Aik Baar Kaho Tum Meri Ho by Qudsiyy Arain – Episode 13

0
ایک بار کہو تم میری ہو از قدسیہ بابر – قسط نمبر 13

–**–**–

اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے۔
ایک دھیمی آواز جولیا کے کانوں میں پڑی اور وہ ساکت ہوگئی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا،صوفے پر پروفیسر صفدر بیٹھے ہوئے انکے ہاتھ میں کوئی کتاب پکڑی ہوئی تھی،جو یقیناً انکی ہولی بک تھی۔ وہ جولیا کی طرف متوجہ نہیں تھے مگر جولیا کو دماغ گھوم گیا تھا اسے لگ رہا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر یہ بات کہی ہے تاکہ جولیا سوچے اس بارے میں۔
آپ نے کیا کہا ہے مجھے؟جولیا نے الجھن آمیز لہجے میں کہا۔
انہوں نے ایک نگاہ جولیا پر ڈالی اور دوبارہ کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگئے۔
جولیا،گرینڈپا قرآن پاک پڑھ رہے ہیں اور قرآن پاک پڑھتے ہوئے وہ کسی سے غیر ضروری بات نہیں کرتے۔انہوں نے تم سے بات نہیں کی۔پارسا جولیا کا بازو پکڑ کر اسے کمرے میں لے آئی اور بولی۔
مگر انہوں نے مجھ سے بات کی ہے۔جولیا نے الجھ کر کہا تو پارسا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
پارسا میں جو اس وقت سوچ رہی تھی خود سے سوال کررہی تھی اسکا جواب دیا بابا نے تو میں کیسے سمجھوں کہ وہ مجھ سے بات نہیں کر رہے تھے۔
یہ جواب تمہیں گرینڈپا کی طرف سے نہیں ملا انہیں بھلا کیسے پتا کہ تم کیا سوچ رہی ہو!پارسا اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
پھر کس نے دیا ہے جواب مجھے؟اس نے پارسا سے پوچھا۔
اللہ تعالی نے دیا ہے جواب تمہیں! پارسا کے لبوں سے روانی میں پھسلا مگر اسے لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے احساس ہوا کہ وہ کس سے بات کررہی ہے تو وہ خاموش ہوگئی۔
میں آتی ہوں ابھی۔پارسا نے مامی کی پکار پر کہا۔
ان کا اللہ مجھے جواب کیوں دے رہا ہے؟جولیا نے الجھ کر سوچا۔
اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے۔اسکے کانوں میں پھر وہی آواز گونجی۔
میں تو انکے مذہب کی بھی نہیں ہوں انکے اللہ کا مجھ سے بھلا کیا تعلق۔جولیا بےبسی سے بڑبڑائی۔
اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے۔دوبارہ اسے وہی جملہ (آیت) یاد آئی۔
ایسا کچھ نہیں ہے مجھے کسی نے جواب نہیں دیا یہ محض ایک اتفاق ہے ورنہ کسی کو کیا پتہ کہ میں کیا سوچ رہی ہوں!جولیا خود کو ریلکس کرتے ہوئے بڑبڑائی۔
اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے۔دوبارہ وہی بازگشت سنائی دی۔
یہ کیا ہو رہا ہے!جولیا نے مارے بےبسی کے اپنا سر پکڑ لیا۔
اس سے زیادہ مطمئن کرنے والا جواب مجھے کسی نے زندگی میں نہیں دیا،میرے ہر سوال پر پورا اتر رہا ہے یہ جواب۔جولیا نے سوچا۔
کوئی ہے جو میری سوچوں کو پڑھ رہا ہے۔جولیا کا دل لرزنے لگا آنسو اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرنے لگے۔
***
شام کے سائے گہرے ہورہے تھے،ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
وہ نجانے کتنے گھنٹے کمرہ بند کرکے بیٹھی رہی تھی پھر اکتا کر باہر لان میں آکر خاموشی سے بیٹھ گئی تھی۔سب لوگ اسکا دھیان تو رکھتے تھے مگر اسکے سر پر سوار نہیں ہوتے تھے نہ ہی اس پر نظر رکھتے تھے،وہ جانتی تھی کہ اس بات کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں اسکی پرواہ نہیں ہے بلکہ وہ سب ایسا اسلئے کررہے ہیں کہ جولیا ڈسٹرب نہ ہو۔
ہیلو جولیا!مردانہ آواز پر اس نے گردن موڑ کر دیکھا وہ نقاش تھا۔
ہائے! جولیا نے سنجیدگی سے کہا۔
کیسی ہو؟اس نے دوستانہ انداز میں پوچھا۔
ٹھیک ہوں! جولیا عجیب سے انداز میں مسکرائی۔
سوری میں پاکستان آنے کے تمہیں ٹائم ہی نہیں دے پایا۔نقاش نے معذرت خواہ انداز میں کہا۔
تمہاری فیملی پہلے ہی بہت کچھ کر رہی ہے میرے لئے،اب تم یوں معذرت کرکے شرمندہ مت کرو۔جولیا بالون کی لٹیں جو چہرے پر آئی ہوئیں تھیں انہیں کانوں کے پیچھے اڑاستی ہوئی بولی۔
نقاش نے بغور اسے دیکھا وہ بدل گئی تھی پاکستان آکر بہت۔
اسکی ڈریسنگ میں بھی واضح تبدیلی محسوس کی جاسکتی تھی اور اسکے رویے میں بھی۔شاید لاشعوری طور پر وہ خود کو ان کے انداز میں ڈھال رہی تھی کہ ان سب کو کوئی اعتراض یا کسی شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔
سیاہ ٹراوزر اور ملٹی شیڈ پرینٹڈ کرتی میں ملبوس کندھوں پر گرین شال لئے، اسکے اندازواطوار سے ہی اسکے اضطراب کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔
جولیا تمہیں کوئی پریشانی ہے؟نقاش نے اس سے پوچھا۔
نن نہیں تو۔۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔جولیا تھوک نگلتے ہوئے بولی۔
تم مجھ سے شیئر کرسکتی ہو جولیا،کچھ بھی، کبھی بھی، کہیں بھی۔نقاش نے کہا۔
شیور۔جولیا زبردستی مسکرا کر بولی۔
آجاو اندر چلتے ہیں!نقاش کھڑا ہوکر بولا۔
تم چلو میں بس دو منٹ میں آئی۔جولیا کے کہنے پر نقاش چلا گیا۔
نقاش کو کیسے پتا کے میں پریشان ہوں! کیا اب میرا چہرہ بھی میری ذہنی حالت کی عکاسی کرنے لگا ہے۔جولیا نے اضطراب سے سوچا۔
میں ہاسٹل شفٹ ہورہی ہوں۔
وہ سب ڈائننگ ٹیبل پر کھانا کھا رہے تھے جب جولیا نے سب کو بتایا۔
سب نے سر اٹھا کر ایک لمحے کیلئے اسے دیکھا پھر دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگئے، کیونکہ پروفیسر صفدر کو کھانے کی میز پر باتیں کرنا سخت ناپسند تھا۔
کھانے کے بعد پروفیسر صفدر نے کھنکھارا اور جوکیا کی طرف متوجہ ہوئے۔
جولیا بیٹا خیال سے رہنا ہاسٹل میں دل نہ لگے تو واپس آجانا!مجبوری سمجھ کر وہیں جلنے کڑھنے کی ضرورت نہیں کے۔پروفیسر صفدر نے کہا اور اٹھ کر چلے گئے۔
ویسے میں آپکے ہاسٹل جانے کے حق میں نہیں ہوں مگر اب جب آپ فیصلہ کر چکی ہیں تو روکوں گا نہیں آپکو۔راحیل بولے۔
ہر ویک اینڈ پر آپ نے لازمی آنا ہے۔صبیحہ نے پیار سے کہا۔
جولیا نے بھاری دل سے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے میں چلی گئی۔
***
پارسا بےچینی سے اپنے کمرے میں چکر لگارہی تھی۔
بیٹھے بیٹھائے یہ مصیبت گلے پڑگئی ہے۔پارسا ناک چڑھا کر بڑبڑائی۔
پارسا پیکنگ کرلی؟نقاش نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا مگر پارسا کو دیکھ کر حیران ہوگیا۔
تمہیں کیا ہوا تم کیوں پیدل مارچ کررہی ہو؟نقاش نے حیرانگی سے کہا۔
بی بی شاید بھول رہی ہو تم کہ شام کی فلائٹ ہے تمہاری کراچی کی۔نقاش نے اسے خاموش پاکر کہا۔
یہ کیا ہورہا ہے یار میں آپکی اور پاکیزہ کی شادی کیلئے اتنا ایکسائیٹڈ تھی اب یہ نیا شوشا چھوڑ دیا ہے آپ لوگوں نے۔پارسا نے چڑ کر کہا۔
ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا جو بھی فیصلہ ہے تمہارے گھر سے ہی آیا ہے۔نقاش نے کہا۔
ہونہہ پوچھاتو تھا بابا نے گرینڈپا سے آپ لوگ منع بھی تو کرسکتے تھے نہ۔پارسا نے کہا۔
پھوپھا نے گرینڈپا سے پوچھا تھا اور گرینڈپا نے کسی سے بھی نہیں،گرینڈپا انگیجمنٹ کرتے ہوئے تم سے پوچھ چکے تھے اب بار بار کیا پوچھنا۔نقاش کے کہنے پر پارسا کے چہرے کے تاثرات بگڑے۔
بائے دا وے تمہیں کیا اعتراض ہے کل بھی شادی ہونی ہے تمہاری تو اج سہی،لڑکا تو پہلے سے ہی سلیکٹ ہوچکا ہے نہ۔نقاش نے اسے سمجھایا۔
بھائی آپکی اور پاکیزہ کی شادی سب سے امپورٹنٹ ہے میرے لئے، میں انجوائے نہیں کرپاوں گی۔پارسا روہانسی ہوگئی۔
کیا ہوگیا ہے پری،صرف نکاح ہورہا ہے تمہارا،کوئی رخصتی نہیں اور وہ بھی میری شادی سے دو ہفتے پہلے۔
آپ نہیں سمجھیں گے۔پارسا پیر پٹختی ہوئی واک آوٹ کر گئی۔
***
اسے ہاسٹل آئے ہوئے تقریبا ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔ہر طرف بےچینی ہی بےچینی تھی۔
وہ بہت کنفیوژ ہوگئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔یہ سب جو اسکے ساتھ ہورہا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
وہ تنگ آکر ہاسٹل سے نکلی اور باہر کی جانب سیڑھیوں پر بیٹھ گئی بغیر اس چیز کی پرواہ کیے کہ آنے جانے والے اسے کن نظروں سے دیکھیں گے۔
آپی آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟نجانے کتنی دیر وہ اسی طرح بیٹھی رہی پھر ایک ٹین ایج لڑکی نے اسے مخاطب کیا۔
جولیا نے سر اٹھا کر دیکھا۔
نجانے کیوں جولیا نے سر نفی میں ہلایا، شاید اسلئے کہ اسے فکر نہیں تھی کہ وہ لڑکی اسے کیا سمجھے گی کیونکہ وہ لڑکی تو مکمل انجان تھی۔
کیا ہوا آپکو؟وہ جولیا کے نزدیک بیٹھ گئی۔
مجھے خود سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہورہا ہے، چیزیں میرے سر پر سوار کیوں ہورہی ہیں۔جولیا نے الجھ کر کہا۔
تو آپ مت سوچیں ان سب چیزوں کو ریلکس کریں وہ کام کریں جو آپکو خوش کرتے ہیں۔اس لڑکی نے جولیا کو کہا۔
اس دنیا میں کچھ بھی ایسا نہیں جو مجھے خوش کرسکے۔جولیا نے کہا۔
ایک نقاش کی فیملی کے نزدیک جانا مجھے خوش کرتا تھا اب عجیب فیل ہوتا ہے وہاں۔جولیا نے آنکھیں میچ کرکہا۔
آپ ریلکس ہوجائیں پلیز۔جولیا کے جذباتی ہوجانے پر وہ لڑکی بولی۔
آپ چاہتی کیا ہیں؟آپ وہ کریں جو آپ چاہتی ہیں؟اس لڑکی نے اپنی طرف سے جولیا کا مسئلہ حل کیا۔
پارسا کہتی ہے کہ اس کے اللہ نے مجھ سے بات کی ہے مجھے جواب دیا ہے،میں اسی چیز سے سحرزدہ ہوکر بھاگی تھی وہاں سے مگر تمہیں پتا ہے میں چاہتی ہوں انکا اللہ دوبارہ مجھ سے بات کرے۔
جولیا کی بات پر وہ لڑکی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی جبکہ جولیا خود ہکابکا رہ گئی،تو یہ بات تھی جو اسے ستارہی تھی جسے وہ خود قبول کرنے سے قاصر تھی۔
***
پارسا آئی ایم سو ہیپی!ماہا پارسا کو گلے لگاتے ہوئے بولی تو ہارسا زبردستی مسکرائی۔
ماہا بےحد ایکسائیٹڈ تھی پارسا اور ریان کے نکاح کو لے کر،اور اسکا اظہار بھی بار بار کر رہی تھی۔
ماہا تم نے پارسا کو ہمارے ڈریسز دیکھائے جو ہم ان کے نکاح پر پہنیں گے!پاکیزہ جو کب سے پارسا کی بےرخی دیکھ رہی تھی ماہا کو بولی۔
میں ابھی لاتی ہوں۔ماہا اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھی۔
پارسا کیا بات ہے اتنی بےزار کیوں ہو؟پاکیزہ نے اپنی ازلی نرم لہجے میں پوچھا۔
پارسا نے پرشکوہ نظروں سے پاکیزہ کو دیکھا۔
کیا ہوگیا ہے پارسا تم نے خود ماما سے کہا تھا کہ تم کرلو گی ریان سے شادی تو اب کیا مسئلہ ہے؟پاکیزہ نے الجھ کر کہا۔
تمہیں تو جیسے پتہ ہی نہیں کہ میں نے ہاں تمہاری وجہ سے کی تھی۔پارسا منہ بنا کر بولی۔
پارسا جو بھی ہے تم نے ہاں خود کی تھی میں نے نہیں بولا تھا،اب موڈ ٹھیک کرو اپنا شام کو گرینڈپا اور ماموں لوگ آجائیں گے۔پاکیزہ نے کہا۔
مجھے شادی یا نکاح پر اعتراض نہیں ہے اتنی جلدی پر ہے!پارسا نے کہا۔
اب کیا ہوسکتا ہے،تم موڈ ٹھیک کرلو میری بہن پلیز!پاکیزہ کا ملتجی لہجہ دیکھ کر پارسا نرم پڑ گئی۔
***
حاضر ہوں نئی قسط کیساتھ۔
مجھے کافی ریڈرز نے پچھکے ناول میں کہا تھا کہ میں کسی شادی کیوں نہیں دیکھاتی،اور یہ ناوک جب سے اسٹارٹ کیا ہے پارسا اور ریان کی شادی یا سینز کی فرمائشیں آرہی ہیں۔
تو بھئی اگلی قسط میں ہے پارسا اور ریان کا نکاح سب کپڑے نکال کر استری کرلو جیولری نکال لو،میری طرف سے بھکے ڈھولکی بھی رکھ لو 😂 کھلی اجازت ہے۔
اپنی قیمتی رائے دینا مت بھولیے گا ورنہ نکاح میں کوئی پھڈا ڈال دوں گی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: