Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 15

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 15

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
احلام سرد موسم کی عادی نہیں تھی اسی لیئے زیارت میں ہونے والی برف باری نے اسے شدید بخار میں مبتلا کر دیا تھا۔بہت دنوں بعد دھوپ نکلی تھی تو انابیہ اسے لے کر محل کے لان میں آگئی تھی۔انابیہ کو محل کے اندر جانا تھا اسی لیئے وہ ریحانہ کو احلام کے پاس چھوڑ کر گئی تھی۔احلام دھوپ کی گرمائش سے سو چکی تھی۔عمر آج ظہر کی نماز کے بعد گھر آیا تھا۔لان میں ہی دیوان پر سوئی ہوئی اسے اپنی محبوب بیوی ملی جس کے پاس بیٹھی ریحانہ اس کے بازو دبا رہی تھی جن میں بخار کے باعث درد رہتا تھا۔
“ارے شہزادی یہاں ہی باہر سوگئی۔”
عمر احلام کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔ریحانہ کھڑی ہوگئی۔
“سردار شہزادی کی طبیعت دن میں بھی خراب تھی۔آج تو روتی بھی رہی بار بار اپنے شہر جانے کا کہہ رہی تھی۔عمیر سردار آئے تھے انہیں باہر لےجانے مگر آپ کا حکم میں نے ان تک پہنچا دیا کہ شہزادی کو آپ کے بغیر کہیں نہیں لے جانا۔”
“اچھا کیا ریحانہ ۔ دیکھو ابھی بھی بخار ہے شہزادی کو۔جاو کچھ لائٹ سا کھانا بناو شہزادی کے لیئے میں انہیں لے کر اندر جا رہا ہوں ۔”
عمر نے سوئی ہوئی احلام کو بانہوں میں اٹھایا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
احلام کر نرم بستر پر لیٹانے کے بعد عمر بھی اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔
احلام کی آنکھ نرم احساس سے کھلی تو اسے پتا چلا کے یہ عمر کے سینے پر سر رکھے سو رہی ہے۔شادی کے تین ماہ میں احلام اتنی تو عادی ہوگئی تھی کہ اسے پتا چل جاتا کہ عمر اس کے ساتھ ہے۔جس دن عمر نے احلام کو گن فائر کرنے پر مجبور کیا تھا اس کے بعد سے احلام عمر سے ناراض تھی۔عمر کو ایک ماہ کے لیئے اسلام آباد رہنا پڑا ۔ پہلے بھی احلام عمر سے ناراض تھی۔ عمر کے جانے بعد احلام مجھ عمر سے اور زیادہ دور ہوگی تمام گھر والوں سے تو احلام راضی تھی اور گھل مل گئی تھی مگر عمر سے یہ ابھی بھی راضی نہیں تھی۔ کل ہی عمر واپس آیا تھا اور احلام کو دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ احلام کو اپنے ساتھ ہی اسلام آباد لے کر جانا چاہیے تھا مگر عمر جس جگہ گیا تھا وہاں پر احلام کا جانا خطرے سے خالی نہیں تھا ۔ عمر ایک سیاستدان کی تھا اور سیاستدان کی زندگی میں بہت ساری مشکلات آتی ہیں۔ ایسی مشکلیں عمر کی زندگی میں بھی تھی جن کی وجہ سے عمر احلام کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ اسی خاطر عمر احلام کو گھر چھوڑ کر گیا تھا۔ آج جب وہ گھر واپس آیا تو احلام کو دیکھ کر احساس ہوا کہ اس نے غلطی کردی ہے احلام کو ساتھ نہ لے جاکر۔ نیند سے بھری آنکھوں سے احلام عمر کو دیکھ رہی تھی ۔
” تم کب آئے گھر عمر۔ میں جلدی سو گئی تھی کیا وقت ہو رہا ہے. “
”” شام کے پانچ بج رہے ہیں میں ظہر کی نماز کے بعد آگیا تھا تم سو رہی تھی تو اٹھا کر اندر لے آیا۔ رہحانہ بتا رہی تھی تم نے لانچ بھی نہیں کیا۔ کتنی لا پرواہ ہو۔ تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیے. کتنی کمزور ہوچکی ہو تم ایک پورے مہینے میں۔میں نے کتنا کہا تھا کہ خیال رکھو مگر تم نے میری بات پر توجہ ہی نہیں دی. “
” عمر تم پہلے تو مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ تم نے مجھے وضاحت نہیں دی کہ اس دن اس شخص پر تم نے مجھے فائر کیوں کروایا اور اب تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ میں کمزور ہو گئی ہوں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اس زندگی کی عادت نہیں۔ مجھے اس عجیب زندگی میں تم لائے ہو ۔یہاں لوگوں کی زندگی عجیب ہے میں پنجاب سے تعلق رکھتی ہوں یہ لوگ میری سمجھ سے مکمل طور پر باہر ہیں. “
” اب تم بلوچوں کی نشار(بہو) ہو۔ ہماری آنے والی اولاد بھی بلاچ ہوگی ۔ تمہیں انہیں بلاچی زبان سیکھانی ہے ۔بلوچوں کا رہن سہن سیکھانا ہے۔سب سے بڑی بات ہم سب ایک ہی تو ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ہاں کچھ روایات مختلف ہوتی ہیں احلام”
” باتیں نہیں کرع وضاحت دو مجھے ع۔ر۔ جو ظلم تم نے میرے ساتھ کیا تھا تم سے میں نے وضاحت مانگی تھی مگر تم ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ہو کہ وضاحت نہیں میں تمہیں عمل کر کے دکھاؤں گا تو بولو نہ کیوں جواب نہیں دیتے میری بات کا. “
” وہ اس لئے کہ تمہاری بات اتنی اہم نہیں ہے احلام۔ تم جانتی ہو امید کے ساتھ کتنی بار اس شخص نے زیادتی کی تھی اور نہ جانے کتنی بچیوں کے ساتھ میں ہمیشہ ایسے شخص کو سزا دیتا ہوں جو ظلم کرتا ہے میری جان اور وہ شخص گا وحشی درندہ تھا ۔خیر تمہیں ایک بات بتا دوں جتنا تمہارا مجھ پر حق ہے اس سے کئی زیادہ میرے ملک اور لوگوں کا مجھ پر حق ہے۔ اگر میں تمہاری فکر کرتا ہوں تو اس سی کئی زیادہ فکر میں اپنے لوگوں اور اپنے ملک کی کرتا ہوں ۔تم جانتی ہو گی تھوڑا تمہارا تھوڑا حق میرے لوگوں کا. “
” عمر میں نے تمہیں اپنے لوگوں کیلئے کام کرنے سے ہرگز نہیں روکا۔ بلکہ میں تمہارے ساتھ ہوں میرے لئے سب لوگ اپنے ہیں۔ ہماری جان ہمارے اپنے لوگوں کے لیے ہے مگر تم نے مجھے میری ذات کو بالکل ختم کر دیا ہے۔ میری وہ پہچان رہی ہیں نہیں جو پہلے تھی. “
” احلام تم اب عام لڑکی نہیں ہو ۔عمر خان کی بیوی ہو سردارنی ہو۔ تم ہر عمل کے لیے جواب دے ہو جیسے میں اور میری زندگی پر تھوڑا تمہارا حق ہے اور تھوڑا میرے لوگوں۔ پاکستان کے لئے بہت سارے کام کرنے ہیں تم نے میں نے۔ سمجھ رہی ہو نا اگر میں تمہارے ساتھ نہ ہوں تو بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں میری جان ۔تمہارا خیال رکھنے کے لئے میرے گھر والے بھی ہیں . “
” میں نے کبھی تمہاری کسی بات پر اعتراض نہیں کیا۔ مگر مجھے سخت نفرت ہوتی ہے ایسے لوگوں سے جو مظلوم کو سزا دیتے ہیں ۔ قانون ہے عمر۔ قانون سزا دے سکتا ہے نہ. “
” قانون سزا نہیں دیتا احلام۔ یہ اس دنیا کا دستور ہے کہ جو طاقتور ہے قانون اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو۔ اس لئے میں نے اپنا قانون بنایا ہے جس میں ہمیشہ انصاف کی کوشش کی ہے۔”
“میں تمہاری دنیا سے نہیں ہوں عمر۔”
احلام یہ کہتے ہی اٹھی مگر عمر نے اسے واپس گرا دیا۔
عمر احلام کے چہرے پر جھکا اور اپنے پیار کی شدت اس پر لٹانے لگا۔
“عمر چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں چھوڑوں ایک پورا ماہ تم سے دور رہا ہوں۔مجبوری نہ ہوتی تو تم میرے ساتھ ہوتی ۔اب میں تمہیں خود سے دور نہیں کروں گا۔”
احلام نے عمر کو خود پر سے ہٹانا چاہا مگر نہیں ہٹا پائی۔آخر تھک ہار کر عمر کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا.
__________________________________
سب لوگ شام کی چائے پر اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔جبار نے عمر اور احلام کی کمی محسوس کر کے انابیہ کو مخاطب کیا۔
“شہزادی یہ ہمارے دونوں بڑے بچے نظر کیوں نہیں آرہے۔”
“میں نے بھیجا ہے ریحانہ کو دونوں کو بلانے۔لیں آگئے۔”
عمر نے احلام کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔احلام نے کالے رنگ کا خوبصورت شلوار قمیض پہن رکھا تھا ۔اس پر لائٹ سی ڈائمنٹ جیولری۔
“ارے ہماری بیٹی آج باہر آئی ہے۔آجاو بیٹا ہمارے پاس بیٹھو۔”
جبار نے احلام کو اشارہ کیا۔عمر نے اسے جبار کے ساتھ بٹھایا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا۔
” ہماری بیٹی بہت دنوں سے بیمار تھی آج ٹھیک تو ہے نہ۔ بیٹا مجھے بہت زیادہ فکر ہورہی تھی تمہاری اب بہتر ہونا. “
” جی ابو میں بالکل ٹھیک ہوں. عمیر کہاں پر ہے مجھے کہہ رہا تھا کہ گوہر ہم باہر جائیں گے مگر مجھے لیئے بغیر ہی چلا گیا. “
” ہم نے حکم دیا تھا کیا احلام کہ تم میرے ساتھ ہی باہر جاو گی۔سردی بڑھ رہی ہے اور تم ابھی زیارت کی سردی کی عادی نہیں . “
جبار جو احلام کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا عمر کی بات پر گھور کر عمر کو دیکھا۔ عمر احلام کے ساتھ بہت زیادہ سختی کر رہا تھا۔ انابیہ کے ساتھ جبار نے کبھی سختی نہیں کی تھی مگر اپنے بیٹے کا رویہ احلام کے ساتھ دیکھ کر جبار کو دکھ ہو رہا تھا ۔عمر احلام کے معاملے میں حد سے زیادہ سینسیٹیو ہو چکا تھا اور جبار جانتا تھا کہ عمر کا یہ رویہ احلام کو عمر سے میلوں دور کر دے گا۔
”احلام باہر جائے گی عمر۔اس طرح تو احلام ٹھیک ہونے کے بجائے اور زیادہ بیمار ہو جائے گی۔ عمیر اور عون دونوں احلام کے بھائی ہیں ۔احلام کا خیال رکھنا دونوں بھائیوں کا فرض بنتا ہے۔ میں اُس سے کہوں گا کہ بہن کو باہر لے کر جائیں۔ کب سے بیچاری اندر ہی ہے اور تم بزی رہتے ہو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ احلام کو بھی گھر تک محدود کر دو۔ احلام باہر جائے گی اس کے باپ ہونے کے ناطے میں کہہ رہا ہوں کہ احلام کو اجازت ہے باہر جانے کی۔”
” بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں جبار آپ . یہ بات اچھی نہیں عمر کے تم جبار کو باہر جانے نہیں دیتے۔ بلکہ میں خود لے کر جاؤں گی احلام کو باہر۔ کیا کہتی ہیں گوہر احلام کو باہر گھومنے نہ لے جائیں کل۔“
” ٹھیک کہہ رہی ہو انابیہ احلام کے بارے میں ۔میں تو کب سے دیکھ رہی ہوں کہ گھر میں ہی رہتی ہے۔ عمر ایک مہینے کے لئے اسلام آباد کیا اتنی توفیق نہیں کی کہ اس کو بھی لے جائے۔ کہ . “
گوہر کی بات پر عمر نے ساتھ بیٹھی ہوئی احلام کو اپنے ساتھ لگایا۔ جبار اس کی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا۔عمر عجیب حرکتیں کرنے لگ گیا تھا ۔جب سے اس کی شادی ہوئی تھی جبار نوٹ کر رہا تھا کہ عمر بہت زیادہ بدلتا جا رہا ہے” میں نے کہہ دیا نا آپ سب کو کہ جب میں جاؤں گا تو احلام کو لے کر جاؤں گا ۔ویسے بھی ہم لوگ دس دنوں سوات جا رہے ہیں۔ میں نے وہاں پر میٹنگ رکھی ہے اس کے بعد میں احلام کو سوات دیکھاوں گا۔ کیا کوئی مسئلہ ہے یا احلام کو اپنا ہی نہیں مانتے سب۔
“کیسی باتیں کر رہے ہر عمر۔بیٹی ہے ہماری۔“ سردار عثمان نے عمر کو ڈانٹا۔
” میں احلام کو وقت دینا اچھے سے جانتا ہوں بڑے بابا جان۔ آپ لوگ پریشان مت ہوں اور رہی احلام کو ساتھ رکھنے کی بات تو جہاں میں گیا تھا وہاں احلام ہونا ضروری نہیں تھا ۔آپ جانتے ہیں میری زندگی ایسی ہے کہ کسی جگہ پر خاندان کے بندوں کو لے جانا نہیں ہوتا۔ . “
”عمر کسی بھی رشتے کو جب حد سے زیادہ خود سے جوڑ کت رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ہم نے تمہیں یہ نہیں سکھایا ہے ۔پابندیاں لگانے سے رشتے جوڑتے نہیں ٹوٹ جاتے ہیں“
” میں جانتا ہوں بابا جان۔ آپ پریشان مت ہوں میں نے احلام پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ آج ڈنر کروائیں گے یا بھوکا رکھیں گے آپ لوگ. “
” لگوا رہی ہو کھابا تم لوگوں کے لیئے۔ “
انابیہ کہتے ہیں اٹھ گئی جبکہ جبار نے بیٹے سے بات کرنے کے بارے میں سوچ لیا تھا ۔جبار احلام کو دن بدن کمزور بڑتا دیکھ رہا تھا ۔عمر کا رویہ بدلنا بہت ضروری تھا۔
____________________________
سلیمان اور عنایہ ہاسپٹل کے لیبر روم کے باہر کھڑے ہوئے تھے دونوں کی شادی کو تقریبا ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ آج روبی کی ڈیلیوری تھی اس لیے یہ دونوں ہسپتال میں روبی کے ساتھ ہی آئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر باہر آیا اور ان کے ہاتھ میں نیلے کمبل میں خوبصورت بچہ تھما دیا ۔مگر ان کے لیے بہت زیادہ افسوس ناک خبر تھی کہ روبی کا انتقال ہوچکا تھا۔روبی اپنے ساتھ ہی اپنے تمام دکھ لے کر دفن ہو چکی تھی. روبی کی تمام آخری رسومات کرنے کے بعد سلیمان عنایہ کے ساتھ گھر آیا تو سب کے سامنے یہی ظاہر کیا گیا کہ زین عنایہ اوراس سلیمان کا بیٹا ہے ۔
عنایہ کے ہاتھوں پر مہندی لگی ہوئی تھی اور خان بیگم والے کپڑے اس کو پہنائے گئے تھے ۔سلیمان کے گھر میں ایک بی جان تھی اور بابا جان جو بہت زیادہ پرانے خیالات رکھنے والے لوگ تھے۔ سلیمان نے عنایہ کو شادی کے ایک ہفتے میں بہت زیادہ پیار اور توجہ دی تھی جس سے عنایہ کو بالکل نہیں لگتا تھا کہ سلیمان اس کے ساتھ برا سلوک بھی روا رکھ سکتا ہے.
زین کو سلانے کے بعد عنایہ تھوڑی دیر کیلئے خود بھی زین کے ساتھ ہی لیٹ گئی تھی۔ ایک ہاتھ زین پر رکھے ہوئے عنایہ سو رہی تھی جب سلیمان کمرے میں آیا۔ کمرے کی لائٹ آف تھی۔ سلیمان نے کمرے کی لائٹ ان کی اور عنایہ کی بیڈ سائڈ کی طرف بیٹھ گیا.
” کیسا ہے ہمارا بیٹا عنایہ۔ ٹھیک تو ہے نا یہ بہت زیادہ رو رہا تھا دن میں مجھے بہت افسوس ہوا کہ روبینہ ہمیں بہت جلدی چھوڑ کر چلی گئی ہے. “
” مجھے بھی بے حد افسوس ہے سلیمان۔ روبینہ ہمارے ساتھ بہت عرصہ نہیں رہ پائی مگر اتنا پیارا بیٹا ہمیں دی گئی ہے۔ زین بلکل ٹھیک ہے میں اس کا بہت خیال رکھتی ہوں۔ بس کبھی کبھی اپنی ماں کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے مگر جلد ہی اس کو میری گود کی عادت پڑ جائے گی“
” اچھی بات ہے تمہیں اس کے لیے ایک بہترین ماں بننا ہے اس کی تربیت کی ذمہ داری تمہاری ہے۔ آخر کو جب بھی بڑا ہوگا تو اس کو میری جگہ لینی ہے“
” سلیمان کیا میں تم سے اجازت لے سکتی ہوں میرا ایک کیس تھا اس کو حل کرنا ہے مجھے۔ تین چار دن بعد تاریخ ہے تاریخ کو نپٹانے کے لئے جا سکتی ہوں ۔تم جانتے ہیں نہ کہ کیس کے لئے میرا موجود ہونا بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے. “
” نہیں عنایہ ابھی کہیں نہیں جا سکتی تم۔ تم جانتی ہوں نا کہ ابھی تو ہماری شادی ہوئی ہے اور ابھی سے تمہیں وکالت کی فکر پڑ گئی ہے۔ چپ کر کے آرام سے حویلی میں بیٹھو ۔ویسے بھی بی جان کہہ رہی تھی کہ انہیں ہرگز نہیں پسند کے عنایہ شادی کے فورا بعد ہی جاب پر چلی جائے ۔”
سلیمان نے عنایہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بڑے پیار سے کہا۔ جبکہ عنایہ اس کی بات پر بہت زیادہ پریشان ہوگئی۔ حویلی میں سب کا رویہ بہت عجیب سا تھا ۔
” سلیمان ایک بات کہوں تم سے “
” کیا بات تم نے مجھ سے کرنی ہے. “
” بی جان نوکروں کے ساتھ بہت عجیب قسم کاسلوک کرتی ہیں ۔ خاندانی ملازمین کے ساتھ کبھی کبھی تو میں نے ان کو بہت زیادہ برا سلوک کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے یہاں۔ میں نے سنا ہے کہ ونی میں کچھ لڑکیاں آئی تھیں جن کو بی جان نے ملازمہ کے طور پر رکھ لیا ہے ۔ایسا نہیں ہونا چاہیے“
” کچھ خاندانوں میں ونی آئی ہوئی لڑکیاں ہوتی ہیں یہاں۔ بی جان نے ان خاندانوں سے لڑکیوں کو ملازمہ کے طور مانگا ہے۔ ان کی اچھی دیکھ بھال ہوتی ہے یہاں۔ بس بی جان کی خدمت کرنی ہوتی ہے اور تمہاری ملازمہ بھی تو ونی میں ہی آئی ہے۔ “
” سلیمان مجھے نہیں چاہیے ایسی ملازمہ۔ واپس بھیجئے اس کو ۔میں اس سب کے سخت خلاف ہوں ۔اس کے باوجود تم چیزوں کا ساتھ دیتے ہو۔ میں نے تمہیں شروع سے ہی کہہ تھا مجھے نفرت ہے ایسے قانون سے جہاں عورت کی کوئی حیثیت نہیں۔ “
” تمہیں میں نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ میرے کسی معاملے میں تمہیں بولنے کی اجازت نہیں ہے ۔تم یہاں پر خان بیگم ہو۔یہاں رہو زندگی جیو مگر میرے کسی معاملے میں مت بولنا ۔بی جان جو کرتی ہیں ان کو کرنے دو۔ یہ ان کے معاملات ہیں تم صرف ان کے حکم کی تعمیل کیا کرو“
” سلیمان جو غلط ہے وہ غلط ہے۔ میں غلط کا ساتھ نہیں دوں گی تم جو مرضی کرتے رہو۔لائٹ بند کرو مجھے سونا ہے ۔میں سوچ رہی تھی کہ دو دن تک بابا کی طرف چکر لگاوں۔بابا مجھے کہہ رہے تھے کہ شادی کے بعد تم نے ایک بار بھی چکر نہیں لگایا“
” جب میں جاؤں گا بلوچستان تو تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا روز تو وہاں نہیں جا سکتے. “
سلیمان نے عنایہ کو اٹھایا اور اپنے ساتھ لگایا۔
“پلیز سلیمان ۔۔۔۔۔”
عنایہ نے اپنا آپ چھڑانا چاہا مگر سلیمان نے اسے اور زور سے تھام لیا۔”عنایہ مجھے بلکل نہیں پسند کے تم میرے ساتھ ایسا رویہ رکھو۔شوہر ہوں تمہارا میرا حق ہے تم پر۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سلیمان میں نے تمہارے قریب آنے سے انکار نہیں کیا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں کچھ اور نہیں سننا چاہتا اس وقت عنایہ۔یہ ہمارا وقت ہے مجھے اپنے ساتھ گزارنے دو۔”سلیمان عنایہ پر جھک گیا جبکہ عنایہ صرف یہی سوچ رہی تھی کے کیسے ان لوگوں کے ساتھ رہ پائے گی۔
________________________________ زین کو گود میں اٹھائے ہوئے عنایہ زین کو چپ کروا رہی تھی جبکہ اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی نوکرانی زین کا فیڈر لے کر آئی۔ زین صبح سے بہت زیادہ رو رہا تھا اور عنایہ سے سنبھالا نہیں جا رہا تھا .
” خان بیگم دیجئے ہم سنبھال لیتے ہیں اسے۔ پہلا پہلا بچہ ہے نا اس لیے آپ کو معلوم نہیں ہورہا کیا مسئلہ ہے اسے۔ماں کے لمس کو پہچانتا ہے نا اس کی ماں تو مرگی آپ کے لئے مشکل ہو جائے گا. “
” نہیں سعدیہ میں سنبھال لوں گی میرا اپنا بچہ ہے۔ کیا ہوگیا تھوڑا روتا ہے تو بچے تو روتے ہی رہتے ہیں ۔سعدیہ تم کتنی پیاری ہو کتنی چھوٹی ہو ۔تم کیسے تم یہاں پر آئی ہو۔ مجھے کل سلمان نے بتایا کہ تم ونی میں آئی ہو۔ کیسا سلوک رکھتے ہیں تمہارے خاندان والے تمہارے ساتھ. “
” خان بیگم ہم ایک جانور سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں اپنے خاندان میں۔ ویسے بھی وہ میرا خاندان نہیں صرف ایک سزا ہے میرے لیے ۔سلیمان صاحب نے مجھے یہاں ملازمہ کے طور پر قبول کرکے مہربانی ہی کی ہے۔ یہاں دو جوتے پڑتے ہیں صرف وہاں مجھے بہت سے لوگوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا ۔شپ نہیں جانتی وہ لوگ مجھے جانور سے بھی کم تر سمجھتے تھے۔ میں صرف ایک جانور ہی ہوں خان بیگم “
” ایسی بات نہیں ہے مجھے بتاؤ ایسے کیوں کرتے ہیں تمہارے ساتھ کس نے فیصلہ دیا تھا ونی کا. “
” سائیں کے والد نے دیا تھا جی۔ آپ جانتی ہوں گی کے بڑے سردار ہیں وہ، خان ہیں۔ انہوں نے فیصلہ دیا تھا اس کے بعد ہی میں یہاں آئی ہوں۔ بہت سی لڑکیاں یہاں ونی میں آئی ہیں۔ آپ نہیں جانتیں بڑے سائیں بہت سخت ہیں۔ . “
عنایہ نے روتے ہوئے زین کو اپنے سینے سے لگایا چپ کروا رہی تھی اور سعدیہ کی باتیں بھی سن رہی تھی اسی لمحے بھی جان کمرے میں داخل ہوئی ۔عنایہ انہیں دیکھتے ہی احتراما کھڑی ہو گئی.
” السلام علیکم بی جان. “
” وعلیکم السلام کیسی ہو بہو رانی.زین کیوں اتنا زیادہ رو رہا ہے سنبھالا نہیں جارہا ۔ دکھاؤ ہمیں. “
“بی جان زین کو تھوڑا سا بخار تھا رات کو بھی صحیح سو نہیں پایا اس لیئے تھوڑا رو رہا ہے ۔میں اس کو کمرے میں سلا کر آتی ہوں ۔آپ بیٹھیں میں دو منٹ میں آ رہی ہوں. “
” نہیں بہو رانی ہمیں تم سے کچھ بات کرنی ہے بیٹھو یہاں. “
عنایہ ان کی بات سن کر فوراً بیٹھ گئی جبکہ زین چپ ہو گیا تھا روتے روتے ہی۔
” بہو رانی تم خاندان کی خان بیگم ہو ۔ہمیں ہرگز نہیں پسند کے نوکروں کے ساتھ گھر والوں کی طرح سلوک کرو جو جتنی حیثیت رکھتا ہے اس کو اتنا ہی مقام دینا ہوتا ہے. “
”وہ بھی تو انسان ہیں ہماری طرح ہی۔ مجھے بتایا سعدیہ نے کے یہ ونی میں آئی ہے ۔میں ان سب چیزوں کے سخت خلاف ہوں میں نے سلیمان کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں تو ایسی چیزوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہو تو میں اپنے سامنے ایسا سب کچھ ہوتے ہوئے کیسے دیکھ لوں۔”
”بہو رانی تمہیں یہی سب چیزیں دیکھنی ہیں ۔ سلیمان خان کی بیوی ہو تم ایک بیٹے کی ماں ہو اب تم نے لوگوں کو یہی بتانا ہے کہ خان بیگم کیسی ہوتی ہے. “
”بی جان ضروری نہیں ہر آنے والی خان بیگم لوگوں پر ظلم کرے۔ہمارے ملازم آزاد پیدا ہوئے ہیں انہیں جینے کا حق ہے۔”
“بس بہو رانی ہمیں یہ فلسفے نہیں سننے ۔جو کہہ ہے اس پر عمل کرو ۔”
عنایہ خاموش ہوگئی تھی۔ساتھ کھڑی سعدیہ نے اسے اشارہ کیا کے خاموشی اختیار کر جائے۔عنایہ کو لگ رہا تھا کے یہ حویلی اسے پاگل کر دے گی۔
_______________________________
ریڈرز کیسی لگی آج کی قسط ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: