Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 8

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 8

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
ثریا بیگم اس وقت جبار سے یہ بولی کہ میں گھر جانے دیا جائے گا تاکہ ہم بہتر فیصلہ کر پائیں ۔اسپتال میں رہ کر یہ باتیں اور فیصلے نہیں کیے جاتے ۔جبار نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔
یہ لوگ جس وقت گھر آئے احلام کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ ردا صائمہ سلمہ اور سریا بیگم چاروں کمرے میں آئی ۔اس وقت ردا بہت زیادہ غصے میں تھی۔ احرا5م یہ دیکھ سکتی تھی ۔آخر کو ردا احلام کی ہر بات میں موقع ڈھونڈتی تھی کہ اس اس کو موقع ملے اور یہ احلام کو بد نام کر دے. احلام اس وقت خاموش تھی وہ جانتی تھی کہ ثریا بیگم جو فیصلہ کریں گی وہی اس کی زندگی کا فیصلہ ہوگا ۔احلام یہ بھی جانتی تھی کہ اس کی زندگی کا ہمسفر اس کی ماں کی مرضی کا ہی ہوگا۔ اسے زندگی میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ حالانکہ باقی تمام بہنوں کی شادیاں ان کی مرضی سے کی گئی تھی مگر احلام چھوٹی تھی اور چھوٹوں پر ہمیشہ بڑوں کی حکومت ہی رکھی گئی تھی۔ ان سب کے مطابق یہی بات ان کے خاندان میں تھی۔ جس کی بدولت احلام کو ہمسفر منتخب کرنے کا اختیار بھی نہیں دیا گیا تھا۔ احلام معلوم تھا کہ اب ماں جو فیصلہ دیں گی اسے اس فیصلے پر سر جھکنا نہ ہوگا۔
“تم ذرا ہمیں ایک بات بتاؤ ۔بات بات پر کہتی تھی میں نے بلوچستان جانا ہے، میں نے پنجاب میں نہیں رہنا۔ تو یہ بات تھی کہ تم بلوچستان جانا چاہتی تھی۔ احلام مجھے تو شک ہے تمہیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ عمر خان سے تمہارا نکاح ہوچکا ہے جس کی وجہ سے تمہیں بلوچستان کی زبان اور لوگوں میں اتنی زیادہ دلچسپی تھی۔”
ردا ہمیشہ کی طرح جب بھی بولی اس کا دل جلا گئی۔احلام ردا کی بات پر بہت زیادہ غصے بول پڑی۔
” اپنی بکواس و بند رکھا کرو تم ردا۔میں تمہاری باتوں سے بہت زیادہ تنگ ہوں۔ اگر میں بلوچستان جانا چاہتی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں وہاں کسی کو پسند کرتی تھی ۔میں اپنے صوبے کے لیے کام کرنا چاہتی تھیں وہاں کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا چاہتی تھی ۔یہ میری ماں بھی جانتی ہیں اور تم سب بھی۔ یہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ میرا کسی سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔”
” ہاں ہم تو جیسے تمہارے پیچھے پڑے رہتے ہیں ہر وقت ۔ہر چیز کی آزادی دے رکھی ہے۔ تمہیں کیا معلوم ہم سب بہنیں تو شادی کر گئی ہیں، نہ بھائی ہے نا باپ ہے ہو سکتا ہے کہ تم نے اس کو پھسا لیا ہو اور آج وہ ہمارے باپ کا نام لے کر آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ تمہارا نکاح ہوا ہے اس کے ساتھ۔”
” چپ کر جاؤ تم ردا۔ اس وقت تم بات یہ نہیں جانتی کہ تمہارے باپ کے کتنے دوستوں کو یہ بات معلوم ہے کہ انہوں نے احلام کا نکاح عمر کے ساتھ کیا تھا ۔تمہارے باپ نے مجھے نہیں بتایا کہ عمر کا نکاح احلام کے ساتھ ہوا تھا اگر مجھے بتا دیتے تو آج نوبت نہ آتی. مجھے اس وقت آرام سے آرام سے بات کرنے دو.”
” امی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ردا تم اس وقت خاموش ہو جاؤ ۔ہمیں احلام سے بات کرنی ہے ۔یہ وقت زیادہ بولنے کا نہیں بلکہ فیصلہ کرنے کا ہے۔ وہ لوگ باہر روم میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فیصلہ چاہتے ہیں۔ تم جانتی ہو ان کے بیٹے عمر نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر احلام کے نکاح کو ہم نہیں مانتے تو اسی لمحے وہ احلام کو لے جائے گا اپنے گھر ۔ویسے بھی ہوں اپنے سسرالوں میں کیا منہ دکھائیں گے ۔سب جگہ خبروں میں یہ بات آچکی ہے کہ عمر خان کا نکاح احلام سے ہوا ہے ۔سب احلام کو اس کی بیوی مان رہے ہیں ۔ہمارا کیا ہوگا جب ہمارے شوہر اور ہمارے گھر والے پوچھیں گے کہ تم لوگوں نے اپنی بہن کا نکاح کب اور کیسے کیا تھا۔
” صائمہ باجی اس وقت بھی آپ لوگوں کو اس بات کی فکر نہیں کی اگر میری شادی اس شخص سے ہوگئ تو میرا کیا بنے گا ۔آپ جانتی ہیں بلوچستان میں کتنا بڑا سردار ہے وہ۔ اس کے باپ کی کتنی بڑی پارٹی ہے ۔اگر میں شادی کر کے وہاں چلی جاتی ہوں تو میں کیسے وہاں جاکر زندگی گزاروں گی ۔آپ لوگوں کو اس وقت بھی اپنے گھروں کی پڑی ہے۔ یہ نہیں کہ بہن کی زندگی دیکھ لیں۔”
احلام کی آنکھوں میں تحاشہ آنسو آگئے۔ثریا بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور تحمل سے بولی ۔ ثریا بیگم صرف احلام کی نہیں نہیں بلکہ اپنی چار بیٹیوں کی ماں تھی۔ بیٹے کو تو وہ کھو چکی تھی مگر بیٹیوں کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی جس کی وجہ سے ہمیشہ کی طرح انہوں نے احلام کو ہی قربانی کا بکرا بنایا.
” ہماری مجبوری ہے دیکھ احلام خبروں میں یہ بات آچکی ہے کہ تیرا نکاح عمر سے ہو چکا ہے۔ اب لوگ مجھ سے طرح طرح کے سوال کر رہے ہیں کہ احلام کا نکاح کیسے کیا ۔کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شاید بیٹی بھاگ گئی کہ ماں کو مجبورا واپس لانا پڑا۔”
” آپ لوگوں کے منہ نہیں توڑ سکتی ،انہیں جواب نہیں دے سکتی کہ میری بیٹی ایسی نہیں تھی۔ یہ سب کچھ ایک دھوکہ تھا ایک فریب تھا.”
” یہ سب کچھ ایک دھوکہ اور فریب نہیں۔ ان سب کے پاس نکاح نامہ ہے احلام اور تصویریں بھی۔ باباجان نے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری تعلیم ختم ہوتے ہی عمر خان کے ساتھ رخصت کر دیں گے۔”
سلمہ احلام کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔ جبکہ ثریا بیگم نے تینوں کو خاموش کروایا اور خود احلام سے التجا کرنے لگی.
” میں نے بڑی مشکل سے تم سب کی شادیاں کی ہیں۔ بیٹے کو کھو دینے کے بعد بھی میں نے تمہیں پڑھایا لکھایا اس قابل بنایا کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو۔ آج میری عزت داؤ پر ہے۔ اگر تم ہاں نہیں کروں گی تو میں کیا کروں گی ۔لوگوں کو کیا جواب دوں گی کہ میں نے اپنی بیٹیوں کی تربیت کیسے کی ہے ہے ۔تمہارے ساتھ تمہاری زندگی نہیں ہے صرف تمہاری بہنوں کی زندگی بھی ہے۔ تمہاری چھوٹی چھوٹی بھانجیاں ہیں ۔اگر تم ہاں نہیں کرتی اور تمہارے بہنوئی تمہاری بہنوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو کیا کروں گی تم۔”
” امی آپ ہمیشہ مجھ سے ہی کیوں قربانی مانگتی ہیں ۔کبھی مجھے اپنی بیٹی سمجھا ہوتا تو آج ان قربانیوں کی نوبت نہ آتی ۔ہر دفعہ میں ہی خاموش ہو جاتی ہوں۔ کبھی آپ کو اپنے خاندان کے لیے جانا پڑتا ہے تو ہمیشہ قربانی میں نے دی۔ جب بھی خاندان میں کسی کو ضرورت پڑی تو احلام ہے نہ وہ سنبھال لے گی ۔کیوں آخر کیوں۔ میں بھی ایک انسان ہوں میرے بھی جذبات ہیں۔ نہیں کرنی مجھے وہاں شادی ۔میں کیسے عمر سے شادی کر لوں گے اس کو تو جانتی نہیں میں۔ عمر کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں.”
” جب تم جاو گی نہ انکے گھر میں ،تو خود سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ عمر بہت اچھا انسان لگ رہا ہے بہت خوش رکھے گا تمہیں. “
” کہنا بڑا آسان ہے صائمہ باجی ۔میں بھی دیکھوں گی آپ کی تین بیٹیاں ہیں۔ کل جب ان کے ساتھ ایسا ہو گا تو آپ کا دل نہیں دکھے گا ۔آپ کا دل نہیں جلے گا اپنی بیٹی کے دکھوں سے.”
” ہاں تمہارے ساتھ بڑا کوئی اچھا انسان شادی کرے گا ۔شکل دیکھی ہے اپنی۔ اس قابل ہو تم ۔چشمہ تو تمہارا اترتا نہیں اور بڑی آئی ہم سے باتیں کرنے والی۔ شکر کرو کہ اتنا اچھا رشتہ تمہارے لئے ہے ورنہ ہم تو یہ سوچتے تھے کہ تمہارے ساتھ شادی کون کرے گا اور رہی میری بیٹیوں کی بات تو تمہیں بدعا دینے کی ضرورت نہیں۔ میں ان کی شادی وہاں کروں گی جہاں مجھے اچھا لگے گا۔ تمہارے اپنے ہی کارنامے ہیں جو تمہارے آگے آئے ہیں۔ تمہاری اپنی ہی تمام حرکتیں ہیں جس کا خمیازہ تم بھکتو گی ۔”
اس وقت احلام کا دل ٹوٹ گیا تھا۔ ماں خاموش بیٹھی تھی جیسے ہمیشہ خاموش ہوتی تھی ۔حالانکہ وہ احلام کو ڈیفینڈ کر سکتی تھی مگر بڑی بیٹیوں کے آگے وہ بول جائیں یہ یہ بات کبھی ہو نہیں سکتی تھی۔ احلام نے اپنی آنکھیں دو لمحوں کے لئے بند کی اور اپنی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ کیا۔ جب یہاں زندگی میں غم تھے تو سسرال میں بھی غم ہی ہونے تھے۔ احلام نہیں چاہتی تھی کہ زندگی میں آگے غم ہوں۔ احلام میں غم سہنے کی طاقت اب نہیں تھی ۔مگر سب کی نظروں میں احلام نے اپنے لیے جو چیز دیکھی اسے فیصلہ لینا ہی پڑا۔
” ٹھیک ہے آپ ان لوگوں سے کہیں کہ آج ہی نکاح کر جائیں۔ جب کہیں گے شادی کر دیجئے گا آپ لوگ۔ مگر ایک بات یاد رکھیے گا آپ نے ہمیشہ کے لیے اپنی بیٹی احلام کھو دی ہے ۔ویسے بھی میرے ہونے نہ ہونے سے آپ لوگوں کو فرق تو نہیں پڑتا تھا ۔مگر اب میں کبھی زندگی میں آپ لوگوں کی طرف واپس نہیں آؤں گی چاہے میری قبر وہاں ہی بن جائے.”
“ایسی باتیں نہیں کرتے احلام ہمیں پورا یقین ہے وہ تمہیں بہت زیادہ خوش رکھیں گے۔ ہم کہتے ہیں انہیں کے نکاح کا انتظام کر دیا جائے۔ یہی اچھی بات ہے ہم سب کے لئے۔”
” بڑی آئی نہ کرنے والی ۔معلوم تھا مجھے صائمہ باجی کے یہ ہاں کرے گی ۔آخر کو دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے نا ۔اتنا امیر آدمی ہے میں تو کہتی ہوں سیدھا کرکے رکھے اس کو۔ ہم تو کہتے تھے نہ کہ اس کو سیدھا کرنے کے لیے وحشی چاہیے ۔ “
” ردا فضول قسم کی باتیں مت کیا کرو۔ اس کو ویسے کیوں ڈرا رہی ہو تم.”
” میں ڈرا رہی ہوں آپی ۔سردار ہے وہ۔آپ نے نہیں سنا کہ سردار بہت شادیاں کرتے ہیں۔ مجھے تو یقین ہے کہ وہ بھی بہت شادیاں کرے گا ۔چلو کسی کمرے میں پڑی رہی گی ہماری احلام ۔”
” انسان کی آنکھ سے نکلے گئے ہر آنسو کا حساب لیا جاتا ہے۔ اتنی بھی سخت باتیں نہ کرو کہ کل کو تمہاری اولاد پر آئیں اور تم پر آئیں ،تو ان کا حساب بھی مت دے پاو ردا ۔مجھے اتنا تنگ مت کرو کہ میرے دل سے بددعا نکل جائے ۔میں نے بڑا صبر کیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا صبر تم پر بھاری پڑ جائے۔”
” دیکھو کیسی بڑی کرتی ہے ۔ ہم بھی دیکھیں دو دن میں سیدھی نہ ہوگئی تو۔ ہمیں ستایا ہوا تھا نہ دیکھنا کیسے سیدھا کر کے رکھتے ہیں تمہارے سسرال والے تمہیں۔”
” صائمہ ردا کو باہر لے جاؤ۔ اس وقت احلام کو آرام کی ضرورت ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ لوگوں کے سامنے ہی بدتمیزی شروع کردے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو ہم لوگ بد نام ہو جائیں گے ۔چلو ہم لوگ جاتے ہیں اس کو تھوڑی دیر بیٹھنے دیتے ہیں. “
سلمہ ان دونوں کو لئے باہر چلی گئی. جبکہ احلام پیچھے اپنی ہاتھوں کو دیکھنے لگی جو پٹیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ آج احلام نے اپنی قسمت کا فیصلہ کیا تھا۔ زندگی میں احلام کو صرف ایک ہی شخص کا انتظار تھا وہ اپنے ہونے والے شوہر کا۔ مگر آج عمر کو دیکھ کر اسے تمام باتیں دوبارہ سے یاد آرہی تھی جو اس کی بہنیں کہا کرتی تھیں کہ تمہیں سنبھالنے کے لئے ایک وحشی ہی چاہیے ہوگا جو دن رات تمہیں مارے تمہیں سیدھا کرے ۔ احلام سوچ نہیں سکتی تھی کہ بہنوں کی خواہش پوری ہونے والی ہے ۔احلام نہیں جانتی تھی کہ عمر تو اسے رانی بنا کر رکھے گا۔ جس کے پاؤں تلے لوگ ہاتھ رکھیں گے ۔
__________________________________
جبار اور انابیہ دونوں ثریا بیگم کی ہاں کے بعد فورا نکاح کے لیے تیار ہوگئے۔ عمر نے نکاح خواں کو بلایا۔ عون جب پتہ چلا کہ بھائی کا نکاح ہو رہا ہے تو یہ بھاگا بھاگا آیا۔ مگر نکاح میں شامل نہیں ہو پایا۔ نکاح کے لیے عمر فورا ہی باہر گیا اور احلام کیلئے سب سے بڑے مال سے خوبصورت سفید رنگ کا فراک لے کر آیا ۔جیسے دیکھتے ہیں آنکھوں میں ستائش آجاتی تھی۔ جب احلام کو یہ جوڑا دکھایا گیا تو احلام کا پہننے کا بالکل دل نہیں تھا مگر اس نے پہن لیا ۔سفید جوڑا پہن کر ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ چھوٹی سی شہزادی ہو۔
نکاح کا پوچھنے کے لئے جبار اس کے پاس آیا تھا ۔آج جبار کو بے انتہا خوشی ہورہی تھی کہ اس کا بیٹا آج زندگی میں سب سے زیادہ خوش ہو رہا ہے ۔عمر کو تڑپتے دیکھ کر جبار کا دل ہمیشہ ہی اداس رہتا تھا ۔جبار کو علم۔تھا کہ احلام کہاں رہتی ہے مگر وقت سے پہلے وہ عمر کو نہیں بتا سکتا تھا۔ اب وہ احلام سے نکاح کی اجازت لینے آیا تو احلام کو دیکھ کر جبار کو یہی احساس ہوا کہ احلام بہت زیادہ معصوم ہے اور اسے جتنا پیار دے سکتے ہیں اتنا دینا ان کا فرض بنتا ہے۔
انابیہ اس وقت احلام کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔احلام کے کندھے کو اس نے تھام رکھا تھا ۔جب نکاح کی اجازت کا پوچھا گیا تو احلام کا وجود ایک پل کے لئے کانپ گیا۔انابیہ نے احلام کے سر پر پیار دیا اور ہاں کرنے کے لیے کہا.
“احلام ولد عارف خان کیا آپ کو عمرولد جبارخان کے ساتھ حق مہر 50 کروڑ اور سو ایکڑ زمین کے ساتھ نکاح قبول ہے.
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
جبار نے احلام کے سر پر ہاتھ رکھا جیسے کوئی باپ کسی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اس وقت احلام نے پن اٹھا تھا اور اپنے سائن کر رہی تھی۔ یہ احلام کی زندگی بدل دینے والا لمحہ تھا۔ آج عمر نے اپنی رانی کو اپنے نام کرلیا تھا اور جتنا خوش احلام کو عمر رکھنے والا تھا کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ جو بہنیں آج احلام پر ہنس رہی تھی کل وہی اس کی قسمت پر رشک کرنے والی تھیں اور احلام وہ تو اپنی قسمت سے انجان اپنی طرف سے اپنی موت کے پیپرز پر سائن کر رہی تھی۔
نکاح کے فورا بعد سب لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔عمر نے ثریا بیگم سے اجازت چاہی کہ وہ احلام سے ملنا چاہتا ہے.
اجازت ملنے پر عمر احلام کے کمرے کی طرف آیا ۔صائمہ احلام اور عمر کو اکیلا ملنے کے لیے چھوڑ گئی۔
احلام اس وقت اپنے نکاح کے جوڑے میں بیٹھی ہوئی تھی اور انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ احلام ہی ہے. احلام سفید رنگ کے فراک میں چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی۔ اس وقت اس کے چہرے پر خوشی کی کوئی بھی رمک نہیں تھی۔ اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والا عمر تھا۔ عمر کے ہاتھ میں خوبصورت سرخ رنگ والا ڈوپٹہ تھا
سرخ رنگ کا دوپٹہ اس نے آتے ہی آحلام کے سر پر دیا ۔عمر احلام کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔عمر اور احلام دونوں اس وقت کمرے میں اکیلے تھے۔ نکاح کے بعد ان دونوں کو کمرے میں اکیلے ملنے کیلئے احلام کی بہن چھوڑ کر گئی تھی۔ احلام اس وقت بہت زیادہ اداسی تھی۔ یہ نکاح اس کی مرضی سے نہیں ہوا تھا۔ آج بھی اس کی ماں نے اسے اسے مجبور کیا جیسے ہمیشہ سے کرتی آئی تھی۔ آج بھی احلام نے اپنی ماں کے آگے سر جھکا لیا تھا احلام عمر کو دیکھ رہی تھی۔ اتنا شاندار شخص قسمت میں کیسے ہو سکتا تھا یہ تو قسمت کا دھوکا تھا جس نے ہمیشہ اس سے خوشیاں چھین لی تھی۔
عمر احلام کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر بہت زیادہ خوش ہوا ۔احلام نے عمر کی طرف دیکھا تو ہیزل گرین آنکھوں سے خوف آنے لگ گیا ۔عمر نے احلام کہ ہونٹوں کے اوپر کنارے پہ ایک تل دیکھا جو اسے ہمیشہ سے بہت پسند تھا اور عمر کی شدید خواہش تھی احلام کے اس تل کو اپنے ہاتھ سے چھوئے۔ آج یہ بہت قریب سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ احلام ابھی عمر کو دیکھ رہی تھی کہ احلام کے علم میں آئے بغیر عمر جھکا اور اس کے تل پر پیار دیا.
احلام عمر کی اس اچانک حرکت پر بہت زیادہ گھبرا گئی اور پیچھے ہوئی جبکہ عمر ہنسنے لگ گیا اور احلام کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا.
احلام اس وقت عمر کے چہرے پر پھیلی خوشی کو دیکھ رہی تھی عمر نے دوبارہ آگے جھک کر اس کی پیشانی پر پیار دیا جب احلام نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
” احلام شہزادی ایسی باتیں نہیں کرو۔ دیکھو میں جانتا ہوں ۔تمہرے لیئے یہ سب چیزیں بہت اچانک ہیں۔مگر تمہیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ میں وہی عمر ہوں جو تمہارے ساتھ چھ سال پہلے سے ہے ۔تمہاری ہر ایک بات میں جانتا ہوں احلام ۔تمہارا ہر ایک دکھ ہر ایک خوشی میں نے دیکھی ہے۔ میرے لئے ایک کھلی کتاب ہو تم ۔تمہارے دل پر لگی غم کی ضربوں کو میں خوشی سے بدل دوں گا میری جان ۔تم جانتی ہو میرا محل تمہارا منتظر ہے اپنی شہزادی کا. “
” یہ سب ایک فریب ہے عمر خان ۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ خواب میں آنے والا شخص حقیقت میں آجائے۔ یہ سب کچھ میری قسمت مذاق کر رہی ہے میرے ساتھ۔ ہمیشہ سے احلام کی قسمت ایسے مذاق کرتی ہے تو آج وہ خوشی کیسے دے سکتی ہے”
” تم نہیں جانتیں کہ تمہاری اہمیت کیا ہے. تمہاری ایک جھلک دیکھنے کو تمہیں چھونے کو میں نے دن رات دعائیں مانگی ہیں۔ تم جانتی ہو جب میری زبان سے کوئی خواہش نکلتی تھی تو اس کے ساتھ تمہاری یاد ضرور ہوتی تھی۔ میں نے آج تک کسی خوشی میں حصہ نہیں لیا جب کوئی تمہیں خوشی نہیں سکتا تھا.
” کوئی کسی سے اتنی محبت نہیں کرتا عمر۔یہ تو سب مذاق کی باتیں ہیں جیسے میری بہنیں کہتی ہیں کہ جب میں تمہارے گھر آ جاؤں گی نہ تو میری قسمت تمہارے گھر کو تباہ کردے گی اور دیکھنا تم مجھ سے کتنی زیادہ نفرت کرو گے محبت تو کہیں دور رہ جائیگی.”
عمر نے احرام کی آنکھ سے نکلنے والے آنسو کو اپنے ہاتھ سے صاف کیا احلام کا چشمہ اس وقت عمر نے اتار دیا اور جھک کر احلام کی آنکھوں پر پیار دیا۔ احلام نے یہ ہاتھ عمر کے کندھے پر رکھا دونوں ایک دوسرے کے بے حد نزدیک تھے ۔عمر کی زبان سے نکلنے والے الفاظ احلام کے لئے بہت زیادہ خاص تھے۔زندگی میں علاوہ کسی نے آحلام کو حوصلہ نہیں دیا تھا نہ کسی نے اہمیت نہیں دی تھی۔ چاہے وہ خاندان والے ہوں یا دوست ہوں۔
” شہزادی تمہیں پتا ہے میں نے زندگی میں سیکھا ہے کہ جب آپ کو کوئی برا کہتا ہے نہ تو آپ میں کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جس کی بدولت وہ برا کہہ رہا ہے کیونکہ آپ کے پاس کچھ ایسی اچھائی ہے جو اس شخص کے پاس نہیں. میری جان تم اپنی اہمیت نہیں جانتی تم جتنی خوبصورت ہو تم جتنی عزت والی ہو تم ،جتنی قسمت والی ہو یہ لوگ کیا جانیں ۔جن لوگوں نے تمہیں دکھ پہنچائے ہیں نہ ،تم کہو تو آج میں انکی سانس چین لوں. عمر خان تمہارے ایک اشارے پر کچھ بھی کر سکتا ہے اپنی جان بھی تمہارے قدموں تلے رکھ سکتا ہے میری جان۔”
عمر نے اس کی تھوڑی اپنے ہاتھ سے پکڑی اور اس کا چہرہ اوپر کیا ۔احلام کو اس وقت عمرکا چہرہ اپنے بے نزدیک نظر آرہا تھا ا۔پنی خالی آنکھوں سے اس نے عمر کی بھر پور زندگی سے بھری آنکھیں دیکھیں تو اپنی قسمت پر رونا آگیا ۔کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ عمرخان کو ایک خالی انسان کیا دے سکتا ہے۔ خوشیاں کبھی اس کی زندگی کا حصہ نہیں رہی ۔
زندگی بدلنے والی تھی قسمت کے کچھ خالی صحفے مکمل ہونے تھے مگر کیسے
_______________________________
کیسی لگی سب کو آج کی قسط ۔اپنے لائک اور کمینٹ دیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: