Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 12

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 12

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
عمر نے احلام کو اپنی باہوں میں بے ہوش دیکھا تو بہت زیادہ پریشان ہوگیا ۔عمر جانتا تھا کہ احلام کا شدید ریکشن ہوگا ۔مگر اتنا شدید عمر نے سوچا نہیں تھا۔ احلام کو عمر نے بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لے کر آیا۔ احلام اس وقت شدید شاک میں تھی۔ عمر نے سب سے پہلے یہ بات سوچی کہ اس کو بھاری لہنگے سے آزاد کروایا جائے۔ عمر نے احلام کا لہنگا دیکھا تو پھر خیال آیا کہ اس کو چینج کرنا ہوگا ۔عمر الماری کے اندر گھسا اور وہ اسے اپنے ہی کپڑے پہننانےکے لیئے نکال لایا کیونکہ احلام کا سارا سامان انہوں نے عمر کے بلوچستان والے گھر کے کمرے میں سیٹ کیا تھا ۔عمر نے اپنی شرٹ نکالی اور اپنا ایک بلیک ٹراوزر ۔عمر نے کپڑے چینج کر دیے۔ عمر نہیں چاہتا تھا کہ احلام کی اجازت کے بغیر وہ احلام کو چھوئے، مگر اس وقت یہ سب کچھ کرنا ضروری تھا ۔چینج کروانے کے بعد عمر نے احلام پر نظر ڈالی جو اس وقت مکمل طور پر بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ عمر واش روم گیا اور وہاں سے پانی لے کر آیا ۔گب میں پانی بھر کر کپڑے سے اس نے احلام کا تمام میک اپ صاف کیا۔ اس کے بعد عمر نے کمرے کے فریج سے جوس کا ایک کلاد نکالا اور احلام کو سہارا دے کر اٹھا کر زبردستی پلایا۔
عمر احلام کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جہاں پر اداسی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔ عمر پانی رکھ کر آیا اور احلام کے ساتھ ہی لیٹ کیا۔ احلام کو تھام کر اپنے سینے سے لگانے کے بعد عمر کے چہرے پر بھی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ آج کی رات کے لیئے عمر نے کتنے خواب دیکھے تھے ۔وہ احلام کو منا لے گا مگر احلام نے موقع دیے بغیر ہی راہ فرار اختیار کرلی۔ عمر نے یہ بات سوچ لی تھی کہ احلام کو خود سے دور نہیں کرنا۔ احلام کو اپنے اور اس کے درمیان قائم رشتے کا احساس دلانا ہے۔ اگر احلام کو زیادہ وقت دیا گیا تو احلام ان دونوں کے رشتے کو سمجھ نہیں پائے گی ۔اس لیئے عمر نے فیصلہ کیا تھا کہ احلام جیسے ہی جاگے کی وہ اپنے طریقے سے احلام کو احساس دلائیگا
” احلام میری جان میں جانتا ہوں کہ تم میرے طریقے سے بہت زیادہ ناراض ہو جاؤ گی ،مگر جب تک میں تمہیں مکمل طور پر اپنا نہیں بنا لوں گا تمہیں احساس نہیں ہوگا ۔ایک گلٹ تمہارے اندر باقی ہے۔ وہ سارے زندگی کیلئے رہ جائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ میری شہزادی ایسی حالت میں رہے۔ میں چاہتا ہوں کے میری شہزادی کے چہرے کی خوشی تمام لوگوں کو نظر آئے۔ تمہارے چہرے پر اداسی کے نہیں، خوشیوں کے رنگ ہونے چاہیں۔ تمہیں دیکھ کر پتہ چلنا چاہیے کہ تم عمر جبارخان کی شہزادی ہو ،میری جان ہو میری ہو ہمیشہ کے لئے۔”
رات آج بہت آرام سے گزر رہی تھی۔ اس کالی رات میں عمر نے احلام کو پا لیا تھا۔ بے ہوش احلام کو عمر نے اپنے سینے میں چھپا رکھا تھا۔ رات کے تیسرے پہر احلام چیخ کر اٹھی ۔احلام اکثر ڈر کر جاگ جایا کرتی تھی ۔آج بھی احلام جب اٹھیں تو چیخ رہی تھی ۔عمر اس کے ساتھ ہی اٹھا۔
” کیا ہوگیا ہے احلام تمہیں سب ٹھیک تو ہے۔ نہ پسینہ پسینہ ہوگئی ہو۔ اتنی گرمی نہیں ہے میری جان مجھے بتاؤ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔”
احلام کا تمام وجود کامپ رہا تھا عمر نے احلام کے دل پر ہاتھ رکھا تو احلام کے دل کی دھڑکن بھی بے تحاشا تیز تھی۔ عمر فوراً سے اٹھا اور پانی لے کر آیا ۔احلام کے منہ کےساتھ اس نے پانی کا گلاس لگایا ۔
احلام نے اپنے اوپر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ اس کے کپڑے بدل چکے ہیں۔ احلام نے عمر کی طرف عجیب نظروں سے دیکھا۔
” مجھے ایسے مت دیکھو احلام۔ میں نے ہی تمہارے کپڑے تبدیل کیے ہیں۔ تم کیا سمجھتی ہو کہ میں کسی باہر والے کو اجازت دوں گا تمہیں ہاتھ لگانے کی ۔ایک بات یاد رکھو تم پر صرف اور صرف میرا حق ہے۔ تمہاری ہر ایک تکلیف کو دور کرنا بھی میرا ہی حق ہے۔ تم اگر تکلیف میں ہو تو تمہاری تکلیف کو دور کرنے کے لئے میں ہر وہ کام کروں گا جو میں کر سکتا ہوں۔ میری جان تم مجھ سے دور نہیں رہ سکتی
تمہارا وجود، تمہارا دل ،تمہاری روح سب کچھ میرا ہے ۔یہ بات یاد رکھو تم میری محبت کو ہوس نہیں کہہ سکتی۔ یہ ہوس نہیں ہے میں نے تمہیں بہت شدت سے چاہا ہے یہ بات یاد رکھو۔”
” کیوں عمر میں نے تمہاری کبھی تمنا نہیں کی ۔جب تم مجھ سے ملنے آیا بھی کرتے تھے تو میں تمہیں ایک خواب ہی سمجھتی تھی۔ رہنے دیتے نہ مجھے اس خواب میں۔ میں اپنی پرانی زندگی کی عادی ہو چکی تھی ،جہاں میری کوئی اہمیت نہیں تھی۔ میں اب کیسے رہوں گی تمہارے ساتھ۔ میں جانتی ہوں تمہارا مجھ پر حق ہے۔ تمہارے حق سے کبھی انکار نہیں کروں گی۔ مگر میں تمہیں وہ حق کیسے دوں گی۔ جب میں ایک ٹوٹی ہوئی انسان ہوں۔ ٹوٹے ہوئے انسان کسی کو حق نہیں دیا کرتے۔”
عمر نے احلام کو اپنے پاس کیا ۔احلام کو اپنی باہوں میں سمو لیا۔ احلام عمر کی سینے سے لگی ہوئی تھی ۔احلام نے اپنا ایک ہاتھ عمر کے سینے پر رکھا اور عمر نے اس وقت شرٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔
” میں جانتا ہوں تم راتوں کو ڈر جاتی ہو۔ تم ٹوٹی ہوئی بیشک ہوں، مگر تمہیں جوڑوں گا میں۔ انسان جب ٹوٹا ہوا ہوتا ہے نہ تو اس کو جوڑنے میں بہت مزہ آتا ہے ۔تم تو میری شہزادی ہو تمہیں جوڑوں کا تو اپنے طریقے سے ۔تمہارے اندر جو نئی زندگی آئے گی، وہ محبت کی ہوگی میری جان۔”
” عمر کیا تم بھی مجھے زندگی میں اکیلا چھوڑ جاؤ گے۔ میں نے جس سے دل لگایا ہے وہ مجھے تنہا چھوڑ گیا ہے ۔مجھے اپنوں کی موت سے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں نے اپنوں کی موت دیکھی ہے اپنی آنکھوں سے۔ میں نے اپنے گھر سے جنازے اٹھتے دیکھے ہیں۔ مجھے زندگی بہت عارضی لگتی ہے عمر تم جانتے ہو میں نے جسس انسان سے محبت کی ہے وہ ہمیشہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے تم مجھے چھوڑ جاؤ گے نہ عمر ایک دن۔”
عمر نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ کے پیالے میں بھرا اور اس کی پیشانی پر بہت زیادہ پیار بھرا بوسہ دیا جو احلام نے مکمل طور پر محسوس کیا ۔
” نہیں میری جان میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔جب تک زندگی رہے گی تب تک احلام کا ساتھ میرے ساتھ رہے گا ۔ہو سکتا ہے کہ میں تم سے پہلے چلا جاؤں ۔مگر ایک بات یاد رکھنا کہ جب میں یہاں سے جاؤں گا تب بھی تمہیں ایسی یادیں دے جاؤں گا جو تم ہمیشہ اپنے پاس رکھو گی۔ تمہارے جینے کا سہارا ہوں گی وہ یادیں ۔میں تمہیں اپنی بہت سارے نشانیاں دے جاؤں گا کہ تمہیں کبھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ہماری آنے والی اولاد اسے میں تمہاری طرح بناؤں گا ۔ تمہیں معلوم ہے احلام تم میں سب سے بہترین چیز جو مجھے لگتی ہے ،ہر طرح کے حالات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا۔ ہماری اولاد مجھ جیسی بھی ہو گی مگر میں چاہتا ہوں کہ ہماری اولاد میں پہلے بیٹی ہو اور وہ بالکل تمہاری طرح ہو۔ مگر فرق صرف اتنا ہوگا کہ وہ عمر خان کی بیٹی ہوگی۔ عمر خان جیسی اس کے اندر احلام جیسی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ میں کوشش کروں گا کہ تمہاری زندگی سے ہر کمی کو نکال دوں۔ تم نے میری بیٹی کو خود کی طرح بہادر بنانا ہے۔ ہم دونوں نے اپنی آنے والی اولاد کو سنوارنا ہے اور تم میری شہزادی ہو۔ تمہارے ساتھ میرا خاندان ہے تم بڑی سردارنی ہو۔ بڑی سردارنی ہونے کے ناطے تم پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ میں جانتا ہوں جہاں سے تم تعلق رکھتی ہو وہاں پر سرداروں کا کوئی کونسپٹ ہی نہیں ۔مگر جہاں میں سے تعلق رکھتا ہوں وہاں پر سرداروں کو اپنا سب کچھ مانا جاتا ہے۔ جب تم میرے ساتھ ہیں کھڑی ہوگئی تو تمہیں اپنے منصب کا پتہ چلے گا ۔آج میں تمہیں ایک چیز بتادوں کہ تمہاری زندگی اب تمہارے لیے نہیں ہے ، تمہارے ساتھ بہت سے لوگوں کی زندگی جڑی ہے۔”
عمر احلام کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا ۔احلام آہستہ آہستہ سکون حاصل کر رہی تھی۔ عمر کے سینے پر ہاتھ رکھے عمر کی تمام باتیں سن رہی تھی احلام ۔احلام کی دل کی دھڑکن اب معمول کے مطابق چل رہی تھی ۔عمر اس کی کمر بھی سہلا رہا تھا ۔عمر کو طریقہ آتا تھا کہ کیسے احلام کو ہینڈل کرنا ہے۔ اگر وہ تھوڑی سختی کرتا یا احلام کو اپنے قریب نہ کرتا تو احلام اس سے بہت زیادہ دور ہو جاتی۔ احلام کی آنکھیں بند ہوگئی۔وہ عمر کے سینے پر سر رکھے سو گئی ۔عمر نے جھک کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور پھر اسے اپنے ساتھ لٹا لیا۔ عمر جانتا تھا کہ صبح سفر بہت لمبا ہے اور احلام بہت زیادہ تھک جائے کی۔اس لیئے عمر نے اسے سکون سے سونے دیا۔
– – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – – –
جبار اور انابیہ دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت کھڑکی کھول کر انابیہ چاند کو دیکھ رہی تھی جبکہ جبار اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا اور اسے اپنی باہوں کے حلقے میں لیا ہوا تھا۔ انابیہ نے جبار سے بہت سے ایسے سوالوں کے جواب مانگنے تھے جو اس کے دماغ میں چل رہے تھے۔ جبار نے اس کا ہاتھ دبایا کے بتائیں کیا پوچھنا چاہتی ہیں۔
” جبار شہزادے آپ مجھے ایک بات بتائیں ہماری بیٹی احلام کی آنکھیں اپنا رنگ تبدیل کیوں نہیں کر رہی، جبکہ میں تو جب آپ کی بیوی بنی تھی تو میری آنکھیں بدل گئی تھی ۔اس کی آنکھوں نے رنگ کیوں نہیں بدلا۔ اس میں تبدیلیاں کیوں نہیں آئیں جو مجھ میں آئی تھی۔”
” وہ اس لیے میری جان کے آپ بالکل مختلف شہزادی تھی۔ وہ سبز رنگ کی شہزادی ہیں۔ وہ اپنی طاقت چھپا سکتی ہیں ۔ویسے بھی وہ اس وقت انسانوں کی دنیا میں ہیں اور ایک انسان ہیں۔وہ کبھی بھی اپنی طاقت ان لوگوں میں ظاہر نہیں کریں گی۔ ان کے پاس اگر طاقت آئے گی بھی تو دیر سے آئے گی اور اس کو قابو عامر ہی کر پائے گا ۔نیلا نشان جو آپ کے ہاتھ پر بنا تھا وہ تو بہت بچبن میں بنا تھا جبکہ احلام کے ہاتھ پر نشان آ بھی گیا تو وہ نظر نہیں آئے گا جیسے عمر کے ہاتھ کا نشان نظر نہیں آتا۔ احلام آپ سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ جس دن احلام خود کو پہچان جائے گی اس دن آپ کو بھی اس سے خوف آنے لگے گا۔”
” جبار آپ کو پتا ہے میں عمر کی آنکھوں میں آج کتنے سالوں بعد خوشی دیکھ رہی تھی۔ میرا بیٹا بہت سال ٹرپا ہے آج جب اسے احلام ملی ہے تو میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنی بیٹی احلام کو کہیں جانے دوں۔ آپ مجھے بتائیے کہ ہماری بیٹی احلام اپنی پہچان کب جان جائے گی۔ اسے کب معلوم ہوگا کہ وہ شہزادی ہے اور اس کا تعلق کس قبیلے سے ہے۔”
” جیسے آپ نے جانا تھا ویسے وہ بھی جان جائے گی۔ عمر اسے احساس دلائے گا ۔عمر تو ویسے بھی انسان ہے میری طرح آدھا جن ذادہ نہیں ہے ۔احلام اس کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرے گی ۔ہمارا بیٹا اس کی محبت پائے گا لیکن اسے تھوڑا سا صبر کے ساتھ چلنا ہوگا ۔احلام کی زندگی میں بہت سارے مشکلات آئیں گی۔ چلیں بچوں کی بات چھوڑ دیتے ہیں ۔کچھ اپنی باتیں کرتے ہیں آپ ہمیں بتائیے ہماری شہزادی کے آپ نے ہمیں بالکل وقت دینا چھوڑ دیا ہے۔ کیا ہوگیا اگر ہماری بیٹے بڑے ہو گئے ہیں تو ہمارا وقت ابھی بھی وہی ہے نہ۔ اگر ہم دوسری دنیا میں ہوتے تو وہاں تو آپ کو ہم سے فرصت ہی نہ ملتی۔ یہاں انسانوں کی دنیا میں تو ہم آپ کو بہت فارغ وقت دیتے رہتے ہیں۔”
انابیہ جبار کی طرف مڑی اور جبار کے ہاتھوں کو تھام کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور پھر ہنسنے لگی۔
” فرصت کا وقت نہیں دیتے شہزادے ہمارا سارا وقت تو آپ کا ہی ہے۔ ویسے بھی کچھ وقت میں ہمارے ہاں ہمارا کوئی پوتا پوتی آجائے گا پھر تو ہم اسی کے ساتھ وقت گزارا کریں گے۔ اب جلدی سے ہماری پوتی آجائے اس کو اپنے پاس رکھیں گے ہم پھر سے ایک بچے کو پالیں گے۔ مجھے بڑا ہی زیادہ شوق ہے اپنے بیٹوں کے بچوں کو پالنے کا۔ “
جبار انابیہ کی بات پر ہنسنے لگ کیا اور انابیہ کو خود کے قریب کیا۔
“پہلے ہمیں تو وقت دے دیں پھر اپنے بچوں کے بچوں کو بھی دیکھ لیں گے۔”
……………
احلام جس وقت اٹھی اس وقت تمام گھر کے لوگ کوئٹہ کے لیے نکل چکے تھے کیونکہ کوئٹہ سے آگے ان لوگوں کو زیارت کے لیے جانا تھا۔ پہنچتے ہوئے دوپہر ہو جاتی جبکہ احلام اٹھی نو بجے کا وقت تھا عمر جاگ چکا تھا اور احلام کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا
” شکر ہے احلام تم اٹھ گئی ۔جلدی سے تیار ہوجاؤ میری جان ہم نے نکلنا ہے کیونکہ ہمیں وہاں پہنچتے ہوئے دو گھنٹے لگ جائیں گے پھر آگے کوئٹہ سے بھی ہمیں دو گھنٹے کا سفر کرنا ہے ۔شام میں ہمارا ولیمہ ہے بہت دیر ہو جائے گی۔”
احلام کا اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔بہت مشکل سے یہ بستر چھوڑ کر اٹھی ۔اس نے اپنے سامنے صوفے پر ہی خوبصورت لباس دیکھا جس پر بلوچی کڑھائی ہوئی تھی۔ یہ بلوچی فراک تھا جو کام سے مزین تھا۔ کالے رنگ کی بلوچی فراک پر خوبصورت شیشوں اور کڑھائی سے کام کیا گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی ڈھیر سارے سونے کے زیور پڑے ہوئے تھے جو انابیہ رکھ کے گئی تھی کہ جب احلام اٹھےگی تو یہ پہن کر تیار ہوگی، کیونکہ وہاں زیارت میں بہت سے لوگ اس کے منتظر تھے۔ اس لیے انابیہ نے عمر کو نصیحت کی تھی کہ احلام کو دلہن کی طرح تیار کرکے لائے۔
فریش ہونے کے بعد احلام جب باہر آئیں تو ناشتہ بیڈ پر پڑا ہوا تھا اور عمر اس کا انتظار کر رہا تھا۔
:جان جلدی سے ناشتہ کرلو پھر ہم لوگ تیار ہوں گے اور نکلیں گے۔ وہاں پہنچتے پہنچتے تین چار بججائیں گے اور پھر تمہارا استقبال ہو گا تم نے دوبارہ تیار ہونا ہوگا ولیمہ کے لئے بہت تھک جاؤ گی تم۔”
” عمر میں اتنا ہیوی ناشتہ نہیں کرتی ۔پراٹھا نہیں کھاتی میں۔”
” کوئی بات نہیں میری جان ۔تم جوس لے لو تمہارے لئے میں نے سینڈوچ بنوایا تھا وہ کھالو۔ میں جانتا ہوں کہ تم نہیں کھاتیں پراٹھا ۔میں نے اپنے لیے بنوایا ہے ۔تم جلدی سے کھاؤ پھر تم نے تیار ہونا ہے ۔” کھانا بہت خاموشی سے دونوں نے مل کر کھایا۔ اس کے بعد احلام اٹھی اور تیار ہونے کے لئے چلی گئی۔ تیار اس نے کیا ہونا تھا بس کپڑے پہنے اور زیور پہن لیئے۔ زبردستی عمر نے اسے تھوڑا سا میک اپ کروایا۔ اس کے بعد یہ لوگ اپنے پرائیویٹ جیٹ سے کوئٹہ کیلئے نکل گئے۔ احلام کی ساری فیملی بھی کوئٹہ کیلئے نکل چکی تھی۔ ان لوگوں نے بھی ایرلاین ٹکٹ بک کروائے تھے تاکہ جلدی کوئٹہ پہنچ جائیں اور وہ وہیں سے زیارت کیلئے سب نے نکلنا تھا۔
احلام آج پہلی بار اپنے پسندیدہ شہر جا رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے احلام باہر کی سڑکوں کو دیکھ رہی تھی۔ یہ شہر اس کی دنیا سے بالکل مختلف تھے ۔پاس سے گزرتے ہوئے درخت اور پھر اس کے آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو چکا تھا۔ احلام تو اتنی زیادہ خوش تھی کہ اسے خیال ہی نہیں رہا کہ وہ آج کے دن کی دلہن ہے اور اس کا شوہر اس کے ساتھ اس ہاتھ تھام کر بیٹھا ہوا ہے۔ عمر اس کی خوشی دیکھ رہا تھا اور ہنس بھی رہا تھا
” ہم شادی سے فارغ ہوجائیں پھر تمہیں پورا شہر دکھاؤں گا میری جان۔ تمہیں ہمارا شہر بہت زیادہ پسند آئے گا۔ تم تو اس شہر کی رانی ہو میری جان”
” عمر کوئٹہ کتنا پیارا ہے نہ زیارت بھی۔ عمر میں نے سنا ہے کہ کوئٹہ میں بہت زیادہ اچھے سیب ہوتے ہیں اور زیارت دوسرے نمبر پر ہے جونیپر فورسٹ کے معاملے میں۔”
” جی بالکل جونیپر فورسٹ میں دوسرے نمبر پر ہے ہمارا شہر ۔ میں تمہیں پورا شہر گھماؤں گا پھر تمہیں معلوم ہوگا کہ ہمارا شہر کتنا خوبصورت ہے۔ ابھی تو تمہیں گھر کے لئے تیار ہونا ہے زرتاش محل شدت سے تمہارا منتظر ہے۔”
دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد یہ لوگ خوبصورت محل کے آگے روکے۔ یہ محل کوئی پرانے دور کے محلوں کی طرح لگتا تھا۔ روشنیوں سے جگمگاتا ہوا۔ عمر اور احلام جیسے ہی اترے گارڈز نے دروازے کھول دیے ۔محل کے دروازے کھلتے ہی اندر پھول ہی پھول احلام کو نظر آئے۔ اسے معلوم پڑ رہا تھا کہ شادی کے لیے انہوں نے بہت زیادہ سجاوٹ کر رکھی ہے ۔احلام جیسے جیسے آگے جارہی تھی ہر طرف سے اس پر پھول پھینکے جا رہے تھے ۔لوگ ان کے منتظر کھڑے ہوئے تھے۔ احلام کا ہاتھ عمر نے تھاما ہوا تھا یہ لوگ جیسے ہی محل کے اندرونی دروازے کی طرف آئے دروازے پر انہیں انابیہ جبار اور بچے انہیں ملے تھے.
” محل میں تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ہم ہماری بچی ۔آجاؤ اندر تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے ہم. “
انابیہ نے احلام کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر اسے اندر کی طرف لے کر آئی جہاں بہت ساری عورتیں احلام کی منتظر تھی اور اس سے ملنے لگی ۔عمر اس کا ہاتھ چھوڑ کر اندر کی طرف چلا گیا ۔
تقریبا ایک گھنٹے بعد احلام کی جان ان سب لوگوں نے چھوڑی ۔تو آئلہ اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی جہاں اسے تیار کرنا تھا ولیمے کیلئے۔ احلام کی آنکھیں بند ہو رہی تھی اس لیے آئلہ نے اسے کہا کہ آپ دو گھنٹے کے لئے آرام کر لیجئے اس کے بعد آپ نے دوبارہ ولیمہ کے لئے تیار ہونا ہے۔ احلام بیڈ پر لیٹتے ہی سو گئی اور پورے دو گھنٹے بعد اسے دوبارہ جگایا گیا تیار ہونے کیلئے ۔احلام شیشے کے سامنے بیٹھ گئی.
سبز اور سفید رنگ کی خوبصورت میکسی اس نے زیب تن کر رکھی تھی، جس کی ٹیل پیچھے تک جا رہی تھی۔ یہ بہت خوبصورت میکسی تھی اور چمک رہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میکسی پر ہیروں سے کام ہوا ہے .
احلام کو جیولری بھی ہیروں کی پہنائی گئی تھی۔ احلام آج کل کی نسبت بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی ۔جب اسے لا کر نیچے عورتوں میں بٹھایا گیا تو سب لوگ حیران ہوگئے۔احلام کی بہنیں بہت زیادہ پریشان ہوگئ جو اس سے ملنے کیلئے آئی ہوئی تھی۔ ردا اس کو دیکھتے ہی پریشان ہوگئ کیونکہ اس وقت احلام چمک رہی تھی ۔لگ نہیں رہا تھا یہ وہی احلام ہے جو ان کی بہن تھی کبھی۔
سب لوگ احلام سے باری باری مل رہے تھے بہت دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا پھر جیسے انابیہ کو لینے کیلئے آغاجان آئے تھے ویسے ہی اس کو لینے کے لیے جبار آیا تھا ۔اگر یہ دوسری دنیا میں ہوتے تو آج احلام کی تاج پوشی ہوتی مگر یہ انسانوں کی دنیا میں تھے ،پھر بھی آج احلام کی تاج پوشی ہی ہونی تھی ۔احلام حیران ہوگئی کہ اس کو لے جانے کے لیے کیوں جبار آیا ہے۔ عمر جبار کے ساتھ نہیں تھا۔ انابیہ آگے بڑھیں اور خود بھی نقاب کیا ہوا تھا اس نے احلام کو مکمل طور پر نقاب کروایا اور احلام کا ہاتھ تھام کر جبار کے ساتھ چلنے لگ گی۔ یہ لوگ احلام کو لے کر محل کے سب سے اوپری حصے میں گئے جہاں آغاجان۔ ملکہ ۔گوہر عثمان سردار کھڑے ہوئے تھے۔ سب عورتیں نے نقاب کر رہے تھے۔ کسی کا چہرہ بھی نظر نہیں آرہا تھا عمر سب سے آگے کھڑا ہوا تھا ساتھ ہی اس کے دونوں بھائی بھی تھے۔ انابیہ نے احلام کا ہاتھ عمر کے ہاتھ میں دیا جسے عمر تھام کر سامنے لے کر آیا ۔یہ محل کا ایسا حصہ تھا کہ جہاں سے کھڑے ہو تو سب لوگ نظر آتے تھے ۔احلام اس وقت نیچے کھڑے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ ان میں سے کچھ بلوچی تھے اور باقیوں کو احلام پہچان نہیں پا رہی تھی۔ عمر بلوچی میں کچھ کہہ رہا تھا جو احلام کو بالکل بھی سمجھ نہیں آرہی تھی مگر تھوڑی دیر بعد جب عمر نے اس کا ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ کے ساتھ اوپر کیا تو لوگوں کے شور سے سے پتہ چلا کہ عمر نے اسی کے بارے میں کوئی بات کی ہے ۔ انابیہ جب اپنے پیچھے کھڑی نوکرانی کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے سے دو سبز رنگ کے خوبصورت تاج لے کر آئی تو احلام پریشان ہوگئ کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد جبار نے ایک تاج عمر کے سر پر پہنایا اور دوسرا تاج احلام کے سر پر۔ اس کے بعد انابیہ نے ایک چادر احلام پر دی جو بے انتہا خوبصورت تھی۔ جبار نے عمر کے ہاتھ میں سبز رنگ کی انگوٹھی دی جو عمر کی خصوصی نشانی تھی ۔عمر نے انگوٹھی احلام کے ہاتھ میں پہنائیں اور پھر اس نے احلام کے ہاتھ میں انگھوٹی دی کے اس کے ہاتھ میں پہنائے۔ احلام نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے عمر کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی۔ دونوں کو سامنے کھڑا کیا گیا احلام کو لوگ مکمل نظر نہیں آرہے تھے کیونکہ اس نے چشمہ نہیں پہن رکھا تھا اس کے باوجود احلام کو پتہ چل رہا تھا کہ بہت سے لوگ وہاں پر کھڑے ہوئے ہیں ۔لائٹوں کی روشنیوں سے نیچے کھڑے لوگوں کے چہرے کچھ کچھ احلام کو نظر آ رہے تھے
” احلام تم جانتی ہو ابھی ہم دونوں نے مل کر اپنے لوگوں سے ہاتھ کھڑا کرکے ایک عہد کیا ہے کہ ہماری زندگی اپنے لوگوں کے ساتھ جڑ چکی ہے ۔تم نے بھی اپنے لوگوں سے عہد کیا ہے کہ تمہاری زندگی اب ان لوگوں کے لئے ہے۔ تم کبھی بھی ان سب کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاؤں گی.”
احلام عمر کی بات پر حیران ہو رہی تھی ۔یہ لوگ بہت عجیب تھے۔تھوڑی دیر بعد احلام اپنی ماں کے ساتھ کھڑی تھی۔سریا بیگم بیٹی کا یہ روپ دیکھ کر اپنے آنسو نہیں روک پائی۔سائمہ اور سلمی دونوں احلام سے آکر ملی۔ردا بھی اس سے ملنے آگے آئی۔
“احلام تم خوش ہو نہ ۔میری بہن یہ لوگ اچھے تو ہیں نہ۔”
سائمہ کے سوال پر احلام نے صرف سر ہی ہلایا ۔تھوڑی دیر بعد آئلہ آئی اور احلام کو عمر اور احلام کے کمرے میں لے گئی۔احلام نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو اسے احساس ہوا کہ کمرہ کتنا بڑا ہے۔پورے کمرے کو دیئے اور پھولوں سے سجایا گیا تھا۔احلام کو آئلہ نے بیڈ کے وسط میں بٹھایا اور خود کمرے سے نکل گئی۔
تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور عمر اندر آیا۔اپنی بلوچی دستار ٹیبل پر رکھنے کے بعد عمر احلام کے پاس آکر بیٹھا۔
عمر آکر بیڈ پر بیٹھا ۔احلام کے چہرے پر آئے بالوں کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے عمر اسے قریب لے آیا۔احلام کا دل اس وقت تیزی سے ڈھڑک رہا تھا۔
“اپنے گھر میں آنا مبارک ہو میری جان۔”
عمر نے اسے خود سے الگ کیا۔احلام کے سر سے ڈوپتا عمر نے اتار دیا۔ماتھے پر لگی ہیرے کی ماتھا پٹی عمر نے بہت آہستہ سے اتار کر سائڈ پر رکھی۔
عمر۔۔۔۔۔۔۔”
عمر نے احلام کے بولنے سے پہلے ہی اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔”آج نہیں احلام۔تم نے مجھے بہت انتظار کروایا ہے مگر آج نہیں میری جان۔میں آج تمہارے اور اپنے درمیان کی ہر دوری مٹا دوں گا۔”
عمر نے احلام کی کمر سے تھام کر اسے خود سے لگایا اور بیڈ سے کھڑا کیا۔
عمر اسے لیئے شیشے کے پاس آیا۔
شیشے کے نزدیک جاکر عمر نے احلام کو سامنے دیکھنے کا اشارہ کیا۔
احلام کی نظر سامنے پڑی تو دیئوں کی روشنی میں اسے خود کے ساتھ کھڑا ہوا ایک بھرپور اور مکمل شخص نظر آیا۔عمر کی آنکھیں اندھیرے میں بھی چمک رہی تھی۔احلام کا رخ اپنی طرف موڑ کر عمر اس پر جھکا۔احلام نے عمر کی قمیض پر گرفت سخت کر دی۔عمر احلام کو تھامے اپنی تمام بے تابی اس کی سانسوں میں اتار رہا تھا۔عمر جب اس سے الگ ہوا تو احلام کے چہرے پر حیا کے رنگ چھائے ہوئے تھے۔ عمر اپنا ہاتھ اس کے بالوں تک لے کر گیا اور
اور احلام کے بال مکمل طور پر کھول دیے۔ احلام اس وقت مکمل طور پر عمر کے رحم و کرم پر تھی ۔جس نے احلام کو کمر سے تھام کر اپنے نزدیک کررکھاتھا۔ احلام اس وقت عمر کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جہاں دنیا جہان کا بے پناہ پیار تھا ۔عمر احلام کو مزید وقت نہیں دینا چاہتا تھا۔ عمر جانتا تھا کہ اگر احلام کو مزید وقت دیا گیا تو احلام عمر سے دور ہو جائے گی ۔اسی لیے عمر نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ احلام کو مکمل طور پر اپنا بنا لے گا تاکہ وہ جلد از جلد احلام کو یہ بات ثابت کر سکے کہ احلام صرف عمر کی ہے۔
” ایک وعدہ کرو مجھ سے احلام تم آج۔”
عمر نے احلام کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے احلام کے بے انتہا نزدیک ہو کر اس سے وعدہ مانگا۔
” کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤں گی ۔بولو میری جان مجھ سے وعدہ کرو تم کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔”
” میں کیسے وعدہ کر لوں عمر ۔میرے اختیار میں کچھ نہیں ۔قسمت ہمیں نزدیک لے آئی ہے اور وہی قسمت ہوسکتا ہے تمہیں مجھ سے دور بھی لے جائے۔”
یہ بات سنتے ہی عمر نے احلام کے بالوں کو اپنے ہاتھ کی مٹھی میں قید کر لیا ۔احلام کی ایک سسکاری نکلی مگر عمر کو اس پر بالکل بھی رحم نہ آیا. عمر یہ الفاظ ہرگز سننا نہیں چاہتا تھا۔
” قسمت اپنے فیصلے کرتی رہتی ہے مگر ایک بات یاد رکھو احلام ۔تم میری ہو تمہیں میرا ہی رہنا ہے۔ میں نے تمہیں کل بھی ایک بات کہی تھی کہ میرے مر جانے کے بعد بھی تم مجھ سے الگ نہیں ہوگی۔ تمہارے ساتھ چاہے میں ایک دن گزاروں یا سو سال تم میرے ساتھ ہو ہمیشہ ۔میری قسمت تمہارے ساتھ جڑ چکی ہے۔”
“عمر ۔۔۔۔”
احلام کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے ہی عمر اس کے لبوں پر جھک گیا۔عمر کے لمس میں اتنی شدت تھی کے احلام جی جان سے کانپ گئی۔اصل معنوں میں احلام کی جان تب نکلی جب عمر نے احلام کے ڈریس کی زپ کھولی۔اپنی کمر پر عمر کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے احلام کی ٹانگوں پر کھڑے رہنے کی بھی سکت باقی نہ رہی۔عمر اسے اٹھائے بیڈ تک لایا اور اسے بیڈ پر لٹا دیا۔احلام عمر کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔عمر احلام کے پاس آیا اور اس کی شفاف گردن پر جھکا۔احلام کے ہاتھ عمر کی بازو کو تھامے ہوئے تھی۔احلام جانتی تھی کے یہ وقت تو اس کی زندگی میں آنا ہے مگر اتنی جلدی اور عمر جیسا شخص اس کی قسمت میں ہوگا یہ بھی احلام نے کبھی سوچا نہ تھا۔
احلام کو اپنے وجود پر عمر کے بے تاب لبوں کا لمس محسوس ہو رہا تھا۔عمر اس پر چھا رہا تھا۔احلام کی آنکھوں میں خالی پن دیکھ کر عمر نے اس کا چہرہ اوپر کیا۔
“میری طرف دیکھو احلام۔تمہاری آنکھوں میں یہ خالی پن کیوں ہے۔تم میرے ساتھ ہو۔ جب تم میرے ساتھ ہو تو تمہاری آنکھوں میں حیسن رنگ دیکھنا چاہتا ہوں میں۔میری قربت تمہارے لیئے ایک خوبصورت یاد ہو۔میں جب تم سے دور رہوں تو ان لمحوں کو سوچ کر تمہارے لب مسکرانے لگیں احلام۔”
عمر نے جھک کے اس کی گال پر بوسہ دیا۔احلام نے رخ پھیرنا چاہا مگر عمر نے احلام کا چہرہ دوبارہ اپنی طرف کر لیا
ہو جاو میرے اور خود کو مجھے سونپ دو
بس جاو میری دھڑکنوں میں
اور میرے احساس کو پڑھ لو
سمجھو میرے جذبات کو
اور ان میں بہہ جانے دو
بنا لو اپنی ضرورت مجھے
میری عادت خود کو بننے دو
آنکھوں سے چڑھنے دو
نشہ اپنے پیار کا
ہونٹوں سے تر ہونے دو
دھوپ ہے تنہائی کی مجھ پر
کرو محبت کا سایہ
اب اس دھوپ کو مدھم ہونے دو
ہو گئی تھی شام طویل تیرے انتظار کی
بکھرو اب چاندنی اپنی چاہت کی
اور مجھے اپنی گود میں سونے دو
شفق لاہور شاعر
________________________________
رات بیت گئی اور صبح اپنے پر پھیلا چکی تھی تھی ۔احلام کی آنکھ کھلی تو اسے خود پر وزن محسوس ہوا ۔اپنے اوپر سوئے ہوئے عمر کو محسوس کرکے احلام کو گزری ہوئی رات کی تمام باتیں یاد آگئیں۔ تمام رات عمر نے احلام کو سونے نہیں دیا تھا اور اپنی محبت کا احساس دلاتے دلاتے عمر شاید یہ بھول چکا تھا کہ احلام کے بھی کچھ احساسات ہیں۔ احلام خاموشی سے عمر کو اس کا حق لینے دے رہی تھی۔ کیونکہ احلام عمر کو سوال کرنے کا حق نہیں دینا چاہتی تھی کہ احلام نے کبھی اسے اس کا حق دینے سے انکار کیا تھا ۔احلقم جانتی تھی کہ عمر جو کہ رہا ہے وہ اس کا حق ہے ،اس لئے خاموشی سے احلام نے عمر کو اس کا حق دے دیا۔ مگر عمر کے لیئے احلام کے دل میں وہ جذبہ نہیں آپایا جو عمر لانا چاہتا تھا۔
عمر کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے ساتھ سوئی ہوئی احلام کو دیکھا جس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ عمر نے جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تو احلام نے اس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی۔
” ابھی تم مجھ سے ایسے بی ہیو کرو گی کیا میری جان ۔اب تو ہمارے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہا کہ جس کی بناپر تم یہ کہو کہ عمر میرا نہیں ہے۔”
” میں نے تمہیں تمھارا حق دینے سے انکار نہیں کیا عمر لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے تمہیں زندگی میں وہ مقام دے دیا ہے جو تم مجھ سے چاہتے ہو۔ میری زندگی بہت خالی ہے عمر تم نے میرے وجود پر میری روح پر اپنی مہر ثبت کر دی ہے مگر شاید تم کبھی میرے دل کے دروازے کو کھول نہ پاو۔”
عمر اس کی بات سن کر ہنسنے لگ گیا اور جھک کر اس کے سینے والے مقام پر ایک بوسہ دیا۔اس کی حرکت پر احلام خود میں سمٹ گئی۔
” تم کہتی ہو نا میں یہاں جگہ نہیں بنا سکتا۔ لو دیکھو تمہارے دل میں تو میری جگہ شروع سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔تم کبھی اس جگہ کو چھین نہیں سکتی۔1 تمہارے دل کا ہر دروازہ میں نے کھول رکھا ہے میری جان۔ ورنہ تم کبھی مجھے خود تک رسائی کی اجازت نہ دیتی ۔میں جانتا ہوں تم کتنی ضدی ہو۔ اگر تم مجھے نہ اپنانا چاہتی توتم کبھی مجھے اپنا آپ نہ سونپتی احلام ۔ایک دن تم مجھے یہ بات بھی کہو گی کہ عمر میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔”
” یاد رکھو عمر وجود تک رسائی حاصل کرنے سے کوئی انسان کسی کے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ وجود تو کوئی کسی کا بھی حاصل کر سکتا ہے مگر دل بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔”
عمر نے اس کا گال سہلانا شروع کیا اور بہت پیار سے کہا ۔
” میں نے تمہارے دل تک رسائی حاصل کی ہے وجود تک نہیں ۔وجود کی چاہت ہوتی تو بہت سال پہلے تمہیں اپنا چکا ہوتا ۔اپنے اور تمہارے درمیان ہر فاصلہ مٹا دیتا مگر میں چاہتا تھا کہ ہمارا ساتھ ازلی ہو اس لئے میں نے تمہارے دل تک رسائی حاصل کی ہے میری جان اور ایک بات یاد رکھو میں ایک عام انسان ہو بشر ہوں اور بشر عشق کرنا جانتا ہے ۔تم تو میری جان ہو میری شہزادی۔ پاس رہتی ہو تو میں کیوں نہ تمہیں اپناوں۔ میری جائز مالکیت ہو ،میری جان ہو، تمہارے وجود سے ہی میری سانسیں چلتی ہیں ۔میری جان تمھیں اپنا کر میں نے خود کو سانسیں دی ہیں ۔میری زندگی تمہارے ساتھ ہونے سے چل پڑی ہے ۔احلام تمہیں چھونے سے میری زندگی جی اٹھی ہے اور تمہارے دل تک رسائی حاصل کرنا میرے لیے مشکل بات نہیں احلام۔”
عمر ایک مرتبہ پھر اسے بانہوں میں لے چکا تھا۔”عمر صبح ہوگئی ہے۔تم غالبا ایک گھنٹہ پہلے ہی سوئے ہو۔”
“تو میں تو پوری رات جاگ سکتا ہوں، مجھ میں اتنی سکت ہے۔ویسے بھی تم نے کوئی کام نہیں کرنا بس آرام کرنا ہے۔میری جان تم نے صرف اپنے شوہر اپنے عمر پر دیھان دینا ہے۔”
عمر نے شدد بھرا بوسہ اس کے لبوں پر دیا۔عمر ایک بار پھر احلام کو اپنی قید میں لے چکا تھا۔
________________________________
احلام اور عمر دونوں ناشتے کی ٹیبل پر آئے ۔ یہ لوگ لیٹ ہوگئے تھے مگر سب نے ان کے ساتھ ہی ناشتہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دن کے گیارہ بجے رہے تھے۔ احلام نے اس وقت بے انتہا خوبصورت رنگ کا پربل فراک پہنا ہوا تھا جس پر عمر نے اسے سونے کے زیور پہنائے تھے۔ بال دوپٹے کے اندر چھپے ہوئے تھے جو عمر نے اسے اپنے ہاتھوں سے کروایا تھا ۔عمر احلام کو لے کر ٹیبل پر بیٹھا تو سب لوگوں نے اکٹھا اس کو اور عمر کو سلام کیا ۔جبار نے آگے بڑھ کر احلام کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔انابیہ نے احلام کے ماتھے پر پیار دیا جبکہ آغا جان بھی احلام کے سر پر ہاتھ پھیر کر کرسی پر بیٹھ گئے۔
” ہماری بیٹی ٹھیک تو ہے نا کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا نا احلام بیٹی۔”
” آغا جان نے سوال کیا۔” آغا جان میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی پریشانی نہیں۔”
” آغا جان ہماری بیٹی کو کیوں پریشانی ہوگی۔ ہماری شہزادی کو تو ہم بہت زیادہ خوش رکھیں گے ۔ہماری بیٹی کا انتظار تو ہم بہت عرصے سے کر رہے ہیں ۔اب جب یی یہاں آگئی ہے تو ہم اس کی ہر خوشی کا خود دھیان رکھیں گے ۔ہماری بیٹی ہے یہ۔عارف سے وعدہ کیا تھا یم نےکہ اپنی بیٹی کا مکمل طور پر خیال رکھیں گے ۔اب جب ہماری بیٹی ہمارے پاس ہے تو ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اپنی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرنے میں۔”
جبار احلام کے ساتھ ہی کرسی پر بیٹھا تھا۔ جبار نے احلام کے سر پر دوبارہ ہاتھ رکھا۔ احلام کی آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا جسے عمر نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا۔ عمر جانتا تھا کہ احلام نے کبھی اتنا پیار اکٹھا نہیں دیکھا جس کی وجہ سے احلام کو یہ سب کو قبول کرنے میں بہت وقت لگ رہا ہے ۔امی احلام کو مخاطب کرنے لگا۔
” گوہر آپ کو پتہ ہے میں تو کب سے انتظار کر رہا ہوں۔ کہ آپ ہمارے گھر آہیں۔عمر لالہ کہا کرتے تھے کہ جب احلام ہمارے گھر آ جائے گی تو تم سب لوگ جو چاہے مرضی کنا ورنہ عمر لالہ تو ہمیں کسی چیز کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اب آپ آ گئی ہیں نہ تو اب ہر کام میں ہمارا ساتھ دیا کریں۔ آپ جانتی ہیں ہمارے ہاں بھابی کو ماں سمجھا جاتا ہے۔ آپ تو ہمارے لیے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ ہمارے بھائی کی محبت ہی نہیں بلکہ آپ ہم سب کے لئے بہت معتبر ہیں۔ آپ ہمارے قبیلے کی بڑی سردارنی ہیں۔ ہم ساری زندگی آپ کے حکم کے پابند رہیں گے آپ جانتی ہیں۔”
“عمیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے گوہر ۔آپ مجھ سے اگرچہ ایک سال ہی بڑی ہیں مگر آپ کا مقام ایسا ہی ہے جیسے ماں کا ہوتا ہے ۔بڑی بھابھی ہمارے ہاں ماں کی حیثیت رکھتی ہے ۔آپ بھی ہمارے لئے ایسی ہی ہیں۔ آپ ہمیں بھائی سمجھیں ۔ آپ کو بالکل بھی یہ احساس کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ پرائے گھر میں ہیں ۔یہ گھر یہ محل ، سب لوگ آپ کے ہیں۔”
“کیا عون تم سب لوگ بھی بچی کو تنگ کرنے لگ گئے ہو۔ ان سب کی باتوں کو چھوڑو میرا بچہ۔ ہم ہیں نہ ہماری بیٹی کو ہم خود اپنے علاقے کی ہر ایک روایت سیکھائیں گے۔ہم خود اسے اپنی جیسا بنائیں گے۔ ہماری بیٹی پوری امید ہے ہمیں ہمارا مکمل طور پر ساتھ دے گی۔ ابھی اسے ناشتہ کرنے دو ۔اتنا لمبا سفر طے کر کے آئی ہے۔تھک گئی ہو گی پھر اس کے والدین سے بھی اسے ملوانا ہے ۔وہ لوگ سب باہر آئلہ کے ساتھ گھومنے کے لیے گئے ہیں علاقہ دیکھنے۔”
دادی صاحب یعنی ملکہ نے سب کو خاموش کروایا۔” جبار کیا ہم بیٹی کو مکلاوے کی رسم کے لئے بھیجیں گے اس کے گھر۔”
انابیہ نے جبار سے سوال کیا تو اس کے جواب دینے سے پہلے ہی عمر بول پڑا۔” نہیں ماما میں احلام کو دوبارہ پنڈی نہیں بھیجوں گا جب خود جاؤنگا تو اسے لے کر جاؤں گا۔ مکلاوے کی رسم تقریبا پوری ہو چکی ہے ۔ انٹی کو ملنے میں خود جایا کروں گا ۔انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو گی تو میں خود ان سے بات کروں گا۔ ویسے بھی ہم اپنی ملازمہ ان کے ساتھ بھیج رہے ہیں۔ اگر وہ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتی تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا فرض نبھائیں۔ تاج جو آپ کی ملازمہ ہے مانا اسے آنٹی کے پاس بھیج رہے ہیں۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔”
” مجھے کیا اعتراض ہوگا۔ بلکہ اچھا ہے بھابھی جان یہاں نہیں رہنا چاہتی ہیں تو میری ملازمہ ان کے پاس ہو تاکہ ان کی دیکھ بھال تو کوئی کرنے کے لیے ہو۔ میں چاہتی تھی کہ بھابھی ہمارے پاس رہیں مگر وہ نہیں مان رہی۔ تاج ان کا بہت اچھے سے خیال رکھے گی۔ ویسے بھی تاج ہمارے خاندان کے افراد جیسی ہے۔ ہم نے اسے کبھی اپنا ملازم نہیں سمجھا۔ ٹھیک ہے نا احلام بیٹا آپ راضی ہونا ہر چیز پر۔”
“جی آنٹی۔”
“ارے ہمیں ماما بولو بچے ۔ہمیں اچھا لگے گا۔”
ناشتے کے بعد احلام کی والدہ اور بہنیں آخری مرتبہ اسے ملنے کے لئے آئی۔اس کے بعد یہ سب لوگ پنڈی کے لیے نکل رہے تھے۔ اس وقت احلام کو احساس ہوا کہ حقیقت بدل چکی ہے اور یہ اپنے گھر سے کتنا دور آچکی ہے۔
” اپنا بہت خیال رکھنا احلام مجھے امید ہے کہ تم اپنے سسرال میں کسی کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔”
“امی میں یہاں کیسے رہوں گی۔یہ لوگ بہت مختلف ہیں۔ “
“بیٹا رہنا تمہیں اب یہاں ہی ہے۔بس اپنا گھر سمجھنا اسے۔”
ردا سے تو برداشت نہیں ہورہا تھا اس لیئے احلام کی گردن پر نظر آتے عمر کے لمس کے نشان پر طنز کرتی بولی۔
“لگتا ہے ہمارے وحشی بہنوئی کا روپ کچھ خاصا پسند نہیں آیا ہماری بہنا کو۔”
“ردا کبھی تو بعض آیا کرو ۔”
سائمہ نے اسے ایک تھپڑ لگایا۔
“ہم چلتے ہیں احلام اپنے خیال رکھنا۔”
سریا بیگم نے اس کے سر پر پیار دیا۔جبار اور انابیہ عمر کے ساتھ سریا بیگم کو باہر چھوڑنے گئے۔عمر واپس آیا تو روتی ہوئی احلام کو سینے سے لگا لیا۔
“میں ہوں نہ میری جان۔تمہیں پیار کرنے خیال رکھنے کے لیئے۔تمہاری آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے۔احلام نے نظر اٹھا کر عمر کی طرف دیکھا پھر دوبارہ خود کو عمر کی مضبوط بانہوں میں چھپا لیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: