Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 10

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 10

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 10

–**–**–

میں کسی مسلم سے شادی کرنا چاہتی ہوں!جولیا نے آہستگی سے اپنی بات دہرائی۔
بیٹا آپکو پتا ہے کہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں!صبیحہ نے سنبھل کر کہا۔
آنٹی میں نے وہی کہا ہے جو آپ سن رہی ہیں۔
آپ کسی مسلم کو پسند کرتی ہو؟راحیل نے پوچھا۔
کہیں نقاش تو۔۔۔۔۔۔صبیحہ جولیا کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بول پڑیں۔
نہیں نہیں! انکل میں کسی مسلم میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں اور آنٹی نقاش میں تو بالکل بھی نہیں،وہ صرف دوست ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔جولیا نے کہا۔
تو بیٹا کیا آپ اسلام قبول کرنا چاہتی ہیں؟راحیل نے آخر وہ سوال پوچھا جو ان کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔
نہیں انکل ایسا بالکل نہیں ہے!جولیا نے گہرا سانس کے کر کہا۔
بس مجھے کرسچن لڑکے نہیں پسند۔جولیا نے بے بسی سے کہا تو راحیل سمجھ گئے کہ وہ بہت کنفیوژ ہے۔صبیحہ جنہوں نے کچھ بولنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا انہوں نے اشارے سے منع کیا۔
انکل پلیز آپ لوگ مجھے اکیلا مت چھوڑ کر جائیں!میں پاگل ہوجاوں گی۔جولیا نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
بیٹا ایسا ہے کہ، اس مسئلے کا ایک ہی حل نظر آرہا ہے مجھے،ہم اپنی سیٹس تھوڑی آگے کروا لیتے ہیں۔آپ پاکستان کیلئے وزٹ ویزا اپلائے کرو اور فلحال چلو ہمارے ساتھ۔
واقعی۔جولیا نے تعجب سے کہا۔
پارسا بتا رہی تھی کہ وہاں کے ماحول میں بہت فرق ہے کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔
بیٹا جو ہوگا دیکھ لیں گے بعد میں۔صبیحہ اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولیں۔
آج یہیں رک جاو۔صبیحہ نے کہا۔
نہیں آنٹی بس چلوں گی اب میں، تھینک یو نہیں بولوں گی آپ دونوں کو۔جولیا مسکرا کر بولتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گئی۔
***
رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
ایسے میں وہ ہاسٹل کے کمرے میں اکیلی تھی اسکی ایک روم میٹ چھٹی پر تھی اور ایک ڈیوٹی پر۔
وہ یخ بستہ ننگے فرش پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے گھٹنوں پر ایک گال ٹکایا ہوا تھا۔نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر جمی ہوئی تھیں۔
جولیا چلی جاو گی تم؟کسی کی آواز پر وہ بری طرح چونکی۔اس نے سر گھما کر دیکھا کمرہ بالکل خالی تھا۔
اس نے ایک ہاتھ سینے پر رکھا اور آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیا۔
کیا ڈھونڈ رہی ہو تم جولیا۔مانوس سی آواز کانوں سے ٹکرائی۔اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولی۔
سکون۔اس نے بے آواز لب ہلائے۔
ملا پھر؟اب وہ پہچان گئی اس آواز کو، وہ اسکی اپنی آواز تھی۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
کیسے ملے گا سکون؟
وہ خاموش رہی۔
بتاو نہ جولیا!!
بتاو مجھے!!!
جولیا بتاو نہ!!
کیسے حاصل کرو گی سکون؟
بار بار وہی جمکے اسکے کانوں میں گونج رہے تھے۔اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
چپ کر جاو۔چپ کرجاو تم!!جولیا ہلکا سا چلائی۔
نقاش تم یہ اپنی ہولی بک کیوں پڑھتے ہو؟جولیا کے کانوں میں ایک عرصہ پہلے نقاش سے پوچھا ہوا سوال گونجا۔
میں اسے پڑھ کر پرسکون محسوس کرتا ہوں!میری ہر الجھن دور ہوجاتی ہے۔
جولیا نقاش کے الفاظ یاد آتے ہی برق رفتاری سے اپنے فون کی طرف لپکی۔
ہولی بک آف مسلمز ان انگلش۔اس نے کانپتے ہاتھوں گوگل کھول کر ٹائپ کیا اور سرچ کے نشان پر کپکپاتی انگلی رکھی۔
کیا کر رہی ہو تم جولیا۔اس نے ایک دم سے اپنے آپ سے کہا۔
فون اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر بستر پرگر گیا۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بستر ہر بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔
***
راحیل آپ پریشان ہیں؟صبیحہ نے جولیا کے جانے کے بعد پوچھا۔
ہاں تھوڑا سا! ہم جولیا کو لے کر تو جارہے ہیں لیکن کوئی مسئلہ نہ ہوجائے۔راحیل اپنی پیشانی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے مسلتے ہوئے بولے۔
اللہ بہتر کرے گا سب آپ بے فکر ہوجائیں۔
پارسا جو کہ مامی سے کچھ پوچھنے آئی تھی،اتنا سن کر وہاں سے ہٹ گئی اور نقاش کے کمرے کی طرف لپکی۔
آجاو۔نقاش جو سونے کیلئے لیٹا ہی تھا دروازہ ناک ہونے پر بولا۔
بھائی۔نقاش پارسا کی آواز پر چونکا۔
تم اس وقت کوئی کام ہے کیا؟نقاش نے ابرو اچکا کر کہا۔
جولیا ہمارے ساتھ جارہی ہے!پارسا نے نقاش کے سر ہر بم پھوڑا۔
واٹ!!! نقاش اچھل کر بیٹھا۔
کس نے کہا تمہیں؟نقاش کے چہرے سے پریشانی چھلکنے گئی۔
مامی سے پیکنگ کا پوچھنے گئی تھی تو میں نے سن لیا!پارسا نے کہا۔
اسکے پرینٹس ہنگامہ کریں گے۔نقاش نے پریشانی سے کہا۔
مگر وہ تو جولیا میں کوئی انٹرسٹ نہیں رکھتے!پارسا نے ناسمجھی سے کہا۔
ہاں لیکن پھر بھی وہ ہنگامہ کریں گے۔نقاش نے گہرا سانس لے کر کہا۔
خیر تم جاو اپنے کمرے میں۔نقاش نے پارسا سے کہا تو وہ اٹھ گئی وہاں سے، جبکہ نقاش گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
***
صبح کا اجالا ہر طرف پھیل چکا تھا۔جولیا اسی رات سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی اٹھ اور اٹھ کر چینج کیا۔اپنا لونگ کوٹ بازو پر ڈالا پرس لیا اور کمرے سے نکلی۔
جولیا آپ کہیں جارہی ہیں؟نسوانی آواز پر جولیا نے مڑ کر دیکھا وہ ڈاکٹر عائشہ تھی جولیا کی اس سے اچھی سلام دعا تھی۔اسکا کمرہ جولیا کے کمرے سے ایک دو کمرے آگے تھا۔
چرچ جارہی ہوں۔جولیا نے سنجیدگی سے کہا۔
ایکچولی مجھے مارکیٹ جانا ہے ساتھ چلتے ہیں آپ چرچ چلی جائیے گا میں تھوڑا آگے جاکر مارکیٹ سے ہو آونگی۔
اوکے چلیں۔جولیا نے کہا۔
انہوں نے روڈ سے ٹیکسی لی۔جولیا چرچ سے تھوڑا پیچھے اتر گئی۔
وہ پیدل چلنے لگی۔
کیا میں چرچ جاوں گی؟اس نے چرچ کے سامنے پہنچ کر خود سے پوچھا۔
مگر میں کیا کرنے جارہی ہوں چرچ میں؟جولیا خود سے الجھی۔
سکون کیلئے۔اسکے اندر سے آواز آئی۔
کیا مجھے یہاں سکون ملے گا؟اس نے خود سے پوچھا۔
کوشش تو کی جاسکتی ہے نہ!اسے اپنے اندر سے آواز سنائی دی۔
وہ تو میں سالوں پہلے بھی کرچکی ہوں!!وہ اپنے اندر کی جولیا کی ہر بات جھٹلا رہی تھی۔
نجانے کتنی دیر کھڑی وہ چرچ کی عمارت کو تکتی رہی۔پھر چکتی ہوئی ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔
وہ تھک گئی تھی اپنے اندر کی اس تکرار سے۔
جولیا تم ہو آئی چرچ سے؟عائشہ کی آواز پر اس نے سر اُٹھا کر غائب دماغی سے اُسے دیکھا۔
نہیں میں گئی ہی نہیں۔اسکے لبوں سے بلا ارادہ پھسلا۔وہ اگر اپنے حواس میں ہوتی تو کبھی یہ نہ کہتی۔
کیوں؟عائشہ نے حیرت سے پوچھا۔
جولیا خاموش رہی!
جولیا تم مجھے صبح سے بھی زیادہ پریشان لگ رہی ہو۔مجھے لگا تھا کہ تم شاید فادر سے اپنے دل کی بات شیئر کرنے آئی ہو۔جولیا نے اسکے آخری الفاظ ہر چونک کر اسے دیکھا تو عائشہ گڑبڑا گئی۔
آئی مین تم لوگوں کا ہوتا ہے نہ اس ٹائپ کا سسٹم!عائشہ نے کہا۔
میں ان سے اپنی کوئی بات شیئر نہیں کرتی اگر میں ان سے اہنی باتیں اپنے خیال اپنے احساس شیئر کروں گی تو یقیناً وہ مجھے گمراہ کہیں گے۔جولیا نے سنجیدگی سے کہا۔
چلیں؟جولیا عائشہ کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر کھڑی ہوگئی۔
***
نہیں اب تو پارسا اگلے ہفتے آئے گی۔ریان جو کہ آفس کیلئے تیار ہوکر اپنے کمرے سے نکلا تھا،پاکیزہ کی آواز پر چونک کر پلٹا۔پاکیزہ اور ماہا آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔
کتنے ہی لمحے ریان بےیقینی کی کیفیت میں گھرا کھڑا رہا۔اور پھر سر جھٹک کر آگے بڑھا۔تبھی اسکا فون بج اُٹھا۔
جی تایا ابو!بس میں نکل رہا ہوں۔
جی جی فکر مت کریں آپ میں کرلوں گا اٹینڈ میٹنگ!
ریان نے کال کاٹ کر فون جیب میں ڈالا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
تو مس پارسا! بالآخر آپ واپس آرہی ہیں!ریان اپنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنی سلور رنگ پر نظر ڈالتے ہوئے دھیرے سے بڑبڑایا۔
ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا من میلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھڑوکے میں
کب دید سے دل کو اسیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو۔
ابن انشاء۔
***
بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب ان اب کو پاکستان آنا تھا۔
جولیا تم ٹھیک ہو؟نقاش نے اسکی سیٹ پر آکر پوچھا تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
پارسا کی سیٹ اپنے ماموں مامی کے ساتھ ہی تھی جبکہ نقاش کی ان نے سے پچھلی۔
جولیا کی سیٹ ان سب سے علیحدہ تھی۔
جولیا سیٹ ایکسچینج کروانی ہے؟نقاش نے پوچھا۔
نہیں نقاش میں یہیں ٹھیک ہوں!جولیا نے کہا تو نقاش واپس چلا گیا۔
جولیا نے اپنے ہاتھ میں پڑے صلیب کے نشان والے لاکٹ پر نظر ڈالی۔
میری بیٹی یہ لاکٹ پہنے گی۔اسکے کانوں میں اسکی ماں کی آواز گونجی۔
اس نے اذیت سے آنکھیں میچی۔
جولیا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی تم نے اپنے باپ کے سامنے مجھے ذلیل کروا دیا ہے۔اس انسان کو میں تمہاری وجہ سے برداشت کر رہی تھی اور اب وہ ذلیل انسان مجھے باتیں سنا رہا تھا اور میں اسے کچھ نہیں کہہ پائی، کیسے کہتی میری اپنی بیٹی کے کارنامے مجھے شرمندہ کروا رہے ہیں۔بھول جانا اب کہ تمہاری کوئی ماں ہے۔آئیندہ مجھ سے رابطہ مت کرنا۔
الفاظ سے زیادہ لہجہ تکلیف دہ تھا اسکے لئے۔
اسکے پاکستان جانے پر اسکی ماں کا ردعمل اسکی توقع سے زیادہ شدید تھا۔
ڈیڈ دیکھیں مام نے مجھے یہ لاکٹ دیا۔
ارے واہ!یہ تو بہت پیارا ہے۔لاو میں پہنا دوں۔اسکو کبھی مت اتارنا۔
ڈیڈ۔اسکے لب بے آواز ہلے۔
جاہل ماں کی بیٹی بھی جاہل ہی ہوگی۔میں کیسے تم سے کوئی اچھی توقع رکھ سکتا ہوں۔جاو اس پسماندہ ملک میں کرو اپنی من مرضیاں۔
میں نے تمہیں کبھی روپے کی کمی نہیں ہونے دی،پر اب بھول جا ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملے گی۔ساری زندگی ترس ترس کر گزارنا۔ہر تعلق ختم کرتا ہوں میں تم سے۔
نہیں چاہیے آپ کے پیسے!قبر میں لے جائے گا یہ سب۔مرتی نہیں ہوں آپ کے پیسے پر۔آپ کیا سمجھتے ہیں بہت اچھی پرورش کی ہے آپ نے میری،اولاد کو پیسے کے علاوہ بھی بہت کچھ چاہیے ہوتا ہے مگر آپ کیا جانیں یہ سب ہونہہ۔اگر پیسہ سب کچھ ہوتا تو آپکی بیٹی ذہنی مریضہ نہیں ہوتی،دوسروں کے گھروں میں سکو نہ ڈھونڈتی پھرتی،نہ آپکی بیوی آپکو چھوڑ کر جاتی۔اور رہی بات تعلق کی تو پہلے کونسا تعلق رکھا ہے آپ نے۔
وہ زندگی میں پہلے بار اپنے باپ کے سامنے بولی،اور اتنی بےخوفی سے بولی کہ اسکی آنکھوں سے چھلکتی سرکشی نے اسکے باپ کو باور کروا دیا کہ اب وہ اسے کنڑول نہیں کرسکتے۔
اس نے آنکھیں کھول کر ایک نظر دوبارہ لاکٹ پر ڈالی۔اور گیلی آنکھوں سے کھڑکی کے پار بادلوں کو تیرتا دیکھنے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: