Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 11

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 11

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
عمر اسٹیج پر بیٹھا ہوا تھا بارات کافی دیر سے آچکی تھی بس احلام کا انتظار تھا۔ یہ لوگ انتظار ہی کر رہے تھے کہ سامنے سے آتی احلام نظر آئی ۔اے کو دونوں طرف سے بہنوں نے تھام رکھا تھا عمر نے دیکھا کہ احلام مکمل طور پر گھونگھٹ میں تھی اور پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیسی لگ رہی ہے.
جبار جو اس وقت اندر عورتوں والی سائیڈ پر آیا ہوا تھا احلام کی طرف گیا اور اس کی بہنوں کو بول پڑا۔
“بیٹا آپ لوگ جائیے ۔احلام بیٹی کو ہم وقت لے کر جائیں گے ہم اس کے والد ہیں . ہمیں خوشی ہوگی کے زندگی کے اس اہم موڑ پر ہم اپنی بیٹی کو خود لے کر جائیں آپ لگ جائیے. “
انابیہ بھی ساتھ ہی آ کر کھڑی ہوگئی دونوں اپنی بہو کو کر جارہے تھے۔ احلام کا ایک ہاتھ جبار نے تھاما ہوا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ انابیہ نے۔
حال میں بیٹھی ہوئی ساری عورتیں ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ احلام بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی مگر اس کا چہرہ واضح نہیں تھا۔ سب کو بہت زیادہ تجسس ہو رہا تھا کہ احلام کیسی لگ رہی ہے۔ عمر سٹیج سے اٹھا اور احلام کی طرف بڑھا۔ جبار نے احلام کا ہاتھ عمر کے ہاتھ میں دیا. “بیٹی ہے ہماری خیال رکھنا اس کا لے جاو اوپر۔”
عمر احلام کا ہاتھ تھام کر اس کو سٹیج پر لایا اور بٹھا دیا . احلام کی بہنیں رسم کرنا چاہتی تھی مگر عمر نے ان سے کہا کہ پہلے احلام کو بیٹھنے دیا جائے اس کے بعد جو چاہے رسم وہ لوگ کر سکتی ہیں۔ احلام کی بہنوں نے مٹھائی اور دودھ کی رسم کی. عون اور عمیر اس وقت بھائی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ بہت ساری رسمیں کی گئی اس کے بعد احلام کو معلوم ہوگیا کہ اس کی رخصتی کا وقت آگیا ہے۔ آج احلام دوسرے گھر جانے والی تھی۔ اس کا سفر اپنے ماں باپ کے گھر ختم ہوا ۔ جہاں یہ پیدا ہوئی تھی جہاں اس نے بہت سا سفر گذارا تھا۔ احلام ہمیشہ ایک ہی بات کہا کرتی تھی کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ جب وہ پیدا ہوتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے یہ تو پرائی ہے ۔اگلے گھر چلے جانا ہے. جب وہ شوہر کے گھر جاتی ہے تو ہر وقت اس چیز کا ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر شوہر نے کسی بات پر گھر سے نکال دیا تو کہاں جائے گی ۔گھر میں بھائی یا ماں باپ تو نہیں رکھیں گے۔ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا احلام ہمیشہ یہی کہتی تھی. شاید اس کی بات ٹھیک بھی تھی مگر بہت کم حد تک. عورت اپنا گھر خود بناتی ہے جب وہ مضبوط ہو تو کوئی اسکو توڑ نہیں سکتا۔ یہ بات بھی احلام اچھے طریقے سے جانتی تھی ایک مضبوط عورت گھر کا ستون ہوتی ہے۔ جب ستون ہی مضبوط نہ ہو تو گھر جلدی ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ستون کو دوبارہ گھر بنانے کی جگہ کہیں نہیں ملتی.
ردا اسٹیج پر آئیں اور احلام کو نیچے لے کر جانے لگی عمر اس کو دیکھ کر بولا.
” ردا آپ جایئے میں خود احلام کو لے آتا ہوں. “
احلام کو ج عمر جب نیچے لے گیا تو سب بہنیں اس سے باری باری ملیں سب بہنوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا سب سے بڑے بہنوئی خالد نے اس کے سر پر قرآن رکھا جس کے سائے میں اسے رخصت کیا گیا. احلام کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہ نکلا جب ماں اس کے گلے لگی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آنا شروع ہوگئے مگر اس نے ضبط کر لیا۔ آج احلام رونا نہیں چاہتی تھی ۔کہتے ہیں کہ جب کوئی مضبوط انسان روتا ہے تو سب بندھیں ٹوٹ جاتی ہیں. مضبوط انسان کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح احلام بھی خود کو توڑنا نہیں چاہتی تھی ۔کیونکہ خود کو جوڑنے کا عمل بہت مشکل ہوتا.
” بھابی آپ جب چاہیں ہمارے گھر آ سکتی ہیں ۔ہم نے تو آپ کو کہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ رہیئے مگر آپ کے فیصلے کا ہم احترام کرتے ہیں ۔احلام ہماری بیٹی ہے آج سے آپ یہ مت سمجھئیے گا کہ ہم اسے بہو بنا کر لے جا رہے ہیں ۔ہم اسے اپنی بیٹی بنا کر لے جارہے ہیں۔ جبار اور میری ایک بیٹی ہے مگر آج سے ہماری دو بیٹیاں ہیں ہماری احلام بیٹی بھی ہماری بیٹی ہے. “
انابیہ ثریا بیگم کے گلے لگتے ہوئے بولی.
” احلام سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کو معاف کر دیجیے گا ۔وہ بہت زیادہ معصوم ہے اس نے دنیا بہت کم دیکھی ہے اور اسے سمجھ بھی بہت کم ہے. “
” آپ بے فکر رہیں بھابی۔ ہم نے وعدہ کیا ہے کہ ہم اپنی بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھیں گے تو ہم اپنی بیٹی کو کبھی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔ کیا ہوا اگر عادف زندہ نہیں ہے ہم تو اس کے والد کے طور پر فرض نبھا سکتے ہیں نہ۔ ہم ہر فرض نبھائیں گے جو ایک والد اپنی بیٹی کے لئے کر سکتے ہیں“
جبار ثریا سے ملا اس کے بعد عمر سریا بیگم کے پاس آیا اور ثریا بیگم کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگایا۔.” آنٹی پریشان مت ہوئیے گا۔ میں احلام کو بے انتہا خوش رکھوں گا۔ احلام زندگی میں کبھی کوئی تکلیف نہیں دیکھے گی ہمارے ہاں بہو کو بیٹی سمجھا جاتا ہے. آج میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ احلام کبھی اپنے گھر یہ کہنے نہیں آئے گی کہ میرے گھر میں کچھ ایسا ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے تکلیف ہوئی۔ میں ہمیشہ اپنے آپ کو اس کے معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کروں گا “
” مجھے خوشی ہوگی بیٹا اگر تم احلام کو خوش رکھو گے ۔تھوڑی لاوبالی ہے مگر بہت زیادہ اچھی بھی ہے. “
” میں جانتا ہوں آنٹی آپ پریشان مت ہوں۔ احلام اب ہماری امانت ہے اور ہم اپنی امانت کی حفاظت بہت اچھے سے کرتے ہیں اجازت دیجئے. “
ثریا بیگم نے عمر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ عمر نام کی ساری بہنوں سے ملا اور بہنوئیوں سے بھی۔ اس کے بعد گاڑیوں کے دروازے کھلے اور احلام کو گاڑی کے اندر بٹھایا گیا۔ گاڑی اس وقت عون ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ عمیر اگلی سیٹ پر تھا ا. حلام اور عمر اکیلے بیٹھے ہوئے تھے. آئلہ اپنی تائی کے ساتھ تھی انابیہ اور جبار الگ گاڑی میں تھے اپنے آغا جان اور ملکہ کے ساتھ.
تیمور بھی اپنی بچیوں اور انسہ کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ شجاع خان ان سب لوگوں کے ساتھ ایک ہی گاڑی میں بیٹھے تھے.
اسلام آباد کی رنگین روشنی میں داخل ہوتے ہوئے احلام کو علم ہوا کہ یہ لوگ گھر کے نزدیک آ چکے ہیں۔ محل جیسے گھر کے آگے گاڑی رکی تو کارڈز نے دروازے کھولے۔ گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئی گاڑی رکی تو عمر نے احلام کا ہاتھ تھاما اور اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے کر آیا۔ ہر طرف پھول بکھرے ہوئے تھے یہ احلام کے استقبال کی تیاریاں ان لوگوں نے کی تھی۔
سارے رستے احلام خاموش رہی تھی گھوکنٹ ہونے کی وجہ سے عمر کو معلوم نہیں ہو سکا کہ احلام رو رہی ہے یا اداس ہے۔سارے راستے عمر نے احلام کا ہاتھ تھامے رکھا تھا ۔جب کہ آگے سے عمیر وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسی بات کرتا جس سے عمر ہنس پڑتا ۔
عمر کے ساتھ بیٹھتے ہوئے احلام کو عجیب نہیں لگ رہا تھا شاید عمر نے محسوس ہی نہیں نہیں کروایا تھا کہ احلام اس سے حقیقت میں بہت کم ملی ہے. آئلہ اپنی بھابھی کو لینے کے لیے آگے آئی۔ آئلہ وقت بہت زیادہ خوش تھی۔ گھر کے سب لوگ اس وقت موجود تھے باہر کا کوئی بھی بندہ نہیں تھا . عمر احلام کا ہاتھ تھام کر گھر کے دروازے پر لایا ۔انابیہ اور جبار دونوں دروازے پر کھڑے ہوئے تھے. انابیہ آگے بڑھی اور احلام کے سر پر دیا ہوا گھوکنٹ والا دوپٹہ اتار دیا سب لوگ احلام کو دیکھ کر حیران ہو گئے کیونکہ احلام بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔ عام طور پر احلام کبھی تیار نہیں ہوئی تھی مگر آج احلام پر بہت زیادہ روپ آیا تھا۔ عمر جو اس کے ساتھ کھڑا تھا دیکھ کر ہنسنے لگ گیا اور پھر عمر نے احلام کا گال سہلایا جس پر احلام نے عمر کو غصہ دکھایا تو عمر اور زیادہ ہنسا عون جو ان کے ساتھ ہی کھڑا ہوا تھا بھائی کی حرکت پر ہنسنے لگ گیا.
آغا جان آگے آئے اور احلام کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔انہوں نے احلام کے ہاتھ میں پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ دیا ۔عجیب بات یہ تھی کہ ان میں کچھ پھول سبز رنگ کے تھے جو بہت عجیب لگ رہے تھے۔ احلام دیکھ رہی تھی کہ یہ پھول کیسے ہیں کیا یہ اصلی ہے یا نقلی ہیں مگر صلی پھول تھے” بیٹا آج سے تم ہماری بیٹی ہو۔ تم ہمیں ایسے ہی عزیز ہو گی جیسے اس گھر میں آنے والی ہر بیٹی۔ مگر آج اس گھر میں قدم رکھنے سے پہلے ہم تمہیں ایک بات بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس گھر کی ہر ایک بات اب تمہارے ساتھ جر چکی ہے ۔تم گھر کی بڑی سردارنی ہو مستقبل کے سردار کی بیوی ۔تم نے ہر چیز کو ایسے ہی لے کر چلنا ہے جیسے سردار لے کر چلتا ہے۔ تم پر ایسی ذمہ داری ہے جیسے سردار پر ہے۔ یہ خاندان آج سے تمہارا ہے۔ تم کبھی یہ نہیں کہو گی کہ میں اس خاندان میں بہو ہوں بلکہ یہ کہوگی کہ میں اس خاندان کی بیٹی ہوں “
” تمہارے آغا جان ہمیشہ ایسے ہی اپنی بہو کو کہتے ہیں ۔میں تو تمہیں یہی کہوں گی بیٹا کہ بس ہمیں اپنا سمجھنا ہم خود ہی تمہارے لئے اپنے بن جائیں گے. “
اس کے بعد گوہر اور عثمان سردار آگئے۔ انھوں نے بھی احلام کو تحفہ دیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔” احلام بیٹا عمر تو ہمارا بیٹا ہے ۔یہ جب بھی پیدا ہوا تھا تو انابیہ سے لے لیا تھا اس کو ہم نے ۔یہ زیادہ تر ہمارے پاس ہی رہا ہے اس طرح سے تم ہماری بیٹی ہو آج سے تم ہمارے لئے ایسے ہی ہو جیسے ہماری آبگینے اور ہماری چھوٹی بیٹی ۔”
اس کے بعد آئلہ عون اور عمیر تینوں آگے آئے.
” احلام بیٹا ان کے سر پر ہاتھ پھیرو۔ آج سے تم ان کیلئے معتبر ہو۔ تمہارا احترام ان کے لیے ایسا ہی ہے جیسے اپنی بڑی بہن کا. “
انابیہ کی بات پر احلام نے اپنا ہاتھ اٹھایا اپنے سامنے جھکے ہوئے عون ،عمیر اور آئلہ سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔عمر نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور اپنے ہاتھ میں تھام اس کے بعد اس نے اپنے تینوں بہن بھائیوں کے سر پر ہاتھ پھیروایا۔
” آو بیٹا اندر اپنے گھر ویسے تو ہم تمہارا استقبال اپنے گھر زیارت میں بھی کریں گے مگر آج ہم تمہارا استقبال یہاں بھی کر رہے ہیں۔ کل وہاں بہت سے لوگ ہوں گے جن کے سامنے تمہارا استقبال کیا جائے گا. “
احلام کو پکڑ کر عمر اندر لے کر آیا ساری رسمیں ان لوگوں نے بلوچستان جاکر کرنی تھی اسی لئے انابیہ احلام کو عمر کے کمرے میں چھوڑ آئیں۔ جابجا سبز رنگ کے پھول تھے ۔لڑیاں بھی سبز رنگ کے پھولوں کی تھی انابیہ احلام کو بٹھا چکی تھی جبکہ احلام اپنے اردگرد سبز رنگ کی پھولوں کی لڑیاں دیکھ رہی تھی یہ پھول اصلی تھے احلام کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس رنگ کے پھول بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں.
عمر اب کمرے کے باہر کھڑا ہوا تھا عنایہ بچوں کی لیڈر بنی ہوئی تھی ۔آئلہ دروازے میں کھڑی ہوئی تھی جبکہ عمیر نے دروازے کا راستہ روکا ہوا تھا اور بھائی کے ساتھ تھا ۔حورین عرش اور عنایہ ساتھ کھڑی تھی۔
” لالہ میں آپ سے کہا تھا کہ آپ ہمیں اپنا بلیک کارڈ دے دیں۔تو نکالیں اب ہم آپ کو کمرے میں نہیں جانے دیں گے یاد رکھئیے گا آپ کے بلیک کارڈ سے ہم لوگ شاپنگ کریں گے دو دن تک. “
” تم لوگوں کا مجھے کنگال کرنے کا ارادہ لگ رہا ہے میرے بلیک کارڈ کو دو دن رکھو گے ۔سب کتنے لوگ ہو شاپنگ کرتے کرتے مجھ غریب کی تو ساری کی ساری کمائی ہی فارغ کر دو گے. “
” یہ زیادتی ہے عمر لالہ آپ نے ہمیں کہا تھا کہ آپ ہمیں اپنا بلیک کارڈ دیں گے اب ہم تو کیش نہیں لیں گے ہمیں بلیک کارڈ ہی چاہیے. “
” ویسے تم کس خوشی میں یہاں کھڑے ہوئے ہو عمیر تمہیں تو لالہ کے ساتھ آنا چاہیے کیا آج بھی تم نے لڑکیوں کی پارٹی جوائن کرلی ہے. “
” وہ کیا ہے نہ چھوٹے لالا کے آج میں نے اپنا فائدہ دیکھا ہے لڑکیوں میں آکر اپنا فائدہ نکل رہا ہے تو ہمیں کیا بہنوں کی طرف آجاتے ہیں آخر ہم ان کے چھوٹے بھائی ہیں. “
” لڑکے چلو بھاگو یہاں سے اپنے بھائی کی طرف جاؤ نکاع۔ عمر احلام کو زیادہ انتظار مت کرواؤ نہ ہم ساری رات یہیں کھڑے رہیں گے اور احلام تمہارا انتظار کرتی رہے گی. “
” عنایہ گوہر بہت غلط کر رہی ہیں یاد رکھے گا ہم آپ سے پورا بدلہ نہیں گے. “
” بعد میں جو مرضی کرنا اس وقت ہمیں تمہارا بلیک کارڈ چاہیے نکالو جلدی سے. “
عنایہ کے ہاتھ میں عمر نے اپنا بلیک کارڈ دیا سب بچوں نے تب جاکر نہیں اس کی جان چھوڑی عمر اب کمرے کے اندر داخل ہوا اور کمرے کا دروازہ بند کیا احلام بیڈ کے درمیان میں بیٹھی ہوئی تھی۔
عمر خاموشی سے روم میں آیا۔ احلام کی نظریں اس وقت نیچے جھکی ہوئی تھی۔ وہ عمر کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔ عمر چلتا ہوا بیڈ کی طرف آیا اور بیٹھ گیا۔ احلام عمر کے بیٹھنے پر عمر کی طرف متوجہ ہوئی اور اپنے چہرے کو اوپر اٹھایا. عمر کا چہرہ اسے دھندلا نظر آرہا تھا ۔مگر ایک احساس تھا کہ عمر اس کے پاس بیٹھا ہوا ہے ۔عمر سب سے پہلے احلام کا ہاتھ تھام کر بیٹھا بہت ۔دیر تک اس کے مہندی لگے ہاتھ کو عمر نے تھامے رکھا جیسے احساس کر رہا ہو کہ سچ میں احلام اس کے پاس ہی ہے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ احلام نے اپنا ہاتھ عمر کے ہاتھ سے واپس لینا چاہا ،لیکن عمر نے اس کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا ا۔حلام کے ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں تھی جو بار بار بج رہی تھی ۔عمر نے سونے کی چوڑیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور آہستہ آہستہ آرام سے اتارنے لگ گیا ۔احلام اس کی حرکت پر حیران ہو گئی۔ عمر نے نہ کوئی بات کی اور نہ ہی کچھ کہا ۔سیدھے طریقے سے اس کی چوڑیاں اتار لیں۔ احلام بھی خاموشی سے اس کی تمام حرکات کو نوٹ کر رہی تھی۔ احلام اپنا نہیں چھوڑوا پا رہی تھی کیونکہ عمر کی گرفت اس کے ہاتھ پر اچھی خاصی سخت تھی۔
” آج میں تمہیں ایک بات باور کروانا چاہتا ہوں احلام کے زندگی میں جس انسان کو سب سے زیادہ چاہا ہے میں نے وہ تم ہو۔ تمہاری زندگی سے جڑا ہر ایک غم ہر ایک خوشی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ تم اس بات پر یقین رکھو نہ رکھو مگر ہمارا تعلق آج سے نہیں بہت سالوں سے ہے۔ جب میں تمہارے پاس آیا کرتا تھا تو تم ہمیشہ مجھے پکارتی تھی ۔مگر اب تم مجھے دیکھ کر نہیں پکارتی۔ تم نے مجھے پکارنا چھوڑ دیا ہے ۔کیوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کیا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں رہا ۔”
” میں کیسے یقین رکھ سکتی تھی عمر کے ایک انسان جو خواب ہے حقیقت نہیں۔ وہ شخص حقیقت ہے اب میں اس بات پر یقین کیسے کر لوں ۔ زندگی بہت مختصر ہوتی ہے اگر ہم خواب ہی دیکھتے رہ جائیں تو زندگی کا کیا فائدہ۔ اگر اس دنیا میں آئے ہیں تو کچھ کر کر جانا چاہیے ۔اگر تم وہی انسان ہو میرے خواب کی تعبیر تو تمہیں معلوم ہوگا میری سوچ کے بارے میں میری زندگی کے بارے میں “
” میں وہی انسان ہوں احلام جو تمہارے ساتھ تھا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہیں اس بات پر کبھی یقین نہیں آئے گا کہ یہ سب کیسا کھیل ہماری قسمت نے کھیلا ہے ہمارے ساتھ۔ میں تمہارے ساتھ ہو کر بھی تمہارے پاس نہیں تھا ۔تم پریشان ہوگی کہ میں تم سے کیسے ملنے آتا تھا ۔تمہیں لگتا ہوگا میں جن ہوں یا ایسی مخلوق جس کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ کسی بھی انسان سے مل سکتا ہے بغیر ظاہر ہوئے۔ آج میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ میں عام انسانوں کی طرح نہیں ہوں۔ میں انسانوں سے بے انتہا مختلف ہوں۔تمہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ میں انسانوں کی طرح بالکل بھی نہیں ہوں ۔میرے پاس کچھ ایسی طاقتیں ہیں جن کا استعمال میں ہمیشہ بھلائی کے لیئے کرتا ہوں، جو مجھے عام لوگوں کی بھلائی کیلئے دی گئی ہیں جس سے میں لوگوں کی مدد کرتا ہوں۔”
” عمر میں ان چیزوں پہ اعتبار نہیں کرتی۔ تم کون ہو مجھے کھل کر بتاؤ ۔میں جاننا چاہتی ہوں۔ میرے ساتھ رہنے والا انسان کون ہے۔ تم کون ہو تمہاری کیا پہچان ہے ۔”
“میں آج کے دن تو یہ بات نہیں بتا سکتا۔ جب ہم آپس میں ایک دوسرے کو بہترین طریقے سے جان جائیں گے تو میں تمہیں اپنی حقیقت بھی بتا دونگا۔ تمھیں ایک بات ضرور بتانا چاہوں گا کہ میں تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں۔ تمھیں اس بات کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ میں کون ہوں
یا کوئی اور مخلوق اور تمہارے ساتھ بہت عرصے سے رہتا آیا ہوں . آج ہم لوگ کچھ باتیں اپنے درمیان درمیان کلیئر کرنی چاہیں۔”
“تمہارے کہنے سے پہلے میں بھی یہ بات کرنا چاہتی ہوں کہ میں ایک مکمل انسان نہیں ہوں۔ میرے اندر بہت سی خلا ہے جس کو کوئی انسان پر نہیں کر سکتا ۔میں شاید تمہیں زندگی میں وہ خوشی نہ دے سکوں جس کی امید تم مجھ سے کرتے ہو”
” کبھی کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا احلام ۔ہر کسی انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی خلا ہوتا ہے۔ تمہیں جو مکمل انسان نظر آتا ہو، ہوسکتا ہے کہ وہ ایک مکمل انسان نہ ہو۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ہم جس نظریئے سے انسان کو دیکھتے ہیں وہ انسان حقیقت میں ویسا نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی میں بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو اس نے دنیا سے چھپا رکھی ہوتی ہیں۔ میری زندگی میں بھی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو میں نے دنیا سے چھپائی ہوئی ہیں۔ تم ان باتوں کو جان جاؤ گی مگر وقت کے ساتھ۔”
” عمر زندگی میں تمہیں ایک ایسی انسان کی ضرورت نہیں جو تمہارے ساتھ کھڑی ہ۔و جس کے پاس سب کچھ ہو۔ تمہارے ساتھ کھڑی ہو تو لوگ اس پر رشک کریں۔”
” یاد رکھو۔ احلام رشتہ وہ اچھا ہوتا ہے جو آپ کے خود تک محدود ہو ۔جس کو دیکھ کر دنیا والے رشک کریں اور خواہش کریں کہ ایسا ہمسفر ان کے پاس بھی ہو تو کیا فائدہ۔ آپ کے پاس ایسا نایاب ہیرا ہونا چاہیے جس کو دنیا کی نظر ہی نہ پڑے۔ دنیا کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیسا ہ۔ے اس کی پہچان سے اس کے ساتھ رہنے والا انسان ہی جان پائے یے”
” عمر تم سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں میں
” بولو احلام ہر طرح کا وعدہ دینے کیلئے تیار ہوں”
” تمہیں زندگی میں مجھ سے جو بھی مسائل ہوں گے جو بھی مسئلہ تمہیں میری ذات سے ہوگا ۔وہ تم مجھ سے ڈسکس کرو کے۔ باہر لوگوں کے ساتھ جاکر تم کبھی بھی میری ذات کو ڈسکس نہیں کرو گے۔ ہم اپنے مسائل خود مل بیٹھ کر حل کریں گے ۔یہ بات یاد رکھنا مجھے وہ لوگ سخت برے لگتے ہیں جو اپنے پرسنل میٹر باہر جاکر لوگوں کو بتاتے ہیں۔ میں پوری کوشش کرونگی تمھارے خاندان میں اپنی جگہ بنا پاوں۔ مگر کبھی یہ مت کرنا کہ میں تم پر مانا رکھو اور تم میرا مان توڑ دوں”
احلام کے ہاتھوں کو عمر نے اپنے ہاتھ میں تھاما اور اپنی آنکھوں سے لگایا۔ اس کا اگلا جملہ بہت خوبصورت تھا ۔
“احلام تمہارا مان کبھی میں توڑ نہیں سکتا۔ جس دن میں تمہارا مان توڑ دوں گا اس دن میں سمجھوں گا کہ میں ایک مکمل انسان نہیں رہا . تمہارا مان میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری ہے ۔رہی تمہاری عزت کی بات تو وہ میرے لئے میری جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ بات یاد رکھو کہ میرے نزدیک رشتے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔خصوصا تم جس رڈتے میں میرے ساتھ بندھ چکی ہو میری محرم ہو وہ رشتہ ایسا ہے کہ اس کو نبھانے کیلئے میں جان بھی دے سکتا ہوں۔ایک بات یاد رکھو احلام آج سے تم میری ہو۔ تمہارے پاس کوئی راہ فرار نہیں ۔سمجھ لوکہ میری زندگی تمہارے لئے ایک قید ہے ۔میں جب اس زندگی سے نجات پاؤں گا تو تم پھر بھی مجھ سے نجات نہیں پاؤ گی ۔میرے جانے کے بعد بھی تم میرے نام سے آزاد نہیں ہوگی ۔تم میری شہزادی ہو اپنے لوگوں کی ملکہ ۔تمہیں میں آزادی نہیں دے سکتا ۔میں خود غرض ہوں میں نہیں چاہتا کہ میرے جانے کے بعد بھی تم کسی کو اپناوں۔تم صرف میری رہو گی تاکہ آخرت میں ہم مل پائیں ۔وہاں جاکر میں اپنے خدا سے یہی کہوں گا کہ مجھے صرف ایک ہی حور چاہئے وہ میری احلام ہے۔”
“عمر اگر میں کہوں کے زندگی میں مجھے تم جیسے شخص کی کوئی تمنا نہیں تھی۔تمہیں بڑا لگے گا کیا۔یہ شادی صرف ماں کے کہنے پر کی ہے میں نے عمر۔”
احلام کا ہاتھ عمر کے ہاتھ میں تھا ۔عمر کی آنکھوں نے اس کی بات پر رنگ بدلا اور احلام کے چہرے کو بغور دیکھا۔
احلام کو کمر سے تھام کر عمر نے اپنے قریب کیا۔احلام اس سب کے لیئے تیار نہیں تھی ۔احلام عمر کے لمس سے شدید گھبرا گئی۔عمر نے اس کا چہرہ ایک ہاتھ سے اوپر کیا ۔”تمہیں کہا نہ میں نے کہ اب تم صرف میری ہو۔اس دل کی ہر ایک چلتی ڈھرکن می تم رہتی ہو۔تم نہیں جانتی کیا احلام کے میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔میرا ٹرپا تمہیں کیوں نظر نہیں آتا۔”
احلام بھی عمر ہی کی طرح بے انتہا ضدی تھی۔احلام اپنا زور لگا رہی تھی کے عمر اپنی گرفت ڈھیلی کرے۔
“عمر مجھے محبت نام پسند نہیں۔میں نے اپنے سکے شہزادے بھائی کو اس محبت کے پیچھے برباد ہوتے دیکھا ہے۔وہ جینا چاہتا تھ۔اس کی بہت سی خواہشیں تھی مگر اس محبت نے زین سے زندگی چھین لی۔زین کے تمام رشتے اس سے الگ ہوگئے۔آخر می انجام کیا ہوا محبوب چھوڑ کیا اور اس میں دل کے کئی ٹکڑے ہوگئے۔نہیں بھولی میں اس کا راتوں کو ٹرپنا۔وہ جب نیند کے لیئے ترستا تھا نہ تو مجھے بھی راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔میں یقین کر لوں تمہاری محبت پر۔انسان خود غرض ہوتے ہیں۔محبت نہیں صرف وجود کی چاہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
عمر کی ڈھار نے احلام کو اگلا لفظ بولنے سے روک دیا۔”تم میری محبت کی اتنی بے عزتی مت کرو احلام۔میں نے تمہارے وجود کی کبھی چاہ نہیں کی۔کتنے سالوں سے میں نے کوئی خوشی نہیں منائی صرف تمہاری بدولت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں راتوں میں اٹھ کر رب سے صرف تمہیں مانگتا تھا۔میری ہر دعا میں تم تھی احلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
محبوب کرے ہر اک وار نرالا
دل کے آئینے کو توڑے بار بار
دل بھی ہمارا عجیب ہے
مانگتا ہے محبوب کی قربت بار بار
احلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔احلام غصے سے بستر سے اٹھی۔سالوں کا لاوا پھٹ پڑا ۔
“نہیں کرسکتا مجھ سے کوئی بھی محبت۔میں محبت کے قابل نہیں۔یہ پھول میرے لیئے خوشیاں نہیں ہمیشہ غم ہی لائے ہیں۔میرا دل بھی زخمی ہے۔نہیں جوڑا کسی نے۔کالی تنہا ہر اک رات کو دل میں بسا لیا ہے میں نے۔ مجھ سے محبت نہیں کر سکتے۔مجھ میں کچھ خاص نہیں۔عام شکل ،یتیم لڑکی۔میں تو تمہیں اپنے چشمے کے بغیر دیکھ بھی نہیں سکتی۔تمہاری محبت ایک فریب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
احلام کے سینے میں ڈھڑکنے والا دل اس وقت تو رہا تھا۔احلام کو خود نہیں معلوم تھا وہ کیا کر رہی ہے۔
“احلام ایسا نہیں ہے۔زندگی ایک مقام پر نہیں رکتی۔میرے پاس آو میری بانہوں میں تمہارا سکون پوشیدہ ہے۔”
عمر نرمی سے اس کی طرف پڑھنے لگ گیا۔
“نہیں دھوکا ہے یہ سب۔تم کیا چاہتے ہو مجھ سے۔کچھ نہیں دینے کو میرے پاس۔میرے ہاتھوں کی قسمت ہمیشہ مجھے دھوکا دیتی ہے۔میری قسمت کالی ہے۔میں منحوس ہوں سب کے لیئے۔جس کی زندگی میں جاتی ہوں اس کی زندگی خراب کر دیتی ہوں۔دیکھو تم میرے ساتھ رہو گے تو سب کچھ کھو دو گے۔میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“احلام جان تم میری ہو۔میرے دل میں بستی ہو۔کیا کروں میں ایسا کے تمہارا ہر دکھ کم ہوجائے۔”
عمر نے اس کو تھام لیا اور سینے سے لگا لیا۔
احلام اس وقت چیخ کر رو رہی تھی۔
عمر کے سینے سے لگی احلام اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی۔عمر نے اسے خود میں بھینج لیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: