Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 7

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 7

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
جبار کو جیسے ہی خبر ملی کہ احلام عمر کو مل چکی ہے تو یہ اور انابیہ فورا ہی اسلام آباد کے لیے نکل گئے۔ ان کا اپنا پرائیویٹ پلین تھا جس پر یہ لوگ آس پاس کے علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ جبار کے ساتھ آغاجان یعنی کے سردار بھی تھے اور عورتوں میں سے صرف ان انابیہ ہی ان کے ساتھ آئی تھی۔
رات کا منظر ختم ہوا تو صبح نے اپنا چہرہ دکھایا۔ سب لوگ کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے احلام کے پاس اور پریشان تھے۔ انابیہ کو ڈسچارج کردیا گیا تھا مگر عمر نے یہی کہا تھا کہ جب تک جبار نہیں آجاتا یہ لوگ اسپتال سے نہیں جائیں گے.
” امی کیا آپ کو نہیں یاد کے بابا نے کبھی آپ سے جبارخان کا ذکر کیا ہو ۔آپ کہا کرتی تھی نہ کہ بابا کے تمام دوست بہت اچھے تھے آپ ملی ہوں گی ان سے ضرور. “
” بیٹا میں تمہارے بابا کے تقریبا تمام ہی دوستوں کے خاندانوں کو جانتی ہوں۔ مگر جبارخان کا ذکر انہوں نے ایک ہی بار کیا تھا اور صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ آفس میں ان سے ملنے کے لیے آئے تھے۔ اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں معلوم کہ جبارخان کون ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے تمہارے نکاح کے بارے میں تو مجھے بالکل بھی نہیں معلوم. “
خالد نے ان کی بات سنی تو فوراً بول پڑا۔
” خالہ جان ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ سچ بول رہے ہوں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ کچھ ایسا چھپا رہے ہوں جس کے جان لینے سے ہم لوگوں کو نقصان ہو. “
” خالد بیٹا ان لوگوں کو ہم سے کیا غرض۔ ہم تو عام سے شہر میں رہنے والے عام سے لوگ ہیں اور وہ سیاستدان۔ تم نہیں سن رہے تھے کہ صائمہ بتا رہی ہے عمر خان ایک سردار ہے اور اس کو بلوچستان کا شہزادہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ ہمارے سیٹس کے ساتھ میچ نہیں کرتے وہ کہاں ہم کہاں ۔ “
” مگر امی دیکھ لیں وہ شخص باہر ہی بیٹھا ہوا ہے اور کتنے اطمینان سے اس نے یہ بات کہہ دی کہ احلام اس کی بیوی ہے
شکریہ کے آپ نے احلام کی شادی ابھی کہیں نہیں کی تھی ۔کتنا زیادہ مسئلہ ہوجاتا ہمیں. “
احلام جو بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی اپنی بہن صائمہ کی بات پر پورا بول پڑی ایک تو احلام کی طبیعت پہلے ہی خراب تھا اوپر سے صائمہ اور سلمہ کی تفشتیش بھری باتوں نے احلام کو پریشان کردیا تھا۔
” باجی حد ہے آپ کیسی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہیں۔ اس وقت ہمارا مسئلہ گھر جانے کا ہے۔ آپ جانتی ہیں کل کیا ہونے والا تھا میرے ساتھ میں نے کچھ بچیوں کو بچایا تھا وہاں چھت پر ساتویں منزل سے گری تھی میں لیکن وہ انسان تو کہہ رہا ہے کہ میرا ایکسڈنٹ ہوا ہے. مجھے بھول رہا ہے یا میں بھول چکی ہوں ۔مجھے نہیں معلوم ستویں منزل سے گری تھی مگر میں صحیح سلامت کیسے ہوں۔”
” امی مجھے تو لگ رہا ہے سچ میں ہماری احلام کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ساتویں سے جب کوئی بندہ گرتا ہے نہ تو اس کی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی ہے اور تم تق سہی سلامت ہو صرف ہاتھوں پر چوٹ آئی ہے. بہت سے لوگوں نے تمہارا ایکسیڈنٹ دیکھا تھا اور جس نے بھی دیکھا ہے وہی بتا رہے ہے کہ تم تیز بھاگ رہی تھی گاڑی کے ساتھ تمہاری ٹکر ہوئی ہے. “
” ایسا نہیں ہوسکتا سائمہ باجی میں آپ کو بتا رہی ہوں نہ کہ میں نے ساتویں منزل پر ہی خود کو گرتے ہوئے پایا تھا ۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میں بج جاوں۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ میری زندگی میں اتنے اتار چڑھاؤ کیوں ہیں۔ کیوں میری ہی زندگی ایسی ہے۔”
” ایسے باتیں نہیں کرتے احلام تمہاری زندگی ہزار لوگوں سے بہتر ہے ۔میں جاتی ہو عمر سے بات کرتی ہو کہ وہ ہمیں جانے دے. “
ثریا بیگم باہر نکلنے ہی لگی تھی کہ ہسپتال کے کمرے کا دروازہ کھلا۔اندر آنے والا جبار تھا جبکہ اس کے پیچھے آغاخان تھے۔
” اسلام علیکم “
آغا جان اور جبار نے بلند آواز میں سب کو سلام کیا ۔کمرے میں بیٹھے سبھی لوگوں نے ان کے سلام کا جواب دیا ۔جبار سامنے بیٹھی احلام کو دیکھ رہا تھا۔ جو چوبیس سالوں میں احلام بہت زیادہ بدل چکی تھی۔ احلام کی شکل اپنی والدہ سے ہی مل رہی تھی ۔جبکہ اس کے عکس میں تھوڑا سا والد کا عکس بھی نظر آرہا تھا.” کیسی ہے ہماری بیٹی احلام۔ ہمیں عمر نے بتایا کہ تمہیں کافی زیادہ چوٹ آئی تھی۔ اب تو ٹھیک ہے نہ ہماری بیٹی. “
جبار چلتا ہوا آگے آیا اور احلام کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ احلام حیران ہو گئی۔ اس شخص کو تو ٹی وی پر یہ دیکھ چکی تھی۔ جبار کے بھائی کی اور جبار کی پولیٹیکل پارٹی جس کے بارے میں احلام نے کافی زیادہ پڑھ رکھا تھا مگر اگر یہ ان لوگوں کے بارے میں جانتی تھی تو عمر کو کیسے مس کر دیا. ” بھابھی ہمیں عمر نے بتایا ہے کہ آپ کو شک ہے کہ احلام کا نکاح عمر سے نہیں ہوا۔ مجھے شاید آپ جانتی ہی ہوں ۔میں جبارخان ہو ۔احلام بیٹی جب بچپن میں بیمار ہوئی انہی دنوں میں بھی یہاں اسپتال عمر کو لے کر آیا تھا تو میری ملاقات عارف سے ہوئی تھی ۔احلام کا آپریشن ہونا تھا . احلام کے بارے میں یہی کہا گیا تھا کہ اگر اس کا آپریشن ہوگیا چھوٹی عمر میں تو یہ زندہ نہیں بچے گی۔ غالبا اس وقت احلام چھ ماہ کی تھی۔ جب آپ لوگ اسے اسپتال لے کر آئے تھے . احلام کی آنتوں کا کچھ مسئلہ تھا جس کی وجہ سے ڈاکٹر نے اس کو آپریشن بتایا تھا مگر بھابھی آپ کو یاد پڑتا ہو تو آحلام اس کے بعد ٹھیک ہوگئی تھی میں نے عارف سے کہا تھا کہ اس کا نکاح کر دیا جائے عمر کے ساتھ.”
” دیکھیں بھائی صاحب میں تو آپ کے بارے میں نہیں جانتی کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ۔میں کیسے مان لوں گے عارف نے میری بیٹی کا نکاح کر دیا تھا ۔”
” آپ کو آپ کے شوہر کے دوست منصور خان یاد ہیں نا وہ نکاح کے گواہ تھے میں بلا لیتا ہوں انہیں میرا رابطہ ان سے ہو چکا ہے. “
” مگر بھائی صاحب میرے شوہر نے اس بات کا ذکر مجھ سے کیا ہی نہیں۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میری بیٹی کا نکاح عمر سے ہوا ہے ۔میرے شوہر اپنی بیٹیوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ احلام ان کی جان تھی۔ میں نہیں سمجھتی کہ وہ احلام کا نکاح اتنی چھوٹی عمر میں کسی لڑکے سے کر دیں گے. “
” بیٹا آپ آرام سے بیٹھ کر بات کر لیجئے ۔ہم جانتے ہیں کہ یہ بات آپ کے لیے بہت زیادہ عجیب ہے ۔کوئی اچانک آئے اور کہے کے آپ کی بیٹی کا نکاح بچپن میں ہی کردیا گیا تھا تو ماں باپ کے لئے یہ بات سہنا مشکل ہوجاتی ہے۔ مگر یہی حقیقت ہے۔ ہم گواہ آئیں گے ۔اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ بھی نکاح کر دیں گے . اچھا ہی ہوگا کہ بچے بڑے ہوگئے ہیں ان کا نکاح دوبارہ کردیاجائے ۔بچپن کا نکاح تو بہت پہلے ہوا تھا اب ان کا دوبارہ نکاح کردیں گے تو بچے آپس میں بھی اچھی طرح ایک دوسرے کو جان لیں گے. “
یہ بولنے والے ابوبکر سردار تھے.” آپ لوگ سمجھیے میری بیٹی بہت زیادہ چھوٹی تھی اس وقت۔ میں کیسے مان لوں ۔”
” میں جانتا ہوں آپ کے لیے یہ سب کچھ عجیب ہوگا مگر میں آپ کو اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ نکاح ہوا تھا اور میرا بیٹا عمر بیٹی احلام کو بہت زیادہ خوش رکھے گا۔ اتنے سالوں سے عمر احلام کا انتظار کر رہا ہے ۔آپ ایک موقع تو دیکھ کر دیکھیے ہم کبھی بھی اپنی بیٹی کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے اور اگر اپ status کی بات کرتی ہیں تو میں آپ کو بتا دوں کہ میں نے جب نکاح کیا تھا عمر کا احلام سے، اسٹیٹس تو دور کی بات میں نے یہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ عارف کہاں رہتا ہے اور اس کا کیا بزنس ہے میرا تو بس ایک ہی مقصد تھا کہ احلام کو اپنی بیٹی بنالیا جائے. “صائمہ سلمہ خالد اور احلام ثریا بیگم کو ان جبار سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اسی لمحے کمرے کا دروازہ دوبارہ کھلا اور اس دفعہ آنے والی انابیہ تھی جس کے ساتھ عمر تھا۔ انابیہ اس وقت 47 سال کی تھی مگر جب عمر کے ساتھ کھڑی ہوتی تو جوان ہی لگتی۔
” اسلام علیکم کیسے ہیں آپ سب. “
انابیہ نے اپنے اردگرد چادر لپیٹ رکھی تھی جبکہ اس کا چہرہ سفید چادر سے نظر آ رہا تھا۔
” یہ ہے ہماری بہو احلام کتنی معصوم سی ہے یہ تو عمر ۔ بہت چھوٹی ہے تمہارے مقابلے میں. “
انابیہ فورا سے آگے آئی اور احلام کو گلے لگایا۔ احلام اس سب کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے وہ بوکھلا گئی۔ جبکہ عمر ماں کی بات سن کر ہنسنے لگ گیا۔ عمر اس وقت6 فٹ 3 انچ ہائیٹ رکھتا تھا جب کہ احلام صرف 5 فٹ 4 انچ کی لڑکی تھی۔ عمر بہت زیادہ مضبوط جسامت کا مالک تھا اس کے مضبوط بازو اس کے کپڑوں سے بھی نظر آتے تھے ۔جبکہ اس کا چہرا بہت زیادہ نورانی تھا اور چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی تھی. ہیزل گرین آنکھیں اس کے چہرے کا خاصہ تھی۔ احلام اس کے مقابلے میں بہت زیادہ کمزور تھی۔ احلام کی نظر بے انتہا کمزور بھی تھی جس کی بدولت اسے چشمے کے بغیر بالکل بھی نظر نہیں آتا تھا۔ جبکہ احلام نے زندگی میں بے تحاشہ محنت کی تھی جس کی وجہ سے احلام نے خود پر بالکل دھیان نہیں دیا . احلام کا چہرہ زرد پڑا ہوا تھا. کل سے اب تک احلام بے تحاشہ پریشان رہی تھی ۔ پریشانی اس کے چہرے سے بھی واضح ہورہی تھی.
” مما ایسی بھی بات نہیں دیکھیں تو یہ بالکل مجھ جیسی ہی ہے میری شہزادی ۔آپ جانتی ہیں میں یہی سوچا کرتا تھا کہ جب احلام میرے پاس آئے گی تو میرے بارے میں کیا سوچے گی۔ میں اپنی احلام کو پسند آؤں گا یا نہیں۔”
” ہمارا بیٹا تو بہت زیادہ پیارا ہے اور ہماری بہو بھی بہت زیادہ پیاری ہے۔ جبار دیکھیے میں آپ سے کہا کرتی تھی نہ کہ جب ہماری بیٹی ہمیں ملے گی تو ہم اسے کبھی واپس نہیں جانے دیں گے ۔اس لیئے فورا سے تیاری کریں بیٹی کو گھر لے کر جانے گی۔“
” انابیہ یہ احلام والدہ ہیں ان سے ملو عمر کی ساس ہیں یہ۔”
انابیہ فورا ثریا بیگم کی طرف گئی اور ان سے گلے لگ کر ملی۔ثریا بیگم اور ان کی بیٹیاں خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی. منصور جو عادف کے بہت اچھے دوست تھے جبار کے بلانے پر اسپتال میں آئے ۔اس وقت وہ بھی اندر آ چکے تھے اور ثریا بیگم کے سامنے ہی کھڑے تھے ۔ثریا بیگم تو نے بہت اچھے طریقے اے ان کو جانتی تھی۔ عارف کے ان کے ساتھ خاندانی تعلقات تھے۔عارف کی وفات کے بعد بھی منصور کی بیوی اور بچّے بہت دفع ان کے گھر آ چکے تھے
” بھائی صاحب دیکھیں یہ کہہ رہی ہیں کہ احلام کا نکاح بچپن میں عارف نے عمر سے کر دیا تھا ۔ہم تو ان کو جانتے بھی نہیں اور مجھے تو معلوم ہی نہیں اور عارف مجھے بالکل نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی کام کیا ہے“
” بھابی یہ بالکل سچ ہے اس وقت عارف کو صرف یہی چیز نظر آئی کے احلام کا بج جانا بہتر ہے۔ یہ لوگ میر قبیلے کے سردار تھے ۔تو انہوں نے وعدہ کیا تھا عارف سے کے نکاح کے بعد احلام صحت مند ہو جائے گی۔ ان کے بقول احلام میر خاندان کی ہونے والی نسل کی امیں ہے۔ جس کی بدولت انہوں نے فورا ہی احلام کو نکاح کے لیے مانگ لیا۔ عارف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا اس لئے عارف نے اس کا نکاح کروا دیا. “
انابیہ جو پیچھے کھڑی سب سن رہی تھی حیران ہوں گئی ،کیونکہ جبار نے اسے یہ بتایا تو تھا کہ وہ عمر کا احلام سے نکاح کرکے آیا ہے مگر اسے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اس کے ساتھ جو ہوا تھا ماضی میں جیسے اس کا نکاح جبار سے ہوا تھا ویسے ہی احلام کا نکاح عمر سے ہوا ہے ۔کیا احلام بھی ویسے ہی بیمار پڑی تھی جیسے انابیہ کو شدید بخار ہوگیا تھا اور وہ صرف جبار کے پاس ہونے سے ہی ٹھیک ہوا تھا۔ تو کیا عمر کا نکاح بھی احلام اسی وجہ سے ہوا تھا۔
پورے کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔ ثریا بیگم بہت دھیمے انداز میں بولی. “دیکھئے بھائی صاحب ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوا تھا ۔اس وقت عارف بھی دنیا سے جاچکے ہیں ۔میں کیسے اپنی بیٹی کو انجان لوگوں میں دے دوں۔ ہمیں تو آپ کا علاقہ نہیں پتا ۔آپ لوگ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں”
“بھابھی آپ کیوں ایسی باتیں کر رہی ہیں۔ آپ بالکل پریشان مت ہوں۔جب میری بھی شادی ہوئی تھی تو بہت اچانک ہوئی تھی اور میں بہت زیادہ پریشان تھی۔ مگر دیکھیے آج کتنی خوش ہوں۔ ماشاء اللہ سے چار بچے ہیں ایک گھر ہے اتنا بڑا قبیلہ ہے. احلام کا انتظار تو ہم بہت سالوں سے کر رہے ہیں۔ ہماری بیٹی ہے یہ ہم اسے بالکل بیٹی کی طرح رکھیں گے۔ مجال ہے جو کوئی اونچی آواز میں بات بھی کر کے دکھائے “.
” ہم کے بات سمجھ رہے ہیں لیکن ہم کس طریقے سے اپنی بیٹی کا رشتہ کر دیں” “بھابھی آپ پریشان مت ہوں ۔ عارف نے کچھ سوچ کر ہی ہماری بیٹی کا نکاح ان کے بیٹے کے ساتھ گیا تھا۔ آنکھ بند کرکے ہماری بیٹی کی شادی عمر سے کر دیجئے مجھے پوری امید ہے کہ احلام بہت زیادہ خوش رہے گی اور عمر تو ہے ہی ایک سیاست دان”
” منصور بھائی آپ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں مگر میں کیسے اپنی بیٹی کی شادی کردوں۔ آپ جانتے ہیں نہ کہ میری چار بیٹیاں پہلے بھی ہیں۔ لوگوں کو جواب دینا ہوتا ہے لوگ کیا کہیں گے کہ کیسے بیٹی کی شادی کر دی اتنے امیر گھر میں “
منصور صاحب کو ثریا بیگم نے جب کہا تو وہاں کھڑا جبار حیران ہو گیا کہ ثریا بیگم کو یہ فکر نہیں کہ احلام کا مستقبل کیسا ہوگا مگر انہیں یہ ضرور فکر ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ۔” لیکن بھابھی احلام سب سے پہلے ہماری بیٹی ہے ۔جب ہم نے احلام کا نکاح کیا تھا تو ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ status دیکھنا تو دور ہمیں یہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ آپ لوگ کہاں پر رہتے ہیں۔ . احلام بیٹی میں کیا کمی ہے پڑھی لکھی ہے اس کے پاس وہی سب کچھ ہے میرے بیٹے پاس ہے تو پھر ایسا کھلا تضاد کیوں کہ لوگ آپ کی بیٹی کی زندگی کا فیصلہ کریں گے یا آپ خود اپنی بیٹی کو اپنائیں گی. “
احلام جبار کی بات پر حیران ہوں گئی کیوں کہ ساری زندگی اس کے لیے بولنے والا کوئی نہیں تھا ۔جب بھی احلام اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتی تو ہمیشہ اس کو ایک لفظ سننے کو ملا نافرمان ہے یہ اور آج جبار نے ایک خوبصورت بات کو اتنے اچھے طریقے سے ثریا بیگم کو کہہ دیا جو احلام ساری زندگی نہ کہہ پائی۔ احلام کے لیئے یہ غیر یقینی تھا کہ کوئی اس کے حق کیلئے آواز اٹھا سکتا ہے وہ بھی ایسے موقع پر جب یہ خود اس رشتے کے لئے راضی نہیں. سارے معاملات میں احلام خاموش رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ احلام جب بھی اپنے کسی معاملے میں بولتی تو ہمیشہ اس پر الزامات لگتے۔ احلام کو یقین تھا کہ اگر وہ عمر سے شادی کرنے کے لیے ہاں کرے گی یا انکار کرے گی تو سب یہی کہیں گے کہ تمہیں کیا تکلیف ہے بولنے کی۔ تمہاری وجہ سے سارے معاملات خراب ہوجاتے ہیں۔احلامچپ چاپ اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا فیصلہ کرنے والی ہیں۔. احلام ایسی ہی ہوگئی تھی اپنے فصیلے کرنے والے کیونکہ وہ جانتی تھی یہاں وہی ہونا ہے جو بہنیں اور ماں چاہیں گی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: