Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 10

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 10

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
گھر سے برات نکلنے کی تیاری ہو رہی تھی۔ اسلام آباد میں جبار نے بہت بڑا محل نما گھر لے رکھا تھا جب بھی یہ لوگ اسلام آباد آتے تو اسی گھر میں ٹھہرتے اور اب اس گھر سے عمر کی بارات نکل رہی تھی. گوہر یعنی کہ عمر کی تائی کمرے سے نکلی اور سب کو آواز دینے لگ گئی کہ جلدی سے آ جائیں کیوںکہ عمر کی سہرا بندی کرنی تھی سب لڑکیاں کمرے سے نکلی اس وقت سب ہی تقریبا ڈوپٹے میں تھی. کیونکہ ان کے ہاں جب کوئی غیر آدمی باہر سے آتا تو ڈوپٹے کا خاص خیال رکھا جاتا۔ عمر کے کافی دوست بھی سہرا بندی میں آئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے تمام لڑکیوں تقریبا پردے میں تھی. سب نے اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھک کر رکھا تھا. عمیر عمر کو لے کر آیا اور صحن کے وسط میں اسے بٹھا دیا گیا ۔انابیہ کمرے سے سہرا لے کر آئیں۔ اس وقت انابیہ اور گوہر دونوں ساتھ کھڑے ہوئے تھے جبار اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا آج پورے پچیس سال بعد اس کا بیٹا اس مقام پر تھا کہ شادی ہونے والی تھی ۔ جبار نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس کی داستان کہاں سے شروع ہوئی تھی اور آج کہاں پر ختم ہو رہی تھی۔
” دیکھ لیں شہزادے آپ کی بیٹے کی شادی کا وقت بھی آگیا۔ اب تو کچھ ہی سالوں میں ہمارے ہاں پوتے پوتیں ہوجائینگے پھر تو ہم بوڑھے لگیں گے. “
” شہزادی ہم کبھی بوڑھے نہیں ہونگے بلکہ تھوڑی عمر زیادہ ہو جائے گی۔ اچھا ہے نہ ہمارے بیٹے بڑے ہوگئے ہیں ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ اب انہیں ذمہداریاں دے کر اپنی زندگی میں آرام کریں گی ۔ہماری عمر آرام کی ہے بچوں نے ہی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں . “
” دوبارہ ایسی بات مت کرنا ۔آپ نے تو ابھی ہمارے ساتھ دیکھے ہوئے کتنے خواب پورے کرنے ہیں۔ “
انابیہ اور جبار دونوں اپنے بیٹے کے پاس آئے انانیہ اس وقت اپنے مخصوص نیلے رنگ کے لباس میں ملبوس تھی ۔جو فراک کی صورت میں اس کے پاؤں تک آرہا تھا۔ سر پر اس نے نیلے رنگ کا حجاب لے رکھا تھا جس سے یہ بہت زیادہ پروقار لگ رہی تھی۔
آغا جان اور ملکہ یعنی کے عمر کی دادی آئی تو انابیہ نے ان کے ہاتھ میں سہرا دیا عمر کے سر پر باندھنے کے لیئے۔ آغاجان نے عمر کے سر پر سہرا باندھا۔ آخری پن دادی جان نے لگائی۔ آغا جان نے عمر کے سر پر پیار دیا لوگ بہت زیادہ خوش تھے۔ لڑکیاں پیچھے کھڑی ہوئی تھی جب عمر نے سب لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے پاس بلایا.
” کیا ہوگیا تم لوگ تھا ویسے پیچھے کیوں پڑے ہو۔ کوئی نیک نہیں لینا تم لوگوں نے مجھ سے“
” لالہ کیا ہے نہ کہ جب تک بھابھی نہیں آ جاتی ہم آپ سے نیگ نہیں لیں گے ۔ایک مرتبہ بھابجی کو تو آنے دیں آپ کی جیب خالی نہ کردی تو ہمارا نام بھی بدل دیجئے گا. “
” مجھے تم سب کے نام بدلنے کی ضرورت نہیں آئلہ بچے ۔ جانتا ہوں کہ تم سب لوگ کچھ نہ کچھ پلانگ ضرور کر رہے ہو مگر آج میں بہت زیادہ خوش ہوں تم لوگ جو منگو گے دوں گا۔”
” اپنا کریڈٹ کارڈ جو بلیک کارڈ ہے وہ ضرور رکھیے گا کیوں کہ ہم لوگ آپ سے وہی لیں گے. “
” ابھی دے دوں یا بعد میں لو گے. “
عمیر کی بات پر عمر نے سوال کیا جب حورین نے اس کی بات کا جواب دیا.” لالہ ہم آپ سے بعد میں لیں گے آپ کو تب پتہ چلے گا ۔ ہم سب نے تحفے دینے ہیں آپ کوپھر ہم لوگوں نے برات کے لئے نکلنا ہے۔”
سب بچے آگئے اور ہار عمر کو پہنانا شروع ہو گئے ع۔مر ہاروں سے بھر گیا تھا جب غوری آیا اور سارے ہار اس کے گلے سے نکال کر سائیڈ پے رکھے۔ یہ لوگ باہر کی طرف نکلے سو اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئے عمر کے ساتھ دونوں بھائی اور بہن بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ لوگ اپنی منزل کی طرف رواں تھے.
_______________________________
احلام کو پالر والی تیار کر چکی تھی ۔شہر کے سب سے بڑے پالر سے آج احلام آج تیار ہوئی تھی اور لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ عام سی احلام ہے جس کو کبھی کسی نے اہمیت نہیں دی تھی ۔احلام اس وقت سرخ رنگ کے لہنگے میں ملبوس تھی جس پر سونے کی تاروں سے کام ہوا تھا. گلے میں پڑا ہوا بھاری سونے کا سیٹ اور سر پر ماتھا پٹی اس کے حسن کو بہت زیادہ نکھار رہی تھی. احلام نے چشمہ نہیں پہنا تھا اس لئے شیشے کے پاس گئی اور غور سے خود کو دیکھا احلام نے اپنے عکس پر ہاتھ پھیرا تو اسے یقین ہوا کہ سامنے کھڑی لڑکی یہ خود ہی ہے. احلام کی بہن اسے تھوڑی دیر کے لیے گھر لے آئی کیونکہ یہاں سے انہیں ہوٹل کیلئے نکلنا تھا ۔احلام اس وقت گھر میں بیٹھی ہوئی تھی آج اس گھر میں احلام کا تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا۔اپنے گھر میں احلام کو بہت سے دکھ ملے سب سے بڑا دکھ چھوٹی سی عمر میں اس نے اپنے والد کو اس گھر سے ہمیشہ کے لیئے رخصت ہوتے دیکھا ۔جوانی کی دہلیز پر اس نے اپنے بھائی کو اسی گھر سے جاتے دیکھا اور اسی گھر میں اس کے بہت سارے دکھ زندہ تھے. فریم میں لگی اپنے باپ اور بھائی کی تصویروں پر ہاتھ پھیرتے یہ بے تحاشا ہوئی اسے آج بھی یاد تھا کہ ایک مرتبہ بھائی سے شدید لڑائی ہوئی تو غصے میں اسنے یہ خواہش کر دی کہ اس کی شادی پر رخصت کرنے کے لیے بھائی موجود نہ ہو۔ اس نے یہی کہا تھا کہ اگر بھائی ہوا بھی تو یہ اس کو رخصت کرنے کا حق نہیں دے گی جب وہ مرگیا تو اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا چیز کھو دی ہے. زین کے جانے کے بعد احلام بہت زیادہ روی کہ اب میری شادی پر میرا بھائی تو میرے سر پر ہاتھ رکھنے کیلئے ہوگا ہی نہیں . کبھی کبھی غصے میں انسان کوئی ایسی بات کر دیتا ہے جو پوری ہوجاتی ہے تو بعد میں ساری زندگی اس کا پچھتاوا رہتا ہے احلام کے دل میں بھی پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اپنے بھائی کی تصویر کو چومتے ہوئے یہی سوچ رہی تھی کہ جب وہ زندہ تھا سب لوگ اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے تھے اور اس کے جانے کے بعد زندگی کتنی اکیلی ہوگی. احلام کی والدہ بیٹی کو دیکھ رہی تھی کیونکہ احلام کی والدہ بھی بیٹی کے جانے کے بعد اکیلی ہونے والی تھی مگر احلام نے بہت کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر جائیں گی سریا نے یہی کہا کہ اس گھر میں ان کے بیٹے اور میاں کی یادیں ہیں تو یہ کبھی یہ گھر نہیں چھوڑیں گی. احلام کی بڑی بھانجی کو ثریا بیگم نے رکھ لیا تھا اور یہی کہا تھا کہ اب وہ اس کو اپنی بیٹی بنا کر پالیں گی. صائمہ نے اپنی بڑی بیٹی ماں کو دے دی کہ آپ کو سہارا ملے گا اور اب وہ اپنی نانی کے پاس بیٹی بن کر ہی رہتی تھی. ردا کمرے میں آئی تو احلام کو دیکھ کر اس کے دل میں نہ جانے کیوں ایک حسد کی آگ جلنے لگ گئی ۔احلام کو کام کم نظر آ رہا تھا اس لیے احلام نے اپنی کسی بہن کو بلایا کہ مجھے باہر لے کر جاؤ کہیں میں گر ہی نہ جاؤ.” نظر نہیں آ رہا تو چشمہ پہن لو آخر کو اس حسن کا کیا فائدہ جب تم صحیح طرح دیکھ نہ پاؤ“
” پریشان مت ہو ردا میں اندھی نہیں ہوئی تھوڑی نظر کمزور ہے جشمہ لگاؤں گی تو نظر آ جائے گا ویسے بھی جس نے مجھ سے شادی کی ہے نہ وہ میرا ہاتھ تھام لے گا تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. “
” ارے اب ایسی بھی باتیں مت کرو جانتی ہوں میں کہ تمہارے ساتھ شادی کے بعد کیا سلوک ہونے والا ہے. “
” تم تو ابھی سے یہ امید لگا کر بیٹھی ہو کہ شادی کے بعد میرے ساتھ برا سلوک ہوگا ۔ردا اتنی بھی سفاک مت بنو ہوسکتا ہے کہ میرا نصیب بہت اچھا ہو۔ میں نے زندگی میں تمہارا کبھی برا نہیں چاہا۔ میں نہیں جانتی کہ تم میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرتی آئی ہو۔ آج تو میں گھر سے رخصت ہونے والی ہوں آج تو تم اپنی ساری کدورتیں مٹا کر اپنی بہن کو گلے لگا لو مگر پھر بھی تمہیں وہی یاد رہا جو ہمیشہ سے تم کرتی آئی ہوں. “
” اب میں نے تمہیں ایسا کیا کہہ دیا دلہن بن کر بھی تمہاری زبان قابو میں نہیں ہے۔”
” زبان میری قابو میں نہیں ہے یا تمہاری ردا۔ اس چیز کے بارے میں تم جان لو کہ جب ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو ہماری اولاد یا خود پر وہ چیز ضرور واپس آتی ہے۔ جتنا تم نے مجھے ستایا ہے نہ زندگی میں ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں میری تکلیف کا بدلہ تم سے لیا جائے مگر تم میری بہن ہو اور میں کبھی نہیں کہتی کہ تمہیں کوئی سزا ملے۔ میری یہی دعا ہے کہ تمہاری اولاد بضیب والی ہو اور خدا تمہیں دنیا کی ہر خوشی دے. “
” تمہاری بددعا سے مجھے بڑا کوئی فرق پڑ جانا تھا خیر آ جاؤ باہر تمہارے شوہر نے گاڑی بھیج دی ہے جس میں تمہیں لے جایا جائے گا“
صائمہ اور سلمہ آگئی دونوں نے مل کر احلام کو پکڑا اور اسے باہر لے کر جانے لگی احلام اس وقت سونے سے لدی ہوئی تھی ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں دونوں طرف پہن رکھی تھی جبکہ انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں تھی.
” صائمہ بھوک مت جانا کہ عمر کے خاندان سے کہا گیا ہے کہ احلام کا گھوگھنٹ نہیں اترنا چاہیے وہ لوگ اس طرح دلہن کو کسی کے سامنے نہیں لے جاتے. “
” جو ابھی سے یہ بات کہہ رہے ہیں وہ تیرا کیا حال کریں گے احلام”
ردا جو پیچھے سے آ رہی تھی طنز کر کے بولی احلام اس کی طرف دیکھ کر غصے سے بول پڑی.” نہ آو میری شادی میں ضرورت نہیں تمہیں آنے کی۔ اگر ایسی ہی باتیں کرنی ہے تو مجھے رخصت مت کرو گھر ہی بیٹھی رہ جاتی ہوں میں. گھوکنٹ کا میں نے خود عمر کو کہا تھا سمجھ آئی۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا چہرہ کوئی انسان دیکھے میں یہی چاہتی ہوں کہ میرا محرم صرف میرا چہرہ دیکھے.”
” بڑی آگئی خود کو ڈھکنے والی جیسے ہمیشہ سے کی سر پر چادر کرتی آئی ہے. “
” ردا بکواس بند کرو چلو تم لوگ سب نکلو ہم آرہے ہیں گھر سے کچھ سامان لینا ہے پھر نکلتے ہیں“
پیچھے سے آتی ایک کزن نے ردا کو چپ کروایا اور ان سب کو کہا۔ یہ لوگ احلام کو لے کر گاڑی میں بیٹھ گئے ردا گھر میں اکیلی تھی. سب لوگ نکل گئے تھے ردا اپنی بیٹی کو اٹھا رہی تھی جبکہ ردا نے اپنے شوہر کے ساتھ جانا تھا گھر میں تالے لگانے کی ذمہ داری ردا کی تھی.
یہ کمروں کو تالا لگا ہو رہی تھی کہ اسے آہٹ محسوس ہوئی۔ کوئی نہیں تھا مگر کمرے سے نکلتی ہوئی صائمہ اسے نظر آئی۔
” صائمہ باجی آپ نکلی نہیں. سب لوگ جا چکے ہیں ابھی تو آپ گاڑی میں بیٹھی تھی“
صائمہ اس کی طرف دیکھ کر ہنسنا شروع ہوگئی اور پراسرار سا ہنسی۔ ردا کو عجیب لگا کیوں کہ اس کی بہن ایسے نہیں ہنستی تھی۔
” باجی کیا ہوگیا ہے آپ میرے ساتھ جانا چاہتی ہیں کیا “
” دل تو میرا بڑا ہی کر رہا ہے تمہیں ایسی جگہ پر پہنچاوں جہاں سے تم کبھی واپس نہ آؤ۔ مگر ہمیں حکم ہے کہ تمہیں زیادہ نقصان نہ پہنچایا جائے۔” یہ کہتے ہی صائمہ آگے آئیں اور ردا کو بالوں سے پکڑ لیا ۔ردا کے بالوں کا بنا ہوا سٹائل بکھر گیا صائمہ نے ردا کا چہرہ تھپڑوں سے لا کر دیا۔
” آئندہ کے بعد اپنی زبان کھولنے سے پہلے سوچ لینا کہ کس کے بارے میں بات کر رہی . یقین جانو دو منٹ میں تمہیں الٹا لٹکا دوں. “
” باجی کیا ہوگیا ہے آپ کو بال چھوڑیں میرے کیسی حرکتیں کر رہی ہیں۔”
صائمہ اس کے بالوں کو دوبارہ کھینچ کر کمرے میں چلی گئی جبکہ پیچھے ردا حیران پریشان کھڑی ہوگئی. کمرے میں اس کا شوہر داخل ہوا تو اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا.” ردا کیا حالت بنا رکھی ہے سب جا چکے ہیں خالہ جان کہہ رہی تھی کہ
جلدی ہوٹل میں پہنچو اور تم نے کیا اپنا حال بنایا ہوا ہے. “
” دیکھیں آپ صائمہ آپی ابھی کمرے میں گئی اور میرے بال کھینچ کر گئی ہیں میں نے تو ایسا کچھ کیا بھی نہیں. “
” تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ردا صائمہ باجی راستے میں گاڑی میں جا رہی تھی انہوں نے گاڑی روکی اور مجھے کہا کہ میں گھر جاؤں تم میرا انتظار کر رہی ہو”
” آپ پاگل تو نہیں ہوگئے ابھی نکلی ہے وہ کمرے سے. “
” ردا دماغ خراب نہیں کرو جاو فورا سے تیار ہو میں چھوٹی کو لے کر جاتا ہوں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔”
” ردا فورا سے کمرے کی طرف بھاگی اندر دیکھا باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھ۔ا جبکہ ایک کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا ردا کا پورا وجود پر پسینے میں نہا گیا باہر سے آتے شوہر کی آواز پر اسے تیار ہونے کے لئے جانا پڑا مگر اس وقت یہ اتنا زیادہ ڈر چکی تھی کہ واپس یہاں آنا اس کے لیے عذاب ہو گیا تھا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: