Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 5

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 5

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
احلام کی زندگی میں بہت ساری تبدیلیاں آگئی تھی۔ دو سال احلام کی زندگی کو ایسے آگے لے آئے جیسے بہت سا حصہ اور زمانہ گزر گیا ہو۔ احلام کا بھائی زین اس دنیا سے جاچکا تھا ۔زین کی بیوی نے اس سے خلع لے لی تھی۔جب زین پاکستان آیا تو اپنی ماں سے ملا اور بہت سارے پرانے شکوے دور ہوئے۔ اس کے بعد زین جب واپس گیا تو اس نے اپنے گھر والے یعنی اپنی ماں اور تمام بہنوں پر بہت زیادہ توجہ دی۔ مگر زین کی زندگی بہت چھوٹی رکھی گئی تھی ۔احلام کو زندگی میں سب سے زیادہ جس چیز کا دکھ تھا وہ زین کے زندگی میں آئے تمام دکھ تھے۔زین نے زندگی میں بے انتہا دکھ دیکھ. احلام نہایت حساس انسان تھی ایسا ہی بالکل زین تھا . لیکن زین کو کوئی سمجھ نہ پایا۔ زین نے جس سے محبت کی اس نے اسے دھوکہ دیا اور وہ یہی غم لیئے دنیا سے گیا تو سب کو احساس ہوا کہ ذہن کتنا اہم تھا. جانے سے پہلے زین نے اپنی بہن کو islamabad کی سب سے ہائی یونیورسٹی میں ایم اے انگلش میں داخلہ لے کر دیا. احلام کا داخلہ ہوا اسئ دن زین کے ایکسیڈنٹ کی خبر آئی اور تھوڑے ہی دنوں میں زین کی ڈیڈ باڈی پاکستان آگئی. یہ عید کا دن تھا احلام کے دماغ میں یہ حادثہ ایسا بیٹھ گیا کہ رات اکثر خواب میں جب وہ جاگتی تو احلام کو لگتا کہ جیسے موت بہت پاس آ چکی ہے ۔ جاتے جاتے زین سب کو راضی کر گیا اور اپنی زندگی کی یادیں چھوڑ گیا۔ احلام اپنی والدہ کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ تھی مگر پھر بھی بہنیں ویسا ہی سلوک روا رکھتی تھی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ برا۔ احلام کے ساتھ اب بھائی کا سہارا نہیں تھا جس کو وہ اپنی کسی بہن کی شکایت لگا سکتی۔ آپ جس کا جیسا دل کرتا ہے وہ احلام کے ساتھ اپنی مرضی کا سلوک کرتے ۔مگر احلام اپنی ماں پر توجہ دینے کی کوشش کرتی۔ لیکن اب احلام کی ماں ثریا بیگم کی زندگی میں کچھ بھی بچا نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ احلام کو یہی بات کہتی کہ تمہاری خوشیوں اور غم سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا . احلام جب اپنی ماں کو تڑپتے ہوئے دیکھتی تو اس کا دل چیر جاتا ۔احلام کے ساتھ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جب یہ یونیورسٹی گئی تو اس کو تین چار اچھے دوست ملے ،جنہوں نے اس کو بہت زیادہ سپورٹ کیا اور اس کے بعد احلام نے اپنی ناول نگاری شروع کی جس کی بدولت وہ کافی آگے بڑھ گئی۔ احلام کو احساس ہو گیا کہ زندگی میں موت تو اٹل حقیقت ہے جو آنی ہی آنی ہے۔ جیسے زین چلا گیا ویسے ایک احلام نے بھی چلے جانا ہے۔ احلام نے محبت پر یقین کرنا چھوڑ دیا۔ شروع سے ہی احلام کو محبت پر یقین نہیں تھا مگر اب تو احلام نے بالکل ہی ایسے جذبہ پر یقین کرنا چھوڑ دیا تھا. احلام کے نزدیک زندگی میں صرف دو چیزیں اہم رہ گئی تھی ۔ایک اس کی ماں اور ایک اس کا کیریئر. آج پورے دو سال بعد احلام اپنا آخری پیپر دے کر نکلی تھی. ماسٹرز کرنے کا سفر اس کے لئے بہت زیادہ مشکل تھا ۔بھائی کی موت کے آٹھ دن بعد یونیورسٹی جانا اس کے لیے سب سے زیادہ مشکل مرحلہ ثابت ہوا تھا ۔مگر اس نے زین کے خواب کو پورا کرنے کیلئے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ ان دو سالوں میں محنت کی.
آج احلام یونیورسٹی سے آخری پیپر دے کر اپنی بس میں بیٹھی تھی، مگر آج راستے میں ہی ان کی یونیورسٹی بس خراب ہوگئی جس کی بدولت تمام اسٹوڈنٹ کو راستے میں ہی اتار دیا گیا ۔احلام کی قسمت آج بہت بری ثابت ہوئی کیونکہ احلام کی سہیلی نہیں آئی تھی ۔اس کا پیپر نہیں تھا۔ جس کی بدولت احلام کو آج اکیلے ہی جانا تھا۔ احلام کبھی بھی اکیلے باہر نہیں جاتی نہیں تھی ہ۔میشہ اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی موجود ضرور ہوتا. احلام بس سے تھوڑا فاصلے پر آئی تو کافی سارے سٹوڈنٹ اس کے ساتھ ہی تھے ا۔حلام چلتے ہوئے بس سٹاپ تک آئی یہاں سے آگے اس نے ٹیکسی کرنی تھی. ابھی تھوڑی ہی دور اس نے دیکھا کہ کچھ بچیاں بھاگ رہی ہیں. احلام ان بچیوں کو دیکھ رہی تھیں ان کے کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ یہ بہت زیادہ بری حالت میں ہیں۔ان کے کپڑے جا بجا پھٹے ہوئے تھے ۔احلام ان میں سے ایک کے پاس آئی جو بھاگنے کے چکر میں تھی ۔احلام اس کا ہاتھ پکڑا۔
” کیا ہوا تم لوگ ایسے کیوں بھاگ رہی ہو اور کوئی مدد نہیں کر رہا تم لوگوں کی. “
” وہ ہمارے پیچھے ہیں ہمیں بیچ دیں گے۔ انہوں نے ہمیں قید رکھا ہوا ہے ہم پر بہت زیادہ ظلم کرتے ہیں. “
”۔ کون لوگوں پر ظلم کرتے ہیں بچے مجھے بتاؤ کیوں بھاگ رہے ہو۔”
” وہ بولو ہمیں بیچ رہے تھے ہم لوگ وہاں سے بھاگ گئے۔ آج دروازہ کھلا تھا تو ہم سب لڑکیاں وہاں سے نکلیں۔ یہاں ہماری کوئی مدد نہیں کرتا سب ظالم ہیں ۔ہمارے پیچھے پڑے رہتے ہیں یہاں درندے ہیں ہمیں نوچ کھاتے ہیں. “
” ڈرو نہیں مجھے بتاؤ کہاں سے آئے ہو ۔تم لوگ ۔پولیس کو کال کرتے ہیں تمہاری کوئی نہ کوئی مدد ضرور کرے گا۔ کیا نام ہے تمہارا. “
” امید، امید نام ہے میرا. مگر میں امید نہیں رہی. مجھے میرے سوتیلے باپ نے بیچا ہے اور ان لوگوں نے میرے ساتھ بہت برا کیا۔ آپ دیکھ رہی ہیں نا یہ تمام لڑکیاں یہاں پر ظلم سہتی ہیں. “
ابھی یہ لوگ بات ہی کر رہے تھے کہ احلام کو بھی شور کی آوازیں آئی۔احلام نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لوگ سڑک پر کھڑے ہوکر تماشہ دیکھ رہے تھے ۔جبکہ غنڈے ان بچیوں کے پیچھے آرہے تھے۔ تین چار گاڑیاں بھی اسی طرف رخ کر چکی تھی۔اس وقت احلام کے نزدیک ان بچیوں کو بچانا سب سے بڑی بات تھی. احلام کی والدہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ احلام لوگوں کے بکھیڑوں میں مت بڑو ۔آج کا زمانہ ایسا نہیں مگر احلام ان کی بات پر عمل نہیں کرتی تھی. آج بھی احلام اپنی ہی بات کی وجہ سے بسنے والی تھی۔ احلام نے ان بچیوں کو بھاگنے کا اشارہ کیا ۔خود بھی اس بچی امید کا ہاتھ لے کر بھاگنے لگی.
” تم سب لوگ سامنے جو بلڈنگ بن رہی ہے اس میں گھس جاؤ۔ وہاں سے تم لوگوں کو راستہ مل جائے گا . وہاں کہیں جا کر چھپ جاؤ۔ بعد میں ہم لوگ نکل جائیں گے ۔میں تم لوگوں کی پوری مدد کروں گی چلو جلدی. “
یہ سب بچیاں اور امید احلام کے ساتھ بھاگنے لگی ا۔حلام کا یونیورسٹی بیگ اس کے پاس سے گر گیا ۔جبکہ احلام کا موبائل بھی اسی کے اندر تھا ۔احلام اس وقت احلام بہت تیز بھاگ رہی تھی۔ یہ بلڈنگ بن رہی تھی۔ آدھی بن چکی تھی اور آدھی رہتی تھی ۔احلام کو اونچائئ سے شدید ترین خوف آتا تھا. احلام کبھی بلندی پر نہیں چڑھ سکتی تھی۔ مگر آج احلام کو بلندی بھی بہت کم لگ رہی تھی۔ یہ بچیاں احلام کے ساتھ ہی گئی اور ان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔سامنے والی بلڈنگ میں گھستے ہوئے احلام نے کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا جہاں کا دروازہ باہر کی طرف نکلتا تھا ۔یہ بچیاں اندر گھس گئی اور دروازہ بند کر دیا احلام نے۔ باہر سے کنڈی لگا دی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ بلڈنگ بن رہی ہے تو یہ دروازہ بند کیا گیا ہے.
” امید آپ اندر کی طرف جاؤ ۔مجھے پوری امید ہے کہ وہ لوگ آپ کو ڈھونڈ نہیں پائیں گے۔ تھوڑی دیر میں میں آپ لوگوں کو یہاں سے نکالوں گی. “
” مگر آپی آپ کہاں جائیں گے ان لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا ہے. “
” میری فکر مت کرو میں جوان ہوں اور اپنے آپ کو سنبھال سکتی ہوں تم جاو اندر. “
احلام اس بچی امید کو دروازے کے اندر کرکے دروازہ بند کر چکی تھی اور پاس پڑے ہوئے سیمنٹ کی تین چار بوریاں جو آدھی تھی ان کو بڑی مشکل سے اٹھا کر دروازے کے سامنے رکھ دیا ۔جس سے دروازے پر ایسا لگ رہا تھا کہ کام ہو رہا ہے. احلام سامنے بنی سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ یہ سیڑھیاں ابھی مکمل طور پر بنی نہیں تھی۔ مگر احلام کے لیے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ احلام سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بھاگ رہی تھی۔ بھاگتے وقت یہ دروازے تک پہنچیں ۔اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا یہ باہر کی طرف چلی گئی. اوپر کی منزل مکمل طور پر بنی نہیں تھی ا۔حلام بہت برے طریقے سے پھنسی کیونکہ سامنے سے وہی لوگ آرہے تھے. احلام نے جیسے ہی دروازہ بند کیا اس کا ہاتھ ہینڈل پر آگیا ۔باہر رات کا اندھیراچھایا ہوا تھا آج احلام نے یونیورسٹی میں سٹے کیا تھا جس کی بدولت شام کے آٹھ بج رہے تھے. اس وقت احلام گھر میں موجود ہوتی اور احلام کو احساس تک اس کی والدہ بہت زیادہ پریشان ہوں گی۔
چھت پر کھڑی ہوئی احلام کے ہاتھوں شدید زخمی ہو چکے تھے۔ہینڈل پر لگے زنگ زدہ لوہے سے احلام کے ہاتھ کٹ کے نشانوں سے بھر گئے۔لوہا زنگ زدہ تھا اسی لیئے احلام کٹ ہاتھوں میں کھب گیا۔ اس لمحے احلام کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ موت اس کے بہت زیادہ نزدیک ہے۔ زندگی میں احلام کو دو چیزوں سے بہت ڈر لگتا تھا پرندوں اور چھت کی اونچائی سے. احلام زندگی میں بہت سارے حالات سے گزری تھی مگر جب بھی اس کے سامنے اس کی کمزوری آتی تو اسے اتنا شدید خوف آجاتا کہ اسے لگتا ہے دل بند ہو جائے گا. احلام نے ثابت کردیا تھا کہ اس کے نزدیک انسانیت بہت بڑی چیز ہے نہ جانے کتنی بچیوں کی زندگی آج احلام نے بچائی تھی اور خود یہ موت کے دہانے پر کھڑی تھی. اس لمحے اس کے دماغ میں صرف ایک انسان کا خیال آرہا تھا اپنی ماں کا. بھائی اور باپ کے جانے کے بعد اس کی زندگی میں جس انسان کی سب سے زیادہ اہمیت تھی وہ اپنی ماں کی تھی. احلام جانتی تھی کہ تھوڑی دیر بعد اس کا پیر پھسل جائے گا ۔سخت بارش شروع ہوگئی تھی جب کہ یہ چھت کے کنارے پر کھڑی تھی۔ جس جگہ اس نے بچیوں کو چھپاہا تھا وہ دروازہ بند تھا اور اب یہ اسی دروازے کے سہارے چھت کے پچھلی طرف احلام کھڑی ہوئی تھی۔ جہاں آگے شید بالکل تھوڑی سی تھی. بمشکل شیڈ نے اس یہ پاؤں کو سنبھالنے کی جگہ بنا رکھی تھی جبکہ اس نے دروازے کے ہینڈل کو پکڑ رکھا تھا جو اگر کھولا جاتا تو یہ پیچھے کی طرف گر جاتی. ساتویں منزل سے گرنے کے بعد اسے یقین تھا کہ کچھ بھی نہیں بچے گا اس کی زندگی میں. موت اس کے نزدیک آگئی اور اندر سے دروازہ کھول دیا گیا. احلام اسی لمحے پیچھے کی طرف گری مگر سامنے کھڑے ہوئے عمر نے اسی لمحے اس کے ساتھ چھلانگ لگائی. عمر پر رکھنے والا تھا اور عمر اس کے ساتھ ہی چھلانگ لگا کر آیا ۔احلام کی آنکھیں بند ہو چکی تھی اور یہ اپنے حواس کھو رہی تھی۔ یہ چند سیکنڈ کا کھیل تھا. عمر اس کے قریب آیا اور اپنا ایک پر نیچے کیا جو بہت بڑا تھا۔ احلام یہ فرش پر لگنے سے پہلے عمر کے پر کے اوپر لگی اور عمر نے اسے اپنے وجود میں چھپا لیا. عمر کے چہرے پر بھی بے یقینی تھی.
” احلام میری جان. “
عمر کی آواز کانپ رہی تھی. اس سے پہلے عمر احلام کو ہاتھ نہیں لگا پاتا تھا مگر آج یہ احلام کو ہاتھ لگا پایا تھا۔ مگر اس کی احلام جس حالت میں ملی تھی عمر کے لیے ناقابل برداشت تھا. احلام آدھی ہوش میں تھی اور آدھی بے ہوش ہوچکی تھی. عمر نے اسے اپنے سینے سے لگائے اس کے اردگرد پر پھیلا رکھے تھے جس سے آس پاس کا تمام منظر چھپ چکا تھا۔ جبکہ احلام اپنے شہزادے کے سینے میں چھپی ہوئی تھی. احلام نے اس کی ہیزل گرین آنکھیں دیکھیں تو اس نے سمجھا کہ شاید مجھے موت آچکی ہے اور اس کا خواب سچ ہو گیا ہے.
” تم آ گئے آخر کار کتنا تلاش کیا میں نے تمہیں. “
احلام بے یقینی سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی جبکہ عمر اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چومنا شروع ہو گیا.” ہماری ملاقات کا وقت آ چکا ہے ہم مل چکے ہیں میری شہزادی. تم میرے ساتھ جاؤ گیا میری شہزادی کو میری ضرورت تھی اور میں آگیا. “
احلام کے چہرے پر ہنسی تھی یہ بار بار عمر کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتی احلام کے ہاتھوں پر لگا ہو تھا ۔یہ خون عمر کے دل کو دہلا رہا تھا. ۔
“عمر میری زندگی کے سارے غم گزر گئے اور میں چٹان جیسی بن گئی ۔میرے عمر تم آگئے ۔کتنا انتظار کیا میں نے تمہارا۔ہر ایک دن ،ہر ایک شام۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
احلام کی آواز اکھڑ رہی تھی۔عمر نے احلام کا چشمہ اتارا۔آنکھوں کے کناروں پر چشمہ لگ کر ٹوٹ گیا تھا
” احلام میری شہزادی احلام ہوش میں آئیے احلام۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔”
آحلام ہوش و خرم کی دنیا سے بیگانہ ہوگئی۔ اس لمحے احلام کو اتنا سکون کا احساس ہوا کہ تمام زندگی احلام اسی سکون کے پیچھے بھاگتی رہی۔
سیاہ رات کی تاریکی میں عمر کی ہلا دینے والی چیخیں دور دور تک سنائی دے رہی تھی ۔مگر اس دنیا میں بسنے والے لوگ ظالم تھے. ظلم کرکے وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ پکڑ نہیں ہوگی مگر جس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی وہ شہزادے عمرخان کی جان تھی اور اب اس کو تکلیف پہنچانے والوں کا جو انجام ہونے والا دنیا دیکھ کر کانپ جاتی۔
_______________________________
عمر فرش پر بیٹھا ہوا تھا اس کے پر اردگرد پھیلے ہوئے تھے۔ عمر کے پر بے انتہا خوبصورت تھے جبار کے پر نیلے تھے جبکہ عمر کے پر سز رنگ کے تھے. اپنے باپ کے مقابلے میں عمر بہت بڑے پر رکھتا تھا۔ عمر اپنی طاقت کو بچبن سے قابو کرنا جانتا تھا. انسانوں کی دنیا میں بہت کم لوگ جانتے تھے عمر کے پاس یہ طاقت ہے سوائے غوری اور کچھ لوگوں کے کسی کو نہیں معلوم تھا کہ عمر پر بھی نکال سکتا ہے.۔
عمر کا چہرہ آ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا اگر عمر کا کوئی ملازم اسے اس لمحے دیکھ لیتا تو یقین نہ کرتا کہ یہ وہی عمر ہے جو لوگوں کو سزا دیتے وقت بالکل نہیں کانپتا تھا اور آج احلام کو دیکھ کر اس کے آنسو نکل رہے ہیں.
عمر نے اپنی آنکھیں بند کی اسی لمحے عمر کے ہاتھوں سے سبز رنگ کی روشنی نکلنا شروع ہوگئیجو احلام کے زخموں پر لگتی تھی ۔عمر نے اپنی بند آنکھوں ںسے غوری کیا۔عمر کے پاس طاقت تھی جس کی بدولت یہ جنوں کے ساتھ رابطہ کر سکتا تھا.
” حکم شہزادے آپ نے یاد کیا کیا ہوگیا ہے۔”
” غوری فورا سے اپنے لوگوں کو لے کر پہنچو۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے میں جس جگہ پر ہوں میری جگہ دیکھو اور یہاں پہنچ جاؤ ۔مجھے بہت زیادہ ضرورت ہے تمہاری مدد کی. آنے سے پہلے اسلام آباد میں ہمارے لوگوں کو کال کردو کے وزیر عمر کو مدد کی ضرورت ہے.”
” ہم دو منٹ میں آتے ہیں سردار”
عمر نے احلام کو سینے سے لگا رکھا تھا جبکہ احلام کے ارد گرد اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے. یہ بلڈنگ کے پچھلے طرف کا حصہ جس کی وجہ لوگ یہاں سے گزر نہیں رہے تھے . عمر کے پاس یہ طاقت تھی کہ یہ کسی بھی جگہ پر غائب ہو کے جا سکتا تھا. غوری لوگ تو ویسے بھی یہ طاقت رکھتے تھے. عمر نے جیسے ہی آنکھیں کھولی دو منٹ کے بعد اس کے سامنے غوری اور دس جن زوروں کی فوج کھڑی تھی ۔
” شہزادے کو ہمارا سلام ہمارے شہزادے کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو. “
” میرے پاس اس لمحے تمہاری شہزادی ہیں“
سب لوگ حیرت زدہ ہوگئے کیونکہ عمر نے ایک پر احلام کے اردگرد پھیلا ہوا تھا جس سے علام مکمل طور پر ڈھکی ہوئی تھی.
” شہزادے آپ کا مطلب ہے شہزادی احلام ………..۔”
” بالکل تم ٹھیک سمجھے غوری اور فورا سے اوپر کی بلڈنگ میں جاو وہاں کچھ لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے. “
” شہزادے شہزادی کیا زخمی ہیں۔ ہم پہلے انکی مدد کر دیتے ہیں۔”
” نہیں غوری تم فورا سےجاؤ ۔میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ اسلام آباد میں کال کر دو علی کو . تم جانتے ہو نا عای میٹنگ کے لیے آیا ہوا تھا مجھے پورا یقین ہے کہ وہ چند منٹوں میں پہنچ جائے گا۔ شہزادی احلام صرف بے ہوش ہوئی ہیں انکو بہت زیادہ چوٹ نہیں لگی. میں دیکھ لوں گا سب کچھ وہ آئے تو میں احلام کو اسپتال لے کر جاؤں گا۔ یہاں پر کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے تم لوگ کون ہو. “
” شہزادے فکر مت کریے کسی کو علم نہیں ہوگا“
غوری اور اس کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں اوپر کی طرف چلے گئے جہاں پر انہوں نے بچیوں کو بچانا تھا. عمر اپنی باہوں میں اٹھائی ہوئی احلام کو دیکھ رہا تھا۔ عمر نے جھک کر اس کے سوکھے لبوں پیار دیا پھر اس کے ماتھے کو چوما۔ عمر بار بار اس کے چہرے کو چوتا اور یقین کرتا ہیں کے احلام اس کے پاس ہی ہے. عمر نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور اپنے ہاتھ سے نکلتی ہوئی سبز روشنی سے اس کے اندر کی تمام تکلیف خود لے لی۔ عمر جانتا تھا کہ احلام کو ہاتھوں پر چوٹ لگی ہے سر پر نہیں اسی لئے علی کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ آئے تو احلام کواسپتال گاڑی میں لے کر جائیں کیونکہ عمر نہیں چاہتا تھا کہ اب وہ اپنی طاقت کا استعمال انسانوں کی دنیا میں کرے۔ عمر اس بات کا علم رکھتا تھا کہ یہ انسان ظالم ہیں اگر ان کو معلوم ہوگیا کہ ان کے پاس طاقت ہے تو اس کے لئے مشکل پیدا ہوجائے گی.
پورے دس منٹ کے بعد علی گاڑی لے کر یہاں پر موجود تھا.” سردار کیا ہوگیا آپ کے پاس یہ کون لڑکی ہے. آپ کب زیارت سے اسلام آباد میں آئے۔ آپ نے مجھ سے شام میں ذکر تو نہیں کیا تھا “
” علی اس وقت تمہاری سردارنی کو ہسپتال لے جانے کی ضرورت ہے ۔ گاڑی کا دروازہ کھولو. میرے پاس موبائل فون اور آئی ڈی کارڈ نہیں ہے. سٹی ہاسپیٹل کال کرو اور کہو کہ وفاقی وزیر عمر جبار خان کی بیوی کو چوٹ لگی ہے اور اس وقت اسپتال میں اچھے ڈاکٹر موجود ہونے چاہئیں. “
” میں فورا کہہ دیتا ہوں سردار آپ آئیں سردادنی کو لے کر. “
عمر نے احلام کے حجاب کو اس پر زیادہ پھیلا دیا . عمو اسے اٹھائے گاڑی میں بیٹھا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھا. علی فورا سے گاڑی ڈرائیو کرکے اسپتال لے کرگیا عمر جیسے ہی گاڑی سے نکلا میڈیا کے بہت سارے لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ عمر ویسے بھی آج کل ہیڈلائن میں بہت زیادہ آتا تھا اور خبر والوں کو تو موقع چاہیے تھا کہ عمر کوئی غلطی کرے اور وہ لوگ جانیں. مگر آج عمر کو ان لوگوں کے موجود ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ اس کی باہوں میں اٹھائی اس کی محرم اس کی اپنی بیوی تھی۔
” سر یہ کون ہیں ۔کیا آپ نے کسی لڑکی کے ساتھ برا کیا ہے ان کی کیسی حالت ہے“
” میں یہاں کسی کو جواب دینے کی کنڈیشن میں نہیں ہوں ۔جس لڑکی کے بارے میں آپ لوگ اس قسم کی فضول باتیں کر رہے ہیں وہ میری بیوی ہیں. “میڈیا کے تمام لوگ جع کھڑے ہوئے تھے شاک ہو گئے تھے کیونکہ عمر نے کبھی بھی اپنی پرسنل لائف لوگوں کے سامنے ریویل نہیں کی تھی کسی کو نہیں معلوم تھا کہ عمر شادی شدہ ہے یا نہیں.
عمر نے علی کو اشارہ کیا کہ ان لوگوں کو ہینڈل کریے۔علی فورا سے آگے آیا اور بولنا شروع ہوا جب کہ عمر احلام کو اٹھائے اسپتال کے اندر چلا گیا.
”دیکھئے سر کی بیوی کا ایکسیڈنٹ ہو چکا ہے ۔انہیں اس وقت ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے آپ لوگوں کو آپ کے جوابات مل جائیں گے آپ جا سکتے ہیں. “
علی نے اپنا بچتا وہ فون اٹھایا اور ان لوگوں سے بات کرکے اندر کی طرف بڑھ گیا اس وقت بہت زیادہ عجیب سے کیفیت ہوچکی تھی۔ احلام کی تصویر بھی خبروں میں آگئی تھی کیوں کہ جس وقت عمر اس کو لے کر گاڑی سے نکلا تھا بہت سے کیمروں نے تصویر کھینچ لی تھی . تصویر میڈیا پر آ چکی ہر طرف ایک سنسنی پھیل گئی تھی کہ عمر خان نے شادی کرلی ہے اور عمر کی بیوی احلام عمر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اس
وقت سٹی ہاسپٹل کے تمام بڑے ڈاکٹر ہسپتال میں موجود ہیں.
عمر اس وقت اسپتال کے ڈائریکٹر کے ساتھ کھڑا ہوا تھا جس نے احلام کو مکمل طور پر چیک کیا تھا” سر پریشان مت ہوں میڈم کے سر پر چوٹ نہیں آئی۔ بس میڈم خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوگئیں ہیں. میڈم کے ہاتھوں پر پٹیاں ہوچکی ہیں اور ان کو ٹھیک ہونے میں تیرہ چودہ دن لگ جائیں گے آپ میڈم کے ہاتھوں کا بہت زیادہ دھیان رکھیے گا. “
” میری شہزادی کو ہوش کب تک آئے گا ڈاکٹر. “
شہزادی کہنے پر ڈاکٹر نے عمر کی طرف دیکھا جس کے لیئے یہ عام سی بات تھی جب کے ڈاکٹر نے پہلی مرتبہ کسی patient کے ساتھ آئے بندے کو patient کے لیے یہ الفاظ کہتے سنا تھا.” ان کو تھوڑی دیر میں ہوش آجائے گا پھر آپ مل لیجئے گا مجھے میرا آپ کو مشورہ یہی ہے کے کہ آج رات کیلئے میڈم کو ہسپتال میں ہی رہنے دیں. “
” ٹھیک ہے اب آپ جا سکتے ہیں اور ہمیں ڈسٹرب نہ کیا جائے میرے گارڈ باہر آرہے ہیں تو اس لیے آپ پریشان مت ہوئیے گا. “
” جیسا آپ کہیں سر ہمیں کوئی پریشانی نہیں. “
سرجن جیسے ھی باھر نکلا علی اندر آیا. علی نے فورا کال کرکے یہاں اسلام آباد میں موجود اپنے لوگوں کو بلا لیا تھا جس میں عمر کے گارڈ بھی موجود تھے” سردار بی بی جی ٹھیک تو ہیں نا۔”
” تمہاری بی بی بالکل ٹھیک ہیں اتنے سالوں بعد وہ مجھے ملی ہی تم سوچ نہیں سکتے کہ اس وقت میری کیفیت کیسی ہے“
” سردار بی بی کے گھر کال کر دیجئے ان کی والدہ بہت زیادہ پریشان ہو رہی ہیں. “
عمر کو فورا ثریا بیگم کا خیال آیا جنہوں نے اس وقت آسمان سر پر اٹھا لیا ہوگا جب سے ان کے بیٹے کی وفات ہوئی تھی وہ احلام کے لیے بہت حسساس ہوچکی تھی اگر احلام کو تھوڑی سی دیر ہوجاتی تو دروازے کے باہر کھڑے ہو کر انتظار کرتی.
” علی تم جاؤ اور آنٹی کے پاس جاو اور بتانا کے احلام لا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو اسے اسپتال لے جایا گیا ہے. “
” جیسا حکم سردار میں کہتا ہوں اپنے بندوں سے کہ وہ میرے ساتھ جائیں۔ آپ کو اگر ضرورت ہے تو میں رک جاتا ہوں کسی اور اور کو بھیج دیتا ہوں. “
” نہیں مجھے ضرورت نہیں تم جاؤ غوری ہے یہاں پر. تھوڑی دیر وہ میرے پاس ہوگا. “
” ٹھیک ہے سردار مجھے اجازت. “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: