Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 1

0
ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 1

–**–**–

گرینڈپا پلیز! اگر آپکو اتنی فکر ہو رہی ہے تو میں نہیں جاتی بتا دیں مجھے ابھی بھی میں نہیں جاوں گی پرامس اور مجھے بالکل بھی برا نہیں لگے گا۔پارسا نے کوئی دسویں دفعہ اپنے نانا سے کہا۔
پارسا اب میں ایک تھپڑ لگاوں گی سیریسلی یار اگر نہیں جانا تو مت جاو ہم پر سارا ملبہ کیوں ڈال رہی ہو۔صبوحی نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔ پارسا نے سر اٹھا کر اپنی خالہ کو دیکھا اور منہ کے زاویے بدلے۔
گرینڈپا!! پارسا لاڈ سے کہتی ہوئی اپنے نانا سے لپٹ گئی۔
بیٹا!اگر دل نہ لگا تو مجھے فون کردینا میں خود ہی لے آوں گا واپس اپنی بیٹی کو۔نانا نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔
اوکے۔پارسا منہ بسورتے ہوئے بولی۔
چلو شاباش اب اپنے روم میں جاکر سوجاو صبح فلائٹ کے آپکی۔
صبوحی نے کہا۔
***
یہ بھی کوئی زندگی ہے نہ فن نہ کوئی ایڈوینچر۔پارسا نے اکتا کر اپنی کزن ماہا سے کہا۔
ماہا نے آنکھیں سکیڑکر اپنے تایا کی بیٹی کو دیکھا جو کہ سیاہ جینز اور پیلی شرٹ میں ملبوس تھی پیر سیاہ جاگرز میں مقید تھے۔ سیاہ بالوں کی فرنچ ناٹ ماہا نے ہی بنائی تھی۔اپنے حلیے سے بےنیاز لان کی گھاس پر بیٹھی ہوئی تھی۔چہرے پر بلا معصومیت طاری کی ہوئی تھی۔
کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں؟ماہا نے کہا۔
سامنے والے گھر کے لان میں آم کے درخت ہیں چل کر کیری توڑ کر لاتے ہیں!!پارسا نے کہا
دفعہ کرو یار انکا چوکیدار بہت کھڑوس ہے۔گھر بھی خالی ہے ورنہ گھر والوں سے اجازت لے کر توڑ لیتے۔
پلیز!!!!!!!!!!!! پارسا سے ملتجی لہجے میں کہا۔
بالکلبھی نہیں۔ماہا نے اٹل لہجے میں کہا۔
اوکے تم بیٹھو میں جارہی ہوں۔
افف یہ لڑکی بھی نہ۔۔۔۔۔ماہا جھلا کر بڑبڑائی اور اسکے پیچھے چل دی۔
نجانے کیوں سامنے والے گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور چوکیدار بھی نظر نہیں آرہا تھا۔پارسا تیزی سے اپنے ٹارگٹ یعنی آم کے درخت کی طرف بڑھی۔
تم کھڑی ہو یہاں میں کیچ کرواوں گی تمہیں اوکے۔پارسا اسے ہدایت دیتی ہوئی مہارت سے درخت پر چڑھنے لگی۔
ابھی بمشکل دو کیریاں توڑی ہوں گی جب ماہا چلائی بھاگو پارسا!!!!
پارسا نے اسکی آواز سن جلدی سے درخت سے چھلانگ لگائی۔
ماہا نے جلدی باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔
بچت ہوگئی۔۔۔۔ ماہا نے کہا اور کوئی جواب نہ پاکر پیچھے دیکھا پارسا نہیں تھی۔
اس نے گیٹ کے قریب جاکر اندر جھانکا تو کوئی بھی نہیں تھا وہاں۔وہ پریشانی کے عالم میں آگے کی طرف بڑھی واپس پلٹی تو اسے پارسا آتی ہوئی دیکھائی دی۔
کہاں رہ گئی تھی تم؟ماہا نے مشکوک انداز میں کہا۔
تم تو مجھے چھوڑ کر بھاگ گئی تھی تمہیں کس چیز کی فکر۔پارسا نے منہ بنا کر کہا۔
اچھا چلو گھر چلیں یار! ماہا نے کہا۔
کہاں تھیں تم دونوں؟پارسا نے اپنی بڑی بہن پاکیزہ کو دیکھا جو بےچینی سے لان میں چکر کاٹ رہی تھی اور اب ان کی طرف متوجہ تھی۔
بیٹھے بیٹھے بور ہورہی تھی سوچا تھوڑا ایڈوینچر ہی ہوجائے۔۔۔ پارسا لاپرواہی سے بولتے ہوئے لان میں لگے جھولے پر آبیٹھی۔
اتنی محنت بھی کی اور کیریاں بھی وہیں رہ گئیں!ماہا نے منہ بنا کر کہا۔
یہ کس نے کہا؟پارسا نے ابرو اچکا کر کہا اور اٹھ کر اپنی جینز کی پاکٹ میں سے دو تین کیریاں نکال کر ماہا کو تھما دیں اور اندر کی طرف بڑھی۔
تم دونوں میں سے تو کوئی بھی کیریاں نہیں کھاتا پھر یہ کس لئے؟اس سے پہلے ماہا کچھ کہتی پاکیزہ نے کہا۔
ایڈوینچر یو نو!!پارسا نے بےنیازی سے کہا۔جبکہ پاکیزہ ماہا کے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی۔
***
پارسا کے والد اور تایا دو ہی بھائی ہیں۔عزیز اور عتیق۔
عزیز صاحب کی دو بیٹیاں ہیں پاکیزہ اور پارسا۔
پاکیزہ لاہور کے فاطمہ جناح کالج سے میڈیسن پڑھ رہی ہے جبکہ پارسا ہمیشہ سے اپنے ننھیال اسلام آباد ہی رہتی ہے اور وہاں کی یونیورسٹی سے ہی بزنس پڑھ رہی ہے۔
عتیق صاحب کے بھی دو ہی بچے ہیں دونوں جڑواں ہیں۔ پارسا سے ایک سال بڑے ہیں۔ماہااور ریان ماہا فیشن ڈیزائننگ پڑھ رہی ہے جبکہ ریان بزنس۔
***
ہیلو ایوری ون!وہ جو ڈنر میں مصروف تھا زنانہ آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔وہ اسی کے سامنے والی کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گئی تھی۔سیاہ جینز پر پیلی شرٹ پہنے وہ اچھی لگ رہی تھی۔
ڈائننگ ٹیبل پر ماہا پاکیزہ اور ریان ہی تھے
سب لوگ کہاں ہیں؟پارسا نے پاکیزہ سے پوچھا۔
بابا اور چاچو ڈنر پر انوائیٹیڈ تھے ماما اور چچی ساتھ گئے۔پاکیزہ نے کہا۔
تم ریان سے ملی؟ماہا نے کہا تو پارسا کا دھیان سامنے بیٹھے لڑکے پر گیا۔وہ سیاہ شلوار کرتے میں ملبوس تھا اسکی رنگت بےتحاشہ سفید تھی چہرے پر بلا کی معصومیت تھی پارسا کی محویت پر وہ بھوکھلا کر اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔
وہ انکے خاندان کا اکلوتا لڑکا تھا۔
ہیلو ریان!پارسا نے مسکرا کر کہا۔
ہائے۔ریان کے حلق سے بمشکل نکلا۔
پارسا نے اسے مزید مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی جس پر ریان نے سکون کا سانس لیا۔وہ ایکدم سے کسی کے ساتھ فرینک نہیں ہوسکتا تھا نہ ہی وہ اتنا کانفیڈینٹ تھا۔
تم کتنے ٹائم بعد ملی ہو ریان سے؟ماہا جو کچنسے پانی لینے گئی تھی اب کھانا کھاتے ہوئے بولی۔
بہت لمبے عرصے کے بعد! پارسا بولی۔
پھر کیسا لگا ریان تمہیں؟ ماہا نے شرارت سے پوچھا۔
ہی از کیوٹ!!!پارسا نے لاپرواہی سے کہا جبکہ ریان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: