Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 13

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 13

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
سلیمان زیارت آیا ہوا تھا عمر سے ملنے کیلئے۔ پارٹی کے متعلق کچھ باتیں کرنی تھی عمر سے سلیمان نے۔ ایسا ہو نہیں سکتا تھا سلیمان صرف عمر سے ملنے کے لیے آئے۔ عمر نے احلام کی ملاقات بھی سلیمان سے کروائی تھی اس کے بعد سلیمان عنایہ سے ملاقات کے لئے نکل پڑا ۔سلیمان نے عنایی کو کال کی تھی کہ مجھ سے آ کر ملو ۔پہلے عنایہ انکار کرتی رہی مگر سلیمان کے بہت زیادہ اصرار پر وہ سلیمان سے ملنے کے لیے آ گئی ۔ان دونوں کی ملاقات ہانہ لیگ کے پاس ہونی تھی۔
سلیمان انتظار کر رہا تھا جب سامنے سے آتی ہوئی عنایا اسے نظر آئی ۔کالے رنگ کے شلوار قمیض پر عنایہ نے گلے میں کالے رنگ کا ڈوپٹا کر رکھا تھا جبکہ بال چٹیا کی صورت میں بندھے ہوئے تھے۔ اسٹائلش سی فرینچ چوٹیا میں عنایہ پری لگ رہی تھی عنایہ کی عمر گویا اس وقت 27 سال تھی مگر اپنی عمر کی لڑکیوں سے یہ بہت زیادہ یگن لگتی تھی۔ سلیمان ہمیشہ عنایہ سے ایک ہی سوال کرتا کہ تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی تو عنایہ کا ایک ہی جواب دیتی کہ مجھے ابھی تک کوئی ایسا انسان ملا ہی نہیں جو میرے دل کو بھا جائے اور عنایہ کہتی تھی کہ بابا جان کہتے ہیں ان کو ماما سے تب محبت ہوئی جب انہوں نے ماما کو پہلی بار دیکھا تھا ۔میں بھی جب کسی اچھے انسان کو پہلی بار دیکھوں گی، محبت کروں گی تو اسی سے شادی کروں گی ۔سلیمان عنایہ کی اس بات پر ہمیشہ ہنستا اور کہتا کہ سسر صاحب ہمیشہ میرے نمبر کاٹ دیتے ہیں۔
“اسلام علیکم عنایہ۔”
“ولیکم سلام سلیمان ۔مجھے امید نہیں تھی کہ تم مجھے ایسے یہاں ملنے کیلئے بلاؤ گے۔ آج یہاں زیارت میں کیسے آنا ہوا تمہارا اور یہاں مجھے تم نے ہانہ لیگ ہی کیوں بلایا ہے۔”
” میں تم سے چند باتیں کرنے کے لئے آیا ہوں تمہارا ساتھ۔یہ جگہ مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ سردیوں میں میں یہاں آیا کرتا ہوں تو مجھے یہاں کا موسم بہت زیادہ پسند ہے۔ آج شہر کا موسم بہت اچھا ہے اس لیے میں نے سوچا کہ چلو اچھی جگہ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔تم جانتی ہوں نہ کہ ہم دونوں نے مل کر ایک فیصلہ کیا تھا۔”
” یاد ہے مجھے کیسی ہے روبی ۔ مجھے اس کا بتاؤ ٹھیک تو ہے نہ وہ۔”
“روبی بالکل ٹھیک ہے اور میں تمہیں یہ بات بتانے کے لئے آیا ہوں کہ روبی کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہونے والی ہے ۔تمہارا اس کے پاس ہونا بہت زیادہ ضروری ہے۔ ہمارے فصیلے کے مطابق روبی کی آنے والی اولاد ہم دونوں ایڈپٹ کریں گے تم اس کی والدہ ہوگی اور میں والد ۔اس سب کے لیے تمہارا ہونا بہت زیادہ ضروری ہے ۔ایک بات اور کورٹ کی طرف سے مجھے آرڈر آیا ہے کہ جو لوگ اس کو ایڈپٹ کریں گے ان کی آپس میں شادی ہونا ضروری ہے۔”
” سلیمان ہم نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی تھی۔ میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ روبی کا بچہ پیدا ہوجانے کے بعد میں وہ بچی اپنے پاس رکھوں گی۔ میں اسے ماں بن کرپالوں گی۔ تم صرف نام کے باپ ہو گے۔سلیمان تم شادی کر سکتے ہو صرف اور صرف عربی کے بچے کے کاغذات پر تمہارا نام ہوگا۔”
” کیوں عنایہ صرف تم بچے کی ماں ہوگی ۔روبی کو میں نے اپنے پاس رکھا اور اب اب جب بچا آنے والا ہو تو روتی کو لے جاؤ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا ۔مجھے اس کی ماں سے بھی بہت زیادہ انسیت ہے اپنی بہن بنا کر اس کو رکھا ہے میں نے۔ علاقے میں سب یہی جانتے ہیں کہ وہ میری کزن ہے اور اب جب بچہ آجائے تو میں اس کو تمہارے ہاتھ میں دے دوں ایسا ہو نہیں سکتا ۔وہ میرا بیٹا ہوگا میں تمہیں ہرگز نہیں دوں گا۔ اگر تم چاہتی ہو کہ تم اسے ایڈپٹ کرو تو تمھیں مجھ سے شادی کرنی ہوگی۔”
وقت بہتسال پہلے کی طرف واپس چلا گیا جب تیمور نے انسہ کو مجبور کیا تھا کہ وہ اس سے شادی کرر مگر عنایہ کا انسہ سے بہت گہرا رشتہ تھا ۔عنایہ انسہ کی بھانجی ہی نہیں بیٹی جیسی بھی تھی اور بہن کی آخری نشانی۔ یہاں معاملہ کچھ اور تھا ۔ایک لڑکی کو عنایہ نے پناہ دی تھی اور سب سے مضبوط سہارا روبی کے لیئے دنیا میں سلیمان ہی تھا۔ عنایہ دنیا میں ایک ہی انسان پر سب سے زیادہ اعتماد کر سکتی تھی اور وہ اس کا سب سے بڑا دشمن سلیمان ہی تھا ۔اپنے دشمن پر اعتماد کرنا بڑی عجیب بات تھی مگر عنایا جانتی تھی کہ سلیمان کبھی اسے اس معاملے میں دھوکہ نہیں دے گا ۔اس لئے ایک 18 سال کی لڑکی کی ذمہ داری عنایی نے سلیمان کو دیدی۔ عنایی کی اپنی ایک کہانی تھی جو کوئ نہیں جانتا تھا صرف عنایہ اورسلیمان جانتے تھے۔ اس کے علاوہ عمر کو یہ بات معلوم تھی۔
روبینہ عنایہ کو بہت زیادہ عزیز تھی۔ روبینہ عنایی کے لیے ایک چھوٹی بہن تھی جیسے حورین۔
” تم مجھے اس بات کے لئے ہرگز مجبور نہیں کرسکتے سلیمان ۔ہمارا وعدہ پہلے ہی ہوچکا ہے کہ جیسے ہی روبی کے ہاں بیٹا یا بیٹی پیدا ہوگیتو اس کو میں لے لوں گی۔ بے شک تم اس کے باپ کہلاو گے مگر میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔اس کو میں خود اکیلے پال سکتی ہوں میرے پاس اتنا سرمایا ہے۔”
میں کیوں کسی برائے بچے کو اپنا نام دوں جب وہ میرے پاس ہی نہ رہے۔ میں نے سب کو یہی بتایا ہے کہ میری بیوی کا نام عنایہ ہے اور ہمارے ہاں اولاد کی پیدائش ہونے والی ہے۔ “
تمہیں یہ سب باتیں کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ میری تم سے شادی نہیں ہوئی سلیمان۔ ایک معاہدہ تھا کہ ہم ایک بچے کو مل کر ایڈپٹ کریں گے تم نے کیسے سوچ لیا کہ میں تم سے شادی کروں گی۔ وہ بچہ میرا ہے اور میں ہی اس کو رکھوں گی۔”
تمہاری اطلاع کیلئے عرض ہے کہ روبی نے اپنے بچے کی تمام ذمہ داری مجھے یعنی سلیمان خان کو دی ہے اپنے بھائی کو ۔ وہ مجھ پر تم سے زیادہ اعتبار کرتی ہے۔ اب وہ اپنا بچہ مجھے دے گی اور میں اس کی شکل بھی تمہیں دیکھنے نہیں دوں گا۔ میری یہ بات یاد رکھنا میں نے اس کی ماں کا بڑا خیال رکھا ہے ۔ بچے کا بھی بہت زیادہ انتظار کیا ہے میں نے اپنے والدین کے خلاف جاکر اس بچے کو اپنا نام دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اب تمہیں پیچھے ہٹ رہی ہو تو میں کیوں نہ اس بچے کو تم سے ہمیشہ کیلئے دور لے جاؤں۔”
“جو اس دنیا میں آیا ہی نہیں تم اس کے آنے سے پہلے ہی کیسے اس بچے کی زندگی کا فیصلہ کر رہے ہو۔”
نہیں عنایہ خان ایسا کبھی ہو نہیں سکتا ۔وہ میرا بچہ ہوگا اگر تمہیں وہ چاہے تم نے مجھ سے شادی کرنی ہوگی میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کو ایک مکمل ماحول دیا جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ ایک ماں کے ساتھ بھی رہے اور باپ کے ساتھ بھی۔ تم اور میں دونوں ایڈپٹ بچے ہیں ہمارا بچپن ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں یہ آنے والا بچہ ہم دونوں کے زیر سایہ رہے۔ ہم اسے مل کر پالیں اور وہ محبت دیں جو اسے لوگ نہیں دے سکتے۔ میری شدید خواہش ہے کہ اس کی ماں تم بنو۔ اگر تم نے شادی کرلی اور تمہارے شوہر نے نے میرے بچے کو رکھنے سے انکار کردیا تو پھر میں کیا کروں گا اور ویسے بھی کورٹ اجازت نہیں دیتا کہ ہم الگ الگ شادیاں کریں اور ایک بچے کو اکٹھا ایڈپٹ کریں۔”
سلیمان تم اس بات پر مجھے مجبور مت کرو میں نے پہلے ہی بانا سے بہت زیادہ لڑائی کرکے اس بات پر راضی کیا ہے کہ میں ایک بچے کو ایڈپٹ کروں۔
عنایہ تمہیں کیا مسئلہ ہے مجھ سے شادی کرنے میں۔ اگر میرے تمہیں وڈیرہ ہونے سے مسئلہ ہے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ شادی کے بعد تمہیں کبھی وڈیروں والی کوئی بات مجھ میں نظر نہیں آئے گی۔ میرا تعلق صرف میرے علاقے سے ہے جہاں میں ایک وڈیرہ ہوں اس کے علاوہ میری زندگی میں وڈیرے جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ تمہیں اگر ڈر ہے کہ میں چار پانچ شادیاں کروں گا تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ میرے نے میری ماں کے ساتھ شادی کی آج تک نبھائی۔ تم جانتی ہو میری ماں کے مرنے کے بعد بھی میرے باپ نے کبھی دوسری شادی کا نام نہیں لیا۔ تم ہمارے علاقے کی رانی ہو گی تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا ہماری روایات اپنانے کیلئے۔ وہ میری زندگی ہے جو میری آنے والی اولاد تو اپنا سکتی ہے مگر میں تمہیں کبھی مجبور نہیں کروں گا۔ بس اتنا کہوں گا کہ تم میرے ساتھ عزت سے رہ لینا اتنی سی بات ہے میں تمہیں ہر طریقے کی آسائش دوں گا محبت ،عزت سب کچھ دونگا ۔میرے لوگ تمہیں بہت چاہیں گے کہ تم سے التجا ہے ، میں چاہتا ہوں اپنے بچے کو ہم دونوں اپنا نام دیں اور میں چاہتا ہوں کے روبینہ جواب اس دنیا سے چلی جائے گی میں نہیں جانتا وہ پہلے جائے گی یا میں پہلے جاؤں گا مگر قسمت کو جو منظور اگر وہ پہلے چلی گئی تو اس کی آنکھوں میں جو خواب ہے کہ اس کا بچہ اس دنیا میں محفوظ ہاتھوں میں رہے وہ پورا ہو جائے۔”
“میرے نزدیک تو میرے آئیڈیل نہیں ہو سلیمان۔ میں کیسے تمہارے ساتھ پوری زندگی گزار لوں گی ۔تم نے کبھی اپنا رویہ دیکھا ہے جگہ جگہ تو تمہارے خلاف لوگ باتیں کرتے ہیں۔ لوگوں پر ظلم کی داستانیں مشہور کر رکھی ہیں تم نے۔ میں کیسے ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کر سکتی ہوں۔”
“ظلم کی داستانیں تو تمہاری کزن عمر نے بھی بہت زیادہ رقم کر رکھی ہیں۔ تب تمہیں برا نہیں لگا۔ میں نے کسی پر بےجا ظلم نہیں کیا جو لوگ کہتے ہیں کہ میں ظلم کرتا ہوں پہلے وہ لوگ اپنے گناہ کو دیکھیں جس کی بدولت انہیں سزا دی جاتی ہے۔عنایہ میں آخری بار کہہ رہا ہوں تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے تو کر لو۔ اس کے بعد میں تمہیں ہرگز نہیں کہوں گا تمہیں خود میرے پاس آنا ہوگا ۔عنایہ میں چاہتا ہوں کہ روبینہ کی ڈلیوری پہلے میری تمہاری شادی ہو جائے تاکہ جب بچہ اس دنیا میں آئے تو دنیا کے والوں کے سامنے ہم یہ ظاہر کریں کہ وہ ہمارا بچہ ہے۔ روبینہ نے مجھے کہا ہے کہ اسے یہ بات بہت زیادہ دکھ اور تکلیف دے گی جب اس کے بچے خو کوئی ناجائز کہے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ میری بہن اس تکلیف سے گزرے۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ ڈلیوری سے پہلے دونوں کی شادی ہو جائے اور دنیا کے سامنے اسکا بچہ میرا بچہ کہلایا جائے۔”
عنایہ اس کی بات پر بے انتہا پریشان ہوگئی تھی۔ روبینہ اسے بہت زیادہ عزیز تھی اور اب ایک بچے کی زندگی کا سوال تھا اس لیے عنایہ خاموش ہو گئی اور پھر بولی۔
“بابا جان سے بات کروں گی میں ۔وہ جو بات کہیں گے وہی تمہیں جواب دوں گی۔ مجھے امید ہے کہ ہم آنے والے بچے کے مستقبل کا بہتر فیصلہ کریں گے ویسے کوئی نام سوچا ہے تم نے۔”
“زین، زین نام رکھوں گا میں اس بچے کا۔ تم جانتی ہو احلام بھابھی کے بھائی سے میری ملاقات ہوئی ہے ۔بھابھی کے بھائی کا مجھ پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔ زین کے مرجانے کے بعد میری بڑی خواہش تھی میرا بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام زین رکھوں۔ احلام بھابھی نہیں جانتی کہ ان کے بھائی سے کتنی محبت کرتا ہوں میں۔ زین کی موت مجھے کتنے سال پیچھے لے گئی ہے۔ زین کے مجھ پر بڑے احسان ہیں اس نے جو میری مدد کی ہے وہ کوئی اپنا بھی نہیں کرسکتا اس لئے میں اپنے بیٹے کا نام زین رکھوں گا۔”
“زین پیارا نام ہے اور اگر بیٹی پیدا ہوگئی تو۔:
“اگر بیٹی پیدا ہوگئی تو اس کا نام ہم دونوں فرشتے رکھیں گے۔ مگر ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ روبی کا بیٹا ہے۔ اس لیے میں نے دو نام سوچ تو لیئے مگر جو اللہ کو منظور۔”
“کل تک جواب دے دوں گی ۔مگر یاد رکھنا شادی کے بعد مجھ سے ایسی امید مت رکھنا کہ میں تمہارے کسی غلط کام میں تمہارا ساتھ دوں گی۔ میں اپنی وکالت جاری رکھوں گی جیسے میں آج کرتی ہوں۔ میں گھر داری کی ذمہ داری تو سنبھال سکتی ہوں مگر ساتھ ساتھ میرا ایک زندگی کا مقصد ہے میں چاہتی ہوں کہ بے سہارا اور بے آسرا لوگوں کی آواز بنوں۔”
“میں تمہیں کبھی نہیں رکوں گا تم جب میری زندگی میں آؤں گی تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کتنا ظالم ہوں ۔بابا جان سے بات کر لو پھر مجھے جواب دے دینا ۔ تمہاری ساس نے میرے رشتے کیلئے آنا ہے یہاں تمہارے ہاں۔”
عنایہ بہت زیادہ میجور مائنڈڈ پرسن تھی ۔ سلیمان اس سے چار سال بڑا اور اس سے بھی زیادہ سمجھدار تھا۔سلیمان کو عنایہ پہلی ہی نظر میں پسند آگئی تھی اور سلیمان اس کو دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ اس کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم لڑکی عنایہ ہوگی۔ اس لئے پورے چار سال سے وہ عنایہ کے پیچھے تھا اور آخرکار آج وہ عنایہ کو اس جگہ پر پر لے ہی آیا تھا جہاں ہیں ہمیشہ چاہتا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: