Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 2

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 2

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
عمر اس وقت پارٹی میٹنگ میں آیا ہوا تھا۔
اس نے جیسے ہی ایم اے ان politics کیا یہ سیاست میں آگیا۔لوگ عمر خان کو جاننا شروع ہوگئے تھے۔بلوچستان کو اس وقت کسی اچھے سیاسسدان کی شدید ضرورت تھی۔جو اقدامات حکومت کر رہی تھی وہ ناکافی ثابت ہورہے تھے۔آرمی نے بہت حد تک حالات کو قابو کر لیا تھا مگر اس دوران بہت سے نوجوانوں نے اپنی جان کے نظرنے اپنے وطن کے لیئے پیش کیئے تھے۔سب سے زیادہ جن مسائل کا سامنا تھا وہ ان علاقوں میں بسنے والے سردار تھے۔بلوچستان کے سردار اپنے لوگوں کو تعلیم نہ حاصل کرنے دیتے۔وہ جانتے تھے کہ جب ۔عوام اپنے حق کے لیئے لڑنا جان جائے گی تو ان کا کالا دھندا کیسے چلے گا۔بہت سے معصوم لوگ ان ظالموں سرداروں کے آگے ساری زندگی غلامی میں گزار چکے تھے۔عمر اس وقت اپنے علاقے کے ایک تعلیمی مرکز میں بیٹھا ہوا تھا۔اس جگہ پر سالوں پہلے سکول بنانا تھا مگر اس علاقے کے سردار نے حکومتی زمین پر اپنا گودام بنا لیا۔جب لوگوں نے احتجاج کرنا چاہا تو انہیں یہ کہہ کر جپ کروا دیا گیا کہ تعلیم کی کیا ضرورت ہے سردار اپنے لوگوں کو نوکریاں تو دے رہے ہیں۔
عمر اس وقت ٹانگ پر ٹانگ رکھ پر بیٹھا ہوا تھا۔اس کے ایک طرف کرم داد گن لیئے کھڑا تھا جبکہ دوسری طرف غوری۔کرسی کے ہینڈل پر بازو ٹکائے یہ بہت غصے سے سامنے بیٹھے ہوئے سردار لے آدمی کو دیکھ رہا تھا۔عمر نے مطالبہ کیا کہ گلاب خان یعنی سردار لو بلایا جائے۔آدھے گھنٹے کے بعد بھی گلاب خان گودام نہیں آیا تو عمر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
“اگر اگلے دس منٹ میں اگر گلاب خان حاضر نہ ہوا تو اس کارندے کے کٹے ہوئے بازو اس کے مالک کو پہنچ جانے چاہیں غوری۔”
غوری نے فورا سر جھکایا۔”جیسا حکم سردار آپ دیکھیں تو کیسے دو منٹ میں یہ اپنے سردار کا پتا بتائے گا۔”
غوری آگے بڑھا اور گلاب خان کے اس کارندے کو بالوں سے دبوچ لیا۔اس لمحے عمر کی نظر غوری پر تھی جس نے سامنے کھڑے کارندے کا ایک بازو بے دردی سے تھاما۔”بول بتا کہاں ہے تیرا سردار۔ام کے پاس اتنا فضول وقت نہیں کے تجھ جیسے لوگوں پر ضائع کرے۔شرافت سے ام کو بتا دے کہ سردار کہاں ہے تیرا۔”
“ام کو نہیں معلوم ۔وہ جاتا ہے تو بتا کر نہیں جاتا۔ابھی بھی فون پر کہہ رہا تھا کہ تم لوگوں کو واپس بھیج دوں۔”
اس کی بات سنتے ہی عمر کی آنکھیں میں سرخی کے ڈورے چمک آئے۔
“غوری وقت ضائع کر رہا ہے یہ ہمارا۔ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کے ایسے فضول لوگوں پر ضائع کریں۔مدعے کی بات کرو اس سے نہیں سنتا تو ہاتھ پیر توڑ دو۔میر عمر کو ملاقات کے لیئے وقت کی ضرورت نہیں۔سزا تو اس کے مالک کو بہت سخت ملے گی مگر اس کو سب سے پہلے دیکھو۔مجھے اگلے تین منٹ میں گلاب خان کا موجودہ پتا چاہیئے ۔”
عمر بارعب آواز میں بولا۔اس کی آواز اتنی سخت تھی کہ اگر کوئی اور سن لیتا تو کانپ جاتا۔غوری اور کرم داد تو عادی تھے۔عمر خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔غوری نے گلاب خان کے کارندے کو بازو سے پکڑا۔اگلے لمحے ہی غوری نے اس کارندے کی بازو توڑ دی۔درد کی شدد سے اس بندے کی آنکھیں میں آنسو آگئے۔
“بول ام کو بتائے گا یا تیرا حشر کروں ایسا کہ دنیا دیکھ کے کانپ جائے۔”
“بتاتا ہوں ۔اس وقت وہ اپنے ڈیرے پر ہے ۔اس کے ڈیرے میں ایک تہ خانہ ہے وہاں ہے وہ اس وقت۔”
عمر یہ سن کے کر کرسی سے اٹھا اور اس کا رخ باہر کی طرف تھا عمر اس وقت کالی شلوار قمیض میں ملبوس تھا جبکہ اس نے اپنے پیروں میں بلوچی چپل پہن رکھی تھی۔ آنکھوں پر چشمہ لگائے یہ ایک ظالم سردار لگ رہا تھا چہرے پر پڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں اسے بہت زیادہ خوبصورت لگتی تھی.
غوری اس آدمی کو چھوڑ کر عمر کے پیچھے آیا جبکہ کرم داد اس آدمی کی طرف گیا یعنی کہ وہ اب اس کا علاج کرنے والا تھا.
” غوری اور گلاب خان کے ڈیرے پر چلو۔ میں آج ہی اس کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ آنے والے مستقبل میں وہ کبھی کسی انسان کا حق مارنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا. عمر خان سے کوئی انسان جیت نہیں سکتا یہ بات گلاب خان نہیں جانتا تھا۔ “آج اسے اپنا اصل روپ دکھا ہی دیتے ہیں. “
عمر کے لئے غوری نے گاڑی کا دروازہ کھولا گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے غوری سے یہ بات کی۔ غوری اس کے ساتھ بچپن سے تھا۔ غوری اس کیلئے ایک دوست بھی تھا اور بھائی بھی ۔غوری اس کی زندگی کی ہر حقیقت سے واقف تھا. غوری ایک جن زادہ تھا یہ اپنا روپ بدل سکتا تھا ۔جبار نے اسے آزاد کردیا تھا مگر اس نے اپنے مالک جبار کے ساتھ آنا پسند کیا ۔غوری کا کوئی خاندان نہیں تھا اس لئے ساری زندگی اس نے عمر کو ہی اپنا سب کچھ مانا ۔عمر اس کے لئے بچوں جیسا تھا جیسے عمر اس کا اپنا بیٹا ہو۔
گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی گلاب خان کے ڈیرے کی طرف جا رہی تھی۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقے میں داخل ہوتے ہوئے عمرخان اردگرد غریب لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ بلوچستان کے لوگوں کو بہت زیادہ ترقی کی ضرورت تھی ۔یہاں سرداروں نے ان لوگوں کی زندگیاں برباد کر رکھی تھی. عمر خان ہمیشہ اپنے باپ جبار خان کی ایک بات یاد رکھنا تھا کہ انسان بہت ظالم ہے عمر ہمیشہ اپنے باپ سے ایک ہی سوال کرتا کہ آپ بھی تو انسان ہیں تو جبار آگے سے ایک ہی جواب دیتا کہ انسانوں کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں ۔یہ ہماری تربیت پر منحصر ہے کہ ہم جانور بنتے ہیں کہ انسان۔ جبار کا بہت خوبصورت ایک لفظ عمر کے ذہن میں ہمیشہ کے لئے نقش ہو گیا کہ تمہارا عمل تمہیں انسان بناتا ہے یا جانور ۔ورنہ طاقت تو جانوروں کے پاس بھی ہوتی ہے.
گاڑی گلاب خان کے ڈیرے کے آگے رکی۔ عمر گاڑی سے نکلا اور فورا اندر کی طرف بڑھ گیا ۔غوری اس کے پیچھے ہی تھا یہ دونوں جیسے ہی اندر گئے گلاب خان کے گارڈ نے انہیں روک لیا۔ غوری نے عمر کو دیکھا اور عمر کو اشارہ کیا کہ وہ ان سے نمٹ لے وہ اندر گلاب خان سے جا کر نمٹ لے. عمر اپنے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی چین کو کھومتا ہوا بیس منٹ کی طرف گیا ۔بیس منٹ کا دروازہ کھول کر یہ جیسے ھی نیچے گیا اسے گلاب خان کدسی پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔گلاب خان نے ہاتھ میں شراب کی بوتل اٹھا رکھی تھی ۔عمر کو جس چیز سے سب سے زیادہ نفرت تھی وہ شراب تھی۔
عمر کی آنکھیں سلور رنگ کی ہوگئی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ عمر اس وقت جنونی حالت میں ہے . عمر نے چین کو اپنے ہاتھ پر لپیٹا اور بیس منٹ کی سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا۔
” زہنصیب آج تو ہمیں میر خان کا چہرہ دیکھنا نصیب ہوا ہے. “
گلاب خان عمر کو دیکھ کر کھڑا ہوا اور دھیمے انداز میں بولا جبکہ عمر کے چہرے پر خوف ناک ہنسی تھی عمر اپنا روپ بدل چکا تھا غلام خان کو نہیں معلوم تھا کہ عمر اس وقت اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے.
” نصیب تو ہمارے بڑے اچھے ہیں گلاب خان کے آج تم سے ملاقات ہوگی عرصہ دراز سے ہم تمہیں تلاش کر رہے ہیں کہ تم سے ہماری ملاقات ہو ۔مگر تم ہمارے قابو میں ہی نہیں آتے. “
” سردار صاحب کیا کریں آپ کی نظر کرم ہم پر ہے ہی نہیں . ہم جیسے معمولی بندے تو آپ کے نظر کرم کے منتظر ہیں مگر آپ نے کبھی ہماری طرف نگاہیں نہیں کی. “
” عمر خان اتنا گھٹیا نہیں کہ وہ تم جیسے لوگوں کی طرف اپنی نگاہ اٹھائے سب سے پہلے تم سے میں ایک سوال کرتا ہوں کس انسان نے تمہیں یہ حق دیا کہ تم جاکر معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلو۔ تمہارے بارے میں مجھے بہت ساری اطلاعات مل چکی ہیں کہ کتنی بچوں کی زندگیاں تم نے برباد کی ہیں۔ اگر تمہیں سرداری دی گئی ہے تو اپنے مزارعوں کی بیٹیاں کو اپنی عزت سمجھنا تمہارا فرض تھا مگر تمہارے لئے تو وہ کسی جانور سے بھی بدتر تھی۔ آج میں تمہیں اس بات کا علم دونگا کی بیٹی چاہے جس انسان کی بھی ہو وہ عزت ہوتی ہے اور عزت کیلئے عمرخان اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہے. “
عمر آگے بڑھا اور گلاب خان کو گلے سے تھاما اور زوردار طریقے سے فرش پر پٹک دیا۔ یہ اتنا شدید تھا گلاب خان کو سنبھلنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔شراب کی بوتل اس کے ہاتھ سے گر کر زمین پر ٹوٹ گئی جبکہ شراب اردگرد پھیل گئی عمر نے ناگواری سے اس جگہ کو دیکھا.
“تمہارے گودام میں ہونے والے تمام کالے دھندوں کا علم مجھے ہے گلاب خان۔ آج تمہاری زندگی ختم کرنے کے بعد سب سے پہلے میں اس زمین کو اپنے لوگوں کیلئے چھوڑ دوں گا۔ تم جانتے ہو عمر خان نے زندگی میں جبار خان سے ایک بات سیکھی ہے کے سرداری اگر تمہیں دی گئی ہے تو اس کے قابل بننا سیکھو ورنہ دی گئی سرداری کو واپس لینے میں وقت نہیں لگتا. “
عمر نے گلاب خان کو بالوں سے اٹھایا اور اس مرتبہ اس نے شدید طریقے سے اس کا سر کرسی پر دے مارا۔ عمر جانتا تھا کہ قانون کبھی بھی گلاب خان کے خلاف نہیں جائے گا۔ ہمارے یہاں بات بہت عام تھی کہ اس انسان کا ساتھ دیا جاتا جو ظالم ہے اگر کوئی انسان قانون کے خلاف کھڑا ہوتا تو بڑے لوگ اسے دبا دیتے. سسٹم کو چینج کرنے کی ذمہ داری صرف ایک انسان پر نہیں سب لوگوں پر منحصر تھی۔ عمر یہ بات جانتا تھا مگر ان سب لوگ کو کون سمجھاتا جو اس کے سامنے تھے ۔بڑے لوگ ہمیشہ خود سے چھوٹے لوگوں کو ایسے دیکھتے تھے جیسے یہ ان کے ذر خرید غلام ہوں. عمر نے جب سے اپنے باپ کے ساتھ پولیٹیکل پارٹی جوائن کی تھی اس نے گلاب خان جیسے بہت سارے لوگوں کو سبق سکھایا تھا اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا اپنے صوبے کیلئے ترقی اور اپنے ملک کے لیے کام.
” ام تم کو کہتا ہے میر کے ام سے دشمنی مول نہ لو تمہیں یہ بہت مہنگی پڑ جائے گی. “
عمر اس کی بات پر ہنسنے لگ گیا اس کا قہقہ اس قدر خوفناک تھا کہ گلاب خان کا دل بھی دو لمحے کیلئے بہت زور سے دھڑکا.
” عمرخان اور وہ بھی تمہارے جیسا دشمن رکھے یہ تو کبھی ممکن نہیں عمر خان دوست بھی دیکھ کر بناتا ہے گلاب خان. “
اگلے لمحے جو گلاب خان نے دیکھا اس کی چیخیں اس پوری بیسمنٹ میں سننے والی تھی۔ کیونکہ عمر نے اپنے ہاتھ سے آستین ہٹائی۔ سبز نشان نظر آنا شروع ہوگیا. نشان سے نکلتی روشنی ہر طرف پھیلی اور عمر نے گلاب خان کی طرف دیکھ کر ہنسنا شروع کیا اور سبز نشان اس کے سامنے رکھ دیا. ۔ نشان سے نکلتی روشنی سے گلاب خان تڑپ گیا اور عمر اسے تڑپتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ آج عمر کے دل کو بڑا سکون ملا تھا کہ جانے کتنے ہی لوگوں کو آج انصاف ملا تھا. عمرخان اسے تڑپتا چھوڑ کر سڑھیاں واپس چڑھ رہا تھا جبکہ گلاب خان پیچھے سے مرتے ہوئے بولا.” تم انسان نہیں ہو کون ہو تم . “
” میں ایک ایسا معمہ ہوں اسے آج تک کوئی حل نہیں کر سکا ۔گلاب خان جاؤ آسان موت مر جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سسکتے رہو اور تمہیں موت بھی نہ آئے. وہ کیا ہے نہ کہ جب مجھ سے کسی بات کا تقاضہ کیا جاتا ہے تو میں وہ بات پوری کرتا ہوں خصوصا جب ہمارے لوگ مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم جیسے لوگوں کا کیا انجام ہوگا تو میں انہیں بتا دیتا ہوں کہ تم جیسے لوگوں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے. “
عمر اوپر کھڑے ہوکر آخری سیڑھی پر بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ پیچھے غلام خان تڑپ تڑپ کر مر گیا.
غوری عمر خان کا انتظار کر رہا تھا اس اس کے آتے ہیں غوری نے فورا گاڑی کے دروازے کھولے اور عمر اپنی منزل کی طرف چل پڑا.
____________________________
ریڈرز کیسی لگی آج کی قسط۔ یہ کچھ باتیں عمر خان کےکردارکے بارے میں تھی آپ کو کیا لگا گا کہ عمر خان کا کردار کیسا ہے. اگلے قسط میں احلام اور عمر کے سین شامل ہیں ۔ مجھے ڈھیر سارا لائک اور کمنٹ.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: