Ahlaam Khwab Ishq Novel By Hifza Javed – Episode 1

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 1

–**–**–

( عشق میں مر جاواں سیزن 2 )
احلام گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی تبی۔معمول کے مطابق دن بھر تنہا رہنے کے بعد جب اسے ساتھ کی ضرورت تھی اس وقت احلام کی بہن ردا نے ماں کو چھوٹی شکایت لگائی جس کے باعث ماں کی اور احلام کی تلخ کلامی ہوگئی۔آج کچھ دن بھی بڑا تھا کہ سلمی باجی اپنے بیٹے سمیت آئی ہوئی تھی ۔ہمیشہ کی طرح ردا نے ماں اور بہن دونوں کو شیشے میں اتار لیا۔احلام کے سنے میں شدید درد کی لہر اٹھ رہی تھی ۔اس لمحے ٹھنڈے فرش پر بیٹھی احلام دنیا میں بلکل اکیلی تھی۔احلام بہت جلدی دنیا کی تلخ حقیقت سے واقف ہوگئی تھی ۔
“مجھے کچھ ہوا نہ سلمی آپی تو کبھی معاف نہیں کروں گی آپ لوگوں کو۔”
آنسو تھے کے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھی۔ردا صبح کے لیئے کپڑے پریس کر رہی تھی۔یہ سکول میں پڑھتی تھی۔سریا بیگم ہنسنے لگ گئی۔”ارے سلمی ٹھیک تو اس وہمی کو۔بس ہر وقت مجھے یہاں درد ہے وہاں درد ہے۔سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھی رہتی ہے اسی لیئے تو یہ حال ہے۔”
احلام خاموشی سے اپنی ڈائری لکھ رہی تھی۔سینے میں اٹھتے درد کو دبائے یہ ڈائری میں آڑھی ٹیڑھی تصویریں بنا رہی تھی۔اسی لمحے سے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی بیٹھا ہوا ہے۔
“ڈانٹ پڑی امی سے۔”
احلام ہنستے ہوئے اپنے آئیں کندھے کی جانب دیکھنے لگی ۔اسے کسی وجود کے ساتھ ہونے کا احساس تھا مگر یہ اسے دیکھ نہیں پائی۔
“آج امی نے گھر ردا کی بات مانی۔عمر تمہیں معلوم ہے کے مجھے آج سینے میں بہت درد ہے۔مگر ہمیشہ کی طرح سب یہی سمجھا جا رہا ہے کہ میں ڈرامہ کررہی ہوں۔دیکھو نہ عمر یہ لوگ کتنے ظالم ہیں۔”
عمر نے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا ۔احلام محسوس کر سکتی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی ہے اور یہ کسی انسان کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھی ہوئی ہے۔اس وقت احلام کے دل کو بہت زیادہ سکون کا احساس ہوا۔احلام کے دل میں اٹھتا درد کافی حد تک ٹھیک ہوگیا۔
سلمی احلام کی حرکتوں کو دیکھ رہی تھی۔احلام مسلسل ڈائری پر کچھ ستریں لکھ رہی تھی مگر پھر اپنے کندھے کو دیکھتی اور ہنستی۔
احلام اٹھی اور ڈرائنگ روم میں چلی گئی۔عمر اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔عمر اٹھا اور اس کا رخ ردا کے کمرے کی جانب تھا۔ردا پرسکون سو رہی تھی۔
“کتنی بری ہو نہ تم۔بہن کہلانے کے قابل بھی نہیں ہو۔کیوں دکھ دیتی ہو تم میری احلام کو۔یقین کرو اگر مجھے احلام کا خیال نہ ہوتا تو تمہارے ساتھ میں وہ کرتا کہ تم خود کو پہچان نہ پاتی۔مگر مقررہ وقت پر تمہیں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنی ہے۔دنیا مکافات عمل ہے ردا۔ تمہیں اس بات کا علم ہی نہیں کہ تمہاری بہن ایک ملکہ ہے جس دن تمہیں اس بات کا علم ہوگا تمہارے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی.تم احلام کو کوئی اہمیت نہیں دیتی وہ میری زندگی ہے اور جب میں عمرخان احلام خان احلام کو اپنا بنوں گا تو وہ دن تمہاری زندگی کا سب سے تاریخ دن ہوگا ردا۔”
عمر ردا کی طرف دیکھتے ہوئے باہر نکلا اب اس کا رخ ڈرائنگ روم کی طرف تھا جہاں احلام اور اس کا بھانجہ دونوں آپس میں بات کر رہے تھے ۔سلمہ کا بیٹا احلام کو بہت زیادہ عزیز تھا جو اپنی آنی یعنی احلام کو راضی کرنے آیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ سو جائے. عمر یہ دیکھ کر ہنسنا شروع ہوگیا احلام کو بچپن سے ہی بچوں سے بہت زیادہ پیار تھا۔ اپنے زیادہ تر بھانجے بھانجیوں کو احلام نے پالا تھا جیسے یہ اس کے اپنے بچے ہوں۔ مگر پھر بھی اسے وہ محبت نہ ملی جو بہنوں سے ماں سے ملنی چاہیے تھی. عمر اب احلام کو عالیان کے ساتھ کمرے میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا جہاں جاتے ہی یہ سو گئی ایک نگاہ احلام پر ڈالتے ہی عمر اس جگہ سے غائب ہوگیا۔
_________________________________
عون اور عمیر دونوں عمر کے کمرے میں دبے پاؤں آئے ان کے ہاتھ میں ایک تھا آج عمر کی سالگرہ تھی وہ پورے 22 سال کا ہو چکا تھا. اس وقت رات کے 12 بج رہے تھے دونوں بھائی عمر کے کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوئے عمر انہیں ہی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا نظر آیا جس کے ہاتھ میں فوٹو فریم اٹھایا ہوا تھا
” ہیپی برتھ ڈے عمر لالہ. “
عمیر نے سب سے پہلے اسے آگے بڑھ کر وش کیا مگر عمر کے چہرے پر خوشی کی کوئی جھلک نہ تھی۔ عمر نے خالی نظر سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا جو اس کے پاس آیا اور اس کے گلے لگ گیا” سالگرہ مبارک ہو لالہ آپ پورے 22 سال کے ہو چکے ہیں“
” شکریہ چھوٹے میں سوچ رہا تھا کہ تم سب لوگ سو گئے ہو گے. “
عون اب کی بار آگے آیا اور بھائی کو سالگرہ کی مبارکباد دی” ہم کیسے آپ کی سالگرہ بھول سکتے ہیں لالہ ۔عمر لالہ آپ سے زیادہ زندگی میں ہمارے لیے اہم کچھ بھی نہیں ہے“
عون نے اس کے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے فوٹو فریم میں تصویر دیکھی جس میں ان کی ہونے والی بھابھی کی تصویر تھی” آج احلام بھابھی کی بھی سالگرہ ہے نہ. “
” ہاں آج تمہاری گوہر بھی پورے 22 سال کی ہوگئی ہیں اور ہمیشہ کی طرح انہیں اسی بات کا انتظار ہے کہ گھر میں سے کسی کو تو ان کی سالگرہ یاد ہوگی. “
” اب تو اپنی سالگرہ منائیں گے نہ لالہ۔ سب لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ میر سردار اپنی سالگرہ بالکل بھی نہیں مناتے حالانکہ آپ ہم سب میں سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح آپ کی سالگرہ ہم سب منانا چاہتے ہیں
” نہیں عمیر جب تک احلام ہمارے گھر نہیں آتی میں اپنی کوئی سالگرہ نہیں مناؤں گا ہاں البتہ احلام کی سالگرہ اگر تم لوگ منانا چاہتے ہو تو منائو کل آتش بازی ہوگی تو سب لوگ جان لیں گے ان کی میں میر ذادی کی سالگرہ بھی ہے۔”
عون اپنے بھیا کی بات پر ہنسا اور پھر عمر کے کندھے کے اردگرد بازا پھیلا کر بولا.” اس دن آپ بھی اسی دنیا میں آئے تھے عمر لالہ. “
” ہاں شاید کبھی کبھی میں بھول جاتا ہوں کہ میں اور احلام ایچ فیلو ہیں. “
دروازے سے اندر آتے دو نفوس ان لوگوں کی باتیں سن کر ہنس رہے تھے۔ عمر پیچھے مڑا تو جبار اور ابابیہ دونوں ہاتھ میں کیک لیے کھڑے ہوئے تھے.
” سالگرہ مبارک ہو ہمارے بڑے شہزادے
جبار نے کیک ٹیبل پر رکھا اور اسے اپنے گلے لگایا۔” شکریہ بابا جان آپ کو ہمیشہ کی طرح میری سالگرہ یاد ہے. “
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے بڑے بیٹے کی سالگرہ بھول جائیں۔ مبارک ہو بیٹا آج تم بائیس سال کے ہو چکے ہو۔”
جبار نے اس کے سر پر پیار دیا انابیہ پیچھے سے آئی اور جبار کو دیکھ کر ہنسی۔ “دیکھیے جبار آج ہمارا بیٹا پورے 22 سال کا ہو چکا ہے ۔ماشاءاللہ سے اتنے سال گزر چکے ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا. میرے شہزادے آجاؤ اپنی ماں کے پاس “
انابیہ نے اپنی بانہیں پھیلائی اور عمر اس کے گلے لگا ۔ عمر اپنی ماں کے بہت زیادہ قریب تھا. انابیہ پر وقت کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ اب بھی ویسی ہی تھی۔ خدا نے اسے چار اولادیں عطا کی تھی سب سے پہلے عمر جبارخان عون جبار خان. تیسرے نمبر پر عمیر جبارخان اور آخر میں آئلہ جبارخان. جبار کے چہرے پر سفید رنگ کی داڑھی تھی جبکہ نیلی آنکھوں کے ساتھ یہ بہت زیادہ خوبصورت لگتی تھی ۔جبار اب بھی ویسا ہی خوبصورت تھا بس فرق اتنا تھا کہ اس کی عمر تھوڑی زیادہ ہوگئی تھی مگر جب یہ اپنے بیٹوں کے ساتھ کھڑا ہوتا تو ان کے ساتھ جوان لگتا۔
” عمر لالہ سب باتیں چھوڑیں دیکھے ہماری آئلہ گھر پر نہیں ہے اور اس نے مجھے سختی سے کہا تھا کہ عمر کی سالگرہ جب ہوگی تو مجھے ضرور ویڈیو بنا کر بھیجنی ہے ۔اب جلدی سے کیک کاٹیں ہم انتظار کر رہے ہیں۔”
عمیر اپنا اور اپنے ماں باپ کا لایا ہوا کیک آگے لایا۔ عمر نے ہنستے ہوئے کیک کاٹا مگر یہ ہنسی بھی بناوٹی تھی. بچے آپس میں لڑنا شروع ہوگئے جبکہ جبار اور دونوں بیٹوں کو سمجھا رہے تھے۔ عمر کونے میں کھڑا ہوا تھا اور اپنے منہ پر لگا ہوا کیک صاف کر رہا تھا ع۔مر کے عین سامنے بڑی تصویر میں احلام ہنس رہی تھی عمر کی نظر تصویر کی طرف تھی جبکہ آنکھوں سے آتے ہوئے نمی کو اس نے صاف کیا اور چہرا موڑ لیا. انابیہ سے یہ چھپا نہ رہ سکا وہ عمر کی طرف آئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ پہ رکھا۔
” احلام کو یاد کر رہے ہو۔”
” کیسی بے بسی ہے نہ ماما کہ وہ میرے پاس ہو کر بھی میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں جب اس کے پاس جاتا ہوں وہ مجھے دیکھ نہیں پاتی ۔میں احلام کو چھو نہیں سکتا۔ وہ روتی ہے تو میرا دل روتا ہے۔”
” بس کچھ ہی عرصہ میرے شہزادے پھر وہ بہت جلد تمہارے ساتھ ہوگی. “
” ماما آج آپ مجھے بتائیں نہ کہ میرے نصیب میں یہ تڑپنا کیوں لکھ دیا گیا ۔آپ جانتی ہیں جب بھی احلام مجھے پکارتی ہے تو یہی سمجھتی ہے کہ میں اس کے دماغ کا بنایا ہوا خیال ہوں ۔مگر میں تو حقیقت ہونا ماما. وہ اتنی بیوقوف ہے کہ مجھے کہتی ہے کہ تم صرف میرے دماغ کا بنایا ہوا خیال ہو۔ بہت جلد میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال دوں گی ۔وہ کیوں نہیں سمجھتی کہ میں حقیقت ہوں۔ اس کا ہر غم میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میری احلام کو زندگی میں کوئی خوشی نہیں ملی ماما۔ آج کی رات بھی وہ روتے ہوئے سوئی ہے میں کیسے خوشی منا لوں “
عمر کی آنکھوں سے آتی ہوئی نمی کو انابیہ نے اپنے ہاتھ کی پوروں سے صاف کیا.” “میرے شہزادے میں نہیں جانتی کہ کیا ہو گا مستقبل میں ۔مگر میں اتنا ضرور کہوں گی کہ جس دن تمہیں احلام ملے گی ہمیشہ کے لیے ملے گی۔ یہ انتظار بہت طویل ہوگا مگر اس کا صلہ بہت میٹھا۔”
جبار نے عمیر اور عون دونوں بیٹوں کو باہر بھیجا اور اپنے بیٹے عمر کی طرف آیا” میں جانتا ہوں میری جان کہ تم احلام شہزادی کو یاد کر رہے ہو۔ تم پریشان مت ہوں ہماری شہزادی بہت اچھے طریقے سے رہ رہی ہیں. “
”اچھے طریقے سے نہیں رہ رہی ہیں بابا جان۔ آپ جانتے ہیں ان کے گھر والے کیسا سلوک کرتے ہیں ان سے ۔اپنے ہی گھر میں قید تنہائی جھیلتے ہوئے وہ ایک نفسیاتی انسان بن چکی ہیں. ان کی زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہے سب لوگ ان کو ہمیشہ برا ہی کہتے ہیں۔ بات بات پر انہیں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ ناکارہ بے کار ہیں ۔احلام نے تو ایسا کچھ کیا ہی نہیں کہ وہ یہ سب سلوک ڈیزو کریں۔”“
” بیٹا کبھی کبھی کچھ لوگوں کی زندگی میں مشکلات ان کا نصیب ہوتی ہیں۔ مگر خدا نے ان مشکلات کے بعد بہت سی آسانیاں بھی رکھی ہوتی ہیں۔”
جبار نے اپنی 22 سالہ بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ اپنے باپ کے سینے سے لگ گیا.
“نہیں دیکھی جاتی بابا جان احلام کی تکلیف. کسی دن میرا دل پھٹ جائے گا آپ جانتے ہیں نہ کہ میں اتنا برداشت نہیں کر سکتا. “
جبار اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا جبکہ انابیہ جبار کی طرف دیکھنے لگی۔ انابیہ کی اپنی آنکھوں سے آنسو آ رہے تھے۔
” مت تڑپو میرا بچہ ۔ بہت جلد تمہارے پاس ہوگی۔ آج تو دیکھو تمہاری سالگرہ ہے۔احلام کی بھی سالگرہ ہے ۔جاو تیاری کرو کل آتشبازی کروانا یہاں سب کو بتانا کہ تمہاری ملکہ اور تم آج بائیس سال کے ہو چکے ہو.”
” ٹھیک ہے بابا جان۔ میں آپ کو پریشان کرتا ہوں نا بہت زیادہ سب کو۔”
” نہیں میرے شہزادے کوئی اولاد بھی اپنے ماں باپ کو پریشان کرتی ہے ۔تم تو ہمارے پہلے بیٹے ہو ہماری بازو تمہارے بغیر تو ہمارا کوئی خاندان نہیں۔”
” دعا کیجئے کہ آپ کے بیٹے کا دل مجھ سے بہت جلدی اسے مل جائے ورنہ آپ کے خاندان کی بازو بہت جلد گر جائے گی.”
” خدا نہ کرے کیسی باتیں کرتے ہو میری جان ۔چلو جاؤ جا کر باہر بھائیوں سے ملو وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”
انابیہ نے عمر کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے باہر بھیج دیا اب انابیہ اور جبار دونوں اکیلے تھے ۔وقت نے بہت ساری چیزیں بدل دی تھی جب یہ انسانوں کی دنیا میں آئے تھے تو انہیں یہاں پر ایڈجسٹ ہونے میں بہت زیادہ مشکلات پیش آئے.
سب سے زیادہ جو مشکل پیش آئی وہ یہ تھی کہ بہت سے لوگ جو ان کے ساتھ دوسری دنیا میں بستے تھے وہ انسانوں کی دنیا میں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہے تھے. جو لوگ مکمل طور پر انسان تھے وہ ان کے ساتھ آئے مگر جو انسان نہیں تھے اور میر خاندان کے غلام تھے ان کو بھی میروں کے ساتھ ہی آنا پڑا۔ جبار نے ان سب کو آزاد کر دیا مگر پھر بھی وہ ساتھ ہی رہنا چاہتے تھے. بہت کم لوگ یہ جانتے تھے کہ عمر مکمل طور پر انسان ہے . وہ جن زادہ نہیں ہے ۔مگر اسے اپنے باپ کی طرف سے بہت ساری طاقت ملی ہے. اس کے پاس اپنے باپ جیسا نشان تھا اور اپنے باپ جیسے پر. وہ کسی بھی جگہ پر جا سکتا تھا لیکن احلام کے پاس جانے کے لئے اسے ایک خاص طاقت ملی تھی ۔وہ احلام کے ہر دکھ میں اس کا ساتھ دے سکتا تھا مگر احلام عمر کو مقررہ وقت سے پہلے دیکھ نہیں سکتی تھی احلام محسوس تو کر سکتی تھی کہ عمر اس کے ساتھ ہے مگر احلام کے سامنے حقیقت میں عمر مقررہ وقت تک نہیں آسکتا تھا.
میر خاندان بلوچی لوگوں میں گھل مل گیا ہارون نے یہاں پر سب لوگوں کو یہی بتایا کہ میرے خاندان اس کے کزن ہیں۔. مزار میں شہزادے اور شہزادی کی قبر تھی جنہیں یہی اس مزار میں دفنایا گیا تھا۔ چار سو سال پہلے جب سبز شہزادی فوت ہوئی تو انہوں نے جانے سے پہلے خواہش کی کے سبز شہزادے اور انہیں انسانوں کی دنیا میں ہی دفنایا جائے دوسری دنیا میں نہیں. لوگ اس مزار پر آتے تھے کہ یہاں دو محبت کرنے والے بستے ہیں اور پھر وہیں سے میر خاندان کا سلسلہ چلا تھا بہت کم لوگوں نے میرے قبیلے کے سرداروں کو دیکھا تھا مگر اب بہت سالوں کے بعد وہ لوگ ان کی اولادوں کو دیکھ رہے تھے جو اپنے شہر میں آکر بس گئے۔
میر خاندان کے آغاجان مزار کی تمام ذمہ داری سنبھالتے تھے ان کے بہت سے مرید تھے یہ سردار ابوبکر تھے جو انسانوں کی دنیا میں آکر میرسردار کہلائے. اس کے بعد شہزادے عثمان چھوٹے میر سردار تھے جو انسانوں کی دنیا میں آئے تو انہیں یہاں کے اصول سیکھنے میں بہت زیادہ وقت لگا. اس کے بعد ہارون نے انہیں یہی مشورہ دیا کہ پولیٹیکل پارٹی جوائن کرلی جائے.میر خاندان نے یہاں پر ایک پولٹیکل پارٹی بنائی جس میں عثمان شہزادے اور جبار شہزادے کام کرتے تھے. بہت سے لوگوں نے ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا اور اب بلوچستان میں لوگوں کے لیے ان کی پارٹی بےتحاشہ کام کرتی تھی. جتنے یہ اپنی دنیا میں امیر تھے اسے کئی گنا انسانوں کی دنیا میں امیر تھے ۔اپنے ملک میں سب سے زیادہ دولت رکھنے والا خاندان ہی یہی تھا. عمر کو پرنس آف بلوچستان کہا جاتا تھا. ان کے خاندان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اگر پاکستان میں کبھی royality پائی جاتی تو ان کا خاندان اس میں ضرور شامل ہوتا. سر پر تاج نہ ہونے کے باوجود بھی یہ لوگ ویسے ہی تھے جیسے ان کے پاس تاج ہو۔
_________________________
کیسا لگا آپ سب کو احلام ناول ابھی شروع ہوا ہے مجھے امید ہے کہ یہ آپ کو ناول کے پہلے حصے جیسا ہی اچھا لگے گا بلکہ اسے بھی زیادہ پسند آئے گا. یہ ناول fantasy اور حقیقی دنیا پر مبنی ہے. جیسا کہ آپ سب لوگ حوالہ دے چکے ہیں کہ اس میں political party پارٹی کا ذکر ہے تو یہ ناول پولیٹیکل base بھی ہوگا. عمر کا کردار آپ سب کو آنے والی قسطوں میں بے انتہا پسند آئے گا مجھے اپنے لائک اور کمنٹ دیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: