Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 17

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 17

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
احلام اور عمر دونوں سوات آچکے تھے۔احلام کو آج بھی تیز بخار تھا اور عمر جانتا تھا کہ یہ نشان کی وجہ سے ہے۔احلام کی کمر میں سخت تکلیف تھی جس کے باعث اس کو بیٹھنا بھی محال لگ رہا تھا۔سوات میں تیز بارش ہورہی تھی۔عمر بہت اہم میٹنگ کے سلسے میں باہر گیا ہوا تھا۔احلام نے ریحانہ کو بلالیا کہ اسے باہر جانا ہے۔ریحانہ احلام کے ساتھ ہی آئی تھی اس کا خیال رکھنے کے لیئے۔
غوری احلام کو دیکھتے ہی اس کی طرف آیا جس کا ہاتھ ریحانہ نے تھام رکھا تھا۔
“سردارنی اگر آپ سے نہیں چلا جا رہا تو آپ اندر چلی جایئے ۔سردار آنے والے ہیں۔وہ آپکو باہر لے آئیں گے۔”
” نہیں غوری میں باہر جانا چاہتی ہوں ۔ سردار آئیں گے تو ہم دوبارہ ان کے ساتھ باہر چلے جائیں گے۔”
” جیسا حکم میری سردارنی میں آپ کے ساتھ ہی ہوں اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو آپ مجھے بتا دیجیے میں آپ کی خدمت میں حاضر رہوں گا۔”
” سب ٹھیک ہے غوری ۔ایک بات تو بتاؤ مجھے تم کب سے ہو سردار کے ساتھ۔ مطلب تم کب سے عمر کے ساتھ رہتے ہو. “
احلام ریحانہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے چل بھی رہی تھی اور ساتھ ساتھ غلطی سے سوالات بھی کر رہی تھی جو اس کے ساتھ ہی چل رہا تھا مگر سر نیچے جھکائے ہوئے.
” جب سے وہ پیدا ہوئے تھے ہم نے ان کو اپنے ہاتھ میں ہی پالا ہے سردارنی. عمر سردار کی دیکھ بھال ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے کی ہے. جبار سردار کے اور بھی بیٹے ہیں مگر ہمیں عمر سردار بہت زیادہ عزیز ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہمارے اپنے ہی بیٹے ہیں عمر سردار بہت خاص ہیں . “
” تمہارے سردار تو سب کے لئے خاص ہے یہ بات مجھے اب سمجھ آگئی ہے ویسے غوری تمہارے سردار کیا پہلے بھی سوات آتے رہتے ہیں۔”
” جی میری سردارنی سیاست کے معاملے میں بہت بعد دوسرے شہروں میں جا چکے ہیں.”
احلام کا فون جو ریحانہ کے دوسرے ہاتھ میں تھا وہ بجنا شروع ہوگیا ریحانہ نے احلام کو فون پکڑایا۔ احلام کی والدہ کی کال تھی احلام نون میں پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھیں اور کال رسیو کی.
” اسلام علیکم امی کیسی ہیں آپ. “
” میں بالکل ٹھیک ہوں احلام کیسی ہو تم مجھے تو بالکل بھول ہی گئی ہو یا نہیں کرتی کیا برا ہوتا ہو گیا ہے تمہیں تم نے مجھے کال نہیں کی. “
” میری طبیعت خراب تھی امی پچھلے ہفتے بہت زیادہ اس لیے میں نے آپ کو کال نہیں کی۔ تاج کا فون آیا تھا وہ آپ کی خیریت کے بارے میں بتاتی رہتی ہے عمر بھی روزانہ آپ کے بارے میں مجھے بتاتے رہتے ہیں۔”
” عمر بیٹا تو بہت اچھا ہے جب اسلام آباد آیا تھا تو پورے دو ہفتے میرے پاس رہ کر گیا ہے ۔میں نے بہت کہا کہ احلام کو بتا دو تو کہہ رہا تھا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں مجھے احلام کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ تمہیں معلوم ہے زین کی قبر پر بھی روز جاتا تھا۔”
احلام حیران ہوگئی کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ عمر اس کی ماں کے ساتھ اتنا پیار کرتا ہے۔
” امی انہوں نے مجھے نہیں بتایا آپ جانتی ہیں نہ کہ عمر بہت مختلف انسان ہیں. وہ جو کام کرتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں. مجھے نہیں معلوم بس کہہ رہے تھے کہ آنٹی سے ملاقات ہوئی ۔ مجھے نہیں بتایا کہ آپ کے پاس رہ کر آئے ہیں کیا کہہ رہے تھے اور میرے بارے میں کچھ بتایا. “
” بیٹا تم نہیں جانتیں عمر کتنا اچھا ہے میرے ساتھ دامادوں میں سے عمر بہت اچھا انسان ہے تاج بالکل میری بیٹیوں کی طرح ہے تم جانتی تو ہونا میں نے سائمہ کی بڑی بیٹی عائشہ کو رکھ لیا ہے اس کو بیٹی بنا کر پالوں گی مگر تاج اس سے زیادہ میرا خیال رکھتی ہے عائشہ وہ ابھی بہت زیادہ چھوٹی ہے تاج اس کا بھی بہت خیال رکھتی ہے اور میرا بھی تم جانتی ہو کہ عمر ہر مہینے میرے اکاونٹ میں لاکھوں بھیجتا ہے اس کو کہو کہ ایسا مت کرے۔ میرے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے میرا بیٹا ہے وہ بس میرے لئے یہی کافی ہے. “
” امی یہ عمر کا فرض بنتا ہے وہ آپ کی بیٹے بنے ہیں تو اپنا فرض نبھا رہے ہیں میں آؤں گی آپ سے ملنے کے لیے ہم لوگ یہاں سے واپسی پر پنڈی آئیں گے تو پھر میں آپ سے ملوں گی“
” ٹھیک ہے احلام میں تم سے پھر بات کروں گی اپنا خیال رکھنا اور عمر کا بھی. “
احلام نے فون ہاتھ میں پکڑا اور سوچنے لگی کہ اس کے شوہر کے کتنے روپ ہیں جو اس نے اب تک نہیں دیکھے۔
_______________________________
عمر رات بارہ بجے گھر آیا۔احلام بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ عمر کوٹ اتار کر احلام کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔احلام نے اوندھے منہ لیٹے عمر کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“عمر تھک گئے ہو۔”
“بہت زیادہ ۔احلام میں نے کھانا نہیں کھایا یار بہت زیادہ بھوک لگی ہے۔”
احلام کمر میں درد ہونے کے باعث اٹھ نہیں پا رہی تھی اس لیے احلام نے پاس پڑاہوا فون ریحانہ کو ملایا اور اسے کھانا لانے کے لئے کہا جو ان کے ساتھ والے کمرے میں ہی رکھی ہوئی تھی. عمر احلامی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا اور بار بار اپنا سر دبا رہا تھا.
” امرتسر میں کیا بہت زیادہ درد ہو رہا ہے. “
” یار یے لوگوں نے میرا دماغ خراب کر رکھا ہے جو کام بھلائی کیلئے کرو انہیں ہمیشہ برا لگتا ہے آج بہت زیادہ بحث ہوئی ہے میری خوشبو سے جس کی وجہ سے میرا دماغ پھٹ رہا ہے. “
” میں دبا دیتی ہوں ریحانہ کھا رہی ہے کھانا کھا کر دوائی دوں گی میں تمہیں ہر سو جانا ٹھیک ہے“
” تمہاری اپنی طبیعت تو ٹھیک ہے نا میری جان“
” میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے عمر.بس کمر میں آرام نہیں آرہا ۔بیٹھا بھی نہیں جاتا سہی سے بہت درد ہے۔جلن ہوتی ہے مجھے بہت۔ایسا لگتا ہے جیسے آگ لگی ہوئی ہے ۔”
عمر نے اپنے سر میں انگلیاں چلاتی احلام کے ہاتھ تھام کر پیار دیا۔
“میری جان درد ٹھیک ہوجائے گا ۔بہت جلدی تم ٹھیک ہو جاو گی ۔”
ریحانہ کھانا لے آئی تھی اور کمرے میں رکھ گئی۔احلام نے کھانا پلیٹ میں نکالا۔عمر اٹھ کر بیٹھا تو احلام نے اس کے سامنے پلیٹ رکھ کر کہہ۔
“عمر میں کھلا دیتی ہوں ۔بہت زیادہ تھکے ہوئے لگ رہے ہو تم”
احلام نے نوالے بنا کر عمر کو کھلانا شروع کیا۔”تم نہیں کھاو گی۔”
“نہیں میں کھا چکی ہوں عمر۔تم آرام سے کھاو ۔”احلام نے بیڈ سے ٹیک لگائے عمر کو کھانا کھلایا ۔عمر نے سر درد کی دوائی لی اور لیئے آف کر کے احلام کی گود میں سر رکھ کر سو گیا۔احلام کو سخت خوف آتا تھا اندھیرے تھے جبکہ عمر اندھیرے میں سوتا تھا۔احلام نے لائٹ آف دیکھی تو خاموش ہوگئی۔عمر کے سر کو دبائے ہوئے احلام نے اپنے ہاتھ سے نکلتی روشنی دیکھی جو عمر کے ہاتھ سے بھی نکل رہی تھی۔
احلام کو یہ بات معلوم ہوگئ تھی کہ عمر بہت خاص ہے جس کا تعلق احلام سے ہے۔احلام سے عمر کیسے ملنے آتا تھا یہ سب باتیں احلام کو ظاہر کرتی تھی کہ عمر بہت زیادہ خاص ہے۔
_______________________________
عمر نے آج کا دن احلام کو دیا تھا۔احلام کو لے کر عمر باہر آیا ہوا تھا دونوں بہت زیادہ خوش تھے آج۔ہلکی بارش ہورہی تھی۔احلام آگے چل رہی تھی جبکہ عمر نے ہاتھوں میں شاپنگ کیئے ہوئے بیگ اٹھا رکھے تھے۔
“عمر۔۔۔۔۔۔ “
“جی ملکہ بولیئے اب کیا لینا ہے آپ نے اور ۔”
احلام نے عمر کے کندھے پر سر رکھا۔احلام نے اس وقت بہت خوبصورت بلوچی فراک بہنا ہوا تھا جس کی اردگرد کڑھائی ہوئی چادر جبکہ سر پر حجاب کیا ہوا تھا. عمر اس وقت سفید رنگ کے کرتے میں موجود تھا. دونوں ساتھ چلتے ہوئے ایک پرفکٹ کپل لگ رہے تھے عمر نے بلیک کلاسس پہن رکھی تھی جس سے بہت کم لوگ اسے پہچان رہے تھے کہ یہ ایک سیاستدان ہے۔
” عمر چلو نہ سامنے ہوٹل سے کھانا کھاتے ہیں“
عمر اس کے ساتھ سامنے عام سے ہوٹل پر آیا۔عمر لا ارادہ ناران کاغان جانے کا تھا مگر مصروفیات بہت تھی عمر کو اب بہت مشکل ایک ہی دن میں تھا احلام کو سوات گھمانے کے لیے.
کھانا کھانے کے بعد دونوں نکل پڑے یہ ابھی راستے میں چل ہی رہے تھے کہ سامنے ایک گھر آیا جس کی تین منزلہ عمارت تھی . سڑک پر اس وقت ایک یا دو ہی لوگ چل رہے تھے جو اپنے ہی دھیان میں تھے عمر کی نظر بےساختہ ہی چھت پر پڑی۔سامنے ایک چار سالہ بچی تھی جو چھت کے بلکل کنارے پر تھی۔بچی گرنے والی تھی۔عمر نے بیگ سڑک پر ہی پھینک دیئے اور خود پیچھے ہوگیا۔احلام حیرانی سے پیچھے مڑی ۔عمر نے آنکھیں بند کی تو احلام کے سر میں بھی ایک جھٹکا لگا۔احلام کی آنکھوں نے بھی رنگ بدلا۔عمر کے پر نکل آئے تھے۔احلام کے دیکھتے ہی عمر نے اڑان پکڑی۔چھت پر آکر عمر نے بچی کو تھاما اور نیچے لے آیا۔سڑک بلکل خالی تھی۔احلام نے عمر کو نیچے اترتے دیکھا۔احلام عمر کے پاس آئی۔سبز شہزادی اپنے شہزادے کے پروں کی دیوانی تھی۔احلام نے عمر کے پروں پر ستائش سے ہاتھ پھیرا۔عمر خاموشی سے احلام کو نوٹ کر رہا تھا ۔احلام نے عمر کے ہاتھ کو تھاما۔”مجھے بھی شیر کرنی ہے تمہارے ساتھ میری جان۔اپنی شہزادی کو سیر کروا دو۔”
عمر نے بڑھ کر احلام کو تھاما۔”آپ کا حکم سر آنکھوں پر جان۔”
چھوٹی بچی کی آواز نے دونوں کو حقیقت میں لوٹنے پر مجبور کیا۔
“انکل تو سپر مین ہیں۔”
عمر نے فورا اپنے پر بند کیئے۔”بیٹا انکل سپر میں نہیں ہیں۔آپ تو چھت سے گری تھی۔انکل نے آپ کو پکڑا ہے۔”
احلام نے بچی کو تھام کر اسے سمجھانے کی کوشش کی اسی لمحے دروازہ کھلنے کی آواز آئی بچی کی ماں دوڑتی ہوئی آ رہی تھی۔
”میری بچی ۔”
“آپ بچی کا دھیان رکھا کریں۔دیکھیں آج یہ گری تو میرے شوہر دیکھ رہے تھے اور انہیں نیچےگرنے سے پہلے تھام لیا۔”
احلام نے روٹی ہوئی بچی کی ماں کو کہا۔
“ماما انکل سپر مین ہیں۔”
“ہاں بیٹا یہ لوگ بہت اچھے ہیں۔آپ لوگ آئیں نہ میرے گھر۔”
“ارے نہیں شکریہ ۔ہم چلتے ہیں گھر جلدی پہنچنا ہے۔”
احلام نے عورت کو سلام کیا اور عمر کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
احلام اور عمر خاموشی سے فارم ہاوس پہنچے۔فارم ہاؤس پہنچتے ہی احلام نے عمر سے کہہ دیا کہ احلام عمر کی تمام حقیقت جاننا چاہتی ہے عمر جان چکا تھا کہ اب احلام سے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے احلام کو لے کر فارم ہاؤس کے بیک سائیڈ پر آیا۔
عمر میں انکھیں بند کی تو عمر کے پر نکل آئے. احلام کی کلائی آگے کرتے ہوئے عمر نے اپنا ہاتھ احلام کے ہاتھ پر رکھا احلام وہ تمام حقیقت دیکھ سکتی تھی جو عمر اسے بتانا چاہتا تھا. سبز شہزادی کے یہی طاقت بھی کہ وہ کچھ بھی جان سکتی تھی اگر شہزادہ اسے اجازت دے تو۔ احلام کے سامنے تمام حقیقت واضح ہوچکی تھی۔
احلام اپنا ہاتھ پیچھے کرکے تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کرکے کھڑی ہوگی عمر اس کے ری ایکشن کا انتظار کر رہا تھا۔
” عمر مجھے سیر نہیں کرواؤ گے. “
عمر ہنسنے لگ گیا اور احلام کو اپنی بازو میں بھرا اور آسمان پر پرواز بھری۔
” عمر مجھے ہائیٹ بہت زیادہ خوف آتا ہے آنکھیں نہیں کھولنے ہورہی۔”
” تم ایک بار آنکھیں کھول کر دیکھو دنیا بہت خوبصورت ہے میری جان. “
احلام نے اپنے جان عزیز شوہر کی بانہوں میں آنکھیں کھولی تو نیچے ایک الگ ہی دنیا تھی۔اپنے ڈھرکتے دل کو مضبوط کیئے احلام نے عمر پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔
یہ احلام کی دنیا کا سب سے خوبصورت منظر تھا۔فارم ہاوس ویران علاقے میں تھا اس لیئے عمر کو فکر نہیں تھی کہ کوئی دیکھے گا۔
عمر احلام کو لیئے جب واپس آیا تو احلام نے عمر کے سینے میں سر چھپا رکھا تھا۔
“آنکھیں کھولو جان۔تمہیں اپنی طاقت کو قابو کرنا سیکھانا ہے تب کمر میں درد ٹھیک ہوگا۔ “
احلام کو سنی سے لگا کر عمر اس کی کمر سہلا رہا تھا۔
“تم مجھے اپنی دنیا میں کیوں لائے عمر۔”
عمر نے اس کا معصوم سا چہرہ اوپر کیا۔
“کیونکہ ہمارا ملنا لکھ دیا گیا تھا جاناں۔دیکھو تمہاری ڈھرکن سے میری ڈھرکن چلتی ہے۔ہمارا مرنا جینا ساتھ ہے۔تمہاری جدائی مجھے مار دے گی جاناں۔”
احلام نے سر اٹھا کر عمر کو دیکھا پھر بڑھ کر اس کی چمکتی پیشانی پر بوسہ دیا۔
__________________________________
احلام پنڈی اپنی والدہ سے ملنے کے لیے آئی احلام دیکھ رہی تھی کہ تاج کتنا زیادہ خیال رکھتی ہے اس کی والدہ کا۔ ردا کو تو احلام کا بہت عرصے سے انتظار تھا اس لیے جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ احلام ماں سے ملنے آئی ہے یہ فورا صائمہ اور سلمہ کے ساتھ ماں کے گھر آ گئی۔
” بڑی چمک رہی ہو خیر تو ہے احلام.کیا وہ وحشی تمہیں خوش رکھتا ہے۔میں نے تو سوچا تھا کہ ایک رات میں ہی تمہارا کام تمام کر دے گا۔”
احلام ردا کی بے ہودہ بات پر دانت پیس گئی۔
“تمہارا بہت تجربہ ہے لگتا ہے تمہارا شوہر بھی ایسا ہی ہے۔عمر میری جان ہیں۔وہ مجھ پر سختی نہیں کرتے۔میرے اختیار میں ہے میرا رشتہ۔میں جانتی ہوں کہ اپنے شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ہے ۔میرا فرض ہے عمر کی ہر بات کو تسلیم کرنا۔وہ وحشی نہیں میرے سر کا تاج ہیں۔یاد رکھو ردا جو عورتیں شوہروں کی برائیاں کرتی ہیں وہ نہیں جانتی کہ سر بازار خود کو چادر سے محروم کر رہی ہیں۔”
“دیکھیئے تو سائمہ باجی اس کے دیور۔غرور کیسے جھلک رہا ہے محترمہ کی باتوں میں۔”
” غرور کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پیدا سسرال میں رہتی ہوں نہ وہاں پر غرور نام کی کوئی چیز نہیں ہم انسان ہیں اور عام انسانوں کی طرح ہی رہتے ہیں. میں آج بھی وہی احرام ہوں بس پر کتنا ہے کہ میرے سارے زخم بھر چکے ہیں کسی نے مرہم لگا دی ہے میرے زخموں پر“
عمر اتنے میں سیڑھیوں سے اتر کر آیا چھت پر عمر کوئی پائپ چیک کر رہا تھا جو خراب ہوچکا تھا. عمر کا جب بھی ثریا بیگم کی طرف چکر لگتا تو عمر گھر کی ہر ایک چیز چیک کر کر جاتا کہ کوئی چیز خراب تو نہیں ہے ۔اس مرتبہ عمر سریا بیگم کو کہہ کر گیا تھا کہ ہمارے ساتھ ہی جانا ہے ثریا بیگم انکار کر گئی مگر پھر عمر نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اب نہ سہی جب میرا پہلا بچا یا بچی آئے گی تو آپ کو میرے ساتھ آنا ہوگا۔
” کیسے ہیں آپ عمر بھائی بہت زیادہ بدل گئے ہیں ۔لگتا ہے احلام آپ کا بالکل خیال نہیں رکھتی یہ تو شروع سے ہی بہت زیادہ نکمی ہے۔ کچن میں تو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کام تو اسکو کچھ کرنا آتا ہی نہیں لگتا ہے آپ کوئی کام نہیں کرتی. “
ردا نے دل کی بھراس نکالنا ضروری سمجھا۔
” ارے ردا گوہر آپ کیسی باتیں کرتی ہیں۔ احلام نے جب پہلی مرتبہ ہمارے گھر حلوہ بنایا تھا نہ تو اس کی اتنی تعریف ہوئی تھی کہ آج تک کسی کی نہیں ہوئی۔ پہلی بات یہ ہے کہ میں احلام کو اپنے کام کرنے کے لیے نہیں لے کر گیا گھر میں ڈھیروں ملازم ہیں کام کرنے کو۔ ویسے بھی احلام بہت کم کوکنگ کرتی ہے جب بھی کرتی ہے سارے اس روز گھر میں ہی کھانا کھاتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ احلام نے اپنے ہاتھ کا پلاؤ سب کو کھلایا تھا اور آپ سوچ نہیں سکتی کہ سب کو یہی لگا کہ ہم باہر سے کھانا کھا رہے ہیں. احلام میرا بہت زیادہ خیال رکھتی ہے کو ہر میری ہر چیز کا. آپ کو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں. “
سائمہ فورا ردا کی بات کو سنبھالنی کے لیئے بول پڑی۔”اس کی تو مذاق کی عادت ہے عمر بھائی۔”
“امی جی آپ کی میرے لیئے آج میرا پسندیدہ حلوہ بنایا ہے نہ۔”
عمر دریا بیگم سے مخاطب تھا۔
“ہاں بیٹا تم نے فرمائش کی تھی نہ تو میں نے بنایا ہے۔”
“امی آپ مجھے مت بھولیں ۔میری پسند کا کھانا بنائیں گی آپ۔”
“ارے تم تو میری بیٹی ہو ،میری جان۔”
احلام زندگی میں آج بے پناہ خوش تھی۔
زندگی کے خالی حصے عمر کی محبت سے بھرنے لگے تھے۔
______________________________
احلام زین کی قبر پر آئی تھی۔فاتح پڑھنے کے بعد احلام زین کی قبر پر ہاتھ رکھ کر بے تحاشا روئی۔آنسو گالوں پر نشان چھوڑ رہے تھے۔عمر اس کے پاس ہی نیچے بیٹھا اور اسے سینے سے لگا لیا۔
:عمر میرا جان عزیز بھائی کیوں اتنی جلدی چلا گیا۔دیکھو نہ اس کی زندگی کے خلا تو کوئی نہیں بھر پایا ۔بہت تکلیف میں تھا میرا شہزادہ۔”
“بس احلام میری پری وہ اس جہاں ہے جہاں جاکر انسان کی تمام پریشانی دور ہو جاتی ہے۔دیکھو کسی نے پہلے جانا ہے کسی نے بعد میں۔اس کے دکھوں کا مدوا ہوگیا ہےجاناں۔”
عمر نے احلام کو کھل کر رونے دیا۔آخر میں احلام اور عمر دونوں نے مل کر زین کے لیئے دعا کی۔
“زین تمہاری ہر ذمہ داری میری ہے بھائی۔تم پریشان مت ہونا تمہارا نام بہت اچھے طریقے سے یاد کیا جائے گا۔”
عمر احلام کو تھام کر باہر لایا اور یہ اپنے محل کے لیئے نکل پڑے۔
________________________________
احلام جب سے عمر کے ساتھ واپس آئی تھی تب سے یہ محل میں ہر کام کرنے لگ گئی تھی ۔انابیہ کے ساتھ سب چیزوں میں یہ ہاتھ بٹاتی ۔ سب گھر والوں کے ساتھ اس کی بہت زیادہ دوستی ہوگئی تھی خصوصا چھوٹے دیور کے ساتھ. عمر اس وقت احلام کے آگے بیٹھا ہوا تھا احلام نے ہاتھ میں تیل پکڑا ہوا تھا جب عمر کے سر پر لگا رہی تھی عمر کے سر میں آج پھر درد ہو رہا تھا ساری رات جاگنے کے بعد عمر صبح جا کر کہیں سویا تھا . عمر کا کوئی بہت خاص کام تھا جو اس نے پوری رات بیٹھ کر دیا تھا اس لئے اب دوپہر ایک بجے جا کر عمر سب سے پہلے تیل لے کر احلام کہ میرے سر میں لگاو ۔
“گوہر یہ زیادتی ہے میرے سر میں بھی بہت درد ہے میرے سر میں بھی لگائیں۔”
“تم نہ ہر جگہ گودا کرو اپنی بہن کے چمچے۔”
عمر نے عمیر کر سر پر ایک تھپڑ لگایا ۔
“عمر بچا ہے نہ کریں۔”
“یہ بچا نہیں کچھ اور ہی ہے۔۔”
“آجاو تمہارے سر میں تیل لگاوں۔”
عمر کے اٹھتے ہی عمیر احلام کے آگے بیٹھ گیا۔
“گوہر ویسے جب سے آپ آئی ہیں لالہ سے مار نہیں پڑھی کسی کو بھی ورنہ آپ کے آنے سے پہلے تو آئے دن کسی نہ کسی کی ٹھکائی ہوجایا کرتی تھی لالہ سے. “
” تو کس کو مار پڑ چکی ہے تم لوگوں میں سے عمر سے. “
سب سے زیادہ نہ بڑے لالہ عون کو مار پڑی ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ جب بڑے طرح پڑھا نہیں کرتے تھے تو عمر لالہ انہیں کان سے پکڑ کر پڑھایا کرتے تھے بڑے لالہ کلاس میں نہیں جایا کرتے تھے تو سکول میں لڑائی ہو جاتی تھی ۔عمر لالہ انہیں کلاس میں خود بٹھا کر آتے تھے۔”
” ساتھ ذرا اپنا بھی قصہ سنانا کہ کیسے تم ہماری کلاس میں گھس آیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ لالہ میں نے نہیں پڑھنا میں نے آپ کے ساتھ بیٹھنا ہے ہر وقت تمہاری ناک ٹپکتی رہتی تھی۔”
عمر نے کشن سے عمیر کو مارا۔
“آف لالہ نہ کریں نہ۔اتنا بھاری ہاتھ ہے۔”
“ارے آج تو میرے بچے بڑے خوش ہیں۔”
جبار بھی عمر کے ساتھ ہی آکر بیٹھ گیا۔
“ابو آپ کو پتا ہے آج سب کے لیئے کھانا میں بناوں گی۔”
احلام نے جبار کو خوشی خوشی بتایا۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔انابیہ بھی بہت خوش ہیں بیٹا آپ یہاں ایڈجسٹ ہوگئے ہو۔”
“ابو جی میرا اپنا گھر ہے۔یہ سب گھر والے میرے اپنے ہیں اتنی محبت کرنے والے تو کیسے نہ ایڈجسٹ کروں ۔”
“مجھے بہت خوشی ہے ۔چلو آج پھر ہم اپنی بیٹی کے ہاتھ کے کھانے کا انتظار کرتے ہیں۔”
عمر مطمن بیٹھا احلام کو خوش دیکھ رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: