Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 3

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 3

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
خواب عشق میں ڈھونڈے تجھے ہم
کبھی دل میں آؤ تو بتائیں تمہیں
ہماری چاہت کی حد کیا ہے
تم سے دل لگایا تو سب بھول گئے
یاد رہا تو بس اک خواب عشق احلام
احلام وقت گھر میں اکیلی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا بھانجا عالیان اس کے پاس ہی سو چکا تھا جبکہ اس کی بہن سلمیٰ، صائمہ اور ردا شادی کیلئے شاپنگ کرنے گئی تھی۔ احلام کو بے انتہا دکھ ہوا کہ ایک مرتبہ بھی ردا نے یہ بات نہیں کہی کہ آو احلام تم ہمارے ساتھ شاپنگ کیلئے چلی جاؤ۔ احلام کی چار بہنیں تھیں . تین کی شادیاں ہوچکی تھی جبکہ ردا اور احلام باقی تھی۔ اصولا ردا اور احلام کو بہترین دوست ہونا چاہیے تھا مگر ردا احلام سے محبت نہیں کرتی تھی، ہمیشہ احلام کو کمتر سمجھتی۔ کبھی اس کے چہرے پر کمنٹ کرنا،کبھی اس کے کپڑوں پر تنقید کرنا احلام یہ سن کر تھک گئی تھی کہ اسے اٹھنا بیٹھنا نہیں آتا ۔کبھی کبھی احلام کو یہ احساس ہونے لگتا تھا کہ وہ سچ میں ایک بیکار انسان ہے. احلام کا دماغ بےانتہا تیز چلتا تھا ۔عام انسانوں کے مقابلے میں احلام بہت تیز تھی۔ اس کے تمام بہن بھائی اس سے بہت پیچھے تھے مگر اسے دنیا میں ان سب سے احلام کو پیچھے کرنے والی چیز اپنے گھر سے نہ ملنے والی توجہ تھی. احلام کی والدہ ثریا بیگم ایک بہت اچھی عورت تھی مگر جہاں چار بیٹیاں ہوتی وہاں وہ کبھی احلام کو اہمیت نہ دے پاتی۔ احلام ماں کے لئے ہمیشہ سے ایک چھوٹی بچی ہی رہی جس پر حکم چلانے کے لئے اس کے بڑے بہن بھائی موجود ہونے چاہیے تھے . احلام کو اپنے بڑے بھائی زین سے کچھ زیادہ لگاؤ نہیں تھا۔ یہ آٹھویں جماعت میں تھی جب اس کا بھائی اپنی پسند سے شادی کرکے چلا گیا۔ مگر اس کے باوجود احلام اپنے بھائی کو بہت زیادہ یاد کرتی تھی۔زین ایک بہت اچھا انسان تھا ۔خاندان نے اس کی پسند کی لڑکی کی بہت زیادہ مخالفت کی جس کی بدولت اسے خود سے شادی کرنا پڑی۔ زین اپنی پسند کی شادی کرنے کے بعد نہ خوش رہ پایا اور نہ اس کے گھر والے خوش تھے. احلام نے زندگی میں دو لوگوں کا پیار بہت زیادہ مس کیا ۔ایک اپنے والد کا جو اب فوت ہو ئے جب احلام نو سال کی تھی اور ایک اپنے بھائی۔ احلا کی عمر 22 پرس تھی۔ احلام جس زندگی کے فیز سے گزر رہی تھی اسے سب سے زیادہ سپورٹ اپنی والدہ اور اپنی بہن کی ہونی چاہیے تھی۔ مگر ردا ہمیشہ اس کے بارے میں بہنوں کو یہ بات کہتی ہے کہ یہ گھر کے کام نہیں کرتی۔ احلام کوئی بات کہہ دیتی تو سلمی یا صائمہ ہمیشہ اسے ایک ہی بات کہتی کہ تمہیں تو بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ۔احلام کی عادت تھوڑا سا اونچا بولنا تھی۔ احلام ایک بہترین اسپیکر تھی جس کی بدولت یہ تیز بھی بولا کرتی تھی اس کی ہر بات پر تنقید نے احلام کو ڈپریشن کا مریض بنا دیا۔ اس نے نیند کی دوائی بھی شدید ترین ڈپریشن میں لی تھی۔ اس کے بہن بھائی شاید یہ بات نہیں جانتے تھے کہ گئی راتیں اس نے بنا سوئی گزاری ہیں اور ان راتوں میں اس کا ایک ہی سہارا تھا اس کا خواب اور خیال عمر جبارخان۔ احلام نے سب کے لئے کھانا بنایا اور کمرے میں آئی اس کے ہاتھ میں رجسٹر تھا جس پر یہ کسی ناول کی کہانی لکھ رہی تھی احلام اس وقت رو بھی رہی تھی اور ہنس رہی تھی۔ گھر کی تنہائی اسے کاٹ کھانے کے لئے دوڑ رہی تھی۔ زندگی میں اسے جو بھی دوست ملے انہوں نے ہمیشہ ہی اس کے ساتھ بے وفائی کی. یہ بیٹھی ہوئی تھی کہ اسے اپنے ساتھ پھر سے کسی کے ہونے کا احساس ہوا۔
” اکیلی ہے میری شہزادی آج تو احلام تم بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہو. “
عام سے گھر کے سادہ کپڑے پہنے ہوئے بالوں کو کیچڑ میں مقید کیے چہرے پر چشمہ لگائے یہ بہت عام لگ رہی تھی مگر عمر کی نظر میں یہ بہت خاص تھی اپنی کانوں میں آنے والی آواز پر یہ ہنسنا ہوگئی اور اپنے دماغ میں ہی جواب دیا۔
” اس وقت مجھ سے زیادہ بدصورت انسان دنیا میں کوئی نہیں لگ رہا ہوگا ۔میں اتنی بد تہذیب اور ناکارہ ہوں گے کوئی انسان مجھے زندگی میں اپنا نہیں سکتا ۔میں تو اس انسان کی زندگی کے بارے میں سوچتی ہوں جو میری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے. “
” ایسا نہیں ہے احلام میں ایک شہزادہ ہوں اور تم شہزادی ہو ۔اپنا مقام پہچانو۔ تم بہت جلد ایک ریاست کی ملکہ ہو گی. “
” عمر تم جانتے ہو کبھی کبھی مجھے سچ میں لگتا ہے کہ میں پاگل ہو چکی ہوں
اب میں نے لوگوں کو بھی بتانا چھوڑ دیا ہے کہ تم مجھے سنائی دیتے ہو. امی جان کو بتاؤں تو وہ یہی کہتی ہیں ہو وقت ناول لکھتی رہتی ہے جس کی بدولت اسے عمر نظر آتا ہے. لوگوں کو بتاؤں تو مجھے پاگل سمجھتے ہیں کہ اسے شاید احلام کو کوئی دماغ کی بیماری ہے مگر ایسا نہیں ہے. “
” بالکل ایسا نہیں ہے میں مقررہ وقت پر تم سے ملنے کیلئے آؤنگا اور پھر ہمیشہ کے لئے اپنی احلام جان کو یہاں سے لے جاؤں گا۔”
” عمر اگر تم حقیقت ہو اور سچ میں موجود ہو تو میرے سامنے آ جاؤ نا۔ مجھے تمہاری بہت ضرورت ہے. عمر میں تنگ آ چکی ہوں اس تنہائی سے مجھے تمہارا ساتھ چاہیے۔ عمر میرے سامنے آ جاؤ نا کیوں نہیں آتے تم. “
احلام نمی والی آواز میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے عمر کو بول رہی تھی جبکہ اس کے سامنے اسے بیٹھا ہوا کوئی نظر نہیں آرہا تھا احلام اپنی فرسٹریشن نکال رہی تھی.
” میں ہونا اپنی جان کے پاس میری جان احلام کو کسی انسان کی ضرورت نہیں“
” فریب ہو تم میرے دماغ کا بنایا ہوا ایک خیال ہو اگر عمر خان تمحقیقت میں ہوتے تو میرے پاس ہوتے ۔میری تکلیف پر تمہیں درد ہوتا مگر تم حقیقت ہو ہی نہیں. “
عمر نے اسی لمحے احلام کا ہاتھ تھاما مگر احلام دیکھ نہیں سکتی تھی.احلام کو اپنے ہاتھ پر گرمائش کا احساس ہوا تو اس نے ڈر کر فورا اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا.” احلام جان میں ہوں عمر تمہارا محرم. “
” عمر تم بار بار مجھے اپنا محرم کیوں کہتے ہو۔ میری تم سے شادی بھی نہیں ہوئی۔میں تمہیں دیکھ بھی نہیں سکتی تو تم مجھے اپنا محرم کیوں کہتے ہو. “
” اس بات کی حقیقت تمہیں بہت جلد پتہ چل جائے گی میری جان۔ میں تمہارا محرم ہو اسی لیے تمہارے پاس اتنی آزادی سے آتا ہوں اور تمہارے دماغ میں یہ بات آتی ہے کہ عمر خان سے ایک فریب ہے ایسا نہیں ہے۔ عمران خان تمہاری جان سے بھی زیادہ تمہاری قریب ہے۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تمہاری زندگی کا ہر ایک حصہ دیکھتا ہوں۔ تمہیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ تمہارے لئے عمر خان ہی کافی ہے. “
احلام اپنی آنکھوں سے نمی کو صاف کرنے لگی اور بے خیالی میں بولی.
” عمر تمہیں پتا ہے آج میرا ڈانس کرنے کا دل کر رہا ہے کپل ڈانس کرو گے میرے ساتھ. “
” کیوں نہیں تمہارا فیورٹ گانا لگاتے ہیں. “
احلام اپنے سامنے پڑے ہوئے کمپیوٹر کی طرف پڑھی اور اپنا فیورٹ گانا لگایا اس وقت احلام ایک پاگل ہی لگ رہی تھی جو کسی سائے کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔ مگر احلام اس وقت اتنی زیادہ frustrate ہوچکی تھی کہ اسے اس سائے سے بھی محبت تھی۔
Lying beside you, here in the dark
Feeling your heartbeat with mine
Softly you whisper, you’re so sincere
How could our love be so blind
We sailed on together
We drifted apart
And here you are, by my side
So now I come to you with open arms
Nothing to hide, believe what I say
So here I am, with open arms
Hoping you’ll see what your love means to me
Open arms
Living without you, living alone
This empty house seems so cold
Wanting to hold you
Wanting you near
How much I wanted you home
Now that you’ve come back
Turned night into day
I need you to stay
So now I come to you with open arms
Nothing to hide, believe what I say
So here I am, with open arms
Hoping you’ll see what your love means to me
Open arms
احلام ایک ایک سٹیپ لیتی اور اسے ایسا ہی محسوس ہوتا کہ ایک کوئی اس کے ساتھ سٹیب لے رہا ہے ۔عمر اپنی پیاری شہزادی کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر اس وقت اداسی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ احلام اس بات کو اپنے دل میں بٹھا رکھا ہے کہ عمر حقیقت نہیں۔ وہ خود کو سہارا دینے کیلئے اپنے آپ کو ایک انسان کے ساتھ تصورکر رہی ہے جو اس کے سارے غم بانٹے. عمر نے احلام کی کمر پر ہاتھ رکھا تھا احلام کو محسوس ہورہا تھا مگر وہ خیال سمجھ کر رہی تھی. گانا ختم ہوا احلام بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اتنے میں عالیان جاگ گیا.
” ماما ماما………….. “
” عالیان میری جان جاگ گئے ہو تم. “
عالیان رونا شروع ہوگیا۔ جبکہ عمر احلام کو دیکھ رہا تھا جس نے اس کو گود میں اٹھایا اور اسے اٹھاکر واش روم لے گئی۔
” عالیان سے بہت محبت کرتی ہو نہ تم. “
” ہاں عمر میں عالیان سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں۔ سلمہ آپی کا ایک ہی بیٹا ہے اور جب یہ پیدا ہوا تھا نہ تو مجھے یاد ہے ابھی بھی وہ دن کے میں پورا ٹائم گھر میں اردگرد چکر کاٹتی رہی تھی کہ کب پتہ چلے گا عالیان ٹھیک ہے یا نہیں. “
” تمہیں بچے بہت زیادہ پسند ہیں نہ احلام. “
” ہاں مجھے بچے بہت زیادہ پسند ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میرے ڈھیرسارے بچے ہوں. “
احلام کی بات پر عمر ہنسنے لگ گیا اور اپنی معصوم شہزادی کو دیکھا جس کے چہرے پر خوشی کی کوئی رمک نہیں تھی.
” ہمارے ڈھیرسارے بچے ہوں گے احلام. کچھ بیٹیاں مجھ جیسی اور بیٹے تم جیسے. “
احلام اپنی کانوں میں پڑتی ہوئی آواز پر ہنسنا شروع ہوگئی اور عالیان کو اٹھائے باہر آئی کو چارپائی پر بٹھایا ۔خود کچن میں اس کے لئے دودھ لینے چلی گئی۔
” اچھا مذاق ہے عمر خان تم سے۔ میرے دماغ کا خیال ہی ہو یار. “
“میں ہرگز تمہارے دماغ کا خیال نہیں ہوں احلام جان۔ میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے مگر میں تمہارے پاس بہت جلد واپس آؤں گا ۔تمہارے سارے غم سمیٹ لوں گا اور اپنی تمام خوشیاں تمہیں دے دوں گا ۔میری جان تم جانتی ہو کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ دنیا میں اگر میں کسی انسان کی خوشی خریدنے کیلئے جان دے دوں تو وہ کون ہوگا ۔اس وقت میری زبان پر صرف اور صرف میری جان میری شہزادی احلام کا نام ہوگا۔”
” کاش تم حقیقت میں ہو عمرخان ۔میری خواہش بن جاؤ میرا ایسا خواب جو حقیقت کا روپ دھار لے. “
” میں حقیقت ہوں بہت جلد تم سے ملوں گا۔ اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا میری جان. “عمر اسی لمحے غائب ہوگیا جبکہ احلام کو احساس ہونا شروع ہوگیا کہ اب اس کے ساتھ کوئی نہیں ہے ۔دیکھنے میں تو احلام بالکل نارمل تھی مگر ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ڈپریشن کی وجہ سے احلام کو شایئد انسان اپنے ساتھ محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں تھا . احلام بالکل نارمل انسان تھی.
_________________________________
جبار ابھی ابھی محل داخل ہوا تھا۔سب سے پہلا اس کا سامنا عمیر سے ہوا جو ہاتھ میں فون اٹھائے ہوئے کوئی گیم کہہ رہا تھا ۔جبار کو دیکھتے ہی اس کے پاس آیا اور سلام کیا۔ جبار نے اس کے سلام کا جواب دیا اور جا کر صوفے پر بیٹھ گیا عثمان سردار بھی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں بھائی اب ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے جب یہ انسانوں کی دنیا میں آئے تو دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ چاہے جو مرضی ہو جائے دونوں بھائی ایک دوسرے کا ساتھ ہرگز نہیں چھوڑیں گے. عثمان کی بیٹی آبگینے شادی ہوچکی تھی جبکہ دوسری بیٹی بھی شادی کرکے باہر جا چکی تھیں ۔دوسری بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ لندن میں رہتی تھی۔ آبگینے اکثر اوقات آیا کرتی تھی مگر عثمان کی دوسری بیٹی بہت کم آتی تھی۔ اس گھر کا سب سے زیادہ لاڈلا بیٹا عمرخان تھا اس کے بعد عمیر. عون بھی سب کا لاڈلا تھا مگر سب لوگ اس سے سمجھداری ہی expect کرتے تھے
” گوہر شکر ہے آپ چائے بنا کر لے آئیں۔ میں کہنے ہی والا تھا کسی سے کہ چائے لے آئیے بہت زیادہ تھکا ہوں آج میں “
” کیا ہوگیا جبار آج تمہیں۔ سنا ہے الیکشن آنے والے ہیں کیا عمر اس دفعہ الیکشن میں کھڑا ہوگا ہماری طرف سے۔”
” جی گوہر لالہ اور میں نے سوچا ہے کہ عمر کو الیکشن میں کھڑا کریں گے۔ عمر اپنے علاقے کے لئے الیکشن لڑے گا ایم این اے کیلئے. ہمیں امید ہے کہ عمر کو ووٹ مل جائیں گے ۔اس کے بعد ہم لوگ کچھ عرصہ محنت کریں گے اور میں چاہتا ہوں گے عمر بعد میں مکمل طور پر سیاست میں حصہ لے . میری خواہش ہے کہ میری اولاد ہمارے ملک اور ہمارے صوبے بلوچستان کے لئے کام کرے۔”
” جبار سے صیح کہہ رہا ہے . میری تو بہت پہلے سے خواہش تھی کہ عمر کو ایم این اے کے الیکشن کے لیے کھڑا کر دینا چاہیے مگر پچھلے تین سال میں جبار بار بار یہی کہتا تھا کہ ابھی وہ چھوٹا ہے۔”
” عثمان سردار اب تو ماشاءاللہ سے وہ بڑا ہوگیا ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ اب سے پانچ سال بعد ہم اسے بہت مجھے مقام پر دیکھیں گے“
گوہر ابھی بات ہی کر رہی تھی کہ عمیر بھاگتا ہوں ان کے پاس آیا.” تائی جان آپ کو میں نے کہا تھا نہ کہ آج ہم نے تیمور ماموں کی طرف جانا ہے۔ عون بھیا کو دیکھیں یاد ہی نہیں۔ عرش نے مجھے صبح سے کال کرکے تنگ کردیا ہے کہ حورین کمرے میں چھپ کر بیٹھی ہے کسی سے بات بھی نہیں کر رہی. “
” خدا خیر کرے کیا ہوگیا ہماری بیٹی کو بات کراو میری اس سے ۔میں کہتا ہوں انابیہ سے تھوڑی دیر میں تیاری کریں ہم چلتے ہیں ان کی طرف. “
جبار عمیر کی طرف دیکھ کر بولا اس وقت یہ لوگ تیمور کے بارے میں بات کر رہے تھے حورین تیمور کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی جس کا نکاح ان لوگوں نے اس دنیا میں آتے دوں سے کر دیا تھا۔ عرش اور عنایہ دونوں کی عمیر سے بہت زیادہ دوستی تھی جبکہ عمر سب کا بھائی ہی تھا.
_____________________________
انابیہ کمرے میں کھڑی ہوئی تیار ہو رہی تھی اس نے اپنا عکس دیکھا. خوبصورت سفید رنگ کے بلوچی فراک اور اس پر ہوئے کالے رنگ کے کڑھائی کت کام سے یہ سج گئی تھی. اپنے اردگرد حجاب لپیٹنے کے بعد اس نے اپنی مخصوص چادر اپنے کندھوں پر پھیلائی۔ جبار کمرے میں داخل ہوا.
” شہزادی تیار ہو گئی ہیں. “
” بالکل شہزادے آپ ہمیں بتائیے کہ کیسے لگ رہی ہیں ہم“
جبار نے کھڑے ہوکر تفصیلی اسے دیکھا ان انابیہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی.
” ہم یہ سوچتے ہیں شہزادی کے آپ کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ۔ماشاللہ سے ہمارا بیٹا 22 کا ہوگیا ہے مگر آپ ابھی جوان ہیں. “
” بیٹا بائیس سال کا ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں نہ کہ میرے سر کے بال بھی سفید ہو جائیں. جبار آپ اپنا حال دیکھیے آپ نے کیا کر لیا ہے آپ کی داڑھی سفید ہو گئی ہے. “
” کیا کرسکتے ہیں شہزادی ہم ۔بڑھتی عمر کی طرف جارہے ہیں ۔دو تین سالوں میں ہمارے ہاں پوتے پوتیوں کی گونج سنائی دی گی. اب تو ذمہ داریاں اتنی زیادہ آگئی ہیں. ہم سوچا کرتے تھے کہ انسانوں کی دنیا ہم سے زیادہ آسان ہوگی مگر یہاں انسان جانوروں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ لوگ حیوانوں سے ڈرتے ہیں حقیقت میں انہی انسانوں سے ڈرنا چاہیے. “
جبار انابیہ کا ہاتھ تھام کر بیٹھا دونوں اس وقت خاموش تھے اکثر ایسا لمحہ ان کے درمیان آتا کہ دونوں خاموش ہو جاتے اور ان کی خاموشی میں بہت سے جواب ہوتے
” آپ جانتے ہیں عمر کی ہر ایک بات مجھے بہت ستاتی ہے۔وہ ہماری ایسی اولاد ہے جس کے اوپر ہم نے بہت زیادہ محنت کی ہے ۔جبار جب وہ تڑپتا ہے شہزادی کے لیے تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کل عمر نیرے پاس آیا تھا کہ آپ میرے لیے دعا کریں میں اب تنگ آچکا ہوں ۔جب میں احلام کو روتے ہوئے دیکھتا ہوں تو برداشت نہیں ہوتا۔ کیسی بے بسی ہے کہ میں اس کے آنسو صاف نہیں کر سکتا“
” ہم نے بھی تو آپ کا 21 سال انتظار کیا ہے نا شہزادی. “
” شہزادے ہمارا معاملہ اور تھا ۔ہم تو آپ کو جانتے بھی نہیں تھے ۔شہزادی احلام بہت زیادہ غم میں ہیں۔ ہماری زندگی میں خوشیاں تھی۔ مگر ہماری ہونے والی بیٹی کی زندگی میں بہت زیادہ غم ہے. وہ غم ہمارے بیٹے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جب وہ احلام سے مل کر آتا ہے تو مجھے اس کی آنکھوں میں رکھنے والا کرب خوف دلا دیتا ہے۔”
جبار نے انابیہ کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور پھر اسے اپنے کندھے کے ساتھ لگایا ۔جبار نے بازو انابیہ کے اردگرد پھیلا رکھے تھے جبکہ جبار کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے ہمیشہ کی طرح انابیہ جبار کے دل کی دھڑکن سن رہی تھی.
” عمر جس دن پیدا ہوا تھا اس دن ہم جان گئے تھے کہ ہمارا بیٹابہت زیادہ تکلیف اٹھائے گا ۔مگر میری شہزادی یہ تکلیف اسے بہت زیادہ مضبوط بنائے گی۔ اگر ہمارا بیٹا ہماری دنیا میں شہزادہ تھا تو وہ اس دنیا میں بھی حکمرانی کرنے کیلئے آیا ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ اس کے مستقبل میں کتنی مشکلات ہیں ایک حکمران کے طور پہ. بلوچستان کے حالات بہتر کرنے کیلئے اس نے بہت سے لوگوں سے لڑنا ہے اور اگر وہ زندگی میں تکلیف سہنا بہیں سیکھے گا تو کبھی اپنے ملک کے لیے کام نہیں کر پائے گا. اگر ہماری بیٹی احلام کی بات ہے تو ہم اپنی بیٹی سے مل چکے ہیں لیکن وہ ہمیں نہیں جانتی. جس دن ہماری بیٹی ہمارے گھر میں آئے گی اس کے تمام مسئلہ ختم ہو جائیں گے۔ ہم اپنی بیٹی کے نزدیک غم بالکل نہیں آنے دیں گے۔”
“انابیہ نے جبار کے سینے سے سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.” آپ اپنی بہو سے ملے ہیں اور مجھے بتایا بھی نہیں. “
” آپ جانتی تو ہیں، ہم تین چار بار مل چکے ہیں ۔ ابھی بھی ہم نے اس کو دیکھا ہے ماشاءاللہ سے بہت بڑی ہو گئی ہے. “
” یہ تو غلط بات ہے نا جبار۔ خود ہی اپنی بیٹی سے مل آئے اور ہمیں نہیں لے کر گئے“
” آپ بے فکر رہیں ایک ہی بار بارات لے کر جائیے گا اپنے بیٹے کی. “
دونوں سنے لگ گئے۔ انکی زندگی بہت زیادہ پرسکون تھی۔انابیہ نے اپنے بچوں کی تربیت بہترین کی تھی۔ انابیہ کے نزدیک انسانیت اپنی جان سے زیادہ قیمتی تھی. یہی تربیت اس نے اپنے بیٹوں میں بھی منتقل کی۔
_________________________________
جی تو ریڈرز کیسی لگی آج کی قسط۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: