Horror Novels Nazia Shazia Urdu Novels

Agli Bari Tumhari Hai Novel by Nazia Shazia – Episode 1

Agli Bari Tumhari Hai
Written by Peerzada M Mohin
اگلی باری تمہاری ہے از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ بات بہت پرانی ہے تقریباً 1632 کی ۔یہ واقعہ برصغیر کے ایک قصبہ زاویر میں رونما ہوا تھا ،مغلیہ سلطنت کا ان دنوں برصغیر میں چرچا تھا لیکن کسی کو کیا پتہ تھا کے زاویر میں ایسا کوئی واقعہ پیش آۓ گا جس سے سب کے ہوش اڑ جاۓ گے ،اس کا خوف زاویر میں اسے پھیلا ہوا تھا کے جیسے وہاں کوئی وبا پھیل گئی ہو ،اس قصبہ میں سب لوگ اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ گۓ تھے وہ پہلےہی زاویر کے تین گھروں کو اپنا شکار بنا چکی تھی ،ہر کسی کو یہی دھڑکا لگا رہتا کہ آج تو باری ہماری ہے ،خوف کے مارے زاویر میں رات کو کوئی سوتا بھی نہیں تھا ،خوف کی وجه سے زاویر میں یہ رواج بن چکا تھا کے ہر کوئی دن کو سوتا اور رات کو جاگتا تھا کیوں کہ وہ رات کو ہی حملہ کرتی تھی لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ رات کو جاگنے سے ان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا تھا کیوں کہ اس کو کوئی بھی روک نا سکا تھا ،ڈر کے مارے کوئی بھی اس قصبہ کے قریب بھی جانا پسند نہیں کرتا تھا ،ایک فیملی نے اس قصبہ سے نکلنے کی کوشش بھی کی تھی اور وہیں ان کا خون ہو گیا تھا ،اس لئے لوگوں کے پاس گھروں میں نظر بند ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نا تھا
—————————–
(سلمیٰ کا گھر)
علی اپنی امی یعنی سلمیٰ سے کہہ رہا تھا ،امی کہیں آج اس کا نشانہ ہم نا ہوں،عائشہ ٹوکتی ہے ،علی یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو اللّه نا کرے اس کا نشانہ ہم بنیں ،علی بولتا ہے ،باجی آپ کو پتا ہے کے جب اس نے افضل کے گھر پر حملہ کیا تھا تو وہاں سے چیخوں کی بہت آوازیں آرہی تھیں خون کے چھینٹے گلی میں بھی آکر گرے تھے اور جب لوگوں نے صبح وہاں جا کر دیکھا تو افضل اس کی ماں اور نانی کا پیٹ چاک تھا لیکن خون کا ایک قطرہ ان میں موجود نا تھا ان کے گوشت کے لوتھڑے گھر میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے آنتیں ان کی پیٹ سے باہر نکل رہی تھیں ،ان بیچاروں کی آنکھوں میں کس قدر خوف اور تکلیف تھی ،سلمیٰ علی سے ،بیٹا چپ کرو ایسی باتیں نہیں کرتے ،امی میں باہر کھیلنے جاؤں ،نہیں بیٹا ایسی کوشش نا کرنا ،تمہاری عمر کی ایک لڑکی کل ہی غائب ہوگئی تھی جب وہ کسی سے پوچھے بغیر باہر چلے گئی تھی اور آج ہی اس کی لاش ملی ہے اور اگر تمہارے ابو کو پتہ چل گیا کے تم باہر گۓ تھے تو وہ مجھ پر بہت غصّہ ہونگے ،علی اپنی امی سے پوچھتا ہے ،امی لیکن جب شاہد کے گھر والوں کو اس نے مارا تھا تو تب ابو بھی تو اگلے دن شاہد کے گھر گۓ تھے ؟؟ بیٹا ایک تو وہ بڑے ہیں دوسرا وہ اکیلے نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر گۓ تھے ،چلو اب ان باتوں کو چھوڑو اور عائشہ باجی کے ساتھ صفائی کرانے میں مدد کرو ،یا اللّه ہمیں اس عذاب سے نکال ،سلمیٰ دعا کرتی ہے _
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لائبہ کا گھر )
لائبہ جاہ نماز پر بیٹھی اللّه سے اپنے شوہر،اپنے بچے اور اپنی حفاظت کی دعا کر رہی تھی ،لائبہ کے ساتھ تھوڑا سا آگے اس کا شوہر عامر نماز پڑھ رہا تھا ،عامر اور لائبہ اس گھر میں اکیلے رہتے تھے ،وہ دونوں دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے ،عامر کی ماں کا مہینہ پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا،ان کی شادی کو پانچ مہینے ہو چکے تھے ،لائبہ امید سے تھی،ابھی وہ دونوں نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے کے سامنے والے گھر سے چیخ و پکار کی آواز آنا شروع ہو گئی ،اور ایسی ایسی دلخراش چیخیں کے لائبہ تھر تھر کانپنے لگی ،لائبہ چلانے لگی ،عامر عامر آگئی وہ ،آگئی وہ ،جلدی سے دروازہ بند کردو جلدی کرو ،عامر فورا اٹھا اور اس نے دروازے کی کنڈی لگا دی ،لائبہ عامر کے گلے لگ کر رونے لگی ،عامر کب تک ہم یہ سہیں گے یہ ایک ایک کرکے سب کو مار دے گی ،عامر خود بہت ڈرا ہوا تھا ،وہ لائبہ کو حوصلہ دینے لگا ،لیکن اس کو خود لگ رہا تھا کے شاید کل باری ان کی ہو ،اسے اپنی بیوی اور بچے کی فکر ستاۓ جا رہی تھی ،کیوں کے اس کی بیوی اور ہونے والا بچہ ہی اس کی کل کائنات تھی ،رات کو پانچ بجے تک سامنے والوں کے گھر سے دلخراش چیخوں کی آواز آتی رہی اور ساڑھے پانچ چیخوں کی آواز آنا بند ہو گئی،زاویر کا ایک اور گھر موت کے گھاٹ اتر چکا تھا

اگلی صبح جب عامر اور کچھ محلے والے مل کر سامنے والوں کے گھر میں گئے ،دروازے کے نیچے سے خون نکل کر پوری گلی میں پھیلا ہوا تھا ،عامر نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گۓ ،عامر کے ساتھ جو دوسرے لوگ کھڑے تھے ان سب کو بھی چپ لگ گئی تھی،سب توبہ توبہ کر رہے تھے ،عامر نے دیکھا کے دانیال جو اس کا ہم عمر تھا اس کا کٹا ہوا گلا فرش کے ایک طرف پڑا تھا جبکہ دھڑ دوسری طرف ،دانیال کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی ،اس کے بوڑھے بیچارے ماں باپ دونوں رسی کے ساتھ صحن میں لٹک رہے تھے ان کی آنکھیں باہر کی طرف ابل رہی تھیں،ان کی کٹی ہوئی ٹانگیں فرش پر پڑی ہوئی تھیں ، ان تینوں کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا لیکن وہ اس بات پر حیران تھے کہ گھر کے پورے صحن اور جو گلی میں خون پھیلا ہوا تھا وہ کہاں سے آیا،اور صرف اسی گھر میں ایسا نہیں ہوا تھا اس نے زاویر کے جس جس خاندان کو مارا تھا ،ان میں سے کسی کے جسم میں خون کا ایک بھی قطرہ نہیں ہوتا تھا لیکن گھر کے پورے صحن اور گھر کے باہر گلی میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوتی تھیں ،گھر کے پاس ہی خالی پلاٹ میں گڑھا کھودا گیا اور دانیال کے گھر والوں کو ڈنڈے کی مدد سے دھکیل کر اس گڑھے میں پھینک دیا گیا ،کیوں کے اگر کوئی مرنے والے کو ہاتھ یا پاؤں لگا دیتا تو اگلی باری اس کی ہوتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ریشم کا گھر )
اری ریشم کچھ خدا کا خوف کر پورے قصبے میں اس کا خوف پھیلا ہوا سب اپنی حفاظت کی دعائیں کر رہے ہیں اور تو یہاں بناؤ سنگھار کر رہی ہے نا تو نے کسی کے گھر جانا ہے پھر کیوں گھر میں بن ٹھن کر رہتی ہے تو شادی شدہ بھی نہیں ہے اور تجھ جیسی لڑکیوں کو کوئی اچھا نہیں سمجھتا ،ریشم کی نانی ریشم پر برس رہی تھیں،کچھ اپنی بہنوں سے ہی سیکھ لے دیکھ وہ دن رات اللّه سے اپنی حفاظت کی التجا کرتی رہتی ہیں کچھ دعا تو بھی اللّه سے کر لے ،رہنے دو نانی میں اس کمبخت کو اکیلے ہی دیکھ لوں گی ،وہ سب کو مار سکتی ہے مگر مجھے نہیں مار سکتی ،اور جو لوگ اب تک مر گۓ ہیں وہ بھی تو اللّه سے دعائیں کرتے رہتے تھے وہ کون سا بچ گۓ ہیں تو میری بہنوں کو بھی کہہ دے کے کوئی فائدہ نہیں ہے دعائیں مانگنے کا ،بقواس نا کر لڑکی اللّه سے ڈر کچھ سوچ سمجھ کر بولا کر ،اللّه بڑا رحیم اور کریم ہے وہ ہماری مدد کے لئے کوئی راستہ نکالے گا اور اگر ہم مر بھی گۓ تو اس میں بھی اللّه کی کچھ رضا ہوگی ،جاؤ جاؤ نانی میرا دماغ کی دہی نا بناؤ ،ریشم اپنی نانی سے کہتی ہے ،ریشم کی نانی وہاں سے چلی جاتی ہے ،ریشم کے ماں باپ نہیں تھے اس کی تین بہنیں تھیں وہ اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں ان کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں تھا ،رات کے 2 بج رہے تھے سب جاگ رہے تھے لیکن ریشم سو رہی تھی اس کی ایک بہن ریشم کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ ریشم کی نانی اور اس کی دو بہنیں دوسرے کمرے میں تھیں ،رونے کی آواز سے ریشم کی آنکھیں کھل گئی ،اس نے دیکھا کے اس کی بڑی بہن عظمیٰ رو رہی تھی ،کیا ہوا عظمیٰ باجی رو کیوں رہی ہو ؟؟؟ ریشم نے پوچھا ،ریشم مجھے لگتا ہے دروازہ کے پیچھے کوئی ہے،عظمیٰ نے جواب دیا ،ارے باجی کچھ نہیں ہے میں دیکھتی ہوں ،ریشم نے اٹھ کر دروازہ کے پیچھے دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا ،دیکھا باجی کچھ نہیں ہے ،لیکن عظمیٰ کی آنکھیں ساکن تھیں وہ الماری کی طرف دیکھے جا رہی تھی ،عظمیٰ باجی اب کیا ہوا ،عظمیٰ نے الماری کے اوپر کی طرف اشارہ کیا ،جیسے ہی ریشم نے الماری کی طرف دیکھا تو ،وہ الماری کے اوپر بیٹھی تھی، اس نے زوردار چیخ ماری اور ریشم کے اوپر چھلانگ لگا دی ،نانی نانی آگئی وہ، آج ہماری باری ہے ،عظمیٰ چلا اٹھی ،پورا گھر چیخوں سے گونج اٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ کے پیٹ میں اچانک شدید درد ہونے لگا عامر مجھے بہت درد ہو رہا لائبہ چلانے لگی ،عامر بھوکلا گیا ،میں اس وقت دائی کا انتظام کہاں سے کروں گا ،عامر باہر جانے لگا لیکن لائبہ اس کو روکنے لگی ،عامر نے لائبہ کی ایک بات نا سنی اور باہر چلا گیا)

وہ ریشم کے اوپر لپکی،ریشم حواس باختہ ہو گئی اسے کچھ سمجھ نا آئ اس نے ایک ہی وار میں ریشم کے سینے میں اپنے پنجے گاڑ دیے اور اس کا دل نکال لیا ریشم تڑپنے لگی اور موقع پر دم توڑ گئی ،ریشم کے تمام دعوے جو وہ کرتی تھی دھرے کے دھرے رہ گئے ،ریشم کی بیچاری بہن عظمیٰ سامنے بیٹھی یہ خوفناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ،وہ مسلسل کانپ رہی تھی اسے اپنی موت کا یقین ہو گیا تھا ،وہ بھاگنا چاہ رہی تھی مگر اس کے پاؤں نے اس کا ساتھ نا دیا ،چیخنا چاہ رہی تھی مگر ڈر کے مارے چیخ نا پائی ،پھر اس نے اپنے نوکیلے دانت ریشم کے گلے میں گاڑھ دیے اور اس کا خون پینے لگی جب ریشم کا جسم خون سے اچھی طرح خالی ہو گیا تو اس نے ریشم کو دوسری طرف پٹخا ،اب وہ عظمیٰ کی جانب بڑھ رہی تھی ،عظمیٰ کی آنکھوں میں آنسو تھے ،اس نے عظمیٰ کا بھی ریشم جیسا ہی حال کیا اور اس کے جسم کو بھی خون سے خالی کر دیا ،ریشم کی نانی اور دونوں بہنیں جو دوسرے کمرے میں تھیں انہوں نے کنڈی لگا لی تھی وہ رو رہی تھیں اور اللّه سے اپنی حفاظت کی دعا کر رہی تھیں ،اچانک دروازہ کو کوئی زور زور سے کھٹکھٹانے لگا ،ایک دم دروازہ کھلا اور عظمیٰ اور ریشم کی لاشیں اندر آکر گر گئیں ،ریشم کی دونوں بہنیں چیخ اٹھی،نانی بیچاری تو یہ صدمہ برداشت نا کر پائی ،وہ دل کا دورہ پڑنے سے وہیں ڈھیر ہو گئیں ،اب رہ گئی تھی ریشم کی دو بہنیں سو ان دونوں کا بھی ریشم جیسا ہی حال ہوا ،اس نے ان سب کے جسموں سے اچھی طرح خون پیا اور وہاں سے چلتی بنی ،یہ شاید ریشم کا غرور تھا یا قسمت کی ستم ظریفی کے اس کا پورا گھر موت کا شکار ہو گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سلمیٰ کا گھر)
صبح کے تقریباً 9 بج رہے تھے کے سلمیٰ کے گھر کا کسی نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا ،سلمیٰ ڈر گئی اس نے اپنے شوہر کو اٹھایا ،سلمیٰ کے شوہر نے دروازہ کھولا اور سلمیٰ کو اندر جانے کا اشارہ کیا ،تھوڑی دیر بعد سلمیٰ کا شوہر منہ لٹکا کر واپس ایا ،سلمیٰ کے پوچھنے پر وہ رو پڑا ،کیا ہوا آپ ایسے رو کیوں رہے ہیں ،سلمیٰ نے پوچھا ،تمہاری ماں اور تمہاری بھانجیوں کو اس نے مار دیا ،سلمیٰ یہ سن کر گم سم ہو گئی ،(ریشم اور اس کی بہنیں سلمیٰ کی بھانجیاں تھیں اور ریشم کی نانی سلمیٰ کی ماں تھی) ،نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ،میری ماں بیچاری میری بھانجیاں ہاۓ اللّه ،سلمیٰ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی ،سلمیٰ کی بیٹی اپنی ماں کو اندر لے گئی ،سلمیٰ کے شوہر کو فکر پڑ گئی تھی کیوں کے اسے یقین ہو گیا تھا کے اگلی باری اس کے گھر کی ہے ،(کیوں کے پہلے بھی جب وہ کسی گھر پر حملہ کرتی تھی تو اگر اس گھر کے رہنے والوں کا کوئی اور رشتہ دار بھی زاویر میں ہوتا تو اس کا اگلا نشانہ وہی ہوتے تھے ،اس لحاظ سے چوںکہ سلمیٰ کا رشتہ ریشم کہ گھر سے تھا اس لئے اگلی باری سلمیٰ کے خاندان کی تھی ) ،سلمیٰ کے شوہر نے اپنے پڑوس میں اس بارے میں بات کی اور محلے کہ تمام مردوں نے فیصلہ کیا کہ آج رات سب مرد سلمیٰ کے گھر پر جمع ہو کر اس کا مقابلہ کریں گے ،رات کو سب مرد سلمیٰ کے
گھر میں ڈنڈے لے کر جمع ہو گئے ،سلمیٰ کے شوہر نے اپنے گھر والوں کو چھت پر بھیج دیا ،رات کے تقریباً 12 بج رہے تھے ،سلمیٰ کے شوہر کو دروازے کے پاس کوئی کھڑا نظر آیا اور وہ وہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عامر چھپتا چھپاتا دائی کے گھر پہنچا اور کسی طرح دائی کو اپنی گھر لے جانے کے لئے راضی کر لیا جیسے ہی وہ اپنی گھر پہنچا تو لائبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: