Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 4

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 4

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
احلام اپنی والدہ کے ساتھ شاپنگ پر آئی ہوئی تھی ۔احلام اپنے لیئے کپڑے خرید رہی تھی۔سلمی آپی بھی ساتھ ہی تھی۔عشق کی شادی میں ایک ہفتہ باقی تھا۔احلام کی والدہ نے احلام کو کپڑوں کی شاپنگ کا کہا تو ساتھ میں سلمی آپی بھی آگئی۔احلام کو جو ڈریس پسند آتا وہ سلمی باجی کو نہ آتا۔!
“احلام تجھے تو کچھ پسند نہیں آئے گا ۔ایسا کر سلمی کہ اگلی جس بھی دکان پر ہم جائیں گے وہاں سے کپڑے خرید لو ۔میرے پاس تو ہمت ہی نہیں۔”
سریا بیگم بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی۔چوتھی بیٹی کی شادی پر انہوں نے دل کھول کر خرچ کیا۔ ردا نے اپنی شادی کی شاپنگ میں ایک مرتبہ بھی احلام کو نہیں بولا کہ میرے ساتھ آو شاپنگ کرلو۔ اصولا احلام کا حق بنتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ شاپنگ کرتے مگر ہر دفعہ احلام گھر میں ہوتی۔ ردا اپنی بہنوں کے ساتھ جاکر شادی کی شاپنگ کرتی ۔رداہمیشہ سے ایسی ہی کم ظرف انسان تھی. احلام کو ایک خوبصورت سفید رنگ کا فراک نظر آیا جس کے نیچے سرخ رنگ کا پجاما تھا.” باجی میں نے یہ والا فراک لینا ہے میں نے آن لائن دیکھا تھا مجھے بہت زیادہ پسند آیا ہے آپ دیکھ لیں یہی لے لیتے ہیں . “
احلام اس جوڑے کا ڈوپٹہ دیکھ رہی تھی جب اس کے کانوں میں آواز پڑی.” اچھا لگ رہا ہے میری شہزادی لے لو ۔تم سرخ ویسے بھی بہت زیادہ سوٹ کرتا ہے
” سچ میں سوٹ کرتا ہے کیا لے لوں میں یہ. “
” ہاں بالکل میں تو سوچ رہا ہوں کہ تمہارے مستقبل کے لئے بہت سے لال جوڑے رکھوں۔ تمہیں لال جوڑے بہت اچھے لگتے ہیں
” مگر یہ لال نہیں سفید فراک ہے غور سے دیکھیں۔”
” کیا ہوگیا ہے احلام کیا سوچ رہی ہے میں نے یہ جوڑا لیا ہے۔ چل آگے جا کر بھی شاپنگ کرنی ہے بہت ساری۔“
” باجی ردا نے پہلے مجھے کہا ہی نہیں کہ میرے ساتھ جاکر شاپنگ کر لو آپ جانتی تو ہیں نہ کہ میں زیادہ تر گھر میں ہی رہتی ہوں۔ ردا نے مجھے نہیں کہا تو میں بھی نہیں گئی. “
” جیولری کی شاپنگ بھی رہتی ہے اس کے لئے بھی ایک چکر لگانا پڑے گا چل جلدی سے لے کر نکلتے ہیں. “
احلام جیسے جیسے شاپنگ کر رہی تھی ویسے ویسے عمر بھی اس کے ساتھ گھوم رہا تھا اور وہ بہت سی ایسی دکانوں پر کا جہاں سے احلام نے سوٹ پسند کرکے چھوڑ دیا ۔بعد میں جب عمر دوبارہ ان دکانوں پر آیا تو وہ تمام سوٹ احلام کے لئے خرید لیئے اور اپنی الماری میں سجا دیے.
________________________________
یہ تیمور ولا کا منظر تھا۔ شجاع خان سوفے پر بیٹھے ہوئے اپنی پوتی کے کارنامے سن رہے تھے جس نے نیا کیس لڑا تھا اور ٹی وی پر بھی اس کی خبر آئی تھی۔ عنایہ اپنے دادا کے سامنے کیس کھول کر بیٹھی ہوئی تھی ۔جبکہ شجاع خان اسے ڈانٹ رہے تھے کہ تم نے اتنے بڑے سیاستدان کے ساتھ ٹکر کیوں لی۔
” دادا جان اب کیا میں ڈر کر گھر میں بیٹھ جاؤں۔ اگر وہ بڑے سیاستدان ہیں۔تو کیا ہمارا عمر بھی تو بڑا سیاست دان بن جائے گا نہ اور ویسے بھی جبار انکل ہیں اگر کوئی مسئلہ ہوگا تو میں ان سے رابطہ کر لونگی“
” بیٹا یہ بات تو ٹھیک ہے مگر تمہارے لئے اس طرح کرنا بہتر نہیں ۔جب دیکھو ہمیشہ ایسے لوگوں کے خلاف کیس لے لیتی ہو جو تمہارے دشمن بن جائیں۔ اگر تم بیرسٹر بن چکی ہو تو اپنے باپ کو فالو کرو “
” دادا آپ کو معلوم ہے یہ کیس مجھے بابا نے دلوایا تھا ۔بابا کہتے ہیں کہ میری بیٹی ہمیشہ وہ کرے جو کوئی وکیل نہ کرے. “
” کیا باتیں ہورہی ہیں دادا اور پوتی میں. “
” تیمور تمہاری بیٹی سے پوچھ رہا ہوں میں کہ اتنے بڑے سیاستدان کے خلاف کیس کیوں لیا۔ اس نے حد کر دی ہے ۔تم جانتے ہو ہر طرف نیوز میں یہی بات چل رہی ہے کہ عنایہ تیمور خان نے کیس جیت لیا ہے۔ عنایہ کا نام ہر جگہ پر آرہا ہے جو مجھے بالکل پسند نہیں“
” بابا جان زمانہ بدل گیا ہے ویسے بھی میں چاہتا ہوں کہ عنایہ جہاں جائے لوگ دیکھیں اور کہیں کہ یہ تیمور خان کی بیٹی ہے۔ میری شہزادی میں نے اس کو بہت مضبوط بنایا ہے۔ ہمارے خاندان کا کوئی بھی مسلہ ہو میں چاہتا ہوں کہ میری بڑی بیٹی اس کو سنبھالے“
” تم بھی اپنے دور میں ایسے ہی کیس لڑا کرتے تھے۔ یاد ہے نہ ۔اب اپنی بیٹی کو بھی وہی سبق سکھا رہے ہو۔ مگر بھولو مت تیمور کے تم لڑکے تھے اور یہ لڑکی. “
” بابا جان اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ لڑکی ہے یا لڑکا۔ یہ صرف میری بیٹی ہے اور میں نے اسے اتنا مضبوط بنایا ہے کہ کوئی لڑکا اس کا مقابلہ کھڑے ہو کر نہیں کر سکتا. “
” جانتے ہونا کے سیلمان خان کتنا بڑا سیاستدان ہے اس وقت وہ کتنے غصے میں ہے. “
” اس بات سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بابا جان میری بیٹی نے یہ یہ بات ثابت کر کے دکھا دی ہے کہ وہ چاہے جتنا مرضی بڑا سیاستدان ہو میری بیٹی سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور ویسے بھی عنایہ کو بھی تمام باتیں سیکھ لینی چاہیں۔آگے لا فرم اسی نے سنبھالنی ہے۔”
جی نہیں بابا جان آپ میرے ساتھ ہی کام کریں گے ۔آپ سے زیادہ قابل جج کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ نے بہت بہترین فیصلے دیئے ہیں اور اگر آپ ریٹائر ہو گئے تو کتنے لوگ انصاف سے رہ جائیں گے. “
یہ تینوں باتیں کر رہے تھے کہ بھاگتی ہوئی حورین یہاں آئی ۔ہاتھ میں گڑیا اٹھائی ہوئی تھی جبکہ بال پونی ٹیل کی صورت میں بندھے ہوئے تھے اور یہ ایسے ہی لگ رہی تھی جیسے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی گڑیا.” بابا جان آپ اور آپی ہر وقت بس یہی باتیں کرتے رہتے ہیں کبھی ہمیں بھی دیکھ لیا کریں. “
” ہم تو اپنی شہزادی کو دیکھتے ہی رہتے ہیں آجاؤ بیٹھے میرے پاس۔ کیا بات ہے آج ہماری بیٹی بہت زیادہ خوش لگ رہی ہے۔”
” آپ جانتے ہیں اور عشق آپی نے مجھے بتایا کہ ابھی ابھی جبار انکل نے فون کیا ہے. انابیہ پھوپھو اور سب لوگ آرہے ہیں میری سالگرہ پر۔ آپ جانتے ہیں نہ میں نے ان سب کا کتنا انتظار کیا ہے۔”
” میری لاڈلی بچی میری بہن سے کتنی محبت کرتی ہے ۔اس لیے بہت زیادہ خوش ہو۔پتا ہے بابا جانی نے آپ کے لئے ان سب سے اچھا تحفہ لیا ہے۔”
” تحفہ بابا آپ کو پتا ہے نہ کہ مجھے بایئک بہت زیادہ پسند ہیں. “
” بائیک تو ہم اپنی بیٹی کو نہیں لے کر دے سکتے ۔کیونکہ پچھلی مرتبہ تم بائیک سے گر گئی تھی اور یاد ہے نہ کتنی سخت چوٹ آئی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ عون تمہارے ساتھ اس کی بدولت تمہیں جلدی ہسپتال پہنچا دیا ورنہ کیا ہوتا ہمارا“
” عون کا تو نام بھی مطلب لیں۔ ہر وقت ڈانتے رہتے ہیں کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو۔ بابا جان آپ جانتے ہیں نہ مجھے بائیک چلانے کا کتنا شوق ہے میں چاہتی ہوں کہ میں لڑکیوں کی طرح بایئک چلاوں “
عنایہ اس کی بچگانہ سوچ سن کر ہنسنے لگ گئی اور دادا کی طرف مری” دیکھیئے دادا جان آپ مجھے کیس کرنے سے منع کر رہے تھے اور آپ کی دوسری پوتی بائیک چلانے کی باتیں کر رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں میں تو اس کو بائیک چلاتے ہوئے دیکھتی ہوں تو یہ تصور کرتی ہوں کہ یہ چھوٹا سا لڑکا ہے ہمارا۔”
” یہ ہمارا چھوٹا سا لڑکا نہیں ہماری چھوٹی سی لڑکی ہے اور بیٹا ایک بات سمجھ لو حورین کے زندگی میں آپ کو وہ کام نہیں کرنا چاہیے جو آپ کو نقصان دے۔ پچھلی مرتبہ آپ کی ٹانگ فریکچر ہوئی تھی اس مرتبہ ٹانگ بجائے اگر آپ وہ بہت زیادہ چوٹ لگی تو ہم برداشت نہیں کر سکیں گے اس لیے ہم آپ کو بائیک کی جگہ سائیکل لے دیں گے. “
” مگر بابا جان آپ بھی یاد رکھے گا عمیر بھائی کے ساتھ میری ریس لگاویں گے اچھی سی. “
” ٹھیک ہے میرا بچہ جتنی چاہے مرضی ریس لگائیں ٹھیک ہے “
نوکر جلدی سے آیا اور انہیں اطلاع دی کہ جبار اور تمام خاندان آچکا ہے سب لوگ فورا سے باہر کی طرف بڑے”
انابیہ فورا آگے آئی باپ کے گلے لگی.” کیسی ہے ہماری بیٹی ٹھیک تو ہے نا. “
” ہم بالکل ٹھیک ہیں بابا جان اور ہم اپنی پیاری شہزادی کے لیے آئے ہیں آج تو ہماری حوری کی سالگرہ ہے“
ابوبکر سردار ہاتھ میں اٹھایا ہوا بوکے حورین کی طرف بڑھاتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے بولے” بھئی ہماری حوریں تو ہماری جان ہے۔ ہم اس کیلئے کیسے نہ آتے۔آج صبح سے عمیر شور کر رہا تھا کہ آج حورین کی سالگرہ ہے تو ہمیں وقت سے پہلے جانا چاہیے۔ آج ہماری حورین ماشاءاللہ سے پورے 18 سال کی ہوگئی ہے. “
حورین نے ابوبکر سردار سے تحفہ لیا یہ باری باری سب سے مل رہی تھی عثمان سردار بھی آئے ہوئے تھے ان کے ساتھ گوہر اور جبار نے بھی اسے سالگرہ کی مبارکباد دی ۔اب حورین کی نظر پیچھے کھڑے عمیر کے ساتھ عون پر تھی.
” سالگرہ مبارک ہو چھوٹی بھابی۔”
” تھینک یو عمیر مجھے پتا تھا کہ تمہیں میری سالگرہ کبھی بھول نہیں سکتی. “
عون خاموشی سے اس کی تمام حرکتیں دیکھ رہا تھا ۔جینز کے اوپر لونگ ٹاپ پنک رنگ کا پہنے ہوئے بالوں کو بونی ٹیل میں قید کئے ڈوپتے کے بغیر اس نے اپنی گڑیا اٹھا رکھی تھی. ان کو ہمیشہ اس کا رویہ عجیب لگتا تھا ۔پھر بھی اسے حورین بہت اچھی لگتی تھی۔ مگر ہمیشہ اس کے لہجے میں سختی آ جاتی جس کی بدولت ہمیشہ اس ناراض ہو جاتی ۔اب بھی یہ حورین کو دیکھ رہا تھا جو بالکل بچی تھی ۔اپنے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی ڈول کو ایسے اٹھایا ہوا تھا جیسے اس سے زیادہ اہم کوئی چیز نہ ہو۔”
” کیسی ہو حورین سالگرہ مبارک ہو. “
” میں آپ سے ناراض ہوں اور آپ کو میری سالگرہ یاد نہیں رہی ۔ “
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہاری سالگرہ بھول جاؤں ۔یہ دیکھو تمہارے لیے یونیک سا تحفہ لایا ہوں “
اس نے حورین کی طرف گفٹ پیک بڑھایا جسے حورین نے تھام لیا.” تھینکیو اور آپ کا بہت زیادہ شکریہ آپ کو پتہ ہے مجھے اتنے سارے گفٹ ملے ۔ سب سے اچھا گفٹ مجھے بابا نے دیا ہے ایک سائیکل. “
” ماموں جان آپ نے پھر سے اس کو سائیکل لے دی۔ آپ جانتے ہیں نہ پچھلی مرتبہ کتنا شدید ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس کا ۔وہ تو شکر ہے خدا کا کہ میں وقت پر پہنچ گیا اور اسے اسپتال پہنچا دیا. “
” میں کیا کروں عون تم تو جانتے ہو نا کہ اسے بایئک چلانے کا کتنا شوق ہے۔ تو بائیک کے بجائے سائیکل لے دی۔ اب سائیکل پر اپنا شوق پورا کر لیا کرے“
” عمیر تم میرے ساتھ ریس لگاؤ گے نہ جیسے پچھلی مرتبہ کہا تھا تم نے. “
” نہ بھئی آپ کے شوہر تو مجھے ماریں گے اگر آپ کو ذرا سی بھی چوٹ آگئی۔ اس لیے آپ اپنے شوہر کے ساتھ ہی ریس لگائیں ۔”
” آپ میرے ساتھ ریس لگائیں گے نہ عون. “
” ہرگز نہیں رئیس لگی تو اور چوٹ لگ جائے گی۔ یہ بہت بری بات ہوگی اس لئے ہم ہرگز ریس نہیں لگائیں گے. “
” پھر ہم بھی آپ سے کبھی نہیں بولیں گے عون یہ یاد رکھیے گا۔”
” کیا بھائی آپ بھی ہمیشہ بھابی کو ناراض کر دیتے ہیں اب آپ خود ہی راضی کریں گے میں تو ہرگز آپ کی مدد نہیں کروں گا. “
عنایہ سائیڈ پہ کھڑی ان کے تماشے دیکھ رہی تھی اسی لمحے اس کا فون ملازم لے کر آیا اور بتایا کہ کافی دیر سے ٹیبل پر پڑا ہوا بج رہا تھا. عنایہ نے فون پر نمبر دیکھے بغیر ہی اٹھا لیا.” زہ نصیب آج تو آپ نے ہمارا فون بھی اٹھا لیا. “
” کون ہے فون پر……. “
” اتنی جلدی بھول گئی میں سلیمان خان جس کے خلاف تم نے آج کیس جیتا ہے اور خبروں میں تمہارا بہت زیادہ چرچا ہونے لگا ہے. “
” او تو مسٹر سلیمان آپ ہیں میں آپ سے امید ہی کر سکتی تھی کہ آپ مجھے کال ضرور کریں گے“
” پھر تو بڑے لوگوں نے آج ہمیں یاد کیا ہے . میری یہ بات یاد رکھنا عنایہ آفندی کے تم جتنی مرضی بڑی وکیل بن جاؤ سیلمان خان کو بھی ہرا نہیں سکتی ۔اگر تم کیس جیت لیا ہے تو وہ کیس ہم نے تمہیں جیتنے دیا۔ اگر ہم چاہتے تو تم کبھی بھی وہ کیس جیت نہ باتیں. “
” زہر لگتے ہیں مجھے وہ لوگ جو کسی کی زمین پر یا کسی کے حق پر ناجائز قبضہ کرتے ہیں۔ تم جیسے وڈیرے خود کو سمجھتے کیا ہو کہ جب چاہے دل کیا معصوم لوگوں کی زندگی نوچ لی. میرا زندگی کا مقصد ہے تم جیسے لوگوں سے لڑنا اور یہ بات یاد رکھنا کہ جتنے مستقبل میں کیس آئینگے تمہارے خلاف میں ان کو لینا بے انتہا پسند کرونگی. “
” بہت زیادہ غرور ہے تم میں عنایا آفندی۔ اپنے باپ سے غرور وارثت میں لیا ہے مگر ایک بات یاد رکھنا سلیمان خان نہ کبھی ہارا ہے اور نہ کبھی ہارے کا اور جس وڈیرے کی تم بات کر رہی ہو نہ آج ہی چاہے تو تمہیں تمہارے گھر سے اٹھا لے کسی کو معلوم بھی نہ پڑے. “
تم نے مجھے کیا سمجھ کر رکھا ہے کہ سڑک پر پڑی ہوئی کوئی لڑکی ہوں جس کو جب چاہے اپنے گھر لے جاؤ ۔سب سے پہلے تمہیں یہ بات بتا دوں گی میرے والد مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور میرا خاندان اتنا مضبوط ہے کہ تم جیسے دو ٹکے کے سیاستدانوں کو سیدھا کر سکیں“
” ننہ میری جان ذرا اپنی زبان سنبھال رکھو اس سے پہلے کہ تمہاری زبان کھینچ کر تمہارے ہاتھ پہ رکھ دوں. “
” بہت زیادہ رحم آتا ہے مجھے تم جیسے لوگوں پر . وجہ جاننا چاہو گے سلیمان خان تمہارے پاس صرف بولنے کیلئے الفاظ ہیں۔ طاقت دکھانے کے لئے ایک کمزور کو زیر کرنا جانتے ہو۔ اگر اتنی ہمت ہے تو خود کے سامنے کھڑے لوگوں کا مقابلہ کرو جو تمہاری حیثیت کے برابر ہیں. کمزور لوگوں پر آواز اٹھانے سے تم کبھی بھی وڈیرے نہیں بن سکتے ۔اتنے ہی وڈیرے ہو تو وہ حق اپنے معصوم لوگوں کو دو جس کی خاطر تمہیں یہ رتبہ ملا ہے“
” بیرسٹر صاحبہ بہت اچھی سپیکر بھی ہیں ہمیں تو آج پتہ چلا۔ یاد رکھنا ہماری اگلی ملاقات بہت خاص ہو گی۔ تم ساری زندگی سلیمان خان کو بھول نہیں پاؤگی. “
” میں ایسے لوگوں کو یاد نہیں رکھنا چاہتیں۔ میرے دماغ میں ایک خانہ ایسا ہے جہاں پر بھول جانے والے لوگ رہتے ہیں کبھی وہ سامنے آبھی جائیں تو وہ خانہ کبھی نہیں کھلتا. امید ہے تمہیں اچھا جواب مل گیا ہوگا“
یہ کہتے ہی عنایہ نے فون کر بند کر دیا. شجاع خان بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے اس نے بہت بڑا پنگا لیا تھا جس کا خمیازہ اسے مستقبل میں بھگتنا تھا۔
__________________________________
عمر اس وقت اپنی آفس میں بیٹھا ہوا تھا اس کے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی کے ہاتھ میں فائل دی جو عمر کو دکھا رہا تھا.
” عمر سردار آپ جانتے تو ہے نہ کہ بلوچستان کی عورتیں بہت اچھی کڑھائی والے کپڑے بناتی ہیں۔ مگر ان کو اتنے زیادہ مواقع میں نہیں مل رہے۔ جس سے یہ لوگ اپنا کام دوسرے شہروں تک پہنچائیں. جوخریدار ان سے یہ کپڑے خریدتے ہیں وہ کم قیمت دیتے ہیں۔ جس کی بدولت ان عورتوں کو ذرا سا بھی فائدہ نہیں ہوتا ۔اگر آپ ان لوگوں کے ساتھ ایک contract کریں جس سے آپ ان کو اچھی خاصی رقم دیں تو یہ لوگ آپ کیلئے کام کرنا پسند کریں گے. “
” مجھے تمہاری یہ تجویز بہت زیادہ پسند آئی علی. میرے خیال میں تم میری میٹنگ ان سب عورتوں کے ساتھ دو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ پردہ کرتے ہیں اس لیے ایسا انتظام کرنا کہ میں آرام سے ان سب سے بات کر پاؤں اور ہاں میں اپنی والدہ سے بھی بات کروں گا وہ میرا ساتھ دیں گی عورتوں کو منانے کیلئے“
” سردار آپ یہ بھی کہہ رہے تھے نہ کہ جو عورتیں آپ کے ساتھ کام کریں گی آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ ان کو تعلیم بھی دیں۔”
” بالکل میں ایسا ہی چاہتا ہوں کہ جو عورت میرے پاس کام کرے وہ تعلیم یافتہ ہو تم ایسا کرو علی کے ایک سکول سے کانٹریکٹ کرلو ۔ہمارے ہاں جتنی بھی عورتیں آئیں گی ان سب کے لئے ٹیچر رکھ لو ۔کام کے دوران ایک گھنٹے وہ لوگ پڑھائی بھی کیا کریں گی. علی تم سے ایک بات کرنی ہے کل میں نے جرگے میں جانا ہے وہاں پر ایک بہت اہم مسئلہ میرے زیر بحث ہے۔ تم ایسا کرنا کہ کل آفس کا تمام کام سنبھال لینا میں شاید دیر سے آوں“
” سردار جیسا آپ کا حکم ۔میں غوری سے کہہ دیتا ہوں کہ وہ کل کا آپ کا سارا انتظام دیکھ لے۔ اس کے بعد پھر دیکھتے ہیں آفس کے کام میں کیا چیز ہے۔ آپ کو کسی چیز کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. “
”۔ علی تمہیں معلوم ہے کہ مجھے سب سے زیادہ اعتبار اپنے لوگوں میں تم پر ہے۔بابا نے جب مجھے جرگے میں بھیجنا شروع کیا ہے میں تو حیران ہو گیا ہوں کہ لوگ اتنے زیادہ دقیانوسی خیالات رکھتے ہیں. “
” سردار میں کبھی بھی ہمارے لوگوں کے خیالات کو دقیانوسی نہیں کہوں گا۔ بلکہ میں ان لوگوں کے بارے میں یہ کہوں گا کہ اپنے فائدہ کو دیکھتے ہیں. آج کے زمانے میں لوگوں نے ایسی روایات بنا رکھی ہیں جن کا نام و نشان ہی نہیں تھا اپنا فائدہ دیکھا اور کام نکالا۔”
” ٹھیک کہہ رہے ہو تم یہ لوگ حقیقت میں اپنا ہی فائدہ دیکھتے ہیں ۔خیر اب ان کا سامنا عمر خان سے ہے جتنا یہ لوگ مجھے دبانا چاہیں گے اتنا ہی میں ان لوگوں کو بتا دوں گا کہ عمران خان کیا چیز ہے. میں نے عہد لیا ہے کہ اپنے ملک اور اپنے صوبے کیلئے کام کروں گا چاہے جان بھی چلی جائے. “
” ہم بھی تو آپ کے ساتھ ہیں اس عہد میں شامل سردار. “
” بالکل تم لوگ کیسے نہیں میرے ساتھ شامل۔ آخر ہم سب ایک ہی تو ہیں۔ چلو میں نکلتا ہوں مجھے بہت ضروری کام کے لیے جانا ہے اور ہاں تم سے ایک ضروری باتیں کرنی ہے“
” سردار آپ کو پوچھنے کی ضرورت نہیں آپ بتائیے حکم کیجیے“
” تمہیں ایک ایڈریس دوں گا وہاں پر تم نے میری طرف سے ایک تحفہ بھیجوانا ہے. “
علی پہلے تو بہت زیادہ حیران ہوا پھر بولا.
” سردار میں معافی چاہتا ہوں مگر کیا میں آپ سے معلوم کر سکتا ہوں کہ جس کو تحفہ بھیج رہے ہیں وہ آپ کے لیے کتنا اہم ہے“
” تمہاری سردارنی کو تحفہ بھیج رہا ہوں میں“
” مطلب آپ کی ہونے والی بیوی……… “
” ہونے والی نہیں وہ میری بیوی ہیں۔ ہمارا نکاح بہت پہلے ہو چکا ہے مگر انہیں اس بات کا علم نہیں“
” آپ کے سب گھر والے جانتے ہیں کیا. “
“حد ہی ویسے تم کیا کہنا چاہ رہے ہو کہ میرے گھر والوں کو علم نہیں کہ میرا نکاح ہوا ہے۔ یار ان کو معلوم ہے کہ میرا نکاح ہوا ہے۔ بلکہ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا جب ہمارا نکاح ہوا تھا بابا جان نے مجھے بتایا ہے کہ میرا نکاح احلام کے ساتھ بچپن میں ہو گیا تھا۔ اب میں نے احلام کو اپنی طرف سے تحفہ بھیجوانا ہے مگر میں خود نہیں جا پاؤں گا. “
” سردار کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ خود کیوں نہیں جا سکتے کیا کوئی پابندی ہے“
” نہیں یار ایسی کوئی پابندی نہیں بس ایک حد ہے جو میں پار نہیں کر سکتا۔ ابھی وقت نہیں ان سے ملنے کا۔ تمہیں میں ایک گلاب دوں گا ان کو تحفہ دینا ہے اور ساتھ میں کچھ چیزیں ہیں ان تک پہنچا دینا اگر احلام پوچھیں کہاں سے آئی ہیں تو یہ کہہ دینا کہ کسی انعامی بانڈ میں تحفہ نکلا ہے. “
” جیسا حکم سردار میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔ کیا میں اب بھی اجازت لے سکتا ہوں میں نے بہت سارے کام کرنے ہیں“
” کیوں نہیں تم جاؤ اور ہاں جاتے ہوئے غوری کو میرے پاس بھیج دینا کچھ کام کی بات کرنی ہے“
علی باہر چلا گیا اور باہر جاکر غوری کو عمر کا پیغام دیا جو فورا اندر آیا.” شہزادے آپ نے ہمیں یاد کیا. “
” غوری تم سے کہنا تھا کہ اپنی سرداری کی حفاظت کے لئے کسی کو تعینات کرو ہم نہیں چاہتے کہ جب وہ باہر جائیں تو کسی کی نظر ان پر پڑے. “
” سردار اگر آپ حکم دیں تو ہم اپنے ہی کے کسی بندے کو ان کی حفاظت کے لیے لگا دیتے ہیں ۔وہ کسی کو نظر بھی نہیں آئے گا اور ان کی حفاظت بھی بہت اچھے طریقے سے کر لے گا. “
جن ذادے کی بات کر رہے ہو تم تو بالکل ٹھیک ہے۔ تم حٖفاظت پر تعینات کر دو مگر وہ سردارنی کے آس پاد بھی نہ بھٹکے صرف ان کے گھر کے باہر ان کی حفاظت کرے. “
”آپ کا حکم سر آنکھوں پر. شہزادے پوچھنے کے لیے معافی چاہتا ہوں آج جبار شہزادے اور تمام گھر والے چھوٹی شہزادی کی سالگرہ پر گئے ہیں مگر آپ نہیں گئے کوئی خاص وجہ ہے. “
” تم جانتے ہو غوری میری زندگی میں خوشیاں بہت کم ہیں۔ میں کسی کی سالگرہ میں جاتا ہوں تو مجھے احلام یاد آ جاتی ہے. ماما دیکھتی ہیں تو بہت زیادہ پریشان ہوجاتی ہیں ۔اس لئے میں نہیں گیا کیونکہ سب خوش ہوتے تو مجھے احلام کا احساس ہوتا. “
” میرے پیارے شہزادے آپ ان سے مل لیجیے نا آپ کیوں نہیں ملتے اب سے ملیں گے تو آپ کے دل کو بے انتہا سکون ملے گا. “
” ملتا تو ہوں ان سے روز کتنی دفعہ دن میں. “
” وہ ملنا تو ملنا نہ ہوا نہ شہزادے اور شہزادی کو آپ کی ضرورت ہے آپ حدیں توڑ دیں.
“میں نے بہت بار کوشش کی ہے غوری مگر میں حد توڑ نہیں سکتا . اگر میں نے یہ مقررہ توڑ دی تو شہزادی ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجائیں گی ۔اس لیے میں یہ تو برداشت کر لوں گا ایک دن آئے گا جب شہزادی میرے پاس ہوگی ان کی تمام دکھ میرے اور میری ساری خوشیاں شہزادی کی“
عمر نے اپنی آنکھ سے نکلنے والا آنسو صاف کیا اور کرسی کا رخ موڑ لیا ۔غوری سمجھ گیا کے عمر اسے اپنا دکھانا نہیں چاہتا اس لئے سر جھکا کر بولا” مجھے اجازت ہے شہزادے میں اب جاؤں“
” غوری تم جاؤ میں کچھ دیر کے لئے اکیلا رہنا چاہتا ہوں. “
غوری جیسے ہی کمرے سے نکلا عمر نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ اس وقت عمر کی آنکھ سے آنسو نکل رہے تھے وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا دکھ کوئی انسان دیکھے اور سمجھے کہ اور عمرخان بھی کمزور پڑ سکتا ہے.۔ عمرخان کی ایک ہی کمزوری تھی احلام اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ دنیا کو معلوم ہو کہ احلام اس کی کمزوری ہے.
____________________________
احلام اس بیڈ سے پر لیٹی ہوئی تھی۔ اسے شدت سے تنہائی کا احساس ہو رہا تھا آج اس کی کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی تھی مگر پھر بھی یہ تنہا تھی ۔تھوڑی دیر کیلئے اپنا ناول لکھنے کے بعدجب یہ بستر پر لیٹیں تو اسی نیند نہیں آ رہی تھی۔ بار بار اس کا ذہن یہ احساس کر رہا تھا کہ یہ کتنی زیادہ اکیلی ہے. زندگی میں ایسے بہت سارے واقعات آئے جن کو احلام نے زیادہ مضبوطی سے فیس کیا۔ احلام کی زندگی میں خوشیاں بہت کم آئی تھی ۔جب اسے لگتا کہ زندگی میں مشکلات کا دور ختم ہوگیا ہے تب مشکل اور زیادہ بڑھ جاتی. احلام کو بہت چھوٹی عمر میں اس بات کا احساس ہوگیا کہ لوگ کتنے زیادہ مطلبی ہیں ۔سب سے زیادہ اس احلام کو اس بات کا احساس تھا کہ اپنے رشتے کبھی اپنے نہیں رہتے ۔زندگی میں جو لوگ آپ کا ساتھ دیتے ہیں وہ آپ کے ماں باپ ہوتے ہیں ۔جب کبھی مشکل وقت آتا ہے تو سکا بہن بھائی آپ کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے دنیا والے کیا چیز ہیں۔
احلام کو احساس ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی لیٹا ہوا ہے مگر پھر وہی بات کی احلام نے اسے اپنا وہم سمجھ لیا مگر اس وقت شدید ڈری جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے سر کے نیچے ایک عجیب سے تبش آرہی ہے.
” میری شہزادی بہت زیادہ اداس ہے . تم جانتی ہو احلام تمہارے دل کی پکار مجھ تک کیسے پہنچتی ہے ۔جب تم مجھے بلاتی ہو نہ میرا دل کرتا ہے میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ لوں ۔مگر کیا کروں ایک حد ہے وہ میں توڑ نہیں سکتا میری جان. “
” عمر ہو نہ یہ۔”
اژلام نے اپنے دائیں طرف دیکھ کر کہا جب عمر نے اس کے کان میں سرگوشی کی.” میں ہوں میری شہزادی آج میرا دل کر رہا تھا تمہارے پاس آؤں اور تمہیں احساس دلاوں کے میں کیا ہوں. “
” تمہیں معلوم ہے عمر کبھی کبھی مجھے خود سے بہت زیادہ نفرت محسوس ہوتی ہے ۔میں اپنی والدہ کو وہ توجہ نہیں دے سکتی جو جس کی وہ حقدار ہیں. کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ہی غلط ہوں کیا میں غلط ہوں عمر. اپنے حق کا مطالبہ کرنا کیا غلط ہے. “
” تم غلط نہیں ہوں میری جان۔ تم بالکل ٹھیک ہو ۔بس فرق اتنا ہے کہ تمہارا ذہن باقی لوگوں سے مختلف ہے ۔تمہاری والدہ تمہارے لیے بہت اہم ہیں ۔میں یہ بات جانتا ہوں اور تم ان کی بہت زیادہ عزت بھی کرتی ہو۔ تمہاری والدہ کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ تم کتنی دفعہ راتوں کو اٹھ کے ان کو دیکھتی ہو کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں. تم ہرگز نہ فرمان اولاد نہیں ہو تم اچھی انسان ہو۔ بس فرق اتنا ہے کہ تمہیں کوئی سمجھ نہیں پاتا. “.
” تمہیں معلوم ہے عمر میں سوچتی ہوں کہ لوگ مجھے دیکھ کر نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں ایسا کیوں ہے کہ مجھ میں کوئی کمی ہے. “
” کوئی کمی نہیں ہے احلام۔ “
” عمر زندگی اتنی زیادہ عجیب کیوں ہے تم جانتے ہو مجھے کبھی لگتا ہے کہ میں دنیا دنیا میں صرف غم لے کر واپس جاؤں گی. “
” مایوسی کی باتیں ہرگز نہیں کرتے احلام۔ زندگی تو بہت بڑی ہے میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم نے بہت بار خواہش کی ہے کہ تمہاری زندگی ختم ہو جائے ۔میری جان تم ایسی خواہشات مت کیا کرو تم نہیں جانتی احلام کے تم میرے لیے کتنی اہم ہو“
” اگر میں تمہارے لئے اہم ہوں عمر تو میرے سامنے آ جاؤ نا میں تم سے کہتی ہو کے آجاؤ. “
احلام کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر عمر برداشت نہیں ہورہا تھا اپنی بازو پر احلام کا سر رکھے یہ بہت زیادہ تکلیف میں تھا.
” مت کرو گا ایسا احلام تمھارا دکھ مجھے تکلیف دیتا ہے.. “
یہ وقت ایسا تھا کہ احلام اور عمر دونوں رو رہے تھے مگر ان میں سے کوئی ایک بھی بڑھ کر دوسرے کو چھو نہیں سکتا تھا بس ایک احساس تھا جو ان دونوں کے پاس تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: