Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 11

0
ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 11

–**–**–

وہ سب ائیرپورٹ سے نکلےتو اسلام آباد کی یخ بستہ ہوا نے انکا استقبال کیا۔یخ ٹھنڈی ہوا نے انہیں کپکپانے پر مجبور کردیا۔
پارسا نقاش راحیل اور صبیحہ کے چہرے چمک رہے تھے۔آخر انسان کہیں بھی چلا جائے سکون واپس اپنے گھر اپنی سرزمین پر ہی ملتا ہے۔
جولیا نے اپنی نظر ان پر سے ہٹائی۔اور دلچسپی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔وہ سیاہ جینز اور ریڈ ٹی شرٹ میں ملبوس تھی،مگر اس نے گھٹنوں تک آتا سیاہ لانگ کوٹ بھی پہن رکھا تھااور گلے میں گرے اسٹولر بھی جھول رہا تھا تاکہ وہ قابلِ اعتراض نہ لگے۔آخر کو وہ جانتی تھی کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جارہی ہے۔بھورے گھنگھریالے بالوں کی اونچی پونی بنائی ہوئی تھی۔چہرے کسی بھی طرح کے میک اپ سے پاک تھا۔
چلو جولیا!پارسا اسکا بازو ہلاتے ہوئے بولی تو جولیا اسکی تقلید کرتے ہوئے گاڑی میں جا بیٹھی۔
انکی گاڑی پروفیسر صفدر کے گھر کے پورچ میں کھڑی ہوئی۔
جولیا گاڑی سے اتری تو اسکی نظر ایک آدمی پر پڑی جس سے پارسا لپٹ گئی تھی۔
وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔انکے بال تقریبا سفید تھے۔
آنکھوں پر نظر کا چشمہ انکو مزید باوقار بنا رہا تھا۔ یقیناً وہ انکے گرینڈپا تھے۔
سب سے مل کر وہ جولیا کی طرف متوجہ ہوئے۔
کہیں یہ مجھے یہاں سے نکال نہ دیں!جولیا نے سہم کر سوچا۔
ضروری تو نہیں راحیل انکل کے فادر بھی انکی طرح ہی سوچتے ہوں۔ہوسکتا ہے انکو میرا یہاں آنا سخت ناپسند ہو!
بیٹا آپکو پاکستان میں بہت بہت خوش آمدید!انہوں نے جولیا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تو جولیا کے حلق سے پرسکون سانس خارج ہوئی۔
شکریہ!وہ بمشکل مسکرائی۔
***
وہ تھکن سے چور بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹ گئی۔پارسا اپنے گرینڈپا کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔جبکہ وہ پارسا کے کمرے میں اکیلی تھی۔
وہ یہاں آکر زیادہ اچھا محسوس نہیں کررہی تھی لیکن اگر وہ امریکہ رہتی تو وہ یقینا پاگل ہوجاتی اس کے پاس یہاں آنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔اس نے نم آنکھیں موند لیں۔
تبھی اسکے فون کی رنگ ہوئی۔اس نے گردن موڑ کر اپنے فون کو دیکھا۔
مجھے بھلا کون میسج کرے گا۔اس نے تلخی سے سوچا۔
چند لمحے وہ یونہی لیٹی رہی پھر ہاتھ بڑھا کر فون اٹھا کر چیک کیا۔
اسکے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔اس نے پاکستان کے لئے ویزا اپلائے کرنے سے پہلے ایک ہاسپٹل میں جاب کیلئے اپلائے کردیا تھا،
اور اس کو سلیکٹ کرلیا گیا تھا۔
یہ ای میل اسے امریکہ میں کی آگئی تھی،مگر وہ ڈسٹرب ہی اتنی تھی کہ اس نے فون فلائیٹ موڈ پر لگا رکھا تھا،ابھی کمرے میں آنے سے پہلے پارسا نے اپنے فون پر وائےفائے کا کوڈ لگایا تھا تو اسکے فون پر بھی لگا دیا تھا،فون وائےفائے سے کنیکٹ ہوا تو اسے ای میل ملی۔
چلو شکر ہے کچھ تو اچھا ہوا۔جولیا نے گہرا سانس لے کر سوچا۔
وہ پچھلے چند دنوں میں اتنا ڈسٹرب تھی کہ سو بھی نہیں پائی تھی۔اسکے آنکھیں نیند سے خودبخود بند ہو گئیں۔
***
وہ ایک بہت وسیع صحن تھا جس میں بہت سے لوگ چل پھر رہے تھے،سنگ مرمر لگے صحن کے تقریباً وسط میں ایک لڑکی اور ایک لڑکا بیٹھے ہوئے تھے۔ان دونوں کی طرف پشت نظر آرہی تھی۔
لڑکی نے سیاہ رنگ کا بڑا سا اسکارف لے رکھا تھا جو کہ اسکی کمر تک آرہا تھا اور وہ لڑکی سیاہ لباس میں ہی ملبوس تھی،جبکہ لڑکا سرمئی رنگ لباس میں ملبوس تھا۔سر پر سیاہ ٹوپی لے رکھی تھی۔
منظر میں کچھ ان دونوں سے بھی زیادہ نمایاں تھا اور وہ تھا سبز گنبد۔
ہم دونوں صرف دنیا کے نہیں جنت کے بھی ساتھی ہیں۔ہمارا اس طرح سے ملنا ہی طے کیا تھا اللہ تعالی نے۔مردانہ آواز اس کے کانوں میں پڑی جو کہ یقیناً اس لڑکےکی ہی تھی۔
ایک دم جھٹکے سے اسکی آنکھ کھل گئی۔وہ بستر پر بیٹھی کر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔اس نے سینے ہر ہاتھ رکھ کر خود کو نارمل کیا۔
آخر کون تھے وہ دونوں!وہ جیسے خود سے الجھی۔
اور وہ سبز عمارت۔۔۔وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔
وہ۔۔وہ۔۔۔۔۔وہ مسجد تھی۔اس نے خود کلامی کی۔
ارے وہ تو سعودیہ والی مسجد تھی۔اس نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا۔
مسجد کے نام پر ہر ایک کے دماغ میں وہی عمارت (گنبد) تو آتی ہے۔وہ دھیرے بڑبڑائی۔
مگر میں یہ خواب میں کیوں دیکھ رہی تھی۔اس سوچ کے ساتھ اسکے ماتھے پر لاتعداد شکنیں آئیں۔
پندرہ بیس منٹ وہ یونہی بیٹھی رہی پھر اپنے تاثرات درست کرتے ہوئے بستر پر نظر ڈالی،نجانے کب پارسا آکر لیٹی تھی۔وال کلاک پر نظر ڈالی تو صبح کے ساڑھے چھ بج رہے تھی۔
پھر اٹھ اپنے بیگ سے کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گئی کیونکہ اب دوبارہ نیند اس پر مہربان نہیں ہونے والی تھی۔
گھر میں ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی غالباً سب لوگ دیر تک جاگتے رہے تھے۔
وہ لاؤنج سے ہوتی ہوئی لان میں پہنچی تو یخ ہوا کے جھونکے نے اسکا استقبال کیا۔وہ شال جو کہ وہ سردی سے بچنے کیلئے نہیں بلکہ کسی کو بغیر دوپٹے کے گھومنے پر اعتراض نہ ہو اسلئے لائی تھی،اس نے کندھوں پر اچھی طرح پھلا لی۔
وہ لان میں چہل قدمی کرنے لگی تبھی اچانک اسکی نظر گرینڈپا ہر پڑی وہ اسی کی طرف متوجہ تھے۔
وہ بےاختار شرمندہ ہوئی کہ نجانے کیا سوچیں گے وہ! ایک تو ان کے گھر میں بن بلائے گھس آئی دوسرا یوں دھندھناتی پھر رہی ہے۔
انکل آپ!وہ شستہ انگلش میں مخاطب ہوئی۔
آئیے بیٹا بیٹھئے۔وہ سنجیدگی سے مخاطب ہوئے۔
وہ انکے قریب پڑی دوسری کرسی ہر بیٹھ گئی۔
سوری انکل!جولیا نے بلآخر خاموشی توڑی۔گرینڈپا جو کہ اخبار ہر نظر دوڑا رہے تھے اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
کس لئے؟
میں یوں آپکے گھر میں بلااجازت گھوم رہی تھی نہ اسلئے۔جولیا نے کہا۔جواب میں وہ کچھ نہیں بولے تو جولیا نے سر اٹھا کر انکو دیکھا، وہ اسی کی طرف متوجہ تھے جولیا سمجھی تھی کہ شاید وہ اسکی طرف متوجہ نہیں رہے۔
اور میں یوں بلااجازت بنا بلائے آپکے گھر آگئی۔جولیا نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بات کہہ ہی دی جسکی وجہ سے درحقیقت اس کو شرمندگی تھی۔
انہوں نے ہمم کہنے پر ہی اکتفا کیا۔
آپکو برا لگا میرا آنا؟جولیا نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
بیٹا یہ میرا گھر ہے یہاں جو مجھے مناسب نہیں لگتا وہ میں نہیں ہونے دیتا۔اگر آپ اس گھر میں آئی ہیں تو میری اجازت سے ہی آئیں ہیں،اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اجازت آپ نے لی ہو یا میرے بیٹے نے۔اور رہی بات یوں گھر میں بلااجازت گھومنے کی تو بیٹا یہ گھر ہے کوئی جیل نہیں ہے کہ آپ اپنی جگہ سے ہل نہ سکو۔ان کی بات کے جواب میں جولیا خاموش رہی، اسکے بات کوئی الفاظ نہیں تھے بولنے کیلئے۔
آگے کا کیا پلین ہے آپکا؟انکی بات پر جولیا چونکی۔
مجھے جاب مل گئی ہے۔جولیا نے بتانا ضروری سمجھا کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ مالی طور پر بھی ان پر ہی ڈیپینڈ کررہی ہے۔
بیٹا میں نے آپ سے اس بارے میں نہیں پوچھا۔یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہے۔
آپ اپنی زندگی میں آگے کیا کرنا چاہتی ہیں؟انہوں نے دوبارہ پوچھا۔
انکل مجھے خود نہیں پتہ کہ میں کیا کرنا چاہتی۔وہ دھیرے سے ہاتھوں کو رگڑتی ہوئی بولی۔
میں بہت کنفیوژ ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کر رہی ہوں کیا کرنا چاہتی ہوں۔مجھے بس ہر طرف اندھیرا نظر آرہا ہے۔اس اندھیری زندگی میں کوئی روشنی کی کرن نظر نہیں آتی مجھے،میں نے بہت کوشش کی ہے کہ خود کو کسی اور طرف متوجہ کرلوں مگر ایسا نہیں کرپارہی۔کافی سال پہلے میں نے سکون ڈھونڈنے کیلئے وہی کیا تھا جو زیادہ تر لوگ کرتے ہیں۔میں نے باقاعدگی سے چرچ جانا شروع کردیا،میں نے خود کو رلیجن کی طرف متوجہ کرلیا۔مگر ایک عجیب بے چینی ہوتی تھی مجھے۔لوگ فادر کو اپنے دل کی باتیں بتانے کے بعد ریلکس فیل کرتے ہیں جبکہ مجھے بےچینی ہوتی تھی۔پھر دھیرے دھیرے مجھے سمجھ آگیا کہ میرا دماغ یہ سب سسٹم سمجھنے سے قاصر ہے،میں نے چھوڑ دیا یہ سب۔
راحیل انکل کہتے ہیں کہ مجھے شادی کرلینی چاہیے مگر مجھے کراہیت آتی ہے میرے رلیجن کے لڑکوں سے، جس طرح وہ ڈرنک کرتے ہیں اور باقی اوٹ پٹانگ حرکات میں ملبوس ہوتے ہے وہ میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔اس سے اچھا ہے میں اسی طرح رہ لوں۔وہ دھیمے لہجے میں ٹہر ٹہر کر بولی تو پروفیسر صفدر کو اس پر بےحد ترس آیا۔
بیٹا آپ پریشان نہ ہو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا!جب تاریکی حد سے بڑھ جائے تو سمجھو صبح ہونے ہی والی ایک روشن خوبصورت صبح!انہوں نے دھیمے سے مسکرا کر کہا۔
راحیل انکل کی فیملی تو امریکہ سے آئی ہے وہ ان سب پر اعتراض نہیں کرتے لیکن انکل آپکو اعتراض تو نہیں ہے میرے کرسچن ہونے پر؟جولیا نے جھجھک کر پوچھا۔
ایکچولی میں نے سنا تھا مسلم مذہب کے معاملے خاصے انتہا پسند ہوتے ہیں،اور ان کے کانسیپٹ بھی الگ ہوتے ہیں وہ اپنے علاوہ کسی اور کو صحیح ماننے کو تیار نہیں ہوتے انفیکٹ یسوع مسیح کو بھی نہیں مانتے۔جولیا نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے وضاحت دی۔
بیٹا آپ ڈاکٹر ہو اگر کوئی ڈاکٹرز کو فضول میں برا بھلا کہے تو آپ سب ڈاکٹر کیا کرو گے؟
انکل ہم سب مل کر آواز اُٹھائیں گے اس پروپیگنڈے کے خلاف۔جولیا نے ایک لمحے کو سوچا پھر کہا۔
یہی چیز بیٹا یہی چیز میں آپکو بتانا چاہتا ہوں۔اگر کوئی ہمارے مذہب پر حملہ کرے گا اسکی توہین کرے گا تو ہمیں پورا حق ہے آواز اٹھانے کا، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
اور رہی بات حضرت عیسى کو ماننے کی تو ایک مسلمان پچھلے تمام پیغمبروں پر مکمل ایمان رکھتا ہے۔انہوں نے محتاط لہجے میں کہا وہ جولیا سے کم از کم اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔
آپکے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ مسیحیت پر یقین رکھتے ہیں؟جولیا نے حیرانگی سے پوچھا۔
رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب کرو بلکہ کہو کہ ہم الله اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے.
صحیح بخاری 7542
انہوں نے بڑے ادب سے کہا۔
یہ کیسا مذہب ہے انکا جس میں ہر مسئلے کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا گیا ہے۔یہ کیسا پیغمبر ہے انکا جس نے انکو اتنا اچھا صاف ستھرا لائف اسٹائل دیا ہے، زندگی کے ہر مسئلے کا اتنا بہترین حل بتایا ہے ان سب کو۔جولیا نے بےچینی سے سوچا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: