Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 20

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 20

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
حورین چائے ٹرے میں رکھے عون کے کمرے میں آئی ۔عون اس وقت کوئی کتاب کھول کر بیٹھا ہوا تھا اور پڑھ رہا تھا۔
حورین نے ٹیبل پر ٹرے رکھی اور باہر جانے کے لیے جیسے ہی قدم اٹھائے عون نے آواز دے کر اسے روک لیا۔
“رک جاو حور۔”
عون نے کتاب بند کی اور حورین کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
حورین خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔عون نے چائے کا کپ اٹھایا اور پینے لگ گیا۔حورین خاموشی سے عون کی تمام حرکتیں دیکھ رہی تھی۔
“حور اگر کوئی تبدیلی کروانی ہے کمرے میں تو مجھے ابھی بتا دو. شادی کے بعد میں کمرہ چینچ نہیں کروں گا پہلے ہی بتا دو تمہارے آنے سے پہلے ہر چیز تمہارے مطابق کر دوں گا میں۔”
حورین نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پیوسط کر کے جواب دیا۔
“عون آپ کی جیسے بھی مرضی ہے آپ کمرہ تیار کر دیجئے۔ آپ کا ہی کمرہ ہے آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا. “
عون نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کے حورین کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھا.
” جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض رہتی ہو زیادہ تر میرا مزاج تھوڑا سا سخت ہے مگر میں کیا کروں مجھے شروع سے ایسا ہی سکھایا گیا ہے تم جانتی ہو نہ کہ عمر بھائی وہ تو بالکل مختلف ہیں۔ ان کی تربیت مختلف انداز سے کی گئی ہے۔ جب کہ میری تربیت بہت عجیب انداز میں کی ہے ماما بابا نے۔ مجھ پر بہت ساری ذمہ داریاں ہیں میں چھوٹا بھی ہوں اور بڑا بھی.”
” آپ ہر وقت غصہ کرتے رہتے ہیں ٹھیک ہے ہم اگر کوئی غلط کام کریں تو آپ ہم پر غصہ کریں مگر ایسا نہیں ہے نہ کہ ہمارے سہی کام پر بھی آپ غصہ کریں عون۔”
عون نے حورین کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور پیار سے اس کے ایک گال پر ہاتھ پھیرا.” میرے بس میں نہیں رہتا کبھی کبھی میرا مزاج بالکل مختلف ہے مگر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کے شادی کے بعد میں پوری کوشش کروں گا تمہارے ساتھ سختی نہ کروں۔ تم میری محبت ہو حورین ہمارا نکاح بچپن میں ہوا تھا ۔تم بات اچھے طریقے سے جانتی ہوں۔میں نے ہمیشہ تمہیں ہی اپنی زندگی میں بیوی کے روپ میں دیکھا ہے۔ تم خوش ہونا ہماری شادی سے تمہارے چہرے پر خوشی واضح کیوں نہیں ہوتی جو ہونے والی دلہن کے چہرے پر واضح ہوتی ہے. “
” ایسا نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔ میں شادی سے بہت زیادہ خوش ہوں۔ بس مجھے ڈر لگتا ہے کہیں آپ مجھے ڈانٹیں نہ غصہ نہ کریں. “
” اچھی بات ہے تمہیں خوش ہونا چاہیے حورین کیونکہ میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں جتنا سب لوگ سمجھتے ہیں. دیکھو زندگی میں ہر انسان کی زندگی کا ایک پہلو ہوتا ہے میری زندگی کے بہت سارے پہلو ہیں جن سے تم واقف نہیں ہوں.جب ہماری شادی ہوجائے گی تم مجھے جان جاو گی۔”
“عون آپ مجھے پسند تو کرتے ہیں نہ۔”
فون اس کی بات پر ہنسنے لگ گیا۔عون اور حور دونوں کا نکاح چھوٹی عمر میں ہوگیا تھا۔عون سے حور ہمیشہ ہی دور بھاگتی تھی۔عون مزاج میں جتنا سخت تھا وہ حورین کے لیئے اتنا ہی نرم تھا۔
“میری پہلی اور آخری محبت تم ہی ہو میری جان۔کیا کبھی تمہیں لگا کہ میں کسی اور میں دلچسپی لے رہا ہوں۔”
عون نے حورین کی تھوڑی اوپر کر کے اس سے سوال کیا۔دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔
“نہیں عون ۔بس دل میں ایک ڈر ہے۔”
“ڈر کی وجہ۔”
عون نے حورین کے بالوں میں ہاتھ پھیرے ہوئے پوچھا “ماما کہتی ہیں کہ سردار خاندان بہت سخت ہے۔ہمارے گھر کی ملازمہ ہے نہ وہ بتاتی ہے کے سردار بہت ساری شادیاں کرتے ہیں۔اس نے مجھے یہ بھی کہا کہ میں آپ کی خاندانی بیوی ہوں گی اور آپ باہر بھی شادیاں کریں گے کسی کو بتائے بغیر۔”
عون حورین کی معصوم سی ادا پر ہنسنے لگ کیا اور بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا
” پاگل ہمارے خاندان میں کسی نے کبھی دوسری شادی کی ہے . عمر بھائی نے بھابھی کو اپنی بڑی سردارنی کا خطاب دیا ہے یعنی کہ وہ دوبارہ شادی نہیں کریں گے
جب کہ بابا نے بھی ایک شادی کی ہے ۔دادا نے بھی اور تایا جان نے بھی تو میں کیسے دوسری شادی کر سکتا ہوں. میری زندگی میں تمہاری ہی اہمیت ہے کوئی عورت میری زندگی میں نہیں آئے گی۔ مجھے شروع سے یہ ایک ہی بات سکھائی گئی ہے کہ محبت ایک ہی انسان سے ہوتی ہے۔ ہاں اگر آپ کسی اور عورت زندگی میں شامل کرتے ہیں اس کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ مگر میں اپنی زندگی میں سب سے تم سے محبت کروں گا. کسی اور کو اپنی زندگتمہاری جگہ شامل نہیں کروں گا حورین۔”
عون نے حورین کو اپنے حصار میں لیا اور اس کے خدشات دور کیئے۔
حورین ٹرے لے کر باہر آئی تو بتا چلا کہ سب شاپنگ پر جا چکے ہیں اسے چھوڑ کر۔حور کو غصہ آیا مگر ضبط کرتے ہوئے یہ بڑی گوہر کے کمرے میں آگئی۔
_______________________________
عمر جیسے ہی حویلی پہنچا فورا اپنی گاڑی سے نکلا ۔غوری اس کے پیچھے تیزی میں چل رہا تھا ۔یہ حویلی میں آیا تو بی جان کو خبر ہوئی کہ عمر خان ملنے کے لیے آیا ہے ۔وہ مردان خانے میں آئیں۔
” السلام علیکم عمر سردار آج کیسے آنا ہوگیا آپ کا یہاں۔ آنے سے پہلے اطلاع دے دیتے تاکہ ہم کوئی تیاری کر لیتے. “
” وعلیکم السلام بی جان ہم یہاں آج بہت اہم کام سے آئے ہیں۔ آپ جلدی سے ہماری بہن کو بلائیے۔ ہم اس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں“
بی جان نے عمر کی بات سنی تو انہیں تھوڑا سا شک ہوا کہ شاید عمر معلوم ہو گیا ہے کہ ان لوگوں نے ان عنایہ کو کمرے میں بند رکھا ہے ۔مگر پھر بڑے ہی زیادہ مضبوط لہجے میں انہوں نے پاس کھڑی ملازموں کو حکم دیا کہ جائیں اور عنایہ کو بلا کر لائیں۔
عنایہ کو جیسے ہی پتہ چلا کہ عمر آیا ہے وہ فورا سے ہی زین کو اٹھائے ہوئے آگئی۔
عمر کو دیکھتے ہی عنایہ فورا سے آئی اور عمر کے کندھے کے ساتھ لگ کر رونا شروع ہوگئی۔ عمر کے کندھے پر سر رکھ کر عنایہ جیسے جیسے رو رہی تھی بی جان کو غصہ آ رہا تھا کہ نہ جانے اب کیا کیا شکایتیں لگائے گی اپنے بھائی کو.
” عمر تم آگئے ہو مجھے یہاں سے لے جاؤ۔ میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ بہت ظالم ہیں یہ لوگ۔ تم جانتے ہو سامنے والے اس جانوروں والے کمرے میں ان لوگوں نے ایک عورت کو بند کر رکھا ہے۔ سلمان کی سوتیلی والدہ ہیں وہ۔ بہت برا سلوک کرتے ہیں یہ اس کے ساتھ۔ طبیعت بہت خراب ہے ان کی۔ یہاں پر بہت ساری لڑکیاں ہیں جوونی میں آئی ہیں اور ان کو ملازمہ کے طور پر رکھا ہے انہوں نے. “
بی جان فورا کھڑی ہوگی اور عنایی کو ڈانٹنے والے انداز میں کہا.” خاموش بہو بیگم ہم نے تمہیں اپنی گھر کی باتیں دوسروں کو بتانے کے لئے نہیں کہا۔ یہ ہمارے گھر کے معاملات ہیں ہم کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہمارے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کریں. “
“آواز نہ آئے مجھے آپ کی میں اگر عزت کرتا ہوں تو مجھے مجبور مت کریں گے میں وہ سلوک کروں جو آپ جیسے لوگوں کے ساتھ کرتا ہوں۔ کہاں ہیں سلیمان بلائیں اسے۔ اسے بھی تو معلوم ہو کہ کون آیا ہے اس سے سوال جواب کرنے کیلئے“
غوری جس نے عمر کے آنے سے پہلے ہی سلیمان کو اطلاع دے دی تھی اور پریشانی سے کھڑا ہوا تھا سلیمان آیا اور فورا مردانہ خانے کی طرف گیا ۔سامنے اسے آعنایہ نظر آئی جو عمر کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی جبکہ ذہن اس کی گود میں تھا.
” سلام عمر تم آگئے ہو یہاں بتائے بغیر مجھے بتا دیا ہوتا میں تمہیں لینے آ جاتا“
” میں یہاں خوشی سے نہیں آیا بیٹھو تم سے کچھ بات کرنی ہے. “
” کیا ہوگیا ہے عمر کوئی شکایت مل گئی تمہیں ہماری. “
” سب سے پہلے مجھے یہ بتاؤ سلیمان تم مجھے کیا سمجھتے ہو کون ہوں میں. “
عنایہ عمر کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر اس وقت شدید غصہ تھا عمر کو عنایہ نے کبھی اتنا شدید غصے میں نہیں دیکھا تھا۔ جب کہ سلیمان عمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عمر کی طرف دیکھ رہا تھا.
” شہزادے ہو ہمارے عمر تم. “
” شہزادہ ہوں میں تمہارا تو میری بہن کے ساتھ تم نے ایسا سلوک کرنے کی ہمت بھی کیسے کی ۔تھپڑ مارا تم نے میری بہن کو۔ اس کو کمرے میں بند کیا اور لوگوں کے ساتھ ظلم کیا تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میرے خاندان کے ساتھ تم ایسا سلوک کروگے اور میں پلٹ کر جواب نہیں دوں گا“
عنایہ پہلے تو پریشان ہوگی کہ سلیمان عمر کو شہزادہ کیوں کہہ رہا ہے مگر اس وقت وہ ان دونوں کی لڑائی ہی دیکھ رہی تھی بول کچھ نہیں پا رہی تھی.” بیوی ہے میری عنایہ اس کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کروں۔ ویسے بھی آپ کا حق نہیں بنتا شہزادے یہ میری بیوی کہ میرے معاملات میں بولیں۔”سلیمان آپ والی زبان استعمال کرنے لگا کیونکہ عمر شہزادے کے روپ میں تھا۔
” خاموش ہو جاؤ مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہارے ساتھ وہ سلوک کروں جو میں غداروں کے ساتھ کرتا ہوں. تم شاید بھول رہے ہو کہ تم کہاں سے آئے ہو۔ ۔ تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں کسی پر ظلم کرنے کی اجازت دوں گا۔ غوری جاو اور سامنے کمرے والی عورت کو نکال کر رہا کرو اور یہاں سے تمام بچیوں کو اس جگہ بھیجو جہاں پر میں نے ایسے بچوں کے لیے خصوصی جگہ بنائی ہے دیکھتا ہوں میں کیسے تم اس علاقے میں ظلم کرتے ہو. “
بڑے سائیں جو یہ سب گفتگو باہر کھڑے ہوکر سن رہے تھے فورا ہی اندر آگئے۔
” معاف کیجیے گا سردار عمر ہم آپ کا کوئی حکم نہیں مانتے۔ یہ ہمارا علاقہ ہے آپ کا علاقہ نہیں آپ یہاں سے جا سکتے ہیں. “
عمر غصے میں کھڑا ہوا اور بڑے سردار کی طرف آیا ۔عنایہ اور سیلمان سوچ نہیں سکتے تھے یہ کیا کرنے والا ہے۔ عمر نے بڑے سائیں کو گریبان سے پکڑا اور زور سے فرش پر پھینکا.” میرے سامنے زبان چلانے کی ہمت مت کرنا۔ تم جیسے لوگوں کا احترام میں نہیں کرتا تم نے کتنی زیادتی کی ہے لوگوں کے ساتھ ۔میں تمہارے سارے کرتوتوں سے واقف ہوں۔ مگر ہمیشہ چپ رہا کہ شاید تمہارا بیٹا تمہیں سدھار لے مگر اس نے ایسا نہ مر مے بہت بڑی غلطی کر دی ہے“
” شہزادے آپ اس طرح ہمارے والد کی بے عزتی نہیں کر سکتے۔”
تم اچھے طریقے سے جانتے ہو سلیمان کہ میں کون ہوں شہزادہ عمر جبارخان۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا میرے کسی فیصلے میں بولنے کا ۔یہ شخص تمہارا حقیقی باپ نہیں ہے ۔تمہارا فرض نہیں بنتا اس کی ہر ایک بات پر سر جھکانا۔ کا اگر یہ غلط کرتا ہے تو تم اس کا ساتھ دے کر گنہگار مت بنو۔ غوری, غوری بات سنو میری. “
” حکم کریے سردار شہزادے. “
” اس شخص کو اٹھاؤ اور بھرے چوک پر لے کر جاؤ۔ آج میں دکھانا چاہتا ہوں لوگوں کو کہ برائی کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنے مزارعوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے۔ تم نے ان کی ان کے گھروں سے عورتوں کو اٹھوا لیا۔ ان مزدوروں کی فصلیں جلا دی۔اپنی ڈیروں پر معصوم بچوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلتے ہو تم۔ تمہارا ہر کارنامہ سن کر آیا ہوں میں آج تم میرے ہاتھ سے نہیں بچوگے“
عنایہ جو پیچھے کھڑی ہوئی تھی بڑے سائیں کے کارناموں کے بارے میں سن کر یہ کانپ اٹھی جبکہ سلیمان کی آنکھیں حیرت سے باہر آگئی تھی وہ جانتا تھا کے بڑے سائیں برے ہیں مگر اس قدر ۔س6لمان نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
” میں آپ کے آگے ہاتھ باندھتا ہوں کہ میرے والد کے ساتھ ایسا سلوک مت کرئے۔ میں برداشت نہیں کر سکتا میرے ساتھ جو مرضی کریں مگر میرے والد کے ساتھ ایسا سلوک میں نہیں برداشت کروں گا“
” خاموش ہو جاؤ مجھے بالکل نہیں پسند کہ میرے دیے گئے فیصلوں میں کوئی دخل اندازی کرے۔ غوری اس شخص کو لے کر جاؤ باہر . اس حویلی میں آج کے بعد انصاف ہوگا اور عنایا گوہرا فورا جائیں ہو جا کر باہر گاڑی میں بیٹھیں۔ آپ کو ہمارا ڈرئیوار گھر چھوڑ دے گا میں آؤں گا گھر کچھ دیر بعد“
” عمر اتنی سختی مت کرو میں جارہی ہوں تمہارے ساتھ ۔چھوڑ دو ان کو قانون ان سے اپنا بدلہ لے گا”
” میں نے آپ کو کہا ہے نہ جائیں یہاں سے مجھے نظر مت آئیں آپ بھی یہاں پر۔ فورا جائیے آپ کو تیمور ماموں کے گھر چھوڑ دیا جائے گا“
سلیمان نے عنایہ کا بازو پکڑ لیا۔
” عنایہ آپ یہاں سے نہیں جا سکتی۔ میری بیوی ہیں آپ اور میرا بیٹا آپ کے پاس ہے ہمارے آنے والی اولاد آپ کے پاس ہے ۔میں آپ کو یہاں سے ہرگز نہیں جانے دوں گا“
” میں نے تم سے کہا تھا نہ سلیمان کے میں کمزور نہیں۔ مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔ میرے پیچھے ساتھ دینے والے بہت لوگ ہیں آج تمہارا انجام دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے نہ اتنی خوشی مجھے کبھی ہو نہیں سکتی ۔تمہارے بڑے بابا سائیں کا انجام لوگ دیکھیں گے۔ جتنا ظلم لوگوں پر کرتے تھے نہ آج انجام دیکھیں گے۔”
” ٹھیک ہے وہ گنہاگار ہیں ان کو سزا ملے گی۔ مگر تم مجھے کس بارے میں سزا دے کر یہاں سے جا رہی ہو۔”
” جو شخص اپنی بیوی کی عزت نہ کرے میں ہرگز ایسے شخص کے ساتھ رہنا پسند نہیں کروں گی۔ تم نے تھپڑ مار کر مجھے میری حیثیت اپنی زندگی میں واضح کردی ہے سلیمان۔ میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں رہوں گی اور جہاں تک رہی میری اولاد کی بات تو انہیں میں وہ تربیت دوں گی کہ جب بھی کسی عورت کی طرف دیکھیں تو ہمیشہ عزت کی نگاہ اٹھا کر دیکھیں“
” عنایہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہارے لیے میں نے خود کو بہت بدلہ ہے میری تم سے التجا ہے کہ مت جاؤ. “
عنایہ نے سلیمان سے بازو چھڑوایا اور زین کو سینے سے لگا لیا.” ہرگز نہیں میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی سلیمان ۔میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی عمر میں جا رہی ہوں اپنے گھر کبھی نہیں آؤں گی میں یہاں واپس“
عنایا جارہی تھی جبکہ سلیمان جیسی ہی اس کے پیچھے گیا اس کو عمر کی آواز آئی” رک جا سلیمان وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو نہیں رہنا چاہتی ۔اس کا فیصلہ عنایہ کے والدین کریں گے اب۔ سب سے پہلے تمہارے باپ کا فیصلہ کروں گا میں. “
” شہزادے میری التجا ہے کہ میرے بابا کو اتنی سخت سزا مت دیجئے“
”انہیں سزا ملے گی ۔ یہاں کے ہر ایک انسان کی ایک سسکی کا بدلا لینا مجھے اچھے سے آتا ہے۔”
غوری فورا سے آگیا اور سلیمان کو بازو سے پکڑ لیا.
پلیز سلیمان بیٹا اس ٹائم پر شہزادے کے آگے مت بولو ۔تمہیں بھی بہت سخت سزا دینگے۔ منع کیا تھا نا کے اس شخص کا ساتھ مت دو چھوڑ دو ۔”
” غوری میں کیسے اس شخص کو سزا دینے دوں مجھے پالا ہے اس نے“
” یاد رکھو ظلم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہوتا ہے۔ شہزادے کو کرنے دو جو کرتے ہیں۔”
” غوری شہزادے کو سمجھاو نا…….. “
” میں شہزادے کی حکم عدولی نہیں کرسکتا چلو میرے ساتھ سلیمان. “
غوری سلیمان کو لیئے کمرے سے باہر آگیا۔
__________________________________
ریڈرز کیسی لگی آج کی قسط۔کیا ہونے والا ہے آگے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: