Qudsiyy Arain Urdu Novels

Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 12

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر
Written by Peerzada M Mohin

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 12

ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 12

–**–**–

اسے لگا تھا کہ پاکستان جاکر کم از کم وہ ذہنی مریض بننے سے بچ جائے گی، مگر اب اسے پاکستان آنا بھی اسی اپنی حماقت لگ رہا تھا۔ایک تو سب کو اکھٹا دیکھ اسے اسکی اپنی فیملی کی محرومی کا احساس شدت سے ہورہا تھا حالانکہ وہ سب اسکا بےحد خیال رکھ رہے تھے مگر اسکا دل بے چین تھا۔وہ کمرے سے بہت کم کم نکلنے لگی تھی،دوسرا رلیجن جو اسے امریکہ میں بھی نقاش کی فیملی کے قریب آنے کے بعد سے کھٹکتا رہتا تھا اب شدت سے اسکے سر پر سوار ہونے لگا تھا۔پروفیسر صفدر کی عام زندگی کی باتوں میں اکثر دین کا حوالہ دیتے رہتے تھے مگر وہ جولیا کے سامنے محتاط رہتے تھے،لیکن خود جولیا لاشعوری طور پر انکی کسی نہ کسی اس طرح کی بات کی منتظر رہتی جس میں وہ دین ومذہب یا اللہ یا نبی(ﷺ) کا ذکر ہوتا۔جولیا کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں سوار کر رہی ہے اس چیز کو اتنا سر پر۔
جولیا!وہ کسی کی آواز پر ہڑبڑا گئی۔
کن سوچوں میں گم ہو؟پارسا نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
کہیں نہیں۔تمہیں کام تھا کوئی؟جولیا نے بات گھمائی۔
یس۔گرینڈپا بلا رہے ہیں تمہیں،اسٹڈی روم میں ہیں وہ۔پارسا نے کہا۔
اوکے میں ہو کر آتی ہوں۔جولیا نے کہا اور اٹھ کر باہر کی طرف لپکی۔
پروفیسر صفدر کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے،ہاتھ میں کوئی کتاب پکڑی ہوئی تھی جسے وہ بڑی محویت سے پڑھنے میں مصروف تھے۔
اس نے سیدھے ہاتھ کی تیسری انگلی سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
آجائیے بیٹا۔انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر کتاب بند کرتے ہوئے بولے۔
بیٹھے انہوں نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا تو جولیا بیٹھ گئی۔
کیسی جارہی ہے جاب آپکی؟انہوں نے پوچھا۔
اچھی جارہی ہے۔جولیا نے مسکرا کر کہا۔
مشکل تو نہیں آرہی لینگویج کی وجہ سے؟
نہیں انکل نو سال سے نقاش اور اسکی فیملی میں آجا رہی ہوں اردو بول ہی لیتی ہوں گزارے لائک اور سمجھ تو مجھے آجاتی ہے ٹھیک سے بس پڑھ نہیں سکتی۔جولیا دھیمے لہجے میں وضاحت کی۔
آپ اپنے پیرینٹس کو فون کیوں نہیں کرتی؟ کافی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ مدعے پہ آئے۔
جولیا خاموشی سے ٹکر ٹکر انکا چہرہ دیکھنے لگی۔
بیٹا مجھے پتہ ہے کہ مجھے آپکے پرسنل معاملات میں نہیں بولنا مگر آپ سمجھدار لڑکی ہو ابھی بے حد کنفیوژن کا شکار ہو میں نہیں چاہوں گا کہ جب یہ کنفیوژن ختم ہو تب آپ پچھتاو۔میں نے نوٹ کیا ہے جب سے آپ آئی ہیں نہ آپ نے اپنے پرینٹس کو کال کی نہ انہوں نے آپ سے رابطہ کیا۔
انکل انہیں میری ضرورت نہیں ہے،اور اب مجھے بھی انکی نہیں ہے۔جولیا نے دھیرے سے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا۔
ہر کام ضرورت کے تحت کیا جائے یہ ضروری تو نہیں کچھ کام انسان کو بنا ضرورت کے بھی کرلینے چاہیے۔
جولیا نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔
آپکو ان سے بات کرنی چاہیے۔جولیا کو لگا کہ وہ وضاحت دیں گے مگر انہوں نے مختصراً اتنا ہی کہا۔
انکل میں نے بتایا ہے نہ انہیں میری ضرورت نہیں ہے۔جولیا کی آواز میں اب آنسوؤں کی آمیزش تھی۔
پروفیسر صفدر خاموش رہے وہ چاہتے تھے کہ جولیا وہ بولے جو اسکے دل میں ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر بار ہم سامنے والے کو نصیحتوں کا انبار تھما دیں کبھی کبھی ہمیں خاموشی سے کسی کو سن بھی لینا چاہیے تاکہ سامنے والا بھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔
انہیں میری بالکل ضرورت نہیں ہے انکل ان دونوں کے پاس اپنی اپنی فیملی ہے تو جولیا کی فکر کسی کو بھی نہیں ہے۔جولیا بے ربط انداز میں بولی۔
بچن سے اب تک انہوں نے مجھے بورڈنگ میں ہی رکھا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ میرے اخراجات اٹھا کر وہ اپنی ذمہ داری پوری کرچکے ہیں تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے، کیونکہ پیسا سکون نہیں خرید سکتا۔میرے ڈیڈ انکے کئے انکا پیسا سب سے امپورٹینٹ ہے اور ممی انکے کئے انکی نیو فیملی،انکے بچے اور انکے ہزبینڈ۔آپکو پتہ ہے میرے پاکستان آنے پر ان دونوں کو یہ فکر نہیں تھی کہ جولیا دور ہوجائے گی بلکہ میرے ڈیڈ کو یہ فکر تھی کہ وہ اپنے سوشل سرکل میں کیا کہیں گے کہ انکی بیٹی ایک پسماندہ ملک میں گئی ہے اور ممی انکو یہ فکر تھی کہ میرے ڈیڈ نے انکی انسلٹ کی اور یہ کہ انکے ہزبینڈ کیا سوچیں گے۔
جولیا کیسی ہے کہاں ہے یا زندہ بھی ہے اس سے انکا کوئی واسطہ نہیں ہے بس اپنی عزت بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔
انکی لو میرج تھی بہت خوش تھے وہ دونوں پہلے۔
کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے جب میں بہت چھوٹی تھی میرے پیرنٹس ساتھ رہتے تھے صلح کے ساتھ۔
اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا،وہ خاموش ہوگئی اس میں ہمت نہیں تھی مزید کچھ بھی کہنے کی۔
پروفیسر صفدر نے ٹیبل پر رکھے جگ سے کلاس میں پانی انڈیلا اور اسکی طرف بڑھا دیا۔جولیا نے خاموشی سے کلاس تھاما اور سارا پانی پی لیا۔
جولیا بیٹا سب سے پہلے تو آپ ایک بات سمجھ لو کہ آپکے پیرنٹس کوئی انوکھے نہیں ہیں جنکے درمیان علیحدگی ہوئی ہے، وہ جتنا کرسکتے ہیں کررہے ہیں آپکے لئے بیٹا۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر وہ اپنے کسی قریبی شخص کو اسکی مطلوبہ چیز نہ دے سکے تو جو چیز اسکے پاس وافر مقدار میں موجود ہو اس سے ریپلیسمینٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے، آپکے پیرینٹس بھی یہی کر رہے ہیں،انکے پاس روپیہ پیسا ہے وہ آپکو فراہم کررہے ہیں اس زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔انہوں نے آپکو آزادی دی ہے کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کرتے سوال جواب نہیں کرتے کیا یہ کافی نہیں ہے۔
انسان کے پاس جو چیز موجود ہو اسکی ناقدری کرتا ہے اور اس چیز کی طرف بھاگتا ہے جو اسے میسر نہیں،یہی چیز اسے زندگی میں بےچین رکھتی ہے، سکون نہیں لینے دیتی۔جس انسان اپنے حاصل پر مطمئن ہونا سیکھ لیا اس نے پرسکون اور کامیاب زندگی کا راز پالیا۔
آپکو یہ روپیہ پیسا سب بیکار لگ رہا ہے انکی دی ہوئی آزادی کی قدر نہیں،کیونکہ آپکو یہ دونوں چیزیں میسر ہیں۔دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو پیسے کیلئے تڑپ رہے ہیں،مگر انہیں دولت مل نہیں رہی۔اور کتنے ہی لوگ ہیں جو شخصی آزادی کیلئے تڑپ رہے ہیں،مگر انکی فیملیز ان پر ضرورت سے زیادہ چیک اینڈ بیلنس رکھ رہی ہیں۔انکا اٹھنا، بیٹھنا،دوستی، لائف پارٹنر، ہر چیز کو کنڑول کر رہیے ہیں۔مگر آپکے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے،آپکو شکرگزار ہونا چاہیے۔
آپکے پیرنٹس خوشی سے علحیدہ تو نہیں ہوئے ہوں گے بقول آپکے کہ انکی لو میرج تھی تو انکے لئے بھی یہ فیصلہ ہرگز آسان نہیں ہوگا۔چلو فرض کرتے ہیں کہ وہ علیحدہ نہیں ہوتے آپکی خاطر ساتھ رہتے لیکن روز لڑتے جھگڑتے تب آپ کیا کرتی؟ذہنی سکون تو تب بھی نہیں ملتا آپکو! جولیا نے بھیگی آنکھوں سے انکی طرف دیکھا۔
بیٹا جو چیز اپکے اختیار سے ہی باہر ہو اس پر کڑھنا چھوڑ دو۔
آپ نے بھی تو انکو سمجھنے کی کوشش نہیں کی!کبھی ان کے پاس نہیں بیٹھی!کبھی انکو اپنے ہونے کا احساس نہیں دلایا!
تو یہ شکوے شکایتں کیسی!
جولیا نے انکی بات پر اثبات میں سر ہلا دیا۔
اب آپ اٹھ کر جب اپنے کمرے میں جائیں گی تو اپنی ممی اور ڈیڈی دونوں کو فون کریں گی۔پروفیسر صفدر نے کہا۔
وہ مجھ سے بات نہیں کریں گے۔جولیا نے گہرا سانس لے کر کہا۔وہ ہر تعلق توڑ چکے ہیں مجھ سے۔
والدین غصے میں اکثر اس طرح کی بات کہہ جاتے ہیں لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ حقیقتاً ایسا کریں گے۔پروفیسر صفدر کی بات پر جولیا مسکرا دی۔
اوکے میں کروں گی کال۔جولیا نے کہا۔
تھینک یو سو مچ انکل! میں نے آج تک کسی سے بھی اتنی گہرائی میں جاکر بات نہیں کی۔جولیا نے کہا۔
اسی لئے آپکے دل و دماغ پر بہت غبار ہے۔آپکو تبدیلی کی ضرورت ہے سوچ کے انداز کی تبدیلی،جب انسان مثبت انداز میں سوچنے لگتا ہے نہ تو اسے دنیا کی ہر چیز ہر انسان خوبصورت لگنے لگتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان مثبت سوچتا نہیں ہے۔انسان نے اپنے اندر منفی سوچوں کا انبار لگا رکھا ہے جو اسے دوسرے انسانوں کے احساسات سمجھنےسے روکتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے ہمیں مثبت سوچ اپنانے کیلئے؟جولیا نے بےاختیار پوچھا
ہمیں سب سے پہلے تو دوسرے انسان کو انسان ہونے کا مارجن دینا چاہیے،نجانے کیوں ہم یہ تو قبول کر لیتے ہیں کہ ہم سے غلطی سے غلطی ہوگئی مگر دوسروں کی بار ہمارا دماغ یہ ماننے پر تیار نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے نے بھی غلطی سے غلطی کی ہوسکتی ہے۔پروفیسر صفدر نے سنجیدگی سے کہا۔
میں کوشش کروں گی انکل مثبت سوچ اپنانے کی۔جولیا پرعزم انداز میں کہا۔
انکل۔۔۔وہ جھجھکتےہوئے بولی۔
بلاجھجھک بات کیجیے۔
کیا میں آپکو گرینڈپا بلا سکتی ہوں؟جولیا نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا۔
ہرگز نہیں۔انکی آعاز پر جولیا کی سانس حلق میں اٹک گئی۔
میں چاہوں گا کہ میری بیٹی مجھے بابا کہہ کر بلائے۔پروفیسر صفدر کی شفیق آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تو تو اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔پروفیسر صفدر نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دیا۔
***
میں تو شادی کی شاپنگ شروع کرنے والی ہو آج سے ہی۔جولیا جو ہاسپٹل سے ابھی آئی تھی کمرے میں داخل ہوتے ہو پارسا کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو وہ بے اختیار مسکرا دی۔وہ پاکیزہ سے ویڈیو کال پر بات کررہی تھی،کانوں میں ہینڈفری لگا رکھے تھے۔
اوہ ہیلو میڈم شکریہ ادا کرو میرا ورنہ ہوچکی تھی شادی تمہاری۔اور نقاش بھائی کی۔پارسا بے فکر ہوکر بات کررہی تھی کیونکہ پروفیسر صفدر سوئے ہوئے تھے جبکہ ماموں مامی اپنے کسی دوست کے گھر گئے ہوئے تھے نقاش ابھی ہاسپٹل تھا۔
جی جی!تم بنی تھی۔بڑی فرمانبردار وہ تو میں نے بچا لیا، صرف نقاش بھائی کی خاطر تمہیں،مانا کہ وہ باقی لڑکوں کی طرح لٹو نہیں ہوئے تم پر اب عادت ٹہری انکی کہ ریزو رہتے ہیں وہ لیکن تم نے تو حد ہی کردی تھی۔پارسا آنکھیں گھما کر اس انداز میں بولی کہ جولیا کو ہنسی آگئی۔
اور نہیں تو کیا تمہاری وجہ سے مجھے ہاں کرنی پڑی ریان کیلئے۔پارسا نے منہ بنا کے کہا۔
تم آو تو سہی یہاں ظالم نند والے رول ادا نہ کیے تو میرا نام بھی پارسا عزیز نہیں۔پارسا کے ڈرامے عروج پر تھے۔
شاپنگ پر چلیں؟ پارسا نے فون بند کرکے کہا۔
ابھی؟جولیا نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
ہاں بھئی!ابھی سے اسٹارٹ ہوگی تو پوری ہوگی نہ۔پارسا نے ذمہ دارانہ انداز میں کہا۔
اچھا تم چینج کرلو پھر دیکھتے ہیں! جولیا کے کہنے پر پارسا فوراً اٹھ کر واشروم میں گھس گئی۔
جولیا نے اپنا فون اٹھایا اور باری باری ممی ڈیڈی کو کال کی،دونوں نے روز کی طرح اسکا فون کاٹ دیا۔جولیا کے چہرے پر مایوسی پھیلی۔
چلیں!پارسا کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا، وہ تیار کھڑی تھی جانے کیلئے۔
ہاں چلو!جولیا نے سنبھل کر کہا۔
***
وہ جمعہ کا دن تھا۔جولیا کو بے حد عجیب لگ رہا تھا۔عام روٹین میں جب آذان ہوتی تب وہ اپنے کمرے میں چلی جاتی مگر آج ابھی آذان نہیں ہوئی تھی۔سب نہا دھو کر ہاک صاف کپڑے پہن رہے تھے۔
یہ کیا ہورہا ہے مجھے،وہ لوگ جو بھی کر رہے ہیں اہنے رلیجن کے مطابق کر رہے ہیں،مگر مجھے کیا ہورہا ہے دل اتنا زور سے کیوں دھڑک رہا ہے۔جولیا نے بے چینی سے سوچا۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔
یہ میرا دھیان انکے اللہ اور انکے نبی (ﷺ) پر کیوں جارہا ہے؟انکا اللہ کیا کررہا ہے میرے ساتھ؟اور کیوں کر رہا ہے؟جولیا نے چلتے چلتے خود سے سوال کیا۔
اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے۔
ایک دھیمی آواز جولیا کے کانوں میں پڑی اور وہ ساکت ہوگئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: