Agli Bari Tumhari Hai Novel by Nazia Shazia – Last Episode 2

0
اگلی باری تمہاری ہے از نازیہ شازیہ – آخری قسط نمبر 2

–**–**–

جب عامر اور دائی گھر پہنچے تو لائبہ بیہوش ہو کر نیچے گری ہوئی تھی عامر نے فوری طور پر لائبہ کو بستر پر لٹایا اور خود باہر آگیا کچھ دیر بعد دائی باہر آئ اور اس نے عامر کو خوش خبری سنائی کے عامر کو اللّه نے اپنی رحمت سے نوازا ہے ،دائی نے عامر سے کہا کے مجھے میرے پیسے دے دو تا کہ میں اپنے گھر چلوں عامر نے دائی کو مشورہ دیا کے فلحال وہ ایک رات ان کے گھر قیام کر لے کیوں کہ رات کہ اس وقت باہر جانا خطرے سے خالی نہیں ،دائی نے عامر کی بات سے اتفاق کیا اور عامر نے اسے دوسرے کمرے میں آرام کرنے کے لئے بھیج دیا ،اور خود عامر وضو کر کے تہجد کی نماز ادا کرنے لگ گیا ،نماز ادا کرنے کے بعد اس نے اللّه کا شکر ادا کیا ،کہ اللّه نے اس کو بیٹی عطا کی ،پھر وہ اس کمرے میں جہاں لائبہ اور اس کی بیٹی موجود تھی چلا گیا ،عامر نے اپنی بیٹی کو اپنی باہوں میں لے لیا اس کو چوما اور اس کے کانوں میں اذان دینے لگا ،لائبہ یہ منظر دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں اللّه کا شکر ادا کر رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سیما کا گھر)
سیما اپنے پورے خاندان میں واحد پڑھی لکھی لڑکی تھی ،نہایت تمیز دار اور با ادب لڑکی تھی ہر کوئی اس کو پسند کرتا تھا ،اپنے گھر کو اس نے جنت کا نمونہ بنا رکھا تھا ،اس کی پوری فیملی میں اس کے ساس ،سسر ،اس کے تین بیٹے اور شوہر تھا ،احمد سیما کا سب سے چھوٹا بیٹا اپنی دادی سے مخاطب تھا ،دادی دادی مجھے باہر جانا ہے کھیلنے امی مجھے جانے نہیں دے رہی ،نہیں میرے بیٹے باہر نہیں جانا ورنہ وہ تمھیں اٹھا کر لے جاۓ گی ،دادی نے جواب دیا ،اچھا دادی ٹھیک ہے پر مجھے یہ بتایں یہ ہے کون ،ارے بیٹا تمھیں ہزار دفعہ میں اس کی کہانی سنا چکی ہوں ،دادی ایک دفعہ اور سنا دیں نا ،احمد نے دادی کو کہا ،تو پھر سنو ،آج سے تقریباً دو سو سال پہلے کی بات ہے کے ایک عورت بانو اس قصبے میں کالا جادو کرتی تھی ،شروع شروع میں تو صرف وہ جادو کرتی تھی مگر شیطان کو راضی کرنے کے لئے اس نے لوگوں کا قتل کرنا شروع کر دیا ،شروع میں تو کسی کو معلوم نا ہوا کہ یہ قتل کون کر رہا ہے مگر جب لوگوں کو پتا چلا کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ بانو ڈاین ہے تو لوگوں نے اسکو قصبے سے باہر نکل جانے کا حکم دیا ،چلو بیٹا دادی کو تنگ نا کرو باقی کہانی بعد میں اب دادی کو آرام کرنے دو ،سیما احمد کو کمرے سے باہر لے گئی ،اور دادی نے آرام کرنے کی غرض سے انکھیں بند کر لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سلمیٰ کا گھر)
سلمیٰ کے شوہر نے دیکھا کے دروازہ کے قریب کوئی کھڑا ہے غور کرنے پر پتا چلا کے وہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی ڈاين تھی،سلمیٰ کے شوہر نے شور مچا دیا ،آگئی آگئی وہ سب تیار ہو جاؤ سب مردوں نے ڈنڈوں کو پکڑ لیا اور اس کی جانب لپکے مگر وہ ڈاين تو جیسے کوئی طاقتور شیر تھا دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دو تین مردوں کے چیتهڑے ہوا میں اڑا دیے اور ان کے جسم کو خون سےخالی کر دیا ،سلمیٰ کے گھر میں کہرام مچ گیا سب مرد حواس باختہ ہو گۓ اور سلمیٰ کے گھر سے بھاگ کھڑے ہوئے سلمیٰ کا شوہر بیچارہ سب کو روکتا رہا مگر کوئی نا رکا ادھر وہ ڈاين ایک مرد کا خون پینے میں مصروف تھی ،اس کے بعد وہ سلمیٰ کے شوہر کی جانب لپکی اور اپنے لمبے لمبے اور نوکیلے دانت اس کے پیٹ میں گاڑھ دیے اور پهر جب اس نے اپنا منہ سلمیٰ کے شوہر کے پیٹ میں سے نکالا تو اس کے منہ میں سلمیٰ کے شوہر کی آنتین تھی ،سلمیٰ کا شوہر تڑپ رہا تھا ،اس کی آنکھوں میں درد کے مارے آنسو نکل آۓ ،سلمیٰ چھت سے اپنے شوہر کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ،وہ چیخ رہی تھی ،رو رہی تھی ،مگر اس ڈاين پر سلمیٰ کی دوہائیوں کا کوئی اثر نا ہوا آخر کار سلمیٰ کا شوہر دم توڑ گیا ،اس کا خون پینے کے بعد وہ ڈاين سلمیٰ کی جانب بڑھنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ڈاين کو کوئی اور نہیں میں ختم کروں گئی ،مریم چلائی جو کے سامنے والے گھر سے سلمیٰ کی چیخ و پکار کی آوازیں سن رہی تھی،مریم کی عمر 22 سال تھی ،مریم نے سلمیٰ کے گھر کی جانب دوڑ لگا دی ،مریم کی ماں اس کو روکتی رہی مگر وہ نا رکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم نے سلمیٰ کہ گھر کی جانب دوڑ لگا دی اس سے پہلے کے مریم سلمیٰ کے گھر میں داخل ہوتی ،مریم کا بھائی وقت پر پہنچ گیا اور اس نے مریم کو پکڑ لیا اور گھر واپس لے گیا ،بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ جانے دیں مجھے، مجھے سلمیٰ باجی کی جان بچانے دیں نہیں تو وہ ڈاين ان کو بھی مار دے گی ،اتنے مرد تو اس کو روک نا سکے تو تو کیسے روکے گی ،مریم کا بھائی چلایا،اس سے پہلے کہ مریم کچھ بولتی اس کا بھائی اس کو گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے گیا اور اس کو کمرے میں بند کر کے باہر سے کنڈی لگا دی ،امی اب یہ دروازہ نا کھولیے گا یہ لڑکی تو پاگل ہو گئی ہے ،مریم کا بھائی اپنی امی سے مخاطب تھا ،امی نے اثبات میں سر ہلایا ،مریم چلاتی رہی کے اسے جانے دیں ،دروازہ کھٹکھٹاتی رہی مگر کسی نے اس کی بات نا سنی اور دروازہ نہیں کھولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر وہ ڈاين سلمیٰ کی جانب بڑھ رہی تھی،سلمیٰ کو تو اپنے بیوہ ہونے کا دکھ چین نہیں لینے دے رہا تھا ،اب وہ اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں سے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی ،تیرے ہاتھوں مرنے سے بہتر ہے میں خود کشی کرلوں ،سلمیٰ چلائی،یہ کہتے ہی سلمیٰ نے اپنے دونوں بچوں کو چھت سے دھکا دے دیا اور خود بھی چھلانگ لگا دی ،سلمیٰ اور اس کے بچے خون میں لت پت تڑپ رہے تھے,سلمیٰ بیچاری امید سے تھی ،درد کے مارے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ،سلمیٰ کے بچے دم توڑ چکے تھے مگر سلمیٰ اب بھی تڑپ رہی تھی اس ڈاين نے زمین پہ گرا نیزہ اٹھایا اور سلمیٰ کے پیٹ میں گھونپ دیا ،سلمیٰ اور اس کا تیسرا بچہ بھی دم توڑ گۓ ،پھر وہ ڈاين سلمیٰٰ کی جانب لپکی سلمیٰ کا خون پینے کہ بعد سلمیٰ کہ بچوں کا خون پیا ،اور سلمیٰ کے گھر کی دہلیز پر اس نے وہ خون اگل دیا ،ایک بار پھر اسے وہ خون نا ملا جس کی تلاش میں وہ تھی ،زاویر کا ایک اور خاندان موت کے منہ میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سیما کا گھر)
چلیں دادی جان اب باقی کی کہانی سنایں ،احمد دادی سے مخاطب تھا ،اچھا سنو،پھر قصبے کہ لوگوں نے اس ڈاين کو قصبے سے نکل جانے کا حکم دیا ،مگر وہ نا مانی اور اس نے لوگوں کو قتل کرنا نا چھوڑا ،پورے قصبے میں اس کی دہشت پھیل گئی تھی،پھر ایک روز ایک بزرگ کا ہمارے قصبے سے گزر ہوا ،قصبے والوں نے انکو ساری کہانی سنائی ،ان بزرگ نے اس ڈاين پر کوئی عمل کیا اور اس کو قید کردیا ،لیکن انہوں نے ساتھ ہی بتا دیا کے انہوں نے اسکو عارضی طور پر قید کیا ہے پورے 200 سال بعد یہ دوبارہ آزاد ہو جاۓ گی ،یہ سن کر لوگ پریشان ہو گۓ ،لوگوں نے ان سے کہا کے انھیں وہ عمل بتا دیں کے جس سے انہوں نے اس ڈاين کو قید کیا ،تو ان بزرگ نے بتایا کے یہ عمل دوبارہ کام نہیں کریگا،یہ کہہ کر وہ بزرگ قصبے سے چلے گۓ ،لیکن پرانی پیشنگوئیوں کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ جب یہ ڈاين دوبارہ وقوع پزیر ہو گی تو ایک شخص ایسا ہوگا کہ جس کا خون پینے سے وہ ڈاين لمبی عمر حاصل کر لے گی جب کے ایک شخص ایسا ہوگا کہ جس کا خون پینے سے وہ ڈاين ہلاک ہو جاۓ گی یعنی پورے قصبے میں صرف دو ہی لوگ ایسے نایاب خون کے حامل ہوں گے لیکن دونوں کا خون ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ،دادی جان کیا یہ پیشنگوئیاں سچ ہیں،احمد نے دادی سے پوچھا ،ان میں کتنی صداقت ہے یہ تو میں نہیں جانتی البتہ یہ کہا جاتا ہے کے جن دو لوگوں کے جسم میں وہ خون موجود ہو گا انکو خودبخود پتہ چل جاۓ گا ،لیکن ان کو یہ نہیں پتا چل پاۓ گا ان کے خون سے ڈاين بچے گی یا مرے گی ،رہی بات ڈاين کی تو اس کو یہ نہیں پتہ کے کوئی ایسا شخص بھی ہے جس کا خون پینے سے وہ مر سکتی ہے ،وہ بس یہی جانتی ہے کے کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کا خون پینے سے وہ لمبی عمر پاۓ گی،وہ خون جو وہ چاہتی ہے اگر اس کو مل گیا تو وہ اس کو نگل جاۓ گی وگرنہ اگل دے گی ،اس سے اس کے دو مقصد پورے ہو جایں گے لوگوں کا قتل کر کے شیطان کو راضی کرنا اور لمبی عمر پانا ،چلو بیٹا اب جاؤ مجھے آرام کرنے دو ،دادی نے احمد سے کہا اور احمد چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لائبہ کا گھر)
رات کہ 12 بجے لائبہ کو چیخوں کی آواز آنے لگی ،عامر اور لائبہ تو پہلے ہی جاگ رہے تھے،لائبہ نے اپنی بیٹی کو عامر کی گود میں ڈالا اور باہر جانے لگی ،کہاں جا رہی ہو لائبہ؟؟،عامر نے لائبہ سے سوال کیا،ڈاين کو ختم کرنے،عامر مجھے پرسوں خواب میں ایک نورانی چہرے کے بزرگ دکھائی دیے ،انہوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے اندر وہ خون ہے جو شاید ڈاين کو مار بھی سکتا ہے یا اسے لمبی عمر بھی دے سکتا ہے ،ہو سکتا ہے میرا خون پینے کے بعد وہ ڈاين مر جاۓ لیکن اس کے لئے مجھے اپنی جان دینی ہوگی ،نہیں لائبہ میں تمھیں اس چیز کی اجازت نہیں دوں گا ،لائبہ نے عامر کی ایک نا سنی اور باہر کی جانب بھاگی عامر بھی لائبہ کے پیچھے بھاگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مریم کا گھر)
امی مجھے چکر آرہے ہیں دروازہ کھولیں،مریم چلائی،امی نے فورا دروازہ کھول دیا،مریم نے امی کو دھکا دیا اور باہر کی جانب بھاگی ،کہاں جا رہی ہو مریم؟؟ امی نے پوچھا،اس ڈاين کو ختم کرنے،مریم نے جواب دیا ،مریم اس ہی گھر کی جانب بھاگی جس طرف لائبہ بھاگی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سیما کا گھر)
آج باری سیما کے گھر کی تھی،احمد کی دادی کو تو وہ ڈاين پہلے ہی مار چکی تھی اب وہ سیما کی جانب بڑھ رہی تھی،اچانک پیچھے سے دروازہ کھلا اور لائبہ چلائی،میں ہوں وہ جس کا تو خون پینا چاہتی ہے،ادھر سے مریم داخل ہوئی نہیں میں ہوں وہ جس کا تو خون پینا چاہتی ہے مریم چلائی،مریم تم لائبہ بولی ،ہاں میں تمہاری دوست اور وہ ڈاين تمہارا نہیں میرا خون چاہتی ہے میرے خواب میں بزرگ آۓ تھے اور انہوں نے مجھے بتایا،مریم بولی،میرے شوہر اور میری بچی کا خیال رکھنا اب سے عامر تمہارا اور لائبہ ڈاين کی جانب بھاگی ،عامر بھی آگیا تھا،لائبہ نہیں عامر اور مریم یک زبان ہو کر بولے ،مگر لائبہ تو ڈاين کے پاس پہنچ چکی تھی اور ڈاين نے لائبہ کے پیٹ میں اپنے پنجے گاڑ دیے ،لائبہ تڑپنے لگی،عامر لائبہ کی جانب بھاگنے لگا مگر سیما کے شوہر نے اسے پکڑ لیا ،مریم لائبہ کی جانب بھاگی،مگر مریم کو بہت دیر ہو چکی تھی ،ادھر اس ڈاين نے لائبہ کے گلے میں اپنے دانت گاڑ دیے اور اس کا خون پینا شروع کر دیا،خوش قسمتی سے لائبہ کا خون وہی تھا جو ڈاين کو مار سکتا تھا ،یہ مجھے کیا ہو رہا ہے،ڈاين چلائی اور زمین پڑ گر کے تڑپنے لگی،اور کچھ ہی دیر میں ڈاين فنا ہو گئ ،مریم لائبہ کی حالت دیکھ کر بیہوش ہو گئ اور عامر بیچارے کو تو کوئی ہوش ہی نہیں تھا وہ اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کھو چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ اور مریم گہری سہیلیاں تھی ،دونوں عامر کو پسند کرتی تھیں،مگر دونوں ایک دوسرے کی محبت سے واقف نہیں تھی ادھر عامر لائبہ کو پسند کرتا تھا لہٰذا عامر اور لائبہ کی شادی ہوگئی اور مریم نے چپ سادھ لی ،بعد میں لائبہ کو مریم کی محبت کے بارے میں پتا چلا،لیکن اب وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی ،اسلئے مریم کو لائبہ نے مرنے وقت عامر سے شادی کرنے کو کہا تا کہ مریم اپنی محبت بھی حاصل کر لے اور عامر اور لائبہ کئی بیٹی کا بھی خیال رکھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(چند ماہ بعد)
عامر اور مریم کی سادگی سے شادی کر دی گئ ،مریم نے لائبہ کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر پرورش کی ،زاویر کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہو چکی تھیں ،مگر ان رونقوں کو بحال کرنے میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا تھا
(ختم شد)
(سب سے گزارش ہے کہ کہانی کے اختتام پر ضرور بتا دیا کریں کہ کہانی کیسی لگی اور غلطیوں سے بھی آگاہ کر دیا کریں شکریہ)

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: