے۔ اس لیے انہیں اگر میرا نام معلوم بھی تھا تو شکل سے نہیں پہچانتے تھے۔ میں کالج کے اندر کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ کس جانب جائوں اور اپنی کائنات کو کہان تلاش کروں کہ اچانک سامنے سے مہرین آتی نظر آئی۔ وہ ہماری کلاس فیلو تھی میں اس کے سامنے جا کھڑا ہوا وہ ایک لمحے کے لیے چونکی اور پھر اس نے مجھے پہچان لیا حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے اس نے ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ لیے۔ میری داستان کالج میں دو سال پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ مہرین سے ہی معلوم ہوا کہ کائنات مجھے نہیں بھولی اور نہ ہی وہ مجھ سے دست بردار ہوئی تھی۔ وہ آج بھی میرے لوٹ آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ میرے گروپ نے ہائوس جاب شروع کردی تھی لیکن آج کسی وجہ سے سبھی کالج آئے تھے۔ مہرین کائنات کی ہم راز بھی تھی۔ میں اس سے کائنات کی باتیں سنتا رہا اور پھر میری آنکھ کے گوشے نم ہونے لگے۔ کائنات کو معلوم تھا کہ کمال جٹ اب کمالا بدمعاش بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود وہ میرے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اس نے کئی بار مہرین سے کہا تھا کہ اگر میں اسے مل گئی تو وہ اپنی ڈاکٹری بھول کر میرے ساتھ چلی جائے گی۔ وہ مجھے کہیں دور لے جانا چاہتی تھی لیکن اگر ناکام رہتی تو پھر میرے ساتھ ایسی ہی زندگی گزار لیتی جس میں زندگی کی ضمانت نہیں ہے۔ میں مہرین سے کائنات کی باتیں سنتا رہا اور پھر مجھ پر عجیب سی کیفیت طارق ہوگئی مین اپنی کائنات کو ملنا چاہتا تھا مہرین نے بتایا کہ وہ بھی آج کالج آئی ہے اور اس وقت کینٹین میں ہے۔ میں اور
مہرین کینٹین کی جانب چل پڑے میں سوچ رہا تھا کہ آج میں کائنات کو پھر سے پا چکا ہوں لیکن مجھے علم نہ تھا کہ تقدیر دور کھڑی مجھپر ہنس رہی ہے۔ ہمارے ساتھ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم میدان ما رچکے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کوئی اور کھیل کھیل رہی تھی۔ دراصل ہم سب ہی زندگی کی بساط پر سجے مہرے ہیں کوئی پیادہ ہے تو کوئی بادشاہ یا وزیر ہے۔ سب کا یہی خیال ہے کہ میدان ہمارے ہاتھ میں ہے لیکنہم سب مہرے ہی ہیں اس سے زیادہ ہماری اوقات نہیں۔ اصل کھیل اس کا ہوتا ہے جو بساط سے باہر ان مہروں کو حرکت دیتا ہے۔ ہم اکچر اس حرکت دینے والے کو بھول جاتے ہیں اور کود کو اصلی بادشاہ سمجھ لیتے ہیں اس کی مرضی کے بنا تو حرکت تک ممکن نہیں ہے۔ وہ جسے چاہے اٹھا کر بساط سے باہر پھینک دے اورجسے چاہے پیادے سے وزیر بنا ڈالے۔ میرے ساتھ ہی وہی سلوک ہونے والا تھا جو شطرنج کی بساط پر گھوڑے کو شکار کرنے کی خواہش رکھنے والے پیادے کے ساتھ ہوتا ہے گھوڑا ڈھائی قدم چل کر نہ صرف کود کو پیادے سے بچا لیتا ہے بلکہ اس کے کسی ساتھی کی جان بھی لے لیتا ہے۔ یہاں زندگی کی بساط پر بھی ایسا ہی کھیل شروع ہوچکا تھا کینٹین میںکائنات مجھے دور سے ہی نطر آگئی تھی۔ وہ ایسی ہی تھی ہزاروں میں بھی دور سے ہی نظر آجاتی تھی اس نے ساتھ کھڑی لڑکی سے کوئی بات کرتے کرتے گردن گھمائی اور پھر جیسے ساکت ہوگئی۔ دنیا سے جیسے تھم سی گئی تھی۔ ہماری آنکھیں چار ہوئیں اور پھر جیسے وہاں اور کوئی نہ رہا۔ اس نے پہلی ہی نظر میں مجھے پہچان لیا تھا اس کے چہرے پر بے یقینی کی سی کیفیت تھی جیسے ابھی کوئی خواب ختم ہوجائے گا۔ ہم دونوں ایک سی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ شاید محبت کرنے والے سبھی ملن کے لمحات میں اسی کیفیت سے دوچار ہوتے ہوں۔ کائنات نے میری جانب قدم بڑھایا یہ اس بات کی علامت تھی کہ اس نے مجھے میری تمام تر کامیوں سمیت قبول کرلیا تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر حقارت کا اظہار نہیں کیا تھا نہ ہی اس کے چہرے سے نفرت چھلک رہی تھی۔ وہ میری تھی اور میری جانب بڑھ رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی اب میں ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ میں پولیس کومطلوب ہوں اس کے باوجود میریکائنات میری جانب آرہی تھی۔ اچانک چلتے چلتے وہ لڑکھڑائئی اور دھم سے زمین پر آگری۔ گولی چلنے کی آواز میں نے بھی سنی تھی اس کے باوجود ایک لمح؁ کے لیے مجھے اندازہ نہ ہوسکا کہ کیا ہوا ہے۔ میں ماذھول سے کٹ کر اپنی کائنات میں کھو چکا تھا وہ زمین پر گری تو جیسے چھن سے کوئی خواب ٹوٹ گیا میں دوبارہ ماحول میں لوٹ آیا۔ کینٹین میں بھگڈر مچ چکی تھی۔ میں تیزی سے کائنات کی جانب گیا۔ وہ خون میں لت پت تھی۔ اس کے سینے سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا میں نے دیوانگی کے عالم میں خون روکنے کی کوشش کی لیکن سیکنڈ کے سو پل حصے میں میرا ہاتھ خون سے بھر گیا۔ میں نے کائنات کو بانہوں میں اٹھایا تاکہ طبی امداد کے لیے لے جا سکوں اسی لمحے اس نے آنکھ کھولی اور مسکرا کر میری جانب دیکھا اس کے ساتھ ہی اس کی گردن ڈھلک گئی۔ کائنات دم توڑ چکی تھی شاید اسے مرنے کے لیے میری بانہوں کا انتظار تھا اس کی آخری مسکراہٹ میں اذیت، کرب اور اطمینان سبھی پیغامات تھے میں کائنات کا
لاشہ نیچے رکھنے کی بجائے خود بھی نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ اسی لمحے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ کائنات کو گولی کس نے ماری؟ یہ سوال ذہن میں آتے ہی جیسے میں ہوش میں آگیا تھا۔ میں جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اردگرد دیکھنے لگا سبھی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے ان میں کائنات کا قاتل کون تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بھاگنے والوں میں قاتل بھی تھا اور معصوم طالب علم بھی اسی دوران ایک اور فائر ہوا میں نے تیزی سے اس جانب دیکھا تو فضا میں بلند ایک ہاتھ نظر آیا جس میں پسٹل چمک رہا تھا اس شخص نے ہجوم کو خود سے دور رکھنے اور فرار ہونے کے لیے فائر کیا تھا اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اس کے ساتھ بھاگنے والے اس فائرپ ر بدل کر مخالف سمت بھاگنے لگے۔ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ جس ممکنہ موت سے بچ کر وہ بھاگ رہے تھے۔ وہ موت بھی اسن کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی۔ لوگوں کے مکالف سمت بھاگنے سے قاتل کو یہ فائدہ ہوگیا کہ اب اس کے فرار کا راستہ صاف تھا لیکن اس کا اسے سب سے بڑا نقصان یہ ہوگیا کہ اب وہ میری نظروں میں آگیا تھا میں اس کے تعاقب میں بھاگنے لگا۔ وہ کافی دور پہنچ چکا تھا اور اتنے فاصلے سے اسے پکڑنا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔ وہ اس قتل کی نیت سے آیا تھا کہ اس لیے اس نے اپنے فرار کا منصوبہ پہلے سے بنا رکھا ہوگا عین ممکن تھا کہ وہ گیٹ پر پہنچتا اور وہاں اس کا کوئی ساتھی پہلے سے تیار بیٹھا ہوا جو اسے ساتھ بٹھا کر نو دو گیارہ ہوجاتا اور میں پاگلوں کی طرح کھڑا سے تلاش کرتا رہتا۔ میں جانتا تھا کہ ہمارے درمیان جتنا فاصلہ پیدا ہوچکا ہے اس کی وجہ سے م ن اسے پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن اس کے باوجود میں اس کے تعاقب میں بھاگ رہا تھا۔ اسی دوران ایکجگہ مڑتے ہوئے اس کا چہرہ میرے سامنے آیا۔ وہ جعفر ایرانی تھی وہی جعفر ایرانی جو کائنات کے پیچھے پڑا ہوا تھا اور کائنات نے اسے ٹھکرا کر مجھے اپنانے کا فیصلہ کیا تھا اب اسی جعفر ایرانی نے کائنات کو مار دیا تھا یہ بھی عجیب فلسفہ ہے کہ محبوب اگر میرا نہ ہوا تو اسے کسی کا بھی نہ ہونے دیں خدا جانے یہ کیا فلسفہ ہے لیکن ہمارے ہاں اکچر ناکام عاشقوں نے یہی فلسفہ اپنا رکھا ہے کہیں اپنے ہی محبوب کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اس کا چہرہ مسخ کردیاجاتا ہے کہیں قتل کردیا جاتا ہے اور کہیں اسی محبوب کو اغوا کر کے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کہیں اس کی برہنہ ویڈیو کلب بنائے جاتے ہیں تو کہیں کوئی اور سزا دی جاتی ہے۔ عجیب محبت ہے اور عجیب ہی فلسفہ ہے۔ کم از کم میرے نزدیک یہ محبت نہیں بلکہ ہوس کی تکمیلمیں نکامی کے بعد انتقامی جذبہ ہے۔ یہی حرکتیں بتاتی ہیں کہ کون عاشق تھا ور کون ہوس کا پجاری تھا۔ محبت کا نقاب اوڑھ کر ہوس کی تکمیل کرنے والے یہیں آکر بے نقاب ہوتے ہیں۔ جعفر ایرانی فرار ہوگیا تھا لیکن اب اس کا مجھ سے بچنا ممکن نہ تھا۔ وہ میری زندگی چھین کر گیا تھا میں اب اس کی زندگی چھین لینے والا تھا میرے بڑے دشمنوں میں جعفر ایرانی بھی شامل ہوچکا تھا۔
جعفر ایرانی تو وقتی طور پر میر پہنچ سے باہر نکل چکا تھا لیکن مہرین بھاگتی ہوئی میری جانب آگئی اس کا سانس پھول رہا تھا اس نے لمحہ بھر کے لیے رک کر گہری سانس لی تاکہ تنفس کا عمل بہتر
ہوسکے پھر کچھ بتانے لگی۔ اس کا سانس پھول چکا تھا اس لیے وہ صحیح طور پر مجھ سے بات نہیں پا رہی تھی۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ چاہتی ہو کہ یاہں سے فوری طور پر چلا جائوں۔ میرے لیے یہ ممکن نہ تھا میں جان چکا تھا کہ میری کائنات اب اس دنیا میں نہیں رہی لیکن اس کی لاش کو یوں چھوڑ کر جانا بھی میرے لیے ممکن نہ تھا۔ ابھی جو کچھ ہوا وہ ذہنی طور پر بہت بڑے جھٹکے سے کم نہ تھا میرے اور کائنات کے درمیان چند قدموں کا فصلہ تھا لیکن جعفر ایرانی جیسے کینہ پرور شخص نے اسے ہمیشہ کے فاصلے میں تبدیل کردیا تھا مہرین کو ابھی شاید اندازہ نہیں ہوا تھا کہ کائنات مر چکی ہے۔ وہ مجھے کھینچتی ہوئی باہر لائی اور اپنی گاڑی میں دھکیل کر گاڑی بھگاتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
مہرین مجھے اپنے فلیٹ پر لے گئی یہاں یہ چار لڑکیاں رہتی تھیں۔ اتفاق سے چاروں میری کلاس فیول رہ چکی تھیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت وہاںکوئی نہ تھا کائنات کے کا دھچکا ایسا تھا میں اندر سے توٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا میرے پاس اس کے سوا اب بچا ہی کیا تھا مہرین نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پورا گروپ مہرین کی ایمبولینس کے ساتھ اسپتال گیا ہے وہاں اسی کے استد سرجن موجود ہیں اس لیے بے فکر ہوں۔ کائنات جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی۔ مجھ میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اسے بتا پاتا کہ کائنات اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ ایک ہی گولی نے اس کے دل کے پاس ایسی جگہ بنائی کہ وہ لمحوں میں دم توڑ گئی۔ اس کی آخری مسکراہٹ اور آخری نظر میرا دل چیر رہی تھی۔ میں نے بے تابی سے کہا۔
مہرین میں بھی اسپتال جانا چاہتا ہوں، مجھے میری کائنات کے پاس جانے سے مت روکو، اب بھی نہ جا ’’ مہرین نے سختی سے روک دیا۔ اس نے بتایا کہ میں جب ‘‘ سکا تو کبھی بھی اسے نہیں دیکھ پائوں گا۔ جعفر ایرانی کے پیچھے بھاگ رہا تھا تو اس کے چیلوں نے شور مچانا شروع کردیا تھا کہ کمالا جٹ کالج میں آیا ہے اور اسی نے کائنات کو گولی مار دی ہے۔ جعفر ایرانی یہاں کا طلب علم ھتا لیکن کمالا جٹ اب پولیس کو مطلوب خطرناک دہشت گرد تھا۔ کچھ اور لوگوں نے بھی کہنا شروع کردیا کہ آج انہوں نے بھی کمالے جٹ کو کالج میں دیکھا ہے۔ اس طرح لموح میں ہی میرے خالف ایسی فضا بنا دی گئی کہ کاینات کا قتل مجھ پر ڈادل دیا گیا۔ وہاں ایسا ماحول دیکھتے ہی میرے ایک دوست نے مہرین کو میری جانب دوڑای مجھے لے کر یہاں سے نکل جائے ان کا خیال تھا کہ کائنات ہوش میں آکر خود ہی پولیس کو اصل صورت حال سے آگاہ کردے گی اور یہ بھی واضح کردے گی کہ اسے گولی مارنے والا جعفر ایرانی تھا۔ لیکن اس وقت میرے خلاف جو فضا بنا دی گئی تھی اس کے پس منظر میں میرا پکڑے جانا بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ پولیس کی گرفتاری کی نوبت ہی نہ آتی اور مجھے یہیں پر تشدد سے مار دیا جاتا۔ ایسی صورت حال جعفر ایرانی کے حواری پیدا کرسکتے تھے جس کے بعدکائنات کے قتل کے ساتھ ساتھ میں بھی مارا جاتا اور بظاہر یہی لگتا کہ کائنات کا قاتل مشتعل طالب علموں کے ہاتھوں م۔
کا ‘‘ خس کم جہاں پاک ’’ میں پہلے ہی پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس لیے میرے قتل کو نام دیا جاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ مجھے کالج میں دیکھتے ہی جعفر ایرانی نے لمحوں میں بہت خوب صورت پلان ترتیب دے لیا تھا۔ لمحوں میں ترتیب دیے جانے والے اس منصوبے مین بہت زیادہ جھول تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس قدر تیز رفتاری سے اتنا بڑا منصوبہ کوئی عام شخص ترتیب نہیں دے سکتا تھا۔
میرے ذہن میں یہ سوال بھی گردش کر رہا تھا کہ جعفر ایرانی اور کائنات کے درمیان کیا اختلاف تھا دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا ہ محض میری جانب بڑھنے کے جرم میں اس کو گولی مار دی گئی تھی۔ یہ میڈیکل کالج تھا یہاں لڑے اور لڑکیاں دونوں اکٹھے پڑھتے تھے اور ان کا ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا کائنات اب ڈاکٹر بن چکی تھی اس کی ہائوس جاب شروع ہو چکی تھی اس نے روزانہ کئی مریضوں اور اسن کے لواحقین سے بھی ملنا تھا اس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ جعفر ایرانی صرف میری جانب بڑھنے کے جرم میں ہی اسے گولی مر دیتا۔ اس نے اگر اسی وجہ سے گولی چلانی ہوتو تی پھر اس کی پستول کا رخ کائنات کی بجائے میری طرف ہوتا۔
مجھے اس سوال کا جواب بھی مہرین سے مل گیا۔ وہ بتا رہی تھی کہ جعفر ایرانی کی گستاخیاں شروع تو پہلے ہی ہوچکی تھیں لیکن میرے پولیس مقابلے اور پھر اشتہاریوں کے اتھ فرار ہوجانے کی داستانیں کالج پہنچیں تو جیسے جعفر ایرانی بے خوف ہونے لگا۔ وہ مسلسل کائنات کو زچ ک رنے لگا تھا میری گمشدگی یا اشتہاری ہونے کے بعد وہ کائنات کو بلا شرکت غیرے اپنی ملکیت سمجھنے لگا تھا۔ کائنات میرے غائب ہوجانے کے باوجود خود کو میری امانت سمجھتی تھی اس لیے اس نے ہر موقع پر جعفر ایرانی کو بری طرح دھتکار دیا لیکن اسکے باوجود اس نے کائنات کا پیچھا نہ چھوڑا یوں لگتا تھا جیسے اب کائنات اس کی جد بن چکی ہے۔ اس نے صھیح معنوں میں معصوم کائنات کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ جعفر ایرانی کے بارے میں پورے کالج کو معلوم تھا کہ وہ شرابی اور زانی ہے۔ اسی طرح اس کا الگ ہی گینگ بنا ہوا تھا کائنات نے جس بری طرح اسے دھتکارا تھا اس نے اپنے اپنی تذلیل سمجھتے ہوئے کسی بھی صورت میں کائنات کو زیر کرنے کی ضد پکڑ رکھی تھی۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک روز اس نے راہ چلتے کالج کی کینٹین میں کائنات کا ہاتھ پکڑا تو کائنات نے پوری شدت سے اسے تھپڑ رسید کردیا۔ یہ منظر کوئی لوگوں نے دیکھا جعفر ایرانی نے وہیں کھڑے ہو کر کائنات سے کہا۔
پہلے بس میں تمہیں زیر کرنا چاہتا تھا جاہے چند لمحوں کے لیے ہی لیکن اب تم میری بیوی بن گی مجھے ’’ اس جملہ ادھورا چھوڑا اور وہاں سے چلا گیا۔ ‘‘!… کل تک شادی کی شاریخ بنا دو ورنہ
اگلے دن جعفر ایرانی جب اپنا جواب لینے کینٹین میں کائنات کی طرف آرہا تھا تو اسے کمال جٹ نظر آگیا مجھے دیکھتے ہی وہ شاید ییہ سمجھا کہ اس کے جواب کے لیے کائنات نے مجھے بلایا ہے اسے علم نہیں
تھا میں کائنات سے رابطے میں ہوں یا نہیں۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی اپنے حتمی فیصلے کا سوچ لیا اور یہ دیکھنے کے لیے انتطار کرنے لگا کہ کائنات میرے ساتھ کس طرح پیش آتی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی کائنات کا جو رد عمل ہوا اس نے جعفر ایرانی کو اس کی اوقات سمجھا دی اور وہ غصے سے بائولا ہوگیا اس نے کائنات کے مجھ تک پہنچے سے پہلے ہی اسے گولی مار دی۔ جعفر ایرانی نے جس طرح ایک ہی گلوی چلائی اور وہ ایک گولی ہی ایسی جگہ لگی جہان لگنے کے بعد کائنات کی زندگی ممکن نہیں تھی۔ اس سے یہ طاہر ہو رہا تھا ہ جعفر ایرانی بھی کوئی معمولی طالب علم نہ تھا مجھے یہ تو معلوم تھا کہ ایرانی کا تعلق جرائم پیشہ افراد سے ہے لیکن اس طرح کا بے داغ نشانہ چھوٹے موٹے مجرموں کا بھی نہیں ہوتا۔ میرے ذہن میں کچھ کھٹکنے لگا۔ جعفر ایرانی بظاہر جو نظر آتا تھا در ھقیقت وہ نہیں تھا اس کی اصلیت کچھ اور تھی اس کے چہرے پر ایک ایسا نقاب چڑھا ہوا تھا جس کے پیچھے کوئی اور ہی کہانی بند تھی۔
مہرین سے ساری صورت ھال سن کر میرا کھولتا ہوا دماغ اور بھی کھولنے لگا۔ میرا بس چلتا تو ابھی جا کر اس کو قتل کردیتا لیکن میں جانتا تھا اب وہ اسپنے کسی پرانے ٹھکانے پر بھی نہیں ملے گا۔ کالج میں ایک طالبہ قتل ہوچکی تھی یہ اتنی معمولی خبر نہ تھی کہ اس پر انتطامیہ حرکت میں نہ آتی یہ ضرور تھا کہ مشکول افراد میں اب میں بھی شامل تھا بعض عینی شاہدین اگر زبان کھولنے پر اتر آتے تو انہون نے حکام کو بتا دینا تھا کہ قاتل کمالا جٹ نہیں بلکہ جعفر ایرانی ہے دوسری جانب ایرانی کے گروہ کی بھی یہی کوشش ہونی تھی کہ کسی طرح یہ ثابت کردیا جائے کہ کائنات کے قتل میں کمالے جٹ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے بھی متعدد گواہ کھڑے کردینے تھے۔
یہ ایک پیچیدہ کیس بننے جا رہا تھا ایسے کیس مدتوں چلتے رہتے ہیں لیکن میں لمحوں میں فیصلہ کرچکا تھا کہ کائنات کے قتل کا کیس میں عدالت سے باہر چلائوں گا۔ یہ قانون کی خلاف ورزی تھی لیکن یہ بھی سچا تھا کہ ججعفر ایرانی نے سیاسی پناہ ہی حاصل کرنی تی ایسی صورت میں اس نے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے تھے کہ اس کیس کا فیصلہ ہی نہ ہو پائے۔ ہمارے ہان المیہ ہے کہ کیس کو لمھے عرصہ تک لٹکانے کے حرب بھی وکیل ہی بتاتے ہیں وہ تو اپنے کلائنٹ کا کسی آگے پہنچانے سے قبل اس کا سودا کر چکے ہوتے ہیں۔ ہمارے اکثر وکلا کے انہی ہتھکنڈوں کی وجہ سے اپنے بوسیدہ مقدمات لٹکائے رکھتے ہیں۔ کا حساب کتاب چلتا رہے۔ یہ سب باتیں مجھے مجبور کر رہی تھیں کہ میں ‘‘ روٹی پانی ’’ تاکہ ان کی اضافی اپنی کائنات کو انصاف دلانے کے لیے خود میدان میں اتر جائوں اور اپنا فیصلہ خود کرلوں۔ بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اور نطام ہی ایسا ہے کہ لوگ خود انصاف حاصل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ غلط ہی سہی لیکن میں فیصلہ کر چکا تھا کہ کائنات کے قاتل کو میں خود ماروں گا۔
اسپتال سے اطلاع آگئی تھی کہ کائنات اس دنیا میں نہیں رہی۔ میری بد قسمتی یہ کہ میں اس کے جنازے میں بھی شرکت نہیں کرسکتا تھا۔ میں دنیا کی نظر میں خطرناک اشتہاری مجرم تھا اور اب چند
دوستوں کے علاوہ کالج میں بھی سبھی کا یہ خیال تھا کہ میںکائنات کو قتل کرنے آیا تھا۔ میری آمد اور موقع پر موجودگی کی کڑیاں کائنات کے قتل سے ملائی جا رہی تھیں۔ اید اس کے گھر والوں کا بھی یہی خیال تھا اور پولیس کو مکمل یقین تھا کہ کمالا جٹ ہی کائنات کا قاتل تھا۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا ً کہ میں کائنات کے جنازے میں شریک ہوسکوں۔ وہاں بھی یقی نا میری گرفتاری کے لیے سادہ لباس میں پولیس موجد ہونی تھی مجھے بس یہ اعزاز حاصل تھا کہ مجھے جس کائنات کا قاتل قرار دیا جا رہا تھا اس نے میری بانہوں میں دم تورا اور آخری بار آنکھیں کھول کر تسلی کی تھی کہ میں اس کے پاس ہوں۔ اس کی آخری مسکراہٹ بھی صرف کمالے جٹ کے لیے ہی تھی۔
مہرین سمیت سبھی کائنات کے گھر گئے ہوئے تھے۔ میں تنہا بیٹھا ماضی میں کھو چکا تھا کائنات کے میرے ساتھ گزرے دن کسی فلم کی طرح ذہن کے پردے پر چل رہے تھے۔ اسی دوران مجھے اھساس ہوا کہ میرے فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی ہے۔ اسکرین پر انجانا نمبر تھا ویسے بھی اس موبائل میں صرف راشد ملتانی کا نمبر ہی محفوظ تھا۔ میں نے کال ریسیو کیا تو دوسری جانب فون کرنے والے نے اپنا تعارف کرایا۔ وہ واجد ترین صاحب تھے وہی واجد ترین جنہوں نے میری جان بچانے کے لیے راشد ملتانی کو میرے پاس بھیجا تھا اور انہی کے فارم ہائوس سے نکتلے ہوئے میرا پولیس سے ٹاکرا ہوا تھا۔ واجد ترین کے مجھ پر بہت احسانات تھے۔ جٹاں والا میں میجر صاحب اور ان کے بیٹے واجد ترین نے ہر لمھے میرا ساتھ دیا تھا ا ایک مدت کے بعد وہی واجد ترین مجھ سے بات کر رہے تھے۔ میرا لہجہ بھیگنے لگا۔ ایک ایک کر کے میرے پچھلے رابطے بحال ہو رہے تھے۔ یہ بے لوث لوگ نہ ہوتے تو شاید میرا انسانیت سے اعتبار اٹھ چکا ہوتا۔
واجد صاحب بتا رہے تھے کہ وہ کبھی بھی مجھ سے لا تعلق نہیں رہے۔ راشد ملتانی سے انہیں پل پل کی خبریں مل رہی تھیں اور وہ اسے میرے حوالے سے خصوصی ہدایت دے رہے تھے۔ وہ کہنے لگے۔
کمالے! دنیا کو زیر کرنے کے لیے طاقت بننا ضروری ہوتا ہے اسی لیے تمہیں اس ماحول میں رکھا گیا تھا ’’ مجھے یقین تھا کہ تم بدمعاش بن کر بھی کبھی مظلوم کے خلاف نہیں اٹھو گے۔ تم کود اسی کیفیت سے گزر چکے ہو جو مظلوم پر گزرتی ہے۔ اگر تمہیں ان حالات میں نہ رکھا جاتا تو لاکھ تربیت کے باوجود تم میں ‘‘ وہ خود اعتمادی نہ آتی جو اب آچکی ہے۔اب تم بڑے سے بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہو۔
میں نے دل سے واجد ترین کا شکریہ ادا کیا کیونکہ وہ درست کہہ رہے تھے جو تربیت خود میدان میں اتر کر خطرات مول لینے ے ملتی ہے وہ کسی کلب یا ادارے سے نہیں ملتی۔ واجد ترین نے اپنے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
کمالے اب صورت حال بد چکی ہے بیگھے مل سے کہیں زیادہ طاقتور اور خطرناک مجرم تمہارے مقابلے پر ’’ میں ان کی بات سن کر چونک گیا۔ ‘‘ہے۔
میں نے بے ساختہ سوال کیا تو انہوں نے گمبھیر لہجے میں کہا۔ ‘‘کون؟’’
جعفر ایرانی وہ پاکستان مخالف طاقتوں کا ایجنٹ ہے ہماری اس پر پوری نظر ہے اور ہم نے یہاں اس کے ’’ سیٹ اپ کو مفلوج کیا ہوا تھا۔ اب اس نے جو قتل کیا ہے اس سے واضح ہوگیا کہ وہ اس شہر میں مزید ‘‘ نہیں رہس کتا۔ وہ اب کسی اور جگہ فرار ہوجائے گا اور پھروہاں سے اپنا نیٹ ورک چلائے گا۔
واجد ترین سے جعفر ایرانی کا نام سن کر میرا خون کھول اٹھا۔ اس نے میرے سامنے کائنات کو مارا تھا اس کا نام سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے کائنات کے آخری لمحات آجاتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کی مسکراہٹ کہہ رہی ہو کہ کمالے مجھے یقین ہے کہ تم میرا انتقام لوگے۔
واجد ترین بولتے چلے جا رہے تھے وہ کہہ رہے تھے۔
اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جعفر ایرانی کے مقابلے پر کھل کر اترا جائے اس کے لیے تمہارا انتخاب ہوا ہے ’’ تم اس کا پیچھا کرو گے تو پس منظر میں تمہاری حالیہ دشمنی اور کائنات کی موت نظر آئے گی یہ انتقامی جنگ لگے گی۔ تم چاہو تو میری آفر سے انکار کرسکتے ہو ہم جعفر ایرانی کے لیے کسی اور کا ‘‘ انتخاب کرلیں گے۔
میں نے واجد ترین کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
سر جعفر ایرانی کے مقابلے میں ہی میں اتروں گا۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ بیگھے مل اور جعفر ایرانی ’’ میرے ہاتھ سے ہی مریں گے۔ اب معاملہ میری ذات سے آگے جا چکا ہے۔ وہ ملک دشمن ایجنٹ ہے تو بات میرے ملک کے دفاع کی ہے اب چاہے انجام کچھ بھی ہو یہ اعزاز میرے لیے مختص کردیں کہ کمالا جٹ اپنے وطن کے دشمنوں سے لرا۔ اب مارا گیا تو بھی سرخ رو ہوں گا۔ مار دیا تو بھی خود پر فخر کروں گا۔ میں سب سے پہلے اس وطن کا بیٹا ہوں۔ مجھے اس سے پہلے یہ موقع ملا ہوتا تو شاید میری یہ سمت ہی نہ ‘‘ ہوتی۔ مجھے میرے وطن کے دشمنوں سے لڑنے کے اعزاز سے محروم نہ کریں۔
کمالے میں تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں لیکن وہ تربیت یافتہ ایجنٹ ہے اگلے ’’ واجد صاحب کہنے لگے۔ گھنٹوں میں کرنل سلیم تم سے رابطہ کریں گے۔ میں تمہیں ان کے حوالے کر رہا ہوں۔ وہ تمہیں باقاعدہ 24 ‘‘ تربیت دیں گے اور پھر ملک دشمنوں کے خلاف تمہاری جنگ شروع ہوجائے گی۔
بات ختم کرتے ہی واجد ترین نے فون بند کردیا۔ میں کرنل سلیم کے فون کا انتظار کرنے لگا۔ میں ایک عام شخص تھا جو طاقتور اور با اثر لوگوں کے ظلم کا نشانہ بنا اور اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے نکل کھڑا ہوا معاشرہ مجھے ایک خطرناک اشتہاری مجرم کے طور پر جانات تھا میرے خلاف متعدد جعلی مقدمات درج ہوچکے تھے لیکن اب مجھ ایسے ناکارہ شخص کو ہی یہ اعزاز دے رہا تھا کہ میں اپنے وطن کے دشمنوں کے
مقابلے پر اترنے والا تھا۔ میرا تو سبھی کچھ ختم ہوچکا تھا۔ میری زندگی اتنی ہی تھی کہ بیگھے مل سے اپنا انتقام لیتا اور پھر کسی دور دراز کے قصبے میں جا کر گمنامی کی زندگی بسر کرتا کہیں مزدوری کرتا یا کوئی دکان کھول لیتا۔ غلط راہ کا مسافر بنتا تو یہی بدمعاشی جاری رکھتا اور کسی دن دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا۔ واجد ترین کے ایک فون نے ہی مجھے میری نظروں میں معتبر بنا دیا تھا۔ اب مجھے اپنے وطن کے لیے کام کرنا تھا میں نے اپنا بدلہ تو لینا ہی تھا کہ یہ میرا حق بھی تھا لیکن اب کہیں بڑا اعزاز ملنے والا تھا۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس بات بھی انجانا نمبر ہی تھا میں نے کال ریسیو کی تو کسی نے مضبوط لہجے میں کہا۔
میں کرنل سلیم بات کر رہا ہوں۔ باہر ایک سیاہ رنگ کی جیپ کھڑی ہے اس میں بیٹھ جائو باقی باتیں ’’ ملاقات کے بعد ہوں گی۔ اب تمہیں واپس نہیں آنا اس لیے اپنے میزبانوں کو فون پر ہی بتا دو تاکہ وہ میں نے مہرین ا ‘‘ پریشان نہ ہوں۔ بتیا کہ جعفر ایرانی لاہور سے نکل گیا ہے اور میں ً کو فون کر کے مختصرا اسی کے تعاقب میں نکلنے لگا ہوں۔ زندگی رہی تو دوبارہ ملاقات ہوجائے گی وہ کہتی رہی کہ رک جائوں اور ان کے آنے کے بعد جائوں جہاں بھی جانا ہو۔ لیکن اب میرے پاس رکنے کا وقت نہیں رہا تھا۔ میں باقی تفصیلات گول کر گیا تھا کیونکہ میرے خیال میں وہ سب میرے وطن کی امانت تھیں۔ میں ایک عام سا پاکستانی تھا لیکن جانے کیوں واجد صاحب سے گفتگو کے بعد عجیب سے احساسات ہو رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تا کہ جیسے میں اسی مقصد کے لیے پیدا ہوا تھا۔ کنرل سلیم کی گاڑی مجھے ایک سیف ہائوس میں لے گئی وہیں کرنل سلیم سے ملاقات ہوئی اس کے بعد میرے مختلف امتحانات شروع ہوگئے یہ نفسیاتی اور جسمانی صلاحیتوں کے امتحانات تھے۔
ایک پوری ٹیم یہ جانچ رہی تھی کہ کیا میں ایسے کسی مشن پر بھیجے جانے کا اہل ہوں بھی یا نہیں۔ میرا ذات انتقام کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ اب مجھے اپنے وطن کا انتقام لینا تھا ملک بھر میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوچ مک دشمن عناصر اس ملک کو تباہی کی جانب دھکیلنا چاہتے تھے اور مجھے انہی ماہ تک مختلف 6 طاقتوں کے بڑے آلہ کار کا تعاقب کرنا تھا کرنل سلیم اور ان کی ٹیم نے مجھے لگ بھگ تربیتی کورسسز اور مشقوں سے گزرا۔ ان چھ ماہ میں متعدد بار ایسا محسوس ہوا کہ اگر وطن کا قرض اتارنے کا جزبہ نہ ہوتا تو شاید میں یہاں چند ہفتے بھی نہ گزار پاتا۔
چھ ماہ کے بعد کمالا جٹ یکسر بدل چکا تھا۔ اب میں ذہنی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور تھا۔ جسمانی طور پر یوں محسوس ہوتا تاھ جیسے جسم میں خون کے بجائے بجلیاں دوڑ رہی ہوں۔ مجھے لڑائی کے ایسے ایسے دوائو پیچ آگئے تھے جو عام شخص کے وہم و گمان میں نہ ہوں گے بلیڈ سے لے کر جدید ماہ میں 6 ہتھیاروں کا استعمال ازبر ہوچکا تھا۔ اب میں چلتا پھرتا آگ کا گ ولا تھا۔ کرنل سلیم نے مجھے کندن بنا دیا تھا۔ اب میرا اصل امتحان شروع ہونے والا تھا۔ لک کی آنکھیں ملک دشمن جعفر ایرانی کو
مکمل فوکس میں رکھے ہوئے تھیں۔ وہ فاٹا پہنچ چکا تھا۔ وہاں کے ایک بڑے بدمعاش کی سرپرستی میں آکر اسے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید وہ وطن کے محافظوں کی پہنچ سے دور ہوچکا ہے۔
مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا لاہور سے فرار ہونا صرف کائنات کو قتل کرنے کی وجہ سے نہیں تھا۔ بلکہ اس کے ماں باپ سی آئی اے اور را کو معلوم ہوگیا تھا کہ ان کے اس لے پالک بیٹے کے خلاف شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ وہ نظروں میں تھا اور اس کے خلاف تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے تھے۔ اب بھی وہ یہیں رکتا تو کتے کی موت مارا جاتا یا پھر گرفتار ہوتا اور دنیا کے سامنے اپنے ماں باپ سی آئی اے اور را کے کرتوت بیان کرنے پر مجبور ہوجاتا۔ اسے اب فرار ہونا ہی تھا۔ لاہور میں کائنات اس کا آخری شکار بنی اور اب وہ فاٹا میں پہنچ چکا تھا۔ ک رنل سلیم سے گلے ملنے کے بعد میں جیپ میں بیٹھا اور جعفر ایرانی کے تعاقب میں فاٹا کی جانب نکل گیا۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ وہاں کرنل سلیم دور رہ کر میری مدد کریں گے اور مجھے رہنمائی دیں گے۔ کفیہ کوڈز اور سیٹلائٹ فون کے نمبرز بھی مجھے بتا دیے گئے تھے۔ ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا اور میںآ نے والی مہم کا سوچ رہا تھا۔ میری پنڈلی سے خنجر لگا ہوا تھا اور بغل میں جرمن ساختہ سمارٹ پسٹل لٹک رہا تھا۔ ایک جدید رائفل میری گود میں تھی میں کچھ دیر ارد گرد کے مناظر دیکھتا رہا اور پھر آنکھیں بند کر کے سوچنے لگا کہ میرا پرانا دوست گلریز خان مجھے اپنے سامنے پا کر کیا کہے گا گلریز خان بھی اس مشن میں ہمارے ساتھ تھا۔ قبائلی ہونے کی وجہ سے اسے حالات کا درست علم تھا۔ اس کا گھر ہی میرا بیس کیمپ تھا۔ گاڑی انجانی منزلوں کی سمت سفر کر رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ شاید اس شمن سے واپسی پر میری لاش ہی واپس آئے۔
ز…خ…ز
گاڑی اونچے نیچے راستوں پر تیزی سے جا رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے کنکر پہیوں کی دھر اڑ ُ دھر ا ِ رگڑ سے ا رہے تھے ۔ ہمارے پیچھے مٹی کا ایک طوفان تھا میں نے بیک مرر میں دیکھا پیچھے مٹی اور گرد و غبار کے سوا کچھ نظر نہ آرہا تھا لیکن میں جانتا تھا میری لینڈ کروزر کے پیچھے مسلح افراد سے بھری دس جیپیں بھی آرہی ہیں۔ ہم پائوندوں کے قبیلے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہی پائوندئوں کا قبیلہ جہاں گل ریز کان مجھے قید رہا کرانے آیا اور واپسی پر کود دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا۔ اب ہم پھر اسی راستے پر جا رہے تھے۔ تھکا دینے والے سفر کے بعد ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے۔
میرے اس طرح وہاں پہنچنے پر پورے قبیلے میں تھر تھل مچ گئی۔ کچھ لوگ حیران تھے کہ سردار کی قید میں آنے والا اب اس حال میں آگیا کہ وہ خود ایک طاقتور سردار بن چکا تھا کچھ وہ تھے جو میرے خلاف
وائیاں اڑ رہی تھیں جبکہ کچھ کے چہروں پر خوشی اور مسرت َ سر گرم رہے تھے اور اب ان کے چہروں پر ہ کے تاثرات تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو برے حالات میں بھی میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہے تھے۔
سردار نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا اور ماضی میں ہونے والی کوتاہی یا گستاخی پر شرمندگی کا اظہار کیا میں نے سردار کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اسے یقین دلایا کہ میں اس سے کسی بھی بات پر ناراض نہیں ہوں بلکہ اس کی سابقہ دعوت پر چابت اور دار کے درمیان ہونے والا مقابلہ دیکھنے آیا ہوں۔
سردار نے بتایا کہ دو دن ہماری میزبانی کرے گا اور تیسرے دن مقابلہ کروایا جائے گا تاکہ دیگر لوگوں کو بھی علم ہو سکے اور وہ بھی یہ مقابلہ دیکھنے آسکیں۔ دیگر لوگوں سے مراد ارد گرد کے وہ لوگ تھے جن کے پائوندوں سے اچھے تعلقات تھے۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ اگلی صبح میں اسی جگہ چلا گیا جہاں ثابت کو دائو پیچ سکھایا کرتا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشہ ہوئی کہ وہ اپنی پریکٹس کر رہا تھا۔
اس ایک رات میں یہ تصدیق ہوچکی تھی کہ میرے دوست اور محسن گلریز خان دار اور اس کے کارندوں کے حملے میں ہی مارا گیا تھا۔ شامل خان رات بھر مجھ سے اسی موضوع پر گفتگو کرتا رہا۔ اس نے جو کہانی سنائی اس کے مطابق جس دن میں یہاں سے گیا اسی دن کسی دشمن سے جھڑپ میں دا را کے تین اہم ساتھی مارے گئے تھے جبکہ لگ بھگ بارہ ساتھی زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جب دارا واپس آیا تو اس کی اور اس کے ساتھیوں کی گاڑیاں گولیوں کے نشانات سے بھری ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ ایک بڑی جنگ لڑ کر آئے ہیں۔
دارا نے قبیلے کو یہیں کہا کہ وہ شکار کے لیے نکلے تھے کہ سیکیورٹ فورسز سے ان کی جھڑپ ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کا جانی و مالی نقصان ہوا۔ ان کی کچھ گاڑیان مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھیں۔ شامل خان نے دارا کی واپسی کے وقت اور دیگر جو باتیں بتائین ان سے یہ واضح ہوگیا کہ وہ اپنے اندر کا کینہ چھپا نہ سکا تھا۔ اس لیے اس نے مجھے مارنے کے لیے ہمارے نکلتے ہی دوسرے راستے سے ہم سے آگے پہنچا اور ہم پر حملہ کردیا اس حملے میں میری زندگی بچ گئی لیکن میرا محسن اپنے وفادار ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگیا تھا۔
میں نے شامل خان سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس کا بھی یہی خیال تھا کہ دارا اب قبیلے کی رسم و رواج اور روایات کے برعکس چل رہا ہے۔ اس کے ظلم کی انتہا ہوچکی تھی۔ دوسری طرف اس کی بعض حرکات و سکنات سے یہ بھی محسوس ہوتا تھا کہ وہ اب کسی کے مفادات کے لیے بھی کام کرتا ہے اس کی دولت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ شامل خان کا کہنا تھا کہ اب دارا کا ختم ہوجانا ہی قبیلے اور لوگوں کے حق میں بہتر ہے۔
شامل خان اس قبیلے کے محافظ دستے کا سالار تھا۔ اس سے قبل اس کی یہی کوشش رہتی تھی کہ کسی طرح قبیلے کے افراد کو بچا لیا جائے اس نے اکچر دارا کی بھی بے جا سفارش کی تھی لیکن اب وہ بھی صورت حال سے کافی پریشان تھا۔ دارا کی وجہ سے پاوندو اپنے کئی دوستوں سے محروم ہوچکے تھے اور کئی نئے دشمن بنا بیٹھے تھے۔ پاوندو قبیلہ اس قت مشل حالات سے گزر رہا تھا اور تیزی سے اپنے حمایتوں سے محروم ہوتا چلا جا رہا تھا دوسری طرف قبیلے کے اندر بھی دو واضھ گروہ سامنے آرہے تھے۔ ایک طرف دارا اور اس کے کارندے تھے جبکہ دوسری طرف اس کے ظلم کا نشانہ بننے والے افراد تھے۔ یہ لوگ تعداد میں زیادہ لیکن طاقت اور حیثیت میں کم تھے۔ اب یہ صورت حال کا ذمہ دار سردار کو قرار دے رہے تھے۔
اکثریت کا خیال تھا کہ سردار اپنے سالے ہونے کی وجہ سے دارا کو اس کی حرکتوں سے نہیں روکتا اور اسے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ہم خیالی لوگوں کی محفلوں میں یہ باتیں بھی ہونے لگی تھین کہ اگر سردار قبیلے کو دارا کے طلم اور منمانیوں سے نہیں روک سکتا تو پھر اسے سرداری کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔
شامل خان کو ڈر تھا کہ اگر حالات اسی رخ پر سفر کرتے رہے تو پھر قبیلے میں سردار کے خلاف بھی بغاوت ہوسکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں خون خرابے اور قبیلے کی تباہی کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ میں نے شامل خان کو تسلی دی تھی کہ وہ بے فکر رہے اب کی بار میں جائوں گا تو دارا زندہ نہیں ہوگا۔ میں اسے اس طرح ماروں گا کہ اس کے ساتھیوں میں سے کوئی احتجاج تک نہیں کرسکے گا۔
ثابت اپنی جگہ پر موجود تھا اور پورے جوش و خروش سے دارا کے خلاف لڑائی کی تیاریاں کر رہا تھا۔ اس کے دوست بھی اس کے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ باری باری ثابت پر حملہ کرتے اور اسے گرفت میں لینے کی کوشش کرتے لیکن وہ یا تو انہیں جل دینے میں کامیاب ہو جاتا تھا یا پھر کوئی نہ کوئی دائو لگا کر زمین پر پٹخ دیتا تھا میں نے نوٹ کیا کہ چابت زیادہ تر دھوبی پٹکے کا استعمال کرتا ہے یہ پنجاب کے پہلوانوں کا مشہور دائو ہے جو میں نے ہی ثابت کو سکھایا تھا۔
مجھے دیکھ کر ثابت رک گیا۔ وہ اور اس کے دوست میری جانب آگئے۔ ان کے چہرے تمتما رہے تھے میں نے ثابت کی پیٹھ تھپکی اور اسے ایک طرف لے گیا۔ اس کے دوست سمجھ گئے کہ میں تنہائی میں بات کرنا چاہتا ہو۔ اس لیے خود بھی فاصلے پر چلے گئے میں نے ثابت کو کچھ ہدایات دیں اور دو تین مزید دائو سکھائے۔ اب یہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ چابت کی شکست میر ہی شکست تھی اور میں اس شکست کا متحمل نہیں ہتھا۔
جس دن ثابت اور دارا میں مقابلہ ہونا تھا اس دن میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھاپورا پاوندو قبیلہ پنڈال میں موجود تھا۔ میں قبیلے کے سردار خوش حال خان کے ہمراہ اس خان سے مقابلہ دیکھنے آیا کہ ہمارے ارد گرد میرے محافظوں نے حصار بنا رکھا تھا۔ ہمارے مخصوص نشستوں پر بیٹھتے ہی سردار نے روایتی انداز میں مقابلہ شروع کرنے کا اعلان کیا دارا اور ثابت میدان میں موجود تھے۔ جبکہ ان کے حمایتی اپنے اپنے ساتھی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ دارا اس وقت غیض و غضب کی علامت بنا ہوا تھا اس کے برعکس ثابت خاموشی سے پرسکون انداز میں اپنی جگہ کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر کیوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس کا اس مقابلے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ وہ بے پروائی کے عالم میں کھڑا تھا لیکن اس کی نظریں اپنے حریف پر ہی تھیں۔ اس کا یہ انداز اشتعال دلانے والا بھی تھا اور شکست خوردہ بھی۔ مجھے معلوم تھا کہ جس انداز سے وہ کھڑا تھا اس نے دارا سمیت کوئی لوگوں پر نفسیاتی اثر ڈالا تھا۔ وہ یا تو دارا کو کچھ سمجھ ہی نہیں رہا تھا یا پھر مقابلے سے قبل ہی شکست تسلیم کر چکا تھا۔
باقاعدہ لڑائی کی اجازت ملتے ہی دارا کسی پاگل بھینسے کی طرح ڈکراتا ہوا ثابت کی جانب آیا وہ اس انداز سے بھاگتا ہوا آرہا تھا کہ جیسے ایک ہی ٹکر میں ثابت کو زمین پر گرا دے گا۔ ثابت کا انداز ابھی تک پہلے جیسا ہی تھا جس پر اس کے ساتھیوں کی آنکھوں میں ایک دم تشویش کے سائے سے لہرا گئے۔ دارا جیسے ہی ٹکر رسید کرنے ثابت کے قریب پہنچا ثابت بلا کی پھرتی سے ایک دم دائیں جانب ہوگیا۔ یہ محض پائوں کی ایک مخصوص حرکت تھی وہ پائوں کے بل گھوم گیا تھا لیکن اس کے ہاتھ دارا کی جانب ہی تھے ایک طرف پہلو بچاتے ہوئے ثابت نے دارا کی گ ردن اور سر پر مخصوص جگہ ہاتھ ڈالا اور ایک جھٹکے سے دوبارہ پنجوں پر گھوم گیا۔ کڑک کی مخصوص آواز سنائی تھی اور دارا کا جسم ثابت کے ہاتھوں میں لٹک گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کی گرد کا منکا ٹوٹ چکا ہے اور دارا مر چا ہے۔
یہ دائو پاوندو قبیلے کے پاس پہلے سے نہیں تھا اس لیے وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دارا جس قدر رفتار اور طاقت سے ثابت کی جانب آیا تھا ثابت نے اسی رفتار اور طاقت کو اس کی گردن کی جانب موڑ دیا تھا۔ یہ جوڈو کا مخصوص دائو تھا جو میں نے ثابت کو سکھایا تھا اور بلا شبہ اس نے اس کا بہت خوب صورتی سے استعمال کیا تھا۔
عام طور پر ان مقابلوں میں مخالف کی دھلائی کی جاتی ہے اور طاقتور شخص اپنے حریف کی ٹانگیں بازو توڑ کر اسے کئی کئی ماہ تک بستر پر لیٹنے پر مجبور کردیتا ہے۔ شکست کھانے والا جب بستر سے اٹھنے قابل ہوتا ہے تو اس کے یہ بہت بڑی ذلالت ہوتی ہے کہ اس کی محبوبہ اب اس کے حریف کے بچے کی ماں بن چکی ہے۔ حریف کو اس طرح ذلیل کرنے کے لیے د اسے ش ید زخمی کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن ً عموما قبائلی قوانین کے مطابق اگر ان مقابلوں میں کوئی مارا جائے تو اس کے قتل کی ذمہ داری خود مرنے کے
سوا کسی پر عائد نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے ثابت پر بھی اس قتل کا کوئی الزام نہیں تھا اور نہ ہی کوئی دارا کا بدلہ لینے کا اعلان کرسکتا تھا۔
اب دارا کا بدلہ لینے والے کو بھی بزدل قرار دیا جاتا اور اسے قبیلے کے قوانین کے مطابق پیٹ سے نیچے گولی مار کر تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ اس لیے فی الوقت ثابت نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ اس لڑائی میں ایک اور فرق بھی تھا وہ یہ گ زند ی اور موت کے یہ مقابلے کافی طویل چلتے تھے ً کہ عموما اور کافی دیر بعد جب لڑ لڑ کر دونوں میں سے ایک مکمل بے ہوش ہو جاتا تب ختم ہوتے تھے لیکن ثابت نے پہلے ہی وار کے جواب میں دارا کو دوسرے جہاں پہنچا دیا تھا۔ اس کا بھی لوگوں پر بہت برا اثر ہوا۔ ان کے نزدیک ثابت انتہائی خطرناک شخص بن چکا تھا جو بظاہر تو سادہ اور بزدل نظر آتا تھا لیکن حقیقت میں اتنا خطرناک تھا کہ دارا جیسے شخص کو پہلے ہی وار میں دوسری دنیا پہنچا سکتا تھا۔ اب دارا اس سے زیادہ ثابت کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ قبیلے کے لوگ بخوبی جانتے تھے کہ چابت کو یہ طاقت اور دائو پیچ کس نے سکھائے ہیں اور اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ دارا جیسے وحشی صفت شخص کو ایک ہی جھٹکے میں دوسری دنیا پہنچانے کے قابل ہوگیا ثابت کی طرف حیرت سے اٹھنے والی نگاہیں اب تحسین آمیز انداز سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔
سردار خوشحال کان کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا تھا دارا اس کا سالا تھا اس کے باوجود کوشحال کان اپنی جگہ پر سکون انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔ ثابت نے یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ دارا سے زیادہ طاقتور ہے اور گل دانہ کا اصل حق دار ہے۔ ثابت کا لالچی چچا اپنے منصوبے میں ناکام ہوچکا تھا کیونکہ اب وہ کسی بھی طرح گل دانہ کو ثابت کی بیوی بننے سے نہیں روک سکتا تھا۔ ثابت کے چہرے سے خوشی پھوٹ رہی تھی کینکہ کچھ عرصہ قبل تک اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ دارا کو شکست دے سکتا ہے۔ وہ تو پہلے ہی ہتھیارڈال چکا تھا۔ ثابت کے دوست اب خوشی کے اظہار کے لیے ہوائی فائرنگ کر رہے تھے جبکہ دارا کے کارندوں کے چہرے لٹکے ہوئے تھے ان کا سرغنہ انتہائی بے بسی کی موت مارا گیا تھا۔ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ بازی پلٹ چکی ہے اور اب شاید ان کے ظلم و ستم اور زیادتیوں کا نشانہ بننے والے انہیں بھی نہ چھوڑتے۔
سردار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے کھڑے ہوتے ہی سبھی اس کی جانب متوجہ ہوگئے اور شہنائیوں اور ماتم کا شور تھم گیا۔ سردار خوشحال خان نے ثابت کی بہادری اور دائو پیچ میں مہارت کی دل کھول کر تعریف کی اس نے کہا کہ دارا میرا سالا تھا لیکن اب ثابت میرا بیٹا ہے۔ اس نے ثابت کو بہادری کے اس اعل ی مظاہرے کی بدولت دارا کا عہدہ اور رتبہ دینے کا بھی اعلان کردیا اور اگلے ماہ کے پہلے ہفتے ثابت اور گل دانہ کی شادی کا بھی اعلان کردیا۔ سردار کے اس اعلان کے ساتھ ہی ثابت اور اس کے دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ثابت اب ایک ڈرپوک انسان کے بجائے قبیلے کا ب اثر شخص بن چکا تھا۔ اس کے
ساتھ ساتھ اس کی آمدنی میں بھی اضافہ ہونے والا تھا میرا خیال تھا کہ ان اعلانات کے بعد ثابت کے سسرال والے اسے نہ صرف دل سے قبول کرلیں گے اور اس سے تعلق ہونے پر خوشی کا اطہار کریں گے بلکہ مستقبل میں گل دانہ اور ثابت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے والا تھا۔ سردار نے گفتگو کرتے ہوئے مجھے بھی اس دلچسپ مگر حیران کن لڑائی کے بارے میں تبصرہ کرنے کی دعوت دے دی۔ مین نے اپنی گفتگو کے دوران متعدد بار ذو معانی گفتگوکی جسے باقی لوگوں نے تو شاید روز مرہ زندگی کا حصہ سمجھا لیکن سمجھدار لوگ اس مین شامل اشاروں کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ میں نے قبیلے سے خطاب کے دوران کہا۔
دارا کو اس کے گناہوں کی سزا ملی ہے۔ وہ جو فصل بو رہا تھا وہی فصل آج کٹ گئی ہے۔ دارا کے ایک جرم ’’ میرے آخری جملے نے دارا کے ساتھیوں کو چونکنے پر مجبور کردیا اس پر واضھ ہوچکا تھا کہ ‘‘ کی سزا تھی۔ مجھ پر گلریز خان کے قاتلوں کا راز کھل چکا ہے اور میرے تربیت یافتہ ثابت نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت دارا کو اگلے جہاں پہنچا دیا تھا۔ میرے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ سردار خوشحال خان بھی چونک اٹھا۔ میں جانتا تھا کہ گل ریز خان کو قتل کرنے والے دارا کا انتقام بھی مجھ سے یا ثابت سے لینے کی کوشش کریں گے۔ اسل یے میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید کہا۔
مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ لوگ اپنے دشمنوں کو معاف کردیتے ہو یا سزا دے کر رہتے ہو لیکن مجھے اپنا ’’ پتا ہے ہم جٹ اگر معاف کرنے پر آجائیں تو اپنی ہی لاش پر کھڑے شخص کو بھی معاف کردیں اور اگر انتقام لینے پر اتر آئیں تو پھر اپنی جانب زیادہ دیر تکنے والے کی آنکھیں نکال دیتے ہیں اور میرے بارے میں اگر کسی کو غلط فہمی ہو تو یقین کرے کہ میں اپنے اوپر حملہ کرنے والے کو دوسرے وار کی مہلت تک دینے کا قائل نہیں، ابھی میرے کئی دشمن زندہ ہیںلیکن ان میں سے ہر کسی کے لیے سزا یا جزا تجویز ہوچکی ہے۔ کسے کب کس طرح دوسری دنیا پہنچانا ہے اس کا فیصلہ میں خود کرتا ہوں۔
میری تقدیر میں بہت سے پیغامات اور اشارے تھے یہی وجہ تھی کہ دارا کے ساتھیوں کے چہروں پر واضح پر سراسمیگی کی سی کیفیت نظر آنے لگی۔ دارا کی ثابت جیسے شخص کے ہاتھوں ایک ہی وار میں ہلاکت نے پورے قبیلے کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا تھا۔ میں اٹھا توسردار بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑا ہاو۔ ہم سردار کے خیمے میں آگئے۔ باہر ثابت کے دوست اس کی فتح کا جشن منا رہے تھے۔
میں نے واپسی کا قصد کیا تو سردار نے بتایا کہ اس نے ہمارے عشائیہ کا خاص اہتمام کروانے کا کہا ہوا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ رات ثابت کی بہادری اور کامیابی کا جو روایتی جشن ہونا تھا میں اس میں شرکت کروں میں نے اس کی یہ بات مان لی۔ میں اپنے دوست ثابت سے بھی بھرپور ملاقات چاہتا تھا اسی طرح میں یہ بھی چاہتا تھا کہ جشن میں شرکت کی وجہ سے دارا کے ساتھیوں کو یقین ہوجائے کہ ثابت کی پشت پر میں کھڑا ہوں تاکہ وہ اس کے ساتھ کسی قسم کی شرارت سے باز رہیں۔
رات قبیلے میں دن کا سماں تھا روایتی لوک رقص پیش کیا جا رہا تھا اور سردار کی جانب سے سبھی کے لیے بھنے ہوئے دنبوں کا انتظام کیا گیا تھا وقفے وقفے سے ہوائی فائرنگ بھی ہو رہی تھی۔ مجھے حیرت اس بات پر ہو رہی تھی کہ دارا سردار کا سالا تھا لیکن اس کی موت کے بعد نہ تو سردار زیادہ دیر سوگ کی کیفیت میں رہا اور نہ ہی اس نے ثابت کے خلاف کوئی انتقامی قدم اٹھایا۔ اس کے برعکس وہ ثابت کو اعزازات سے نواز رہا تھا۔ ثابت کو قبیلے میں اہم مقام دے دیا گیا اور سردار نے اس کی بہادری کو بھی بہت سراہا۔
آخر میں سردار سے پوچھ ہی لیا کہ دارا کی موت پر دکھ نہیں ہوا اس کی تو دارا سے قریبی رشتہ داری بھی تھی۔ سردار میرے سوال پر چند لمحے خاموش رہا اور پھر کہنے لگا۔
مجھے دارا کی موت کا دکھ ہے میری بیوی نے بھی کل سے رو رو کر برا حال کیا ہوا ہے اس لیے میں نے ’’ خیمے تک محدود کردیا ہے۔ لیکن مجھے ثابت کی بہادری پر بھی فخر ہے یہ ایک ڈرپوک انسان تھا آپ نے اسے قبیلے کا طاقتور ترین انسان بنا دیا ہے ہمارے قبیلے کا کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ دارا جیسے پہلوان کے سامنے دو منٹ بھی کھڑا رہ سکے لیکن ثابت نے اسے چند سیکنڈز میں جان سے ہی مار دیا۔ مجھے ثابت کے روپ میں دارا سے کہیں زیادہ طاقتور شخص مل گیا ہے۔ اس سے ہمارے قبیلے کی طاقت میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے ہاں رشتے بعد میں ہوتے ہیں پہلے طاقت کا قانون چلتا ہے۔ کل ثابت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے مقابلے میں ہلچل مچا سکتا ہے اس کے باوجود وہ میرے ‘‘ سامنے عاجزی سے کھڑا ہوتا ہے۔
سردار خوشحال کان دم لینے کو رکا اور پھر کہنے لگا۔
ثابت جیسا بہادر شخص اس قبیلے کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے دارا اگر ثابت کے ہاتھوں نہ ’’ مارا جاتا تو پھر کسی اور کے ہاتھوں بھی تو مارا جاسکتا تھا کچھ عرصہ قبل اس کی سیکیورٹی فورسز سے شدید جھڑپ ہوئی۔ اس لڑائی میں قبیلے کے لوگ بھی مارے گئے ان مرنے والوں میں دارا بھی شامل ‘‘ ہوتا تو میں کیا کرلیتا؟
سردار کی بات سن کر میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا اور کہا۔
خوشحال خان یہ بات ذہن سے نکال دو کہ دارا نے سیکیورٹی فورسسز کے ساتھ جھڑپ میں اس قبیلے ’’ ‘‘کے لوگ مروائے تھے۔
سردار خوشحال خان میری بات پر چونک اٹھا۔ کہنے لگا۔
تم نے آج اپنی تقریر میں بھی کچھ ایسی باتیں کی تھیں جن پر میرے ذہن میں سوال اٹھے تھے۔ کیا کوئی ’’ ‘‘ ایسی بات ہے جس کا تلق دارا یا ہمارے قبیلے سے ہے لیکن لا علم ہوں؟
میں نے اثبات مین سر ہلایا اور کہا۔
ہاں سردار مجھے افسوس ہے کہ دارا تم سے بھی جھوٹ بولتا رہا ہے اس پر کسی سیکیورٹی فورس نے ’’ حملہ نہیں کیا تھا بلکہ اس نے تمہارے مہمانوں پر حملہ کیا تھا۔ اس دن تمہاری میزبانی سے لطف اندوز میں میرا بھائی دارا کی گولیاں کا نشانہ بنا تھا۔ اس نے ہمیں گھیرے میں لے لیا اور فائرنگ ‘‘جرم’’ہونے کے شروع کردی اس جھڑپ میں گلریز خان اپنے وفاداروں سمیت جاں بحق ہوگیا اور آج دارا اپنے انجام کو ‘‘ پہنچ گیا۔
میری باتیں خوشحال خان کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھیں۔ وہ اس قبیلے کا سردار تھا لیکن اس کے علم میں لائے بنا اسی کے مہمانوں کو واپسی پر قتل کیا گیا تھا۔ قبائلی روایات کے مطابق یہ بہت بڑی بے غیرتی اور بزدلی کی علامت تھی میں نے دیگر الفاظ میں سردار کو اس کے خیمے میں بیٹھ کر بے غیرت اور بزدل کہا تھا لیکن جو سانحہ ہوچکا تھا اس کے بعد وہ مجھے وضاحت دینے کا احتجاج کرنے کے قابل بھی نہ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم غصے اور بے بسی کی کیفیت میں لرزنے لگا۔
ایک طرف خوشحال خان کو اپنی بے عزتی کا غصہ تھا تو دوسری طرف یہ خوف بھی تھا کہ شاید اب میں اس قبیلے سے گلریز خان کی موت کا بدلہ لینے آیا ہوں۔ میرے ساتھ ضرورت سے زیادہ محافظ بھی تھے ً جن کی وجہ سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا تھا۔ سردار نے میرے سامنے حقی قتا ہاتھ جوڑ دیے اور کہنے لگا۔
مجھ سے جو بھی قسم چاہو اٹھوالو مجھے اس بات کا علم نہیں تھا اگر مجھے پتا ہوتا تو اول تو دوا ایسی ’’ گھٹیا حرکت کر ہی نہ پاتا اور اگر کرتا بھی تو تو اس کے بعد اس کے بھیانک انجام کو دیکھ کر سب ہی ‘‘ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن میں اب مرنے کے بعد بھی دارا کو سزا دے کر رہوں گا۔
سردار نے میرا ہاتھ پکڑا اور پنڈال میں آگیا۔ جشن اپنے عروج پر تھا۔ سردار کے اشارے پر اس کے محافظوں نے سب کو خاموش کروا دیا تو سردار نے سب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
میں ایک بات آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دارا قبیلے کا غدار تھا۔ اس نے میرے مہمانوں پر حملہ ’’ کیا تھا اور ان میں سے کچھ کو قتل کبھی کیا تھا مجھے یہ بات آج ہی معلوم ہوئی ہے ورنہ میں خود دارا کومہمانموں پر حملے کی ایسی سزا دیتا کہ اس کی اگلی نسلیں بھی یاد رکھتیں۔ بہرحال میں روایت کے مطابق دارا کے اس جرم پر سردار کمال جٹ سے پورے قبیلے کی جانب سے معافی مانگتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ دارا اس قبیلے کا غدار تھا اور اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو کسی غدار کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ اب نہ تو کوئی اس کی آخری رسومات میں شرکت کرے گا اور نہ ہی اس کا
ہم سے کوئی تعلق سمجھا جائے گا۔ دارا کی لاش پہاڑی سے نیچے پھینک دی جائے گی۔ تاکہ کتے اور ‘‘ جنگلی جانور کھا سکیں۔
سردار خوشحال خان کے اس اعلان کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں کو سانپ سونگھ گیا لیکن کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ چوں چراں کرسکتا۔ اس فیصلے کے بعد میری نظر مین سردار کی عزت اور بڑھ گئی۔ وہ بعض کمزورون کی وجہ سے کچھ طاقتور قبیلوں سے خوف کھاتا تھا لیکن بہرحال یہ بات واضھ ہوگئی تھی کہ اصول اور عزت کے لیے وہ اپنے قریبی رشتوں اور ساتھیوں کو کڑی سزا دینے سے بھی نہیں ہچکچاتا تھا۔
ثابت کی فتح کا جشن رات بھر جاری رہا۔ اس رت جگے کے بعد صبح ہم سوئے ہی تھے کہ گرمیوں کی تڑتڑاہٹ سے میری آنکھ کھل گئی۔ خیمے کے باہر بے تحاشہ فائرنگ ہو رہی تھی پہلے گولیاں یک طرفہ طور پر چلائی جا رہی تھی لیکن اب دو طرفہ فائرنگ شروع ہوچکی تھی۔ میں نے ایک طرف پڑی کلاشنکوف اٹھائی اور باہر آگیا۔ میں جس خیمے میں تھا اس کے بالکل سامن ایک تناور درخت موجود تھا اس لیے میں باہر نکلا اور اس درخت کی آڑ میں کھڑا ہو کر صورتحال کا جائزہ لینے لگا۔ ً فورا
کسی نے سردار خوشحال خانا ور اس کے قبیلے پر حملہ کردیا تھا۔ قبیلے کا محافظ دستہ حملہ آورون کو روکے ہوئے تھا جبکہ میرے محافظوں کی جانب سے فائر کیے جا رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھی قبیلے کی حفاظت کے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ وہ اپنی وفادری نبھا رہے تھے۔ مختلف چیزوں کی اوٹ لے کر نامعلوم حملہ آوروں کو روکنے کے ساتھ ساتھ وہ میرے قریب بھی آتے جا رہے تھے۔ ایک طرح سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ان کا اصل مقصد مجھے اپنے گھیرے میں لے کر یہاں سے نکلنا ہے۔ پاوندو قبیلہ اور اس کے لوگ ان کی طرف سے بھاڑ میں جاتے۔ انہیں اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ یہ ان کی مجھ سے وفاداری تھی ان کا کام بطور سردار میری حفاظت کرنا تھا نہ کہ پاوندو قبیلے کے دشمنوں سے لڑنا۔ میں البتہ یہ نہیں سوچ رہا تھا۔ پاوندوں کے اس قبیلے میں میرا اچھا وقت گزرا تھا اور میرے لیے ممکن نہ تھا کہ کم از کم میری موجودگی میں یہاں حملہ ہوتا اور میں خاموشی سے نکل جاتا۔ میں نے ساار خان کو اشارہ کیا اور خود بھی حملہ آوروں کی جانب فائرنگ شروع کردی۔ اسی دوران مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا حملہ آوروں میں سے کوئی چیخ چیک کر میرا نام لے رہا تھا۔ یہ اعلان بھی کر رہا تھا کہ اگر قبیلہ کمالے جٹ کو اس کے حوالے کردے تو وہ فائرنگ بند کردے گا اور قبیلے کو کچھ نہیں کہے گا۔ جواب میں خوشحال خان کی آوز بلند ہوئی۔ وہ کہ رہا تھا کہ اپنے مہمان کی حفاظت کے لیے پاوندو آخری دم تک لڑیں گے۔ خوشحال خان کے اس اعلان کے ساتھ ہی فائرنگ میں شدت آگئی۔
مجھے حملہ آوروں میں سے اس شخص کی تلاش تھی جس نے میرا مطالبہ کیا تھا یہ واضح ہوچکا تھا کہ پاوندو پر یہ مصیبت کملاے جٹ کی وجہ سے آئی تھی اس لیے مین اپنی تربیت کے مطابق سب سے پہلے
دشمن کا سالار مار دینا چاہتا تھا لیڈر کی موت سے آدھی سے زیادہ جنگ ہار جانے کا باعچ بنتی ہے۔ میں ھی دشمن کا لیڈر مارنے کے چکر میں تھا اس کے مرتے ہی حملہ آورون کے حوصلے ٹوٹ جانے تھے لیکن اگر میں باقی لوگوں کو نشانہ بناتا رہاتا شاید دو چار بندے مار دیتا لیکن پھر بھی جب تک لیدر میدان نہ چھوڑتا تب تک اس کے ساتھی بھی لڑے رہتے۔ یہ نکتہ مجھے کرنل سلیم کے زیر سایہ تربیتی کیمپ میں ہی سکھایا گیا تھا۔
میری نظر حملہ آوروں کے سرغنہ پر پڑی تو جیسے میرا خون ابل پڑا۔ وہ جعفر ایرانی تھا۔ وہی جعفر ایرانی جس کا تعاقب کرتے کرتے میں لاہور سے فاتا پہنچا تھا اور اب پاک افغان سرحدی علاقے میں افغانستان کی حدود میں کھڑا تھا۔ جعفر ایرانی میری کائنات کا قاتل تھا لیکن اس کا اس سے بھی سنگین جرم یہ تھا کہ وہ پاکستان کا دشمن تھا۔ پاکستان کے خلاف سر گرم ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان میں ہینڈلر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
میں جعفر ایرانی کے حوالے سے کچھ الجھا ہوا تھا اس سے پہلے میں جعفر ایرانی کی شکل کے ایک شخص کو مار چکا تھا لیکن آخری لمحوں میں مجھے معلوم ہوا کہ میرے ہاتھوں مرنے والا جعفر ایرانی کا ہمشکل تو تھا لیکن وہ جعفر ایرانی نہیں تھا مجھے ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہو سکا تاھ کہ جعفر ایرانی کا وہ ہمشکل کون تھا۔
یہ بات تو واضح تھی کہ جعفر ایرانی یہاں کسی پکی خبر کے نتیجے میں ہی آیا تھا اور اس نے آکر تصدیق کے بجائے براہ راست قبیلے پر حملہ کر کے میرا مطالبہ شروع کردیا تھا۔ یہ پکی خبر اسے دارا کے کسی ہمدرد نے ہی پہنچائی تھی۔ اس کے علاوہ یہاں میرا کوئی دشمن نہیں تھا اور نہ ہی کسی کو جعفر ایرانی اور میری دشمنی کا علم تھا۔
یہ بات واضح ہوتی جا رہی تھی کہ دارا کی مشکوک سرگرمیاں کس قسم کی تھیں۔ وہ جعفر ایرانی سے بھی رابطوں میں تھا یا پھر اس کے مفادات کے لیے کام کر رہا تھا یہ پاک افغان سرحدی علاقہ پاکستان مخالف طاقتوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اس لیے ان کی کوشش رہتی ہے کہ کسی طرح یاہں اپنا نیٹ ورک بنا سکیں جو انہیں پاکستان میں تخریب کاری کے لیے مدد فراہم کرسکے۔ افغانستان میں بھارت کے درجنوں کونسل خانہ دراصل را کے بیس کیمپ کا کام کر رہے تھے۔ لیکن انہیں پاک افغان سرحد پر بھی منی کیمپوں کی ضرورت رہتی تھی۔ یہاں جعفر ایرانی اور دارا کے تعلقات بہت سی باتوں سے پردہ اٹھا رہے تھے۔
جعفر ایرانی نے ایک بار پھر چلاتے ہوئے کہا۔
کمالے جٹ اپنے بل سے باہر نکل آ، آج تجھے نہ تو یہ قبیلہ بچا سکے گا اور نہ ہی کوئی اور تیری مدد کے ’’ ‘‘ لیے آئے گا۔ تو نے میرا بھائی مارا ہے آج اس کا حساب دینا ہی پڑے گا۔
جعفر ایرانی کی بڑھکوں سے یہ واضح ہوگیا کہ میرے ہاتھوں مارا جانے والا اس کا بھائی تھا۔ اسی لے اس کی شکل جعفر ایرانی سے ملتی تھی۔ میں نے جعفر ایرانی کی طرف کلاشنکوف کا رخ کای اور ٹرائیگر دبا دیا۔ لمحوں میں بڑھکیں لگاتا جعفر ایرانی کٹے ہوئے شہتیر کی طرح زمین پر آگرا۔ جعفر ایرانی کو میں نے جس طرح گولیوں سے چھلنی کردیا تھا اس کے بعد اس کا زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔
مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی تھی۔ میںجذبات میں ہوش کھو بیٹھا تھا۔ وطن کا دشمن میرے سامنے تھا اور مجھے زندگی میں پہلی بار وطن کی خاطر فرض نبھانا تھا اس لیے تربیت کے دوران لی گئی ہدایات نظر انداز کر بیٹھا۔ جنگ میں چھوٹی چھوٹی باتیں، بہت بڑے نقصان یا فائدے کا باعث بن جاتی ہیں۔ میں نے جعفر ایرانی کو تو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا لیکن یہ بھول بیٹھا کہ اس کے ساتھی بھی موجود ہیں ل مجھے گو یاں چلاتے ہی اپنی پوزیشن تبدیل کرلینی چاہیے یا مکمل طور پر آ ً ۔ اصولا ڑ میں ؑ ہوجانا چاہیے تھا گولیاں چلا کر میں اپنی موجودگی کی نشاندہی کر چکا تھا۔ جس کا خمیازہ یہ نکلا کہ جعفر ایرانی کے زمین پر گرتے وقت ایک جانب سے آنے والی درجنوں گولیوں میں سے کچھ گرم سلاخوں کی طرح میرے جسم میں اتر گئیں۔ میںلہراتا ہوا درخت کی جڑ میں گرا۔ میرے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ تیزی سے بہنے والے خون نے جیسے جسم سے ساری جان نچوڑ لی تھی۔ آہستہ آہستہ بند ہوتی آنکھوں اور ڈوبتے ذہن کے باوجود مجھے یہ احسا ہو رہا تھا کہ حملہ آور فرار ہو رہے ہیں۔ گولیون کی آواز آہستہ آہستہ دور ہوتی جا رہی تھی اور ان کی شدت میں بھی کمی آرہی تھی۔ آخری احساس یہی تھا کہ سالار خان میرے پاس آچکا تھا اور مجھے اٹھا کر کہیں لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
…٭٭٭…
میری آنکھ کھلی تو میں کسی اسپتال میں تھا۔ یہ شاید وہی اسپتال تھا جہاں پچھلی بار میں گلریز خان کو لایا تھا اور وہ مر گیا تھا۔ اب میری باری تھی لیکن میں ہوش میں آگیا تھا۔ میرے پاس ہی سالار خان اور دیگر ساتھی کھڑے تھے۔ ایک طرف کرنل سلیم بھی موجود تھے۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو کرنل سلیم نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے سے منع کردیا۔
مجھے تین دن بعد ہوش آیا تھا کرنل سلیم کے مطابق میں درمیان میں بھی ہوش میں آیا تھا لیکن سچ کہوں تو مجھے یاد نہیں۔ آپریشن کر کے جسم سے گولیاں نکال لی جا چکی تھیں جبکہ خون کی بوتل ابھی بھی لگی ہوئی تھی۔ اب میری حالت خطرے سے باہر تھے۔ صرف خون بہنے کی وجہ سے قدرے نقاہٹ طاری تھی۔
کرنل سلیم میرے سرہانے بیٹھ گئے میرے اصرار پر دھیرے دھیرے مجھے صورتحال سے آگاہ کرنے لگے۔ وہ بتا رہے تھے کہ جعفر ایارنی اور اس کا بھائی مارے جا چکے ہیں۔ ان وطن دشمنوں کو ختم کرنے کا اعزاز
مجھے حاصل ہوا ہے اس کے علاوہ جعفر ایرانی کی موت سے پاکستان مخالف طاقتوں کو شدید دھچکا پہنچا تھا۔ ان کا علاقائی نیٹ ورک تباہ ہوگیا تھا اور ہمارے خفیہ ادارے نے بروقت آپریشن کرتے ہوئے اس نیٹ ورک سے جڑے متعدد ایجنٹوں اور غداروں کو گرفتار کرلیا تھا۔
پاکستان کے دشمن اپنا پورا سیٹ اپ برباد ہونے کے بعد اپنے ہی زخم چاٹ رہے تھے۔ کرنل سلیم نے ہی باتیا کہ بیگھے مل اور اس کے دیگر ساتھی مشہور بدمعاش راشد ملتانی کے ہاتھوں جہنم واصل ہوگئے ہیں۔ راشد ملتانی نے جتاں والا اور اس کے ارد گرد اپنا نیٹ ورک بنا لیا تھا۔ یہ نیٹ ورک میرے ہی نام سے چل رہا تھا اور بطاہر یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس علاقے کے سارے دو نمبر دھندوں میں راشد ملتانی کے نائب کی حیثیت سے میں یہی کام کر رہا ہوں۔ راشد ملتانی کے آنے سے بیگھے مل کے دھندے چوپٹ ہوگئے جس کی وجہ سے انہیں مجھ پر شدید غصہ تھا۔ انہیں شدید مالی و جانی نقصان ہو رہا تھا اور ہر نقصان کے پیچھے انہیں کمالا جٹ کا نام ہی سننے کو ملتا تھا۔ وہ اپنے نقصان پر پاگل ہوچکے تھے۔ دوسرا انہیں اس بات پر بھی غصہ تھا کہ میں متعدد بار ان کے گھیرے سے نکل جانے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ ان کے ہاتھوں نہ مرنے والا کمالا جٹ اب ان کے منہ کو آگیا تھا اور ان کے مقابل پورا گینگ بنا کر اپنے دھندے چلا رہا تھا۔ یہ بات بھی انہیں ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
بیگھے مل نے ب راہ رست ٹانگ اڑانی شروع کردی تھی۔ اپنے اندر چھپے حسد اور کینے کی وجہ سے اس نے بعض معاملات میں فراد اور دو نمبری شروع کردی۔ وہ شاید بھول بیٹھا تھا کہ دو نمبری کے دھندوں کا اصول ہے کہ دھندے میں دو نمبری کی جاتی یہ دھنرے زبان یا ہتھیارے کے بل پر ہی چلتے ہی۔ کیونکہ ان میں اسٹام پیپرز ہیں لکھوائے جاتے۔ انہی جھگڑوں میں حد سے زیادہ بڑھنے کی وجہ سے
ایک روز وہ راشد ملتانی گینگ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔
مجھے بیگھے مل اور اس کے حواریوں کے اس طرح مرنے کا فسوس تھا۔ میری خواہش تھی کہ وہ میریی ہاتھوں ہی قتل ہو لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔ میرے اہم دشمن مارے جا چکے تھے۔ یہ باتیں کرنل سلیم کی جگہ کوئی اور بتاتا تو شاید مجھے اتنی جلدی اعتبار نہ آتا لیکن میں جانتا تھا کہ کرنل سلیم جھوٹ نہیں بولتے۔
میں نے آنکھین بند کرلیں اب مجھے جلد از جلد تندرست ہو کر واپس جانا تھا۔ میں نے مہک بھابی سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں اور گلریز خان کے بیٹے کو یہاں سے لے جائوں گا۔ گل ریز خان کے بیٹے نے ان جھگڑوں میں الجھنے کے بجائے وطن کا محافظ بننا تھا۔ مہک بھابی کی بھی یہی خواہش تھی اور میں بھی یہی چاہتا تھا میرا ارادہ تھا کہ انہیں جٹا والا لے جائوں گا۔ وہاں ابھی بھی میرے کچھ ایسے اپنے موجود تھے جو انہیں اپنے گھر کے ایک فرد کی طرح ساتھ رکھ سکتے تے۔
جہاں تک میری بات تھی تو اب کمالا جٹ اپنی نظروں میں معتبر ہو چکا تھا۔ میرا یہ پہلا مشن کرنل سلیم کی امیدوں سے بھی زیادہ کامیابی رہا تھا اس لیے انہوں نے مجھے چپکے سے یہ خوشخبری سنا دی تھی کہ اب میں وطن کے دشمنوں سے مستقل لڑتا رہوں گا کم از کم اس وقت تک مجھے وطن کے لیے لڑنا تھا جب تک انہی گمنام راہوں مین مارا نہ جائوں۔ شاید میری لاش بھی واپس نہ آئے یا پھر مرنے کے بعد مجھے شہید کے بجائے چور، ڈاکو یا اشتہاری مجرم کے طور پر ہی شناخت کیا جائے کہ اس راہ کے مسافر کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ نہ قوم شہید مانتی ہے اور نہ کوئی ادیب
ہمین اپنا لکھتا ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں وطن کے لیے لڑنے والے خفیہ ہیروں کے طور پر یاد رکھتی ہے۔
باقی میں سب کے لیے کمالا جٹ ہی ہوں وہی کمالا جو درجنوں مقدمات میں اشتہاری مجرم کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ جاتے جاتے کرنل سلیم مجھے کہہ گئے کہ جعفر ایرانی کا رائٹ ہینڈ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اسے نیا نیٹ ورک بنانے میں کامیاب ہونے سے روکنے کے لیے ایک بار پھر کمالے جٹ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس لیے جلد از جلد تندرست ہوجائو۔
میں نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں کیونکہ کرنل سلیم نہیں جانتے تھے کہ اب کمالا جٹ اگلے ہی دن اپنے پائوں پر چل رہا ہوگا۔ وطن کے غداروں کا نام سن کر میرے پائوں مین لگنے والی آگ مجھے اسپتال کے بیڈ سے اٹھنے پر مجبور کر رہی تھی۔
وطن کے دفاع کے لیے ایک نیا مشن میرا منتظر تھا۔

Read More:  In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 15

(ختم شد)
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: