Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 16

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 16

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
احلام اور عمیر دونوں باہر سے آرہے تھے۔احلام کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔
“گوہر سچ میں اگلی بار آپ کو اور زیادہ مزہ کروا کے لاوں گا واپس۔برفباری میں کھیلنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔”
“بہت مزہ آیا مجھے عمیر۔سچ میں زندگی میں پہلی بار اتنی زیادہ برف میں کھیلی ہوں۔”
“گوہر آپ کا تو بھائی ہوں جہاں کہیں کہ آپ کو لے کر جاؤں گا آپ کا ہر حکم ہماری سر آنکھوں پر. “
دونوں ابھی محل میں داخل ہی ہوئے تھے کہ سامنے ہی عمر نظر آیا جس کے چہرے کی ہوایاں اڑی ہوئی تھی۔ جبکہ انابیہ اور بڑی گوہر دونوں بیٹھی ہوئی تھی اور سخت پریشان تھی۔ عمر کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔سخت غصے میں تھا وہ.
” ارے عمر تم جلدی گھر آگئے۔ تم نے تو شام میں آنا تھا نہ تمہاری میٹنگ تھی. “
عمر نے جیسے ہی احلام کی طرف رخ کیا تو عمیر اور احلام دونوں ہی پیچھے ہٹ گئے کیونکہ عمر کی آنکھوں کا رنگ اس وقت شدید سرخ ہو رہا تھا ۔اس کا پتا عمر کی آنکھوں سے چل رہا تھا۔ عمر فورا آگے آیا اور احلام کو تھام لیا ۔احلام کو اپنی بازو میں عمر کی انگلیاں چھبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔انابیہ عمر کے پاس آئی ۔عمر کے ہاتھ احلام کے بازوں سے چھڑوانا چاہا مگر عمر کی گرفت دیکھ کر احلام بھی ڈر گئی کیونکہ عمر اس وقت اپنی اصلی حالت میں نہیں تھا. سبز شہزادہ اپنے روپ میں آچکا تھا ۔یہ بات انابیہ کو سمجھ آگئی تھی اور عمر اس روپ میں وہ احلام کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا” ثھوڑو مجھے عمر درد ہو رہا ہے ۔کیا ہوگیا ہے تمہیں“
” منع کیا تھا نہ میں نے کبھی میری اجازت کے بغیر گھر سے قدم مت نکالنا کس کی اجازت سے تم نے گھر سے باہر قدم رکھا۔”
” لالہ گوہر کو میں لے کر گیا تھا زبردستی۔ وہ تو نہیں جا رہی تھی ڈر ہی تھی آپ سے مگر میں ان کو لے کر گیا “
” خاموش آواز نہ آئے مجھے تمہاری ۔تم سے بعد میں بپٹوں گا تمہیں کس نے اجازت دی کہ میری بیوی کو میری اجازت کے بغیر باہر لے کر جاؤ“
” عمر کمرے میں جاؤ اتنا غصہ کرنا ٹھیک نہیں ۔چھوڑ دو احلام کو میں تم سے کہہ رہی ہوں. “
بڑی گوہر اٹھی اور اس کے پاس آئی۔ عمر کا ہاتھ احلام کی بازو سے ہٹانا چاہا مگر عمر کی گرفت بہت سخت ہوگئی جبکہ احلام کی بازو میں شدید درد شروع ہوگیا تھا. دو منٹ کے لیے احلام کو لگا کہ اس کی دنیا سن ہوچکی ہے مگر پھر اسے آگے نہیں پتا چلا کہ کیا ہورہا ہے اس کے ساتھ. عمر نجانے کیا بول رہا تھا احلام نے دو منٹ کے لیے اپنی آنکھیں بند کی۔ مگر اس نے جیسے ہی اپنی آنکھیں کھولیں اس کی آنکھیں اپنا رنگ بدل کر سبز رنگ کا کر چکی تھی۔ انابیہ کی جیسے ہی نظر پڑی فوراً پیچھے ہٹ گئیں ان کی آنکھیں بھی اس وقت نیلے رنگ کی ہو چکی تھی گہرے نیلے رنگ کی.
” سبز شہزادی، گوہر ،سبز شہزادی آگئی ہے پیچھے ہو جایئں. “
اس وقت عمر اور احلام دونوں اپنے روپ میں آ چکے تھے ۔یہ احلام کا پہلی بار کا تجربہ تھا کہ وہ سبز شہزادی کے روپ میں آ رہی تھی ۔پیچھے کھڑا عمیر بھی ڈر گیا تھا کیونکہ احلام اس وقت شدید غصے میں آ رہی تھی ۔احلام نے پوری قوت سے عمر کے ہاتھ اپنی بازو سے ہٹائے اور اسے پیچھے دھکیلا.” سنائی نہیں دیتا عمر میں کیا کہہ رہی ہوں۔ ہر وقت میرے پیچھے پڑے رہتے ہو میں نے کیا کہا کہ اپنی حفاظت میں خود کر سکتی ہوں۔ تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ مجھے اس گھر میں قید کر کے رکھو. “
انابیہ اور بڑی گوہر عمیر کے ساتھ پیچھے کھڑی ہو گئی تھی۔ احلام کے ہاتھ سے اس وقت سببز رنگ کی روشنی نکل رہی تھی اس کا نشان سامنے واضح ہوگیا تھا جبکہ عمر کا نشان بھی واضح ہونے لگ گیا تھا۔ انابیہ ان کو قابو نہیں کر سکتی تھی کیونکہ نیلا شہزادہ اور شہزادی تو قابو میں آ سکتے تھے مگر عمر اور احلام کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں تھا.
” عمیر اپنے والد کو بلاؤ جلدی ورنہ حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔احلام کی طبیعت خراب ہو جائے گی بہت زیادہ۔وہ یہ روپ برداشت نہیں کر سکتی۔ “
عمیر ماں کی بات سنتے ہی فوراً باہر کی طرف چلا گیا۔ جبکہ بڑی گوہر اور انابیہ احلام کی طرف آئے تو احلام نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا.” تائی جان آج میں اپنے شوہر سے خود ہی نپتوں گی ۔آپ لوگ بیچ میں مت آئیے ۔ میں خود دیکھ لوں گی عمر کو آخر کو کتنی پابندیاں لگائیں گے مجھ پر میں قیدی نہیں ہوں ان کی. “
عمر آگے آیا اور احلام کو تھام لیا ۔انابیہ ان دونوں کو روکنا چاہتی تھی ۔انابیہ نے عمر کا ہاتھ بھی زور سے پکڑا مگر عمر کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی.
“تم کمرے میں چلو شہزادی میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں۔”
عمر نے احلام کو بانہوں میں اٹھایا اور اوپر کے پورشن کی طرف چلا گیا۔ انابیہ اور گوہر نیچے دونوں پریشانی سے انہیں اوپر جاتا ہوا دیکھ رہی تھی کہ نہ جانے کیا کریں گے جا کر اوپر لڑیں گے یا کہیں ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دیں کیونکہ اس وقت احلام بہت غصے میں تھی۔
” شہزادے یہ بات یاد رکھنا میں بہت دنوں سے برداشت رہی ہوں آپ کو آج میں آپ کو دکھا دوں گی کہ میں آپ سے کم نہیں ہوں“
” آف میری شہزادی آج ہم بھی آپ کو بتا دیں گے کہ ہم عمر شہزادے ہیں۔ اتنے دنوں سے ہم آپ سے جو بات کہہ رہے ہیں وہ آج آپ کو بہت اچھے سے سمجھ آجائے گی“عمر نے کبھی احلام کو آپ جناب کر کے نہیں بلایا تھا ۔مگر آج احلام کو آپ کہہ کر بلا رہا تھا ۔جبکہ ااحلام بھی عمر کو آپ ہی کہہ کر بلا رہی تھی ی۔ہ شہزادی کا روپ تھا کہ وہ اپنے شوہر کو آپ ہی کہہ بلائیں جبکہ شہزادہ بھی بہت احترام سے ہی شہزادی کو آپ بلاتا تھا ۔
کمرے کا دروازہ کھول کر عمر احلام کو اندر لے کر آیا احلام اس وقت اپنا آپ عمر سے چھوڑوا رہی تھی ۔احلام کو بیڈ پر عمر نے پھینکا اور فورا اس کے اوپر آ گیا۔ “شہزادے چھوڑیں ہمیں۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ آپ ہمیں ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ ہم آپ کو چیر پھاڑ دیں گے اگر آپ ہمارے نزدیک آئے تو. “
“جو مرضی کریئے آج آپ ہماری گرفت سے آزاد نہیں ہوسکتی شہزادی ۔بہت دنوں سے آپ کی حرکتیں دیکھ رہے ہیں ہم۔ ہماری حد ختم ہو چکی ہے ۔شہزادہ اپنی شہزادی دوری برداشت نہیں کر سکتا کب سمجھیں گی آپ ۔جب باہر جاتی ہیں نا تو مجھے تکلیف ہوتی ہے جب آپ مجھ سے دور جاتی ہیں تو میرے نشان میں جتنا درد ہوتا ہے میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ صرف اس بنا پر میں آپ سے دور رہتا ہوں کہ آپ کو کوئی نقصان نہ ہو اور آپ میری تکلیف کو سمجھتی نہیں۔”
” مجھے نہیں معلوم کہ کیا تکلیف ہوتی ہے آپ کو۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ آپ مجھ پر اپنی محبت مسلط کرنا چاہتے ہیں ایسا ہرگز ہونے نہیں دوں گی. “
“ہم اپنی محبت آپ سے منوا کر رہیں گے . “
عمر شدت سے احلام پر جھکا اور اس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لے لیا احلام اس سے اپنا آپ چھڑوا رہی تھی ۔آخرکار احلام نے تنگ آکر اپنے ناخن عمر کی شرٹ پر مارے ۔جس سے عمر کی شرٹ پھٹ گئی۔ عمر کی پوری کمر احلام نے زخمی کر دی تھی ۔عمر درد سے پیچھے ہٹا تو اپنی خراشوں کی طرف دھیان گیا جن سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا ۔احلام فورا عمر کے قریب گئی اور اسے گلے سے لگا لیا ۔عمر اس کے لئے تیار نہیں تھا مگر اگلے ہی لمحے عمر کو احلام کے دانت کندھے پر محسوس ہوئے جو احلام نے بہت برے طریقے سے گاڑ دیے تھے۔عمر کو سختی سے احلام نے تھام رکھا تجا۔عمر کے کندھے سے خون رسنا شروع ہوگیا تھا۔احلام نے عمر کو چھوڑا تو زور سے ہنسی۔یہ عام احلام نہیں تھی۔میر قبیلے میں ایک بات مشہور تھی کے سبز شہزادی کو شہزادے کو ہرانا بہت پسند تھا۔اکثر وہ شہزادے کو غصے میں بہت تنگ کرتی تھی۔ایسے ہی احلام نے بھی عمر کو باور کروا دیا تھا کے وہ اس سے کم نہیں ہے۔
عمر نے اپنے زخم کو دیکھا تو ہنسنے لگ گیا۔احلام اسی لمحے بیڈ چھوڑ کر اٹھی اور باہر جانا چاہا مگر عمر نے واپس اسے تھام لیا۔
“مجھے اتنی تکلیف دی ہے میرا علاج تو کرتی جائیں شہزادی۔”
عمر نے احلام کو واپس کھینچا جو عمر کے سینے سے ٹکرائی۔
“مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے شہزادی آپ سے دور رہ کر۔”
عمر نے احلام کا چہرہ اوپر کیا اور اس کے ہونٹوں کے بلکل قریب جا کر بات کی۔
“تو مجھے آزاد کر دو شہزادے۔مجھے قید نہیں کرسکتے تم۔شہزادی قیدی نہیں میری جان میرے محبوب شوہر۔”
عمر نے احلام کی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔”بولو احلام میرا خواب ہو تم۔میرا عشق ہو تم۔بولو مجھ سے محبت ہے۔بولو میری جان۔”
احلام نے عمر کے سینے پر ہاتھ پھیرا پھر اپنا سر اس کے سینے پر رکھا۔”من مہر تو (مجھے تم سے محبت ہے۔)۔
عمر نے احلام کا سر اپنے سینے سے اٹھا کر اوپر کیا اور اس کی آنکھوں کے نزدیک ہوکر کہا جن پر چشمہ نہیں تھا اور وہ کہتی ہیزل تھی اس وقت ۔”من مہر تو میری جان من مہر تو میرا جہان۔”
عمر اسکی آنکھوں پر جھکا۔احلام نے عمر پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔عمر احلام کا ایک ایک نقش چوم رہا تھا۔
عمر اتنے دنوں سے اسی احلام کو تلاش رہا تھا۔جو احلام عمر کو ملی تھی وہ اس سے بہت دور تھی۔
“شہزادے۔۔۔۔۔۔۔۔”
عمر نے احلام کو آزادی بخشی تو احلام نے سرگوشی میں اسے پکارا۔
“بولو میری جان۔”
“مجھ سے محبت کرتے ہو نہ تو پھر دل میں اتنا خوف کیوں۔میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گی۔یہ دل میرا ٹھکانہ ہے۔”
عمر کے سینے پر ٹھرکتے دل پر احلام نے ہاتھ پھیرا اور پھر جھک کر عمر کے زخم کو چوما جہاں سے خون نکل رہا تھا۔”مجھ سے دور مت ہونا شہزادی۔میں لاکھ برا سہی مگر میری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں۔بہت سال تمہیں ہاتھ نہیں لگا پایا بہت بڑی سزا تھی وہ۔ شہزادی۔۔۔۔۔۔”
احلام نے عمر کے چہرے کو تھاما اور اس جھک کر اس کے لب چومے۔احلام کبھی ایسا نہ کرتی اگر یہ ہوش میں ہوتی تو۔ان دونوں کے تاج الماری میں تھے جو سبز رنگ کے ہوگئے اور روشنی دینے لگے۔
عمر نے احلام کو تھام لیا اور اسے خود میں قید کر لیا۔
احلام کی آنکھ کھلی تو خود پر نظر پڑتے ہی احلام نے نظریں جھکا لی۔عمر کی شرٹ احلام نے پہن رکھی تھی جس کے اوپری دو بٹن کھلے ہوئے تھے جو احلام نے فورا بند کیئے۔عمر بغیر شرٹ کے ساتھ ہی لیٹا ہوا تھا۔احلام کے بال کھلے ہوئے تھے ۔احلام نے چشمہ سائٹ دراز سے اٹھا کر پہنا۔ احلام نے کمبل ہٹایا اور اٹھ کر شیشے کے پاس گئی اس وقت احلام کو احساس ہوا کہ اس نے عمر کے ساتھ کیا کیا ہے۔ گزری کچھ باتیں یاد آئیں تو پھر اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں سے روشنی ابھی بھی نکل رہی تھی۔ احلام کو سمجھ نہیں آیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے. گردن پر جا بجا عمر کے لمس کے نشان تھے ۔ کچھ نشان اس کے گال پر بھی نظر آرہے تھے جو ظاہر کر رہے تھے کہ عمر نے اس پر اپنی دیوانگی لوٹائئ ہے۔ اس کے احلام نے شرٹ کا بٹن کھولا تو نشان دیکھ کر احلام نے فوراً بند کر دیا ۔عمر جو سو رہا تھا احلام اس کی طرف آئی اور کمبل اس کے اوپر سے ہٹایا تو دیکھ کر ڈر گئی ۔عمر کے سینہ بہت ساری خراشیں پڑی ہوئی تھی۔ عمر کا کندھا زخمی تھا جہاں خون جما ہوا تھا عمر کی گردن پر بھی ناخنوں کے نشان تھے ۔احلام نے عمر کو اٹھایا تو عمر ہر پڑا کر اٹھا.
” عمر یہ سب کیا ہوا یہ تمہیں میں نے زخم دیے ہیں ۔میں نے ایسا کیوں کیا ۔ میرے ہاتھ سے روشنی نکل رہی ہے دیکھو نہ“
عمر احلام کی حالت دیکھ کر ہنسنا شروع ہوگیا پھر اسے اپنے حصار میں لے کر بولا۔
” وہ کیا ہے نہ میری بیوی اپنے اصلی روپ میں آگئی تھی اس لیے یہ میرا حال کیا ہے۔ تم نے جنگی بلی مجھے زخمی کر کے رکھ دیا دیکھو تو سہی“
عمر اپنا کندھا اس کے آگے کیا جہاں سے گوشت نظر آنے لگ گیا تھا جبکہ خراش اتنی گہری تھی کہ کٹ محسوس ہو رہے تھے۔
” سوری عمر۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے میری جان یہ تو تمہارا غصہ تھا جو اندر رکھ رکھ کر اتنی کمزور ہوگئی ہو۔کلائی آگے لاو۔”
احلام نے کلائی آگے گی۔عمر نے اپنی کلائی اس پر رکھی ۔احلام کی روشنی آنا بند ہوگئی احلام کا اگلا سوال یہ تھا کہ کیسے اس نے یہ کیا اور کون ہے ۔ی نشان کیسا ہے۔ عمر نے اسےمطمئن کرنے کے لئے ہی کہا کہ ابھی وقت نہیں ہے اسے بتانے کا بہت جلد عمر اسے سب کچھ بتا دے گا۔ احلام فرئش ہوکر آئی تو عمر بھی فریش ہو کر آ چکا تھا۔ عمر ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس لے کر بیٹھا ہوا تھا اور احلام کو اپنے قریب بلایا۔
” احلام زخم صاف کردو ہمیں نیچے جانا ہے سب لوگ پریشان ہو رہے ہیں پھر ایسی حالت میں جاؤں گا تو سب لوگ اور پریشان ہوں گے“
باکس میں سے ڈیٹول اور دائہ نکال کر احلام عمر کا زخم صاف کرنے لگی ۔بہت گہرا زخم دیا تھا احلام نے عمر کو۔
” عمر تم مجھے کب بتاؤ گے کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا. “
” ابھی نہیں میری جان میں تمہیں بتا دوں گا ابھی وقت نہیں ہے ہم جب اکیلے ہوں گے تب بتاؤنگا ۔ سب لوگ انتظار کر رہی ہوں جو کوئی بھی سوال پوچھے تو کہہ دینا کہ عمر نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔”
عمر اسے لئے کمرے سے نکلا تو سیڑھیوں کے پاس ہی جبار اور انابیہ کھڑے ہوئے تھے یہ لوگ میں کمرے میں نہیں آ سکتے تھے کیونکہ سبز روشنی سے گزر کر جانا ان کے بس میں نہیں تھا یہ لوگ جیسے ہی باہر آئے جبار فورا ان دونوں کے پاس آیا” بچے ٹھیک تو ہے نہ عمر تم ٹھیک ہو نا احلام کچھ ہوا کہ نہیں. “
” ہم ٹھیک ہے بابا جان پریشان مت ہوں ۔بس آپ کی بیٹی تھوڑی سی غصے میں تھی اپنا غصہ اتار لیا ہے اب نہیں کرے گی اور عمیر کہاں ہے اس کی وجہ سے ہماری لڑائی ہوگئی میں نے منع کیا تھا کہ میری اجازت کے بغیر احلام کو کہیں نہیں لے ۔منع نہیں کیا تھا۔ مجھے بتا تو دیتا میرے دو گھنٹے کیسے گزرے تھے آپ جانتے ہیں. “
”ہم بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے احلا۔ بیٹا تم ٹھیک ہو نا۔”
انابیہ احلام سے پوچھنے لگی احلام کے گال پر پڑا ہوا نشان دیکھ کر انابیہ کو کچھ سمجھانا شروع ہوگئی تھی پھر اس کی نظر اپنے بیٹے کی گردن پر پڑی جہاں پر نشان لگا ہوا تھا ۔احلام کو ساری بات سمجھ میں آگئی۔
” ماما میں ٹھیک ہوں آپ پریشان مت ہوں عمر نے مجھے کہا ہے کہ وہ مجھے بتائیں گے کیا ہوا تھا مگر ابھی وقت نہیں ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ماں مجھے بخار ہو رہا ہے ۔میں تھوڑی دیر کے لئے سونا چاہتی ہوں مجھے کچھ کھانے کو دے دیجئے. “
” میرا بچہ میں بھیجتی ہوں۔ تم جاؤ کمرے میں دیکھو بخار بھی ہو رہا ہے تمہیں. “عمر نے احلام کے سر پر ہاتھ لگایا تو یہ بہت زیادہ گرم ہو رہی تھی یہ نشان کی وجہ سے ہو رہا تھا انابیہ بھی ایسے ہی بیمار رہا کرتی تھی احلام کو پہلی مرتبہ نشان محسوس ہوا تھا جس کی وجہ سے بیمار رہنے والی تھی
” عمر بیٹی کو کمرے میں لے کے جاؤ تمہیں معلوم ہے نا کیا کرنا ہے. “
” جی بابا میں سنبھال لوں گا سب۔”
_________________________________
عنایہ کمرے میں سو رہی تھی جب اسے باہر سے شور کی آوازیں آئیں ۔عنایہ اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف آئے تو نیچے بڑے سائیں کسی عورت پر بہت زیادہ تشدد کر رہے تھے اسے لان میں نیچے گرایا ہوا تھا اور مار رہے تھے جبکہ عورت بار بار معافیاں مانگ رہی تھی۔ اس کی عمر لگ بھگ 35 لگ رہی تھی ۔ عنایہ فورا ڈوپٹہ کرکے باہر کی طرف بھاگی سعدیہ نے اس راستے میں ہی روک لیا.” ہائے بی بی جی مت جایئں باہر ۔بڑے سایئں بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو ہی کچھ کہہ دیں“
” سعدیہ میں کیوں نہ جاؤں۔ دیکھو کتنا زیادہ مار رہے ہیں کون ہے وہ میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہاں سے جانے دو مجھے دیکھو اندر زین اس کے پاس جاؤ“
” خان بیگم وہ ونی میں آئی ہوئی عورت ہے۔بڑے سائیں کی بیوی۔”
عنایہ سکتے میں آگئی تھی یعنی کہ سلیمان کی ایک اور ماں بھی تھی جو ونی میں آئی تھی مگر شادی کے چار ہفتوں میں اس نے ایک بار بھی اس عورت کو نہیں دیکھا تھا۔ عنایہ فورا باہر لان میں آئی اور اس عورت کی ڈھال بن گئئ۔” چھوڑیئے بابا سائیں آپ کیا کر رہے ہیں ۔ایسے کسی پر ظلم کرنا انسانیت ہے کیا“
” بہو ہم جو کرتے ہیں وہ اچھے کے لئے کرتے ہیں۔ ہٹو تمہارا کوئی حق نہیں بنتا ہمارے کسی معاملے میں بولنے کا“
” میں ہرگز کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دوں گی چاہے وہ جیسا مرضی انسان ہو۔ مجرم کی سزا قانون دیتا ہے آپ نہیں اور جس شخص کو آپ سزا دے رہے ہیں اس نے گناہ کیا ہی نہیں ہے۔ “
بڑے سائیں پیچھے ہوئے اور عنایہ کو دیکھنے لگ گئے.” بہو ہمارے معاملات میں ٹانگ مت اڑاو تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ “
” بابا سائیں انسان ہیں یہ ہماری طرح میں ہرگز ان کے ساتھ غلط نہیں ہونے دوں گی. “
بڑے سائیں غصے میں اندر کی طرف بڑھ گئے جبکہ عنایہ اس عورت کی طرف دیکھنے لگی جس کے ہاتھوں سے اور منہ سے خون آرہا تھا۔ عنایہ نے سعدیہ کو آواز دینا شروع کر دی. ” خان بیگم ہمیں اندر جانے کی اجازت دیں۔ ہم وہاں جانوروں کے ساتھ رہتے ہیں آپ ہمیں وہاں چھوڑ آئے ہمارا ٹھکانہ وہی ہے“
عنایہ نے اس عورت کی بے بسی دیکھی تو دل اندر سے چیر گیا۔ عنایہ اسے لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔ بی جان کو ابھی اس بات کی خبر نہیں تھی اگر ہوجاتی تو عنایہ اپنا انجام دیکھتی۔
” کیا نام ہے آپ کا کتنے سال ہوگئے آپ کو یہاں ونی میں آئے ہوئے“
” اب تو بھول گئی ہو خان بیگم ۔بیس سال ہونے کو آئے ہیں اب تو اپنا نام بھی یاد نہیں“
عنایہ کے زخم صاف کرتے ہوئے ہاتھ رک گئی اس نے سعدیہ کی طرف دیکھا جس نے اس عورت کا نام بتایا.” اس بدنصیب کا نام شہلا بیگم ہے ۔ بڑے امیر گھرانے کی تھی مگر بھائی سے قتل ہوگیا بڑے سائیں کے بھائی کا جوانی میں بھیج دی گئی۔ 15 سال کی تھی جب یہاں آئی تھی ہم نے تو یہی سنا ہے انہیں گھر حویلی میں آنے کی اجازت نہیں ۔”
” میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی ۔میں جب تک زندہ ہوں اس حویلی میں کسی پر ظلم نہیں ہوگا ۔آپ پریشان مت ہوں چھوٹی ماں ۔ “
” خان بیگم تم ہمیں یہاں سے کیا نکالو گی خود یہاں ایک قیدی ہو۔ شادی کے چار ہفتوں میں تم ایک دفعہ بھی حویلی سے باہر نہیں گئی۔ قیدی ہوں تم بھی میری طرح فرق اتنا ہے کہ تمہیں سونے سے لاد دیا گیا ہے جبکہ مجھے جانوروں سے بھی بدتر رکھا گیا ہے۔”
عنایا اس عورت کے چہرے کی طرف دیکھنا شروع ہو گئی پھر اٹھ گئی.” سعدیہ چھوٹی ماں کو جہاں یہ رہتی ہیں۔میں سلیمان سے بات کر کے انہیں وہاں سے نکال لوں گی“
” خان بیگم تم جو بھی کر لو تم خود بھی ایک قیدی ہو اور میں بھی قیدی۔ چلتی ہوں یہاں میری کوئی جگہ نہیں. “
شیلا بیگم کے جانے کے بعد عنایہ اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی۔آج سلیمان سے حتمی بات کا فیصلہ کیا گا اس نے۔”
_________________________________
جی تو ریڈرز کیسی لگی آج کی قسط۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: