Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode 9

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – قسط نمبر 9

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
سب بچے اکٹھے بیٹھے ہوئے ۔ سب کو اس بات کا زیادہ دکھ ہوا کہ یہ لوگ عمر کے نکاح میں شامل نہیں ہوسکے ۔عون تو نکاح میں شامل ہونے کے لئے نکل گیا مگر وہ وقت پر نہیں پہنچ پایا۔ سب بیٹھے ہوئے تھے اور شادی کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔جبار نے انہیں بتایا تھا کہ شادی ایک ہفتے بعد ہے۔ سب لوگ بہت زیادہ پریشان تھے کی تیاری کیسے ھو گی۔ عنایہ باتیں کر رہی تھی اسی وقت اس کا فون بجا۔
اپنے فون کو لے کر یہ سائیڈ پر ہوگئی ۔فون پر لکھا ہوا تھا کہ سلیمان کی کال ہے۔ اسنے جیسے ہی فون اٹھایا آگے سے سلیمان نے میٹھی زبان میں سلام کیا۔
” بڑے عرصے بعد تم نے میری کال اٹھائی۔”
“تمہاری کال اٹھانے کے لئے مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بولو کیا کام ہے ۔”
“تم جانتی ہو مجھے تم سے ایک ہی کام ہو سکتا ہے ۔پچھلے دو سال سے میں تم سے بار بار ایک ہی بات کرتا ہوں اور تم مجھے انکار کر دیتی ہو۔”
میں جانتی ہو سیلمان خان کہ تم بدلہ لینے کے لئے مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو تمہارا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ میں تمہیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں کبھی اپنی حریف سے شادی ہر گز نہیں کروں گی۔”
” تو مجھے اپنا حریف جانتی ہوں حالانکہ میں تمہارا حریف نہیں تمہارا ہمدرد ہوں اگر تم سمجھ سکو تو ہو“
” ہمدرد تم جیسے انسان کبھی بھی نہیں ہو سکتے ۔پہلے بات کر لیا کرو پھر اس کا جواب بھی ایکسپیکٹ کیا کرو ۔میں جانتی ہوں کہ تم میرے پیچھے صرف اسی لیے ہوں کہ مجھے شکست دے سکو۔ مگر سلیمان خان تو ایک بات یاد رکھو عنایہ کبھی کسی سے شکست نہیں کھاتی ۔میں اسی شخص سے شادی کرو گی جو مجھے پہلی نظر میں ہی اچھا لگے گا۔”
” یہ بڑی عجیب اور فضول قسم کی بات ہے کہ پہلی نظر میں ہی جو شخص اچھا لگے گا تم نے اسی سے شادی کرنی ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی تمہیں اچھا ہی نہ لگے تو پھر کیا کرو گی ساری زندگی کنواری ہی بیٹھی رہو گی. “
” سلیمان خان فون بند کرو میں اس وقت بہت زیادہ مصروف ہوں۔ ہمارے گھر میں فنکشن ہے اور مجھے شادی کی تیاری کرنی ہے۔ مجھے بار بار کال کرکے تنگ مت کرنا ورنہ تمہارا نمبر بلاک لسٹ کرنے میں مجھے دو سیکنڈ نہیں لگیں گے۔”
” اگر تم نے مجھے بلاک لسٹ کرنا ہوتا تو دو سال پہلے کردیتی میں یہ بات جانتا ہوں. “
“اچھی خوش فہمی ہے مگر میں یہ بات جانتی تھی سیلمان کے اگر میں نے تمہیں بلاک کر بھی دیا تو تم پھر بھی میرا نمبر ڈھونڈ لو گے۔ اس لیے بلاک کرنے کا فائدہ ہی نہیں۔”
” ہماری کتنی اچھی بونڈنگ ہے نہ تم ابھی بھی اس بات کو نہیں مان رہی۔ اگر تم مان جاؤ تو زندگی بہت زیادہ آرام سے گزرے گی. خیر عمر کی شادی پر تم سے ملاقات ہونی ہے تم جانتی تو ہو کہ عمر میرا کتنا اچھا دوست ہے. “
” یہی تو پچھتاوا ہے کہ میرے بھائی نے تم جیسے انسان کو دوست بنایا ہے۔ جس دن وہ تمہارے حقیقت سے واقف ہو جائے گا اس دن ہی تم سے تمام تعلقات توڑنے گا. آئندہ مجھے کال کر مت کرنا.
عنایہ نے یہ کہتے ہی فون بند کر دیا جب سے عنایہ نے سلیمان خان کا کیس لڑا تھا تب سے یہ اس کے پیچھے تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ سلیمان خان نے کبھی اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی تھی یا کچھ ایسی بات جس سے عنایہ تکلیف پہنچی ہو۔ وہ بس ایک ہی بات کہتا تھا کہ مجھ سے شادی کر لو مگر عنایہ کبھی بھی اس بات کے لئے راضی نہیں ہوئی۔ سلیمان کے بارے میں بہت ساری باتیں مشہور تھی جس کی وجہ سے اس کے کردار کے بارے میں عنایہ شور نہیں تھی ۔عمر کی دوستی سلیمان سے سیاست کی وجہ سے تھی۔ دونوں ایسی پارٹی میں تھے جن کو آپس میں سپورٹ کرنا ضروری تھا ۔اسی لیے سلیمان سے عمر کی دوستی ہوگئی ۔عمرسلیمان کو اچھے طریقے سے جانتا تھا اسی لیے سلیمان عمر کی طرف آتا جاتا تھا مگر عنایی اس سے بہت زیادہ اکھڑی اکھڑی رہتی تھی.
آئلہ جو ہاسٹل سے گھر واپس آ گئی تھی اس وقت اپنے بھائی کے نکاح کا سن کر تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ عمیر اس کو یہی بتا رہا تھا کہ ایک ہفتے میں شادی کی تیاری کیسے کریں گے۔ بچوں نے تو مکمل پلان بنایا ہوا تھا کہ کیسے ہر فنکشن کو کرنا ہے مگر جبار نے انہیں کہہ دیا تھا کہ ہر چیز عمر کے مطابق ہی کریں گے .
_________________________________
مہندی سپیشل
عمر نے مہندی کرنے سے انکار کردیا۔مہندی پر لگنے والا سارا خرچہ عمر نے غریبوں میں بانٹ دیا۔احلام نے بھی مہندی سے انکار کیا مگر گھر والوں نے گھر میں ہی چھوٹا سا فنکشن کر لیا۔
احلام پیلے اور سبز رنگ کے خوبصورت لہنگے میں ملبوس تھی۔اس وقت بہنیں اپنے شوہروں سمیت سٹیج پر آکر اسے مہندی لگا کر جا رہی تھی۔ہر کوئی اس کی قسمت پر رشک کر رہا تھا۔احلام اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھ رہی ھی جس کا رنگ بے حد گہرا آیا تھا ۔
“دیکھو تو ہماری احلام نے اتنے بڑے سیاسسدان کو پھنسا لیا اور کسی کو بھنک بھی نہ لگنے دی۔احلام ہمیں بھی تو پتا کہ کیسے تیری ملاقات عمر خان سے ہوئی۔”
ایک کزن نے اس پر طنز کیا۔ احلام کے کپڑے دیکھ کر ہی ان لوگوں کا سینہ جل گیا تھا۔ احلام اس وقت اتنی خوبصورت لگ رہی تھی سب لوگ یہی دیکھ رہے تھے ۔
” میرا خیال ہے کہ تم لوگوں کو شرم کرنی چاہئے ۔میں دلہن بنی بیٹھی ہوں۔ مجھ سے اس قسم کے وحیات اور بے ہودہ سوال کرتے ہوئے تم لوگوں کو شرم آنی چاہیے ۔میں اس وقت کچھ بول نہیں رہی اس کا یہ مطلب نہیں میں جواب نہیں دے سکتی۔ تم سب کے لئے عرض ہے کہ میرا نکاح سے چوبیس سال پہلے سے ہو چکا تھا۔عمر سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو اس کو جانتی بھی نہیں تھی جس دن میرا ایکسڈنٹ ہوا تو مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ میرا نکاح عمر خان سے ہوا تھا“
” احلام ذرا زبان بند رکھو ۔دلہن بنی بیٹھی ہو ایسی باتیں کرو گی تو ہماری لوگوں کے سامنے کیا عزت رہ جائے گی۔ جو باتیں کرتے ہیں کرنے دو“
” کیوں صائمہ باجی میں کیوں لوگوں کو باتیں کرنے دوں۔ آخرکیوں ۔ ۔ اگر میری شادی کسی امیر گھر میں ہو رہی ہے تو ان لوگوں کو کیا تکلیف ہے۔ میں اپنی مرضی سے شادی نہیں کر رہی۔ اب ان کو حقیقت کون بتائے ۔خیر تھوڑی تھوڑی دیر تک ان لوگوں نے دوبارہ یہ بکواس شروع کی تو میں لحاظ نہیں کروں گی کہ میں کہاں بیٹھی ہوں. “
” تم سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ ماں کی تربیت کو ڈوبا دینا آج ایسا کرنا تم“
احلام کا اس وقت رونے کا دل چاہ رہا تھا آخر تھوڑی دیر بعد اس کی خواہش پوری ہوگئ اور اسے کمرے میں چھوڑ دیا گیا۔ احلام کمرے میں آتے ہی لیٹ گئی نا اس نے مہندی کے کپڑوں کو تبدیل کیا اور نہ ہی کرنا چاہتی تھی ۔ویسے بھی آج اس گھر میں احلام کی آخری رات تھی. احلام کو نہ کسی نے کھانے کا پوچھ اور نا ہی اس نے کسی سے کہا کہ مجھے کھانا دے دو۔ ویسے بھی جب سب لوگ اکھٹے ہوتے تھے تو احلام کو بہت کم ہی بلایا جاتا تھا آو ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔ زیادہ تر احلام اپنے کمرے میں بند ہوجاتی بہنوں کو نہیں معلوم تھا کہ وہ ان کی طنزیہ نظروں سے چھپنے کے لئے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ کبھی کبھی وہ اس کا اتنا زیادہ دل دکھا دیتی کہ احلام کا دل کرتا وہ ان جیسی بہنوں سے کبھی زندگی میں نہ ملے جب بھی احلام شکایت کرتی تو آگے سے ایک ہی جواب سننے کو ملتا کہ ہماری شوہروں کے سامنے بےعزتی کروا دیتی ہو ۔ جتنی عزت احلام سب کی کرتی تھی کوئی کر ہی
نہیں سکتا تھا۔
رات کا ایک بج رہا تھا احلام کی آنکھ کھٹکنے کی آواز سے کھلی۔
احلام اٹھ کر بیٹھی اور کمرے کی لائٹ آن کرنے کیلئے بیڈ سوئچ پر ہاتھ مارا تو کمرہ روشن ہوگیا. کمرے کے باہر دروازے سے آتی آوازوں سے احلام کو پتہ چل رہا تھا کہ باہر کوئی آیا ہے.
” آنٹی میں بس تھوڑی دیر کے لئے اس سے ملوں گا ۔مجھے معلوم ہوا کہ اس نے کھانا نہیں کھایا ۔میں اس کو کھانا کھلا کر واپس چلا جاؤں گا۔ میرے ساتھ میرا بھائی بھی آیا ہے” بیٹا ہم اس لیے اعتراض کر رہے تھے کہ گھر میں تمام مہمان آئے ہوئے ہیں ذرا اچھا نہیں لگتا. “
” آپ کسی کو پتا مت چلنے دیجئے گا ۔میں بس احلام کو کھانا کھلا کر چلا جاؤں گا۔ آپ پریشان مت ہوں احلام ویسے بھی وہ میری بیوی ہے۔ میرے لیے کوئی رسم اہمیت نہیں رکھتی میں تو بس انتظار کر رہا ہوں کل کا ۔اس کے بعد ان سب لوگوں کی زبانوں پر ویسے بھی تالا لگ جانا ہے. “
دروازہ کھلا اور اندر آنے والا عمر تھا احلام کا ڈوپٹہ سائیڈ پر پڑا ہوا تھا . احلام نے فورا ڈوپتے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور گلے میں ڈال لیا .
” السلام علیکم کیسی ہو تم احلام “
“. گھر میں بہت سارے مہمان بھرے پڑے ہیں کسی نے تمہیں ایسے میرے پاس دیکھ لیا تو ہزار طرح کی باتیں بنائیں گے. “
” بات بناتے ہیں تو بنانے دو۔ مجھے فون پر بتایا کسی نے کہ تم نے کھانا نہیں کھایا“
” تمہیں کس نے بتایا عمر کے میں نے کھانا نہیں کھایا ۔جہاں تک مجھے معلوم ہے میری بہنوں میں سے کوئی اتنا رحم دل ہے نہیں کہ وہ تمہیں فون کرکے کہے کہ عمر احلام کھانا نے کھانا نہیں کھایا. “
“بے فکر رہو تمہاری بہنیں نا سہی میرے اپنے بہت سے بندے ہیں جنہیں اپنی ملکہ کی بے انتہا فکر ہے۔ میں تمہارے لیے تمہارا فیورٹ مٹن پلاو لایا ہوں تمہیں یہ پسند ہے نا بہت زیادہ. “
عمر اس کے پاس بیٹھا اور اپنے سامنے ڈبے کے اندر سے پلاو نکالنے لگا ۔پلاو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ گھر میں بنایا گیا ہے .
” ہم آج شام کو ہی اسلام آباد پہنچے ہیں۔ کل ہم یہاں سے ہی بارات لے کر آئیں گے اور کل ہم یہاں ہی رکھیں گے۔ پوسوں بلوچستان کے لیے نکلیں گے۔ کافی تھک جاتے ہم ایک دن میں اس لیے ہم لوگ آج ہی آ گئے۔ ماما نے اسپیشلی تمہارے لیے پلاو بنا کر بھیجا ہے ۔بہت اچھا بناتی ہیں وہ۔ کہہ رہی تھی کہ میری نشار(بہو) کو کہنا کہ اس کی ماں نے اس کے لئے پیار بھیجا ہے۔”
عمر نے یہ ڈبہ کھولا اس کے ساتھ ہی نیچے ایک اور ڈبہ تھا عمر نے وہ بھی کھولا اس کے اندر سیلڈ اور کافی ساری چیزیں پڑی ہوئی تھی جسے دیکھ کر ہی احلام کا دل خراب ہوگیا.
” عمر میں بہت کم کھانا کھاتی ہوں یہ سیلڈ سپیشلی میں بالکل نہیں کھاتی۔”
” احلام تم نے اپنا حال دیکھا ہے کیا بنایا ہوا ہے ۔چہرہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے کتنے سالوں سے تم سوئی نہیں ہو میری جان۔ ایسے نہیں کرتے تم کھاؤ گی نہیں تو کیسے تمہاری صحت بنے گی۔ میں تمہاری صحت پر ہرگز کمپرومائز نہیں کرسکتا“
” تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے عمر کے تم نے بیمار بندے سے شادی کی ہے ۔ عمر نے مجھے بہت ساری چیزوں سے منع کیا ہے ڈاکٹر نے۔میں بہت ساری چیزیں نہیں کھا سکتی۔مجھے سٹمگ ایشو ہے“
” میں جانتا ہوں کہ تمہیں دودھ سے بھی الرجی ہے اور دودھ سے بنی ہر چیز سے. اس کے علاوہ تم بٹر نہیں کھاتی اور بھی بہت کچھ۔ تمہارے بارے میں کسی چیز سے انجان نہیں۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تمہاری چشمے کا نمبر مائنس 6 ہے. “عمر نے اپنے ہاتھوں میں چاول اٹھائے اور احلام کی طرف بڑھائے ۔جبکہ احلام اپنے بارے میں انفارمیشن عمر کے منہ سے سن کر حیران رہ گئی” میں تمہارے بارے میں ہر چیز جانتا ہوں کہا تھا نہ کھلی کتاب ہو تم میرے لئے میری جان. تمہاری صحت میرے لئے سب سے زیادہ اہم ہے ۔اس کے لیئے چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے میری جان۔ آرام سے کھانا کھاؤ ۔تمہیں بہت جاگنا ہے کل۔ معلوم ہے ہمارے ہاں بہت سی رسمیں ہوتی ہیں جن کو نئی بہو نبھاتی ہے۔ تم تو بڑی سردارنی ہو۔ تمہیں تو بہت سارے کام کرنے ہے ۔کل تمہاری بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوگی کیسے تم اتنا وقت گزاروں گی“
” عمرخان میری اتنی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔میں عادی نہیں ہوں ۔مجھے عجیب لگتا ہے جب تم میری اتنی فکر کرتے ہو. “
احلام نے بڑی مشکل سے عمر کے ہاتھ سے نوالہ کھایا اسے بڑا عجیب لگ رہا تھا کسی کے ہاتھ سے نوالے کھانا۔ کبھی بچپن میں ماں نے اپنے ہاتھوں سے نوالے کھلائے تھے یا صائمہ اسے کبھی اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا دیا کرتی تھی. احلام کو عمر ایسے ہی ٹریٹ کر رہا تھا جیسے یہ چھوٹی سی بچی ہو اور عمر اسے ڈانٹ کر کھانا کھلا رہا ہوں ۔شادی کے اس ایک ہفتے کے فاصلے میں عمر نے اتنی دوستی احلام سے بنا لی تھی کہ وہ اس سے آرام سے بات کرلیتی تھی عمر اسے بہت بار شاپنگ پر بھی لے کر گیا تھا اور راستے میں اسے کئی بار کھانا بھی کھلایا تھا۔احلام اس سے فری نہیں ہونا چاہتی تھی مگر عمر کے رویے نے مجبور کر دیا کہ وہ عمر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ مگر عمر جب وہ بہت زیادہ possesive ہوتا تو احلام کو اس سے جڑ ہوجاتی.
” احلام تمہیں معلوم ہے زیارت میں ہر جگہ پر ایک ہی بات جل رہی ہے کہ شہزادے عمر کی شادی ہے. “
” زیارت شہر کیسا ہے۔ مجھے دیکھنے کا بہت شوق تھا وہاں جب پہلی برفباری ہوتی ہے نہ تمہیں ہمیشہ دیکھا کرتی تھی کہ کب ہوتی ہے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میں زیارت میں جاؤں. “
میری جان تمہاری خواہش پوری ہو جائے گی ۔وہاں ہمارا زرتاش محل ہے۔ “
” میں ایک بہت ٹوٹی بکھری انسان ہوں اور خوفزدہ جسے دنیا سے خوف آتا ہے نہ جانے تم مجھے کیسے اپناو گے. “
” میں تمہیں اپنا چکا ہوں میری جان۔ بہت جلد تمہیں اس بات کا علم ہو جائے گا کہ عمر خان کی زندگی میں تمہاری کیا حیثیت ہے عمر تمہارے بغیر کچھ نہیں میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے یہ تمہارے پاس پڑا ہے اس کو پیو. “
عمر نے اسے مالٹے کا جوس دیا جو اس نے بڑی مشکل سے ختم کیا اس کے ساتھ ہی عمر نے اسے گولی بھی دی جس سے اس کے سر پر درد ٹھیک ہوجاتا ۔تھوڑی دیر میں احلام سو گئی اور عمر کمرے سے باہر نکل گیا ۔عمر آج کی رات ہے احلام کو سکون سے سوتے دیکھنا چاہتا تھا عمر کو خبر دینے والا کوئی نہیں تھا بلکہ احلام کی ہر تکلیف کا علم عمر کو خود ہی ہو جاتا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: