Ahlaam Khwab Ishq Novel Hifza Javed – Episode Last 23

0
احلام خواب عشق از حفضہ جاوید – آخری قسط نمبر 23

–**–**–

( عشق میں مرجاواں سیزن 2 )
بارات حورین کو لیکر واپس آ چکی تھی احلام سب سے پہلے لائن میں کھڑی ہوئی تھی اس نے ہی ان دونوں کا استقبال کیا تھا یعنی عون اور حورین کا ۔عمر پیچھے کھڑا ہوا تھا ایک ہاتھ احلام کی کمر پر رکھا ہوا تھا تاکہ یہ آرام سے کھڑی ہو پائے کیونکہ ابھی اسکے تانکے کھلے تھے اور یہ صحیح سے کھڑی نہیں ہو پاتی تھی ۔احلان بہت پیاری لگ رہی تھی بالکل دلہن کی طرح یہ تیار ہوئی تھی۔ سب لوگ حورین کو لے کر جیسے ہی کمرے میں گئے تو احلام اور آئلہ دونوں دروازے کے پاس کھڑی ہوگئ ۔
“ہمارا نیگ دیں مسٹر عون خان”
آئلہ نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔
عون نے اپنا والٹ شرافت سے نکالا اور آئلہ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
“بڑے ہی شریف واقع ہوئے ہیں ہمارے عون محترم۔چلو آئلہ زیادہ تنگ نہیں کرو تم میرے ساتھ آو۔”
فون احلام کو سلوٹ کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
حورین اس وقت خاموش بیٹھی اپنے لب کچل رہی تھی۔
“کیسی ہو حورین عون خان۔”
“میں بلکل ٹھیک ہوں عون۔۔۔۔۔۔۔”
“حورین کے کانپتے ہوئے ہاتھ کو عون نے اپنے لبوں سے لگایا۔”
“تم ڈر رہی ہو حوری۔یار میں تو تمہیں پچپن سے جانتا ہوں ۔ہم میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو چھپی ہوئی ہو۔”
حورین نے آگے بڑھ کر عون کے سینے میں سر چھپا لیا۔
فون نے اس کے سر پر پیار دیا اور اپنی پباہوں میں چھپا لیا۔
__________________________________
عمر اپنے ان دشمنوں کو آج ختم کرکے آیا تھا جن کی بدولت اس نے اپنی پہلی اولاد کھو دی تھی ۔عمر جب گھر آیا تو احلام عمیر کے ساتھ بیٹھ کر کوئی چیز ڈسکس کر رہی تھی۔ عمر کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا احلام نے جب دیکھا تو اس نے کوئی ریکشن نہیں دیا کیونکہ احلام عادی ہو چکی تھی۔اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ویسے بھی اسے عمیر نے بتایا تھا کہ آج بھائی ان لوگوں کے پاس جا رہے ہیں جن کی وجہ سے احلام نے اپنا بچہ کھو دیا اس لیے احلام کو بالکل بھی دکھ نہیں تھا عمر نے ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔
” احلام مجھے چائے پلا دو اچھی سی۔”
“میں احلام سے کہتی ہوں آپ کے لئے چائے لے آتی ہے ۔جاو کمرے میں جاکر فریش ہو جاو ۔”
“میں ٹھیک ہوں بالکل یاد ہے نا تم نے آج میرے ساتھ جانا ہے میری الیکشن کی کمپین شروع ہونے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ گھروں میں تم میرے ساتھ دو ۔الیکشن کمپین کو چلانے میں آخرکار میرے سردارنی ہو جب تم میرے ساتھ کھڑی ہو گی تو لوگوں کو اعتبار ہوگا میرا تم نے آج کے بعد میرے ساتھ میرے ہر کام میں ساتھ دینا ہے احلام۔”
” عمر میں تو شروع سے ہر کام میں ہی شامل ہوں۔ میں نے بابا سے بات کی ہے بابا کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ جائیں گے اور ماما بھی تیار ہیں ہم لوگوں کے گھروں میں جائیں گے آپ پریشان مت ہوں جیسے وہ آپ کے لوگ ہیں ویسے ہی میرے بھی لوگ ہیں ان کی پریشانی میری پریشانی ہے اب جاو چینج کرو۔ میں چائے لے کر آتی ہوں کمرے میں۔”
وقت بہت کچھ بدل کر لے گیا احلام وہ پہلے والی احلام نہیں رہی تھ۔ی عمر نے اس کو بزی کرنے کے لیے اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا یہ سیاست میں حصہ نہیں لیتی تھی مگر لوگوں کے مسائل دیکھنے میں عمر کا ساتھ ضرور دیتی۔ عمر جب اس کے سامنے کسی کو سزا دیتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔یہ آنکھیں بند کر کے رخ بدل دےتی کیونکہ یہ عمر پر اندھا اعتبار کرتی تھی کہ عمر کوئی بھی چیز غلط نہیں کرے گا۔
عنایہ کے ہاں خدا نے دوبارہ ایک بیٹا دیا تھا۔عنایہ بہت زیادہ اکیلی ہو گئی تھی مگر اس نے سلیمان کو سزا تو دینی تھی سلیمان آج بھی اپنی حویلی میں تھا عمر نے اس کو جو سزا دی تھی وہ یہ تھی کہ اپنی پارٹی سے عمر نے سلیمان کو نکال دیا تھا سلیمان اپنا بزنس دیکھتا تھا مگر سلیمان کی زندگی بالکل خالی ہوگئی تھی۔
________________________________________
دس سال بعد
احلام اس وقت نیند میں بالکل پاگل ہو رہی تھی کیونکہ بچوں نے اس سے گھن چکر بنا رکھا تھا ۔عمر بھی گھر نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے احلام کو زیادہ غصہ آیا ہوا تھا عمر اس وقت صوبے کا گورنر تھا جس کی بدولت عمر کے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہوتا مگر وہ کوشش کرتا ہے کہ احلام کے ساتھ بچوں کو سنبھالے ۔
خدا نے احلام کو پانچ بچے دیے تھے ۔عمر نے اس کی ہر خواہش پوری کی تھی ۔ احلام کے ہاں سب سے پہلے ایک جڑواں بیٹا بیٹی پیدا ہوئے اس کے بعد احلام کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوئے تھے تینوں ہی احلام کے بہت زیادہ لاڈلے تھے۔احلام زندگی میں اتنی زیادہ مصروف ہو چکی تھی کہ کسی فضول بات کے لئے احلام کے پاس بالکل بھی وقت نہیں تھا عمر اس کی ہر خواہش پوری کرتا سب گھر والے اس کی ہر بات مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہی۔ بچوں میں گھل مل کر احلام بھول گئی تھی کہ اس کی پیچھے کی زندگی کیسی تھی۔ عمر نے اس کو بچوں میں اتنا مصروف کردیا ۔احلام زندگی میں واپس آ چکی تھی عمر جانتا تھا کہ احلام کو بچوں سے بہت زیادہ لگاؤ ہے اس لیے اس نے پوری کوشش کی کہ وہ بھی بچوں کا پورا ساتھ دے پائے ۔
اپنے چھوٹے دو سالہ بیٹے کو تھامے ہوئے احلام دروازے پر آئی جہاں عمر کھڑا ہوا تھا۔ احلام نے دروازہ کھولا تو عمر ہنستا ہوا نظر آیا اور احلام کو اپنے ساتھ لگا کر اس کی پیشانی چامی پھر اپنے بیٹے ابوبکر کا چہرہ چوما۔آغا جان کو گزرے بہت سال ہوگئے تھے۔ ۔ان کے جانے کے بعد عمر نے اپنے بیٹے کا نام بھی ابو بکر رکھا۔عون کا ایک بیٹا اور ایک ہی بیٹی تھی۔عمیر کی شادی عرش سے ہوئی تھی۔دونوں کی ایک ہی بیٹی تھی جبکہ آئلہ کی شادی سارہ کے ایک بیٹے سے ہوئی جو آئلہ کو کر ملک سے باہر چلا گیا۔
جبار اب اپنے بیٹے عمر کو سرداری دینا چاہتا تھا مگر عمر ہر بار یہ کہہ کر انکار کر دیتا کہ آپ ہیں تو ہماری کوئی ضرورت نہیں۔
“کیسا دن گزرا۔”
احلام نے عمر کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“بہت عجیب ۔میں ایک بل پاس کروانا چاہتا ہوں اپنے غریب لوگوں کے لیئے۔اس بل میں مفت تعلیم اور غریب عوام کے لیئے بہت ساری سہولیت ہیں۔بہت سارے مخالفین ہیں جو یہ سب نہیں ہونے دینا چاہتے۔۔”
احلام نے عمر کا سر دبانا شروع کیا۔احلام کی آنکھیں اب سبز ہی رہتی۔ کوئی پوچھتا تو یہ کہہ دیتی لینس لگائے ہیں۔
“سب ٹھیک ہوگا عمر۔عون کل جارہا ہے لوگوں سے ملے گا مجھے یقین ہے کہ لوگ اس کے بات ضرور مانیں گے ہم ان کی بھلائی کے لیے ہی کام کر رہے ہیں ورنہ آپ اپنے طریقے سے سب کچھ کرئے گا۔”
“امید تو ہے کہ سب ٹھیک ہوگا۔احلام میرے سنے پر سر رکھو مجھے سکون ملے گا۔”
احلام لیٹی اور جھک کر عمر کے سنے پر سر رکھ گئی۔ابھی ایسی ہی حیسن تھی ان احلام کے لیئے۔
_______________________________________
سلیمان اپنے بیٹوں سے ملنے آیا تھا۔عنایہ نے اپنے بیٹوں کو یہی بتایا کہ بابا بزی ہوتے ہیں اس لیئے ہمارے ساتھ نہیں رہتے۔
“ماما بابا کے ساتھ جانا ہے مجھے۔”
نہیں زین بیٹا ہم بعد میں جائیں گے۔بابا بھی ہوتے ہیں نہ۔”
سلیمان جو ماں بیٹے کی بحث سن رہا تھا زین سے مخاطب ہوا۔
“بیٹا جاو تم اندرجاو۔ میں نے ماما سے کچھ بات کرنی ہے۔”
زین اندر چلا گیا تب سلیمان آگے آیا اور عنایہ کا ہاتھ تھام لیا۔
“عنایہ کیا اب بھی معافی نہیں ملے گی۔تم پر سختی کرکے میں آج بھی پچھتا رہا ہوں۔
میں بہت شرمندہ ہوں۔تم ٹھیک کہتی تھی کہ عورت تو بہت عزیم ہے۔میں نے اتنے سال تم سے دور رہ کر بہت کچھ سیکھا ہے ۔پلیز میری جان میں ساری عمر تم سے معافی مانگ سکتا ہوں۔”
عنایہ نے ان دس سالوں میں سلیمان کو اس کے کارناموں کی اچھی سزا دی۔
“تم اگر زندگی میں دوبارہ وہی سب کرنے لگ گئے تو پھر۔۔۔۔۔۔”
“ایسا نہیں ہوگا ۔میں جس دن ایسا کروں تم مجھے اپنے ہاتھوں سے مار دینا۔عنایہ میرے بچوں کو میری ضرورت ہے پلیز ۔۔۔۔۔”
عنایہ خاموشی سے کھڑی رہی پھر بولی۔
تم انتظار کرو میں بچوں کے ساتھ آتی ہوں۔”
سلیمان کو آج پورے دس برس بعد معافی ملی تھی ان دس برسوں میں سلیمان نے ایک بات تو سیکھ لی تھی کہ تنہا زندگی گزاری نہیں جاتی اور عورت کتنی عظیم چیز ہے عنایہ کا فیصلہ بالکل درست تھا جب اس نے خود کو سلمان سے الگ کیا.
__________________________________احلام کی والدہ اپنے گھر میں رہ رہی تھیں احلام بہت کہتی ہیں کہ ہمارے ساتھ آ کر رہیں مگر انہوں نے اپنی ایک نواسی اپنے پاس رکھ لی جس کو وہ اپنی بیٹی کی بنا کر پال رہی تھی وہ اپنے شوہر کا گھر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی احلام ہر مہینے جاکر ان سے مل کر آتی۔تاج ان کا بہت دھیان دکھتی۔احلام کی بہنیں آج بھی اپنی زندگیوں میں مصروف تھی جیسے پہلے۔
احلام اور انابیہ دونوں عمر کے لیئے اسمبلی کے باہر گاڑی میں انتظار کر رہی تھی آج عمر نے بل پاس کروانا تھا اسمبلی میں عمر اپنی تقریر کر رہا تھا جب کہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی انابیہ اور احلام دونوں اس کی تقریب دیکھ رہی تھی.
” ماما مجھے امید ہے کہ عمر یہ بل پاس کروا لیں گے بہت محنت کی ہے انہوں نے اس کے لیئے. “
”امید تو ہے بیٹا ۔مجھے میرے بیٹے پر مکمل طور پر بھروسہ ہے کہ وہ جو کرے گا تو لوگوں کی بھلائی کے لیے ہی کرے گا. “
تھوڑی دیر بعد ہی جیسے ہیں عمر تقریر کرکے ہٹا اسمبلی سپیکر نے اعلان کیا کہ بل پاس ہو گیا ہے یہ عمر کے لیے اتنی بڑی فتح تھی کہ احلام گاڑی میں خوشی سے اچھل پڑی جبکہ انابیہ نے فورا احلام کو اپنے گلے سے لگایا یہ ان کے علاقے کے لئے بہت بڑی کامیابی تھی۔
تھوڑی دیر بعد عمر باہر آیا تو بہت سارے صحافی اس کے ارد گرد جمع تھے بہت سارے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے کی یہ گاڑی میں آیا اور بیٹھ گیا۔
” فتح مبارک ہو میرے شہزادے. “
” شکریہ ماما آپ بھی بہت زیادہ مبارک ہو یہ آپ دونوں کی پتہ بھی ہے کیونکہ ذرا لوگوں کو اسی چیز کی طرف لے جانے والے آپ لوگ ہی ہیں آپ لوگوں نے ہی مل کر بہت سے ایسے لوگوں کو علم دیا ہے جن کو اتنا بھی معلوم نہیں تھا کہ اپنے حق کیسے لیتے ہیں. “
“یہ تو خدا کا کرم ہے جس نے ہمیں لوگوں کی مدد کے لیئے چنا ہے۔”
عمر اور احلام گھر آئے گھر میں سب نے عمر کو مبارکباد دی اس کے بعد عمر احلام کو لے کر گھومنے کے لیے چلا گیا وہ چاہتا تھا کہ آج اپنا سارا وقت احلام کو دے ۔ پچھلے پورے تین ماہ سے احلام اور عمر بہت زیادہ مصروف تھے ایک دوسرے پر دھیان نہیں دے پائے تھے یہ لوگ۔
__________________________________
سلیمان نے زین کو اٹھا رکھا تھا۔عنایہ حویلی واپس آ گئی تھی سلیمان نے حویلی کا ہر اختیار عنایہ کے ہاتھ میں دے دیا تھا وہ کسی معاملے میں نہیں بولتا تھا عنایہ جیسا چاہتی ہے ہر چیز کو چلاتی.
” بابا آپ کہتے ہیں نہ کہ میرا نام زین انکل کے نام پر رکھا ہے آپ نے میرا نام زین کیوں رکھا ہے وہ آپ کے کیا لگتے تھے۔”
” بابا کی بہت اچھے دوست کے وہ بیٹا آپ جانتے ہیں ایک مرتبہ بابا جان کا شدید ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا آپ کے بابا کو بچانے والے زین انکل ہی تھے. “
” وہ اب کہاں پر ہوتے ہیں بابا. “
” وہیں پر ہوتے ہیں جہاں آپ کی ماما ہوتی ہیں بیٹا ۔آپ جانتے ہیں نہ ماما خدا کے پاس ہیں ویسے ہی آپ کے ذین انکل بھی خدا کے پاس ہیں۔”
“بابا میری ماما کیسی تھی۔”
“بلکل آپ کی عنایہ ماما جیسی۔”
سلیمان نے اپنے بیٹے کو اس کی ماں کا بتایا تھا کہ کل وہ اپنی ماں کے لیئے مغفرت کی دعا کر پائے۔
” سلیمان کھانا لگ گیا ہے آجائیں اور کھانا کھا لیں۔”
عنایہ کی بات پر سلیمان بیٹے کو اٹھائے ٹیبل پر آیا جہاں عنایہ کھانا لگا چکی تھی۔بڑے سائیں جیل میں ہی گزر گئے جبکہ بی جان فالج کی مریضہ تھی۔عنایہ ان کا بھی پورا دھیان رکھتی۔
______________________________
انابیہ اور جبار دونوں پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر بیٹھے ہوئے تھے آج انابیہ نے جب جبار سے فرمائش کی تھی کہ اسے اونچی پہاڑی کی سیر کروائے تو جبار اسے سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی پر لیکر آیا تھا۔
انابیہ جبار کا ہاتھ سامنے کرتی کچھ نیلی لائٹیں روشن کر رہی تھی۔یہ جبار کی طاقت تھی۔جبار کے سفید بال اس کو اور گریس فل بناتے جبکہ انابیہ آج بھی بہت پیاری تھی۔
“شہزادی کتنے سال گزر گئے نہ ہمیں یہاں اس دنیا میں آئے ہو۔کتنا کچھ بدل گیا۔”
انابیہ نے جبار کے سینے سے سر اٹھایا۔
“نہیں بدلا تو ہماری محبت کا سفر۔مجھے امید ہے ہماری نسلیں ہمیں ہمیشہ اچھے کاموں کیلئے ہی یاد کریگی. “
”بلکل ہم اپنی اپنی نسلوں کو اچھے معنی میں ہی یاد رہیں گے مجھے پوری امید ہے. “
جبار نے اپنے پر انابیہ اور اپنے اردگرد پھیلا لیئے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: