Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 19

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 19

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
سلیمان عنایہ کے سر پر پیار دے کر اٹھا تو عنایہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“خان اپنے وعدے سے کیوں مکر گئے ۔مجھے اس حویلی میں قید کیا تم نے۔آخر کو نکلے نہ اک وڈیرے ہی تم۔”
“عنایہ میری جان تمہیں حاصل کرنے کے بہت طریقے تھے مگر جو طریقہ میں نے اپنایا ہے اس سے تم کبھی آزاد نہیں ہوگی۔اس حویلی کی خان بیگم ہو تم جو دل چاہے مرضی کرو ہمارے ہونے والے بچے پر دھیان دو اور ہمارے بیٹے زین پر بھی توجہ دو تم اسے اکنور کرتی ہو تو اچھا نہیں لگتا مجھے۔مجھ سے دور جانے کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو۔”
“سلیمان میں اس قید میں مر جاؤں گی۔میں قید رہنے کی عادی نہیں۔لوگوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں اس گھر میں مجھے۔مجھے اپنے پاس رکھ لو تم بے شک مگر اس حویلی میں نہیں۔میرا دم گھٹا ہے۔”
سلیمان نے جھک کر اس کے چہرے کے نزدیک ہو کر جواب دیا۔
“تمہیں خود سے دور کرنا تو بہت دور کی بات ہے عنایہ میں دو پل کے لیئے تمہیں خود سے جدا نہ کروں۔یہ حویلی ہمارا ،ہماری اولاد کا گھر ہے جتنی جلدی اس حقیقت کو اپنا لو بہتر ہے تمہارے لیئے۔میں کام سے جا رہا ہوں ۔بی جان کو تنگ مت کرنا اور ہمارے دونوں بچوں کا خیال رکھنا ۔”
سلیمان نے جھک کے عنایہ کے لب چومے اور پھر ساتھ سوئے ہوئے زین کو پیار کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ عنایہ روتی ہوئی اسے واپس بلانے لگی۔
“خان پلیز مت کرو ایسا ۔تم اپنے وعدے دے مکر نہیں سکتے۔نہیں رہنا مجھے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔”
نوکرانی بھاگتے ہوئے آئی اور عنایہ کو تھام لیا ۔
“بی بی طبیعت خراب مت کریں اپنی بی بی ۔۔۔۔۔۔۔”
عنایہ کی قسمت اس کے ساتھ جو کھیل کھیل گئی تھی وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
عنایہ کو کل ہی معلوم ہی تھا کہ وہ امید سے ہے۔ سیلمان کو جیسے ہی خبر ملی تھی اس کی تو خوشی کی انتہا نہیں تھی ۔اب عنایہ کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا سلیمان کے پاس رہنے کے بغیر. اس حویلی میں عنایہ پر زندگی تنگ ہو چکی تھی۔ عنایہ اس کمرے کے علاوہ کہیں نہیں جاتی تھی اگر جاتی تو بہت سی ملازمائیں اس کے ساتھ جاتی۔ سلیمان نے اس کا موبائل اپنے پاس رکھا ہوا تھا جب بھی تیمور کی کال آتیت تو وہ بات کر کے یہ کہہ دیتا کہ عنایہ بالکل ٹھیک ہے ۔تیمور چکر لگانے کا سوچ رہا تھا مگر سلیمان نے یہ کہہ کر روک دیا کہ دو دنوں تک وہ لوگ باہر جانا چاہ رہے ہیں جس کی وجہ سے تیمور رک گیا.
_________________________________
انسہ اور تیمور دونوں صبح لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔بات کا موضوع ان کی بڑی بیٹی عنایہ تھی جس سے پچھلے گزرے ہفتے میں ان کی بات نہ ہو پائی۔
“انسہ میں کل ہی حیدرآباد جائوں گا۔ مجھے نہ جانے کیوں لگ رہا ہے کہ سلیمان کوئی بات چھپا رہا ہے ۔عنایہ جب بھی بات کرتی تھی یہی کہتی تھی کہ سلیمان آئیں گے تو ان کے ساتھ آجاؤں گی۔ سلیمان نے اتنی دفعہ یہاں زیارت میں چکر لگا لیا ہے مگر ان عنایہ کو نہیں لایا اور ایک ہفتے سے وہ بات ہی نہیں کر رہی ہم سے۔”
” تیمور میں خود بھی آپ سے یہی بات کرنے والی تھی۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوگیا ہے ۔چلیئے نہ دونوں چلتے حیدرآباد۔ نہ جانے ہماری بچی کی حالات میں ہے۔آپ نے بھی تو اس کی شادی کرنے میں بہت جلدی کر دی. “
تیمور نے انسہ کے ایک اردگرد ہاتھ پھیلائے۔ انسہ کہ آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے تھے
” پریشان مت ہو میری جان بالکل ٹھیک ہوگی عنایہ مجھے یقین ہے ۔ویسے بھی میں عنایہ کی شادی جلدی نہیں کرنا چاہتا تھا . عنایہ نے زین کی وجہ سے ہی شادی کی ہے۔ کہتی تھی کہ بابا مجھے امید ہے کہ سلیمان بہت اچھا ثابت ہوگا نہ جانے میرے دل میں ایک کھٹکا ہے سلیمان کے متعلق. “
” چلے ہم حیدرآباد چلیں گے دو دن تک۔ آپ کو معلوم ہے کہ انابیی آئی تھی مجھے کہہ رہی تھی کہ اب حورین اور عون کی شادی کردینی چاہیے ۔نکاح کو بہت عرصہ ہوگیا ہے ویسے بھی۔ حورین پڑھائی مکمل کر چکی ہے۔وہ لوگ رخصتی چاہ رہے ہیں۔”
“اچھا ہے میں بات کرتا ہوں جبار سے۔عنایہ کو بھی اسی بہانے لے آتے ہیں۔تم تیاری کر لو۔”
____________________________
عنایہ اس وقت سعدیہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ عنایہ بہت زیادہ پریشان تھی۔ زین بار بار روتا تھا اور ماں کے پاس آنے کی ضد کر رہا تھا وہ ۔عنایہ نے مشکل سے زین کو اٹھایا تھا ۔ سعدیہ اس کے پاس ہی بیٹھ کر اس کا دل بہلا رہی تھی.
” سعدیہ تم اپنی بڑی بہن مانتی ہو تو مجھ پر ایک احسان کر دو ۔کہیں سے موبائل لا دو مجھے.”
” خان بیگم ہمارے پاس خود موبائل نہیں ہے آپ تو جانتی ہیں کہ میں خود ونی میں آئیں ہوں۔ مجھے سہولیات نہیں دی جاتی میں کہاں سے موبائل لا کر دوں آپ کو خان بیگم۔”
” بی جان کے کمرے میں جاؤ۔ ان کے پاس موبائل ہوتا ہے یہ انکے دوپہر کے سونے کا وقت ہے۔ جاو کسی طریقے سے مجھے موبائل لادو۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رابطہ کروں ورنہ میں اس قیدخانے میں مر جاؤنگی سعدیہ.”
” بی بی میں کوشش کرتی ہوں اگر نہ لا پائی پائی تو مجھ سے شکایت مت کرئیے گا میں جاتی ہوں دیکھتی ہوں اگر لا پائی تو۔”
سعدیہ بی جان کے کمرے کی طرف چلی گئی ۔بہت مشکلوں سے اس نے ملازمہ کو کمرے سے کسی بہانے سے باہر بھیجا اور بی جان کا موبائل جو تکیئے کے پاس پڑا تھا یہ تکیہ سیٹ کرنے کے بہانے اٹھالائی ۔ بی جان اس وقت کمرے میں نہیں تھی واش روم میں تھی۔ اس نے جیسے موبائل اٹھایا فورا کمرے سے بھاگ گئی۔
عنایہ کے کمرے میں آتے ہی اس نے کمرہ لاک کردیا اور عنایہ کہ ہاتھ میں فون دیا۔ سعدیہ کا خود اس وقت دل بہت زیادہ کانپ رہا تھا۔
عنایہ کے پاس اس وقت دو راستے تھے۔ تیمور کو کال کرے یا کسی ایسے انسان کو جو اس کی مدد کے لیے آ جائے ۔اگر عنایہ تیمور کو کال کرتی تو فیملی مشکل میں پڑ سکتی تھی اور ویسے بھی تیمور کو اگر یہ بات پتہ چلتی تو بہت بڑی لڑائی ہو جانی تھی ۔عنایہ چاہتی تھی کہ خاموشی سے اس حویلی سے نکل جائے اس کے بعد جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا ۔اس لئے اس کے دماغ میں عمر کا خیال آیا جو اس کی مدد کر سکتا تھا . عنایہ نے فورا عمر کا نمبر ملایا۔
” اسلام علیکم. “
عمر نے فون اٹھایا اور ہمیشہ کی طرح بہت شائستہ آواز میں کہا . آگے سے عنایی کی روتی ہوئی آواز عمر کے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے فوراً پہچان لیا کہ اس کی بڑی بہن بات کر رہی ہے۔
” عمر میرے بھائی مجھے یہاں سے بچا کر لے جاو ۔ میں اس حویلی میں قید ہو چکی ہوں ۔تمہارے دوست سلیمان نے مجھے قید کرلیا ہے میں پاگل ہو جاؤں گی یہاں عمر۔”
عمر کو تو پہلے سمجھ نہیں آئی کہ آیا کیا کہہ رہی ہے فورا سے اپنے دماغ پر قابو پاتے ہوئے بولا.” کیا ہوگیا ہے گوہر مجھے بتائیے آپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں . کہاں ہے سلیمان بات کروائیں اس سے میری۔ اس نے ہمت بھی کیسے کی میری بہن کے ساتھ ایسا کرنے کی“
” سلیمان کی ماں کے نمبر سے کال کر رہی ہوں ۔میرا موبائل ان لوگوں نے لے لیا ہے۔ مجھے کمرے میں بند کر دیا ہے۔ کچھ کرو میرے پاس آو۔ مجھے یہاں سے لے کر جاو ورنہ میں یہاں مر جاؤں گی۔ بہت ظالم لوگ ہیں یہاں پر سب۔ تم جانتے ہوں یہاں انسانوں کو ایسے مارا جاتا ہے جیسے وہ جانور ہوں ۔ مجھے یہاں سے بچا کر لے جاؤ.”
” پریشان مت ہوں گوہرمیں ابھی ہی نکلتا ہوں حیدرآباد کیلئے ۔ آپ پریشان مت ہوں میں ابھی نکلتا ہوں۔”
” عمر تم نے جلدی آنا ہے میرا یہاں دم گھٹ جائے گا جلدی پہنچو. “
” حوصلہ کیجئے جتنا ہو سکا ۔پہلے کیا ہے تھوڑا سا اوع کرلیجیے میں بس پہنچ رہا ہوں ۔مجھے تین گھنٹے لگ جائیں گے. حوصلہ رکھیے گا میری بہن میں آ رہا ہوں آپ کا بھائی ہوں محافظ پہنچ رہا ہوں. “
عمر نے فورا ہی فون بند کیا ۔عنایا روتے ہوئے سعدیہ کے گلے لگ گئی۔ سعدیہ نے فورا ہی موبائل فون اپنے ہاتھ میں لیا اور عنایہ کو سمجھایا کہ اسے بی جان کے کمرے موبائل چھوڑ کر آنا ہے ورنہ انہیں ان دونوں پر شک ہوجائے گا ۔سعدیہ کسی طریقے سے بی جان کے کمرے میں پہنچی جو ابھی باہر نہیں آئی تھی وہ ابھی بھی غسل خانے میں تھی ۔فورا ہی اس نے موبائل تکیے کے پاد رکھا اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
عمر نے فورا ہی غصے میں غوری کو بلایا. غوری نے آج پہلی مرتبہ عمر کو اتنے غصے میں دیکھا تھا۔
” سردار حکم کیجئے بلایا ہے آپ نے مجھے“
” سلیمان کہاں ہے . مجھے بتاؤ اس وقت فورا۔ اس نے میری بہن کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ میری بہن کو اپنی حویلی میں قید کیا ہے ۔اس کو میں نے وارن بھی کیا تھا کہ اپنی حدود میں رہنا ۔اس نے تمام حدیں توڑ دیں ہیں شاید وہ بھول چکا ہے کہ میں اس کا شہزادہ ہوں ۔میرا ہر حکم مانا اس کا فرض بنتا ہے ۔وہ بھول چکا ہے کہ وہ میری دنیا سے تعلق رکھتا تھا جہاں سے ہم اس دنیا میں آئے ہیں ابھی بھی میں اس کا شہزادہ ہوں میرا حکم چلتا ہے اس پر“
غوری عمر کی بات سن کر بے انتہا پریشان ہوگیا کیونکہ غوری کو سلیمان بہت زیادہ عزیز تھا ۔غوری نے بہت عرصہ اپنے پاس رکھا تھا سلیمان کو اس کے والدین کی وفات کے بعد ۔ غوری فورا بولا.
” میرے شہزادے سردار آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہو گئی ہوگی. ورنہ سلیمان ایسا کبھی نہیں کر سکتا وہ تو عنایہ بی بی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے ۔ان کی شادی تو بہت اچھی جارہی ہے“
” میری بہن کی کال آئی تھی مجھے رو کر بلا رہی تھی مجھے ۔قید میں ہے وہ نہ جانے کیسے اس نے مجھے کال کی کہ آو اور مجھے یہاں سے چھڑوا کر لے جاؤ۔ تم کہہ رہے ہو کہ میں اسے چھوڑ دوں۔ تم جانتے ہو نہ کہ میرے نزدیک میری عزت بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔میری وہ بہن ہے اگر کزن ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے عنایہ کو بہن نہیں مانا۔ سلیمان کو میری بہن کو دی گئی ہر تکلیف کا جواب دینا ہوگا کیوں کہ میں اپنی بہن کا محافظ زندہ ہوں ابھی غوری سلیمان کے لیے سخت پریشان ہوگیا تھا کیونکہ عمر کی آنکھوں میں اس وقت خون جھلک رہا تھا۔ عمر نے غوری کو حکم دیا کہ ابھی حیدرآباد کے لیے نکلے۔ کرم داد اور غوری دونوں ہی سلیمان کی طرف جانے کے لیئے عمر کے ساتھ نکل پڑے۔ عمر نے گھر میں کال کرکے انابیی کو سب بات بتا دیا اور یہ بھی کہا کہ جائے اور انسہ کو سب بتا دے کہ عنایی کتنی مشکلات میں ہے۔
__________________________________
حورین اور عرش دونوں احلام سے ملنے کیلئے آئی ہوئی تھی. آج تو آئلہ بجی ہوسٹل سے آئی تھی۔ اس لئے گھر میں بہت زیادہ رونق جمی ہوئی تھی اور چہکنے کی بہت ساری آوازیں آرہی تھی.
” حور اڑتی ہوئی خبر میرے کانوں میں پڑی ہے کہ تمہاری شادی کی تاریخ طے ہورہی ہے دو ہفتے بعد کی۔ کیا یہ سچ ہے لالہ تو انتظار کر رہے ہیں تم ان کے پاس اور تم سے سارے بدلے لیں وہ۔”
” میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ان کے ساتھ کہ وہ مجھ سے بدلہ لیں گے بلکہ شروع سے ہی وہ مجھے تنگ کرتے ہیں۔ تم میری نند ہونا تو زیادہ تنگ مت کرو ۔مجھے مت سمجھاو،عون کی بہن نہیں ہو تم میرے لیئے اس سے پہلے میری دوست ہو. “
حور نے آئلہ کو خوشی سے چہک کر کہا ۔
” آئلہ تنگ مت کرو حور کو۔ آج اتنے عرصے بعد تو یہ ہمارے گھر آئی ہے ۔مجھے تو انتظار ہے جلدی سے حور اس گھر میں آئے۔ اس کے آنے سے یہاں اور زیادہ رونق ہو جائے گی ۔عمر تو کہتے ہیں کہ حور آئے گی تو دیکھنا ہر وقت تمہارے ساتھ باتیں کرتی رہے گی. “
” توبہ کریں بھابھی آپ کے ساتھ باتیں کیا کرتی رہے گی کان کھا جائے گی . اپنے کان میں روئی ڈالنی پڑے گی آپ کو. “
عرش پکوڑوں کی پلیٹ سائیٹ پر رکھتی ہوئی بولی۔
” ریحانہ ریحانہ جاو جلدی سے عون لالہ کے کمرے میں چائے دے آو۔ وہ کہہ رہے تھے مجھے کہ چائے بھجوا دینا یاد ہی نہیں رہا۔”
احلام نے جاتی ہوں ریحانہ کو روکا اور ٹرے حورین کے ہاتھ میں دے دی۔حورین نے نہ سمجھی سے احلام کو دیکھا۔
” جاؤ حور تم جاکر خود اپنی ہونے والی میاں کو یہ چائے دے کر آو۔ ویسے بھی اس کا تم سے ملنے کا بڑا ہی دل کر رہا تھا ۔کہہ رہا تھا کہ گوہر جب حور آئے تو اس کو ذرا میرے کمرے میں بھیجیئے گا کچھ بات کرنی ہے. “
” نہیں نہ بھابھی میں نہیں جاؤں گی آپ جانتی ہیں نہ وہ غصہ کرتے ہیں. “
” او ہو تو ہماری چھوٹی سی حور لالہ کے غصے سے ڈرتی ہے. “
آئلہ کی بات پر احلام نے آئلہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔آئلہ احلام کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
“جاو بھی حور۔”
حور ڈرتے ہوئے عون کے کمرے کی طرف جانے لگی ۔عون کے پاس جانا شیر کے پاس جانے کے مترادف تھا۔
احلام کے ہاتھوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے آئلہ نے احلام سے سوال کیا۔
“گوہر آپ میرے ساتھ باہر چلیں گی شاپنگ پر۔عرش بھی ہے چلتے ہیں نہ۔”
“ٹھیک ہے۔ریحانہ دیکھو باہر گارڈ ہے یا غوری تو کہو گاڑی نکالیں۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: