Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 18

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 18

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
عنایہ پچھلے پورے ماہ سے سلیمان کا انتظار کر رہی تھی جو اسے بتائے بغیر ہی شہر چلا گیا اور پھر واپس جب بھی فون کرتا تو یہی بات کہتا کہ جب میں آؤں گا تو ہم بات کر لیں گے۔ ع عنایہ اس گھر میں سخت پریشان ہو چکی تھی یہاں پر ہر کوئی اس کے خلاف تھا جبکہ یہاں اس نے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی جس کی وجہ سے اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا.
آج عنایہ کی شادی کو دو ماہ ہوچکے تھے ۔ آج عنایہ کی کچھ زیادہ ہی طبیعت خراب تھی جس کی بدولت زین کو اس کو اس نے سعدیہ کو دے رکھا تھا ۔
عنایہ صبح سے ہی بہت زیادہ بے چین تھی اس کا دل کر رہا تھا کہ جلدی سے سلیمان گھر آئے اور یہ اپنے دل کی بات اس سے کرے ۔سعدیہ بار بار اس کا دل بہلاتی کہ آپ پریشان مت ہوں جب سلیمان آئے گا تو آپ کی ہر بات مانے گا.
عنایہ کو معلوم ہوا کہ سلیمان آج گھر آ چکا ہے۔ عنایہ فورا سے تیار ہوئی ۔آج عنایہ اپنے نارمل دنوں سے ہٹ کر تیار ہوئی تھی تاکہ سلیمان کو منا پائے ۔سلیمان باہر اپنی بی جان اور بابا جان سے مل کر اندر آیا تو عنایہ کو انتظار کرتے ہوئے پایا۔عنایہ تیار ہوئی تھی اور کھڑے ہو کر اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی. ،۔
“خیر ہے عنایہ آج بہت زیادہ تیار کیوں ہوئی ہو ۔لگتا ہے میرا انتظار ہو رہا تھا کیسی ہو تم کیسا گزرا میرے بغیر ایک مہینہ”.
“سلیمان میں نے تمہارا اس پورے ایک مہینے میں بہت زیادہ انتظار کیا ہے۔ تمہیں معلوم ہے میں گزرے ایک پورے مہینے سے تم سے فون پر بات کرنا چاہتی تھی مگر تم ہمیشہ میری بات کو ٹال دیتے تھے. “
“بولو میری جان ایسی کیا بات تم نے جو مجھ سے کرنی تھی جس کیلئے تمہیں پورا مہینہ انتظار کرنا پڑا ۔زین تو ٹھیک ہے نہ اور تم خود. “
” میں تم سے آج شہلا بیگم کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں جو تمہارے والد کی دوسری بیوی ہیں اور تمہاری سوتیلی والدہ وہ یہاں جانوروں کے ساتھ رہتی ہیں ان کے ساتھ بے انتہا برا سلوک ہوتا ہے میں یہ برداشت نہیں کر سکتی. “
“تمہیں میں نے شادی کے پہلے دن ہی بتا دیا تھا عنایہ کے میرے معاملہ میں بولنے کی اجازت تمہیں نہیں ہے۔ تم میری بیوی ہو خان بیگم ہو صرف وہی بن کر رہو اور بابا سائیں کے کسی معاملے میں بولتا نہیں ہوں، نہ تمہیں اجازت دوں گا کہ تم بولو۔ جہاں تک شہلا بیگم کا معاملہ ہے تو وہ ونی ہوکر آئی ہیں۔ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں نہ وہ میری ماں ہیں۔”
“انتہائی بے حس انسان ہو تم ۔تم جانتے ہو جس کو تم برا کہتے ہو اس عورت کو کتنے شدید طریقے سے مارتا ہے تمہارا باپ ۔میں کبھی ایسے گھر میں نہیں رہوں گی سلیمان اور مجھے اس بات کا جواب چاہیے کہ تم اپنے باپ کی غلط باتوں میں اس کا ساتھ دو گے یا میرا ساتھ دو گے۔ تم جانتے ہو میں ہمیشہ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہوں ۔یہاں پر عورت کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔ خان بیگم بنانا چاہتے ہو مجھے تو میری باتیں ماننا ہوگی تمہیں. “
” تمہیں شادی کے پہلے دن ہی میں نے بتا دیا تھا عنایہ کے میری کسی معاملے میں تمہیں بولنے کی اجازت نہیں ہوگی تبھی میں نے باور کروا دیا ہے کہ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں مجھے بار بار تنگ مت کرو”
” تم جانتے ہو سلیمان دراصل تمہیں سکھایا ہی گیا ہے کہ عورت کا جانور ہے۔ مگر عورت کمتر نہیں عورت پر ہاتھ اٹھانے والا کمتر ہوتا ہے۔ تمہاری تربیت جس عورت نے کی ہے نہ میں اس سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیسے عورت ہوتے ہوئے تمہیں ایک عورت کو حقیر سمجھنا سکھایا ہے اس نے۔”
بی جان کے بارے میں بات سنتے ہی سلیمان کو بے حد غصہ آیا اور سلیمان نے زور دار تھپڑ عنایہ کے چہرے پر لگا دیا۔ عنایہ کیلئے یہ ٹھپر زیادہ شدید تھا کیونکہ اسے آج تک تیمور یا انسہ نے ڈانٹا نہیں تھا ۔عنایہ خالی نظروں سے سلیمان کی طرف دیکھ رہی تھی اور پھر غصے سے چیخ کر بولی۔
” اتنی ہی اوقات ہے تمہاری اور اتنی حیثیت کے تم اتنا ہی کرسکتے ہو۔ کمزور ہونا میں اس لیے مجھ پر ہاتھ اٹھا لیا۔ تم لوگ صرف کمزور مخلوق پر ہاتھ اٹھانا جانتے ہو کیونکہ تم لوگ مرد کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔”
” بند کرو اپنی بکواس کرو۔چپ کرکے رہو اس حویلی میں۔ مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہیں ایک کمرے تک محدود کر دوں۔ اگر میں نے تمہیں قید کر دیا تو کوئی تمہیں چھڑانے نہیں آئے گا“
” یہ بات یاد رکھو سلیمان کے حد بندی قبول نہیں کرتی ۔مجھے ہمیشہ سے سیکھایا گیا ہے کہ عورت پر پابندی لگائی جائے تو وہ اپنی حد سے نکل جاتی ہے۔ ایک حد بنائی ہے میں نے بھی زندگی میں وہ حد میری اپنی بنائی گئی ہے ۔اس حد میں نے کبھی بھی اپنے ماں باپ کا سر نہیں جھکایا ۔میں نے ہمیشہ اپنے اللہ کے بنائے ہوئے احکامات کو مانا ہے ۔مگر تم تو میرے رب کے بنائے ہوئے احکامات کو جھٹلا رہے ہو۔ تم ان لوگوں کا ساتھ دے رہے ہو جو انسانیت پر ظلم کرتے ہیں۔ تم لوگ انسانیت کو اتنی بھی اہمیت نہیں دیتے کہ ایک انسان کو انسان سمجھو۔“
” عنایہ جس شخص کے بارے میں تم بات کر رہی ہوں میرا باپ ہے وہ۔ جس نے مجھے پالا ہے میں اس کا خون نہیں اس کے باوجود مجھے سب کچھ دیا ہے اس نے۔ میں اپنے باپ کے کسی معاملے میں بولنے کا حق نہیں رکھتا اور نہ تمہیں دیتا ہوں تمہیں تو زندہ گاڑ سکتا ہوں مگر اپنے باپ کو نہیں چھوڑوں گا. “
عنایہ اس کی سفاکانہ بات پر بہت زیادہ ہرٹ ہوگئی اور فورا پیچھے مڑی اور زین جو بیڈ پر آرام سے سو رہا تھا اس کی طرف آئی اور اسے اٹھا لیا.
” تم نے آج ثابت کر دیا ہے کہ میں نے تمہیں اپنا کر بہت غلط فیصلہ کیا ہے۔ بابا مجھے بار بار سمجھاتے تھے کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تم سے شادی کی جائے۔ میں نے زین کی خاطر سے تم سے شادی کی تھی ۔میں نہیں جانتی تھی کہ تم اس قدر گھٹیا ذہنیت کے مالک ہو گے ۔میں اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں سے جا رہی ہوں کبھی مڑ کر نہیں دیکھوں گی تمہیں. “
سیلمان آگے آیا اور غصے سے عنایہ کا بازو پکڑ لیا ۔اس وقت سلیمان بہت زیادہ غصے میں تھا اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھی۔ اس کا دل تو کر رہا تھا کہ عنایہ کو تین چار تھپڑ لگا دے مگر پہلے وہ عنایہ کو تھپڑ مار کر خوش نہیں تھا۔
” مجھے چھوڑ کر جاؤ گی تم ۔ٹانگیں توڑ دوں گا میں تمہاری۔ آج سے تم اسی کمرے میں بند رہو گی ۔کسی سے ملاقات نہیں ہوگی تمہاری بہت آزادی دی ہے میں نے تمہیں“
” نہیں رہوں گی میں یہاں تمہارے پاس ۔میں چلی جاؤنگی یہاں سے اپنے بیٹے کو لے کر ۔ میں آزاد ہوں اور آزاد پیدا ہوئی ہوں۔ یہاں سے نکل کر میں تمہیں اور تمہارے بابا سائیں کو جو سبق سیکھاوں گی وہ تم دیکھتے رہ جاؤ گے. “
سلیمان نے زید کو عنایا کے ہاتھ سے کھینچ کر لیا اور اسے زور سے بیڈ پر پھینکا.
” خبردار جو تم نے ایک لفظ بھی اور کہا آج کے بعد تم اس کمرے سے نکل کر دکھاؤ تو دیکھنا ۔ عزت راس نہیں آتی تمہیں”
” چھوڑ دو میرے بیٹے کو اس کو بھی خود کی طرح بزدل بناو گے۔بزدل انسان ہوتم۔گھن آرہی ہے مجھے آج یہ سوچ کر کہ تم جیسا انسان مجھے چھوتا تھا۔میرا وجود مجھے گھن آرہی ہے ۔”
سلیمان کا عنایہ کی بات سن کر دماغ کام کرنا بند ہوگیا۔
“سعدیہ سعدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
:جی سائیں جی۔”
سعدیہ بھاگتے ہوئے کمرے میں آئی۔عنایہ بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی۔سعدیہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
“سعدیہ زین کو لے جاو۔اسے آج رات تم اپنے پاس سلانا۔”
سلیمان نے زین سعدیہ کے ہاتھ میں دیا اور دروازہ لاک کرکے واپس آیا ۔
“گھن آتی ہے نہ تمہیں میرے چھونےبسے۔میں بتاتا ہوں تمہیں آج کے کیا ہوں میں تمہارا۔”
سلیمان اس وقت شدید غصے میں تھا۔عنایہ بیڈ سے اٹھی اور پاس پڑا لمپ اٹھا کر کھینچ کے سلیمان کو دے مارا۔سلیمان کے لیئے یہ سب بہت اچانک تھا۔
“خبردار جو مجھے عام عورت سمجھا تو۔میں وہ نہیں جو اپنے وجود پر ظلم کے نشان لے کر بھی مسکراوں۔تم ایک درندے ہو وحشی ظلم۔کل کو تمہاری بیٹی آنی ہوگی نہ تب پوچھوں گی تم سے۔تب کہنا کہ ہمارے اصول ہیں ۔کر دینا قربان اپنی بیٹی کو بھی۔جو میرے ساتھ کر رہے ہو نہ کل کو اپنی بیٹی کے ساتھ بھی ہوتا دیکھو گے خان۔”
سلیمان جو اپنی شرٹ اتار چکا تھا عنایہ کے پاس آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا۔سلیمان کے کندھے پر لکھ لگا تھا مگر بجت ہوگئی تھی۔
“کیسے کہہ سکتی ہو اپنی بیٹی کے بارے میں تم ایسا۔بے حس عورت ہو تم جو اپنی اولاد کے لیے ایسا سوچتی ہے۔”
عنایہ نے سلیمان کے ہاتھ خود پر سے جھٹکے۔
“میں وہ عورت ہوں کہ اگر حق کی خاطر مجھے اپنی اولاد بھی قربان کرنی پڑی تو بلکل نہیں ڈروں گی۔تم جیسے بہت لوگ دیکھیں ہیں میں نے۔تیمور خان کی بیٹی ہوں میں ۔مت سمجھنا کہ میرے پیچھے کوئی نہیں۔اپنی سگے باپ کی جائیداد کی تن تنہا مالک ہوں میں۔تمہیں سلاخوں کے پیچھے لے جانا میرے لیئے مشکل نہیں۔”
سلیمان عنایہ کا ایسا روپ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔
“میں نے خود کبھی غلط نہیں کیا کسی کے ساتھ سمجھ آئی۔”
“غلط نہیں گیا مگر خاموش تو رہے ہو نہ۔بہت طاقت ہے تمہارے پاس مظلوم نہیں ہو۔جو ظالم کا ساتھ ہو وہ بھی ظالم ہے۔”
“عنایہ میرا دماغ خراب مت کرو۔میں اتنے عرصے بعد واپس آیا ہوں اور ایسا استقبال کیا ہے تم نے میرا۔”
“تو اور کیا پھولوں کے ہار لے کر کھڑی ہوتی ۔کہتی میرے خان آگئے ہیں اور تمہارے قدموں میں گرتی ۔ایسا ناممکن ہے خان سیلمان۔—————-“
سلیمان نا چاہتے ہوئے بھی اس کی بات پر ہنسنے لگ گیا جو سنا کو زہر سے برا لگا۔
“تنگ مت کرو مجھے عنایہ اور چپ چاپ بیڈ پر آجاو۔”
سلیمان بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا۔
“جو تھپڑ تم نے مجھے مارا ہے نہ تم اس کی قیمت نہیں ادا کر سکتے۔میں ہرگز تم جیسے شخص کے ساتھ نہیں رہوں گی۔”
“ٹھیک ہے تمہاری مرضی اپنا کمرہ ہے جہاں مرضی جا کر سو جو۔”
سلیمان اور بحث نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیئے لیٹ گیا جب کے عنایہ کی پوری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: