Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 22

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 22

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
احلام خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔ اکثر اوقات اب یہ چیزیں بھول جاتی تھی اسے شدید قسم کا ڈپریشن ہو چکا تھا۔ اسپتال سے آئے ہوئے اسے پورا ایک ماہ ہوچکا تھا ۔عمر نے احلام کا بہت زیادہ خیال رکھا تھا نہ صرف عمر نے بلکہ تمام گھر والوں نے احلام کو بالکل بچوں کی طرح ٹریٹ کرنا شروع کر دیا تھا ۔ ثریا بیگم کی پیچھے ایک بیٹی کی ڈیلیوری تھی جس کی وجہ سے انہیں جانا پڑ گیا وہ بھی بہت عرصہ احلام کے ساتھ رہیں اور اسے سمجھاتی رہی کہ زندگی میں کچھ واقعات آپ کی بھلائی کیلئے ہوتے ہیں ۔مگر احلام تو جیسے بھی زندگی سے منہ چکی تھی ۔تھوڑی دیر پہلے ہی عمیر کمرے میں آیا تھا اور زبردستی اسے باہر لے کر آیا ۔احلام نے باہر آنا بالکل چھوڑ ہی دیا تھا تھا عمیر اس سے بہت زیادہ فرینگ تھا اسی لیئے وہ زبردستی احلام کو باہر لایا۔
ویل چیئر پر بیٹھی ہوئی احلام اپنے سامنے بہتے ہوئے فوارے کو دیکھ رہی تھی جو ان کے لان کے کونے میں لگا ہوا تھا جہاں سے پانی بہتا تھا۔ نیچے پانی کے اندر دو تین بطخیں تھی۔ احلام کو پرندے اچھے نہیں لگتے تھے ۔احلام کو پرندوں سے سخت خوف آتا تھا پرندے جب اڑتے ان کے پروں کی آواز احلام کو ڈرا دیتی تھی۔ اس لیے آج تک احلام نے اپنے ہاتھ میں کبھی پرندہ نہیں اٹھایا تھا۔ اس کے برعکس عمر کو پرندے بہت زیادہ پسند تھے آزاد فضاؤں میں اڑتے ہوئے پرندوں کی طرح عمر بھی ان کے ساتھ ہی اڑنا چاہتا تھا۔
” ارے گوہر میں آپ کو یہاں انجوائے کروانے لایا ہوں ۔کیا سوچنے لگ گئی ہیں آپ بتائیں مجھے کمرے میں بیٹھ کر بور نہیں ہوتی کیا۔”
عمیر کی بات پر احلام نے اس کی طرف دیکھا ۔اپنے پیٹ پر دباو ڈال کر بیٹھنا احلام کے لیئے اب بھی مشکل تھا مگر ڈاکٹر نے ہدایت کی تھی کہ اب احلام کو ویل چیر پر بٹھا کر تھوڑی دیر باہر لے جایا جائے۔
” کچھ بھی نہیں ۔بس ویسے ہی دل اداس ہو رہا ہے مجھے واپس اندر لے جاؤ میں اتنی دیر تک باہر نہیں رہنا چاہتی۔”
” گوہر ایسا تو نہ کریں۔ آپ میری دوست ہیں۔ میں کتنا زیادہ انجوائے کرتا ہوں آپ میرے ساتھ اینجوائے نہیں کرتی ۔آپ جانتی تو ہیں نہ میری بیسٹ فرینڈ ہیں آپ۔ ایسا کیوں کرتی ہیں دیکھیں آپ کتنی زیادہ ویک ہوگئی ہیں لالہ آپ کے لئے اتنے زیادہ پریشان ہیں۔ آپ کھانا کیوں نہیں کھاتی ۔ آپ ایسا کریں گی تو سب کتنے زیادہ پریشان ہوجائیں گے۔”
عمیر نے چھوٹے بھائی کی طرح اسے سمجھایا۔
” میں سمجھ سکتی ہوں عمیر مگر تم جانتے ہو کہ کچھ لوگوں کی زندگی اداس ہوتی ہے ۔میری زندگی میں امید جیسی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ میں اگر امید کرنا بھی چاہوں بھی تو امید کا جگنو میرے ہاتھ میں نہیں آتا ۔میں اتنا دکھ پرداشت کر چکی چکی ہوں گے میرے دل میں پڑی ہوئی دکھ کی لکیریں بھی پتھر بن چکی ہیں۔”
“ایسی باتیں تو نہ کریں نہ گوہر۔سب ٹھیک ہوگا۔آپ کو خدا پر یقین ہونا چایئے۔”
“مجھے اپنے رب پر پورا بھروسہ ہے۔میں منتظر ہوں کہ کب میری زندگی میں خوشیاں آئیں گی۔رب بہت رحیم ہے عمیر جانتی ہوں میں وہ کسی انسان کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔مگر اب میری ہمت جواب دے رہی ہے ۔میری آزمائش نہ جانے کب ختم ہوگی۔”
عمیر نیچے بیٹھا اور احلام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔
“گوہر خوشی جلد ہی آپ کے دروازے پر دستک دے گی۔آپ جانتی ہیں عمر لالہ آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔”
“عمر کی محبت کی بدولت ہی تو میں زندہ ہوں عمیر۔اگر عمر نہ ہوتا تو میں مر چکی ہوتی۔”
“نہیں گوہر ایسی باتیں مت کریں۔اچھا بتائیں کچھ کھانے کو لاوں۔”
“نہیں۔۔۔۔۔”
“یہ کیا بات ہوئی میں ابھی کچھ لاتا ہوں آپ میرا ویٹ کریں۔”
عمیر اندر می طرف چلا گیا ۔ انابیہ عمیر کو اندر جاتا ہوا دیکھ کر باہر آئی ۔ اس نے دیکھا کہ احلام اکیلی بیٹھی ہوئی ہے اور کسی بات کو سوچ رہی ہے۔ انابیہ اس کے پاس آئی اور ساتھ کرسی رکھ کر بیٹھ گئی۔
“کیا سوچ رہی ہے میری بچی۔”
کچھ نہیں ماما۔”
” میں جانتی ہوں احلام تم پریشان ہوں کہ تم نے اپنی پہلی اولاد گھوئی ہے پریشان مت ہو خدا تمہیں اور اولاد دے گا ۔”
” ماما عمر میرے ساتھ شادی کرکے پچھتا رہے ہیں کیا۔”
“ارے نہیں ۔کس نے کہہ دیا تمہیں۔میری جان وہ تو دن رات تمہارے لیئے پریشان رہتا ہے۔فکر مت کرو سب ٹھیک ہو گا۔عون کی شادی کی تیاری کر رہی ہوں میں۔تمہارے لیئے کپڑے عمر اپنی پسند کے لائے گا۔بیٹا تمہیں خوش رہنا ہے۔عون کی شادی پر خوب سارا اینجوائے کرنا۔”
“جی ماما ۔”
_______________________________________
عنایا سلیمان سے بالکل بھی بات نہیں کر رہی تھی ۔یہ جب سے حویلی سے آئی تھی اس کا سلیمان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ اسے معلوم پڑا تھا کہ بڑے سائیں کو بہت برے طریقے سے عمر نے مارا تھا اس کے بعد پولیس کے حوالے کیا تھا اور مزارعوں نے بھی بڑے سائیں کو اپنے طریقے سے سزا دی تھی۔ عمر نے ان کو اجازت دی تھی سلیمان ابھی بھی حویلی میں تھا ۔عمر نے نہ جانے اسے کیا سزا دی تھی مگر عنایہ جب بھی اس کا فون آتا تو بند کر دیتی۔
” عنایہ گوہر دیکھنا یہ زین بہت زیادہ رو رہا ہے۔ لگتا ہے اس کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔ دیکھیں میں نے اس کو بہت زیادہ جھولے دیے۔ ماما کہہ رہی ہیں کہ جا کی گوہر سے پوچھو اس کی کوئی پیٹ درد کی دوائی ہے تو بتا دیں ورنہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں۔”
عنایا عرش کی بات پر ہوش میں آئی جس کے ہاتھ میں تین ماہ کا زین اٹھایا ہوا تھا۔ زین بہت زیادہ نظر انداز ہو گیا تھا ۔عنایی اس کی طرف دھیان نہیں دے پا رہی تھی۔ اس نے بڑھ کر زین کو اپنے ہاتھ میں اٹھایا زین ماں کی گود میں آتے ہی چپ ہوگیا۔
” ارے اتنی دیر س میں چپ کروا رہی ہوں۔ے اسے میری گود نہیں پسند لگتا ہے۔ دیکھے تو سہی آپ کے پاس آتے ہیں چپ ہوگیا ہے۔
” ظاہری سی بات ہے ماں ہوں اس کی کیسے چپ نہیں ہوگا ۔”
ا”چھا میں نے آپ کو یہ بھی بتانا تھا کہ بابا بلا رہے ہیں ۔ زین کو سلا کر آئیگا۔ انہوں نے کچھ بات کرنی ہے آپ سے۔”
زین کو سلانے کے بعد عنایہ ماں باپ کی کمرے کی طرف آئی جو شاید اسی کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تیمور نے جیسے ہی اسے دیکھا اپنے پاس بلایا اور اپنے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔انسہ بھی تیمور کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی دونوں پریشان لگ رہے تھے۔
“کیا سوچا ہے تم نے مستقبل کے بارے میں عنایہ۔”
“کیا مطلب بابا۔”
بیٹا ماشاللہ سے اب تم دو بچوں کی ماں ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم اپنے شوہر کو چھوڑ کر آئی ہو تم سے جاننا چاہتا ہوں میں کہ کیا تم سلیمان سے خلع لینا چاہتی ہوں۔ اگر تم کہتی ہو تو میں آج ہی کیس دائر کر دوں گا ۔تم اگر اس شخص کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو میں ہرگز تمہیں فورس نہیں کروں گا جو تمہارا فیصلہ ہوگا وہی ہم دونوں میاں بیوی کا فیصلہ بھی ہوگا۔”
“نہیں بابا میں طلاق نہیں لینا چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ طلاق لے کر میں معاشرے میں یہ بات مشہور کروا دوں کہ دو بچّوں کی ماں ہے اپنے شوہر کے ساتھ دو ماہ بھی نہیں رہ پائی۔ میرے اور سلیمان کے بہت سارے ڈیفزنس ہیں جو حل نہیں ہو پائے۔ وہ میرے بچوں کا باپ ہے اور سب سے بڑی بات زین کا باپ ہے ۔آپ زین کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ جس شخص کی اولاد ہے اس نے زین کی ماں کے ساتھ کیا کیا تھا۔ جب زین کی پہچان لوگوں کو معلوم ہو گی تو اس کا اس دنیا میں رہنا مشکل ہوجائے گا اس لئے میرے لئے یہی بہتر ہے کہ زین کی سر پر سلیمان کے نام کا سایہ رہے۔”
“ٹھیک ہے ذین کی ماں اپنے گھر سے بھاگ گئی تھی اس کے محبوب نے اسے دھوکہ دیا اور اس کی عزت کے ساتھ کھیل کر چلا گیا مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں نہ تم اس بچے کے پیچھے اپنی زندگی خراب کر دو۔میرا بیٹا تمہاری ایک لمبی زندگی پڑی ہے ابھی تم جوان ہو ۔ پڑھی لکھی ہو اگر اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا تو طلاق لو ہم تمہاری شادی بہت اچھی جگہ کردیں گے جہاں تک بات بچوں کی ہے تو ہم انہیں پال لیں گے ہم دونوں کس لیے ہیں یہاں پر۔”
“نہیں بابا آپ جانتے ہیں میں وہ عورت ہو جو صرف ایک ہی مرد کا ساتھ قبول کرنے والی ہے ۔میں نے سلیمان سے شادی کرلی ہے اب میں اور کسی شخص سے کبھی شادی نہیں کروں گی ۔رہیئے میرے بچوں کی بات تو ہرگز انہیں خود سے دور نہیں کروں گی۔ میں ماں ہوں ان کو پال لوں گی۔آج اگر چھوڑ کے چلی جاؤنگی توکل مجھ سے سوال کریں گے کہ کیا آپ ہمارے لئے رک نہیں سکتی تھی۔ آپ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ نہیں جانتے کہ جب بچے بڑے ہوتے ہیں ماں باپ چاہے جو بھی قربانی دیں وہ سوال ضرور کرتے ہیں خصوصاً ماں اکیلی ہو اس سے باپ کے بارے میں سوال ضرور ہوتا ہے۔:
انسہ عنایہ کی بات پر غصے میں آگئی۔
” کیا کرو گی اس شخص کے پاس واپس جاو گی۔جس نے تمہیں حویلی کے ایک کمرے میں قید کر کے رکھ دیا ۔ تم نے اور تمہارے باپ نے اس وقت میری بات نہیں سنیں کہ تمہاری شادی وہاں نہ کی جائے اپنی مرضی چلاتے ہوں ہمیشہ ۔”
“کیوں پریشان ہوتی ہیں ماما۔کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے۔میں اس شخص کے پاس واپس نہیں جاوں گی۔”
” تو پھر اس کے نام پر بیٹھے رہنے کا مقصد کیا ہے میں نہیں چاہتا بیٹا کہ تم اپنی زندگی برباد کرو ۔ایک اعلی درجے کی بیرسٹر ہو تم دنیا مرتی ہے تم پر تو نہیں سمجھتی تو۔”
“مجھے کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں بابا ۔میں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مجھے طلاق نہیں لینی ہو سکتا ہے زندگی میں اپنے بچوں کی خاطر اس شخص کے پاس واپس جانا پڑے میں جانتی ہوں کہ سلیمان خان دوبارہ شادی نہیں کرے گا۔ وہ میرا انتظار کرے گا میں چاہتی ہوں وہ میرا منتظر رہے ایک نہ ایک دن اسے اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ نادم ہو اور قبول کرے کہ عورت بہت عظیم ہوتی ہے۔ جس اس نے یہ بات کہہ دی میں شاید میں اس کے پاس واپس چلی جاؤں۔”
“عنایہ تمہاری باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی ۔جب فیصلہ کرنا ہے تو ابھی کرو۔”
انسہ چھوڑ عنایہ جو فیصلہ کرتی ہے کرنے دو ۔طلاق نہیں لینی نہ لے۔ خود بات کروں گا سیلمان سے۔ٹھیک ہے یا نہیں جانا چاہتی تو اس کے باپ کا گھر ہے یہ یہاں رہ سکتی ہے اس کے دونوں بچے میرے بچے ہیں ۔”
عنایہ اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ پیچھے انسہ تیمور پر بے انتہا غصہ ہوئی کہ یہ کیا بچگانہ حرکتیں ہیں جو دونوں باپ بیٹی کر رہے ہیں۔ تیمور نے اسے کو یہ بات سمجھ آئی کہ وہ جانتا ہے کہ عنایہ سلیمان کے پاد واپس پاس واپس جانا چاہے گی کیونکہ اس کے پاس دو اولادیں ہیں جو سلیمان کی ہیں اولاد کی پیچھے عنایہ مجبور ہوکر واپس جائے گی اور وہ جانتا تھا کہ عنایہ بھی سلیمان سے محبت کرتی ہے مگر سلیمان کو سبق سکھانے کیلئے عنایا اس دور ہوئی ہے اگر سلیمان مستقبل میں کچھ ایسا برا کرتا ہے تو تیمور کا ارادہ تھا کہ وہ طلاق دلوائے گا خود عنایہ کو۔مگر اب فیصلہ بیٹی نے دیا تھا تو وہ مجبور ہیں بیٹی کی ہر بات ماننے کیلئے ۔ انسہ نے یہ سوال کیا کہ کیا ساری زندگی بیٹی کو گھر بیٹھے رکھیں گے تو آگے سے تیمور نے جواب دیا کہ وہ جتنا چاہے یہاں رہ سکتی ہے اور اگر وہ واپس نہ بھی جائے تو یہ گھر اس کا اپنا ہی ہے سب کچھ اس کا اپنا ہے کہتے ہیں کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا مگر میری بیٹی کا گھر ہے میں یہ گھر اس کے نام کرواؤں گا اور میری بیٹی اتنی مضبوط ہے کہ وہ اکیلی اس معاشرے میں رہ سکتی۔
________________________________________
عون اور حورین کی شادی کی تیاریاں تقریبا مکمل ہو چکی تھی کل رات تھی اور سب لوگ اپنی اپنی تیاریوں میں مگن تھیں عمر کمرے میں آیا تو احلام ہوئی چیز کے بارے میں سوچ رہی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی رہا نہ آئی تھی اور اس نے اہل ان کو بہت زیادہ کہا تھا کہ مہندی لگا لوں مگر احلام نہیں کہہ کر انکار کر دیا کہ میرا موڈ نہیں بالکل ون اور حورین کی شادی کی تیاریاں تقریبا مکمل ہو چکی تھی کل رات بارات تھی اور سب لوگ اپنی اپنی تیاریوں میں مگن تھے۔ عمر کمرے میں آیا تو احلام کسی چیز کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔تھوڑی دیر پہلے ہی ریحانہ آئی تھی اور اس نے احلام ان کو بہت زیادہ کہا تھا کہ مہندی لگا لو مگر احلام نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرا موڈ نہیں بالکل بھی ۔
” احلام اٹھو۔ باہر پالر والی آئی ہے میں نے تمہارے لئے بلاوئی ہے ۔”
“عمر میرا بالکل بھی موڈ نہیں ہے اس بستر سے اٹھنے کا ۔تم اسے واپس بھیج دوں۔ تم جانتے ہو نہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کچھ بھی نہیں کروانا۔”
عمر اس کے پاس آیا اور بڑھ کر اسے اپنی باہوں میں اٹھا اٹھایا اس کے بعد جا کر شیشے کے آگے بٹھا دیا۔ احرام اب آرام سے بیٹھ سکتی تھی عمر نے خاموشی سے باہر کھڑی بیوٹیشن کو بلایا اور اپنی بیوی کے بارے میں سمجھانے لگ گیا ۔احلام کے بال بہت زیادہ خوبصورت تھے احلام بچپن سے چھوٹے بال رکھتی تھی مگر شادی سے دو سال پہلے اس نے اپنے بال بڑھائے تھے ۔ جب اس کی شادی ہوئی تھی تو اس نے کٹنگ کروائی تھی مگر لمبے بالوں والی ابھی بھی عمر نے بیوٹیشن کو یہی کہا تھا کہ اس کی آگے سے کٹنگ کریں لیکن بال چھوٹے نہیں ہونے چاہیے اور اس کے علاوہ عمر نے بیوٹیشن کو یہ بھی کہا تھا کہ احلام کے پیروں پر بھی مہندی لگائے احلام کو مہندی بہت زیادہ پیاری لگتی تھی۔
بیوٹیشن اپنا کام کر رہی تھی جبکہ احلام بار بار چڑ رہی تھی اور اسے منع کر رہی تھی عمر اسی مقصد کے لئے کمرے میں پیچھے بیٹھ گیا تھا۔ بیوٹیشن بھی حیران تھی کہ کیسا شوہر ہے بیوی کے ساتھ ہی بیٹھ کر زبردستی اسے تیار کروا رہا ہے۔ جب پیوٹیشن اس کو مہندی لگا رہی تھی تو احلام نے مدد طلب نظروں سے عمر کو دیکھا کہ میرا موڈ نہیں ہے ۔مگر عمر نے اسے آنکھ کے اشارے سے منع کردیا ۔عمر تھوڑی دیر کے لئے باہر گیا اور یہ ریحانہ کو حکم دے کر گیا کہ احلام بالکل اپنی جگہ سے ناہلے۔ جب وہ واپس آئے تو احلام کے ہاتھوں پر مہندی لگی ہونی چاہیے۔ چار گھنٹے بعد جاکر احلام کی جان چھوٹی تھی اس کے بعد احلام تھک ہار کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ ریحانہ پاس آکر اس کی ٹانگیں دبا رہی تھی جن میں درد شروع ہوگیا تھا۔ کیونکہ ایک ٹانگ ابھی بھی زخمی تھی ٹانکے تو کھل گئے تھے مگر احلام چل نہیں پاتی تھی۔
“ریحانہ جاکر کھانا لے کر آو۔احلام کو کھانا کھلانا ہے۔”
جی سردار میں جاتی ہوں ابھی لے کر آتی ہوں سردارنی کہہ رہی ہیں کہ ان کے سر میں درد ہے تو میں نے کہا دبا دوں۔”
“کوئی بات نہیں تم جاو میں ہوں یہاں۔”
احلام نے بند آنکھیں کھولی۔عمر اس کے ساتھ آکر بیٹھا۔
“کتنی پیاری لگ رہی ہے میری جان۔”
احلام کے کلر لگے بالوں کو عمر نے پیار سے سنوارا۔احلام کی آنکھیں سبز ہوئی تو اس نے چڑ کر چشمہ اتار دیا۔
“کیا ہے عمر ہر وقت تنگ کرتے ہو۔چھوڑ دو میرا پہچھا۔”
‘”شہزادی میں تمہارا پیچھا نہیں چھوڑ سکتا۔تمہیں اولاد چاہیئے نہ۔میں نے ڈاکٹر سے بات کی ہے ان کے مطابق تمہارے لیئے ابھی پریگنٹ ہونا ٹھیک نہیں۔ہم اگلے سال بی بی کا سوچیں گے۔”
احلام نے غصے سے عمر کا ہاتھ جھٹکا۔”صاف کہو نہ تمہیں اب مجھ سے اولاد نہیں چایئے۔دوسری شادی کرنا چاہتے ہو نہ تم۔”
عمر کو احلام کی سوچ جان کر دکھ ہوا کہ احلام کیا الٹا سوچنے لگ گئی ہے۔
“اس انگھوٹی کا مطلب جانتی ہو تم۔”
عمر نے احلام اور اپنے ہاتھ کی سبز انگھوٹی کی طرف اشارہ کیا۔یہ ہمارے قبیلے میں اکلوتے بیوی کو سردار پہنتا ہے۔اس کے بات وہ شادی نہیں کر سکتا۔اولاد نہ بھی ہو تو بیوی کی حیثیت ایک ہی عورت کو زندگی میں ملتی ہے۔میری زندگی میں تم ہو۔اولاد نہ بھی ہو تو میں اتنا گیا گزرا لگتا ہوں تمہیں کہ دوسری شادی کروں گا۔تمہیں معلوم ہے سبز شہزادی کے دس بچے تھے۔ہمارے بھی بہت سے بچے ہوں گے اگر رب نے چاہا تو۔تمہیں فرصت نہیں ہوگی بلکل بھی۔”
“عمر تم تنگ نہیں آتے میری مشکلات حل کرتے ہو۔”
“تمہیں کوئی مسائل نہیں ہیں احلام۔ایک نارمل بندی ہو یار۔خبردار آئندہ کوئی فضول کوئی گی۔”
عمر احلام کو بار بار سمجھتا مگر وہ چڑنے لگی تھی۔بات بات پر غصہ اور رونے لگنا۔احلام کو شدید ذہنی دباو تھا۔عمر اسے سنبھلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 22

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: