Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 6

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 6

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
سریا بیگم نے گھر کا دروازہ کھولا تو انہیں دو لڑکوں نے سلام کیا۔سریا بیگم نے باقی بیٹیوں کو بلا لیا تھا احلام ابھی تک گھر نہیں آئی۔پتا کرنے پر پتا چلا کے بس نے راستے میں ہی اتار دیا جس کی بدولت تمام سٹوڈنٹ پیدل چل کر گئے۔احلام کو راستوں کی اتنی سمجھ نہیں تھی اسی لیئے سب کا شک اسی بات پر گیا کی احلام کسی بہت بڑی مصیبت میں ہے۔”
“سریا بیگم سے بات ہوسکتی ہے۔”
علی کی بات پر سریا بیگم کا دل ٹھرکا۔انہیں لگا کے ان کی بیٹی کو بھی کچھ ہوگیا ہے جیسے ان کے بیٹے کا ایکسڈنٹ ہوا تھا اور تین دن بعد ذین کی موت کی خبر آئی۔
“سلمی دیکھ تو یہ کیا کہہ رہا ہے ۔احلام کا ایکسڈنٹ ہوگیا ہے۔”
سریا بیگم دروازے کو پکڑ کر کھڑی ہوئی اور سلمی کو آوازیں دنے لگی جو اندر کھڑی ٹی وی پر نیوز دیکھ رہی تھی۔
“نظرین آپ سب کو مطلع کیا جاتا ہے کے وزیر خزانہ سردار میر عمر جبار خان کی اہلیہ احلام عمر خان کا ایکسڈنٹ ہوا ہے اور مسٹر عمر انہیں لے کر ہسپتال آئے ہیں۔سننے میں آیا ہے کے مسز عمر کو چوٹیں زیادہ نہیں آئی جبکہ ایکسڈنٹ کا ذریعہ ابھی تک بتایا نہیں گیا۔”
سلمی اور ردا جو ساتھ کھڑی ہوئی تھی ان کے پیروں سے زمیں نکل گئی کیونکہ ٹی وی پر تصویر کے ساتھ خبر آرہی تھی۔
“امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ماں کی باہر سے آتی آواز پر سلمی اور احلام کی بڑی بہن سائمہ ابھی اس وقت ماں کے ساتھ تھی وہ بھی دوڑتی ہوئی آئی اور یہ لوگ علی سے ملے جس نے بتایا کہ احلام کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے جسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا ہے. سلمہ اور صائمہ نے نہیں دیکھا کہ نیوز میں کیا رہا ہے یہ فورا ماں کو لے کر علی کے ساتھ نکل پڑیں ۔یہ لوگ فورا ہسپتال جانا چاہتی تھی کہ دیکھیں احلام کیسی ہے.
_________________________________
عمر اس وقت احلام کے چہرے پر جھکا ہوا تھا یہ احلام کا ایک ایک نقش ہاتھ کی پوروں سے چھو رہا تھا اسے محسوس ہوا کہ احلام کی آنکھوں میں تھوڑی سی حرکت ہوئی ہے ۔عمر نے اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹایا اور آنکھوں پر لے گیا ۔احلام کا چشمہ ٹوٹ گیا تھا اسی لیے عمر کو معلوم تھا کہ احلام کو بہت کم نظر آئے گا ۔احلام نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو عمر اس کے سامنے تھا احلام کو سمجھ نہیں آئی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے سر میں درد کی ٹھیس اٹھ رہی تھی جبکہ ہاتھوں میں شدت سے درد تھا.
احلام اس وقت سوتی جا گتی کیفیت میں تھی جس میں اس نے عمر کو خود پر جھکا دیکھا اور اسکی ہیزل گرین آنکھیں دیکھی تو وہ ہنسنا شروع ہوگئی. احلام ابھی بھی سمجھ رہی تھی کہ وہ شاید خواب میں ہے احلام دھندلا نظر آرہا تھا مگر عمر کا چہرہ اس کے قریب ہونے کی بدولت اسے دکھ رہا تھا. احلام نے عمر کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی تو اپنے ہاتھ میں شدید درد کی لہر اٹھی۔ عمر نے فورا اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے ہونٹوں سے لگایا. احلام نے اپنا ایک ہاتھ بہت مشکل سے اٹھایا اور اس کے چہرے پر پھیرنا شروع کیا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے عمر کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ کر احلام کے چہرے پر گرنا شروع ہوئے۔ عمر نیچے جھکا اور اپنا ناک حلام کی ناک سے ملانے لگا. دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور دونوں ہنس رہے تھے احلام یہی سمجھ رہی تھی کہ یہ خواب ہے مگر سکتا تب ٹوٹا جب عمر کے آنسو نے احلام کی آنکھوں کو بھگویا.
” عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
احلام نے عمر کو پکارا تو عمر نے بہت پیار بھرے اور جذبات سے چور آواز میں کہا.
” جی میری متاع میری شہزادی تمہیں ہوش آگیا دیکھو میں تمہارا عمر۔ کہتا تھا نہ تمہیں کہ تمہارے پاس آؤں گا آج آ گیا تمہارے پاس مجھے دیکھو ۔ مجھے محسوس کرو تمہارے پاس ہی ہوں میں. “
” عمر سچ میں تم ہو ۔میں کہاں پر ہوں. “
احلام نے اٹھنے کی کوشش کی تو عمر نے اسے واپس لٹا دیا.
” تم ابھی ٹھیک نہیں ہوں چوٹ لگی ہے تمہیں آرام سے لیٹ جاؤ. “
احلام نے اپنے دکھتے سر پر ہاتھ رکھا اور اردگرد کا منظر دیکھا۔ دھندلی آنکھوں سے اسے ہسپتال کا منظر نظر آ رہا تھا۔ اپنے سامنے ایک اجنبی کو دیکھ کر اسے اب حقیقت میں خوف کا احساس ہوا اس کے خواب میں آنے والا عمر اس کے ساتھ رہنے والا عمر تو حقیقت میں نہیں تھا مگر یہ کون تھا.
احلام اس وقت صبح والے ہی کپڑوں میں تھی اس کے کپڑوں پر ہلکا ہلکا خون لگا ہوا تھا جبکہ ڈوپٹہ اس کے پاس نہیں تھا .
احلام نے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا اور اٹھنے کی کوشش کی۔
“احلام شہزادی کہہ رہا ہوں نا کہ تم ٹھیک نہیں ہو بالکل۔ اٹھنے کی ضرورت نہیں آرام کرو تم “
احلام نے غصے سے عمر کو دیکھا اور عمر کا ہاتھ خود پر سے جھٹکا ۔ اپنے اوپر پڑی چادر سے خود کو ڈھکا جو اسپتال کی سفید رنگ کی چادر تھی.” چھوڑو مجھے کون ہو تم . میں تو ساتویں منزل سے گر گئی تھی نہ کیسے بچایا تم نے مجھے میں یہاں پر کیسے آئی۔میرے ساتھ بہت ساری بچیاں تھیں ان کے ساتھ کیا کیا تم لوگوں نے. “
” شہزادی میں کسی کام میں بھی شامل نہیں ہوں۔ بس تمہیں کو بچانے کے لیے میں نے چھلانگ ماری تھی ۔تمہارے ساتھ اگر تمہیں یاد ہو تو. تمہارے ساتھ جو بچیاں تھیں ان کو باحفاظت میرے بندے لے گئے ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے تھے وہ بھی اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ تم پریشان مت ہو میں عمر تمہارا عمر۔ ہم بہت عرصے سے ایک دوسرے کو ضرور لے کے خواب ہی ہوگا ورنہ حقیقتا ایسا ممکن نہیں ہوسکتا ہے میں ابھی بھی بیہوش ہوں اور یہ سب میرا خواب ہو“
” جی نہیں احلام محترمہ آپ مکمل طور پر ہوش میں ہیں۔ یہ دیکھیں میرا ہاتھ آپ اسے چھو سکتی ہیں. “
” تم کون ہو تم نے ساتویں منزل سے میرے ساتھ چھلانگ لگائیں تھیں تو تم زندہ کیسے بچ گئے. “
احلام بہت عجیب طریقے سے عمر کو دیکھ رہی تھی ۔احلام کو شک ہونا شروع ہوگیا کہ عمر اس کے ساتھ مذاق کر رہا ہے” یقین کرو میں کوئئ بھی مذاق نہیں کر رہا سب کچھ ٹھیک ہے۔ تمہارے گھر والوں کو کال کر دی ہے وہ آ رہے ہیں۔ اس کے بعد تمہیں یقین ہوجائے گا کہ میں عمر خان ہوں. “
” تم مجھے کیسے جانتے ہو میرا نام. “
” جیسے تم مجھے جانتی ہو۔ اب سے نہیں پورے چھ سال پہلے سے ہماری ملاقات ہونا شروع ہوئی ہے یاد ہے احلام۔ تم جانتی ہو ہماری سالگرہ بھی ایک ہی دن آتی ہے ہم ایک ہی وقت پیدا ہوئے تھے. “
” یہ کوئی بہت بڑا مذاق ہے جو میرے ساتھ تم سب لوگ کھیل رہے ہو ۔کہاں ہیں وہ بچیاں میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔ امید میرے ساتھ تھی. “
عمر نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا تو احلام نے اس کا ہاتھ دوبارہ جھٹکا” ہاتھ مت لگاؤ مجھے کہا نا“
” اپنی محرم کو ہاتھ لگانے سے منع کر رہی ہو شہزادی. “وہی الفاظ جو اس کے خواب میں آنے والا اور ساتھ رہنے والا عمر کہا کرتا تھا۔
” کچھ یاد آیا شہزادی میں عمر تمہارا محرم ہم کہا کرتے تھے نہ کہ بہت جلد ہی ملیں گے ۔تم نے کتنی مرتبہ مجھے پکارا تھا اپنے پاس احلام یاد ہے نا. “
اس وقت احلام کی آنکھوں میں بے تحاشہ خوف تھا ۔وہ سنتی آئی تھی کہ ایسے لوگ حقیقت میں پاگل ہو جاتے ہیں اور احلام ان کو لگ رہا تھا کہ اس کے سامنے کھڑا شخص حقیقت میں ہی نہیں اور وہ سچ میں پاگل ہو گئی ہے.
” میں شاید سچ میں پاگل ہی ہوگئی ہوں امی ٹھیک کہتی تھی. “
عمر اس کی بات پر ہنسنا شروع ہوگیا جبکہ اسی لمحے دروازہ کھلا اور اندر آنے والی ثریا بیگم تھی۔ ان کے ساتھ سلمی، خالد اور صائمہ تھی۔
” میری بچی تم ٹھیک تو ہو نا. “
احلام نے ماں کو دیکھا جو آتے ہی اس سے لپٹ گئی ۔حلام نے ان کے اردگرد ہاتھ پھیلایا.
ثریا بیگم نے احلام کے زخمی ہاتھ تھامے اور ان پر پیار دیا” کیسے ہوا یہ سب تم تو یونیورسٹی میں تھی نہ ۔مجھے پتہ چلا کہ تمہاری بس خراب ہوگئی ہے۔ مجھے اسی وقت معلوم ہو گیا تھا کہ میری بیٹی کسی مصیبت میں ہے ۔کتنی دفعہ کہا ہے کہ کوئی پریشانی ہو راستے میں تو بتا دیا کرو میں تمہیں لینے آ جاتی کسی کے ساتھ“
” امی کچھ بھی نہیں ہوا ۔میں آپ کو سب کچھ بعد میں بتاؤں گی۔ ابھی آپ مجھے اسپتال سے لے کر جائیں میں بالکل ٹھیک ہوں. “
صائمہ عمر کی طرف مڑی ۔صائمہ نے اس پہچان لیا تھا پہلی ہی نظر میں کیوں کہ ٹی وی میں اس نے عمر کو بہت دفعہ سپیچ کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔احلام سیاست میں بہت زیادہ دلچسپی تھی مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ عمر بھی ایک سیاستدان ہے. دو سالوں میں احلام نے ٹی وی دیکھنا بہت زیادہ کم کردیا تھا جس کی بدولت اس نے عمر کو نہیں دیکھا تھا مگر سارا زمانہ ہی تقریبا عمر کو جانتا تھا. عمر کو وزیر بنے ہوئے ایک سال ہوا تھا.
” سر کا بہت شکریہ آپ نے ہماری بہن کی مدد کی ۔مگر جو خبریں ٹی وی پر پھیل رہی ہیں وہ بہت زیادہ عجیب ہیں. آپ نے تو انسانیت کے تحت ہماری بہن کی مدد کی مگر لوگ اس چیز کو غلط سمجھ رہے ہیں “
” صائمہ گوہر(بہن) وہ لوگ بالکل بھی غلط نہیں سمجھ رہے ۔حقیقت ہے احلام میری بیوی ہے اور ہمارا نکاح اب سے نہیں پہلے سے ہو چکا ہے. “
احلام اب حقیقت میں خوف ذدہ ہوئی اور عمر کو دیکھنے لگی کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی کہ عمر اس کا وہم ہے اور اسے ہی نظر آرہا ہے مگر عمر کو اپنی بہن سے بات کرتے دیکھ احلام کا اوپر کا سانس نیچے رہ گیا.
” کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ سر۔ ہماری بہن سے آپ کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ۔ہم تو آپ کے بارے میں جانتے بھی نہیں“
یہ بولنے والی سلمی تھی جبکہ خالد خاموش کھڑے سب کچھ دیکھ رہا تھا سب کے لئے یہ اتنا اچانک تھا کہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ مگر احلام کے کردار پر سب گھر والوں کو مکمل طور پر یقین تھا کہ احکام کسی انسان سے تعلق نہیں بنا سکتی۔
: پورے 24 سال پہلے جب احلام کی طبیعت ہسپتال میں خراب ہوئی تھی اس کا آپریشن ہونا تھا ۔ سب لوگوں نے امید چھوڑ دی تھی کہ احلام بندہ بچے گی اس وقت عارف انکل یعنی احلام کی والد نے میرے والد جبارخان کے ساتھ ملاقات کی تھی اور اس وقت ہم دونوں کا نکاح ہوگیا تھا. “
” مجھے اپنا نام دوبارہ سے بتاؤ کس کے بیٹے ہو تم بیٹا ث۔”
ریا بیگم جبارخان کا نام سن کر فوراً عمر سے مخاطب ہوئی کیونکہ انہیں یاد تھا کہ ان کے شوہر نے ایک مرتبہ کسی جبارخان کا ذکر کیا تھا کہ وہ ان کے شوہر سے ملنے کے لیے اکثر اوقات ان کے دفتر آیا کرتے تھے. “میں جبارخان کا بیٹا ہوں ۔آپ کو شاید یاد ہو تو انکل اور بابا کے بارے میں۔”
” مگر مجھے میرے شوہر نے کسی نکاح کے بارے میں نہیں بتایا. “
” آپ کو شک ہے تو میں بابا کو بلا رہا ہوں۔ ویسے بھی وہ لوگ آرہے ہیں۔ زیارت سے نکل چکے ہیں. کچھ ہی دیر میں وہ لوگ یہاں پہنچ جائیں گے ہمارے پاس ثبوت ہے اور سب سے بڑی بات عارف انکل کے تین چار دوستوں کو بھی معلوم ہے اور وہ لوگ آپ کو بتائیں گے کہ ہمارا نکاح بچپن میں ہوچکا ہے. “
” یہ جھوٹ ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا میرے شوہر مجھے ایسا ہوتا تو ضرور بتاتے ۔سب سے بڑی بات بیٹا تمہارے اسٹیٹس میں اور ہمارے رہن سہن میں بہت بڑا فرق ہے ہم مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ تم ایک سیاستدان ۔میرے شوہر کبھی بھی خود سے بڑے طبقے کے لوگوں سے دوستی نہیں کرتے تھے. “
ثریا بیگم نے عمر کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ عمر ہنسنے لگ گیا.
: آنٹی وہ دوستی ہی کیا جو رتبہ دیکھ کر کی جائے ۔ویسے بھی آپ کو معلوم ہے کے نکاح اس بات پر ہوا تھا کہ احلام کا آپریشن ہونے والا تھا اور بابا نے عارف انکل سے کہا تھا کہ اگر وہ احلام کا نکاح مجھ سے یعنی عمر خان سے کردیں گے تو احلام ٹھیک ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا تھا ہمارا نکاح اسپتال میں ہی ہوا تھا۔ اس کے بعد بابا تین چار بار انکل سے ملے ۔انکل نے رابطہ نہیں کیا بابا سے۔”
خالد جو اتنی دیر سے خاموش کھڑا تھا عمر سے مخاطب ہوا ۔معاملہ اتنا زیادہ گھمبیر ہو چکا تھا سب لوگوں کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے ۔سب سے زیادہ اس بات کا اثر احلام پر ہوا تو جو خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی ۔ احلام لگ رہا تھا کہ دنیا گھوم رہی ہے کیونکہ یہ شخص اس کے ساتھ چھ سالوں سے تھا ۔کبھی اس کے ساتھ بولتا کبھی ،اس کو بہلاتا جب سہارے کی ضرورت ہوتی ہمیشہ موجود ہوتا۔مگر احلام اسے چھو نہیں پاتی تھی.
” اگر تم جانتے تھے احلام کو تو اتنے سال بعد آج تم کیوں ملے ہو۔ اس سے وہ بھی احلام کے ایکسیڈنٹ پر. ہم کیسے یقین کر لیں کہ احلام کا تم سے نکاح ہوا ہے ۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ تم لوگ اتنے سالوں سے کہاں تھے ہم سے بالکل رابطہ نہیں کیا۔”
” رابطہکرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ عارف انکل خود تھے۔ ہم سے کہا تھا انہوں نے کے جب تک احلام تعلیم مکمل نہیں کر لیتی ہم آپ سے رابطہ نہیں کریں گے۔ آج احلام کا آخری پیپر تھا اور دیکھ لیں میں احلام کے سامنے ہوں. آج میرا ارادہ آنٹی سے ملنے کا تھا دیکھ لیجئے آج میں ملنے کے لیے آ رہا تھا تو راستے میں مجھے پتا چلا کہ احلام کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور میں اسے فوراً ہسپتال لے آیا“
عمر کو اس جھوٹ کا سہارا لینا پڑا کیونکہ اگر حقیقت میں یہ سب کو زیادہ کو بتاتا کہ احلام ستویں منزل سے گری ہے تو یہاں معاملہ اور زیادہ بگڑ جاتا ہے احلام کو تو بہت ساری باتیں بھول گئی تھی اس لئے اس نے احلام کو یہی کہا کہ اس کا ایکسڈنٹ ہوا ہے.
” آپ لوگ آرام سے بیٹھ کر سوچئے میں باہر جا رہا ہوں میرے والد آنے والے ہیں وہ جیسے ہی پہنچتے ہیں تو پھر وہ آپ سے بات کریں گے اور احلام شہزادی تم نے اپنا خیال رکھنا ہے میں باہر یی ہوں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو کہہ دینا“
عمر یہ کہہ کر باہر چلا گیا جب کہ سب لوگ احلام کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: