Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 14

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 14

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
Ek boond mein dard hai laakhon
Kehta hai aankh ka paani
Marham se bhi na bharegi
Apne zakhmon ki nishani
Haan shartein rakhi thi khushiyon ne
Jinko tha dard mein badalna
Lafzon ne chhod rakha tha
Hothon pe theharna aa…
Aa…
Meri aankhein khule jab bhi
Khule teri hi aahat pe
Jo dum baaqi hai wo nikle
Teri chaahat ki chaukhat pe
احلام اپنے کمرے کے سامنے والی سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ عمر کے کمرے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ایک طرف سے اس کا کمرا گراؤنڈ فلور پر آتا تھا جبکہ دوسری طرف سے اس کا کمرا پہلی منزل پر تھا ۔گراونڈ فلور کے آگے والا حصہ درختوں اور گارڈن پر مشتمل تھا جبکہ پہلی منزل والی طرف کا حصہ نیچے محل میں لگتا تھا۔ اس کے ساتھ تین چار کمرے اور بھی تھے اور یہ سارا سبز رنگ کے رنگوں سے سجا ہوا پورشن تھا ۔احلام اس وقت سامنے درختوں کو دیکھ رہی تھی اور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو بھی۔ آنسو آنکھوں سے نکل کر احلام کے مہندی لگے ہاتھ پر گر رہے تھے ۔احلام کی زندگی ایسی گزری تھی کہ کبھی اکیلے روتے ہوئے احساس ہوا کہ کوئی پاس ہے ہی نہیں تو اور رونا آیا ۔جب کوئی پاس تھا تو اسے قبول کرنے میں اسے اتنا وقت لگ رہا تھا. احلام کی زندگی ایسی تھی کہ روز اٹھ کر یہ ہمیشہ ایک نئی امید کرتی کہ زندگی نئے سرے سے گزارنی ہے. زندگی ہمیشہ احلام کے ساتھ مذاق کر کے ہی جاتی تھی اس لئے احلام نے خوشیوں کی ہر امید لگانا چھوڑ دی تھی ۔کئی مرتبہ تو احلام نے خواہش کی کہ وہ اس دنیا سے چلی جائے پھر ایک بات اس کے دماغ میں آتی کہ اگر اس دنیا میں آئے ہو تو آنے کا کوئی مقصد ہو گا ۔کچھ کر ہی جانا ہے۔ آج یہاں اس محل میں بیٹھے ہوئے اس کی رانی بن کر احلام بالکل خوش نہیں تھی۔ اس کا دل بالکل خالی تھا. لوگوں کے لئے باتیں کرنا بہت آسان ہوتی ہیں کہ کوئی انسان زیور اور ہیروں سے لادا ہوا ہو تو اس کی لیئے خوشیاں قبول کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر احلام جیسا انسان جس نے تمام زندگی غم میں گزاری ہو ،وہ جب اچانک سے اتنی ساری خوشیاں دیکھیں تو قبول کرنا بے انتہا مشکل ہوتا ہے ا۔حلام جیسے لوگ بے انتہا سینسیٹیو ہوتے ہیں اور احلام کو شدید سائیکالوجیکل ایشو ہوچکا تھا جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے نزدیک جانا چھوڑ چکی تھی۔ ہر کوئی انسان احلام کو فریبی اور دھوکے باز ہیں لگتا چاہے وہ کتنا مرضی اچھا ہو یا چاہے جتنی مرضی اچھائی اس کے ساتھ کر دے. آج شادی کے چوتھے روز عمر کو پارٹی میٹنگ کے لیے جانا پڑا تھا جس کی وجہ سے احلام کمرے میں اکیلی تھی اب شام کا وقت ہو چکا تھا۔ احلام کا دن میں کھانے کا دل نہیں تھا مگر انابیہ نے زبردستی اسے کچھ نہ کچھ کھلا ہی دیا تھا ۔اب شام کے وقت ہلکی ہلکی سردی میں یہ باہر بیٹھی ہوئی تھی۔ سامنے لگے درختوں کو دیکھنا ہمیشہ سے اس کی خواہش تھی ۔ کسی ایسی جگہ پے اس کا گھر ہو جہاں بالکل خاموشی اور احلام کو تنگ کرنے والا کوئی نہ ہو. آج اسے کا جگہ پر بیٹھ کر اس کے دل کو سکون نہیں مل رہا تھا ۔مغرب کی نماز پڑھ کر یہ ابھی باہر آئی تھی اور تھوڑی واک کرنے کے بعد یہ سیڑھی پر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور عمر اندر آیا۔ کمرے میں احلام کو نہ پاکر عمر فورا باہر کی طرف آیا جہاں پر اسے احلام بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ احلام کے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ ڈوپٹہ سیڑھیوں پر پڑا ہوا تھا احلام درختوں کو دیکھ رہی تھی عمر فورا سے آیا اور اسے اپنے حصار میں لیا۔
” احلام جان یہاں کیوں بیٹھی ہو ایسے میری شہزادی ٹ۔ھیک تو ہو نہ بخار تو نہیں ہے. “
” نہیں عمر ایسے ہی دل اداس ہو رہا تھا اس لیے میں یہاں آ کر بیٹھ گئی کب آئے تم عمر. “
” ابھی ابھی گھر واپس آیا ہوں پارٹی میٹنگ تھی اور اس کے بعد تھوڑی دیر کے لئے آفس چلا گیا ۔ایک ہفتے بعد جوائن کرنا ہے معلوم ہے نا کہ میرے بغیر کام نہیں ہوتے۔ پھر بھی میں نے چھٹی لی اپنی جان کو وقت دینے کے لیے چلو اندر چلتے ہیں“عمر نے اس کا نیچے پڑا ہوا دوپٹہ اٹھایا اور اس کو اپنے حصار میں لے کر کھڑا کیا۔ احلام کا دل اتنا شدید خراب ہو رہا تھا کہ فورا ہی عمر کا ہاتھ چھوڑ کر واش روم کی طرف بھاگ گئی۔ اسے شدید و میٹنگ ہوئی اکثر احلام کو ووٹنگ رہتی تھی یہ کوئی چیز کھا لیتی تو اسے وومیٹنگ ہوجاتی۔ ڈاکٹر نے اسے بالکل ہلکا پھلکا کھانے کیلئے کہا تھا۔ آج انابیہ زبردستی سے اسے روسٹ گوشت کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے احلام کا دل بار بار خراب ہو رہا تھا۔
عمر فورا اس کے پیچھے آیا اور اس کے بال پکڑ کر کیچر میں لگائے ا۔حلام منہ دھو کر سیدھی ہوئی تو عمر کے سینے سے لگ گئی. “عمر میرا دل بہت زیادہ پریشان ہے مجھے ایسے لگتا ہے کہ مجھے ابھی موت آجائے گی۔ عمر میں بہت زیادہ پریشان ہوں تھوڑی دیر کے لئے میں آنکھیں بند کرنا چاہتی ہوں مجھے سکون نہیں مل رہا عمر…….. “
عمر احلام کی ہر کیفیت کو جانتا تھا اس لئے خاموشی سے احلام کے بالسں پر پیار دیا اور اسے واشروم سے لے کر باہر آیا ۔اس کے بعد عمر نے اسے بیڈ پر بٹھا کر نیچے جھک کر جوتے اٹھائے اور اس کے پاؤں میں پہنائے اس کے بعد عمر الماری کی طرف گیا اور ایک چادر نکال کر لایا جو احلام کے ارگرد پھیلائی ۔خود عمر ابھی آیا تھا مگر عمر نے یہ نہیں دیکھا کہ وقت کیا ہے عمر فورا سے احلام کو باہر لے کر جانا چاہتا تھا کہ اس کا دل بہل جائے.
” آجاؤ میری شہزادی باہر چلتے ہیں ۔تمہارا دل بہل جائے گا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ہلکا بخار بھی ہو رہا ہے ۔احلام تم نے دن میں کیا کھایا تھا. “
” عمر آنٹی نے مجھے گوشت کھلا دیا تھا۔ آپ جانتے تو ہیں کہ میں روسٹ گوشت نہیں کھاتی۔میرا دل بہت زیادہ پریشان ہو رہا ہے میری طبیعت خراب ہے عمر ۔میں تھوڑی دیر کے لئے سکون چاہتی ہوں ۔ مجھے سکون نہیں مل رہا. “
” کوئی بات نہیں آو ہم اپنے گارڈن کی طرف چلتے ہیں میں نے تمہارے لئے گارڈن بنوایا ہے تمہیں بہت اچھا لگے گا آج ہم اپنے گارڈن میں ہی رات گزار لیں گے چلو اٹھو میری جان. “
عمر اسے اپنی بازو کے حلقے میں لیے ہوئے کمرے کی بیک سائیڈ سے نکل کر باہر آیا۔جہاں اس نے پورا جہان آباد کر رکھا تھا یہاں ایک چھوٹی سی لیک بھی تھی جو اسنے احلام کے لئے بنوا رکھی تھی کہ جب یہاں پر آئے گی تو اس نظارے سے لطف اندوز ہوگی۔ احلام کا اس وقت کچھ بھی دیکھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ خاموشی سے عمر کے سینے میں سر دیے یہ آنکھیں بند کرکے کھڑی ہوئی تھی اور عمر اسے اپنے سہارے سے چلا رہا تھا. آج عمر کو حقیقتاً احساس ہوا کہ احلام کو سنبھالنا اتنا بھی آسان نہیں جتنا وہ سمجھتا ہے ۔احلام ٹوٹی ہوئی انسان ہے اور اس کے ٹکڑے جوڑنا جتنا مشکل ہے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ عمر اسے تھامے ہوئے گارڈن کی لیک تک لایا اور اپنے ساتھ بٹھالیا ۔نیچے سردی تھی اس لئے عمر نے احلام کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھایا.
” احلام دل بہتر ہوا ہے تمہارا. “
” عمر نجانے مجھے کس چیز کا خوف آرہا ہے۔ تم جانتے ہو جب سے زین بھائی کی موت ہوئی تھی نہ میرے دل میں ایک عجیب سا خوف بیٹھ گیا ہے مجھے وحشت ہوتی ہے میرا دل نہیں کرتا خوشیاں منانے کا ۔عمر تم بتاؤ نہ میں کیا کروں۔ تم بھی مجھ سے تنگ آ جاؤ گے نہ. “
” نہیں احلام ایسا نہیں ہے۔ میری جان تمہیں بخار ہونا شروع ہوگیا ہے بہت۔ پریشان مت ہوا کرو مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے جب تم ایسے کرتی ہو ۔دیکھو میں ہوں نہ تمہارے ساتھ تمہیں جو بات کرنی ہے تم مجھ سے کرو ۔اچھی ہو یا بری میں تمہارا ساتھ ہوں ۔میں تمہارا دل ہوں اور اپنے دل سے کوئی بات چجپایا نہیں کرتے میری جان“
” عمر مجھے ایک بات بتاؤ۔ میں کیسی انسان ہوں ۔میرے نصیب میں اتنے غم کیوں لکھے گئے۔ کیا میں نے کچھ برا کیا تھا جس کی وجہ سے مجھے اتنی بڑی سزا ملی ۔ تم جانتے ہو کبھی کبھی امی بھی تنگ آ جایا کرتی تھی جب میں بیمار ہو جاتی تھی یا میں امی سے چیز کی فرمائش کیا کرتی تھی ۔عمر کسی دن میں نے لوگوں کو خود پر ہنستے ہوئے بھی دیکھا ہے اور میں خاموشی سے چپ ہو گئی کہ یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں مگر وہ اس تکلیف کو نہیں جان رہے جو مجھے ہوتی تھی۔عمر مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے وہ سب کچھ سوچ کر میرا ماضی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا“
احلام عمر کے سینے پر سر رکھے ہوئے عمر کو اپنی تمام باتیں بتا رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ احلام نے عمر کو قبول کرلیا تھا مگر اس وقت احلام اکیلی تھی ،اسے عمر کا ساتھ چاہیے تھا اور عمر نے اسے وہ ساتھ مہیا کیا جس کی وجہ سے وہ عمر سے اپنی تمام باتیں کر رہی تھی۔
” احلام ایسا کچھ نہیں کیا ۔کبھی کبھی میرا خدا لوگوں کی آزمائش لیتا ہے اور تم جانتی ہو اللہ کبھی کسی انسان کو اتنی تکلیف نہیں دیتا جتنی وہ برداشت نہ کر پائے ۔کہتے ہیں کہ خدا ان لوگوں کی آزمائش لیتا ہے جو اس کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں ۔کبھی کبھی ہمیں لگنے لگ جاتا ہے کہ خدا ہمارے ساتھ نہیں ہے مگر ایسا نہیں ہوتا ۔خدا تو ہر پل ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔خدا کو کچھ لوگوں کا خود سے منگنا بہت پسند ہوتا ہے ۔جب ہم اپنے رب کے سامنے جھکتے ہیں نہ تو وہ اپنے بندے کی ہر بات سننے کے لیے آجاتاہے . ہو سکتا ہے کہ خدا کو تمہاری کوئی ادا اتنی پسند ہو کہ خدا تمہیں اپنے اپنے سامنے دعا مانگتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میری یہ بندی ہمیشہ مجھے یاد کرتی رہے. تمہارے لیے اس نے بہت بڑا مقام رکھا ہوا ہوگا اس لیئے خدا تمہیں آزماتا ہے ۔دیکھو میں بھی تمہارے نصیب میں لکھا گیا ہونا ۔میرے رب کی بہت بڑی مہربانی ہے اور مجھ پر تو رب بہت مہربان ہے جس نے مجھ گنہاگار کے نصیب میں تمہارا ساتھ لکھا
احلام کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو عمر نے اپنے ہاتھ سے صاف کیے اور پھر اس کا چہرہ اوپر کیا۔ احلام کے چشمے کو عمر نے اتار دیا تھا کیونکہ احلام کا چشمہ پورا آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔عمر نے احلام کو بہت پیار اور آرام سے سمجھایا اتنا عمدہ اور اتنا خوبصورت لہجہ احلام نے زندگی میں کبھی نہیں سنا تھا ۔احلام عمر کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی کہ بے اختیار ہرکر عمر کے گلے لگ گئی اور زور زور سے رونا شروع ہوگی.” عمر مجھے کبھی مت چھوڑنا مجھے بہت ڈر لگتا ہے میں بہادر نہیں ہوں عمر۔ لوگ مجھے دیکھ کر ایک چٹان کی مانند سمجھتے ہیں نہیں ہوں عمر میں اتنی بہادر ا۔گر تم مجھے چھوڑ گئے تو میں مر جاؤں گی عمر ۔یہ میری آخری حد ہے برداشت کی عمر۔ اس کے بعد میرے پاس کوئی حد نہیں ہے برداشت کی عمر مجھے چھوڑ کر مت جانا میرے پاس کچھ نہیں۔ شاید میں تمہیں محبت نہ دے پاؤں مگر عزت دوں گی میں تمہیں اپنا ساتھ دینے کی کوشش کروں گی مجھے کبھی مت چھوڑنا. “
” احلام میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا میری جان۔ کیوں روتی ہو اور ساتھ مجھے بھی تکلیف دیتی ہوں ۔ تمہارا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے ۔تھوڑی دیر واک کرتے ہیں پھر تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جائے گیدوائی بھی لیں گے. “
” نہیں عمر مجھے کوئی دوائی نہیں لینی۔ میری طبیعت ٹھیک ہے ۔میں سونا چاہتی ہوں. “
عمر نے اسے اپنی گود سے اتارا اور پھر اسے سہارا دے کر واک کروانے لگا۔ اس وقت گرمی کا موسم تھا مگر زیارت میں شام کا موسم ٹھنڈا ہوجاتا تھا اسی لیے ہلکی ہلکی خنکی چھائی ہوئی تھی۔ احلام عمر کے ساتھ ہی لگی ہوئی تھی آخر کار عمر نے احلام کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا.
” زندگی کو تھوڑا سا انجوائے کرنا چاہیے احلام۔ ت۔ نے زندگی کو بالکل انجوائے کرنا چھوڑ دیا ہے میں کل عمیر سے کہوں گا کہ تمہیں علاقہ ساتھ گھمانے لے کر جایا کرے اگر میرے پاس وقت نہ ہو تو ۔ ماں مجھے کہہ رہی تھی تمہیں کہیں ہنی مون پر لیکر جاوں، تو میرا ارادہ ہے کہ میرا ناردرن ایریا کاٹور آرہا ہے تو تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاو ۔ ویسے بھی میں جہاں جاؤں گا تمہیں اپنے ساتھ رکھونگا ۔”
” عمر سب بہت اچھے ہیں میں یہاں پر رہ لونگی ۔تم پریشان مت ہو تمہاری بھی ایک زندگی ہے۔ ایک سیاستدان ہو میں تمہارے ساتھ ہر جگہ تو نہیں جا سکتی ہے تو میری وجہ سے پریشان ہو میں ہرگز نہیں جاہتی. “
” میری جان تمہارے بغیر میرے دن کیسے گزریں گے اگر میں تمہیں یہاں اکیلے چھوڑ کر چلا جاؤں۔ میں اگر ایک دن کے لیے بھی کہیں جاؤں گا تو تمہیں ساتھ لے کر آؤں گا۔ بے فکر رہو تم میری زندگی پر بیت احچی طرح اثر انداز ہوتی ہو کبھی برے طریقے سے نہیں ۔میں ہمیشہ تمہیں دیکھ کر ہی تو جیتا ہوں۔ ویسے بھی میری زندگی ہے وہ تمہارے ساتھ ہی گزرنی ہے ۔ٹور پر لے کر جاؤں گا تو سب جگہ گھاماوں گا مزہ آئے گا بہت زیادہ۔ تمہیں ویسے بھی سوات جانے کا بہت شوق ہے نہ۔ تمہیں سوات اور آگے گلگت بھی ۔ میری میٹنگ ہے اس کے بعد ہم گھومیں گے. “
” عمر ایک بات بتاؤ کہ تمہاری زندگی میں کوئی لڑکی نہیں ایک بھی. “
“میری زندگی میں بہت ساری لڑکیاں ہیں سب سے پہلے میری ماں آئی۔ اس کے بعد میری بہن دادی۔ گوہر چچی بہت ساری عورتیں جن کا مقام میرے دل میں الگ الگ ہے۔ اس کے بعد تم آئی میری زندگی میں میری احلام ۔جس کی زندگی میری زندگی سے جو جڑ ہے تمہارا اور میرا تعلق اور ہے ہاں مگر میں ایک بات ضرور کہوں گا کہ جس انسان کو میں نے دل سے چاہا، جس سے عشق کیا ہے وہ میری احلام ہے تم جانتی ہو کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا تھا کہ تمہیں میرے نصیب میں کیوں لکھ دیا گیا تع پھر میں نے اس سوال کا جواب پایا کہ تم نے مجھے دعا میں مانگا اور میں نے تمہیں دعاؤں میں تو ہم دونوں کا ساتھ لکھا گیا کیا ۔تم نے کبھی میری خواہش کی تھی جان. “
” کبھی کبھی میں بہت زیادہ الیلے ہوجائے کرتی تو تمہاری خواہش کرتی تھی۔ میری زندگی میں کوئی بہت اچھا انسان ہو تمہارا نام نہیں کبھی لیا تھا مگر اپنے اچھے نصیب کی دعا بہت بار کی تھی میں نہیں جانتی کہ میرے مستقبل کی زندگی کیسی ہوگی مگر میں نے ہمیشہ اپنے اچھے نصیب کی دعا کی تھی“
” دعا کرنے سے ہی تو اچھا نصیب ملتا ہے میری جان ا۔چھا چلو آؤ تھوڑی دیر کے لئے اندر چلتے ہیں اب طبیعت بہتر ہوئی ہے ومٹ تو نہیں آرہی دوبارہ. “
” نہیں آرہی عمر تھوڑے باہر ہی رہتے ہیں نا. “
پندرہ منٹ کی واک کے بعد عمر نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بڑے پیار سے کہا.
” چلو سامنے لیٹ جاتے ہیں وہاں میں نے ویسے بھی دیوان رکھوایا ہے کہ کبھی ہم لوگ باہر چاند کو دیکھنے کے لیے بیٹھے تو وہاں لیٹ جائیں ۔”
“میں سو گئی تو اندر لے جانا عمر. “
احلام کو تھامے عنر سامنے پڑے دیون پاس آیا جو لیک کے پاس تھا احلام عمر کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی اور سامنے نکلے ہوئے آسمان پر چاند کو دیکھ رہی تھی.
احلام آہستہ آہستہ عمر کو بہت ساری باتیں بتا رہی تھی پھر نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی عمر نے اوپر ہوکر احلام کو دیکھا تو اطمینان کہ احلسمگہری نیند میں ہے۔ اس نے جاگنا نہیں تھا عمر کا ارادہ آج باہر سونے کا تھا ۔عمر نے آنکھیں بند کی اور اپنے پر پھیلائے اور احلام اور اپنے ایک اوپر دے دیا جو کمبل کی طرح احلام کو کور کر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیمان اور عمر دونوں اس وقت کلب میں بیٹھے ہوئے تھے۔سلیمان کے ہاتھوں میں جوس کا گلاس تھا جبکہ عمر خاموشی سے سامنے ناچتے ہوئے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔
“مجھے شادی کے دوسرے دن یہاں بلانے کا یہ مقصد ہے سلیمان۔یار میں اپنی جان کو اکیلا سوتا ہوا چھوڑ کر صبح صبح نکلا ہوں وہ بہت زیادہ ناراض ہوگی جب جاگے گی تو۔”
“شہزادے آپ جانتے ہیں جب خاص کام ہو تبھی آپ کو بلاتا ہوں۔غوری ماموں کو کہا تھا میں نے کے شہزادے کو بتائیں جس انسان کی تلاش تھی عرصے سے وہ مجھے مل گیا ہے۔”
“سلیمان کیا وہ یہاں آئے گا۔”
“جی شہزادے۔میں خود اس کا کام تمام کر سکتا تھا مگر پھر میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کی نسل کو بھی ایسا سبق سیکھایئں کہ مستقبل میں وہ میر خاندان کی طرف نظر بھر کے بھی نہ دیکھے۔”
عمر ہاتھوں میں اٹھایا ہوا چین گھما رہا تھا ۔عمر اور سلیمان ان کا رشتہ شہزادے اور وزیر کا تھا۔سلیمان عمر کی دنیا سے اس کے ساتھ آیا تھا۔سلیمان کے ماں باپ انسان تھے مگر انسانی دنیا میں وہ لوگ زیادہ رہ نہ سکے اور چل نسے۔سلیمان کو غوری نے دس سال کی عمر تک پالا اور پھر سلیمان کو سندھ کے ایک جانے مانے وڈیرے نے گود لے لیا۔سلیمان عمر کی بہت عزت کرتا تھا۔سلیمان کے پاس عمر جیسی طاقتیں تو نہیں تھی مگر انسانی دنیا میں سلیمان عمر سلیمان کا بازو تھا۔سیاست میں کامیابی سلیمان کے بغیر عمر کو حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔سلیمان ہر قدم پر عمر کا ساتھ دیتا۔سلیمان جانا مانا ڈان مشہور تھا اور اپنے علاقے کا وزیر بھی۔
“چلو چھوڑو سب باتیں یہ بتا کے عنایہ شادی کے لیئے مان گئی کیا۔”
“شہزادے اسے میں نے اپنے طریقے سے قابو کیا ہے۔میرے قبضے میں ہے وہ۔ایک بار شادی ہوجائے پھر میں اسے حویلی سے باہر قدم بھی رکھنے نہیں دوں گا۔”
“سلیمان میں یہاں ہی ہوں عنایہ کا بھائی۔اسے اکیلے سمجھنے کی خالتی مت کرنا وہ قید میں رہنے کی عادی نہیں۔”
سلیمان نے جوش کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور عمر کے ساتھ سامنے بنے صوفے پر آگیا۔
“جو میرا کام ہے اس میں گھر کی عزت کو بے تحاشا خطرہ رہتا ہے۔حویلی سے محفوظ عنایہ کے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ویسے بھی میں عنایہ سے بہت محبت کرتا ہوں۔میں شادی کے بعد اسے سب آزادی دے سکتا ہوں مگر خود سے دور جانے گی نہیں۔کیا آپ احلام شہزادی کو خود سے دور کر سکتے ہیں شہزادے عمر۔”
“ہماری بات الگ ہے سلیمان ۔میں اتنا کہہ رہا ہوں رشتے کبھی مسلط نہیں کرتے بنانے پڑتے ہیں۔تم خود کو مسلط کرنا چاہتے ہو عنایہ پر۔تمہاری حویلی میں خان بیگم کیسے بن کر رہے گی عنایہ۔گاوں کا ماحول اس کے لیئے بہت مشکل ہوگا۔”
“شہزادے آپ کا محل بھی تو زیارت کے عام سے علاقے میں ہے جو گاوں ہی ہے۔شہزادی بھی رہ لیں گی نہ تو عنایہ کیوں نہیں۔شہزادی سے زیادہ حسساس وہ نہیں ہوسکتی۔”
“دیکھو سلیمان میں پھر کہہ رہا ہوں پیار سے سمجھایا عنایہ کو۔میں صرف اس لیئے تم دونوں کی شادی پر راضی ہوں کے عنایہ تمہارے بغیر کہیں خوش نہیں رہے گی۔مگر عنایہ کی ہر خوشی کی ذمہ داری تمہاری ہے۔”
“شہزادے بے فکر رہیئے عنایہ میرے دل کے بہت قریب ہے۔اسے تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا میں۔وہ دیکھیں آپ کا شکار آگیا ہے۔آپ نے شہزادی کو تحفہ بھی تو دینا ہے۔”
عمر اپنی جگہ اے اٹھ گیا ۔غوری اس کے پیچھے ہی گیا۔”غوری اپنی شہزادی کو لے کر آو۔میں چاہتا ہوں آج کے مجرم کو سزا دیتے ہوئے وہ مجھے دیکھیں۔”
“جیسا حکم شہزادے۔”
__________________________________تین ہفتوں میں احلام کافی حد تک محل میں ایڈجسٹ کرچکی تھی۔سب گھر والے اس کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھتے تھے۔احلام کو بلکل محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یہ پرائے گھر میں ہے۔
“بی بی جی غوری آیا ہے آپ کو سردار نے بلایا ہے اپنے پاس۔”
ریحانہ جو احلام کی خاص ملازمہ تھی اس کے پاس آئی جو اس وقت ناول پڑھ رہی تھی۔شام کا وقت تھا اب اپنے کمروں میں تھے اسی خاطر احلام بھی اپنے بیڈ پر بیٹھ کر ناول پڑھ رہی تھی۔
احلام اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی جہاں پہلے سے ریحانہ نے اس کے کپڑے نکال رکھے تھے۔احلام تیار ہوکر آئی اور باہر کی طرف چل پڑی۔
“بیٹا کہاں جا رہی ہو۔”
“ماما عمر نے بلوایا ہے۔وہ کہہ رہے ہیں کہ ریحانہ بھی میرے ساتھ ہی جائے۔”
“ٹھیک ہے بیٹا آپ جاو۔کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔کسی اور کو ساتھ بھیجوں۔”
انابیہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر پوچھا۔
“نہیں ماما آپ کو ضرورت نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں۔عمر نے پیغام بھجوایا تھا کہ عون بھی ساتھ ہی ہے۔”
“ٹھیک ہی تم جاو پھر بیٹا۔”
احلام انابیہ کو سلام کرکے نکل گئی ایک ایسی منزل کی طرف جو اس کے لیے بہت بھیانک ہونے والی تھی۔
_______________________________
احلام جیسے ہی کمرے کے اندر داخل ہوئی اسے عمر کی پشت نظر آئی جو ایک کرسی کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔سائڈ پر عون کھڑا تھا۔غوری عون کے ساتھ گن اٹھائے سر جھکائے کھڑا ہوا تھا۔
“آگئی تم میری شہزادی ۔تمہارا انتظار کر رہا تھا میں بہت شدت سے۔”
عمر نے احلام کی موجودگی محسوس کرکے احلام کو بولا جو عمر کی بات سن رہی تھی آگے آگئی اور آگے بندھے ہوئے آدمی کو دیکھ کر احلام کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس شخص کے ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا جبکہ چہرے کا نقشہ بے انتہا بگڑا ہوا تھا ۔احلام کو پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا . ریحانہ جو احلام کے ساتھ آئی ہوئی تھی فورا آگے بڑھ کر احلام کو تھام لیا۔ احلام نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تو احلام عمر کا چہرہ دیکھ کر ڈر گئی ۔عمر کے آنکھیں اس وقت انتہائی لال ہو رہی تھی جب کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا.
” تمہیں کچھ دکھانا ہے احلام۔ تم جانتی ہو میری زندگی کیسی ہے میں کبھی کبھی کسی شخص کو اتنی سخت سزا دیتا ہوں کہ خود سوچتا ہوں کہ میں نے شخص کو ایسی سزا کیوں دی۔ تمہارے سامنے آج جو آدمی یہاں سزا پائے گا تم جانتی ہو جن بچیوں کو تم نے بچایا تھا جس کی وجہ سے تو موت کے منہ سے واپس آئی تھیں ان کا گنہگار ہے وہ ۔جس امید کا ہاتھ تھام کر تم بھاگی تھی اس کا مجرم ہے یہ. “
” عمر عمر کیا کر رہے ہیں اس کے ساتھ….”
”جو عمر ان جیسے لوگوں کے ساتھ عمر ہمیشہ سے کرتا آیا ہے. یہ اپنی سزا پاچکا ہے میں چاہتا تھا کہ اس کو ٹارچر تمہارے سامنے کرو مگر پھر تمہاری صحت سوچ کر اسے پہلے ہی ٹارچر کر چکا ہوں۔ آگے آؤ اس پر گولی تم چلاؤں گی۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اتنی مضبوط بنو کے کسی مجرم کی جان لیتے ہوئے تمہارے ہاتھ میری طرح نا کانپیں۔“
” تم کیسی باتیں کر رہے ہو عمر۔ میں کسی انسان کو کیسے تکلیف دے سکتی ہوں۔ تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو۔اگر یہ شخص مجرم ہے تو اس کی سزا قانون دے گا اور میں کبھی کسی انسان کو مارنا تو دور ہاتھ نہیں لگا سکتی۔مارنا تو میں سوچوں بھی نہ کبھی. “
عمر اپنی جگہ سے دھیمی چال چلتا ہوا احلام تک آیا۔احلام کا ہاتھ کانپ رہا تھا جو عمر نے اپنے ہاتھ میں تھاما اور اسے آگے اس شخص تک لے کر آیا ۔احلام نے اپنی آنکھیں بند کر رہی تھی جبکہ عمر اسے مجبور کر رہا تھا کہ یہ اپنی آنکھیں کھول کر اس شخص کو دیکھے اور عون جو سائیڈ پر کھڑا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ احلام یہ سب کچھ اتنی جلدی دیکھے۔ عمر کو بہت بار منع کرنے کے باوجود بھی آخرکار اسے عمر کے سامنے ہار ماننا ہی پڑی. عمر نے غوری کے آگے ہاتھ کیا کےگن پکرائے۔ غوری نے فورا گن عمر کے ہاتھ میں دے دی .
” گن پکڑو میری جان. “
” نہیں عمر میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی ۔تم اس شخص کو قانون کے حوالے کر دو میں نہیں کروں گی ایسا. “
عمرکی بناہوں میں مچلتی ہوئی احلام اپنا ہاتھ چھروا رہی تھی.” قانون ایسے مجرموں کو سزا دینے کے بجائے پناہ دیتا ہے احلام ۔اگر قانون نے انہیں سزا دینی ہوتی تو آج یہ میری عدالت میں پیش نہ ہوتا ۔تم اسے سزا دو گی ایک رانی ہونے کے ناطے۔ ایک مجرم کو سزا دینا تمہارا فرض بنتا ہے ورنہ اپنے لوگوں سے یہ غداری ہو گی. “
” میں نے اپنے لوگوں سے ایسا وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں کسی کی جان لوں گی۔ قانون ہے وہ انہیں سزا دے گا میں ہرگز کسی کا قتل اپنے ہاتھوں سے نہیں کروں گی۔ پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے کسی انسان کو مارنا ۔میں ہرگز ایسا نہیں کروں گی۔ چھوڑو مجھے عمر میں سوچ نہیں سکتی تھی کہ تم ایسے ہو گے. “
” میں ایسا ہی ہوں احلام اور ایسا ہی رہوں گا۔ تم ایسی نہیں ہوں مگر احلام تمہیں اپنے جیسا بنا دوں گا میں۔ کیوں کہ تم میری شہزادی ہو میرے ساتھ تمہیں رہنا ہے اور میرے جیسا ہی بننا ہے .”
” نہیں عمر میں ایسا ہرگز نہیں کرونگی چھوڑو مجھے. “
عمر نے مچلتی ہوئی احلام کے ہاتھ میں گن پکڑائی ۔احلام کے ہاتھ میں جیسے ہی گن آئی اس کی کمر پر عمر کی گرفت شدید سخت ہوگئی ۔احلام کو اپنی کمر ٹوٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
” گولی چلاؤ میری جان. “
” نہیں عمر میں ایسا نہیں کروں گی میں ہرگز گی نہیں چلاؤں گی۔ تم چھوڑ دو مجھے میں اس دنیا میں نہیں آنا چاہتی تم مجھے زبردستی لائی ہو۔ میں ہرگز ایسا کام نہیں کروں گی“
عمر احلام کے کان کے پاس اپنا چہرا لے کر آیا اور سرگوشی نما انداز میں بولا.” شیرنی پسند ہے مجھے ایسے بھیگی بلی بن کر رہو گی تو میرے ساتھ زندگی کیسے گزاروں گی جب چاپ گولی جلاو میں کہہ رہا ہوں. “
”نہیں میں نہیں کروں کی ایسا۔”
عمر نے احلام کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی اور گن کا ٹریکر دبا دیا۔احلام نے بے یقینی سے عمر کو دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی گن کو۔احلام اتنا بھی نہ دیکھ پائی کہ گن فائر نہیں ہوئی۔آنکھوں کے آگے آتے اندھیرے کے ساتھ ہی احلام عمر کی بازوں میں بے ہوش ہو گئی۔
“عون۔۔۔۔”
عمر کے بلانے پر عون فورا آگے آیا۔
“اپنی گوہر کو گھر لے جاو۔”
“لالہ آپ سے کہہ تھا نہ میں نے کہ گوہر یہ سب برداشت نہیں کر پائیں گی۔۔۔۔”
“تم سے جواب نہیں مانگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔”
عون آگے آیا اور عمر کے ہاتھوں سے احلام کو لینا چاہا۔
“میں گاڑی تک چھوڑ آتا ہوں۔محل دیر سے آوں گا ماما سے کہنا احلام کے پاس رہیں۔”
عمر احلام کو گاڑی میں لٹانے کے بعد عون کو بولا اور پھر غوری کو ہاتھ کا اشارہ کیا اور واپس اندر چلا گیا۔
عون سر بھٹک کر ڈرایونگ سیٹ پر بیٹھ گیا
“ریحانہ گوہر کو دیکھو۔لالہ تو بے حس ہیں ۔کیوں نہیں سمجھتے گوہر کا دل بہت نازک ہے۔ دیکھو سانس تو لے رہیں ہیں نہ۔”
ریحانہ خاموشی سے پیچھے بیٹھ گئی۔گاڑی محل کے پاس رکی۔عون احلام کی طرف آیا اور اسے اٹھایا۔عون احلام کو لیئے جیسے ہی محل میں داخل جبار اور عثمان جو سامنے ہی بیٹھے تھے فورا آگے آئے۔
“کیا ہوگیا بچی کو عون۔یہ بے ہوش کیوں ہے۔”
“بابا گوہر کو کمرے میں لےجانے دیں پھر بتاوں گا۔”
عون کے پیچھے تقریبا سبھی گھر والے آگئے۔
“بتاو نہ عون یہ تو عمر کے پاس گئی تھی نہ۔کیوں ہے احلام کی ایسی حالت۔”
“اپنے بیٹے سے پوچھیں ماما۔گوہر کے ہاتھ سے فائر کروا رہے تھے ایک بندے پر۔آپ جانتی ہیں یہ پہلے ہی کتنی سنسیٹو ہیں ۔گولی فائر نہیں ہوئی تھی ماما لیکن گوہر خوف سے بے ہوش ہوگئی ۔”
انابیہ اور ملکہ دونوں احلام کا ماتھا چیک کر رہی تھی جو بخار سے تپنا شروع ہوگیا تھا۔
“جبار آپ آپ سمجھائیں عمر کو۔یہ غلط ہے۔دیکھیں احلام کس قدر کمزور ہوچکی ہے اور اوپر سے عمر کا اپنا وحشی پن دیکھنا ضروری تھا کیا۔”
“میں بات کرتا ہوں اس نالائق سے۔حد ہوتی ہے کوئی کل کی آئی دلہن کے ساتھ ایسی حرکت کرتا ہے۔بے انتہا فضول حرکت ہے یہ۔”
“عون جاو ڈاکٹر کو بلاو ۔دیکھو تو احلام آنکھیں نہیں کھول رہی۔”
________________________________
عون اپنے کمرے سے نکل کر عمیر کو بلانے اس کے ک۔رے میں جارہا تھا ج رشتے میں اس کی ٹکر حورین سے ہوئی۔
“اف موٹے سانڈ ۔دیکھ کر نہیں چل سکتے۔میرا سر توڑ دیا۔”
حورین اپنے ہی جون میں بول رہی تھی جب نظر اٹھا کر دیکھا تو حورین کا سانس ہی اٹک کیا۔
“”مجھے پہچانا نہیں۔یہ موٹا سانڈ تمہارا شہر ہے لڑکی۔ذرا عزت سے مخاطب کیا کرو
آج کل تمہاری یہ گز بھر کی زبان بہت تیز چلنے لگی ہے۔یقین مانو دو پل لگیں گے اسے قابو کرنے میں۔”
عون نے حورین کے چہرے پر جھک کر اسے ڈرانا چاہا جب حورین نے اس کا تھام کر زور سے کاٹا۔
“آہ ۔۔۔۔۔پاگل لڑکی۔ …. “
“خبردار جو مجھے دھمکانے کی کوشش کی۔
میں ڈرتی نہیں ہوں آپ سے۔پھوپھو کو شکایت کروں گی۔”
عون نے حورین کو بازو سے تھاما اور عمر کے کمرے کے باہر والی دیوار سے لگا دیا۔
“ابھی ہی اٹھا کر لے جائوں گا اپنے کمرے میں حوری۔ڈرتا نہیں ہوں کسی سے۔بیوی ہو میری۔جس دن تمہاری پڑھائی ختم ہوگی اسی دن تمہیں لے آوں گا اپنے گھر۔”
“میں آپ سے ہرگز شادی نہیں کروں گی۔میں بابا کو بتاوں گی آپ ڈراتے ہیں مجھے۔ڈانتے ہیں۔”
“ذرا پھر دے بولنا۔۔۔۔۔”
“لالہ۔۔۔۔۔۔”
عون جو حورین کے نزدیک ہوا تھا فورا پیچھے ہٹا کیونکہ عمیر نے اپنے کمرے کا دروازہ کھول دیا تھا۔حورین شرمندگی دے بھاگ گئی جبکہ عمیر سر کجھا کر عون کو بولا ۔”لالہ آپ نے بلوایا تھا۔”
“ہاں ساتھ آو بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
___________________________
انسہ احلام سے ملنے آئی تھی مگر انابیہ نے یہ کہہ کر ڈال دیا کے سو رہی ہے طبیعت ٹھیک نہیں۔
“بھابھی کیا سوچا پھر عنایہ لیئے سلیمان کے پروپوزل کا۔”
“انابیہ تمہارے بھائی نے تو بہت مخالفت کی ہے مگر عنایہ نے کہہ دیا ہے کے وہ سلیمان کے ساتھ ہی شادی کرے گی۔”
“پھر کیا سوچا بھائی نے بھابھی۔”
“وہ راضی ہیں۔بس کچھ شرائط ہیں جو سلیمان سے منوانا چاہتے ہیں۔”
“اچھی بات ہے بھابھی۔عنایہ بہت خوش رہے گی۔سلیمان بہت اچھا بچہ ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Qatal Mohabbat Ka Anjam Novel By Maria Awan – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: