Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 21

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 21

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
آئلہ احلام اور عرش کے ساتھ مال میں آئی ہوئی تھی انہیں گھومتے ہوئے تقریبا تین گھنٹے ہوگئے تھے مگر ابھی تک یہ لوگ شاپنگ سے فارغ نہیں ہوئے تھے ۔پہلاکو یہی بات کہتی تھی کہ ہم یا واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ بہت زیادہ دیر ہوچکی ہے اتنی دیر یہ لوگ کبھی گھر سے باہر اکیلے نہیں رکےکیونکہ آج گارڈ چھٹی پر تھے۔ غوری بھی نہیں تھا اس لئے عرش گاڑی ڈرائیو کر کے ان کے ساتھ آئی تھی ۔احلام کو آج بہت زیادہ پریشانی ہو رہی تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے۔ احلام نے بس ایک ہی سوٹ خریدا تھا کیونکہ پچھلے مہینے اس نے بہت زیادہ شاپنگ کرلی تھی جبکہ عمر تقریباً روز ہی اسے کچھ نہ کچھ لے دیتا۔ احلام نے محسوس کیا کہ اسے بھوک لگ رہی ہے تو آئلہ کو یہ کہہ کر یہ سامنے والی فورڈ شاپ پر چلی گئی کہ میں دو منٹ میں آ رہی ہوں۔ احلام عرش اور آئلہ کو چھوڑ کر گئی جبکہ پیچھے آئلہ اور عرش دونوں شاپنگ کر رہے تھے اتنے میں مال میں شور پڑ گیا جیسے یہاں کچھ ہوگیا ہے۔ احلام کو تو سمجھ نہ آیا یہ فورا ہی عرش اور آئلہ کی طرف بھاگی ۔احلام جلدی جلدی سامنے والی دکان میں جانا چاہ رہی تھی تاکہ دونوں کو لے کر نکلے مگر اس کی قسمت تھیکہ جیسے ہی اندر آئی اسے آئلہ نظر آئی جس کا ہاتھ کسی لڑکے کے ہاتھ میں تھا ۔صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ لڑکا آئلہ کے ساتھ کچھ کرنا چاہ رہا ہے۔
” آئلہ تم فورا سے جو یہاں سے جلدی۔۔”
احلام کی آنکھوں نے رنگ بدل کر سبز کر لیا۔احلام آگے آئی اور اس لڑکے کو بازو سے تھام کر پھینکا ۔
“آئلہ عرش کو لو اور بھاگو یہاں سے۔”
یہ لوگ عمر کے دشمن تھے جو عمر کی عزت کو اٹھانا چاہتے تھے۔انہیں احلام کے بجائے آئلہ نظر آئی تو یہ لوگ بھاگے ہوئے آئلہ کو اٹھانے آئے۔ان کے کارندوں نے مال میں شور مچایا ہوا تھا۔
احلام اس سے پہلے کے کچھ کرتی گولی چلی ۔ہر طرف جیسے وقت رک گیا تھا۔احلام کے وہ گارڈ جو کسی کو نظر نہیں آتے تھے یعنی جن وہ نمودار ہوئے مگر احلام کو بچا نہ پائے۔
“گوہر ۔۔۔۔۔۔۔۔”
عرش کی کانپتی ہوئی آواز آئی۔
احلام کو ایک جن نے تھاما۔احلام کا سبز نشان تیز ہوا ۔دو گولیاں لگی احلام کو۔ایک پیٹ میں اور دوسری ٹانگ میں۔
عمر غوری کے ہاتھ پر گر پڑا۔غوری بوکھلا گیا۔عمر کی ٹانگ سے ہیٹ نکلنے لگی۔
“شہزادے ۔۔۔۔۔۔۔۔”
عمر نے آنکھیں بند کی پھر بول پڑا ۔”شہزادی ۔۔۔۔۔۔۔تکلیف میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غوری شہزادی کو بچاو۔”
عمر نے درد میں ڈوبی آواز میں کہا۔
عمر کو معلوم ہوگیا تھا کہ احلام کسی بہت بڑی تکلیف میں ہے ۔غوری نے اسے بہت مشکل سے سنبھالا تھا اور یہ بھی جان گیا تھا کہ شہزادی کو کچھ ہوگیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف احلام کے وہ گارڈ جو کہیں سے نمودار ہوگئے تھے فورا ہی عرش اور آئلہ کو تھامے احلام کے ساتھ اسپتال آئے اور اسے نہ جانے کس طریقے سے اسپتال میں داخل کروا دیا ۔جیسے ہی گھر میں خبر گئی تو جبار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ احلام کی زندگی کے ساتھ ان کے بڑے بیٹے کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ اگر احلام کو کچھ ہوتا تو ساتھ عمر بھی اس دنیا سے چلا جاتا۔
نہ جانے کیسے سب گھر والے اسپتال پہنچے یہ لوگ ایمرجنسی کے باہر ہی کھڑے تھے۔ڈاکٹر احلام کو اندر لے کر گئے ہوئے تھے اور اسے ایم جنسی میں گئے ہوئے تقریبا تین گھنٹے ہوگئے تھے ۔عون بار بار ایس یو کے باہر جا کر دیکھتا کہ احلام کیسی ہے۔
عمر آج اپنا ہر اصول توڑ کر واپس آیا تھا آج عمر نے یہاں واپس آنے کے لیے اپنے پر استعمال کیے تھے ۔غوری نے بھی اپنے پر استعمال کیے تھے اور عمر نے بھی۔ یہ لوگ بہت جلدی یہاں پہنچ گئے تھے۔ عمر کو پروا نہیں تھی کہ کوئی دیکھ رہا ہے یا نہیں اس کو بس اتنا معلوم تھا کہ اس نے اپنی احلام کے پاس جانا ہے ۔یہ جیسے ہی اسپتال کے پاس آیا اسے معلوم ہوگیا کہ احلام یہاں پر ہی ہے کیونکہ اس کی روشنی اس کو پتا رہی تھی کہ اس کی شہزادی زخمی ہے اور کہاں پر ہے۔
عمر نے اپنے پر بند کیے اور یہ فورا اسپتال کے اندر بھاگ گیا ۔کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی عمر ہے جو اتنا بڑا سیاستدان ہے جیسے ہی یہ ایمرجنسی وارڈ کی طرف گیا تو اسے سامنے جبار اور عون دروازے کے پاس کھڑے ہوئے نظر آئے۔
“بابا میری احلام کو کیا ہوگیا ہے۔”
عرش جو انابیہ کے ساتھ سر جھکائے کھڑی تھی عمر کو دیکھ کر دھل گئی۔عمر کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھی۔
“عمر احلام کو گولی۔۔۔۔۔۔۔۔”
عثمان سردار نے عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“گولی کیسے لگ گئی اس کو گولی میں تو آپ لوگوں کی حفاظت میں اس کو چھوڑ کر گیا تھا نہ میری امانت تھی و۔ہ کیوں نہیں کی اس کی حفاظت۔ کیوں لگی اس کو گولی۔ جب میں نے کہا تھا کہ احلام کی زندگی مجھ سے زیادہ ضروری ہے تو آپ لوگ کہاں پر تھے جب سب ہوا۔میں پوچھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے شہزادی کی حفاظت کیوں نہیں کی۔ کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ وہ میری شہزادی ہے۔”
“لالہ وہ آئلہ۔۔۔۔۔۔۔”
“چپ عرش بلکل چپ ۔تم لوگوں کے آج ہر حد پار کر دی ہے۔میری احلام کو اگر کچھ ہوا تو یاد رکھنا تم سب کا بھائی بھی ساتھ ہی مرے گا۔”
انابیہ فورا آگے آئی اور عمر کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
“نہیں بچہ کچھ نہیں ہوگا۔وہ ٹھیک ہوجائے گی۔”
عمر ماں کے کندھے سے لگ گیا۔آج عمر کو احساس ہوا تھا کہ احلام کی چلتی ہوئی سانسیں اس کی زندگی ہیں۔ڈاکٹر نے خون مانگا۔عمیر اور عثمان سردار نے خون دیا کیونکہ ان کا میچ کر رہا تھا۔7 گھنٹے کے بعد آپریشن روم سے ڈاکٹر باہر آئی۔سب لوگ اس کی طرف بڑھے۔
“ڈاکٹر کیسی ہیں میری وائف۔”
“آئی ایم سوری سر ہم آپ کے بچے کو نہیں نچا پائے۔احلام کو گولی پیٹ پر لگی تھی جس کے بعد خون زیادہ بہہ گیا۔”
عمر پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔
“ڈاکٹر کیا وہ پریگنٹ تھی۔”
“جی شاید ابھی انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کیونکہ ون منتھ ہی ہوا ہے ان کی پریگنسی کو۔انہیں روم میں شفٹ کریں گے ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے آپ دعا کریں۔”
احلام کی کنڈیشن بہت زیادہ خراب تھی اس وقت سب احلام کے لیے دعا کر رہے تھے احلام کے گھر خبر کر دی گئی تھی عمر ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنی جان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ سب سے زیادہ عمر کو اس بات کی فکر تھی کہ جب احلام کو معلوم ہوگا کہ ان کا بچہ نہیں رہا تو اس کا کیا ریکشن ہوگا ۔کیونکہ احلام زیادہ درد برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ احلام کا دل بہت زیادہ کمزور تھا اور عمر جانتا تھا کہ اپنی اولاد کے معاملے میں احلام کتنی زیادہ حساس ہے۔ جتنا دکھ عمر کو اپنی اولاد کھونے ہونے کا ہو رہا تھا شاید کسی کو نہ ہوتا مگر جو احلام کو دکھ ہونے والا تھا وہ شاید عمر سوچ نہ پاتا۔
دودن کے بہت زیادہ مشکل انتظار کے بعد احلام کو ہوش آیا ۔اس کے پاس عمر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ میں عمر کا ہاتھ تھا جبکہ دوسرے ہاتھ پر عمر نے پیار دیا احلام کو احساس ہوا کہ اس کے پیٹ پر شاید بہت زیادہ stiches لگے ہوئے ہیں۔
“عمر شہزادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی میری جان تم ٹھیک ہونا ۔ دو دن بعد ہوش میں آئی ہو۔میرا تو سوچ کر برا حال ہو رہا تھا کہ تمہاری طبیعت کیسے ٹھیک ہوگی ۔تم میری اجازت کے بغیر کیوں گئئ۔ اسی لئے کہتا تھا کہ تمہارا گھر رہنا ضروری ہے۔میرے بہت زیادہ دشمن ہیں۔ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں دیکھو آج انہوں نے ہمارا کتنا بڑا نقصان کر دیا۔”
عمر احلام کے ہاتھوں کو تھام کر بول رہا تھا جبکہ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔اس وقت عمر نے خود پر بہت ضبط کیا ۔وہ احلام کو نہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ ان دونوں نے اپنا بچہ گھو دیا ہے۔ احلام کو پیٹ پر گولی لگی تھی جس کی بدولت اس کا فورا ہی آپریشن ہوا تھا احلام نہیں سمجھ پائی کی اس کا مس کیرچ بھی ہوا ہے۔
” عمر تم رو کیوں رہے ہو میں ٹھیک ہوں نا دیکھو مجھے کچھ نہیں ہوا۔”
احلام نے بہت مشکل سے عمر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور ہانٹوں کے قریب لے کر گئی۔ عمر فورا سے اس کے چہرے پر جھکا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ وہ احلام کو کیا بتاتا کہ دونوں نے اپنی آنے والی اولاد کو کھو دیا ہے۔
” تم بالکل ٹھیک ہو جاناں میرے لئے یہی کافی ہے ۔تم نہیں جانتی کہ میرے دل کے کیسے ٹکڑے ہوئے تھے تمہیں اس حالت میں دیکھ کر۔ تمہاری ہر ایک تکلیف میں نے اپنے وجود برداشت کی ہے تم جانتی ہو جب تمہیں گولی لگی تو مجھے معلوم پڑ گیا تھا کہ تمہارے ساتھ کچھ ہوگیا ہے۔ اب میں تمہیں اپنی نظر سے بالکل دور نہیں ہونے دونگا۔”
” عمر امی کہاں پر ہیں کیا انہیں بتایا تم نے نے۔”
” میری شہزادی وہ باہر ہی ہیں۔ میں بلاتا ہوں انہیں بہت زیادہ پریشان ہیں انہیں درد اور تکلیف مت ہونے دینا تم جانتی ہو نہ انہوں نے اپنا جواں سال بیٹا کھویا ہے اب تمہیں اس حالت میں دیکھ کر وہ بالکل ختم ہوگئی ہیں۔ ان کو حوصلہ دینا ہے پریشان نہیں کرنا۔”
عمر نے اپنا ہاتھ احلام کے زخم پر پھیرا عمر کے ہاتھ سے جو سبز رنگ کی روشنی نکل رہی تھی اس روشنی میں اتنی طاقت تھی کہ وہ احلام کا درد کچھ دیر کیلئے ختم کر سکے
ثریا بیگم اندر آئی اور احلام کو اپنے سینے سے لگا لیا ہے۔ احلام بہت زیادہ تکلیف میں تھی ۔ثریا بیگم کہہ رہی تھی کہ مجھے معاف کر دو میں نے زندگی میں تمہارے ساتھ بہت زیادتی ہی ہے آج مجھے احساس ہوا کہ اگر تم نہ ہو تو میری زندگی کیا ہے۔ پہلے میرا بیٹا چلا گیا اور آج میں تمہیں کھو دیتی تو شاید میرے پاس کچھ بھی نہ رہتا۔
آہستہ آہستہ سب لوگ جاکر احلام سے ملے تھے۔ احلام کی ٹانگ زخمی تھی۔ ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کہ احلام دو ماہ تک یہ چل نہیں پائے گی اور اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے۔ یہ رات کا وقت تھا جب احلام اور عمر دونوں ہسپتال میں اکیلے تھے۔ عمر نے سب کو گھر میں واپس بھیج دیا تھا عمر اور احلام دونوں ابھی ابھی باتیں کر رہے تھے۔ عمر کو باہر کسی کام کے لئے جانا پڑگیا ۔نرس کمرے میں آئی جس کے ہاتھ میں نیند کا انجکشن تھا
” کیسی ہیں ۔آپ میں بہت زیادہ لکی ہیں آپ۔ آپ کو سر جیسے شوہر ملے ہیں۔ آپ کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں وہ۔ آپ جانتی ہیں جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ دونوں نے اپنا بچہ کھویا ہے تو وہ بہت زیادہ روئے تھے ہم سب لوگ ان کو دیکھ کر پریشان ہوگئے مگر جس طرح انہوں نے آپ کو سنبھالا ہم لوگ حیران ہیں۔”
لفظ بچہ پر احلام حیران ہوگئی۔
” بچہ کیسا بچہ کس بچے کی بات کر رہی ہو تم۔”
” کیا آپ نہیں جانتیں کہ آپ کے آپریشن کے ساتھ ساتھ آپ کا مس کیریج بھی ہو گیا تھا. آپ کو شاید درد محسوس ہو رہا ہوگا تو آپ یہی سمجھ رہی ہوں گی کہ آپریشن کا درد ہے۔ مگر آپ کا مس کیرج بھی ہوا ہے آپ کا ایک ماہ کا بچہ جو گولی لگنے کے بعد اب نہیں رہا۔”
احلام سکتے میں چلی گئی۔نرس احلام کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جو ذرد پڑ رہا تھا۔
عمر اسی لمحے کمرے میں داخل ہوا جیسے ہی اس نے احلام کا چہرا دیکھا کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔یہ فورا ہی احلام کے پاس آیا ۔ احلام نے چہرہ موڑ کر عمر کو دیکھا پھر بہت زور سے چیخی کے احلام کو دیکھ کر عمر خود بھی ڈر گیا۔ نرس تو ڈر کے مارے ہی فورا پیچھے ہوگئی تھی۔
میرا بچہ عمر۔۔۔۔۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔تم کیسے اتنے پرسکون ہو ۔میں نے اپنی پہلی اولاد گھو دی۔ کتنی بدنصیب ہونا میں۔ اپنے بچپن میں اپنے باپ کو کھودیا۔ جوانی کی دہلیز پر اپنے بھائی کو کھو دیا اور اب زندگی میں آنے والی سب سے بڑی خوشی کو مجھ سے چھین لیا گیا ۔میری اولاد مجھ سے چھین گئی۔”
احلام نے خود کو نوچنا شروع کر دیا۔
“صبر کرو جاناں صبر کرو۔ہمارا امتحان ہے یہ۔”
عمر نے احلام کو زور سے تھام کر خود میں بھینچا۔
“میرا بچہ۔۔۔۔۔
مجھے کیسے محسوس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بدنصیب عورت ہوں عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے خوشی راس نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو میرے ہاتھ یہاں لکیروں میں بدنصیبی لکھی ہے نہ۔۔۔”
احلام اپنے حواس میں نہیں تھی۔عمر نے نرس کو غصے سے دیکھ کر اشارہ کیا کےانچکشن لگائے۔
نرس نے احلام کو بہت زیادہ مشکل سے انجکشن لگایا۔ احلام بار بار اپنا ہاتھ عمر سے چھڑواتی تھی۔ احلام کے پیٹ پر زور پڑ رہا تھا جس سے عمر کو ڈر تھا کہ کہیں اس کا زخم خراب نہ ہوجائے۔احلام کی حالت اس وقت بہت زیادہ خراب تھی وہ جانتا تھا کہ احلام کا ایسا ہی ریکشن ہوگا ابھی تو احلام کو نیند کا انجیکشن دے کر سلا دیا تھا مگر کیسے وہ احلام کو صدمے سے نکالے گا ۔ڈاکٹر نے عمر کو یہی کہا تھا کہ جتنا جلدی ہو سکے دونوں کی اولاد ہو تاکہ احلام اپنی پرانی زندگی سے نکلے اور جب کوئی خوشی ملی تو اس سے چھن گئی کو اور اس کو سکتے سے نکالنے کے لئے عمر کو اب بہت محنت کرنا تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: